Saturday, July 13, 2024

Aaj Bhi Malal Hai | Teen Auratien Teen Kahaniyan

بچپن میں پر سکون ماحول ملا۔ کبھی دکھ نہ دیکھا۔ ماں باپ کا گھر جنت تھا۔ میٹرک پاس کیا تو والدین کو میری شادی کی فکر ستانے لگی، مگر میں نے کالج جانے کا عندیہ دیا۔ والد نے کہا کہ کالج میں داخلہ کرا دیتے ہیں لیکن اس دوران کوئی اچھا رشتہ آ گیا تو تعلیم کا سلسلہ ختم کر کے شادی کر دیں گے۔ میں نے سوچا کہ جب رشتہ آئے گا تب کی تب دیکھی جائے گی ابھی پڑھنے تو دیں۔

کالج میں ایک لڑکے سے ملاقات ہو گئی۔ نام رشید تھا کافی خوش شکل اور خوش لباس، امیر گھرانے کا لگتا تھا مگر پڑھائی سے زیادہ لڑکیوں میں دلچسپی لیتا تھا۔ پہلے روز تو اس کی ظاہری شخصیت سے مرعوب ہو گئی، مگر بات کر کے مایوسی ہوئی، جیسا شاندار نظر آتا تھا ویسا تھا نہیں۔ اس قدر فالتو باتیں کیں کہ اس کی طبیعت کا اوچھا پن چھلک گیا، تبھی میں نے فورا کنارہ کر لیا۔ کچھ دن بعد خاندان کی شادی میں اسے دیکھا حیرت ہوئی۔ امی نے بتایا کہ ہمارا رشتے دار ہے۔ وہ والدہ کی خالہ زاد بہن کا بیٹا تھا۔ خاندانی رنجش کے سبب عرصہ سے ان لوگوں کی طرف آنا جانا نہ تھا اس لئے ہم ایک دوسرے سے نا واقف تھے، بہر حال اس تقریب میں رشید کی دوستی میرے بھائی فہیم سے ہو گئی۔ کچھ ہی دنوں بعد رشید ہمارے گھر اپنے والدین کی طرف سے ہم لوگوں کو کھانے کی دعوت دینے آیا۔ میں سمجھ گئی کہ یہ رشتے کے لئے راہ ہموار کر رہا ہے۔ بظاہر اس رشتے میں کوئی قباحت نہ تھی۔ وہ خوبصورت اور اپنے ہی خاندان کا لڑکا تھا۔ والدین نے بھی صلح کی خاطر یہ دعوت قبول کر لی۔

میرا اندازہ صحیح نکالا۔ دو چار ملاقاتوں کے بعد رشید کے گھر والوں نے رشتہ مانگ لیا لیکن والدین نے فوراً ”ہاں“ نہ کی، اس طرح مجھے مزید پڑھائی کے لئے وقت مل گیا۔ رشید کالج میں بات کرنے کی کوشش کرتا تو میں کترا کر نکل جاتی۔ میرا کلاس میں بیٹھنا اور کالج جانا دو بھر ہو گیا۔ آخر ایک دن میں نے کہہ دیا کہ بہتر ہے تم کچھ محتاط رویہ اختیار کر لو کیونکہ مجھے سنجیدہ اور بردبار قسم کے لوگ پسند ہیں، ورنہ میرا تمہارا آمنا سامنا بھی نا ممکن ہو جائے گا۔ میرا اتنا کہا کافی ثابت ہوا اس کے بعد اس نے مجھے پریشان نہیں کیا۔ البتہ میرے بھائی سے دوستی بڑھا لی اور ہمارے گھر آنا جانا شروع کر دیا۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا ان دونوں کی دوستی گہری ہوتی گئی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ اب چھٹی کے دن ہمارے گھر قیام کرنے لگا۔ بھائی جان کے ساتھ بیٹھک میں امتحان کی تیاری کرتا اور وہ اس کو دل جمعی سے پڑھاتے ۔ صبح کا آیا رات کا کھانا کھا کر جاتا۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ گھر والوں نے سیر کا پرو گرام بنا لیا۔ مجھے بخار آ گیا امی نے کہا تم نہیں جاسکتیں تو گھر پر آرام کر لو۔ سب لوگ سیر کو چلے گئے اور میں کتاب لے کر بستر پر دراز ہو گئی۔ اچانک در پر دستک ہو گئی۔   میں نے پوچھا کون ہے۔ رشید کی آواز آئی۔ صائمہ دروازہ کھولو۔ وہ بلا جھجک اندر آ گیا اور بھائی جان کے بارے میں پوچھا۔ میں نے بتایا کہ وہ لائبریری کچھ کتابیں لینے گئے ہیں۔ وہ برآمدے میں پڑی کرسی پر بیٹھ گیا اور اخبار اٹھا کر دیکھنے لگا۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں اس کے پاس بیٹھ کر بات کروں یا اپنے کمرے میں چلی جائوں۔ پہلے ایسی صورت حال کبھی پیش نہیں آئی تھی۔ میں اسی سوچ میں باورچی خانے میں چلی گئی۔

صائمہ ایک کپ چائے بنا دو جب تک فہیم آتا ہے میں انتظار کر لیتا ہوں۔ مجھے اس سے ضروری کام ہے وہ لائبریری میرے لئے کتابیں لینے گیا ہے۔ اس کی بات سن کر میرا گلا خشک ہو گیا، سوچا رشید کی اوٹ پٹانگ باتیں سننے سے بہتر ہے کہ چائے بنا دوں۔ میں چائے بنانے لگی وہ امی کے کمرے میں چلا گیا۔ مجھے اس کی یہ بے تکلفی بری لگی۔ بہر حال چائے دی تو چائے کی پیالی لیتے لیتے کلائی پکڑ لی۔ مجھے اس کی اس نا زیبا حرکت پر سخت غصہ آیا مگر ضبط کیا کہ گھر میں اکیلی تھی۔ اس کے غلط رویے کے باعث گھبرا گئی تھی۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کیا کروں؟ سرزنش کروں کہ چائے کی پیالی اسی پر الٹ دوں۔ اس نے میرے غصے کو محسوس کر لیا، کلائی چھوڑ دی۔ میں وہاں سے بھاگ کر اپنے کمرے میں آ گئی اور اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ سوچ لیا کہ جب تک رشید ہمارے گھر سے نہیں چلا جاتا میں دروازہ ہر گز نہیں کھولوں گی۔ سوچا بھی نہ تھا کہ وہ امی کے کمرے کی تلاشی لینے لگے گا۔ میں نے خود کو لاک کیا ہوا تھا اور وہ میری والدہ کی الماری کی تلاشی لینے میں مصروف تھا۔ انہی دنوں میری بڑی بہن کی شادی طے ہوئی تھی اور ان کے لئے والد زیور خرید کر لائے تھے۔ یہ زیور امی نے الماری کی سیف میں رکھا ہوا تھا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ رشید نے الماری کی چابیاں کیسے تلاش کر لیں۔ سیف کھول کر زیور نکال لیا۔ الماری کے کھلنے کی ہلکی سی آواز میں نے اپنے کمرے میں سنی، مگر دھیان نہ دیا۔ میں اس کے جلد جانے کی دعا کر رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ چلا گیا۔ میں کمرے سے باہر نکلی اور بیرونی دروازہ بند کیا۔ آدھا گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ بھائی جان آ گئے۔ آتے ہی پوچھا کوئی آیا تو نہیں تھا۔ مجھ پر خوف طاری تھا کہہ دیا کوئی نہیں آیا تھا۔ ابھی ہم بات کر رہے تھے کہ گھر کے باقی لوگ سیر سے لوٹ آئے۔ وہ سبھی خوش تھے مگر میں گم صم بیٹھی تھی۔ رشید کی غلط حرکت نے میرے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کرلی تھی۔ گھر میں رہتے ہوئے مجھے محسوس ہو رہا تھا جیسے میلوں کی مسافت طے کر لی ہے، میں تھک کر چور ہو رہی تھی۔ سر پر پہاڑ جیسا بوجھ آ گرا تھا۔ ابھی تک دم الجھ رہا تھا۔ امی نے پوچھا۔ کیا طبیعت زیادہ خراب ہے۔ میں نے کہا ہاں امی جان بخار تیز ہو رہا ہے۔ میں کمرے میں جا کر لیٹتی ہوں۔ دوسری صبح وہ پھر آ گیا اور بھائی جان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ وہ نہایت شریفانہ انداز میں بیٹھا تھا۔ اس روز میں کالج نہ گئی تھی۔ جی چاہا کہ بھائی جان کو سب کچھ بتا دوں تا کہ وہ ابھی اسی وقت رشید کو گھر سے نکال دیں، مگر میں ایسا نہ کر سکی۔ دوسرے روز امی جان نے پھوپی کو زیور دکھانے کے لئے سیف کھولا تو ڈبے خالی پڑے تھے۔ وہ پریشان ہو گئیں یہ کیا معاملہ ہے ۔ ابو نے اپنی کل جمع پونجی سے زیور خریدا تھا۔ امی نے مجھ سے پوچھا گھر میں کون آیا تھا۔ مجھے بتانا ہی پڑا کہ رشید آیا تھا۔ فہیم بھائی آگ بگولہ ہو گئے کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ دو روز پہلے تم نے کہا تھا کوئی نہیں آیا اور اب کہتی ہو کہ رشید آیا تھا، تو کیار شید کو زیور تم نے دیا ہے ؟ یہ ایک بہت بڑا الزام تھا۔ میں لرز کر رہ گئی جیسے کسی نے بم مار دیا ہو۔ والد کے خوف سے امی واویلا بھی نہ کر پارہی تھیں لیکن زیور غائب تھا۔ یہ معاملہ چھپنے والا نہ تھا اور چھپانے کی کوئی تک بھی نہ تھی۔ کسی چور نے چوری کی تھی اور چوری پر پردہ ڈالنے کا مطلب کیا تھا۔ اب سب کی مشکوک نگاہوں کا مجھے مقابلہ کرنا تھا اور میں منہ سے کچھ بول نہ پا رہی تھی، بالآخر امی کو بتانا ہی پڑا کہ زیور رشید نے اٹھایا ہے، کیونکہ اس روز جب میں چائے بنا رہی تھی مجھ کو الماری کے کھلنے کا کھٹکا سنائی دیا تھا لیکن دھیان نہ دیا کیونکہ زیور کی طرف خیال ہی نہ گیا۔ سوچ نہ سکتی تھی کہ رشید ایسا کر سکتا ہے۔

ابھی یہ کھچڑی اندر اندر پک رہی تھی کہ اس کے والدین رشتے کے لئے دوبارہ آ گئے۔ والد صاحب نے سوچا کہ اچھے رشتے دوبارہ نہیں ملتے۔ بھائی جان سے مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا فوراً یہ رشتہ قبول کر لینا چاہئے۔ سمجھ گئی میرا بھائی ایسا کیوں کہہ رہا ہے۔ بھائی جان کو غلط فہمی ہو گئی تھی کہ میں سیر پر نہ گئی تو گھر پر رکنے کا کوئی مقصد تھا اور جب رشید کے آنے کا پوچھا تو بھی بات کو گول کر گئی تھی۔ انہوں نے مطلب نکالا کہ ہمارے پیچ کالج میں کوئی معاملہ چل پڑا ہے حالانکہ کوئی معاملہ نہ تھا۔ مجھے تو پہلے دن سے ہی رشید پسند نہ تھا اوپر سے اس کی نازیبا حرکت نے میرا خون کھولا دیا تھا دلی نفرت ہو گئی۔ مجھے یقین تھا کہ زیور بھی اس نے اٹھایا تھا اور کوئی نہیں آیا تھا۔ آج تک والدہ کی کبھی کوئی شے غائب نہ ہوئی تھی۔ گھر میں کوئی ان کی الماری کی تلاشی نہیں لیتا تھا۔ ان کی عادت تھی وہ چابیاں سرہانے رکھی میز کی دراز میں رکھ دیا کرتی تھیں۔ رشید نے دراز کھول کر چابیاں نکال لی تھیں۔ صورت حال عجیب ہو گئی۔ میر ادل رو رہا تھا، امی زیورات کے لئے پریشان اور بھائی جان نے یہ تصور کر لیا تھا کہ میں رشید کے ساتھ کالج میں رومانس کر رہی ہوں۔ لہٰذا یہ رشتہ جلد طے ہو جانا چاہئے۔ بھائی کے اصرار پر والد نے جانا کہ میرے بیٹے پر رشید کی خوبیاں کھل گئی ہیں۔ دونوں میں گہری دوستی ہے، تبھی فہیم رشید کو اپنے گھر کا فرد دیکھنا چاہ رہا ہے ۔ امی کو بھی اس رشتے پر اعتراض نہ تھا لیکن زیورات کی گمشدگی ایک معمہ بنی ہوئی تھی اور میں تھی کہ رشید کی نفرت میں کالج چھوڑ کر بیٹھ گئی تھی، حالانکہ یہ میرا آخری سال تھا لیکن میں اس کی صورت دیکھنا نہ چاہتی تھی۔ میں نے باجی کو اعتماد میں لیا۔ ان کو بتادیا کہ امی ابو جس کو فرشتہ صفت جان رہے ہیں اور بھائی سمجھ رہے ہیں کہ میں رشید پر مرتی ہوں دراصل زیور اسی خبیث انسان نے چرایا ہے ، یہ بھی بتا دیا کہ اس روز جب میں اکیلی تھی وہ ڈھٹائی سے اندر آ کر والدہ کے کمرے میں بھی گیا تھا۔ بھائی جان کے انتظار کا بہانہ کر کے مجھ سے چائے کی فرمائش کر دی۔ میرا کلاس فیلو ہے تو میں مروت میں انکار نہ کر سکی اور چائے لا کر دی، تب اس نے نازیبا حرکت کر کے مجھ کو شدید دکھ پہنچایا۔ مجھے اس لڑکے سے نفرت ہو گئی ہے مگر ستم یہ کہ سبھی سمجھ رہے ہیں میں رشید کو پسند کرتی ہوں، وہ میری اس سے منگنی کرنا چاہ رہے ہیں۔ خدا کے لئے مجھے اس خبیث کے چنگل سے بچا لو ورنہ زندگی برباد ہو جائے گی۔ باجی سمجھ دار تھیں، زیور کی گمشدگی پر آزردہ تو تھیں لیکن حو صلے سے کام لیا، کہا کہ مجھے تمہاری بات کا یقین ہے لیکن تم خاموش رہ کر بہت غلط کر رہی ہو ، اپنے لئے گڑھا کھود رہی ہو۔ تم کو ہر بات ابو کو بتانی پڑے گی لیکن اس سے پہلے تم کالج جائو۔ کالج نہ جا کر بھی سخت غلطی کر رہی ہو۔ وہاں رشید کی گردن پکڑو اور اس کو صاف صاف بتا دو کہ زیور واپس کر دے، ورنہ تم رشتے سے نہ صرف انکار کرو گی بلکہ سب کو بتا دو گی کہ تم نے زیورات چرائے ہیں۔ باجی کے ہمت دلانے پر میں کالج گئی وہ تو جیسے میرا منتظر تھا مجھ سے بات کرنے کے لئے تڑپ رہا تھا۔ میں نے کہا۔ زیورات واپس کر دو ورنہ تمہارے والدین سے شکایت کر دوں گی۔ بولا، ایسا تم نہیں کر سکتیں، جو اپنے گھر والوں کو نہ بتا سکی، میرے والدین کو کیا بتائے گی اور وہ تمہاری بات کا یقین کر لیں گے کیا؟ میں آنکھوں میں آنسو بھر کر گھر آ گئی اور قسم کھائی کہ اب رشید کا پول کھول کر رہوں گی۔

باجی نے بھائی جان کو بتادیا کہ زیور تمہارا دوست لے گیا ہے اس روز وہی امی کے کمرے میں بیٹھا تھا۔ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں آیا۔ گھر میں سے کسی نے زیور چرایا ہو اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بھائی جان کسی صورت یہ ماننے کو تیار نہ تھے کہ رشید ایسی حرکت کر سکتا ہے۔ ان کو کیسے بتاتی کہ آپ کا دوست قطعیشریف آدمی نہیں ہے۔ الماری کھلنے کا کھٹکا میں نے خود سنا۔ پھر میرے ساتھ نازیبا حرکت کرنے والا شریف کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ چور ہی نہیں سینہ زور بھی تھا۔ میں فہیم بھائی کا بہت لحاظ کرتی تھی، ان کے سامنے زبان کھولنا محال تھا۔ باجی کی شادی کے دن قریب آرہے تھے اور ہمارے گھر میں وحشت بڑھ رہی تھی، والد صاحب پر زیورات چوری کا معاملہ کھلنے والا تھا، پھر تو واقعی قیامت بپا ہونا تھی۔ ایسا ہنگامہ ہوتا کہ اللہ کی پناہ سارا الزام میری ماں بیچاری پر آ جاتا اور انہی پر والد صاحب شک کرتے کہ بیوی تم نے خود زیور غائب کیا ہے۔ ہم ان کو سمجھا نہ سکتے تھے بس وہ تھے ہی ایسے۔ کچھ الٹا سیدھا اگر سوچ لیتے تو پھر اس پر ڈٹ جاتے۔ یہی خصلت میرے بھائی کی بھی تھی۔ ان کا مزاج بھی ابو جیسا ہی تھا۔ باجی کی شادی میں پندرہ روز باقی تھے۔ بالآخر میں نے خود رشید سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک دو پہر جبکہ سب اپنے کمروں میں تھے۔ میں نے در کھولا، چپکے سے گھر سے نکلی اور رشید کے گھر چلی گئی ان کے گھر کی بیٹھک کی کھڑی کھلی تھی۔ میں نے جرات کر کے جھانکا وہ وہاں موجود تھا۔ کھڑ کی میں سایہ دیکھا تو سامنے آ گیا۔ پوچھا کون ہے ؟ میں ہوں صائمہ ۔ مسٹر چور دروازہ کھولو۔ اس نے در کھولا اور میں بیٹھک میں آ گئی۔ اچھا تو پولیس چور کو پکڑنے آئی ۔ چور ہوں تو مجھے پکڑواتی کیوں نہیں ہو ، چپ کیوں ہو۔ اس کا یہ انداز میرے تن بدن میں آگ لگا گیا۔ سیدھے سبھائو زیور واپس کر دو، میری بہن کی شادی اور ہماری عزت کا سوال ہے۔ مجھے معلوم ہے زیور تم ہی نے لیا ہے۔ ہاں میں نے لیا ہے۔ لیکن کیوں؟ یہ نہیں پوچھا تم نے، اس لئے کہ تم کالج میں مجھ سے کلام نہیں کرتی ہو ، منہ نہیں لگاتیں بلکہ تمہارا رویہ میرے ساتھ اہانت آمیز ہوتا ہے۔ میں وعدہ لینا چاہتا ہوں کہ تم مجھ سے شادی سے انکار نہ کرو گی، تب ہی زیور واپس کروں گا۔ بولو۔ شادی کرو گی نا مجھ سے ؟ اب ہاں کئے بنا چارہ نہ تھا۔ اس وقت تو زیور واپس لینا تھا اس نے کہا قسم کھائو ۔ اللہ مجھے معاف کرے والدین کی عزت کی خاطر جھوٹی قسم کھانی پڑ گئی۔ اس نے زیور مجھے واپس کر دیا اور میں ہانپتی کانپتی گھر آ گئی۔ زیور لا کر والدہ کے حوالے کیا۔ انہوں نے کہا اللہ تجھے سمجھے ، پہلے اپنے یار کو بہن کا گہنا دے دیا اب واپس لے آئی ہے ، اللہ جانے تو نے ہم سے کب کا بدلہ لیا ہے۔ اللہ تمہیں غارت کرے، اگر وہ واپس نہ کرتا تو کیا ہوتا، تیرے ابا تو میرا جنازہ نکال دیتے، صد شکر کہ عزت رہ گئی۔ میرے لب خاموش تھے مگر آنکھیں برس رہی تھیں ، اب بھی بہن ہی تھی جس کو میری بے گناہی کا یقین تھا، باجی نے مجھے گلے لگا کر دلاسا دیا۔ باجی کی شادی ہو گئی۔ رشید بڑے جوش و خروش سے اس شادی میں شریک ہوا، ہر کام میں ابو اور بھائی کا ہاتھ بٹار ہا تھا اور میں سوچ رہی تھی، اگر ان کو اس شخص کی اصلیت معلوم ہو جائے تو ابھی جوتے مار کر گھر سے باہر کر دیں۔ شادی کے موقع پر کسی قسم کا ہنگامہ اور بدمزگی نہ چاہتی تھی لہذا لب سی لئے اور صبر کی سل کلیجے پر رکھے خاموش رہی۔

باجی خیر سے بیاہ کر اپنے گھر کی ہو گئیں۔ ان کی رخصتی کے بعد جوں توں کر کے سالانہ پرچے دیئے اور گھر بیٹھ رہی۔ اب کالج جانے کا جواز نہ تھا مگر رشید روز ہی آ جاتا تھا، بھائی جان کا دوست جو تھا، وہ آستین کا سانپ۔ کچھ روز گزرے اس کے والدین دوبارہ رشتہ لینے آ گئے۔ رشید کو یقین تھا کہ میں نے قسم کھائی ہے تو رشتے سے انکار نہ کروں گی لیکن میں کیسے ایک ڈاکو کو قبول کر لیتی ، میرے دل نے اس رشتے کو قبول ہی نہ کیا تھا۔ والد اور بھائی راضی ہو گئے والدہ حالات کا رخ دیکھ رہی تھیں، منتظر تھیں کہ جانے یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے ۔ ہمارے یہاں فیصلہ تو مردوں کا ہوتا تھا، تبھی میں نے باجی کو فون کر دیا۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ آ گئیں، وہی اب میری طرف سے وکیل تھیں۔ والد نے باجی سے کہا بہن کو بتا دو ہم اس کا رشتہ رشید سے طے کر رہے ہیں، تب باجی نے کہا کہ یہ رشتہ صائمہ کے لئے ہر گز قابل قبول نہیں ہے ، وہ رشید کو پسند نہیں کرتی۔ اس کا کہنا ہے اگر یہ رشتہ زبردستی جوڑا گیا تو وہ جان دے دے گی۔ ابو پریشان اور بھائی صاحب حیران رہ گئے لیکن یہ حقیقت تھی۔ ان کی حیرانی اور پریشانی دور کرنے کے لئے مجھے بالآخر زبان کھولنی پڑی۔ میں نے بتادیا کہ مجھے رشید کا ساتھ ہر گز قبول نہیں ہے۔ میرے انکار پر والد صاحب خاموش ہو گئے۔ امی جان نے بھی میری تائید کی اور زیورات کی چوری کا قصہ ان کے گوش گزار کر دیا۔ یوں میری جان اس ڈھیٹ سے چھوٹی لیکن آج تک جھوٹی قسم کھانے کا ملال ہے۔

Latest Posts

Related POSTS