Sunday, May 19, 2024

Aas Tootti Nahi | Teen Auratien Teen Kahaniyan

میری عمر صرف ایک سال تھی جب تقدیر نے ماں کی گود کی گرمی سے محروم کردیا۔ تب دادی نے مجھ کو اپنی شفقت بھری آغوش میں چھپالیا۔ ابو نے سوتیلی ماں کے روایتی سلوک کے پیش نظر دوسری شادی نہ کی اور دادی کے بعد میری بڑی بہن ثوبیہ نے چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالا۔ پھر جب ثوبیہ باجی کی شادی ہوگئی تو ان کی جگہ فوزیہ آپی نے لے لی۔
ابو جان اس بات کے قائل تھے کہ بیٹیاں جتنی جلد اپنے گھروں کی ہوجائیں اچھا ہے۔ فوزیہ آپی ابھی میٹرک میں تھیں ان کے لیے اچھا رشتہ آگیا۔ وہ آگے پڑھنا چاہتی تھیں لیکن انہوں نے بیٹی کی مرضی کی پروانہ کی اور رشتہ طے کردیا۔
جس دن نکاح تھا، اس روز آپی کی نگاہوں میں نمی دیکھی۔ میں سمجھی وہ ہماری جدائی کے خیال سے افسردہ ہیں۔
ہم کو شروع دن سے یہ تربیت دی گئی تھی کہ لڑکی کے منہ میں زبان چپ رہنے کے لیے ہوتی ہے۔ خاص طور پر شادی بیاہ کے معاملے میں لڑکیوں کو بولنے کا قطعی حق نہیں تھا۔
فوزیہ آپی اپنا یہ حق استعمال کرنا چاہتی تھیں مگر انہوں نے باپ کے احترام میں ان کے الفاظ کی حرمت کو سلامت رکھا اور اپنے جذبات کو قربان کردیا۔ تاہم وہ خود پر جبر کا یہ صدمہ نہ جھیل سکیں۔ آگے پڑھنے کی آرزو پوری نہ ہوسکی تو انہوں نے یہ بات دل پر لے لی۔
شادی کی تاریخ طے ہوگئی، چپ چپ رہنے لگیں۔ میں نے اس دوران ان کو کثرت سے عبادت کرتے دیکھا۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر خدا کے حضور گڑ گڑاتیں اور شب بھر روتی تھیں۔
باجی کی شادی کو پندرہ دن رہ گئے تھے۔ ابھی کارڈز چھپنے کو نہیں گئے تھے کہ والد صاحب کو حادثہ پیش آگیا اور وہ بُری طرح زخمی ہوگئے۔ خدا کے کرم سے زندگی بچ گئی لیکن کافی دن اسپتال میں رہے۔ اس حادثے کی وجہ سے آپی کی شادی روک دی گئی اور شادی کی تاریخ آگے بڑھا دی گئی۔
ابھی ابو مکمل طور پر صحت یاب نہ ہوئے تھے کہ آپی کو بخار نے آلیا۔ اب ان کے صحت یاب ہونے کا انتظار کیا جانے لگا۔ اس دوران میرے ہونے والے دولہا بھائی کئی بار آئے۔ وہ دیکھنے میں اچھے انسان لگتے تھے۔ ان کو دیکھ کر آپی کی قسمت پر رشک کیا کرتی تھی۔ وہ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ اچھی پوسٹ پر بھی تھے۔
امید تھی کہ معمولی بخار ہے آپی جلد ٹھیک ہوجائیں گی، مگر ایسا نہ ہوسکا۔ وہ روز بہ روز نحیف و لاغر ہوتی گئیں۔ ان کی بیماری طول پکڑنے لگی۔ اب تو ابو کو فکر لاحق ہوگئی۔ کافی علاج کرایا۔ بڑے بڑے ماہر ڈاکٹروں کو دکھایا لیکن کوئی بھی بیماری کا سراغ نہ لگا سکا۔ آخر ایک دن ان کی بیماری کا انت ہوگیا اور یہ ان کی زندگی کا آخری دن تھا۔ ان کو دلہن بنانے کے ارمان دل ہی میں رہ گئے۔
ہمارے لیے یہ صدمہ اور رفیع کے لیے ایک سانحہ تھا۔ ان کو دھچکا لگا کیونکہ جن لوگوں کو وہ اپنا سمجھ چکے تھے اب ان سے تعلق ٹوٹ گیا تھا۔
رفیع بھائی کو ہم سے اس قدر لگائو ہوچکا تھا کہ تعلق توڑنا نہ چاہتے تھے۔ اسی وجہ آپی کی وفات کے بعد بھی ہمارے گھر آتے تھے۔ انہیں اداس دیکھتی تو دعا کرتی کہ خدا کرے ان کو ان کی خوشیاں مل جائیں۔ سچ ہے کسی گھڑی کی دعا قبول ہوجاتی ہے۔
ایک دن وہ اپنے والدین کے ساتھ آئے اور ان لوگوں نے میرا ہاتھ مانگ لیا۔ ابو نے سوچنے کو کچھ وقت مانگا کہ وہ ایک اچھے رشتے کو ہاتھ سے گنوانا نہ چاہتے تھے۔
کچھ دنوں بعد یہ لوگ دوبارہ آئے تب ابو نے کہا کہ میں پہلے بیٹے کی شادی کر کے بہو گھر لانا چاہتا ہوں، کیونکہ عمرانہ چلی گئی تو گھر خالی ہوجائے گا۔ انہوں نے شرط مان لی اور کہا کہ انتظار کیے لیتے ہیں،بے شک آپ بیٹے کی شادی پہلے کرلیں۔ ہم بعد میں تاریخ لینے آجائیں گے۔
بھائی ہم تینوں بہنوں سے چھوٹا تھا اور ابھی زیرِ تعلیم تھا۔ ادھر میں رفیع کو بہنوئی کی نظر سے دیکھتی تھی، لہٰذا اب ان سے شادی کے خیال سے پریشان تھی اور اُلجھن میں پڑ جاتی تھی۔ تاہم ابو کے سامنے بولنے کی جرأت تو مجھ میں بھی نہیںتھی۔
وقت گزرنے لگا۔ تین سال گزر گئے۔ رفیع کے والدین نے ابو سے درخواست کی کہ آپ نکاح کردیں رخصتی بے شک بعد میں ہوجائے گی۔ اس طرح ہم ایک پختہ یقین کے ساتھ آپ لوگوں سے وابستہ رہیں گے۔ والد صاحب نے بھی ان کی بات کو معقول جانا اور میرا نکاح رفیع سے کرادیا۔
اب میں اس شخص کے ساتھ نکاح کے بندھن میں بندھ چکی تھی کہ جس کو میں پہلے ہونے والے بہنوئی کی نظر سے دیکھا کرتی تھی۔ خود کو ذہنی طور پر تیار کرتی کہ اب رفیع ہی جیون ساتھی ہوگا، اُلجھنوں میں اُلجھنے سے کیا حاصل؟
میرا بھائی بہت لائق ثابت ہوا۔ تعلیم مکمل کرنے پر اُسے بیرون ملک پڑھنے کے لیے اسکالرشپ مل گیا۔ والد صاحب کو خیال آیا کہ رفیع کے والدین انتہا درجے کے شریف لوگ ہیں۔ انہوں نے کمال صبر کا مظاہرہ کیا تھا۔ سوچا حمید پڑھنے جارہا ہے نجانے کب واپس آئے۔ منکوحہ بیٹی کو عرصۂ دراز تک بٹھائے رکھنا درست نہیں۔ اب رخصتی کردینی چاہیے۔
ابو نے ان لوگوں کو بلا کر رخصتی کی تاریخ دے دی اور آخر کار میں دلہن بن کر رفیع کے گھر آگئی۔
دل دھڑک رہا تھا جانے کیسے من رفیع کو قبول کرے گا لیکن یہ مرحلہ بھی ان کے محبت بھرے سلوک سے طے ہوگیا اور ہم میاں بیوی کے بندھن میں بندھنے کے بعد ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے۔ میرے ذہن میں مرحومہ بہن کی جو شبیہہ چھپ گئی تھی اُسے میں نے حقیقت کی چادر سے ڈھانپ دیا اور اپنے شوہر کے ہمراہ خوش و خرم زندگی گزارنے لگی۔
ہماری یہ سرشاری اور والہانہ پیار ساس سسر کو پسند نہ آیا۔ وہ ہر وقت رفیع کو کہتے تھے۔ بیٹا عورت ذات بے اعتبار ہوتی ہے۔ اس پر بہت زیادہ خود کو وارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پائوں کی جوتی سر پر نہیں پائوں میں ہی صحیح رہتی ہے۔
انہی دنوں رفیع کا تبادلہ دوسرے شہر میں ہوگیا۔ وہ مجھے دلاسا دے کر گئے کہ رہائش کا بندوبست ہوتے ہی تم کو لے جائوں گا۔ یہاں میرا ان کے بغیر جی نہ لگا تو وہاں ان کا میرے بغیر دل نہ لگتا تھا۔ وہ کچھ دنوں بعد رہائش کا انتظام کر کے لوٹ آئے۔
ساس سسر کے منع کرنے کے باوجود وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر آگئے۔ یہاں آکر ہمارے دن رات گل و گلزار گزرنے لگے۔ خوشیوں کی ایسی برسات میری زندگی میں کبھی نہ آئی تھی۔ دو سال ہم نے گویا جنت میں گزارے۔
اس دوران ہم ساس سسر کے پاس بھی جاتے رہتے تھے۔ میں ہر بار ان کو کہتی تھی کہ آپ بھی ہمارے پاس آکر رہیئے مگر وہ نہیں آتے تھے۔ جب سسرال جاتی ساس کہتیں شادی کو اتنے برس ہوگئے اولاد نہیں ہورہی۔ خدا جانے کیوں؟ ہم نے اُسی گھر سے دوبارہ رشتہ لے لیا۔ ایک مر گئی اور دوسری بانجھ ملی ہے۔ خاندان کا نام لیوا جانے پیدا ہوگا بھی یا نہیں۔
وہ اب گاہے گاہے میرے شوہر کو بھڑکانے لگیں کہ سال دو سال اور دیکھیں گے۔ بچہ نہ ہوا تو تمہاری دوسری شادی کرادوں گی۔ میرے خاوند اپنی والدہ کی اس دھمکی کو سنجیدگی سے نہ لیتے، کہتے کہ اماں اولاد اللہ کی دین ہے آخر کبھی تو اللہ آپ کی ہماری سنے گا۔ مایوسی کفر ہے اور امید پر دنیا قائم ہے۔ میں ڈرتی تھی کہ کہیں رفیع اپنی والدہ کی باتوں میں آکر دوسری شادی نہ کرلیں اور مجھے چھوڑ دیں۔ اپنے میکے جب جاتی علاج بھی کراتی۔ لیکن یہ اللہ کی مرضی کہ میری گود ہری نہ ہوسکی۔ ایک دن رفیع نے کہا کہ اب میںا پنے والدین کے گھر ملنے بھی نہ جائوں گا کیونکہ وہ لوگ دوسری شادی پر مجبور کرتے ہیں۔ جب انکار کرتا ہوں ناراضی ہوجاتی ہے۔
یہ سن کر میں رونے لگی کہا کہیں والدین کے دبائو میں آکر مجھے نہ چھوڑ دینا۔ بولے… کیسی باتیں کرتی ہو۔ ایسا تو سوچنا بھی نہیں۔ کیا میں تم کو چھوڑ سکتا ہوں؟ اپنی زندگی کو بھی کوئی چھوڑتا ہے؟ دل کی دھڑکنیں کیا دل سے جدا ہوسکتی ہیں… تم آئندہ یہ بات کبھی ذہن میں نہ لانا۔ میں تمہارے سوا کسی کے ساتھ زندگی گزارنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ اگر اولاد کی خاطر دوسری شادی کرنی ہوتی تو تمہارے ساتھ چھ برس کیسے گزارتا۔ پہلے ہی شادی نہ کرلیتا۔
میں رفیع کی تسلی سے مطمئن ہوگئی، شکر کرتی تھی کہ میرا شوہر مجھ سے مخلص ہے اور اب مجھے فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
میری ماں تو میرے بچپن میں وفات پاگئی تھیں لہٰذا سمجھتی تھی کہ ساس بھی ماں ہوتی ہے۔ ان سے ماں کا پیار ملے گا اور ان کو بیٹی جیسا پیار دوں گی لیکن یہ خواب خواب ہی رہا اور میں اس کی تعبیر کے لیے ہاتھ ملتی رہ گئی۔
جب حمید تعلیم مکمل کر کے لوٹا، ابو نے خط لکھا کہ میں تمہارے بھائی کی شادی کی تاریخ رکھ رہا ہوں، تم آجائو، تو پھر شادی کی تیاریاں کریں گے۔ میں نے خط رفیع کو دیا انہوں نے کہا… ہاں تم کو ضرور جانا چاہیے جب کہو گی پہنچا دوں گا۔
انہی دنوں مدت بعد ساس سسر ہمارے گھر آئے۔ وہ پہلی دفعہ آئے تھے، خوش ہوگئی دل سے ان کی خاطر مدارات میں لگ گئی مگر ساس میرے بھائی کی شادی سے ناخوش تھیں، کہنے لگیں۔ ہم تو انتظار کررہے تھے کہ تمہارے بھائی کا رشتہ ہمارے گھر آئے گا۔ یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہوگیا ہے۔ میرے شوہر کو بھی سسرصاحب نے خوب سنائیں کہ کیا تم کو بہن کی فکر نہیں۔ اب تم بیوی کو لیے بیٹھے ہو۔ اُسے میکے پہنچا دو۔ جس گھر میں ہماری بیٹی نہیں جاسکتی اس گھر کی بیٹی بھی ہمارے گھر نہیں رہ سکتی۔
میں نے رفیع سے کہا کہ آپ کے اور میرے درمیان تو تکلف والی بات نہ تھی۔ آپ ہی بتادیتے ہیں تو میں ابو سے بات کرلیتی۔ مگر اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ وہ بولے… چھوڑو اب اس قصے کو۔ میں کیوں تم سے درخواست کرتا۔ تم کو بھی تو میری چھوٹی بہن نظر آرہی تھی۔ تم نے خود کیوں نہ اس کی فکر کی۔ ان لوگوں کی باتیں سن کر پریشان ہوگئی۔ بھائی کی شادی کی خوشی گویا خاک میں مل گئی۔
مجھے افسردہ دیکھ کر رفیع بولے تیاری کرو تاکہ تم کو تمہارے والد کے گھر چھوڑ آئوں۔ ان کا فون دفتر میں آیا تھا وہ شدت سے تمہارا انتظار کررہے ہیں۔ میں نے کہا… آپ کے امی ابو آئے ہوئے ہیں اور مدت بعد پہلی بار آئے ہیں ان کو چھوڑ کر نہ جائوں گی۔ ان کی خاطر تواضع کون کرے گا۔ جب سسر صاحب نے سنا بولے۔
نہیں تم جائو۔ کوئی بات نہیں یہ خوشی کا موقع ہے، ہم کوئی غیر نہیں، مہمان نہیں ہیں اپنے گھر آئے ہوئے ہیں۔ بیٹے سے کہا جاکر بہو کو اس کے والد کے گھر چھوڑ آئو۔
انہوں نے کچھ اس انداز سے یہ بات کہی کہ مجھے لگا وہ دل سے کہہ رہے ہیں اور محبت سے کہہ رہے ہیں۔ پھر بھی رفیع سے کہا کہ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ ان کو چھوڑ کر جائوں۔ بولے… ارے بھئی وہ دل سے اجازت دے رہے ہیں ان کو احساس ہے کہ تمہارا… یوں میں میکے آگئی۔ جب شادی کے کارڈز چھپ گئے اور ابو نے کہا کہ بیٹی اب تم خود جاکر ساس سسر کو دو… تاکہ ان کو عزت محسوس ہو۔
جب میں کارڈز دینے گئی تو عجب منظر تھا۔ وہاں ایک عمررسیدہ اور دو ادھیڑ عمر عورتیں آئی ہوئی تھیں۔ وہ آپس میں بات کررہی تھیں کہ لڑکی اَن پڑھ ہے تو کیا ہوا اچھا گھر ہے خوش رہے گی۔ میں سمجھی میری نند کے رشتے کی بات کررہی ہیں۔ میں نے کریدنا مناسب نہ سمجھا مگر رفیع کا انداز بدلا ہوا تھا۔ میری طرف دیکھتے ہوئے جیسے آنکھیں ان کا ساتھ نہ دے رہی ہوں۔
کہا کہ مجھے بازار لے چلیں۔ کچھ خریداری کرنی ہے۔ جواب دیا۔ دیور کو ساتھ لے جائو، مجھے کسی کام سے جانا ہے۔ خریداری جو کرنی ہے کرلینا پھر شفیع ہی تم کو تمہارے میکے بھی پہنچادے گا۔ میں بعد میں آجائوں گا۔
بھائی کی شادی سے چار روز قبل رفیع آئے، بولے، میرے دوست کی شادی ہے۔ اُسے سونے کے سیٹ کی ضرورت ہے۔ ہفتہ بعد واپس کردے گا۔ تمہارے پاس تو تین چار سیٹ ہیں۔ تم کوئی اور پہن لینا۔ میں نے سیٹ دے دیا کیونکہ کبھی رفیع پر شک نہیں کیا تھا۔
جب رفیع چلے گئے نجانے کیوں بار بار پریشان ہوجاتی تھی جیسے میری کوئی قیمتی چیز کھو گئی ہو۔ سوچا۔ وہ سیٹ لے گئے ہیں۔ شاید اس وجہ سے ذہن پراگندہ ہورہا ہے۔ حالانکہ میں تنگ دل کبھی بھی نہیں رہی تھی۔ رفیع پر اندھا اعتماد کرتی تھی اسی لیے میرے ذہن میں کوئی دوسری بات نہ آرہی تھی۔ بھائی کی شادی میں مصروف ہوگئی۔ اگلے روز والد صاحب کو کسی نے بتایا کہ تمہارے چھوٹے داماد نے دوسری شادی کرلی ہے۔ وہ بولے تم ہذیان بک رہے ہو، ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ لیکن جب اس شخص نے قسم کھائی، والد پریشان ہوگئے۔ تاہم انہوں نے سوچا کہ میرے گھر میں پہلی بار خوشیوں کی بارات آئی ہے اور اکلوتے بیٹے کی شادی ہے۔ رفیع کے گھر جاکر تصدیق کروں تو رنگ میں بھنگ پڑ جائے گا۔ بہتر ہے کہ شادی ہوجائے پھر اس خبر کی تصدیق کرلوں گا۔ مجھ سے بھی یہ بات چھپائی گئی۔ میں جو خوش خوش پھر رہی تھی کہیں مرجھا کر گر نہ پڑوں۔ اگلے روز رسم حنا تھی۔ انہوں نے میری خوشیوں کو غارت کرنا مناسب نہ سمجھا۔ رسم حنا میں جٹھانی اور میرے جیٹھ آگئے۔ بولے کہ رفیع کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ اس لیے وہ نہیں آیا ہے۔ ولیمے میں رفیع اور ان کے والدین آئے۔ مجھے کہا میں ہفتہ بعد آکر تم کو لے جائوں گا۔
ہفتہ بھر انتظار کیا وہ نہ آئے تو میں نے اپنے والد سے کہا کہ آپ مجھے میرے گھر پہنچا آیئے۔ ابو نے جواب دیا… صبر کرو، وہ گھر آکر تم کو لے جائے گا۔ جب بہت اصرار کیا تو بھائی نے کہا… نادان حوصلہ سے سنو۔ تمہارے شوہر نے دوسری شادی کرلی ہے۔ اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ میں نے گھر والوں سے چھپ کر اپنے شوہر کو فون کیا۔ ان کو بتایا کہ بھائی نے مجھے یہ بات کی ہے لیکن مجھے یقین نہیں آیا۔ آپ بتایئے کہ اس بات کا کوئی سر پیر ہے؟
ہاں یہ بات درست ہے۔ امی ابو نے زبردستی شادی کرائی ہے مگر میں اُسے تھوڑے دنوں بعد طلاق دے دوں گا۔ تم کسی بات کو دل پر نہ لو۔ جلدی آکر تم کو لے جائوں گا۔
والد صاحب نے پوچھا بیٹی تم کیا چاہتی ہو۔ سوتن قبول ہے یا کہ طلاق لینا چاہتی ہو۔ میں جواب دیا نہ تو سوتن قبول ہے اور نہ ہی طلاق لینا چاہتی ہوں۔ اس صورت میں گھر واپس جائوں گی، اگر رفیع دوسری بیوی کو ساس سسر کے پاس رکھیں اور مجھے اپنے پاس رکھیں۔
رفیع نے یہ شرط مان لی، نئی بیوی کو اپنے والدین کے پاس چھوڑ کر مجھے ساتھ لے گئے۔ چند دن ساتھ رہے پھر والدین کے گھر گئے تو چار دن بعد لوٹے۔ کچھ دنوں بعد دوبارہ اِسی شہر میں تبادلہ کرالیا، جہاں ان کے والدین تھے۔ اب وہ چار دن وہاں، تین دن میرے پاس ہوتے۔ جب دوسری بیوی کے پاس ہوتے میں ادھر گھر میں اکیلی دن رات گزارتی تھی۔ اب وہ اکیلے میرے نہ رہے تھے۔ یہ احساس نیندیں حرام کردیتا تھا۔
ابو بیمار تھے میکے جانا پڑا۔ رفیع بولے چند دن بعد آکر لے جائوں گا۔ وہ پھر لینے نہ آئے۔ میں انتظار ہی کرتی رہی۔ یہاں تک کہ سال بیت گیا۔ وہ ایک بیٹے کے باپ بن گئے۔ ان کی فیملی مکمل ہوگئی اور وہ اس خوشی میں مجھے بھول گئے۔
مجھ سے لاتعلق ہوگئے لیکن میں ان کو نہیں بھولی۔ والد کے گھر میں تنہا رہتی ہوں۔ بھابی اور بھائی بیرون ملک جاچکے ہیں۔ بڑی بہن اپنے گھر میں خوش اور آباد ہے اور میں… آج بھی اس فریب میں زندہ ہوں کہ وہ مجھے لینے آئیں گے۔ حالانکہ لوگ سمجھاتے ہیں کہ رفیع کی آس چھوڑ دو، ان کے چار بچے جوان ہیں۔ اس دل کا کیا کروں کہ تیس برس گزر گئے… آس اب بھی ٹوٹتی نہیں۔ (ر… بنوں)

Latest Posts

Related POSTS