Aankh Macholi | Last Episode 8

1108
چاندنی نے آگے بڑھ کر افضل کو ایک طرف ہٹاتے ہوئے مجھ سے کہا۔ ’’تم اس دروازے کو توڑدو تاکہ ہم یہاں سے فرار ہوسکیں۔‘‘
’’میں دروازے کو نہیں توڑ سکتا، شور سن کر چوکیدار اندر آجائے گا۔‘‘ میں نے سمجھایا۔
’’میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔‘‘ افضل پھر آگے بڑھا لیکن چاندنی نے اسے گھور کر دیکھا تو وہ سہم کر پیچھے ہٹ گیا۔ چاندنی پھر مجھ سے مخاطب ہوئی۔ ’’ہوسکتا ہے یہاں چوکیدار نہ ہو۔‘‘
’’ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ لوگ چوکیدار نہ رکھیں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’کچھ کرو۔ زمین کھودو، چھت توڑو۔ مجھے یہاں سے نکالو۔ میں تمہاری وجہ سے یہاں پھنسی ہوں۔‘‘ چاندنی زور دے کر بولی۔
افضل نے ہمت کی اور پھر ہمارے درمیان آگیا۔ ’’میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’میں تیرا سر پھاڑ کر تجھے ایک طرف نہ بٹھا دوں۔‘‘ چاندنی نے غصے سے کہا۔
’’اس کی بات تو سن لو۔‘‘ میں نے افضل کی سفارش کی۔
’’یہ کیا بولے گا۔‘‘ چاندنی پریشانی کے عالم میں کہہ کر پھر کرسی پر بیٹھ گئی۔
افضل نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا۔ پھر بولا۔ ’’میں اس جگہ کئی بار آچکا ہوں۔ اگر آپ قالین ہٹائیں گے تو نیچے تہہ خانے کا دروازہ نظر آئے گا۔ تہہ خانے سے ایک دوسرے کمرے میں راستہ جاتا ہے۔ اگر اس کمرے کا دروازہ کھلا ہوگا تو ہم آسانی سے فرار ہوسکتے ہیں۔‘‘
’’یہ بات تم نے پہلے کیوں نہیں بتائی۔‘‘ چاندنی بولی۔
’’آپ مجھے بولنے کا موقع ہی نہیں دے رہی تھیں۔‘‘ افضل نے معصومیت سے کہا۔
میں نے وقت ضائع کئے بغیر کونے سے قالین ایک طرف ہٹایا تو مجھے دروازہ دکھائی دیا۔ میں نے دروازہ کھولا۔ نیچے سیڑھیاں جارہی تھیں۔ افضل نے بتایا کہ پہلی سیڑھی پر دائیں ہاتھ ایک سوئچ بورڈ ہے۔ میں نیچے اترا اور سوئچ بورڈ پر لگے ایک بٹن کو دبا دیا۔ تہہ خانہ روشن ہوگیا۔
ہم تینوں نیچے اتر گئے۔ تہہ خانہ آگے تک جاتا تھا۔ ہم کچھ آگے گئے تو اوپر جاتی ہوئی سیڑھیاں دکھائی دیں۔
’’ان سیڑھیوں کا دروازہ ایک کمرے میں کھلتا ہے۔‘‘ افضل نے سرگوشی کی۔
ہم تینوں دھیرے دھیرے سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ سب سے آگے میں، پھر افضل اور آخر میں چاندنی تھی۔ اوپر پہنچ کر میں نے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا اور ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا تو ہم ایک کمرے میں داخل ہوگئے اور پھر ہم تینوں اسی جگہ منجمد ہوگئے۔
کمرے کے درمیان میں ایک گول میز تھی اور اس گول میز کے گرد کرسیوں پر چار افراد براجمان تھے۔ دو کو میں نہیں جانتا تھا، ان میں تیسرا مسکین بھائی اور چوتھا جسے دیکھ کر میری جان نکل گئی تھی، وہ ریاض دندی تھا۔ ہمارے اچانک اس طرح کمرے میں داخل ہونے پر چاروں کی نگاہیں بیک وقت ہماری طرف اٹھ گٓئی تھیں۔
مسکین بھائی ہماری طرف بڑھے اور ہم تینوں کو غور سے دیکھنے کے بعد افضل سے بولے۔ ’’اس راستے کے بارے میں تم نے بتایا ہوگا؟‘‘
’’میں نے نہیں بتایا… یہ لڑکی کمرے میں جھاڑو دے رہی تھی کہ اس نے قالین اٹھایا اور دروازہ نظر آگیا اور پھر ہم یہاں پہنچ گئے۔‘‘ افضل نے وضاحت کی۔
’’اس کمرے میں جھاڑو تیرا باپ لے کر آیا تھا؟‘‘ مسکین بھائی نے ڈانٹ کر پوچھا۔
’’یہ تو وہی ہے جس نے ہمارے چار آدمیوں کو مارا تھا۔‘‘ میز پر بیٹھے ہوئے دو اجنبیوں میں سے ایک نے میری طرف اشارہ کر کے کہا۔
ریاض اپنی جگہ سے یکدم اٹھا اور مجھے یوں غور سے دیکھنے لگا جیسے وہ سائنسدان ہو اور اسے کوئی ایسی چیز نظر آگئی ہو جو اس کے لیے انہونی اور حیرت کا باعث ہو۔
’’تم ہو جس نے میرے آدمیوں کو بیدردی سے مارا تھا۔ بالآخر تم مجھے مل گئے۔‘‘ ریاض نے کہا۔
’’اچھا ہوا آپ مجھے مل گئے۔ میں آپ کی غلط فہمی دور کردیتا ہوں کہ میں نے انہیں ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔‘‘ میں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا۔
اس نے اپنا ہاتھ بلند کیا جس کا مطلب تھا کہ میں کوئی بات نہ کروں۔ پھر وہ مسکین بھائی کی طرف گھوم کر بولا۔ ’’مسکین بھائی … اب اسے میرے حوالے کردو، مجھے اس سے حساب برابر کرنا ہے۔‘‘ ریاض نے دانت پیس کر کہا جیسے اس کا ارادہ مجھے کچا چبا جانے کا ہو۔
مسکین بھائی نے ریاض کو اپنا منصوبہ بتایا کہ کس طرح وہ مجھے افضل کے قتل کے الزام میں گرفتار کرا کے ہمیشہ کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج کر خود محفوظ ہوجائے گا۔
مسکین بھائی کی بات سن کر ریاض سوچ میں پڑ گیا۔ پھر وہ بولا۔ ’’اس طرح میری قسم پوری نہیں ہوگی… میں نے سب کے سامنے کہا تھا اسے اسی جگہ ماروں گا جہاں اس نے میرے آدمیوں کو مارا تھا۔‘‘
’’پھر ایسا کرلیتے ہیں کہ افضل کے قتل کے بعد اسے تمہارے ساتھ تمہارے شہر بھیج دیں گے۔ وہاں تم اپنی قسم پوری کرلینا اور پھر میں پولیس کو بتائوں گا کہ میرے آدمی افضل کا قاتل اس وقت فلاں جگہ موجود ہے، اسے گرفتار کرکے قصہ ختم کردیں۔‘‘ مسکین بھائی نے ریاض کو بتایا۔
ریاض خوش ہوگیا۔ ’’یہ بالکل ٹھیک ہے۔‘‘
’’پپا جی آپ مجھے کیوں مروانا چاہتے ہیں۔ میرا کیا قصور ہے؟‘‘ گھبرائی اور مریل سی آواز کے ساتھ افضل آگے بڑھا۔
مسکین بھائی نے اس کے گال تھپتھپا کر کہا۔ ’’تم ہمارے بارے میں بہت کچھ جان گئے ہو اس لیے تمہارا ختم ہونا بہت ضروری ہے۔‘‘
’’مجھ پر رحم کریں، میں کچھ نہیں جانتا سوائے اس کے کہ آپ نے علاقے کے چیئرمین کو اغوا کرا کے اس کی ٹانگ توڑی تھی اور وقاص کی دکان کے تالے بھی آپ نے ہی تڑوائے تھے۔ لال دین کی زمین پر جس نے قبضہ کیا، وہ بھی آپ کے آدمی ہیں اور الیاس کے گودام کو آپ کے آدمیوں نے آگ لگائی تھی… یقین کیجئے میں آپ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔‘‘ افضل نے اتنا بتانے کے بعد کہا کہ وہ کچھ نہیں جانتا۔ اس کے منہ سے بہت کچھ سن کر مسکین بھائی کی حیرت میں دوچند اضافہ ہوگیا تھا اور ان کے چہرے کے تاثرات بھی بدل رہے تھے۔
جب وہ چپ ہوا تو مسکین بھائی اپنی مسکین سی آواز میں بولے۔ ’’میرا تو خیال تھا کہ تم محض اتنا ہی جانتے ہو کہ چار دن سے علاقے کے کاروباری آدمی نواز کی کار ہم نے چوری کی ہے۔ تم تو اس کے علاوہ بھی بہت کچھ جانتے ہو۔ تم نے تو میری آنکھیں کھول دی ہیں۔ اب تمہارا زندہ رہنا ممکن نہیں۔‘‘
میری نگاہ مسکین بھائی کے موبائل فون پر تھی۔ ان کا ہاتھ جس میں موبائل تھا، نیچے لٹکا ہوا تھا۔ ان کا دھیان افضل کی طرف تھا۔ میں مسکین بھائی کے پاس جاکر بولا۔ ’’مسکین بھائی میں تو کچھ نہیں جانتا۔ میرے ابا آپ کے بہت اچھے دوست ہیں، مجھے چھوڑ دیں۔‘‘ میں نے یہ کہتے ہوئے مسکین بھائی کا وہ ہاتھ جس میں موبائل فون تھا، اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔
مسکین بھائی نے اطمینان سے کہا۔ ’’میرے بارے میں تو میری بیوی بھی نہیں جانتی۔ میں یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ کوئی میرے بارے میں ذرا سا بھی جانے۔ اس لیے میری مجبوری ہے۔‘‘ وہ یہ کہہ کر پلٹے تو میں نے موبائل فون غیر محسوس انداز میں ان کے ہاتھ سے لے لیا۔
’’مجھے جانے دیں پلیز۔‘‘ میں نے اپنے دونوں ہاتھ ان کے آگے باندھ دیئے اور میرے بندھے ہوئے ہاتھوں میں مسکین بھائی کا موبائل فون تھا۔
’’ابھی جانے دیتا ہوں۔‘‘ مسکین بھائی نے یہ کہہ کر اپنے آدمیوں کو اشارہ کیا۔ انہوں نے اسلحہ نکال کر ہم پر تان لیا۔
’’اسے کچھ ہونا نہیں چاہیے، ابھی میں نے اس سے حساب پورا کرنا ہے۔‘‘ ریاض نے کہا۔
وہ آدمی ہمیں اسلحے کے زور پر واپس کمرے میں لے گئے۔ میں خود بھی یہاں رکنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ میرے ہاتھ میں مسکین بھائی کا موبائل فون تھا اور میں نہیں چاہتا تھا کہ اچانک کہیں سے فون آجائے اور مسکین بھائی کو پتا چل جائے کہ ان کا موبائل میرے پاس ہے۔
ہم پھر اسی کمرے میں آگئے تھے۔ اس بار ان آدمیوں نے تہہ خانے کا دروازہ دوسری طرف سے کنڈا لگا کر بند کردیا تھا۔ کنڈا لگانے کی آواز آئی تھی۔
میں نے جلدی سے موبائل فون کی آواز بند کی تو چاندنی نے موبائل فون کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ’’یہ موبائل فون کس کا ہے؟‘‘
’’میں نے مسکین بھائی کے ہاتھ سے غیر محسوس انداز میں منتقل کرلیا تھا۔ تم مجھے جلدی سے ادریس کا نمبر بتائو۔ میں کال کرتا ہوں، تم اس سے بات کرنا اور کہنا کہ مجھے مسکین بھائی کا آدمی اپنے ساتھ لے آیا تھا اور اب وہ مجھ سے نکاح کرنے والا ہے۔‘‘
’’ادریس کا نمبر مجھے یاد ہے۔‘‘
’’تم مجھے اس جگہ کا پتا بتائو۔‘‘ میں نے افضل سے کہا۔
افضل نے اس جگہ کا پتا بتا دیا۔ چاندنی نے ادریس کا موبائل فون نمبر بتایا اور میں نے جونہی اس کا نمبر ملایا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس کال کے لیے بیلنس ناکافی ہے۔ میں نے دونوں کی طرف مایوسی سے دیکھا۔ مسکین بھائی پر لعن طعن کی کہ اتنا کماتا ہے اس کے باوجود سو روپے کا بیلنس نہیں ڈلوا سکتا۔
’’تم لون لے لو۔‘‘ اچانک چاندنی نے تجویز دی۔ لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ مسکین بھائی کون سا نیٹ ورک استعمال کرتے تھے۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ سبھی نیٹ ورک سے لون کے لیے رجوع کیا جائے۔ جس کا نیٹ ورک ہوگا، وہ لون دے دے گا۔
میں نے ایسا ہی کیا اور ایک نیٹ ورک سے لون مل گیا۔ پھر ادریس کا نمبر ملایا۔ جونہی رابطہ ہوا تو چاندنی نے بات کی۔ اس نے کہا۔ ’’میں چاندنی بول رہی ہوں۔‘‘
’’چاندنی تم کہاں سے بول رہی ہو؟ یہ نمبر تو مسکین بھائی کا ہے۔‘‘ دوسری طرف سے ادریس کی بے چین آواز آئی۔
’’اس میں بات کرنے کے لیے زیادہ بیلنس نہیں ہے۔ بس اتنا سن لیں مجھے مسکین بھائی کا آدمی اپنے ساتھ لے آیا تھا اور اب مسکین بھائی آدھے گھنٹے کے اندر اندر مجھ سے نکاح کرنے والا ہے۔ پتا نوٹ کرلو۔‘‘ چاندنی نے اسے پتا نوٹ کروا دیا۔
’’اس کی ایسی جرأت! میں ابھی آیا۔‘‘ دوسری طرف سے ادریس کی غصہ بھری سنائی دی۔
’’یہ موبائل فون ابھی میرے پاس ہے۔ آنے سے پہلے اس نمبر پر سو روپے کا بیلنس لوڈ کرا دینا۔‘‘ چاندنی نے کہہ کر فون بند کردیا اور میری طرف دیکھ کر پوچھا۔ ’’اب کیا کرنا ہے؟‘‘
’’اب یہاں گھمسان کی جنگ ہوگی اور اس جنگ کے دوران ہمیں فرار ہونا ہوگا۔‘‘
اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور مسکین بھائی کے ساتھ ریاض اور اس کے دو آدمی اندر داخل ہوگئے۔ میں فوراً چاندنی کے آگے کھڑا ہوگیا تاکہ چاندنی ہاتھ میں موجود موبائل فون کہیں چھپا سکے۔
’’میرا موبائل فون نہیں مل رہا۔ ہم نے پورا کمرا چھان مارا ہے، ایک ایک چیز الٹ پلٹ دی ہے لیکن موبائل فون غائب ہے۔‘‘ مسکین بھائی نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہمیں کیا معلوم کہ آپ کا موبائل فون کہاں ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’تم تینوں تلاشی دو گے۔‘‘ مسکین بھائی بولے۔
’’ہمیں تلاشی دینے میں کوئی اعتراض نہیں لیکن لیڈی کی تلاشی کے لیے کسی لیڈی کا ہونا ضروری ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’لیڈی ساتھ لے کر آئے ہیں۔‘‘ مسکین بھائی نے کہا۔ تب ایک بوڑھی سی عورت اندر کمرے میں آگئی۔ اسے دیکھ کر صاف لگتا تھا اسے نیند سے جگا کر لایا گیا ہے۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ چاندنی نے موبائل فون کا کیا کیا تھا۔ اسے ہاتھ میں لیے کھڑی تھی یا کہیں چھپا دیا تھا۔
ہم دونوں کی مسکین بھائی کے آدمیوں اور چاندنی کی اس بوڑھی عورت نے تلاشی لی۔ اس کے بعد دونوں آدمی کمرے کی تلاشی لینے لگے لیکن موبائل فون کہیں نہیں ملا۔ میں حیران تھا کہ چاندنی نے موبائل فون کہاں چھپا دیا ہے۔
جب فون نہ ملا تو مسکین بھائی نے کہا۔ ’’جب یہ مجھ سے بات کر رہا تھا تو موبائل فون میرے ہاتھ میں تھا پھر اچانک موبائل فون میرے ہاتھ سے غائب ہوگیا۔‘‘ مسکین بھائی کا اشارہ میری طرف تھا۔
’’میں نے تو آپ کے موبائل فون کو چھوا بھی نہیں۔‘‘ میں نے معصومیت سے کہا۔
’’میرا موبائل فون گیا تو گیا کہاں؟‘‘ مسکین بھائی کو سخت پریشانی تھی۔
افضل پھر تیزی سے مسکین بھائی کے پاس گیا اور بڑی معصومیت سے بولا۔ ’’اگر آپ مجھے معاف کردیں اور آزاد کردیں تو میں آپ کے موبائل فون کے مل جانے کی دعا کروں گا۔ مجھے امید ہے کہ میری دعا جلدی قبول ہوجائے گی۔‘‘
’’تم اپنے منہ کو بند رکھو ورنہ ابھی تمہارا سر اڑا دوں گا۔‘‘ مسکین بھائی کو میں نے پہلی بار غصے میں دیکھا۔ افضل سہم کر پیچھے کھڑا ہوگیا۔
ریاض مجھے گھورتے ہوئے بولا۔ ’’میں جب بھی اسے دیکھتا ہوں، میرا خون کھولنے لگتا ہے۔‘‘
ریاض کی بات سن کر میں گردن جھکا کر افضل کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔ مسکین بھائی نے سب کو چلنے کا اشارہ کیا اور وہ لوگ دروازہ بند کر کے باہر نکل گئے۔ میں فوراً چاندنی کی طرف پلٹا اور سرگوشی کے انداز میں پوچھا۔ ’’تم نے موبائل فون کہاں رکھا تھا۔‘‘
’’کہیں بھی نہیں۔‘‘ چاندنی مسکرائی۔
’’پھر موبائل فون انہیں ملا کیوں نہیں؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’جونہی وہ بوڑھی عورت نیند کی ماری میرے قریب آئی، میں نے موبائل فون اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ وہ موبائل فون پکڑ کر میری تلاشی لینے لگی۔ جیسے ہی اس نے تلاشی ختم کی، میں نے موبائل فون اس کے ہاتھ سے لے لیا۔‘‘ چاندنی نے بتایا۔
’’بڑی ہوشیار ہوگئی ہو۔‘‘
’’اس میں میری ہوشیاری سے زیادہ اس بوڑھی عورت کی سستی کا اہم کردار تھا۔‘‘ چاندنی نے کہا۔ اچانک میسج ٹون بجی۔ چاندنی نے مسکرا کر بتایا کہ ادریس نے سو روپے کا بیلنس بھیجا ہے۔ ساتھ ہی فون میں سرسراہٹ ہونے لگی۔ اس نے ہمیں چپ رہنے کا اشارہ کیا اور فون کان سے لگا لیا۔ اس کا لہجہ دھیما تھا۔ وہ کہہ رہی تھی۔ ’’ہاں بیلنس مل گیا ہے… آپ کب مجھے ان کے چنگل سے چھڑانے آرہے ہیں؟ مسکین بھائی کا آدمی نکاح خواں کو لینے گیا ہے اور میں کمرے میں قید ہوں۔ ٹھیک ہے۔‘‘ چاندنی نے یہ کہہ کر فون کان سے الگ کیا اور مجھے بتایا۔ ’’وہ پندرہ بیس منٹ میں پہنچ رہے ہیں۔‘‘
’’ایک مسئلہ ہے۔‘‘ میں سوچتے ہوئے بولا۔
’’اب کیا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے؟‘‘ چاندنی نے میری طرف دیکھا۔
’’ہم اس کمرے میں قید ہیں۔ ادریس نے اگر اپنے آدمیوں کی مدد سے ان پر قابو پا لیا تو ہم بھاگ نہیں سکیں گے بلکہ وہ اس کمرے سے تمہیں اپنے ساتھ لے جائے گا۔‘‘ میں نے کہا۔
میری بات سن کر چاندنی بھی سوچ میں پڑ گئی۔ اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور مسکین بھائی اس طرح نمودار ہوئے جیسے ان کو باہر سے دھکا دیا گیا ہو۔ انہوں نے آتے ہی کہا۔ ’’جب تم نے میرا ہاتھ پکڑا تھا تو اس وقت میرا موبائل فون تم نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا۔ بتائو فون کہاں ہے؟‘‘
’’آپ ایسا کیوں سوچ رہے ہیں؟ اگر موبائل فون میرے پاس ہوتا تو مل جاتا۔ آپ ہم تینوں کی تلاشی لے چکے ہیں، سارا کمرا بھی چھان لیا گیا ہے۔ اس کمرے کے علاوہ ہم کہیں گئے نہیں تو موبائل فون کہاں گم ہوجائے گا۔‘‘ میری بات میں دم تھا اس لیے مسکین بھائی چپ ہوگئے۔ ان کے پیچھے ان کا وہ آدمی بھی کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں پستول تھا۔ میں اچانک ایک خطرناک فیصلہ کرچکا تھا۔
اچانک مسکین بھائی کے ہاتھ میں موجود افضل کا فون بجا تو مسکین بھائی نے نمبر دیکھ کر موبائل فون اپنے آدمی کو دے دیا۔ اس نے موبائل فون کان سے لگا کر بھاری آواز میں کہا۔ ’’پیسوں کا انتظام ہوگیا ہے… ٹھیک ہے، میری کال کا انتظار کرو۔‘‘ اس نے اتنا کہہ کر فون بند کردیا اور مسکین بھائی کو بتایا۔ ’’افضل کے گھر والوں کا فون تھا۔ انہوں نے تاوان کے پیسوں کا انتظام کرلیا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ جگہ کا انتخاب کرکے افضل کو گولی مار کر وہیں پھینک دیں گے اور پستول پر اس کی انگلیوں کے نشان لگا کر محفوظ کرلیں گے۔‘‘ مسکین بھائی کہتے ہوئے گھومے اور کمرے سے باہر نکل گئے۔ ان کا آدمی بھی گھوما اور جونہی وہ ان کے پیچھے باہر نکلنے لگا، میں نے پھرتی سے اسے دبوچ لیا۔ میرا ایک ہاتھ اس کے منہ اور دوسرا ہاتھ اس کے ہاتھ پر تھا جس میں اس نے پستول تھاما ہوا تھا۔ میں اس مزاحمت کرتے آدمی کو اندر لے آیا تھا۔ چاندنی اور افضل کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا لیکن اس کے باوجود چاندنی نے دروازہ بند کردیا تھا۔
میں اور وہ آدمی گتھم گتھا تھے۔ اس کا پستول میرے ہاتھ میں آگیا تھا۔ میں نے پستول کا پچھلا حصہ تواتر سے اس کے سر پر مارنا شروع کردیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ بے ہوش ہوگیا۔ اس کے سر سے خون بھی نکلنے لگا تھا۔
’’یہ تم نے کیا کیا؟‘‘ چاندنی نے حیرت سے پوچھا۔
’’اسے بے ہوش کیا ہے۔ باتوں کا وقت نہیں ہے۔‘‘ میں نے دائیں بائیں دیکھا۔ اسے باندھنے کے لیے مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی تھی۔ میں کھینچ کر اسے کمرے سے ملحق باتھ روم میں لے گیا اور باتھ روم کا دروازہ بند کرکے باہر آتے ہی بولا۔ ’’نکلنے کی تیاری کرو۔‘‘
’’مجھے وہ لوگ گولی مار دیں گے۔‘‘ افضل بری طرح کانپ رہا تھا۔
’’اگر تم اسی طرح یہاں کھڑے کانپتے رہے تو وہ ضرور تمہیں گولی مار دیں گے۔‘‘ میں نے کہا اور ایک بار پھر کمرے کا دروازہ کھلا اور مسکین بھائی پہلے سے زیادہ پریشان چہرے کے ساتھ نمودار ہوئے اور آتے ہی انہوں نے متلاشی نگاہوں سے کمرے میں دیکھا اور پھر بولے۔ ’’اچانک میرا موبائل گم ہوگیا۔ اب اچانک میرا آدمی بھی غائب ہوگیا۔‘‘
’’گنتی کرلیں ہم تین ہیں۔ چوتھا دکھائی دے تو آپ اسے اپنے ساتھ لے جائیں۔‘‘ میں نے کہا۔ مسکین بھائی نے ہم تینوں کی طرف دیکھا۔ پھر کچھ بڑبڑائے اور بلند آواز میں بولے۔ ’’یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘
ایک آدمی بھاگتا ہوا مسکین بھائی کے پاس آیا اور آتے ہی بولا۔ ’’باہر ادریس پندرہ بیس آدمی گاڑیوں میں بھر کر لایا ہے۔‘‘
’’وہ کیوں؟‘‘ مسکین بھائی نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
’’معلوم نہیں، سب کے پاس اسلحہ ہے۔ وہ باہر کھڑے ہیں۔‘‘ اس آدمی نے مزید بتایا۔
’’میں نے اس سے بیس ہزار روپے خرچہ مانگا تھا۔ وہ بیس آدمی لے کر آگیا۔‘‘ مسکین بھائی نے کہا۔
’’اب کیا کریں؟‘‘
’’جاننے کی کوشش کرو کہ وہ کیوں آیا ہے۔‘‘ مسکین بھائی اس کے ساتھ ہی چل پڑے اور انہوں نے جاتے ہوئے دروازہ بھی بند نہیں کیا تھا۔ میں نے باہر کی طرف دیکھا اور جونہی مسکین بھائی نظر سے اوجھل ہوئے، میں نے اشارہ کیا اور کمرے سے باہر نکل آئے۔
’’میرا خیال ہے کہ چھت پر چلتے ہیں۔‘‘ میں نے مشورہ دیا۔
’’وہاں جاکر کیا کریں گے؟‘‘ چاندنی نے پوچھا۔
’’پتنگیں اڑائیں گے۔‘‘ میں زچ ہوکر بولا۔
’’میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں۔‘‘ چاندنی نے متانت سے کہا۔
’’محترمہ وہاں جاکر ہم جائزہ لیں گے اور پھر فرار کا کوئی راستہ اختیار کریں گے۔‘‘ میں نے سمجھایا۔
’’بتائو کس طرف جانا ہے۔‘‘ چاندنی نے پوچھا۔
میں نے افضل کو کھینچ کر اپنے آگے کیا اور اس سے کہا کہ وہ بتائے اوپر جانے کا زینہ کس طرف ہے۔ افضل آگے آگے چلنے لگا اور ہم سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر پہنچ گئے۔
میں نے سر نکال کر باہر دیکھا تو باہر کا منظر ہی کچھ اور تھا۔ ادریس کے تقریباً بیس کے قریب آدمی اسلحے سے لیس کھڑے تھے اور اس بنگلے کے اندر گیراج میں مسکین بھائی کے آدمی بھی اسلحہ لہرا رہے تھے۔ یہ الگ بات تھی کہ مسکین بھائی کے آدمی مجھے سات، آٹھ ہی نظر آئے تھے۔
پھر ایک ہلچل سی ہوئی اور باہر کھڑے ادریس کے آدمیوں نے جست لگا کر بائونڈری وال پر چڑھنا شروع کردیا اور جونہی وہ دیوار کے اوپر چڑھے، اندر سے مسکین بھائی کے ایک آدمی نے گولی چلا دی جو ایک آدمی کو لگی اور وہ دوسری طرف جاگرا۔ اس کے بعد گولیوں کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ میں نے دیکھا کہ مسکین بھائی چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے۔ ’’فائر مت کرنا… فائر مت کرنا۔‘‘
میں نے چاندنی کے ہاتھ سے موبائل فون لیا اور ایمرجنسی پولیس کو کال کرکے ان کو پتا سمجھاتے ہوئے بتایا کہ دو گروپ آپس میں شدید گولیوں کا تبادلہ کررہے ہیں اور اہل مکین خوف زدہ ہوگئے ہیں۔ میں نے اطلاع دے کر فون بند کردیا اور خوشی سے مکا لہرایا۔ میں یہی چاہتا تھا کہ ان کے درمیان لڑائی ہو اور مجھے پولیس بلوانے کا موقع مل سکے اور ایسا ہوگیا تھا۔
باہر شور برپا تھا۔ اس صورتحال کو بیس منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ پولیس کی ایک ساتھ دو گاڑیاں آئیں اور ادریس کے آدمیوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی۔ پولیس مسکین بھائی کے گھر میں بھی گھس گئی تھی۔
گرفتاری میں کچھ وقت لگا اور اس کے بعد وہاں ایسی خاموشی ہوگئی جیسے یہاں کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ پولیس سب کو پکڑ کر لے گئی تھی۔ اردگرد کے رہائشی بھی باہر نکل آئے تھے اور مختلف ٹولیوں میں کھڑے باتیں کررہے تھے۔
’’اب ہم چلیں؟‘‘ افضل نے پوچھا۔
’’ابھی نہیں۔ جب تک علاقے کے لوگ اپنے گھروں میں نہیں چلے جاتے، ہمیں انتظار کرنا پڑے گا۔‘‘ میں نے کہا۔
ہم تینوں آدھے گھنٹے تک باہر نظریں جمائے بیٹھے رہے۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں جانا شروع ہوگئے تھے۔ تھوڑی دیر میں سناٹا چھا گیا۔
’’اب نکلتے ہیں، راستہ صاف ہے۔‘‘ ہم تینوں جونہی اٹھے اور واپس جانے کے لیے گھومے، ہمارے قدم وہیں منجمد ہوگئے۔ ہمارے سامنے ریاض اور اس کے دونوں آدمی اسلحہ تانے کھڑے تھے۔ ریاض کے چہرے پر بڑی خبیث سی مسکراہٹ تھی۔
’’بڑا چالاک ہے تو۔ تجھ پر میں نے نظر رکھی ہوئی تھی۔ جب سے تونے مسکین بھائی کے آدمیوں کو قابو کیا تھا۔ تب سے میں تیرے پیچھے تھا۔ جب پولیس اور ان آدمیوں کے درمیان آنکھ مچولی ہورہی تھی۔ میں چھپ کر یہاں چھت پر بیٹھا تھا۔‘‘
’’میں سمجھا تھا تم بھی پولیس کے ہتھے چڑھ گئے ہو۔‘‘ میں دھیمے لہجے میں بولا۔
وہ ہنسا۔ ’’میں بے وقوف نہیں ہوں۔ جرم کی دنیا میں عمر بیتی ہے۔ بساط پر بچھی شطرنج کے مہروں کی چالوں کو خوب جانتا ہوں۔ اب تم ہمارے ساتھ چلو، ہمارے شہر میں۔ وہاں میں تم سے اسی جگہ انتقام لوں گا اور پھر سنگین الزام کی پاداش میں پولیس کے حوالے کردوں گا۔ ساری زندگی تمہاری جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزر جائے گی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ ہنسا۔ مجھے اس کی ہنسی بڑی زہر لگ رہی تھی۔ دل چاہ رہا تھا کہ اس کے دانت توڑ دوں۔
’’بھائی جی یہ آپ کا اور اس کا معاملہ ہے۔ میں جائوں؟‘‘ افضل نے کہا۔ ریاض نے اس کی طرف گھور کے دیکھا تو وہ بے چارہ چپ ہوگیا۔ میں چاندنی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ بہت پریشان تھی۔ شاید وہ سوچ رہی تھی کہ وہ میرے ساتھ بھاگ کر کس مصیبت میں پھنس گئی ہے اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایک آفت سے نکل کر دوسری آفت میں الجھ رہا ہوں۔
ریاض نے اپنے ایک آدمی کو اشارہ کیا اور اس نے اپنے کندھے پر لٹکی رسی سے ہمارے ہاتھ باندھنے شروع کردیے۔ اس دوران ریاض اور اس کے دوسرے آدمی نے ہم پر اسلحہ تان رکھا تھا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح مجھے کوئی ایسا راستہ دکھائی دے جائے کہ میں یہاں سے نکل سکوں، لیکن ایسا کوئی راستہ مجھے دکھائی نہیں دیا اور اس نے ہمارے ہاتھ پیچھے کی طرف باندھ کر منہ پر ٹیپ لگا دی۔
اس کے بعد وہ نیچے لے آئے۔ گیراج میں ایک گاڑی کھڑی تھی۔ ہم تینوں کو انہوں نے پچھلی سیٹ پر بٹھایا۔ ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ ریاض براجمان ہوگیا جبکہ اس کا دوسرا آدمی دوسری گاڑی میں بیٹھ گیا۔ گیٹ کھلا ہوا تھا۔ انہوں نے تیزی سے گاڑیاں باہر نکالیں اور اس علاقے سے دور ہونے لگے۔ میں سوچ رہا تھا کہ اب میں پھنس گیا ہوں۔ یہ ضرور میری ہڈی پسلی ایک کرکے چھوڑیں گے۔
٭…٭…٭
رات کا جانے کون سا پہر تھا اور ان کی گاڑیاں آگے پیچھے پوری رفتار سے بھاگ رہی تھیں۔ ریاض گنگناتا تھا، کبھی چپ ہوجاتا تھا اور کبھی مسکرانے لگتا تھا۔ پھر وہ بولا۔ ’’مسکین بھائی سے میرا دس سال پرانا تعلق ہے۔ میں یہاں ایک ضروری کام سے آیا تھا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ تم مجھے یہاں مل جائو گے۔‘‘
میرے منہ پر ٹیپ لگی ہوئی تھی۔ میں کیا بول سکتا تھا۔ چپ اس کی سنتا رہا۔ جب میں شروع میں مسکین بھائی کے پاس آیا تھا تو مسکین بھائی مجھ سے بار بار پوچھتے تھے کہ تم نے واقعی ریاض دندی کے آدمیوں کو مارا ہے، تب مجھے کچھ شک ہوا تھا کہ مسکین بھائی اسے جانتے ہیں لیکن میں نے اس طرف توجہ نہیں دی تھی۔
ریاض دندی نے چاندنی کی طرف عجیب سی نظروں سے دیکھا۔ پھر پوچھا۔ ’’اے لڑکی… تیرا کیا نام ہے؟‘‘
چاندنی کیا بولتی، اس کے منہ پر بھی ٹیپ تھی۔ ریاض نے تین چار بار پوچھا۔ پھر خود ہی ہنسا
اور ہاتھ بڑھا کر اس کے منہ سے ٹیپ کھینچ کر اتار دی اور پھر وہی سوال کیا۔ ’’کیا نام ہے تیرا؟‘‘
’’میرا نام سکینہ ہے۔‘‘ چاندنی نے فرضی نام بتایا۔
’’اس کے ساتھ کیا کررہی ہو۔‘‘ اس نے سوال کیا۔
’’قسمت خراب تھی جو اس سے لفٹ مانگ لی تھی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ جس کار میں یہ جارہا ہے وہ چوری کی ہے اور اس کے پیچھے لوگ لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہمیں پکڑا اور اس گھر میں بند کردیا اور اب آپ جانے مجھے کہاں لے جارہے ہیں۔ بھوک سے میرا برا حال ہے۔ جس کے لیے میں گھر سے نکلی تھی، وہ اب تک میرا انتظار کرکے اور بے وفائی کا طعنہ دے کر چلا بھی گیا ہوگا۔‘‘ چاندنی نے کہانی گھڑی۔ اس کی ان باتوں سے میں بھی حیران تھا۔
’’اس کا مطلب ہے اب تم واپس گھر نہیں جاسکو گی۔ واپسی کی کشتیاں جلا کر جو آئی تھیں تم؟‘‘
’’آپ بالکل ٹھیک سمجھے۔ اب تو دل چاہتا ہے کہ آپ سے شادی کرلوں، کم ازکم پوری زندگی تحفظ تو ملے گا۔‘‘ چاندنی نے اتنا کہہ کر منہ دوسری طرف کرلیا۔ اس کا چھوڑا ہوا تیر سیدھا ریاض کے دل پر لگا تھا۔ وہ دم بخود اس کی طرف دیکھنے لگا تھا۔ مجھے اس کا چہرہ دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی نے اس سے ایسی بات کہی تھی۔
’’کیا کہا تم نے… ذرا دوبارہ تو کہنا۔‘‘ ریاض جلدی سےبولا۔
’’کہہ دیا جو کہنا تھا۔ دوبارہ کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ میں کہتی ہوں ان دونوں سے پہلے آپ مجھے گولی مار دیں بلکہ میرے قتل کا الزام اس پر لگا کر اسے جیل بھجوا دیں۔‘‘ چاندنی نے مشورہ دیا۔
’’تمہیں گولی تو دور کی بات، میں تمہیں سوئی کی نوک بھی نہیں چبھنے دوں گا۔‘‘ ریاض، چاندنی کی باتوں میں آگیا۔ وہ اپنے ڈرائیور سے بولا۔ ’’قریب کوئی ہوٹل آئے تو کار روکنا، سکینہ کو بھوک لگی ہے۔‘‘
’’بھوک سے زیادہ مجھے اس بات کا شوق ہے کہ میں کار چلائوں۔ لمبا راستہ ہو اور میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی کار کو ہوا میں اڑاتی چلی جائوں۔‘‘ چاندنی نے فرمائش کی۔
ریاض نے فوراً کار روکنے کا حکم دیا۔ ڈرائیور نے کار ایک طرف روک دی۔ ریاض نے اپنے آدمی سے کہا کہ وہ سکینہ کے ہاتھ کھول دے اور خود اس کی جگہ بیٹھ جائے۔ اس آدمی نے چاندنی کے ہاتھ کھول دیے۔ چاندنی اٹھ کر ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ بیٹھتے ہی چاندنی نے ایک دلکش مسکراہٹ نچھاور کی اور مجھے ریاض کے چہرے سے یوں لگا جیسے اس کے دل پر چاندنی نے چھری چلا دی ہو۔ میں سوچ رہا تھا کہ چاندنی کیا کرنے والی ہے۔
’’میرے دل میں پہلے ہی آپ کے لیے بڑا نرم گوشہ تھا۔ ویسے بھی میری آپ سے کیا دشمنی ہے، میری دشمنی تو اس سے ہے۔‘‘ ریاض بولا۔
’’بس ایک خیال رکھیے گا، ان کے ہاتھ نہ کھولیں ورنہ ان کو سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔‘‘ چاندنی نے کہا۔
’’میرا دماغ خراب ہے کہ میں ان دونوں کے ہاتھ کھولوں گا۔‘‘ ریاض بولا۔
چاندنی نے ایک ادا سے ریاض کی طرف دیکھا اور پوچھا۔ ’’چلوں…؟‘‘
’’زہے نصیب!‘‘ ریاض مسکرایا۔
چاندنی نے کار آگے بڑھا دی۔ رفتہ رفتہ اس نے کار کی رفتار بڑھا دی۔ ریاض مسکراتے ہوئے چاندنی کو اپنے بارے میں بتانے لگا۔ وہ اپنے آپ کو کسی ہیرو کی طرح چاندنی کے آگے پیش کر رہا تھا۔ چاندنی بھی اس کی باتوں میں بہت دلچسپی لے رہی تھی اور کہیں کہیں حیرت کا بھی اظہار کر رہی تھی اور کبھی کوئی ایسا سوال کردیتی تھی کہ ریاض خوش ہوجاتا اور اپنے بارے میں مزید بڑھ چڑھ کر بولنے لگتا۔
میں دونوں کی گفتگو سے بور ہورہا تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ کہیں چاندنی واقعی ریاض میں دلچسپی تو نہیں لینے لگی؟ کسی کا ارادہ اور دل بدلنے میں دیر کتنی لگتی ہے۔ میں کبھی چاندنی اور کبھی ریاض کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ریاض کا چہرہ چاندنی کی طرف تھا اور اس کے منہ سے اپنی تعریفوں اور کارناموں کے الفاظ موسلادھار بارش کی طرح نکل رہے تھے۔
اچانک چاندنی نے کار گھمائی اور سیدھی ایک عمارت کے اندر لے گئی۔ وہ عمارت سڑک کے ساتھ ہی تھی۔ کار کھڑی کرنے کے بعد چاندنی تیزی سے باہر نکلی۔ میں نے دائیں بائیں دیکھا کہ یہ کونسی جگہ ہے۔ کوئی ہوٹل ہے کیا؟ میرے سمجھنے سے پہلے چاندنی کا شور سنائی دیا جس سے پتا چلا کہ چاندنی کس ہوشیاری سے کس عمارت میں کار لے آئی ہے۔ چاندنی چیخ رہی تھی۔ ’’ہماری مدد کرو… ہماری مدد کرو… یہ ہمیں اغوا کر کے لے جارہا ہے۔‘‘
چاندنی کے شور سے ریاض بوکھلا گیا۔ جب اندر اور دائیں بائیں سے پولیس والے اسلحہ لے کر باہر نکلے تو مجھے پتا چلا کہ چاندنی کار کو پولیس اسٹیشن کے اندر لے آئی ہے جو سڑک کے ساتھ ہی تھا۔
پولیس نے کار کو گھیر لیا۔ ہمیں باہر نکالا۔ ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے اور منہ پر ٹیپ تھی۔ سب سے بڑا ثبوت یہ تھا کہ وہ ہمیں باندھ کر اغوا کر کے لے جارہا تھا۔ ریاض کی حالت دیکھنے کے قابل تھی۔ وہ بھیگی بلی کی طرح پولیس کے حصار میں تھا۔ اس کے کیا، ہمارے بھی گمان میں نہیں تھا کہ چاندنی اس طرح کار پولیس اسٹیشن لے آئے گی۔
ہمارے ہاتھ اور منہ کھولے گئے تو ہم نے بتایا کہ یہ آدمی ہمیں اغوا کر کے لے جارہا تھا اور اس کے ساتھ ایک کار اور بھی تھی جس میں اس کے پانچ آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے جان بوجھ کر آدمی بڑھا دیے تھے۔
تھوڑی دیر کے بعد تھانیدار صاحب آگئے۔ انہوں نے ہمارے بیان لیے۔ ریاض کا ریکارڈ چیک کرنے کے لیے اس کے شہر میں پولیس اسٹیشن فون کیا اور اس کے بعد میں نے تھانیدار کے منہ سے سنا۔ وہ اپنے اہلکار سے کہہ رہا تھا۔ ’’کل جو چوہدری صاحب اغوا کے بعد قتل ہوئے ہیں اور اوپر سے قاتل کو گرفتار کرنے کا ہم پر بہت پریشر ہے، وہ اس پر ڈال کر اپنی جان چھڑائو۔‘‘
مجھے یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ جو لوگ مجھے پھنسا کر میری زندگی کو جرائم کی دلدل میں دھکیلنا چاہتے تھے، وہ خود اس کا لقمہ بن گئے تھے۔ کچھ ضروری کارروائی کے بعد انہوں نے ہمیں جانے کی اجازت دے دی۔
چاندنی نے پولیس اسٹیشن سے باہر نکل کر بتایا کہ اس نے سڑک کے کنارے لکھا دیکھ لیا تھا کہ تھانے کی حدود شروع ہوگئی ہے تب ہی اس نے ایسا کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اس جگہ سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ایک شہر تھا۔ ہم وہاں پہنچے اور تینوں اپنے اپنے شہر کی طرف روانہ ہوگئے، حالانکہ میرا دل نہیں چاہتا تھا کہ چاندنی واپس جائے۔ جاتے ہوئے چاندنی نے مجھے اپنا پتا دے دیا تھا۔
میں مرجھائے اور اداس دل کے ساتھ اپنے شہر پہنچا تو مجھے کوئی خوف نہیں تھا کیونکہ ریاض اب پولیس کی تحویل میں تھا۔ میں سیدھا اپنے گھر چلا گیا۔ میں نے دروازہ بجایا۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا تو سامنے میرے ابا کھڑے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی حیران ہوکر بولے۔ ’’تم… اس وقت… اچانک… کیا ہوا؟ کیوں واپس آگئے؟ مسکین بھائی سے کاروبار کرنا نہیں سیکھنا؟ بھگوڑے ہوگئے ہو؟‘‘
میں اتنے سارے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا تھا۔ اندر چلا گیا۔ اپنے کمرے میں گیا تو مجھے میری دوسری امی نے روک لیا کہ وہ اب بچوں کا کمرا ہے۔ باقی تین کمروں میں ابا کی تین بیویاں رہتی تھیں۔ اوپر ایک کمرا زیرتعمیر تھا۔ میں اس جانب بڑھا تو ابا میرے سامنے آکر بولے۔ ’’وہاں مت جائو۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’دو دن پہلے اچانک ایک مجبور خاتون سے اس کے حالات سنے تو مجھ سے اس کا دکھ نہیں سنا گیا۔ میں نے اس سے نکاح کرلیا۔ وہ اب اس کمرے میں ہے۔ ایک دو دن میں کمرا تیار ہوجائے گا۔‘‘
’’تو پھر میں کہاں رہوں گا؟‘‘ میں نے ابا سے پوچھا۔
’’دنیا بہت بڑی ہے۔ تمہارے ابا ہمیں بیاہ کر اس گھر میں لائے ہیں۔ تم کسی سے بیاہ کرکے اس گھر کے داماد بن جائو۔‘‘ میری تیسری امی نے کمرے سے جھانک کر مجھے مفت مشورہ دیا۔ ابا نے ان کے مشورے پر داد دی اور مجھے اس پر عمل کرنے کی ہدایت کی۔
میں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ اب میرے لیے اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ابا اپنی بیویوں کو پیارے ہوچکے ہیں۔ اللہ جانے یہ سلسلہ کہاں جاکر رکے گا۔ میں نے جان بوجھ کر ابا کے سامنے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر چالیس روپے گنے اور سوچ میں پڑ گیا۔ ابا اندر گئے اور کچھ پیسے میرے ہاتھ میں رکھ کر مجھے کامیابی کی دعا دی۔ میں اس گھر سے باہر نکل گیا۔ باہر نکل کر پیسے گنے تو وہ پورے بیس ہزار روپے تھے۔
میں نے ٹیکسی لی اور سیدھا چاندنی کے شہر نکل گیا۔ طویل سفر کرکے وہاں پہنچا۔ اس کا پتا تلاش کیا اور ایک گھر کے سامنے پہنچ گیا۔ وہ دو منزلہ مکان تھا۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے بیل دی۔ تھوڑی دیر کے بعد دروازہ کھلا۔ دروازہ چاندنی نے کھولا تھا۔
چاندنی نے مجھے خوشگوار حیرت سے دیکھا اور اندر لے گئی۔ اس نے میرا حال چال پوچھا۔ مجھے پینے کے لیے جوس دیا۔ عزت سے بٹھایا۔ پھر اس بات نے مجھے خوش کردیا جب اس نے کہا۔ ’’میں ابھی تمہیں ہی یاد کررہی تھی۔‘‘
’’وہ کیوں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’میرے ابا اور امی میری شادی کرنا چاہتے تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں اپنے کلاس فیلو کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہوں۔ میرے پوچھنے پر میں نے انہیں تمہارے بارے میں بتایا اور دل ہی دل میں کہا کاش! تم آجائو اور تم فوراً آگئے۔‘‘
’’کیا واقعی تم نے ایسا کہا تھا۔‘‘
’’ہاں میں سچ کہہ رہی ہوں۔‘‘ چاندنی مسکرائی۔ اس کے بعد اس نے مجھے اپنے والدین سے ملوایا۔ اور کچھ دنوں کے بعد ہمارا نکاح ہوگیا۔
آج مجھے اس گھر میں، گھر داماد کی حیثیت سے رہتے ہوئے پندرہ سال ہوگئے ہیں۔ ہمارے پانچ بچے ہیں۔ میں علاقے کا چیئرمین بھی ہوں، بڑی عزت ہے میری۔ بس مجھے اس وقت بہت تکلیف ہوتی ہے جب سیاست میں میرے مخالفین مجھے گھر داماد کا طعنہ دیتے ہیں۔ پھر میں اس طعنے کو یہ سوچ کر نظر انداز کردیتا ہوں کہ اس سال جب میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑوں گا اور بڑا سیاستدان بن جائوں گا تو سب سے پہلے اپنا گھر بنا کر مخالفین کے منہ بند کردوں گا۔
(ختم شد)