Aankh Macholi | Episode 7

430
میری سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا جواب دوں۔ مجھے چاندنی کے بارے میں حقیقت بتانی چاہیے یا نہیں۔ میں نے کہا۔ ’’چاندنی میرے ساتھ پڑھتی رہی ہے۔ چند سال پہلے یہ اس شہر میں شفٹ ہوئے تو اچانک میری اس سے ملاقات ہوئی۔‘‘
مسکین بھائی نے میری بات سنی اور مجھے ایک طرف لے جاکر بولے۔ ’’تم جانتے نہیں کہ مجھے اس وقت تمہاری کتنی ضرورت تھی۔ تمہیں یہاں اچانک دیکھ کر جو خوشی مجھے ہوئی ہے، اس کا اندازہ نہیں کرسکتے۔ ہم یہاں جو کام کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے یقین نہیں تھا کہ میرا کوئی آدمی وہ کام ٹھیک طرح سے کرسکے گا۔ میں پریشان تھا لیکن مجبوری یہ تھی کہ کام بہرحال کرنا تھا، اب تم آگئے ہو تو وہ کام تم کرو گے۔‘‘
’’کون سا کام؟‘‘ میں نے مسکین بھائی سے پوچھا۔
’’ابھی بتاتا ہوں۔ پہلے مجھے یہ بتائو چاندنی کو کہاں چھوڑنے جانا ہے تاکہ میرا آدمی اسے اس کے گھر چھوڑ آئے۔‘‘
’’اس کے گھر والے کل رات ہی دوسرے شہر شفٹ ہوئے ہیں، یہ رک گئی تھی۔ فی الحال یہ میرے ساتھ رہے گی۔‘‘ میں نے ایک اور جھوٹ تراشا۔
’’یہ ہمارے کام میں رکاوٹ تو نہیں بنے گی؟‘‘
’’یہ بہت سمجھدار لڑکی ہے۔ عام لڑکی نہیں ہے کہ مصیبت کھڑی کردے۔‘‘ میں کچھ کہتے کہتے چپ ہوگیا پھر بولا۔ ’’مگر کام ہے کیا؟‘‘
مسکین بھائی نے دائیں بائیں دیکھا اور اس کے بعد سرگوشی کی۔ ’’اس شادی ہال میں ایک آدمی ہے، اسے قتل کرنا ہے۔‘‘
مسکین بھائی نے یہ بات جتنی آسانی سے کہی تھی، اس سے کہیں زیادہ شدت سے اس بات نے میرے تن بدن میں سنسنی پھیلا دی تھی۔
’’اس شادی ہال میں موجود ایک آدمی کو قتل کرنا ہے؟ آپ یہاں قتل کرنے کے لیے آئے ہیں؟‘‘ مجھے سن کر گھبراہٹ ہورہی تھی۔
’’میں یہاں صرف نگرانی کرنے آیا تھا، قتل کرنے پر ایک دوسرا آدمی مامور ہے۔ تم آگئے ہو اس لیے وہ اب یہ کام نہیں کرے گا۔‘‘
’’اب یہ کام کون کرے گا؟‘‘
’’اب یہ کام تم کرو گے۔‘‘ مسکین بھائی نے کہا۔ میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ میں نے تو کبھی مکھی نہیں ماری تھی اور مسکین بھائی مجھے قتل کرنے کا کہہ رہے تھے۔ وہ بھی ایک انسان کا…! جس کے بارے میں کہا گیا تھا جس نے ایک انسان کو مارا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کردیا۔
’’میں یہ کام نہیں کرسکتا۔‘‘ میں نے صاف انکار کردیا۔
’’یہ کام تم جیسا بہادر اور نڈر شخص ہی کرسکتا ہے۔ انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔ میں نے اس کام کے پیسے لیے ہیں۔‘‘ مسکین بھائی کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا تھا کیونکہ آخری جملہ کہتے ہی انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیے تھے۔ ان کی بات سن کر مجھے یقین ہوگیا تھا کہ مسکین بھائی پیسے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کے سامنے شرافت کا لبادہ اوڑھ کر ڈھونگ رچایا ہوا ہے۔
’’کیا کہا ہے آپ نے؟ آپ نے اس قتل کرنے کے پیسے لیے ہیں؟‘‘ میں نے حیران ہوکر پوچھا۔
’’میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ ابھی تمہیں میں وہ آدمی دکھاتا ہوں۔ پھر تمہیں ایک تیز دھار چاقو دوں گا۔ تم بس اس کے پاس سے گزرتے ہوئے چاقو اس کی گردن پر پھیر دینا۔ عین اس وقت محض ایک منٹ کے لیے میرے آدمی لائٹ بند کردیں گے اور اس اندھیرے میں تم کام کرکے وہاں سے ہٹ جائو گے۔‘‘ مسکین بھائی نے مجھے تفصیل سمجھائی۔
’’میں نے کہا ہے کہ میں یہ کام نہیں کروں گا۔‘‘ میں نے ایک بار پھر ہر لفظ پر زور دیتے ہوئے صاف انکار کیا۔
’’ہمارے پاس وقت کم ہے۔ مجھے انکار نہیں سننا۔ اگر تم نے یہ کام نہ کیا تو اتنا یاد رکھنا ایک منٹ کے لیے جب ہال کی لائٹ بند ہوگی، اس دوران میرے آدمی دو بندوں کی گردن پر تیز دھار چاقو چلائیں گے۔ ایک اس آدمی پر جسے ہم قتل کرنے یہاں آئے ہیں اور دوسری… چاندنی ہوگی۔‘‘ مسکین بھائی کا لہجہ بے شک بہت نرم تھا لیکن اس نرمی میں ایسی سفاکیت تھی کہ میں کانپ گیا تھا۔
اس کے بعد مسکین بھائی نے اشارہ کیا۔ ایک آدمی ان کے پاس آیا۔ انہوں نے اس کے کان میں جانے کیا کہا کہ وہ بھاگتا ہوا ایک طرف چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ چاندنی کے پاس ایک آدمی کھڑا ہے۔
اچانک ہال کے مین دروازے پر کچھ ہلچل سی ہوئی۔ میں نے غیر ارادی طور پر اس طرف دیکھا۔ ایک آدمی اندر داخل ہوا تھا جس نے بہترین سوٹ پہنا ہوا تھا۔ کوئی بڑا آدمی لگتا تھا۔ اس کے استقبال کے لیے کچھ لوگ آگے بڑھے تھے۔ مسکین بھائی اپنا منہ پھر میرے کان کے پاس لائے اور بولے۔ ’’یہ شہر کا بڑا کاروباری آدمی ہے۔‘‘
’’اسے قتل کرنا ہے؟‘‘
’’اسے قتل نہیں کرنا۔ اس کے پیچھے دیکھو، جس نے ٹوپی پہن رکھی ہے۔‘‘ مسکین بھائی نے کہا۔
میں نے دیکھا کہ اس آدمی کے پیچھے ایک پچاس سال کی عمر کا شخص کھڑا تھا۔ اس کے سر پر ٹوپی تھی اور ہاتھ میں ایک ڈائری تھی۔ اس کا چہرہ کھلا ہوا تھا۔
مسکین بھائی نے پوچھا۔ ’’تم نے اس شخص کو دیکھ لیا؟‘‘
’’ہاں دیکھ لیا۔‘‘
’’اسے قتل کرنا ہے۔‘‘ مسکین بھائی نے بتایا۔
’’وہ تو شکل سے ہی مسکین لگ رہا ہے۔‘‘
’’میں نام کا مسکین ہوں۔‘‘
’’میرا مطلب ہے کہ اسے مار کر آپ نے کیا کرنا ہے؟ جانے دیں، بے چارہ ایسے ہی جان سے جائے گا۔‘‘
’’وہ بہت خطرناک ہے تم اسے نہیں جانتے۔ ویسے بھی تم میرے کام میں دخل اندازی مت کرو۔ بس اس کے اردگرد رہنا۔ جیسے ہی لائٹ بند ہو تو ویسا کردینا جیسا میں نے کہا ہے۔‘‘ مسکین بھائی آہستہ سے بولے۔
’’میں یہ کام نہیں کروں گا۔‘‘
’’اگر تم نے یہ کام نہ کیا تو پھر وہ ہوگا جو میں بتا چکا ہوں۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنا کہ اس ہال میں میرے پانچ آدمی موجود ہیں جن کی نظر تم پر ہوگی۔‘‘ مسکین بھائی نے ایک بار پھر مجھے اپنی کہی ہوئی بات یاد دلانے کی کوشش کی۔
میں نے سوچا کہ اس موقع پر مجھے دانشمندی سے کام لینا چاہیے۔ مسکین بھائی سے انکار کرنے کی بجائے چپ چاپ مان جانا چاہیے اور اس سے پہلے کہ لائٹ بند ہو اور قتل جیسی قبیح واردات ہو، مجھے کچھ ایسا کرنا پڑے گا جس سے لاٹھی بھی نہ ٹوٹے اور سانپ بھی مر جائے۔
’’میں ایک شرط پر یہ کام کروں گا۔‘‘ میں نے رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
’’کیا شرط ہے؟‘‘
’’کام کرنے کے بعد آپ مجھے جانے دیں گے۔‘‘ میں نے اپنی شرط بیان کی۔
مسکین بھائی نے ایک لمحے کے لیے سوچا پھر بولے۔ ’’مجھے منظور ہے۔ تم میرا یہ کام کردو، میں تم دونوں کو جانے کی اجازت دے دوں گا۔‘‘ مسکین بھائی راضی ہوتے ہوئے بولے۔
’’یہ کام کتنی دیر میں کرنا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
مسکین بھائی نے اپنی گھڑی پر وقت دیکھا اور بولے۔ ’’ٹھیک آدھے گھنٹے کے بعد جب کھانا کھلنے کی آواز پر سب کھانا کھانے میں مشغول ہوجائیں گے، اس دوران ایک منٹ کے لیے لائٹ بند ہوگی اور تم اپنا کام کرکے چاندنی کو لے کر ہال سے نکل جائو گے۔‘‘ مسکین بھائی نے اتنا کہہ کر اشارہ کیا۔ فوراً ہی ایک آدمی آگیا۔ اس نے جیب سے ایک تیز دھار کا چاقو نکالا اور میری طرف بڑھا دیا۔ میں نے چاقو لے کر اپنی جیب میں رکھ لیا۔
اس کے بعد مسکین بھائی ایک طرف چلے گئے اور میں چاندنی کے پاس پہنچ گیا۔ چاندنی سے کچھ فاصلے پر ایک آدمی کھڑا تھا جو مسکین بھائی کا آدمی تھا۔
’’یہ کون تھا؟‘‘ چاندنی نے پوچھا۔
میں چاندنی کو اس آدمی سے ذرا آگے لے آیا اور ساری بات گوش گزار کرنے کے بعد کہا۔ ’’ہوشیار رہنا، ہمیں یہاں سے فرار ہونا ہے۔‘‘
’’کیسے فرار ہونا ہے؟‘‘ چاندنی نے پوچھا۔
’’جونہی میں اس آدمی کے پاس جائوں گا اور لائٹ بند ہوگی، تم میرے اردگرد رہنا۔ اس دوران ہم نے اس ہال سے نکلنا ہے۔ میں قتل کرکے اپنا نام قاتلوں کی فہرست میں
لکھوا کر ساری زندگی جرائم پیشہ بن کر نہیں رہنا چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ پولیس میرے پیچھے ہو۔‘‘ میں نے کہا۔ ساتھ ہی چاندنی کو کچھ اور باتیں بھی اچھی طرح سمجھا دیں۔
’’مجھے معلوم ہوتا کہ ہم اس ہال میں آکر مزید پھنس جائیں گے تو میں تمہارے ساتھ بھاگتی ہی نہیں۔‘‘ چاندنی کو شاید تاسف ہورہا تھا۔
’’میری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی کہ میں ایک مصیبت سے نکل کر دوسری میں کیوں پھنس جاتا ہوں؟‘‘ میں نے کہا۔
چاندنی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ خاموشی سے دائیں بائیں دیکھتی رہی۔ وہ آدمی ہم سے کچھ فاصلے پر ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔ میں نے دیکھا کہ مسکین بھائی کچھ مہمانوں کے ساتھ گپ شپ کررہے تھے۔ کھانا لگ چکا تھا۔ اب صرف کھانا کھلنے کی دیر تھی اور اس کے بعد گھمسان کی جنگ کا آغاز ہونے والا تھا۔
میری نظر اس آدمی پر چلی گئی جسے قتل کرنا تھا۔ وہ اس بڑے آدمی کے قریب تھا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تیر رہی تھی۔ مجھے لگ رہا تھا کہ وہ اس بڑے آدمی کا سیکرٹری ہے۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ مسکین بھائی نے اس بے چارے سیکرٹری کو قتل کرکے کیا فائدہ اٹھانا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ مسکین بھائی نے پیسے بزنس مین کے قتل کرانے کے لیے ہوں اور غلطی سے قتل اس کا سیکرٹری ہورہا ہو؟
میں نے چاندنی کو اشارہ کیا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس آدمی کے پاس پہنچ گیا۔ وہ فون پر بات کررہا تھا۔ وہ کسی سے کہہ رہا تھا۔ ’’آپ بے فکر رہیں، آپ کا کام ہوجائے گا… میں نے کہا نا آپ بالکل فکر نہ کریں۔‘‘ اس کے بعد اس نے فون بند کردیا۔
جب وہ فون اپنی جیب میں رکھ رہا تھا تو میں عین اس وقت اس سے جان بوجھ کر ٹکرا گیا۔ اس کا فون اس کے ہاتھ سے نیچے گر گیا۔ میں جلدی سے جھکا اور فون اٹھا کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ ’’سوری!‘‘
’’کوئی بات نہیں۔‘‘ اس نے میری غلطی کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا۔
’’آپ کو پہلے میں نے کہیں دیکھا ہے۔‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میں منظور صاحب کے ساتھ ہوتا ہوں۔ ہوسکتا ہے آپ نے کہیں دیکھ لیا ہو۔‘‘
’’شاید میں نے آپ سے نوکری کے لیے کہا ہوگا۔‘‘ میں نے ایک تیر چھوڑا۔
’’ہوسکتا ہے ایسا ہو کیونکہ منظور صاحب ایک سماجی کارکن ہیں۔ آئندہ ان کا الیکشن لڑنے کا بھی ارادہ ہے۔ کیا ہم نے آپ کو نوکری دلا دی تھی؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’مجھے نوکری تو کیا آپ نے پھر اپنے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا۔‘‘ میں نےمسکراتے ہوئے میٹھے انداز میں شکوہ کیا۔
’’آپ مجھے اپنا سی وی دے دیں۔ میں ضرور کچھ کروں گا۔‘‘ اس نے کہا۔ اس کا موبائل فون بجا اور اس نے موبائل فون کان سے لگا لیا۔ چاندنی بھی ٹہلنے کے انداز میں ہمارے قریب آگئی تھی۔
وہ آدمی فون پر کسی سے کہہ رہا تھا۔ ’’منظور صاحب اس وقت بات نہیں کرسکتے… وہ ایک شادی کی تقریب میں ہیں۔ جو پیغام دینا ہے، مجھے دے دیں… اوکے۔‘‘ اس نے فون بند کردیا اور اس دوران کھانا کھلنے کی آواز آئی اور ایک دم سب لوگ اپنی اپنی جگہ سے اٹھے اور رش سا ہوگیا۔ ہمارے اردگرد بھی بہت سے آدمی کھڑے ہوگئے تھے۔
میں نے اس آدمی کا ہاتھ پکڑا اور اسے دروازے کی طرف کھینچتا ہوا بولا۔ ’’میرے ساتھ چلیں ورنہ آپ کو قتل کردیا جائے گا۔‘‘ میں پتا نہیں کیوں عجلت میں آجاتا تھا۔ میں نے لائٹ بند ہونے کا بھی انتظار نہیں کیا تھا۔ اس رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں سے فرار کا ارادہ کرلیا تھا، جبکہ میں نے چاندنی کو یہی کہا تھا کہ جب لائٹ بند ہوگی تو ہم ہال سے فرار ہوں گے۔
وہ آدمی میری بات پر یقین کرکے میرے ساتھ ہی بھاگنے لگا۔ میں اس کے ساتھ ہال سے باہر نکلا۔ میں نے پیچھے گردن گھما کر دیکھا تاکہ چاندنی کو دیکھ سکوں۔ وہ مجھے کہیں دکھائی نہیں دی البتہ ایک آدمی میری طرف تیزی سے بڑھا جو یقیناً مسکین بھائی کا آدمی تھا۔ میں نے آئو دیکھا نہ تائو، گھما کر ایک مکا اس کے منہ پر رسید کردیا۔ وہ لڑکھڑایا اور نیچے گر گیا۔
میں اس آدمی کو لے کر اس کار کی طرف بھاگا جو میں نے پارکنگ میں کھڑی کی تھی۔ اس اثنا میں مجھے چاندنی آتی دکھائی دی۔ میں نے اس آدمی کو کار میں بیٹھنے کے لیے کہا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔ وہ میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا اور چاندنی بھی سرعت سے پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ میں نے کار اسٹارٹ کی اور باہر نکالتے ہی ایک طرف دوڑا دی۔
’’تم اچانک کچھ کا کچھ کیوں کردیتے ہو؟ مجھے تم نے کہا تھا لائٹ بند ہوگی تو ہم فرار ہوں گے لیکن تم پہلے ہی بھاگ کھڑے ہوئے۔‘‘ چاندنی تیز لہجے میں بولی۔
’’میں نے دیکھا کہ اردگرد رش ہوگیا ہے اور ہم اس رش میں گم ہونے لگے تھے اس لیے میں نے ارادہ بدل دیا تھا۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’اگر میری نظر نہ پڑتی تو میں وہیں کھڑی رہتی۔‘‘ چاندنی نے کہا۔
’’مجھے امید تھی کہ تم مجھے دیکھ لو گی۔‘‘ میں بڑے یقین سے بولا۔
اس آدمی نے اچانک ہم دونوں کی گفتگو میں شامل ہوتے ہوئے پوچھا۔ ’’مجھے یہ بتائو مجھے کون قتل کرنا چاہتا تھا؟‘‘
’’مسکین بھائی کو جانتے ہیں آپ؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’اس آدمی کو میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔‘‘ اس آدمی نے جواب دیا۔
’’وہی شخص آپ کو قتل کرنا چاہتا تھا۔‘‘ میں نے کہا۔
وہ آدمی یک دم چیخا۔ ’’گاڑی روکو… گاڑی روکو۔‘‘
’’میں گاڑی روک نہیں سکتا۔ ہم تینوں پھنس جائیں گے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’میں کہتا ہوں گاڑی روکو ورنہ میں کچھ بھی کردوں گا۔‘‘ وہ پہلے سے بھی زیادہ تیز آواز میں چیخا۔ میں گاڑی روکنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ ایک مسکین بھائی ہی نہیں ہمارے پیچھے عاجز برادرز بھی تھے۔ لیکن میرے چاہنے سے کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ کار خودبخود آہستہ ہونے لگی تھی۔ پھر جھٹکے لینے لگی اور کچھ دیر کے بعد کار رک گئی کیونکہ پیٹرول ختم ہوگیا تھا۔
’’تم نے اس کے کہنے پر گاڑی کیوں روک دی؟‘‘ چاندنی نے پوچھا۔
’’میں نے گاڑی نہیں روکی… پیٹرول ختم ہوگیا ہے۔‘‘ میں نے بتایا۔
’’میں دنیا کا سب سے بڑا بے وقوف ہوں جس نے تمہاری بات سنی اور بغیر کچھ سوچے سمجھے تمہارے ساتھ بھاگ کھڑا ہوا۔‘‘ وہ آدمی میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
’’شکر کریں میری وجہ سے آپ کی جان بچ گئی ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’تم کہہ رہے ہو کہ مجھے مسکین بھائی قتل کرنا چاہتے تھے۔ وہ مجھے کیسے قتل کرسکتے ہیں؟‘‘ اس نے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔
’’چاقو کے ذریعے قتل کرنا چاہتے تھے۔‘‘ میں بولا۔
’’وہ مجھے قتل نہیں کرسکتے کیونکہ وہ میرے باپ ہیں۔‘‘ اس کے اس انکشاف پر میں سناٹے میں آگیا۔ مجھے اس کی بات پر یقین نہیں آرہا تھا۔ مسکین بھائی نے مجھے خود کہا تھا کہ اس ٹوپی والے کو قتل کرنا ہے۔ مسکین بھائی کے منہ سے یہ بات بھی نکلی تھی کہ انہوں نے اسے مارنے کے لیے پیسے لیے ہیں۔ اب وہ کہہ رہا تھا کہ وہ مسکین بھائی کا بیٹا ہے۔
ابھی میں دم بخود اس کی طرف دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ سرخ کار پیچھے سے آئی اور ہماری کار کے سامنے ترچھی کھڑی ہوگئی۔ میں نے سامنے دیکھا تو چاندنی کی تیز آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔ ’’وہ لوگ آگئے… بھاگو۔‘‘
یہ سنتے ہی میں نے اپنی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور پیچھے کی طرف بھاگا۔ چاندنی بھی کار سے نکل آئی تھی اور وہ آدمی بھی ہمارے ساتھ بھاگنے لگا تھا۔
ہم سرپٹ دوڑ رہے تھے۔ میں نے بھاگتے ہوئے گردن گھما کر دیکھا تو ہمارے پیچھے تین لوگ آرہے تھے۔ اندھیرا ہوچکا تھا۔ اس لیے گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس ہماری آنکھوں میں پڑ رہی تھیں۔ میں بھاگتے بھاگتے سڑک سے نیچے اترا۔ ایک ڈھلان تھی اور وہاں سے اتر کر میں ایک گلی میں چلا گیا۔ مجھے یہ پتا تھا کہ میرے ساتھ چاندنی بھی
ہے۔ لیکن وہ آدمی بھی ہمارے ساتھ تھا۔ اس کا مجھے اس وقت پتا چلا جب میں بھاگتے بھاگتے کوڑے کے ڈرم کے پیچھے چھپ کر بیٹھا تو میرے ساتھ چاندنی بھی بیٹھ گئی پھر وہ آدمی بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گیا۔
’’تم ہمارے ساتھ کیا کررہے ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’اپنی جان بچا رہا ہوں۔‘‘ اس نے پھولی ہوئی سانس کے ساتھ بتایا۔
میں اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ لوگ ہمارے تعاقب میں ہیں لیکن میں چپ رہا کہ اسے بتانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ یہ ہمارے ساتھ آرہا ہے تو شاید یہ ہمارے کام آسکے۔ اس دوران وہ تینوں آدمی بھاگتے ہوئے اس طرف آگئے اور متلاشی نگاہوں سے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے آگے بھاگ کھڑے ہوئے۔ میں اور چاندنی فوراً اٹھے اور مخالف سمت دوڑ پڑے۔ وہ آدمی پھر ہمارے ساتھ تھا۔
ابھی ہم کچھ دور گئے تھے، اس آدمی نے ایک طرف اشارہ کیا۔ وہاں سڑک کے ایک طرف ٹین کی چادروں کا ایک ڈھانچہ سا کھڑا تھا۔ شاید وہ کبھی چائے کا کھوکھا رہا ہو۔ وہ ہمیں اس کے پیچھے لے گیا۔
’’یہ کون لوگ ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
مجھ سے پہلے چاندنی بول پڑی۔ ’’یہ لوگ ہمارے تعاقب میں ہیں۔ تم بھاگنا چاہو تو بھاگ جائو۔‘‘
’’اچھا… یہ لوگ تم دونوں کے پیچھے کیوں ہیں؟ تم لوگوں نے کیا کیا ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’تم اپنے کام سے کام رکھو اور بھاگ جائو۔‘‘ میں نے بیزاری سے کہا۔
’’تم دونوں نے میرے ساتھ تو اچھا نہیں کیا لیکن میں تم دونوں کے ساتھ ضرور اچھا کروں گا اور یہاں سے نکلنے میں تمہاری مدد کروں گا۔‘‘ اس نے کہہ کر اپنے موبائل فون سے ایک کال ملائی اور جونہی رابطہ ہوا، منہ پر ہاتھ رکھ کر بات کی اور دائیں بائیں دیکھتا رہا۔ اس کے بعد اس نے فون بند کردیا۔
’’ابھی گاڑی آئے گی اور ہم تینوں کو لے جائے گی۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’ہمیں گاڑی کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ میں یہ کہہ کر اٹھا اور جونہی کھوکھے سے باہر نکلا، میری نگاہ ان تینوں پر پڑی۔ وہ اسی سڑک پر کچھ فاصلے پر دوسری طرف منہ کئے کھڑے تھے۔ میں فوراً واپس آکر بیٹھ گیا اور اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اشارہ کیا کہ وہ لوگ وہاں کھڑے ہیں۔
’’میرا نام افضل ہے۔ تم نے ایک جھوٹ بول کر مجھے اپنے ساتھ لیا اور یہاں تک لے آئے۔ تمہارا مجھے ساتھ لانے کا مقصد یہ تھا کہ تم دونوں مجھے ڈھال بنا سکو۔‘‘ اس نے اپنے دل میں جنم لینے والے شک کو ہم پر عیاں کیا۔
’’مجھے مسکین بھائی نے بتایا تھا کہ وہ تمہیں قتل کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے تمہاری جان بچانے کے لیے یہ سب کیا تھا۔ تمہاری وجہ سے میں نے شادی ہال میں کھانا بھی نہیں کھایا۔‘‘ میں نے کھانا نہ کھانے کا افسوس بھی ظاہر کردیا۔
’’میرا باپ مجھے قتل کرے گا؟‘‘ افضل نے تمسخرانہ انداز میں میری طرف دیکھا۔
میں خود ابہام کا شکار ہوگیا تھا کہ مسکین بھائی نے مجھے اسی کے قتل کے لیے کہا تھا یا ان کا اشارہ کسی اور طرف تھا لیکن وہاں کھڑے تمام لوگوں میں اسی نے ٹوپی پہنی ہوئی تھی، اس لیے غلطی کا سوال پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اس کے باوجود مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی۔
’’تم دونوں رکو میں دیکھتا ہوں کہ وہاں کون ہے۔‘‘ افضل کہہ کر اٹھا اور دھیرے دھیرے چلتا ہوا ایک طرف گیا اور دوسری طرف جھانک کر تیزی سے یوں واپس آیا جیسے اس نے کوئی انہونی چیز دیکھ لی ہو۔
’’اس جگہ چار افراد کھڑے ہیں۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’یہ چوتھا کون آگیا ہے؟‘‘ میں اپنی جگہ سے اٹھا اور اس طرف جھانکا تو وہاں ان تین لوگوں کے ساتھ چوتھا ادریس تھا۔ میں نے واپس آکر چاندنی کے کان میں ادریس کا نام لے کر اسے آگاہ کیا۔
’’میرے کان میں بھی بتائو تم نے اسے کیا بتایا ہے۔‘‘ افضل بولا۔
’’تمہارے مطلب کی بات نہیں ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
اسی وقت ایک تیز رفتار کار آئی اور کھوکھے کے پاس کھڑی ہوگئی۔ افضل نے اس کار کی طرف دیکھا اور ہمیں بتایا کہ اس کا آدمی انہیں لینے آگیا ہے۔ ہم جھکے جھکے کار کی طرف بڑھے اور کار کا دروازہ کھولا اور پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ اس کے ساتھ ہی ڈرائیور نے تیزی سے کار آگے بڑھا دی۔ میں نے دیکھا کہ ادریس ہماری کار کی طرف دیکھ رہا تھا۔
٭…٭…٭
کار جس بڑے گھر کے گیراج میں داخل ہوئی اور جونہی ہم کار سے باہر نکلے تو ہماری حیرت سے جان نکل گئی کیونکہ ہمارے سامنے مسکین بھائی کھڑے تھے۔ ان کے دائیں بائیں دو آدمی تھے اور مسکین بھائی کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ تھی جیسی قصائی کے چہرے پر اس وقت ہوتی ہے جب اسے اچھا بکرا کم داموں مل جاتا ہے۔ افضل ہمیں پھر مسکین بھائی کے پاس لے آیا تھا۔ مسکین بھائی نے ہم سب کو خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہا۔
’’یہ کہہ رہا تھا کہ آپ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ افضل نے انکشاف کیا۔
’’اس نے ایسا کہا تم سے؟‘‘ مسکین بھائی نے اس کی بات سنتے ہی ایسی حیرت کا اظہار کیا کہ مجھے یقین ہوگیا مسکین بھائی نے مجھے اس کے بارے میں نہیں بلکہ کسی دوسرے کو قتل کرنے کو کہا تھا۔ مسکین بھائی نے افضل کو اپنے گلے سے لگایا، اس کا ماتھا چوما اور مجھے گھور کر دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’کوئی اپنی اولاد کو بھی مرواتا ہے؟‘‘
میری حالت بڑی عجیب تھی۔ مسکین بھائی نے ایک بار پھر افضل کا ماتھا چوما، اسے ایک طرف کھڑا کیا اور میرے قریب آکر اپنا بازو پھیلا کر میرے کندھوں پر رکھا اور مجھے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے ایک طرف لے جاکر بڑی شفقت سے بولے۔ ’’تم نے اچھا نہیں کیا کہ اسےوہاں سے لے اُڑے۔‘‘
’’اُڑا نہیں تھا… بھاگا تھا۔‘‘
’’ایک ہی بات ہے۔‘‘
’’یہ آپ کا بیٹا ہے اور آپ اسے قتل کروانا چاہتے ہیں؟‘‘ میں نے اپنی حیرت کم کرنے کے لیے پوچھا۔
’’منہ بولا بیٹا ہے لیکن بڑا کمینہ ہے۔‘‘ مسکین بھائی نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ ان کا موبائل فون بجنے لگا۔ انہوں نے فون کان سے لگایا۔ میں کیونکہ ان کے بالکل ساتھ لگا ہوا کھڑا تھا اس لیے مجھے فون کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔
’’مسکین بھائی… ادریس بول رہا ہوں۔‘‘
میں ادریس کا نام سن کر چونکا۔ ’’بولو ادریس بھائی۔‘‘
’’آپ کے پاس ایک لڑکی ہے۔ میں نے آپ کی کار میں اسے دیکھا ہے۔‘‘ ادریس کی آواز آئی۔
’’بات کرو، کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘ مسکین بھائی نے ایک نظر چاندنی کی طرف دیکھ کر کہا۔ چاندنی ایک طرف کھڑی اپنی انگلیوں کے ناخن چبا رہی تھی۔
’’مجھے وہ لڑکی چاہیے۔‘‘ ادریس کی آواز آئی۔
’’دے دیتا ہوں لیکن فیس ہوگی۔‘‘
’’کتنی فیس ہوگی؟‘‘
’’اب یہ اغوا برائے تاوان کا تو کیس ہے نہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک پارسل ایک جگہ سے دوسری جگہ دینا ہو۔ اس لیے بس جیب خرچ درکار ہوگا۔‘‘ مسکین بھائی کے چہرے پر مسکراہٹ واضح ہوگئی تھی۔
’’کتنا جیب خرچ چاہیے؟‘‘
’’بس بیس ہزار روپے!‘‘ مسکین بھائی نے بتایا۔
’’مل جائیں گے… ابھی آجائوں۔‘‘
’’کل آنا۔ صبح دس بجے۔‘‘ مسکین بھائی نے کہا اور اس نے ’’ٹھیک ہے‘‘ کہہ کر فون بند کردیا۔ مجھے فکر لاحق ہوگئی کہ مسکین بھائی بیس ہزار روپے جیب خرچ لےکر چاندنی کو ادریس کے حوالے کردیں گے۔ میں نے چاندنی کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا اور پھر وہ میرے خوابوں میں ایک عرصے سے میری دلہن بن کر آرہی تھی۔ میں نے مستقبل میں اس کے ساتھ اچھی امیدیں وابستہ کرلی تھیں۔ اس لیے میرا دل مضطرب ہوگیا تھا۔
مسکین بھائی بولے۔ ’’دیکھو میاں… تم میرے بارے میں کچھ زیادہ ہی جان گئے ہو۔ میں نہیں چاہتا کہ تم میرے بارے میں کچھ جانو… کچھ حالات بھی ایسے ہوگئے تھے کہ تمہیں کچھ بتانا پڑ گیا تھا۔ اب یہ بات تو طے ہے کہ افضل کو میں نے مارنا ہی ہے۔ مارنے کو میں اسے یہاں بھی مار سکتا ہوں لیکن اس طرح پولیس کو اپنے پیچھے نہیں لگانا چاہتا۔ شادی ہال میں اندھیرے میں یہ قتل
ہوجاتا تو قاتل کو تلاش کرنا مشکل ہوتا۔ میں محفوظ رہتا۔ تم نے کھیل بگاڑ دیا۔‘‘ مسکین بھائی نے کچھ توقف کے بعد پھر اپنی بات جاری رکھی۔ ’’اب افضل اغوا ہوجائے گا۔ اسے اغوا کرنے والے تم ہو گے۔ اس کے فون سے اس کے گھر والوں سے تاوان مانگوں گا، پھر اسے مار دوں گا اور تمہیں پھنسا دوں گا۔ اس طرح تم لمبے عرصے کے لیے جیل چلے جائو گے اور میرے ہاتھ صاف کے صاف رہیں گے۔‘‘
’’آپ کا میرے ابا کے ساتھ ایک اچھا تعلق ہے۔‘‘ میں نے گھبرا کر مسکین بھائی کی منصوبہ بندی سن کر کہا۔
’’میں تمہارے ابا کے ساتھ کب تعلقات خراب کررہا ہوں؟‘‘ مسکین بھائی نے میری طرف دیکھا۔
’’آپ ان کے اکلوتے بیٹے کو پھنسا رہے ہیں۔‘‘
’’اب تم میرے بارے میں جان گئے ہو تو تمہارا جیل جانا ضروری ہے۔‘‘ مسکین بھائی نے ایسے کہا جیسے وہ مجھے سیر کے لیے کسی پُرفضا مقام پر بھیج رہے ہوں۔
’’آپ ایسا نہیں کرسکتے۔‘‘
’’تم مجھے حکم دے رہے ہو۔‘‘
’’میں درخواست کررہا ہوں۔ آپ نے میرے لہجے کی معصومیت اور مظلومیت پر غور نہیں کیا۔‘‘ میں نے جلدی سے وضاحت کی۔
’’اب ایسا ہی ہوگا۔ دیکھو میرے ہر آدمی کے پاس اسلحہ ہے۔ کوئی ایسی حرکت نہ کرنا کہ تمہیں گولی لگ جائے اور تم وقت سے پہلے لڑھک جائو اس لیےچپ چاپ میرے آدمیوں کے ساتھ چلے جائو۔‘‘
’’مجھے کہاں بھیج رہے ہیں آپ؟‘‘
’’میری ایک خفیہ جگہ ہے، تم تینوں فی الحال وہاں رہو گے۔ وہیں افضل کو قتل کرنا ہے اور تمہیں قتل کے الزام میں گرفتار کرانا ہے۔ اس لڑکی کو پیسے لے کر ادریس کے حوالے کردینا ہے اور پھر نہا دھو کر اسی محلے میں باعزت بن کر رہنا ہے۔‘‘ مسکین بھائی نے اپنی منصوبہ بندی ظاہر کی۔
میں پریشان ہوگیا تھا۔ کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا۔ مسکین بھائی نے مجھے اپنے آپ سے الگ کیا اور افضل کے پاس جاکر کہا۔ ’’تم ان کے ساتھ چلے جائو، تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔‘‘
’’جو آپ کا حکم پپا۔‘‘ افضل نے سعادت مندی سے کہا۔
ہم تینوں کو چھ آدمیوں نے ایک ویگن میں سوار کرایا اور ویگن اس جگہ سے چل پڑی۔ چاندنی نے مجھ سے پوچھا۔ ’’ہم کہاں جارہے ہیں؟‘‘
میں نے ایک لمحے کے لیے سوچا کہ کیا جواب دوں۔ پھر بولا۔ ’’ریسٹ ہائوس میں۔‘‘
’’وہ کہاں ہے؟‘‘ چاندنی نے پوچھا۔
’’میں کبھی وہاں نہیں گیا۔‘‘ میں بولا۔
’’میں کئی بار وہاں جا چکا ہوں۔ بہت پُرسکون جگہ ہے۔ وہاں جاکر مزہ آجاتا ہے۔‘‘ افضل بولا۔
میں نے اسے گھورتے ہوئے دل ہی دل میں کہا۔ تم جسے پُرسکون جگہ کہہ رہے ہو، اس جگہ جاکر تمہارا سکون لٹنے والا ہے اور تمہاری وجہ سے مجھ پر کئی سنگین الزامات لگنے والے ہیں، جنہیں دھوتے دھوتے شاید میں ختم ہوجائوں۔ مجھے کچھ کرنا تھا۔ چاندنی کو ان کے چنگل سے نکالنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کو بھی بچانا تھا۔ پہلی بار مجھے خیال آیا کہ اب دماغ پر زور دینے سے کام چلے گا۔
رات کے اندھیرے میں ویگن چلتی رہی۔ ہم کیونکہ اندر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہمیں پتا نہیں چل رہا تھا کہ ہم کس طرف جارہے ہیں۔ پھر ویگن ایک جگہ رک گئی۔ ہمیں حکم دیا گیا کہ نیچے اتریں۔ جب نیچے اترا تو میں نے دیکھا وہ کوئی پوش علاقہ تھا۔ بڑے بڑے بنگلے بنے ہوئے تھے۔ کشادہ گلیاں تھیں اور خاموشی ایسی تھی کہ یوں لگا جیسے سارے بنگلے خالی پڑے ہوں۔
جس بنگلے کے سامنے ویگن رکی تھی، اس کا گیٹ کھلا اور ہم اندر چلے گئے۔ کشادہ گیراج کے بعد ٹی وی لائونج اور پھر ایک کشادہ کمرے میں داخل ہوئے۔
اس کمرے میں ایک قالین بچھا ہوا تھا اور اکلوتی کرسی ایک طرف رکھی تھی۔ اس کرسی کے پاس ایک چھوٹی سی میز تھی۔ چاندنی اندر جاتے ہی کرسی پر بیٹھ گئی۔ میں نے دیکھا کہ کمرے کی کھڑکی جو بائونڈری وال کی طرف کھلتی تھی، اس کے گرد آہنی گرل تھی۔
’’تم اس کمرے میں رات گزارو گے۔‘‘ مسکین بھائی کے آدمی نے کہا۔
اس کے چپ ہوتے ہی افضل میری اور چاندنی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ ’’سن لیا تم دونوں نے؟‘‘
’’تم بھی ان کے ساتھ رات گزارو گے۔‘‘ اس آدمی نے افضل کا ابہام بھی دور کردیا۔
اس نے چونک کر اس آدمی کی طرف دیکھ کر کہا۔ ’’میں کیوں اس جگہ رات گزاروں گا؟‘‘
’’یہ مسکین بھائی کا حکم ہے۔‘‘ اس آدمی نے بتایا۔
’’ابھی فون کرتا ہوں۔‘‘ جونہی اس نے فون نکالا، مسکین بھائی کے آدمی نے اس کے ہاتھ سے موبائل فون چھین لیا۔ افضل نے اس سے موبائل فون واپس لینا چاہا تو اس آدمی نے پستول نکال کر اس پر تان لیا۔ بے چارہ افضل اپنی جگہ ساکت ہوگیا۔
وہ آدمی بارعب آواز میں بولا۔ ’’کوئی حرکت نہیں… ورنہ مجھے گولی مار دینے کا حکم ہے۔‘‘
افضل ایسے ہوگیا جیسے اس کے تن بدن سے خون نچوڑ لیا گیا ہو۔ میں اور چاندنی اس کی طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ مسکین بھائی کا آدمی باہر چلا گیا اور میں نے دروازے کے قفل میں چابی گھومتی محسوس کی۔ اس کا مطلب تھا وہ ہمیں اس کمرے میں قید کرکے چلا گیا تھا۔
افضل کے چہرے پر حیرت ایسے برس رہی تھی۔ اس نے حیران لہجے میں کہا۔ ’’مجھے بھی قید کرگیا وہ؟‘‘
’’میں نے جب یہ کہا تھا کہ وہ تمہیں قتل کرنا چاہتے ہیں تو تم نے میری بات کا یقین نہیں کیا تھا۔ میرا مذاق اڑایا تھا۔ مدد کے لیے بھی تم نے مسکین بھائی کو کال کی تھی۔ تم اس کے سگے نہیں بلکہ منہ بولے بیٹے ہو… جب انسان مطلب کی کشتی پر پیر رکھتا ہے تو پھر وہ اپنے آپ کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے کسی کی بھی گردن دبوچ کر اسے اپنا چپو بنا لیتا ہے۔‘‘ میں نے اسے سمجھایا۔
’’اب میں کیا کروں؟‘‘ افضل نے رو دینے والے لہجے میں پوچھا۔
’’مسکین بھائی کا منصوبہ بہت خطرناک ہے۔ اس میں تم ہی نہیں میں بھی پھنس رہا ہوں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’کیا منصوبہ ہے اس کا؟‘‘ چاندنی نے دریافت کیا۔
میں نے اختصار سے اسے وہ سب کچھ بتا دیا جو مسکین بھائی نے مجھے بتایا تھا۔ وہ میری بات سن کر دم بخود ہوگیا بلکہ اب اس کی سمجھ میں میری بات آگئی تھی۔ اسے یقین آگیا تھا کہ جس پر وہ اعتماد کررہا ہے وہ اس کی جان کا دشمن بن چکا ہے۔
میرے لیے بڑی مشکل تھی۔ میں اپنے اوپر کوئی داغ لگنے نہیں دینا چاہتا تھا۔ میں پولیس کی فائلوں کا ایندھن نہیں بننا چاہتا تھا۔ میں چاندنی کی بھی حفاظت کرنا چاہتا تھا۔ میں بڑی تیزی سے سوچ رہا تھا کہ کیا کروں لیکن میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔
میں نے اٹھ کر دروازے کا ہینڈل پکڑا اور اسے زور زور سے ہلانے لگا۔ دروازہ مقفل تھا اس لیے میں پھر اپنی جگہ آکر بیٹھ گیا۔
چاندنی خود کلامی کے انداز میں بولی۔ ’’کاش میں اس گھر سے نکلتے ہی اپنا راستہ الگ کرلیتی تو تمہارے ساتھ اس مصیبت میں پھنسی نہ ہوتی۔‘‘
’’کچھ ہوجائے، میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔‘‘ میں نے اسے پھر یقین دلانے کی کوشش کی۔
’’تم انسان ہو۔ مکھی نہیں ہو کہ کسی چھوٹے سے سوراخ سے باہر نکل کر ہماری آزادی کے لیے کچھ کرسکو۔‘‘ چاندنی بولی۔ ’’مسکین مجھے ادریس کے حوالے کردے گا اور وہ پہلا کام یہ کرے گا کہ مجھ سے نکاح کرلے گا۔ اس طرح میری زندگی برباد ہوجائے گی۔‘‘
اچانک مجھے ایک خیال آیا۔ اس بساط کو مہروں کی چالوں سے ہی الٹا جاسکتا تھا۔ میں چاندنی سے مخاطب ہوکر بولا۔ ’’تم ایک کام کرو۔ جونہی مسکین بھائی ادریس کے حوالے کرنے کی بات کریں، تم ایک دم کہہ دینا کہ اس شخص کے ساتھ جانے سے بہتر ہے میں آپ سے شادی کرلوں۔‘‘
’’دماغ خراب ہے تمہارا؟‘‘ چاندنی میری بات سنتے ہی کرسی سے ایسے اٹھی جیسے میں نے کرسی میں کرنٹ چھوڑ دیا ہو۔ ’’اس بوڑھے کھوسٹ منحوس کی شکل مجھے پسند نہیں ہے اور تم مجھے اس سے شادی کرنے کا مشورہ دے رہے ہو۔ اس سے بہتر ہے کہ میں پنکھے سے جھول جائوں، چھت سے نیچے کود جائوں،
گاڑی کے نیچے آجائوں۔‘‘
’’میں سچ مچ اس سے شادی کرنے کو تو نہیں کہہ رہا۔‘‘ میں نے بمشکل کہا۔
’’میں اس منحوس کو جھوٹ موٹ بھی ایسا نہ کہوں۔‘‘
’’اس جگہ سے فرار کے لیے ضروری ہے کہ تم یہ جھوٹ بولو۔‘‘
’’اس سے کیا ہوگا؟‘‘
’’اس سے یہ ہوگا کہ مسکین بھائی تمہیں ادریس کے حوالے کرنے سے انکار کردیں گے۔ ادریس تمہیں کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا، وہ مسکین بھائی سے لڑنے کے لیے تیار ہوجائے گا۔ دونوں کی لڑائی میں ہمارے فرار ہونے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا۔‘‘ میں نے اسے سمجھایا۔
’’اور اگر مسکین نے میری بات سنتے ہی اسی وقت انکار کردیا تو؟‘‘ چاندنی نے اپنا خیال ظاہر کیا۔
’’مجھے یقین ہے کہ وہ انکار نہیں کرے گا۔ تم جیسی خوبصورت لڑکی کے منہ سے یہ بات سنتے ہی وہ تمہیں اپنانے کے لیے تیار ہوجائے گا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’فرض کرو ایسا ہوجائے… ہم کیسے فرار ہوسکیں گے؟ رات بھر وہ افضل کے گھر اسی کے موبائل فون سے تاوان کی کئی کالیں کرچکا ہوگا اور صبح ہوتے ہی وہ اسے مار دے گا اور تم پھنس جائو گے۔ مجھے وہ یہاں سے لے جائے گا۔ میں اس سے شادی کا بول بھی دوں تو تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔‘‘ چاندنی کی بات میں دم تھا۔
اس کی بات سن کر میں سوچ میں پڑ گیا۔ اس چال میں تب ہی فائدہ ہوسکتا تھا اگر مسکین بھائی ابھی یہاں آتا اور چاندنی اس سے شادی کرنے کی بات کرتی اور وہ سب بھول کر اس کے اردگرد منڈلانے لگتا۔
’’میں ایک بات کروں؟‘‘ افضل نے میرا بازو ہلا کر اپنی کانپتی آواز میں کہا۔
’’بولو۔ تم کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھا۔
(جاری ہے)