Sunday, May 19, 2024

Ab Bhee Qadam Laraztey Hain | Teen Auratien Teen Kahaniyan

ہم گائوں میں رہتے تھے۔ یہ گائوں شہر سے کچھ میل دور تھا۔ ان دنوں گل خان بیروزگار تھے، سو تلاش معاش کی خاطر وہ شہر آگئے۔ جس محلے میں ہمیں گھر ملا، وہاں مدت سے ایک مکان خالی پڑا تھا۔ دیکھتے دیکھتے وہ بھی آباد ہوگیا۔ نئے لوگ آگئے۔ یہ کافی خوشحال لگتے تھے تاہم میں ان کے گھر نہ گئی۔ کچھ دنوں بعد راحت جان خود ہی اپنی ملازمہ زر جان کے ہمراہ ہمارے گھر آگئی۔ میں نے کبھی گھر سے قدم نہ نکالا تھا۔
راحت بہت اصرار کرتی کہ میرے گھر آیا کرو، تنہائی سے انسان کا دل گھبرا جاتا ہے لیکن میں نہ جاتی تو وہی کبھی کبھی میرے پاس آنے لگی۔ گل خان صبح سے شام ڈیوٹی کرتے، میں بچی کے ہمراہ گھر میں اکیلی ہوتی۔ انسان اپنے آبائی گھر سے دور ہو، رشتے دار بھی پاس نہ ہوں، تنہائی کا احساس تو ہوتا ہے۔
اب راحت کے آنے سے واقعی مجھے کچھ راحت محسوس ہوتی۔ وہ میری بچی سے پیار جتلاتی اور اکثر کھانے پینے کی چیزیں اس کو لا کر دیتی۔ بدلے میں، میں بھی اس کی خاطر مدارات کردیتی۔ وہ بہت خوش اخلاق اور ہمدرد عورت تھی۔ کبھی اپنی پریشانیاں نہ بتاتی لیکن میرے دکھڑے ضرور پوچھتی اور پھر میرے مسائل حل بھی کردیا کرتی۔ ایک بار میں بیمار ہوئی تو اس نے اپنی ملازمہ کو میرے پاس بھیج دیا۔ وہ کچھ دیر میرے گھر کام کرجاتی تھی اور مجھے آرام ملتا۔
ایک روز جب زر بی بی آئی تو اداس لگی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھرے تھے۔ میں نے کریدا تو بولی۔ میری دس برس کی بچی ہے جسے خون کی بیماری ہوگئی ہے۔ اس وجہ سے پریشان ہوں۔ کسی کام میں دل نہیں لگتا، اسے ہر ہفتہ خون کی بوتل لگنی ہوتی ہے۔ میرے شوہر کے ایک دوست اسپتال میں ڈاکٹر تھے۔ گل خان سے اس ڈاکٹر کا نمبر لے کر دیا کہ یہ شخص تمہاری بچی کے لیے بلڈ کا انتظام کردے گا کیونکہ وہ بلڈ بینک کا نگراں تھا۔ وہ بہت خوش ہوئی۔ اس کی مشکل حل ہوگئی تھی۔ میری بے حد مشکور تھی۔ کچھ دنوں بعد وہ اپنی بیٹی کے پاس چلی گئی پھر واپس نہ آئی۔
انہی دنوں گل خان نے بتایا کہ تمہاری ماں بہت بیمار ہے، اگر ملنا چاہو تو جاسکتی ہو۔ مجبوری ہے، میں نہیں جاسکتا۔ اگر تم لاری میں بیٹھ کر خود جائو تو چلی جائو۔ مجھے جونہی چھٹی ملے گی، میں خود آکر تمہیں لے آئوں گا۔ پہلے بھی ایک بار گائوں اکیلے جا چکی تھی۔ لاری اڈا گھر کے قریب تھا اور دو ہی گاڑیاں ہمارے گائوں مقررہ وقت پر جاتی تھیں۔ ان دونوں گاڑیوں کے ڈرائیور ہمارے رشتے دار تھے لہٰذا خطرے کی بات نہ تھی۔
میں اکیلی جانے پر راضی ہوگئی کیونکہ ماں کی بیماری کا سنا تو صبر نہ ہوسکا۔ گل خان ناشتہ کرکے ڈیوٹی پر روانہ ہوا تو میں بھی اپنی بچی کی انگلی پکڑ کر لاری اڈے کی طرف چل دی۔ چند قدم کا فاصلہ طے کیا تھا کہ راحت جان نے آواز دی۔ ’’شیریں بانو! رکو، کہاں جارہی ہو۔ وہ اپنی کار سے اتر کر آگئی۔ جہاں جانا ہے، بتائو میں اپنی گاڑی میں چھوڑ دیتی ہوں۔ اپنے گائوں جانا ہے، ماں سخت بیمار ہے۔ اکیلے کیسے جائو گی…؟
لاری ڈرائیور ہمارا رشتے دار ہے، ڈر کی کوئی بات نہیں، پھر گائوں کتنی دور ہے، تھوڑا سا تو فاصلہ ہے۔
جب گائوں کا نام لیا، اس نے کہا۔ ہم بھی ادھر ہی جارہے ہیں۔ بڑے خان کے بیٹے کی منگنی ہے نا! چلو ہمارے ساتھ گاڑی میں بیٹھ جائو۔ جب اپنی سواری موجود ہے تو ضرور لاری میں جانا ہے؟ میں نے لاکھ انکار کیا۔ وہ نہ مانی، مجھے ہار ماننی پڑی۔ کار جونہی شہر سے باہر نکلی، فراٹے بھرنے لگی۔ راحت نے مٹھائی کا ڈبہ کھولا اور میرے آگے کردیا۔
لو یہ مٹھائی چکھو۔ بڑے خان کے گھر سے آئی ہے، بہت عمدہ ہے۔
میری بیٹی خوش نصیب میری گود میں بیٹھی تھی۔ اس کا دل للچا گیا تو ہاتھ بڑھا کر لڈو اٹھا لیا اور کھانے لگی۔ لو تم بھی کھائو نا بہت لذیذہے۔ چکھو تو سہی۔ اس نے اصرار کرکے لڈو میرے منہ میں دے دیا۔ لحاظ کی وجہ سے میں نے کھا لیا۔ مٹھائی کھاتے ہوئے میرے چہرے پر پسینہ بہنے لگا۔
شاید تمہیں گرمی لگ رہی ہے۔ کھڑکیاں کھول دو۔ اس نے ڈرائیور سے کہا۔ تبھی اپنے رومال کو میرے مکھڑے پر پھیرنے لگی جیسے پسینہ پونچھ رہی ہو۔ لڈو کھاتے ہی خوش نصیب آناً فاناً میری گود میں سو گئی تھی۔ مجھ پر بھی غنودگی طاری ہونے لگی۔ اس کے بعد کیا ہوا، مجھے خبر نہ رہی۔
ہوش میں آئی تو خود کو ایک ایسے گھر میں پایا جو غار کے اندر بنا ہوا تھا۔ حدِ نظر اردگرد سرمئی کالے چٹیل پہاڑ تھے اور بڑے چھوٹے پتھر جگہ جگہ پڑے تھے کہ جیسے پتھروں کی بارش ہوئی ہو۔ اندازہ ہوگیا کہ میں اپنے گھر سے دور کسی پہاڑی علاقے میں آچکی ہوں۔
خدایا! یہ کیا ہوگیا۔ راحت دوست بن کر تم نے یہ کیا کیا۔ مجھے کس گناہ کی سزا دی۔ کمرے میں ایک کھڑکی تھی اور ایک روشن دان جس میں مجھے رکھا گیا تھا لیکن بچی میرے ساتھ نہ تھی۔ حیران تھی میری بچی کو یہ کہاں لے گئے، کیوں مجھ سے جدا کردیا۔ حیران نظروں سے روشندان کی طرف دیکھا جہاں سے روشنی برائے نام آرہی تھی جیسے دن غروب ہورہا ہو۔
یہاں دس بارہ لڑکیاں اور بھی تھیں۔ فرش پر سہمی بیٹھی تھیں۔ تبھی دو رائفل بردار تنومند شخص کمرے میں آئے اور لڑکیوں سے کہا۔ جہاں ہو، وہاں بیٹھی رہو۔ اس کے ساتھ کلام نہ کرنا۔ ان کے لہجے میں کرختگی تھی اور جو زبان وہ بول رہے تھے، میں سمجھ سکتی تھی۔ بیچاری لڑکیاں کٹھ پتلیوں کی مانند فرش پر ڈھے گئیں۔ میں سمجھ گئی کہ یہ ان کو بھی کہیں سے اٹھا کر لائے ہیں، میری طرح اور ان کا کام انسانوں کی تجارت ہے۔ تو کیا راحت جان بھی اس گروہ میں شامل تھی؟ میں اسے کیوں نہ پہچان سکی۔
جمعرات کو منڈی لگے گی اور ان کو لے جانا۔ ایک نے دوسرے سے کہا۔ اب انہیں کھانا بھجوا دو اور پھر کمرے کے دروازے پر تالا لگا دینا۔ یہ کہہ کر وہ چلے گئے۔ میں خوش نصیب کو یاد کرکے دل ہی دل میں بین کرنے لگی۔ کس سے پوچھتی کہ میری بچی کہاں ہے۔ اتنے میں ایک عورت ہاتھ میں بڑا سا طشت لئے کمرے میں آئی اور تھال کو فرش کے بیچوںبیچ رکھ دیا۔ لو سب مل کر کھا لو۔ اس نے کہا۔ ایک ہاتھ میں لالٹین پکڑ لی اور اس کی زرد روشنی میں میرا چہرہ دیکھنے لگی۔ تبھی میں نے پوچھا۔ میری بچی کہاں ہے؟ اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتی، زرد مدھم روشنی میں، میں نے اسے پہچان لیا۔ یہ زر بی بی تھی، راحت جان کی ملازمہ۔ وہ مجھے جانتی تھی مگر انگلی کے اشارے سے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
اب اس کے چہرے پر وہ سختی نہ تھی جو یہاں کے باقی مکینوں کے چہروں پر تھی۔ میں نے التجا کی۔ مہربانی کرو مجھے میری بچی لا دو۔ وہ بغیر جواب دیئے خاموشی سے نکل گئی۔ میں رونے لگی اور کسی نے میرے رونے کی پروا نہ کی۔ وہاں تھا ہی کون پروا کرنے والا… کچھ ہی دیر بعد زر بی بی دوبارہ آئی۔ بولی۔ رونا بند کردو، تمہاری آواز باہر نہیں جانی چاہئے اور صبر کرو۔
وہ مجھے صبر کی تلقین کرکے اور پانی کا کین رکھ کر چلی گئی۔ بھلا صبر کہاں تھا۔ میں دل کے اندر ہی اندر بین کرنے لگی۔ لڑکیوں نے تھوڑے تھوڑے چاول زہر مار کئے مگر مجھ سے ایک لقمہ بھی نہ کھایا گیا۔ ایک گھنٹے بعد زر بی بی برتن اٹھانے آئی تو میں نے کہا۔ خدا کے لیے مجھے بتائو میری بچی کہاں ہے؟ اسے میرے پاس لائو۔
تھوڑا صبر کرلو۔ اس نے جواب دیا۔ بے قرار ممتا کو صبر کیسے آتا۔ ظلم کی یہ شام کاٹے نہ کٹتی تھی۔ خوش نصیب کی جدائی سے آنسو تھمنے کا نام نہ لیتے تھے۔ رات سسکتے ہوئے گزر گئی۔ صبح کیسے ہوئی، کب ہوئی، کچھ احساس نہ تھا۔ پرندوں کی چہچہاہٹ سنائی دی اور نہ اذان کی آواز آئی۔ نہ جانے یہ کونسا علاقہ تھا۔ ہر طرف ہُو کا عالم تھا اور ہر طرف
سناٹا طاری تھا۔ ایک نان اور مٹی کے پیالے میں گڑ کی چائے…! بس یہی ناشتہ تھا۔
میں نے ناشتے کو ہاتھ نہ لگایا۔ زر بی بی میری حالت بغور دیکھ رہی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ میری بیٹی لے کر آئی اور گود میں دے کر کہا۔ اس کو ناشتہ کرا دو، یہ ہم سے نہیں کھاتی۔ میری لختِ جگر کا پھول سا چہرہ سرخ تھا اور منہ سوجا ہوا تھا جیسے رات بھر روتی رہی ہو، شاید کسی نے اس کے منہ پر طمانچے مارے تھے۔ وہ ابھی تک سسک رہی تھی۔ آتے ہی میرے سینے سے لگ گئی۔ مجھے راحت ملی، اسے بھی راحت مل گئی۔ بیٹی کے ملنے کی وجہ سے میں ہر مصیبت کو بھول گئی تھی۔
کچھ دیر بعد زر بی بی آئی تو میں نے کہا۔ مجھے ٹوائلٹ جانا ہے۔ اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ میرے ساتھ آئو۔ کمرے سے باہر ایک طرف ٹوائلٹ تھا۔ جب میں اس میں جانے لگی تو وہ سرگوشی میں بولی۔ آج رات کھڑکی کی کنڈی ڈھیلی رکھوں گی مگر احتیاط سے نکلنا ورنہ یہ گولی مار دیں گے۔ یہ کہہ کر وہ صحن میں ایک طرف جاکر بیٹھ گئی اور میرے باہر آنے کا انتظار کرنے لگی۔ صحن کے دروازے پر دو پہریدار رائفل لئے مستعد موجود تھے۔ ہم زیادہ بات نہیں کرسکتے تھے۔ لڑکیاں جانے کون سے پہر سو گئیں کہ نیند تو انسان کو سولی پر بھی آجاتی ہے مگر مجھے نہیں آئی اور میں اس انتظار میں رہی کہ یہ پکی نیند سو جائیں تو کھڑکی کے پاس جائوں۔
رات کے تیسرے پہر ہمت کرکے کھڑکی کے پٹ کو آہستگی سے دھکیلا۔ وہ کھل گیا اور میں خوش نصیب کو بازوئوں میں بھر کر باہر اتر گئی۔ اُف! کیسا خوفناک سماں تھا۔ ڈر لگا اگر بچی جاگ گئی اور رونے لگی تب موت یقینی تھی کہ پہریدار بھی جاگ اٹھتے جو چبوترے پر لیٹے لیٹے سو گئے تھے۔ یہ اللہ کی مدد تھی کہ ٹھنڈی ہوا نے ان چوکیداروں کو نیند کی وادی میں پہنچا دیا تھا۔ میں رات کے اندھیرے میں بھاگتی چلی گئی۔ اُف! کیسی خوف ناک رات تھی۔ مجھے کچھ علم نہ تھا کہ کدھر جارہی ہوں۔ راستے کا پتا تھا اور نہ منزل کا۔ راستہ بھی ایسا جو پتھروں سے اٹا تھا۔ انسان ان پر قدم جما کر نہیں چل سکتا تھا۔ میری بیٹی دبلی پتلی پھول جیسی تھی ورنہ شاید میں اس کو اٹھا کر اس طرح کبھی پتھروں پر نہ چل پاتی۔
نہیں معلوم کتنا چلی، یہاں تک کہ صبح کاذب کے آثار نمودار ہوگئے۔ سامنے سڑک تھی۔ سڑک کنارے پہنچ کر دم لینے کے لیے ٹھہر گئی۔ تبھی کسی سواری کے ادھر آنے کی آواز سنی۔ یہ ایک بس تھی اور مسافروں سے بھری ہوئی تھی۔ یہ لوگ کابل سے پشاور جارہے تھے۔ بس ایک پشاوری ڈرائیور چلا رہا تھا۔ بس کی لائٹ جب مجھ پر پڑی تو اس نے بس کو میرے پاس روک دیا۔ بغیر سوچے ہی میں بس کی طرف یوں لپکی جیسے ڈوبتے ہوئے کو کشتی نظر آجائے۔ کنڈیکٹر نیچے اتر آیا اور پوچھا۔ کون ہو، کہاں جانا ہے؟ ایک مصیبت زدہ ہوں۔ مجھے اغوا کرکے یہاں لے آئے تھے۔ قید سے نکل کر بھاگی ہوں، میری بچی پر ترس کھائو برادر… اس مہربان شخص نے مجھے بس میں سوار کرایا اور ایک مسافر سے کہا۔ تم کھڑے ہوجائو اور اس عورت کو اپنی سیٹ دے دو، یہ مصیبت زدہ ہے۔
اللہ نے کرم کیا۔ میں صحیح لوگوں کے درمیان آئی اور صحیح بس پر چڑھی ورنہ کبھی واپس گھر نہ پہنچ پاتی۔
معلوم نہیں کتنے گھنٹے کا سفر تھا۔ ہم دن چڑھے پشاور پہنچ گئے۔ ڈرائیور اور کنڈیکٹر کو میں نے گل خان کا نام بتایا۔ وہ ان کو جانتے تھے۔ مجھے اور بچی کو ناشتہ کرایا اور پھر گاڑی کا انتظام کیا اور مجھے گھر تک پہنچانے آئے۔
گل خان سمجھ رہا تھا کہ میں گائوں چلی گئی ہوں۔ اسے چھٹی مل گئی تھی۔ اب وہ گائوں آنے کی تیاری کررہا تھا۔ جب اسے حال سنایا تو اس نے ان دونوں فرشتہ صفت لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور اللہ کا شکر کیا کہ میں اور بچی زندہ سلامت بچ کر آگئے۔
وہ دن اور آج کا دن… گل خان نے پھر کبھی مجھے اکیلے گائوں جانے کی اجازت نہیں دی۔ اس واقعےکو چالیس برس بیت گئے ہیں۔ آج تک اس واقعے کی دہشت دل پر چھائی ہوئی ہے۔ اللہ سمجھے راحت جان جیسی عورتوں کو جو دوست بن کر دھوکا دیتی ہیں اور پیسوں کی خاطر انسانوں کو بیچ دیتی ہیں۔ یہ ماضی کا قصہ ہے مگر اب بھی گھر سے قدم باہر رکھتے ہوئے قدم لرزتے ہیں۔ (ش۔ب … پشاور)

Latest Posts

Related POSTS