Saturday, April 13, 2024

Aakhri Faisala

سونی میرے منہ بولے چچا کی بیٹی تھی ، وہ ہمارے گھر امی سے قرآن مجید پڑھنے آیا کرتی تھی۔ جب مجھے اسکول جاتے دیکھتی، تو حسرت سے کہتی کہ کاش میں بھی اسکول جاسکتی مگر اس کے والد اجازت نہ دیتے تھے۔ تب ہی امی نے اسے پہلی کا قاعدہ اور پھر دوسری کی کتاب گھر میں پڑھادی۔

پانچویں جماعت کے بعد میرا بھی اسکول جانا موقوف ہو گیا کیونکہ چھٹی کلاس کے لیے لڑکوں کے اسکول میں داخلہ لینا پڑتا تھا، جس کی اجازت بھائی نے نہ دی کیونکہ وہ خود اس اسکول میں پڑھ رہا تھا۔ مجھے افسردہ دیکھ کر ابا نے کہا۔ صبر کرو، میرا تبادلہ شہر ہو جانے دو۔ وہاں میں تم کو دوبارہ اسکول میں داخل کروادوں گا، تب تک تم گھر میں ہی پڑھتی رہو۔ ان دنوں میرے والد قصبے کے ڈاک خانے میں ملازم تھے۔ وہ ہر ہفتے شہر جا کر قصبے کی ڈاک لے آتے اور وہاں سے جو ڈاک آتی اسے قصبے میں تقسیم کر دیتے۔ اس کے علاوہ پارسل منی آرڈر کا انتظام بھی وہی سنبھالتے تھے۔ والد صاحب نے مڈل کی تیاری خود مجھے گھر پر کر وادی لیکن سونی بے چاری کا سلسلہ تعلیم تیسری جماعت سے منقطع ہو گیا۔ وہ اب بھی روزانہ ہمارے گھر آتی اور کبھی کبھی مجھ سے اردو پڑھنے بیٹھ جاتی تھی کیونکہ میری طرح اسے بھی کچھ بننے کا شوق تھا۔ وہ اکثر کہتی کہ میں بڑی ہو کر استانی بنوں گی۔ ابھی وہ چودہ برس میں تھی، ایک دن پتا چلا اس کی شادی ہو رہی ہے۔ اس کے مام قریبی گائوں میں رہتے تھے ، جن کے سپوت سے اس کی شادی ہو رہی تھی۔ اس آدمی کا نام شبیر تھا۔ میں نے اسے دیکھا ہوا تھا۔ میں پریشان ہو گئی کیونکہ اس شخص کے تو پہلے پانچ بچے تھے اور عمر میں بھی کافی بڑا تھا۔ سونی کی ماں نے جب میری اماں کو بتایا، تو انہوں نے سر پکڑ لیا۔ کہنے لگیں۔ بھا بھی ! یہ تم نے کیا غضب کر دیا ؟ سوکن پر بیٹی دے رہی ہو اور وہ بھی ادھیڑ عمر والے کو ، جو تمہاری بیٹی سے چو گنا عمر میں بڑا ہے۔ کیا ہو گیا ہے۔

سونی تو ابھی معصوم بچی ہے، کیوں ایسا غلط فیصلہ کر رہی ہو۔ بھائی جان ! شبیر کی بیوی دو ماہ ہوئے انتقال کر چکی ہے ، اس کے تین بچے تو سمجھ دار ہیں ، ان کو سنبھالنا نہیں پڑتا۔ دوہی ایسے ہیں جن کو دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ ان کی دیکھ بھال میں خود کر لیا کروں گی۔ شبیر کے پاس کافی زمین ہے۔ عمر میں بڑا ہے ، تو کیا ہوا؟ شریف آدمی ہے ، قریبی رشتہ ہے اس سے۔ اس کی کافی زمین ہے ، وقت گزرتے دیر نہیں لگتی، دو چار سالوں میں اپنی سونیا اٹھارہ کی ہو جائے گی۔ خوشحال گھرانہ ہے ، یہ وہاں سکھی رہے گی۔ اس وقت شبیر مشکل میں ہے ، تب ہی ہم سے رشتہ مانگ رہا ہے۔ ہم نے انکار نہیں کیا۔ کل کوئی اور بھلا مانس اپنی بیٹی دے دے گا، بیٹیوں کے رشتے جلد تھوڑا ہی ملتے ہیں۔  چاچی جی ! کیا تمہار اول نہیں دکھتا کہ تم سونی کو پانچ بچوں کی ماں بنارہی ہو۔ آخر مجھ سے بھی چپ نہ رہا گیا۔ بیٹی، میں کیا کر سکتی ہوں۔ میری مرضی نہیں چلے گی۔ سونیا کا ماما ، اس کے ابا کے سر ہو گیا ہے۔ باپ مالک ہوتا ہے ، جو چاہے فیصلہ کرے، ہم عورتوں کا کیا ؟ جس روز چاچی یہ بات کر کے گئی ، اس کے ایک ہفتے کے بعد کا واقعہ ہے۔ ہم سب سور ہے تھے کہ در پر دستک ہوئی۔ رات دس بجے کا وقت تھا۔ دیہات میں تو ان دنوں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے آٹھ ، نو بجے سب بستر میں کھس جاتے تھے۔ میری ماں نے لیمپ کی روشنی میں دیکھا، دروازے پر سونی کھڑی تھی۔ امی اس کو اندر لے آئیں۔ خیر تو ہے سونیا ! اس وقت کیسے آئی ہو ؟ جواب میں وہ رونے لگی۔ ہم نے تسلی دی اور رونے کا سبب پوچھا۔ وہ کہنے لگی۔ چاچی گھر والے میری شادی کر رہے ہیں اور مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ مجھے ابھی شادی نہیں کرنی، پڑھنا ہے ، اس لیے میں گھر سے چلی آئی ہوں۔ اب میں گھر نہیں جائوں گی، آپ لوگوں کے پاس رہوں گی۔ امی نے اسے پیار کیا اور سمجھایا کہ رات کو گھر سے نکلنا ٹھیک نہیں ہے۔ تم آج رات ہمارے گھر سو جائو، تمہارے ابا لینے آئیں گے تو کہہ دوں گی، میں نے بلایا تھا کہ عائشہ کی طبیعت ٹھیک نہ تھی۔ کل میں خود تم کو چھوڑ آئوں گی اور تمہارے والد کو سمجھانے کی کوشش کروں گی۔ سونیا اس رات ہمارے گھر سو گئی۔ اس کے گھر والے جانتے تھے ، اس لئے اس کے پیچھے نہیں آئے۔

صبح جب میری امی اسے اس کے گھر لے کر گئیں تو چانے سے چچا نے سونی کو اتنا مارا کہ وہ بے ہوش ہو گئی۔ امی نے سمجھانا چاہا، وہ نہ مانے ، وہ تو غصے سے بھرے بیٹھے تھے۔ اس پر امی تو گھبرا کر لوٹ آئیں کہ جب یہ ہماری بات سننے کو تیار نہیں تو کہاں مانیں گے۔ ہم آج یہاں ہیں، کل تبادلہ ہو گا تو چلے جائیں گے۔ یہ جانیں اور ان کا کام ۔ چچا تو جدی پشتی اس قصبے کے رہنے والے تھے اور ہم پر دیسی۔ اس واقعہ کے بعد امی پھر سونی کے گھر نہ گئیں۔ اس کی شادی کی تاریخ پکی کر دی گئی۔ مجھے بڑا دکھ تھا، مگر میں بھی نہیں گئی کیونکہ امی نے منع کر دیا تھا کہ اب تم ادھر مت جانا۔ یہ کم عقل لوگ ہیں۔ الزام لگادیں گے کہ ہم نے ان کی لڑکی کو بہکا دیا ہے۔ اسی وجہ سے وہ شادی سے انکار کرتی ہے۔ سونی کی شادی کی تیاریاں شروع تھیں، بس ایک دیوار بیچ میں تھی۔ کتنا دل چاہتا تھا کہ اس کے پاس جائوں ، اس کو تسلی دوں ، مگر میں بھی مجبور تھی۔ چار دن شادی میں باقی تھے کہ پتا چلا ، سونی غائب ہے۔ یہ بات پورے گائوں میں پھیل گئی۔ صبح جب اس کے گھر والے اٹھے تو سونی کو غائب پایا۔ جہاں جہاں اس کے جانے کا امکان ہو سکتا تھا، وہاں سے پتا گیا۔ ہمارے گھر میں بھی اس کی ماں پوچھنے آئی۔ تین دن تک اس کا پتا نہیں چلا، پھر کسان کے ایک لڑکے نے اس کے باپ کو بتایا کہ میں نے تمہاری بیٹی کو ایک آدمی کے ساتھ اس پگڈنڈی پر جاتے دیکھا تھا۔ جانے یہ سچ تھا یا نہیں، سونی کے والد نے اس کی بات کا یقین کر لیا۔ جب شادی ہیں ایک دن رہ گیا تو امی سونی کی ماں سے ہمدردی کرنے گئیں۔ یہ دو پہر کا وقت تھا اور میں گھر پر اکیلی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ در کھولا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ سامنے چادر میں لپٹی سونی کھڑی ہے۔ میں اس کو جلدی سے اندر لے آئی اور پوچھا کہ تو کہاں گئی تھی ؟ تیرا باپ سارے علاقے میں تجھے ڈھونڈتا پھرتا ہے۔ میں کہیں نہیں گئی تھی ، ادھر ہی تھی۔ ہمارے گھر سے تھوڑی دور ، زمیندار کے بھوسے کا ذخیر ہ پڑا تھا، جن کو ہم پلے کہتے تھے۔ وہ بولی کہ میں پلوں میں جا کر چھپ گئی تھی۔

دن گزر جاتا تھا مگر رات ہیں ادھر ادھر کتے بھونکتے تھے ، جن سے مجھے بہت ڈر لگتا تھا۔ دو دن سے زیادہ وہاں چھپنا ممکن ہی نہ رہا، اسی لیے تمہارے گھر آگئی ہوں۔ گھر جائوں گی تو ابا مارے گا، اس لیے وہاں نہیں گئی۔ وہ بھوک سے نڈھال تھی۔ پانی تو رات کو بھوسے کے ڈھیر سے نکل کر قریبی ندی سے پی لیتی تھی مگر بھوک کے لیے مولی اور گاجر کے پتے کھا کر گزارہ کرتی رہی تھی۔ نقاہت سے اس بے چاری کا یہ حال تھا کہ بات بھی نہیں کر سکتی تھی۔ سہمی ہوئی چڑیا کی طرح میرے پاس دیکی بیٹھی تھی۔ عاشی ! خدا کے لیے مجھے کہیں چھپاد و یا شہر اپنے ماموں کے گھر بھجوادوں میں شبیر کے ساتھ نہیں جائوں گی۔ مجھے اس سے ڈر لگتا ہے۔ تم نے دیکھا ہے وہ کتنا بد صورت ہے ؟ دیو جیسا کالا، لمبا چوڑا، چہرے کی طرف دیکھنے سے دہشت آتی ہے۔ وہ رونے لگی۔ بڑی مشکل سے اسے چپ کرایا اور اصرار کر کے چاول کھلائے۔ اتنے میں امی آگئیں اور سونی کو میرے پاس دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ میں نے کہا۔ امی ، تم ہی اس بے چاری کو بچالو، دیکھو یہ شبیر سے کتنا ڈری ہوئی ہے۔ بیٹی ! یہ پرائی لڑکی ہے، ہم کیسے اس کو کہیں چھپا سکتے ہیں۔ اس کے ماں ، باپ اس کے وارث ہیں، ہم اس کی مدد کریں گے تو ورغلانے والے دشمن کہلائیں گے ، پھر اسے بہلانے لگیں کہ بیٹی تو اپنے گھر چلی جا۔ معافی مانگ لینا، تیرا باپ پریشان ہے۔ دیکھنا وہ تجھے کچھ نہیں کہے گا ، مگر وہ کسی طور گھر جانے پر راضی نہ تھی۔

اتنے میں میرے والد صاحب آگئے اور سوئی کو اس کے گھر لے گئے۔ جوں ہی انہوں نے اسے اس کے گھر کے اندر کیا، تھوڑی دیر میں اس کی چھینیں سنائی دینے لگیں۔ ابا نے جلدی سے گائوں والوں کو اکٹھا کیا۔ وہ سب دائود خان کے دروازے پر جمع ہو گئے اور اسے سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کیا، ورنہ انہوں نے آج بیٹی کو بخشا نہیں تھا۔ اگلے دن دولہا ، بارات لے کر آگیا اور سونی کو زبردستی دلہن بنا کر شبیر کے ساتھ اس کے گائوں روانہ کر دیا گیا۔ وہ اتنے زور زور سے روتی بلکتی جاتی تھی کہ اس کی آواز سن کر میں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھوس لی تھیں۔ سب نے یہی جانا کہ شوہر کے گھر جا کر سدھر جائے گی ، مگر وہ ایک نادان بچی تھی۔ وہاں ایک سخت دل ساس اور شوہر کے پانچ بچوں نے اس کا استقبال کیا۔ سونی جب شوہر کے قابو میں نہ آئی اور دلہن بنی ہوئی اس کے کمرے سے نکل کر کھیتوں میں بھاگی ، تو شبیر اس کو بالوں سے پکڑ کر گھر لے آیا اور کمرے میں بند کر کے جانے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا کہ وہ بے ہوش ہو گئی۔ کہتے ہیں کہ دولہا نے بھی اس کو شادی کی پہلی رات خوب مارا تھا۔ شادی کے چھ دن بعد پتا چلا کہ وہ پھر سے بھاگ گئی ہے ، اس بار وہ بھاگ کر اکیلی ہی اپنے گائوں میں آگئی اور جاتی بھی کہاں؟ اسے تو اور کوئی راستے بھی پتا نہ تھے۔ کاش وہ اس بار گائوں نہ آتی، بلکہ کمیوں اور چلی جاتی۔ شاید کوئی خدا ترس اس کو بچا لیتا۔ اس بار وہ ہمارے گھر آنے کی بجائے، ہماری استانی کے گھر جا کر چھپ گئی۔ بے چاری استانی تو پہلے ہی اس قصبے کے جاہلانہ ماحول سے ڈری رہتی تھی۔ وہ بڑی مشکل سے قصبے کے اس اسکول میں پڑھانے کے لئے راضی ہوئی تھی۔

اس نے سوچا کہ سونیا کی وجہ سے اس پر کوئی آفت نہ ٹوٹ پڑے۔ اس نے سونی کو کمرے میں بٹھایا اور باہر سے کنڈی لگا کر دائود چاچا کے گھر اطلاع کرنے چلی گئی۔ جوں ہی ان کو اطلاع ہوئی ماں، باپ دونوں سونی کو لینے آپہنچے اور چیختی چلاتی لڑکی کو گھر لے آئے۔ اب ہم نے سمجھ لیا کہ سونی کا آخری فیصلہ ہونے والا ہے، کیونکہ اس بار مار پیٹ اور سونی کے رونے چلانے کی آواز بھی نہیں آئی۔ شبیر بھی اسے تلاش کرتا ہوا اس کے باپ کے گھر پہنچ گیا۔ سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ اس کو جان سے مارنے کی بجائے کسی دور دراز علاقے میں فروخت کر دیا جائے۔ جان سے مارنے میں یہ قباحت تھی کہ اس واقعہ کا تمام گائوں گواہ تھا۔ ایک ہفتے کے اندر اندر باپ نے بیٹی کا سودا کر دیا اور وہ آدمی ایک رات سونی کو ٹرک میں ڈال کر لے گیا۔ اس طرح باغی لڑکی کہہ کر باپ نے بیٹی سے نجات پالی۔ اس کے عیوض خاصی موٹی رقم بھی اسے مل گئی اور لوگوں میں مشہور کر دیا کہ وہ بھاگ گئی ہے۔ لگتا تھا کہ یہ لوگ بیٹی کو انسان نہیں مال مویشی سمجھتے ہیں۔ جس شب سونی کو وہ آدمی لے جار ہا تھا، میں نے اپنی چھت سے یہ نظارہ دیکھا تھا۔ انہوں نے سونی کے ہاتھ پائوں باندھ کر اس کا منہ بھی دوپٹے سے باندھ دیا تھا۔ میں اپنی چھت پر بیٹھ کر بہت دیر تک روتی رہی تھی حالانکہ ٹرک تو کبھی کا جا چکا تھا۔ سونی کا افسوس اس کی ماں کو تھا یا اس کی چھوٹی بہن کو۔ ہم تینوں کافی عرصہ تک اس کے لیے چھپ چھپ کر آنسو بہایا کرتے تھے۔ باقی کسی کو اس کے جانے کا دکھ نہیں تھا۔ سارا گائوں اس کا دکھ کیوں کرتا، جب اس کے اپنے باپ اور بھائی اس سے کوئی جذباتی لگا تو نہیں رکھتے تھے۔ سب گائوں والے تو یہ ہی سمجھتے تھے کہ سونی بھاگ گئی ہے، تب ہی ان کو اس کے غائب ہو جانے پر کوئی تشویش یا ہمدردی نہ رہی تھی۔

Latest Posts

Related POSTS