Aaj Bhe Afsoos Hae | Complete Urdu Story

800
ماسی بختاں عرصے سے ہمارے یہاں کام کر رہی تھی۔ یہ لوگ ایک دورافتادہ گائوں سے محنت مزدوری کرنے یہاں آئے تھے۔ سیلاب کے دنوں میں ان کا کچّا گھر، گھریلو اسباب، مال، مویشی بہہ گئے تو نہایت خستہ حالی اور کسمپرسی میں شہر کا رخ کیا۔ ان دنوں مجھے ایک گھریلو ملازمہ کی اشد ضرورت تھی۔ تیسرے بچّے کی ماں بنی تھی اور میری ملازمہ کام چھوڑ گئی تھی۔ مجھ اکیلی کو چھوٹے بچّوں کو سنبھالنا اور گھرداری کرنا جان جوکھم کا کام تھا، بہت تھک جاتی تھی۔
اس روز صبح لان میں دھوپ سینک رہی تھی۔ ننھی دانیہ گود میں تھی، سردیوں کا موسم تھا، سارا کام بکھرا پڑا تھا، ہمّت نہ ہو رہی تھی کہ کچن میں جائوں۔ تب ہی دل سے دعا کی…یا اللہ! آج کوئی اچھی اور دیانتدار ملازمہ بھیج دے۔ قبولیت کی گھڑی تھی، اسی وقت گیٹ بجا۔ کھولا تو سامنے ایک ادھیڑ عمر عورت کھڑی تھی۔ وہ ضرورت مند نظر آ رہی تھی۔ کہنے لگی بیگم صاحبہ! کیا آپ کو گھر کے کام کے لیے ملازمہ چاہیے؟
ہاں،اندر آ جائو۔ عورت صورت سے شریف لگی۔ میں نے فوراً تنخواہ طے کی اور اسی دن کام پر رکھ لیا۔ ماسی بختاں نے میرے پاس آٹھ برس کام کیا، پھر اسے ہڈیوں کے مرض نے آ لیا۔ چھ بچّے تھے، شوہر کبھی کام پر جاتا، کبھی گھر بیٹھ جاتا۔ مزدوری کبھی ملتی کبھی نہ ملتی۔ ماسی نے گائوں جا کر بڑی بیٹی کی شادی کر دی۔ دو لڑکیاں اور دو لڑکے رہ گئے۔ بیٹیاں گائوں میں بوڑھی دادی اور چاچی کے پاس تھیں۔ لڑکا ایک بارہ سال کا اور دوسرا آٹھ برس کا تھا۔ دونوں کو اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا۔ بختاں نے بیماری کے باعث کام چھوڑا تو مجھے بڑا مسئلہ ہوگیا۔ ایک، دو عورتیں کام کے لیے رکھیں لیکن انہوں نے ویسا کام نہ کیا جیسا چاہتی تھی، ان کو نکالنا پڑا۔ ایک روز بختاں آئی تو میں نے اپنی مشکل بیان کر دی۔ بولی…بی بی صاحبہ، بیٹیاں تو گائوں میں ہیں، اگر قبول کریں میرا بیٹا رکھ لیں۔ وہ بہت سلجھا ہوا بچّہ ہے۔ آپ کو بالکل تنگ نہ کرے گا۔ جیسا کہیں گی ویسا کام کر دے گا۔ سوچا جب تک کوئی کام کی عورت نہیں ملتی، اس بچّے سے کام چلا لیتی ہوں۔اگلے روز وہ بیٹے کو لے آئی۔ صورت سے مسکین اور اپنے نام کی طرح شریف تھا۔ کہنے کو بارہ برس کا تھا لیکن مشکل سے نو، دس سال کا لگتا تھا۔ غربت کی وجہ سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا ہوا تھا۔ بھولا بھالا دیکھ کر سوچا کہ ٹھیک ہے رکھ لیتی ہوں، اچھا کھانا کھائے گا تو توانا ہو جائے گا۔
میں نے شریف کو اپنے پاس رکھ لیا۔ بختاں کو کچھ ڈھارس ہوگئی۔ لڑکے کی تنخواہ سے چولہا جلنے کی آس بندھ گئی تھی۔ شروع میں صفائی ستھرائی اور اوپر کے کچھ کام اس کے ذمے لگا دیئے۔ باورچی خانے میں بھی میرا ہاتھ بٹا دیتا۔ فارغ وقت میں شام کو میرے دونوں بیٹوں کے ساتھ لان میں کھیلتا، وہ اس کے ساتھ کھیل کر خوش ہوتے۔ وہ بہت جلد میرے بچوں کے ساتھ گھل مل گیا۔
وہ بختاں کا بیٹا تھا تو ہم کو اس پر اعتبار تھا۔ اس نے بھی کوئی تکلیف نہ دی۔ بھولا لگتا تھا مگر ذہین تھا۔ بات کو بڑی جلدی سمجھ جاتا، جو کام کہتی ٹھیک طرح کر لیتا۔ اس کے آنے سے مجھے راحت اور سکون مل گیا۔ مجھے بس ایک ہانڈی بنانی پڑتی۔ وہ روٹیاں بھی تنور سے لگوا کر لے آتا۔ میرے شوہر صفائی پسند تھے۔ شریف برتن دھوتا تو جگمگا دیتا۔ فرش پر ایسا پونچھا لگاتا کہ وہ شیشے کی طرح چمک اٹھتا، غرض اپنی ماں سے زیادہ اچھا کام کرتا تھا۔
اس کی کارکردگی سے خوش ہو کر تنخواہ کے علاوہ میں اس کو جیب خرچ دینے لگی تاکہ کسی شے کو دل کرے تو لے کر کھا سکے۔ وہ کبھی گنڈیریاں، کبھی بھنے ہوئے چنے اور ابلے بھٹے لے آتا۔ اس کو ٹافیوں وغیرہ سے زیادہ ان چیزوں کا شوق تھا۔ اس کی دیکھا دیکھی میرے بچوں نے بھی ٹافیوں کی جگہ ایسی چیزیں کھانی شروع کر دیں جو گائوں میں باآسانی ملتی تھیں اور صحت کے لیے اچھی تھیں۔ اچھا کھانا باقاعدگی سے ملا تو شریف نے رنگ روپ نکالا اور صحت مند ہوتا گیا۔ ہمہ وقت پھرتی سے کام کرنے کی وجہ سے اس کی ورزش بھی خوب ہوتی تھی۔ اب وہ پہلے والا شریف نہ رہا، کسی خوشحال گھر کا بچہ نظر آتا تھا۔ میرے شوہر احسان پروفیسر تھے، تعلیمی شعبے سے وابستہ تھے۔ ایک روز بولے۔ زیتون! تم پڑھی لکھی ہو، یہ بچہ کافی ذہین ہے، اسے دن میں آدھا گھنٹہ پڑھا دیا کرو تو کسی غریب کا بھلا ہو جائے گا۔ بخت کی وفا اور اس کے لڑکے کی عمدہ کارکردگی کے پیش نظر میں نے بھی سوچا، اس کو پڑھانا چاہیے۔
فارغ وقت نکال کر میں نے اس کو پڑھانا شروع کر دیا۔ چھ ماہ میں اس نے دوسری جماعت کی کتابیں ختم کر لیں۔ اب میرے بچے بڑے ہو گئے تھے، وہ اسکول جاتے تھے۔ ڈرائیور جو احسان کے گائوں کا تھا، ان کو اسکول سے لاتا، لے جاتا۔ ایک اچھی عورت بھی جزوقتی کام کے لیے مل گئی، تب ہی ضمیر نے کہا۔ اس لڑکے کو اسکول بھیجنا چاہیے، ایک مفلس گھر کا بچہ پڑھ لکھ کر باشعور افراد میں شامل ہو جائے تو اس کے خاندان کو بھی فائدہ ہوگا۔
میں نے ایک روز شریف کو بلا کر کہا۔ اگر تم کو اسکول میں داخل کرا دوں تو کیا پڑھو گے؟ وہ خوشی سے جھوم اٹھا، جیسے اس کے دل کی مراد بر آئی ہو۔ قریب ہی ایک سرکاری بوائز اسکول تھا۔ احسان نے شریف کو وہاں داخل کرا دیا اور ہیڈ ماسٹر سے کہا۔ چاہتا ہوں کہ ایک سال میں دو جماعتیں پاس کر لے تاکہ اپنے ہم عمر بچوں کے برابر آ جائے۔ ہیڈ ماسٹر، احسان کی بہت عزت کرتے تھے۔ اس شخص نے اپنی ذاتی کوشش سے شریف کو ایک سال میں دو کلاسیں پاس کروا دیں۔ یوں وہ ایک سال بعد پانچویں میں پہنچ گیا۔ مجھ سے بھی روز باقاعدگی سے پڑھتا تھا۔ یہ اسکول پرائمری تک تھا۔ پانچویں پاس کرنے کے بعد میرے شوہر نے سیکنڈری اسکول میں داخل کروا دیا۔ یہ اسکول فاصلے پر تھا اور گھر سے پیدل جاتے ہوئے اس کو تقریباً بیس منٹ لگ جاتے تھے۔ صبح کا کام جزوقتی ملازمہ زارا کر جاتی جبکہ شام کا کام شریف کرتا۔ رات کو دیر تک پڑھتا۔ ہم خوش تھے کہ ہماری توجہ رائیگاں نہیں گئی۔ یہ لڑکا ضرور ترقی کرے گا۔
ایک سال کے بعد اچانک اس کی کارکردگی میں سستی آ گئی۔ اس کی تعلیمی رپورٹ بہت خراب آئی۔ حیرت ہوئی کہ اس کو کیا ہوا ہے۔ نمبر اتنے کم کہ سمجھ میں نہ آتا تھا۔ پڑھائی سے دلچسپی باقی نہیں رہی یا پھر کوئی اور وجہ ہے۔ سال کے اختتام پر اس کی تعلیمی حالت غیر تسلی بخش ہوتے ہوتے صفر کے برابر رہ گئی۔ یہی نہیں اس کی صحت بھی متاثر ہو گئی تھی حالانکہ شروع میں بہت کام کرتا تھا مگر صحت قابل رشک تھی۔ اب تو کام بھی کم کرتا تھا۔ چند دنوں میں وہ ایک خستہ حال اور تباہ شدہ روح معلوم ہونے لگا۔ سستی اس کی رگ رگ میں سما گئی۔ پچھلے چند دنوں سے تو اس قدر کند ذہن ہوگیا تھا کہ معمولی سی بات بھی اس کی سمجھ میں نہ آتی۔ ایک بات کو کئی بار کہنا پڑتا تب سمجھ پاتا۔
پچھلے کچھ دنوں سے ہمارے گھر کی چھوٹی چھوٹی اشیا غائب ہو رہی تھیں۔ میرا شک ماسی زارا پر جا رہا تھا کیونکہ شریف نے کبھی کوئی چیز نہ چرائی تھی۔ اس کی چوری کی عادت نہ تھی۔ چراتا تو کہاں لے جاتا۔ وہ دن رات ہمارے پاس ہی رہتا تھا۔ اسکول جاتے وقت میں روز اسے بیس، تیس روپے دے دیا کرتی تھی کہ بچہ ہے، کینٹین سے کچھ لے کر کھا لے گا۔ جب اس سے پوچھتی فلاں چیز یہاں رکھی تھی، کہاں گئی تو معصوم سا بن کر کہتا، پتا نہیں بیگم صاحبہ، میں نے تو نہیں دیکھی۔ شریف اتنی معصوم شکل کا تھا کہ کوئی شک نہ کر سکتا تھاکہ وہ کچھ چراتا ہو گا یا کوئی غلط کام کر سکتا ہے۔
میں ماسی زارا پر نظر رکھنے لگی، اس کی کوئی غلطی ہاتھ نہ آئی مگر چھوٹی موٹی اشیاء پھر بھی غائب ہوتی رہیں جیسے انہیں جن لے جاتے ہوں۔ اس سے زیادہ پریشانی یہ تھی کہ لڑکے کی رنگت سنولائی جاتی تھی، آنکھیں بے رونق اور زرد پڑتی جا رہی تھیں، ہونٹ خشک اور آنکھوں کے ڈھیلوں پر نسواری دھبّے دیکھ کر میں نے احسان سے کہا۔ اس کا چیک اپ کرانا چاہیے، کہیں اسکول سے کوئی بیماری تو نہیں لگ گئی۔ ایسا نہ ہو یرقان وغیرہ ہو گیا ہو۔ ہم میاں بیوی فکرمند ہو گئے۔ احسان ایک روز اس کو ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ اس نے بتایا کہ یہ لڑکا نشہ کرتا ہے۔
آپ کیا کہہ رہے ہیں ڈاکٹر صاحب؟ یہ ہمارے گھر میں رات دن رہتا ہے۔ اب سے نہیں چار، پانچ سال سے رہتا ہے۔ ہماری نظروں کے سامنے اور ہمارے گھر میں نشہ آور کوئی شے ہو، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے گھر والے تک ملنے نہیں آتے۔ چھ، چھ ماہ گزر جاتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب بولے۔ پروفیسر صاحب! یہ لڑکا کسی وقت باہر تو جاتا ہو گا؟
اسکول جاتا ہے اور ٹھیک چھٹی کے بعد گھر آجاتا ہے۔
میرا مشورہ ہے کہ آپ اس پر نگاہ رکھیں۔
کئی روز تک ہم پیار سے پوچھتے رہے، شریف نے کچھ بتا کر نہ دیا۔ بالآخر احسان نے اس کو بتائے بغیر اپنے آفس کے چپراسی کے بھائی کو اس کے پیچھے لگا دیا۔ اس نے بتایا کہ اسکول سے چھٹی کے بعد یہ لڑکا سڑک کراس کر کے سامنے نائی کی دکان میں چلا جاتا ہے، جہاں یہ ایک اور لڑکے سے ملتا ہے، تھوڑی دیر بات چیت کرنے کے بعد گھر آ جاتا ہے۔ شریف سے ڈانٹ کر احسان نے سوال کیا کہ تم اسکول سے چھٹی کے بعد سڑک کراس کر کے دکان میں کس سے ملتے ہو؟ وہ بولا۔اپنے چھوٹے بھائی کلیم سے ملتا ہوں۔ وہ میرے لیے کھانے کی چیزیں رکھتا ہے، پھر ہم دونوں مل کر کھاتے ہیں۔
کیا چیزیں کھاتے ہو؟
ربڑی ملائی، مٹھائی، گلاب جامن وغیرہ۔
کیا وہ یہ چیزیں گھر سے لاتا ہے؟
نہیں دکان پر ایک آدمی لا کر بیچتا ہے۔ پہلے کبھی کبھی بال بنوانے آتا تھا، پھر روز آنے لگا۔ اس کی دوستی میرے بھائی سے ہو گئی ہے۔ وہ روز یہ چیزیں لا کر اس کو دیتا ہے۔
کیا مفت دیتا ہے؟ پہلے مفت دیتا تھا لیکن اب کسی چیز کے بدلے یا پیسوں سے۔
کیا چیزیں تم لوگ اس کو دیتے ہو؟ اس سوال پر وہ خاموش ہو گیا۔
احسان نے دکان پر جا کر تحقیق کی تو پتا چلا کہ منشیات بیچنے والا شخص اسی طرح غریب نو عمر لوگوں کو پہلے بہلا پھسلا کر ان کو خود سے مانوس کرتا ہے، پھر ہیروئن ملی مٹھائی اور کھانے پینے کی اشیاء دیتا ہے۔ ناسمجھ لڑکے لے کر کھا لیتے ہیں، جب عادی ہو جاتے ہیں تو پیسے دے کر نشہ خریدنے لگتے ہیں۔ اگر پیسے نہ ہوں تو جو شے دیں، وہ آدمی بدلے میں لے لیتا ہے، مثلاً ہمارے گھر سے گھڑی، بچوںکی کاریں، چھوٹے چھوٹے مگر قیمتی کھلونے، پرفیوم، پارکر پین وغیرہ سب پار ہو کر اسی شخص کے تھیلے میں گئے اور یہ اشیاء شریف نے اس شخص کو ان اشیاء کے بدلے میں دیں جن میں


نشہ آور پائوڈر ملا ہوتا تھا۔
افسوس اس بات کا تھا کہ نائی کی اس دکان میں کام سیکھنے والے تین نوعمر لڑکوں کو اس شخص نے نشے کا عادی بنایا جن میں ایک شریف کا بھائی کلیم بھی تھا۔ گویا ایک گھر کے دو بچّے اس نے شکار کئے۔ اس طرح ایک والدین کے دو چراغ گل کرنے کا سامان اس مردود نے مہیا کر دیا۔ میں اور احسان گاڑی میں بٹھا کر شریف کو اس کے گائوں لے گئے چونکہ سال بھر سے اس کے والدین اپنے گائوں لوٹ گئے تھے۔ بختاں کام کرنے سے معذور تھی اور مکان کا کرایہ پانچ ہزار تھا جو وہ ادا نہ کر سکتے تھے۔ شریف کی تنخواہ ہم جمع رکھتے، جب اس کے والدین میں سے کوئی آتا تو دے دیا کرتے تھے۔
احسان نے لڑکوں کے والدین کو بتایا کہ تمہارے دونوں بچّے نشے کے عادی ہو رہے ہیں۔ شریف کو تو ہم سنبھال لیں گے، اس کا علاج کروائیں گے مگر اپنے دوسرے بیٹے کی خبر لو، اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے۔ لڑکے کو تم نے شہر میں اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ وہ اپنے استاد کے پاس رہتا ہے۔ شریف کے باپ نے کہا۔ بال کاٹنے کا ہنر سیکھ لے گا تو اپنی دکان کر لے گا۔ استاد نے خیال نہیں کیا، اسی لیے وہ منشیات فروش کے ہتھے چڑھ گیا ہے۔
آپ نے تو شریف کو اسکول میں داخل کروایا، اس کا خیال رکھا، یہ پھر بھی منشیات فروش کے چنگل میں پھنس گیا۔ صاحب ہم غریبوں کا یہی نصیب ہے۔ اسکول، کالج یا آپ پڑھے لکھے لوگ ہمارا نصیب نہیں بدل سکتے۔ شریف کے دادا نے مایوس ہو کر شکوہ کیا۔ آپ دونوں لڑکوں کو ہمارے پاس پہنچا دیں۔ شہر میں ان کی زندگی کیا بنے گی، مزید نکھٹو ہو جائیں گے۔ بوڑھے دادا کی آواز میں صدیوں کا دکھ پنہاں تھا۔ ہم شریف کو اس کے والدین کے حوالے نہ کرنا چاہتے تھے بلکہ پڑھا لکھا کر اس کی قسمت بدلنا چاہتے تھے مگر تعلیم اس کے مقدر میں نہ تھی۔ اس کے وارث ہم سے برگشتہ ہو گئے تھے۔ مجبوراً ہمیں لڑکا ان کے حوالے کرنا پڑا۔ پرائی اولاد کو زبردستی تو نہیں رکھ سکتے تھے۔
یہ حقیقت بھی مدنظر تھی اگر اس لڑکے نے باہر سے کوئی ایسی ویسی چیز لاکر میرے بچوں کو دینی یا کھلانی شروع کر دی تو ہم کیا کریں گے۔ مجھے اور میرے شوہر کو شریف جیسے ہونہار لڑکے کے ضائع ہو جانے کا دکھ تھا۔ سوچا کہ پولیس میں رپورٹ لکھوا کر اس شخص کو پکڑوا دیں جو نہ جانے کتنے گھروں کے چراغ بجھا رہا تھا، کتنے والدین کے کلیجے نوچ رہا تھا اور ان غریب لوگوں کی تباہی کے سامان کر رہا تھا جو اپنے بچوں کو مزدوری یا کوئی ہنر سکھانے کی آرزو میں خود سے دور دوسروں کے حوالے کر جاتے تھے۔
احسان نے اس دکان کے مالک سے رابطہ کیا جس کا یہ ہیئر کٹنگ سیلون تھا۔ اس کو حقیقت سے آگاہ کیا۔ اس نے کہا کہ میں یہ تو کر سکتا ہوں کہ اس شخص کا اپنی دکان پر آنا بند کردوں لیکن لڑکے جو مجھ سے ہیئرکٹنگ سیکھتے ہیں، کلی طور پر ان کے پیروں کو باندھ کر قید نہیں کر سکتا، ان پر نظر رکھنا درحقیقت ان کے ماں باپ کا کام ہے۔ اس سلسلے میں ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ان پر پہرہ بھی نہیں لگا سکتے البتہ جس لڑکے پر شک ہو جائے کہ نشہ کرنے لگا ہے، اس کو اپنی شاگردی سے نکال دیتا ہوں۔ رہ گئی پولیس میں رپورٹ لکھوانے والی بات… تو صاحب آپ جو چاہے کریں۔ میں اس معاملے میں نہیں پڑ سکتا۔ محنت کر کے اپنے بال بچوں کا پیٹ پال رہا ہوں، اپنی دکان بند نہیں کروا سکتا۔ صاحب آپ لوگ کس دنیا میں رہتے ہیں، آپ پڑھے لکھے لوگ کسی اور دنیا میں اور یہ جرائم پیشہ لوگ کسی اور دنیا میں رہتے ہیں۔ صاحب پولیس والوں کو ایسے معاملات کا پہلے سے معلوم ہوتا ہے۔ بیکار ہے بھڑوں کے چھتّے میں ہاتھ ڈالنا۔ جرم ہو بھی تو رشوت کی لاٹھی بہت طاقتور ہوتی ہے۔ مجھ غریب کو کسی پولیس تھانے کے چکّر میں نہ پھنسایئے، آپ کے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں۔ اس کے گڑگڑانے پر میرے شوہر بے بس ہو گئے لیکن شریف کو تعلیم نہ دلوانے اور کسی لائق بنا نہ پانے کا آج بھی افسوس ہے۔ (مسز الف…جام پور)