Wednesday, July 17, 2024

Aadhori Zindagi ki Khusiyan

برسوں بعد اچانک میں نے فرحانہ کو دیکھا تو پہچان نہ سکی۔ ایک خستہ حال، پریشان اور عمر رسیدہ عورت میرے درواز ے پر کھڑی تھی۔ چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ دُکھوں کی بھٹی میں جل کر وقت سے پہلے اس کے روپ کا سونا را کھ ہو گیا ہے۔ وقت بھی کیا ظالم چیز ہے ؟ یہ کسی سے رعایت نہیں کرتا، جو اس کے ساتھ سنبھل کر چلیں ان سے بھی اور جو اس سے غفلت برتیں اُن سے بھی آنکھیں پھیر لیتا ہے۔ مجھ کو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر وہ بولی۔ وجیہہ ! کیا تم نے مجھ کو نہیں پہچانا؟ میں ہوں تمہاری سہیلی فرحانہ ۔ ارے ہاں پہچان لیا، دراصل وقت بھی تو بہت گزر گیا ہے۔ جب تم پڑوس میں رہتی تھیں، تمہاری صورت، وضع رنگ رُوپ کچھ اور تھا مگر اب کتنی بدل گئی ہو ۔ وقت سے پہلے بڑھاپا اوڑھ لیا ہے۔ اندر آجائو، باہر کیوں کھڑی ہو۔ وہ جھجکتے قدموں سے اندر آگئی۔ میں اسے اپنے کمرے میں لے گئی۔ تم ایسی گئیں کہ پھر کبھی خبر ہی نہ لی۔ پچیس برس بعد کیسے ادھر کا خیال آگیا ؟ مت پوچھو۔ وہ ٹھنڈی آہ بھر کر بولی۔ دو چار بار فون کیا تو تمہارے شوہر نے اٹھایا اور رکھائی سے جواب دے کر رکھ دیا۔ بس اس کے بعد میں نے تم کو فون نہیں کیا۔ کدھر ہیں رحمن بھائی ، گھر پر ہیں کیا ؟ ارے نہیں، وہ دو تین روز کے لئے لاہور گئے ہیں۔ تم آرام سے بیٹھو۔ تم کو کوئی ڈسٹرب نہ کرے گا۔ فرحانہ نے سکون کا سانس لیا۔ میں نے اسے کھانا وغیرہ کھلایا۔ وہ کہنے لگی۔ جو مجھ پر بیتی، وہ ایک صفحے کا قصہ نہیں، پوری کتاب ہے۔ قصہ مختصر کہ آج کل در بدر ہوں۔ ایک فلاحی ادارے میں صفائی کا کام کرتی ہوں تو دو وقت کی روٹی کی مل جاتی ہے۔ آج میڈم سے چھٹی لے کر آئی ہوں۔ در بدر کیوں ؟ گھر نہیں ہے تمہارا، مقبول بھائی کدھر ہیں اور تمہارا بیٹا ! وہ تو ماشاء اللہ جوان ہو گیا ہو گا۔ مقبول نے مجھے طلاق دے دی تھی۔ بیٹا بھی انہوں نے رکھ لیا تھا۔ میکے والوں نے منہ موڑ لیا۔ کسی رشتہ دار نے نہ رکھا تو دوسری شادی کرنا پڑی۔ وہ مرد صحیح اطوار نہ نکلا، ادھر سے بھی طلاق ہو گئی۔ مجبورا گھر کی چھت کی خاطر تیسری شادی کی مگر قسمت نے ساتھ نہ دیا، وہ چل بسے۔ تب سے ہی در بدر ہوں۔ ایک دُکھ ہو تو بتائوں، فی الحال تو مجھے کچھ رقم درکار ہے۔ کسی سے قرض لیا تھا، وہ تنگ کر رہے ہیں۔ بہت سوچا تو آڑے وقت میں تمہارا ہی خیال ذہن میں آیا کہ تم انکار نہ کرو گی ، تبھی چلی آئی ہوں۔ اس نے لجا کر کہا تو میں افسردہ ہو گئی۔ میں نے سیف سے تیس ہزار روپے نکال کر اسے دیئے۔ وہ خوش ہو گئی اور دُعائیں دینے لگی۔

فرحانہ کے جانے کے بعد کافی دیر تک گم صم بیٹھی رہی۔ سوچ رہی تھی ، انسان کیا سے کیا ہو جاتا ہے۔ کل جو بن ٹھن کر رہتی تھی ، نت نئے فیش ، میک آپ قیمتی لباس اور آج فقیرنی جیسی حالت ، بال کھچڑی جن کو اسے رنگنے کی بھی توفیق نہ تھی۔ میں نے ٹھنڈی آہ بھری اور ذہن پچیس برس پہلے کے ماضی میں چلا گیا، جب وہ نئی نئی ہمارے پڑوس میں آئی تھی۔ ہمارے برابر والا گھر خالی تھا۔ اس میں مقبول صاحب اپنی بیوی فرحانہ کے ساتھ کرایے دار آئے تو خالی بنگلہ آباد ہو گیا۔ یہ ایک منزلہ چھوٹا سا بنگلہ تھا جو ہماری پرانی محلے دار زبیدہ باجی کا تھا۔ یہ تاجر لوگ تھے، بہت نیک اور ملنسار گھرانہ تھا۔ میری باجی زبیدہ سے اچھی دوستی تھی۔ فرحانہ کو وہ مجھ سے ملانے لائی تھیں کہ یہ ان کی نئی کرایہ دار تھی اور میری ہم دیوار بھی۔ اس کے بعد فرحانہ اکثر میرے گھر آنے لگی۔ میاں کام پر چلے جاتے ، میں بھی اکیلی ہو جاتی۔ وہ آجاتی تو گپ شپ میں دل بہل جاتا۔ وہ خوش مزاج، ہنسنے ہنسانے والی، باتونی خاتون تھی۔ اس طرح ہماری دوستی ہو گئی۔ میری عادت تھی کہ ہر بات فرحانہ سے کہہ دیتی تھی۔ انہی دنوں ایک عجب بات ہوئی کہ میرے گھر کے لینڈ لائن پر رانگ نمبر آنے لگے ۔ بہت پریشان ہوئی۔ ان دنوں ہمارے پاس سیل فون نہیں تھا۔ خیر ، میں نے اپنے شوہر کو بتایا ، وہ بولے۔ جس کا فون آتا ہے وہ کس کا نام لیتا ہے ؟ وہ میر انام لے کر کہتا ہے کہ وجیہہ سے بات کرنی ہے۔ اس کو تمہارا نمبر کس نے دیا ہے ؟ وہ الٹا مجھ سے سخت سوالات کرنے لگے۔ مجھے کیا پتا، میں تو خود اس کی وجہ سے پریشان ہوں۔ ہو نہ ہو، تمہارا نمبر تمہاری سہیلی نے کسی کو دیا ہے۔ ان کا شک فرحانہ پر تھا کیو نکہ ان دنوں وہی روز ہمارے گھر آتی تھی۔ ایک روز فرحانہ میرے گھر آئی۔ اس کے آنے کے چند منٹ بعد فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے فون تالے میں رکھا ہوا تھا۔ فرحانہ بولی۔ تالا کھولو، میں بات کرتی ہوں۔ میں نے کہا، رہنے دو۔ ہم نے بات نہیں کرنی۔ یوں میں نے اسے بات نہیں کرنے دی۔ اس کے بعد میرے شوہر نے فون پر آبزرویشن لگوا دی۔ میں نے یہ بات بھی فرحانہ کو بتادی ،سو، رانگ نمبر آنے بند ہو گئے۔ اس واقعہ کے کچھ دن بعد ہی دو آدمی فرحانہ کا پتا پوچھتے میرے دروازے پر آگئے۔ میں نے گیٹ کے سوراخ سے جھانک کر دیکھا۔ وہ لوگ مجھے اچھے نہ لگے۔ آتے ہی انہوں نے میر انام لے کر پوچھا کہ کیا یہ وجیہہ کا گھر ہے ؟ میر اتو دل دھک سے رہ گیا۔ اتنی پریشانی ہوئی کہ کیا بتائوں ، رحمن گھر آئے تو ان کو بتایا۔ وہ بولے۔ چاہے وہ فرحانہ کے قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہوں مگر اسے غیر مردوں کو تمہارا نام بتانے کی کیا ضرورت ہے۔ بہتر ہے کہ تم اس عورت سے دوستی چھوڑ دو۔ اس کے آنے کے بعد سے ہی ہمارے گھر رانگ نمبر ز کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، لہذا شوہر کو کیا الزام دیتی ، چُپ ہو رہی۔پھر اس کے اپنے گھر فون لگ گیا لیکن کچھ ہی عرصہ بعد وہ میرے گھر پریشانی میں آئی اور بتایا کہ مالک مکان نے اس کے کردار کو مشکوک قرار دے کر فون کٹوا دیا ہے۔ اس نے مجھے سے کہا کہ تم مالک مکان سے بات کرو۔ وہ تمہارے پرانے محلے دار ہیں۔ ان کو یقین دلائو کہ میں ایسی نہیں ہوں، وہ ہمارا ٹیلی فون بحال کر دے۔ اس کے کہنے پر ایک روز میں فرحانہ کو بتائے بغیر اس کے مالک مکان کے گھر چلی گئی اور زبیدہ باجی کے شوہر سے بات کی۔ وہ ایک نیک شخص تھے، کہنے لگے۔ بہن جی ، آپ اس عورت کی وکالت نہ کریں۔ آپ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتیں۔ جس شخص کو اس نے آپ کا نمبر دے رکھا تھا، وہ میرے پاس آیا تھا۔ اس کے ساتھ اس کی ان بن ہو گئی ہے۔ اس شخص نے اس کے سارے فون ٹیپ کر رکھے تھے۔ مجھ کو لا کر سنوائے ہیں۔ یہ غلط قسم کی اور احسان فراموش عورت ہے۔ اس نے آپ کے سارے خاندان کے بارے اس آدمی کو بتایا ہوا ہے۔ اگر آپ کہیں تو اس کی گفتگو ، جو ٹیپ میں ہے آپ کو سنوا دوں؟ بھائی محسن نے مجھ کر فرحانہ اور اس رانگ نمبر والے کا ٹیلیفون ٹیپ سنوا دیا۔ ان کی باتیں سُن کر میں تو سناٹے میں آگئی۔ فرحانہ نے اپنے آشنا سے بہت غلط قسم کی باتیں کیں تھیں۔ چونکہ میں رانگ نمبر والی آواز کو بھی پہچانتی تھی، اس لئے یقین نہ کرنے کا جواز ہی نہ رہا تھا۔ میں نے یہ بات اپنے شوہر کو بتائی۔ وہ بہت ناراض ہوئے اور مجھے نصیحت کی کہ اب اس سے تعلقات مت بگاڑو، ورنہ یہ دشمنی پر اتر آئے گی۔ اس معاملے پر چپ سادھ لو لیکن اس عورت سے بے رخی اختیار رکھو۔ اب بھی وہ میرے گھر آکر براجمان ہو جاتی۔ میں دل سے تو یہ چاہتی تھی کہ وہ اب ہمارے گھر نہ آیا کرے مگر مصلحتاً چپ تھی۔ دُعا کرتی تھی کہ اس کے شوہر کا تبادلہ ہو اور ہماری ان لوگوں سے جان چھوٹ جائے۔ میں نے اس کے گھر جانا بالکل چھوڑ دیا۔ اس کی خاطر مدارت بھی نہ کرتی ، چائے کا بھی روکھے منہ سے پوچھ لیتی ، لیکن وہ بدستور میرے گھر آتی رہی۔ اب مجھے یاد آیا کہ وہ اکثر کہا کرتی تھی کہ تم مجھ سے دوستی زیادہ دیر نہیں نباہ سکو گی۔ دھیرے دھیرے اس کی باتیں میری سمجھ میں آنے لگی تھیں۔ ایک دن کہنے لگی کہ مجھے اپنے کزن سے ملنا ہے، تم میرے ساتھ چلو۔ میں نے کہا۔ رحمن سے پوچھ لوں ، پھر تمہارے ساتھ جائوں گی۔ وہ بُرا مان گئی۔ کہنے لگی کہ یہ تمہاری عادت بہت بری ہے۔ تم دوستی کے لائق نہیں ہو۔ ہر بات تو اپنے شوہر کو نہیں بتانی چاہئے ۔ میں نے جواب دیا۔ میں مجبور ہوں۔ محسوس تو وہ بھی کر چکی تھی کہ میں اس سے کنی کترانے لگی ہوں لیکن میرے منہ وہ یوں نہیں آتی تھی کہ ایک تو میں اس کے رازوں سے واقف ہو چکی تھی ، دوسرے اس کے فون میرے گھر آتے تھے۔ جب وہ بیٹھی ہوتی ، سماجت کرتی تو میں اسے ریسیور اٹھانے دیتی لیکن تالے میں ہونے کی وجہ سے وہ اب کسی کو فون نہیں کر سکتی تھی۔ میں نے کہ دیا تھا کہ تالا میرے شوہر نے لگایا ہے۔ دوستی کی اصل روح تو ختم ہو چکی تھی ، اب تو میں بس تعلق نباہ رہی تھی۔ فرحانہ کے بیٹے کی عمر پانچ برس تھی۔ وہ ان دنوں اسکول جانے لگا تھا۔ اکثر جب وہ گھر پر نہ ہوتی اور وہ اسکول سے آجاتا تو سیدھا میرے پاس آتا۔ ننھے بچے پر کس کو ترس نہیں آتا۔ میں اس کا ہاتھ منہ دھلوا کر کھانا کھلاتی اور سلا دیتی۔ میں تو ایسا اس معصوم کے ساتھ ترس کھا کر کرتی تھی لیکن فرحانہ کی تو عادت ہو گئی اور وہ بچے کی فکر سے بھی آزاد ہو گئی۔ صبح اُس کا شوہر دفتر چلا جاتا اور رات کو آٹھ بجے لوٹتا تھا۔ تب تک ان کا بچہ میرے گھر ہوتا۔ وہ میرے ساتھ کھانا کھالیتا اور ماں کا انتظار کرتا۔ اب فرحانہ کھانا پکانے کی فکر سے بھی آزاد ہو گئی۔ شوہر کے جاتے ہی وہ بچے کو اسکول بس پر چڑھاتی اور تیار ہو کر کہیں چلی جاتی۔ مجھ سے اس نے کہہ رکھا تھا کہ وہ کوکنگ کلاس لینے جاتی ہے۔ انسان جتنا بھی جھوٹ بولے آخر ایک نہ ایک دن اس کی چوری پکڑی ہی جاتی ہے۔

ایک روز جبکہ وہ حسب معمول کہیں گئی ہوئی تھی، اس کا شوہر گھر آگیا۔ گیٹ پر تالا لگا تھا۔ مقبول بھائی تبھی میرے گھر آگئے ، پوچھا۔ جیا بہن ! فرحانہ کہاں ہے ؟ مجھے گھر سے ضروری فائل اٹھانی ہے۔ آپ کے یہاں تو نہیں ہے؟ نہیں، بھائی صاحب ، وہ تو کوکنگ کلاس لینے گئی ہوئی ہے۔ کوکنگ سینٹر کسی جگہ ہے بہن ؟ فرحانہ مجھے بتا چکی تھی کہ فلاں جگہ ایک ادارہ ہے جو یہ کورس کرواتا ہے ، سو میں نے اُسی ادارے کا نام بتادیا۔ مقبول بھائی کو کوئی ضروری کاغذات چاہئے تھے ، سو وہ اسی ادارے چلے گئے۔ وہاں کے سربراہ نے بتایا کہ اس نام کی کوئی عورت کو کنگ سیکھنے نہیں آتی۔ اتفاق کہ اسی دن ان کا بیٹا ناصر بھی اسکول سے وقت مقررہ پر نہیں آیا جبکہ روزانہ وہ اسکول بس سے اترتے ہی سیدھا میرے پاس دوڑا آتا تھا۔ جب مقبول بھائی لوٹے تو میں پریشان کھڑی تھی۔ انہوں نے دوبارہ میرے گھر کی گھنٹی بجائی ، بولے۔ اس ادارے میں تو محترمہ کا نام درج نہیں ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ فرحانہ نے اس ادارے کا بتایا تھا۔ اب اگر وہ کسی دوسرے ادارے جاتی ہے تو اس بارے مجھے نہیں معلوم۔ وہ تو آہی جائے گی لیکن آپ کا بیٹا ابھی تک اسکول سے نہیں لوٹا ہے۔ اس کی فکر کیجئے کافی دیر ہو چکی ہے۔ یہ سنتے ہی مقبول بھائی کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ فوراً بیٹے کے اسکول کو چل دیئے۔ وہاں سے پتا چلا کہ اسکول کی چاروں بسیں بچوں کو لے کر جاچکی ہیں۔ ناصر اسکول میں نہیں تھا، وہ گھر بھی نہ پہنچا تھا۔ گارڈنے کہا۔ ذرا سا انتظار کیجئے۔ بچے کبھی غلط بس میں بھی بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ دیکھئے ایک بس واپس آرہی ہے۔ بس اسکول کے گرائونڈ میں آکر رکی ، اس میں ناصر موجود تھا۔ ڈرائیور نے بتایا کہ یہ بھولے سے دو نمبر بس کی بجائے اس بس میں بیٹھ گیا تھا ، اس لئے سب بچوں کو ان کے گھروں پر اُتار کر میں اس کو واپس لے آیا ہوں۔ اپنا فون نمبر اس کے بیگ میں ضرور رکھا کیجئے۔ مقبول بھائی نے ڈرائیور کا شکریہ ادا کیا اور مقبول بھائی ناصر کو لے کر گھر آگئے۔ وہ اس روز بہت غصے میں تھے۔ ان کو آج پتا چلا تھا کہ ان کی بیوی روز ہی گھر سے چلی جاتی ہے۔ ناصر نے بتایا۔ ابو میں تو روز آنٹی کے گھر سے کھانا کھاتا ہوں اور وہاں ہی سو جاتا ہوں۔ مقبول بھائی ایک صابر صفت اور شریف آدمی تھے۔ انہوں نے میرا شکریہ ادا کیا۔ اس روز وہ دفتر لوٹ کر نہ گئے اور فرحانہ کا انتظار کرتے رہے۔ شام کو چار بجے وہ آئی تو شوہر کو دیکھ کر گھبرا گئی۔ خُدا جانے گھر میں ان کے کیا جھگڑا ہوا۔ بہر حال اس روز وہ میرے یہاں نہیں آئی۔ اگلے روز آئی تو بہت ناراض تھی۔ بولی۔ تم کیسی دوست ہو۔ تمہیں میرے شوہر کو کوکنگ اسکول کا نام بتانے کی کیا ضرورت تھی ؟ وہ وہاں چلے گئے اور اب میرے پیچھے پڑ گئے ہیں کہ میں ان کو بتائوں کہ میں نے کہاں داخلہ لیا ہوا ہے جبکہ میں نے کسی جگہ بھی داخلہ نہیں لیا۔ فرحانہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ تم مجھ کو اصل بات سے آگاہ رکھتیں، تو میں ایسانہ کہتی۔ مجھے کیا خبر کہ تم مجھ سے جھوٹ بول کر کہاں کہاں جاتی ہو۔ لیکن وہ اپنے کئے پر شرمندہ تھی اور نہ ہی اس نے میرا شکریہ ادا کیا لیکن اس واقعے کا یہ اثر ضرور ہوا کہ اس کے بعد وہ گھر سے کہیں نہیں جاتی تھی۔ اس کے بعد میاں بیوی کے درمیان ایک کھنچائو سا پیدا ہو گیا تھا۔ اکثر ان کے گھر سے جھگڑے کی آوازیں بھی آتی تھیں۔ اس بات کا ذکر میں نے اپنے شوہر سے کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے تم کو پہلے ہی بتادیا تھا کہ یہ عورت ٹھیک نہیں ہے ۔ تم نے میری بات نہ مانی ، اب دیکھ لو۔ ہم مرد زیادہ تجربہ کار ہوتے ہیں۔ تم لوگ تو گھر کی چار دیواری میں ہوتی ہو، تم کو زمانے کی کچھ خبر نہیں کہ باہر کیا ہورہا ہے۔ یہ ہمیں پتا ہوتا ہے اور ہم اُڑتی چڑیا کے پر گن لیتے ہیں۔ جتنی مجھے فرحانہ سے دوستی کی خوشی ہوئی تھی ، وہ سب ختم ہو گئی بلکہ اب تو میں یہی دُعا کرتی تھی کہ خُدا کرے یہ یہاں سے چلی جائے ۔ خُدا کا شکر کہ دو ماہ بعد ہی مقبول بھائی کا تبادلہ دوسرے شہر ہو گیا اور یہ لوگ ہمارے پڑوس کا مکان خالی کر گئے۔ ان کے جانے سے مجھے سکون ملا اور جان میں جان آئی۔ اکثر محلے والیاں مجھے اشارتا اس کے ساتھ دوستی رکھنے سے منع کرتی تھیں لیکن مجھ کو ان کی باتیں سمجھ میں نہیں آتی تھیں جب ذاتی تجربہ ہو گیا تبھی آنکھیں کھلیں اور بقول میرے شوہر ، اگر تم مجھ کو ہر بات بر وقت نہ بتاتیں تو میں آج تم کو تمہارے ماں باپ کے گھر بھیج دیتا اور میں سوچتی کہ اگر میں اپنے شوہر کو اعتماد میں نہ لیتی اور وہ تمام حالات کسی اور کی زبانی سنتے تو جانے میرے بارے کیا رائے قائم کر لیتے۔ فرحانہ کی کہانی سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ ہر عورت دھو کے باز یا بے وفا ہوتی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عموماً عورت ذات وفا کا پیکر اور قربانی کا مجسمہ ہوتی ہے۔ وہ ساری زندگی اپنے محبوب خاوند اور اولاد کی خوشی کی خاطر اپنے دل کی خوشی اور مفاد کو پس پشت ڈال سکتی ہے۔

اس کی مثال اسی گھر میں آنے والے نئی پڑوسن کی ہے جس کا نام مریم تھا۔ہمارے پڑوس میں جب یہ دوسرا جوڑا آکر آباد ہوا تو ہم نے ان سے بالکل میل جول نہیں رکھا۔ ایک روز مالک مکان کی بیوی آئی اور بولی۔ جیا بہن! تم مریم سے نہیں ملیں ؟ وہ میری بھانجی ہے۔ یہ بہت اچھے لوگ ہیں ، تب میں رحمن کی اجازت سے نئی پڑوسن سے ملنے چلی گئی اور پر دیکھ کر حیران رہ گئی کہ مریم کا شوہر مستقل و ہیل چیئر پر رہتا تھا، جبکہ مریم پڑھی لکھی اور ایک کالج میں لیکچرار تھی۔ وہ خوبصورت، سگھڑ اور اپنے کنبے کی کفیل تھی۔ شوہر کے معذور ہونے کے باوجود ان کا گھر سکون کا گہوارہ تھا۔ ان کے دو بچے تھے جو اسکول جاتے تھے۔ جب میرا مریم سے تعلق بنا تو پتا چلا کہ اس میں اور فرحانہ میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ حیران تھی کہ مریم اس قدر لائق، محنتی اور پرکشش ہے تو اس کی شادی ایک معذور شخص سے کیسے ہو گئی ہے۔ مریم نے بتایا کہ میں نے جب گریجویش کرلی تو امی کو میری شادی کی فکر ستانے لگی۔ معمر خان ہمارے رشتہ دار تھے۔ ان کی والدہ رشتہ لے کر آئیں، میرے والدین نے ہاں کر دی۔ تب معمر معذور نہیں تھے بلکہ بر سر روزگار تھے۔ چار سال ہم نے سکون سے گزارے۔ میرے دو بچے ہو گئے کہ ایک روز سر کاری دورے سے واپسی پر ان کی کار کا ایک ٹرک سے ایکسیڈنٹ ہو گیا اور یہ شدید زخمی ہو گئے۔ دونوں ٹانگیں بھی اس طرح ٹوٹیں کہ چورا چورا ہو گئیں۔ ان کے بچنے کی کوئی امید نہ تھی۔ عرصہ تک اسپتال میں رہے، کئی آپریشن ہوئے۔ میرا دن رات رونے سے کام تھا۔ اللہ تعالیٰ نے میری اور ہمارے والدین کی دعائیں سُن لیں۔ ان کو نئی زندگی تو مل گئی مگر دونوں ٹانگوں سے معذور ہو گئے۔ میں تو خُدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتی ہوں۔ بے شک معذور ہیں مگر جان تو بچ گئی ہے۔ میرے بچوں کا باپ اپنے بچوں کے درمیان موجود تو ہے ، میرے لئے یہی بہت ہے۔ میں پڑھی لکھی ہوں، کوشش کر کے لیکچرار بھی ہو گئی ہوں لہذا پھر سے خوشیاں ملنے پر اپنے رب کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتی رہتی ہوں کہ اس نے مجھے سہاگن رکھا ہے۔ شوہر کے ساتھ سے بڑی نعمت اور کیا ہو سکتی ہے۔ میں نے کہا۔ مریم تمہارا تو دل بہت بڑا ہے۔ زندگی کی مشکلات کو جھیل کر بھی خوش اور پُر سکون ہو جبکہ عمر بھر معذور شوہر کی خدمت بھی تمہارا فریضہ ہو گیا ہے۔ کیا تم کو کبھی تھکن کا احساس نہیں ہوتا؟ وہ بولی۔ بالکل نہیں، محبت میں بڑی طاقت ہے۔ دیکھو نا ! جب بچے خدا نخواستہ معذور ہو جاتے ہیں، تو کیا ماں باپ ان کو چھوڑ دیتے ہیں یا ان کو بوجھ سمجھتے ہیں ؟ بالکل نہیں ، ایسے ہی جب بیوی بیمار یا معذور ہو جائے تو خاوند اس کی دیکھ بھال کرتا ہے، اس کا علاج کرواتا ہے۔ اسے اپنی زندگی سے نکال تو نہیں دیتا؟ میں تو اپنے شوہر کو دیکھ دیکھ کر جیتی ہوں۔ ہر وقت اس احساس سے خوش رہتی ہوں کہ وہ زندہ ہیں اور میں سہاگن ہوں۔ میرے بچے ان سے پیار کرتے ہیں، ان سے لپٹتے ہیں، یہ کتنی خوشی اور سکون دینے والی بات ہے۔ مریم کی باتیں سُن کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں نے سوچا کہ سچ ہے، پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہو تیں۔ کچھ فرحانہ جیسی سب کچھ پا کر بھی غیر ذمہ دار ہوتی ہیں۔ اپنی غلطیوں سے ، سکھی اور خوشیوں بھری جنت کو کھو دیتی ہیں اور کچھ مریم ایسی بھی ہوتی ہیں کہ شریک زندگی معذور ہو تب بھی ادھوری زندگی کو خوشیوں کا گہوارہ سمجھ لیتی ہیں۔

Latest Posts

Related POSTS