Ache Bahoo Mile | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2667
اپنی شادی کے ایک ہفتے بعد ساجد بھائی واپس راولپنڈی چلے گئے۔ ان کی ملازمت ہی ایسی تھی کہ زیادہ چھٹی نہ مل سکتی تھی۔ جاتے ہوئے آزردہ تھے کہ اپنی دلہن کو ہمراہ نہ لے جاسکے۔ چچی نے بہو کو بیٹے کے ہمراہ جانے نہ دیا۔ کہا کہ پہلے وہاں رہائش کا بندوبست کرلو پھر آکے لے جانا۔ بھائی کا ارادہ تھا کہ دلہن کو گیسٹ ہائوس میں ٹھہرا لیں گے۔ مری گھوم آئیں گے، تب تک سرکاری گھر بھی منظور ہوجائے گا۔ یہ خواب پورا نہ ہوسکا۔
ایک ماہ بعد بڑی مشکل سے دو دن کی چھٹی پر وہ دوبارہ آئے اور بیوی سے کہا کہ تیاری کرو، میں تمہیں لینے آیا ہوں، رہائش کا انتظام ہوگیا ہے۔ وہ یہ بات کررہے تھے کہ نبیلہ باجی آگئیں۔ بتایا کہ ایک ہفتے کے بعد ان کا پتے کا آپریشن ہے۔ امی جان! آپ کو اسپتال میں میرے ساتھ رہنا ہوگا۔ یہ سن کر انہوں نے بیٹے سے کہا۔ ساجد! اس بار بھی دلہن تمہارے ساتھ نہ جاسکے گی، نبیلہ کا آپریشن ہو لینے دو، میں خود رمشا کو تمہارے پاس چھوڑ آئوں گی۔ ابھی بہو کا یہاں موجود رہنا ضروری ہے۔ میری غیر موجودگی میں کوئی تو گھر دیکھنے والا ہو۔
ماں کی بات سن کر بیٹے کا چہرہ بجھ گیا۔ وہ خوشی خوشی دلہن کو لینے آئے تھے لیکن بہن نے آپریشن کا بتا کر اڑچن ڈال دی۔ رمشا کے بغیر ساجد کا پنڈی میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ باہر کا کھانا کھا کر جی اوب چکا تھا، گھر کا سکون و آرام درکار تھا۔ یہ دو ماہ کی جدائی بہت شاق گزری تھی، مگر وہ چچی جان کے فرمانبردار بیٹے تھے، ان کے ہر حکم پر سر جھکا لیتے تھے۔ وہ رمشا کو ہمراہ لئے بغیر لوٹ گئے۔ رمشا افسردہ تھی مگر ساس کی حکم عدولی کی جرأت نہ تھی۔ پل پل گنتے جدائی کے یہ دن گزار لئے۔ دو ماہ مزید انتظار کرنا پڑا۔ اس بار ساجد آئے تو چچی بیمار پڑی تھیں۔ بھابی، ساس کی خاطر شوہر کے ہمراہ نہ جاسکیں۔
صاف کیوں نہ کہوں کہ ہماری چچی وہمی عورت تھیں۔ انہوں نے تیسری بار بھی رمشا کو پنڈی جانے نہ دیا۔ انہیں لگا کہ کراچی سے راولپنڈی بہت دور ہے۔ بہو وہاں اکیلے گھر میں کیسے رہے گی، جبکہ بیٹا روز صبح ڈیوٹی پر چلا جائے گا۔ وہ امی سے اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتی تھیں۔ چچا کا گھر پڑوس میں تھا۔ تقریباً روز ان کے ہاں جانا ہوتا تھا۔ مجھے رمشا بھابی سے باتیں کرکے اچھا لگتا۔ انہی دنوں باجی شدید بیمار پڑیں تو امی نے مجھے ان کے پاس بھجوا دیا۔ دو ماہ تک بھابی کے پاس نہ جاسکی۔ اس بار جب ملی تو رمشا دلگرفتہ نہ تھی۔ اس نے ایک بار بھی ساجد بھائی کا ذکر نہ کیا، جیسے انہیں صبر آگیا ہو۔
بھابی نے بتایا وہ اب پنڈی میں نہیں ہیں۔ ٹریننگ پر ایک سال کے لئے بیرون ملک چلے گئے ہیں۔ میں نے کہا۔ تب تو اور یاد آتی ہوگی؟ وہ بولیں۔ جب ہم ساتھ نہیں رہ سکتے تو یاد کرکے دکھی ہونے کا کیا فائدہ…! سوچ لیا ہے کہ قسمت میں ہمارا ساتھ بس اتنا ہی ہے دوچار دن کے لئے ملنا اور بچھڑ جانا۔ ان کی آنکھوں میں مایوسی کے بجھے ہوئے رنگ دیکھ کر دکھ ہوا۔ گھر آکر امی کو بتایا۔ وہ بولیں۔ تمہاری چچی ہے ہی ظالم عورت…! اس نے بہو کی شادی بیٹے سے نہیں بلکہ اپنے گھر کی چار دیواری سے کی ہے۔ اسے شوہر کے ہمراہ اس وجہ سے جانے نہیں دیتی کہ وہ یہاں رہ کر ساس، سسر اور دیور کی خدمت کرے۔ ہاں امی…! غریب گھر کی لڑکی ہے بچاری شاید اس وجہ سے یہ سب سہنے پر مجبور ہے اور بیٹا بھی تابعدار ہے، ورنہ آج کون بہو، ساس کا اتنا مان رکھتی ہے۔
کچھ عرصے بعد رمشا کے یہاں بچی پیدا ہوئی۔ ہم مبارکباد دینے گئے۔ رمشا سے زیادہ ہماری چچی خوش نظر آتی تھیں۔ بہو کی تعریفیں کرتے نہ تھکتیں کہ بڑی اچھی اور بھلی مانس ہے۔ شادی کے بعد ایک بار بھی میکے جانے کی ضد نہیں کی۔ اس کے ماں، باپ خود ہی آکر مل جاتے ہیں۔ وہ لوگ بھی بہت شریف ہیں، بیٹی کا گھر بسائے رکھنا چاہتے ہیں، تبھی میکے نہیں بلاتے۔
سچ ہے بیٹیاں اپنے گھر بھلی لگتی ہیں۔ امی نے ٹھنڈی آہ بھر کر چچی سے کہا تھا۔ ساجد بھائی کی ٹریننگ ختم ہوگئی، وہ لوٹ آئے۔ بچی کو دیکھا، بہت خوش تھے۔ کراچی سے ایک قریبی شہر تبادلہ کردیا گیا، رہائش بھی مل گئی، نوکرچاکر بھی تھے۔ اس بار جب ڈیوٹی پر جانے لگے تو اصرار کیا کہ بیوی اور بچی کو ساتھ لے جائیں گے۔ رمشا وہاں اکیلی ننھی منی
بچی کو کیونکر سنبھال پائے گی؟ شہر کون سا دور ہے۔ ساس کی بات سن کر رمشا نے ساجد سے کہا کہ آپ چلے جائیں۔ آپ ویک اینڈ پر تو آہی جائیں گے۔ امی ٹھیک کہتی ہیں۔ واقعی میں تنہا بچی کو سنبھال نہ پائوں گی۔ نینا ابھی بہت چھوٹی ہے اس بار خود رمشا نے ساجد بھائی کے ہمراہ جانے سے انکار کردیا تھا۔
ساجد بھائی اپنا سا منہ لے کر چلے گئے اور ننھی پوتی دادا، دادی اور چچا کی آنکھوں کا تارا بن گئی۔ یہ اب اس کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ نینا سے جدائی کا تصور ہی ان کو اداس کردیتا تھا۔ رمشا نے کلی طور پر بیٹی سے دل لگا لیا۔ اب وہ اس میں مگن رہنے لگی۔ کبھی بھولے سے بھی شوہر کے ہمراہ جانے کی بات نہ کرتی۔ کوئی پوچھتا تو کہتی۔ مجھے یہیں رہنا ہے، اب یہی میرا گھر ہے۔ ایک بار میں نے پوچھا بھی۔ رمشا بھابی! کیا ماں، باپ آپ کو یاد نہیں آتے؟ جواب دیا کہ آپ کے چچا اور چچی اب میرے ماں، باپ ہیں۔ میں اداس ہوتی ہوں تو مل جاتی ہیں۔
نینا سال بھر کی ہوگئی۔ اس خوبصورت گڑیا کی وجہ سے ان کے گھر میں بڑی رونق تھی۔ ساجد بھائی کو جب چھٹی ملتی، آجاتے۔ انہوں نے بیوی اور بیٹی کو ساتھ لے جانے کا مطالبہ چھوڑ دیا تھا۔ وہ کہتے۔ جیسے میرے والدین خوش میں ان کی خوشی میں خوش ہوں، آکر مل جاتا ہوں۔ واقعی میرے بیوی، بچے پردیس میں اکیلے نہیں رہ سکتے۔ اماں صحیح کہتی ہیں۔
نینا بہت پیاری بچی تھی۔ سارے گھر والے اس پر فدا تھے۔ وہ بھی دادا، دادی اور چچا کے بغیر نہ رہتی تھی۔ اپنے والد کے پاس جانے پر گھبرا جاتی جیسے کوئی اجنبی ہو۔ نینا اب ڈیڑھ سال کی ہوچکی تھی۔ پائوں پائوں چلتی تھی۔ ساجد بھائی کا تبادلہ لاہور ہوگیا۔ اس بار چھٹی پر آئے تو اصرار کیا کہ بیوی اور بچی کو ساتھ لے کر جائیں گے۔ سسر بیمار پڑے تھے، رمشا نے منع کردیا کہ ساتھ نہ جائوں گی۔ دادا کے لئے بچی اداس ہوجائے گی۔ اس کے دادا بیمار ہیں، مزید بیمار نہ پڑ جائیں۔ ساجد بھائی کو بہت دکھ ہوا۔ انہوں نے ایک ماہ کی چھٹی لے لی اور کہا کہ وہ جب تک بیوی اور بچی کو ساتھ نہ لے جائیں گے، ڈیوٹی پر نہیں جائیں گے۔ عہدے کے لحاظ سے چھٹی لینا دشوار امر تھا، تاہم وہ اب ازدواجی زندگی کی کشمکش سے تنگ آچکے تھے۔ چاہتے تھے کہ بیوی اور بیٹی آنکھوں کے سامنے رہیں اور زندگی کی ناآسودگی سے نجات پا لیں۔ شادی کے بعد سے وہ بہت ڈسٹرب رہے تھے۔
ایک ماہ رہ کر وہ لوٹ گئے لیکن رمشا بھابی نہ گئیں۔ سنا کہ رمشا کی ضد کی وجہ سے وہ ان کو طلاق دے کر چلے گئے ہیں۔ ہمیں اپنے کانوں پر یقین نہ آتا تھا۔ میں اور امی ان کے گھر گئے۔ خیال تھا کہ طلاق کے بعد رمشا کو میکے بھجوا دیا گیا ہوگا لیکن وہاں عجیب معاملہ دیکھا۔ رمشا عدت کی مدت یہیں پوری کرے گی۔ چچی نے بتایا مگر طلاق کی وجہ نہ بتائی۔ عدت کی مدت تک ساجد بھائی گھر نہ آئے۔ چچی نے عذر پیش کیا کہ ہم نینا کے بغیر نہیں رہ سکتے لہٰذا رمشا میکے نہیں جائے گی۔ وہ اب ہماری پوتی کی خاطر یہیں رہے گی۔
رمشا عجیب لڑکی تھی کہ وہ شوہر سے زیادہ اس کے گھر والوں سے محبت کرتی تھی۔ ساس، سسر کو اپنے والدین کی طرح چاہتی تھی اور ان کا ادب کرتی تھی۔ اس کو شوہر کا گھر نہیں بلکہ ساس، سسر کا گھر زیادہ پیارا تھا۔ ایسی عورت ہم نے کبھی دیکھی نہ سنی۔ رمشا کے بارے میں میری ماں کے لبوں سے اکثر یہ الفاظ نکل جاتے۔ جو ساس، سسر کی چہیتی ہو، ضروری نہیں شوہر کی بھی ہو۔ رمشا بلاشبہ ساس، سسر کی چہیتی تھی۔ انہوں نے اسے بے گھری کا صدمہ نہ پہنچایا۔ اس کے میکے والے بے حد غریب تھے۔ وہ ان کی پوتی کی پرورش ناز و نعم سے اس طرح نہ کرسکتے تھے، جیسے وہ دادا، دادی کے زیرسایہ پرورش پا رہی تھی۔
ان سب معاملات پر غور کرتے ہوئے محلے والے خاموش ہورہے۔ اگر ساجد بھی یہاں رہتا تو شاید کوئی اعتراض کرتا۔ چچی ہر ایک سے یہ کہتی تھیں کہ ہم رمشا کو بہو نہیں بیٹی سمجھتے ہیں۔ ان کی اپنی کوئی بیٹی نہ تھی، نبیلہ ان کی بہن کی بیٹی تھی جسے انہوں نے بیٹی بنایا تھا اور یہ حقیقت سارے خاندان کو پتا تھی۔
ساجد بھائی نے بھی شاید یہی سوچا کہ بجائے بچی اور اس کی ماں کو دربدر کرنے کے کیوں نہ وہ خود گھر اور گھر والوں سے ناتا توڑ لیں۔ کم ازکم اس کی بیٹی تو باپ، دادا کے گھر کی چھت تلے رہے گی۔ ہمارے پڑوس میں ہر طرح سے امن رہا۔ رمشا کو طلاق ہوئی بھی تو طلاق جیسا ہنگامہ نہ ہوا۔


سابقہ بہو کو گھر سے نکالا گیا اور نہ اس کو ایسے صدمات سے دوچار ہونا پڑا کہ جن سے عام عورتیں مطلقہ کا داغ لگ جانے کے بعد دوچار ہوتی ہیں۔
ایک سال اور گزر گیا۔ ایک روز چچی کے گھر سے رونے کی آواز سنائی دی۔ پتا چلا کہ ساجد بھائی اس دنیا میں نہیں رہے۔ امی نے کہا۔ کتنا بدنصیب تھا ساجد کہ گھر کی خوشی نصیب ہوئی اور وہ بھری جوانی میں اس دنیا سے چلا گیا۔ یہ ہمارے چچا اور چچی کے لئے ایک بڑا سانحہ تھا۔ صبر دینے والا بھی اللہ تعالیٰ ہے کہ جو موت کے دکھ سے دوچار کرتا ہے کہ موت اٹل حقیقت ہے، کسی کو اس سے مفر نہیں۔ رفتہ رفتہ چچا اور ان کے گھر والوں کو اللہ نے صبر دے دیا۔ اور اب وہ زین کے بیاہ کی باتیں کرنے لگے، کیونکہ اسے اچھی ملازمت مل گئی تھی۔ ان دنوں رمشا کی بچی سات برس کی ہوچکی تھی کہ ایک روز اس کے والدین اور بھائی آئے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم اپنی بیٹی کو لینے آئے ہیں۔ آپ کی پوتی بڑی ہوگئی ہے، ماں سے زیادہ آپ لوگوں سے ہلی ہوئی ہے۔ آپ بھی اس کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ بے شک نینا کو رکھ لیں لیکن ہم رمشا کو لے جائیں گے۔ یہ طلاق یافتہ ہے، اب ہم مزید اس کو آپ کے گھر نہیں چھوڑ سکتے۔
یہ سن کر ساس نے دل تھام لیا۔ وہ پوتی کو خود سے جدا کرنا چاہتی تھیں اور نہ نینا کو اس کی ماں سے دور کرنا چاہتی تھیں۔ ماں، باپ نے بہت اصرار کیا تو رمشا بھی مجبور ہوگئی اور والدین کے ہمراہ جانے کے لئے تیار ہوگئی۔ ساس نے بادل نخواستہ اسے جانے دیا لیکن اس کے جانے کے بعد گھر میں اداسی چھا گئی۔
کچھ دن گزرے کہ ہماری چچی سابقہ بہو کے میکے گئیں۔ سب کو یہی بتایا پوتی سے ملنے جارہی ہوں، اس سے دوری برداشت نہیں کرسکتی۔ زین بھی ہمراہ گیا تھا۔ اللہ جانے وہاں کیا باتیں ہوئیں، نہیں معلوم! سنا کہ زین اسلام آباد چلا گیا ہے۔ ہماری چچی بھی شوہر کے ہمراہ وقتاً فوقتاً اسلام آباد چلی جاتی تھیں اور بیٹے کے پاس کچھ دن رہ کر آجاتی تھیں۔ خاندان والے کہتے کہ چھوٹے بیٹے کے لئے لڑکی دیکھو، اس کا گھر آباد کرو مگر وہ اس کے لئے لڑکی دیکھنے کہیں نہ جاتی تھیں۔ انہی دنوں چچا نے اپنا گھر بیچنے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ گھر انہوں نے بہت محنت سے بنوایا تھا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ یوں اونے پونے بیچ کر اسلام آباد شفٹ ہوجائیں گے۔ بہرحال وہ ہمارا پڑوس چھوڑ کر ہم سے دور جابسے۔ والد صاحب اور بھائی کو کاروبار سے فرصت نہ ملتی تھی کہ ان سے ملنے جاتے۔ شروع میں فون پر رابطہ رہا پھر وہ بھی نہ رہا۔
دو سال بعد ابا جی کو کسی کام سے اسلام آباد جانا پڑا۔ انہوں نے چچا کو فون کیا اور گھر کا پتا پوچھا۔ انہوں نے بادل نخواستہ بتایا۔ کام سے نمٹ کر ابا جی ان کے گھر گئے۔ کال بیل دی تو دروازہ رمشا نے کھولا۔ وہ گود میں ایک سال کے بچے کو لئے تھی جو ہوبہو زین کی صورت تھا۔ والد صاحب اسے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ پتا چلا کہ نینا کی خاطر ہماری چچی نے رمشا سے زین کا نکاح کردیا ہے۔ اسلام آباد بھی اسی سبب شفٹ ہوئے کہ محلے والے اور خاندان والے باتیں نہ بنائیں۔ سب سے زیادہ ان کو ڈر اپنی بیٹی سے تھا۔ ابا جی نے پوچھا۔ زین کیونکر اس نکاح پر راضی ہوگیا، جبکہ نبیلہ کی بیٹی امامہ سے شادی کا آرزو مند تھا؟
میں نے اسے سمجھایا کہ بیٹا…! امامہ بدسلیقہ ہے اور بدتمیز لڑکی ہے۔ میری اس کے ساتھ نہ بنے گی۔ وہ مجھے پریشان کرکے رکھ دے گی۔ بہتر ہوگا نینا کی خاطر رمشا سے نکاح کرلو کیونکہ رمشا کے ماں، باپ کسی صورت اپنی بیٹی سابقہ سسرال میں چھوڑنے کو تیار نہ تھے اور ہم سبھی نینا کو اس مفلس خاندان کے سپرد کرکے ان کی مفلسی کی بھینٹ چڑھانا نہ چاہتے تھے۔ وہ لوگ تو نینا کو ہمیں دینا چاہتے تھے لیکن رمشا روتی تھی۔ جب ہم نینا کو لے آئے، وہ دن اس کے لئے قیامت جیسا تھا، تبھی میں نے سوچا کہ بیٹا تو گنوا دیا ہے، اب اس کی نشانی کو نہ گنوائوں۔ رمشا سے زین کا نکاح کروا دیا کہ اس سے اچھی بہو دوبارہ مجھے کہاں ملے گی۔ کہتی ہوں اٹھ جائو تو اٹھ جاتی ہے۔ کہتی ہوں بیٹھ جائو تو بیٹھ جاتی ہے۔ ہم نے اس کی فرمانبرداری کی وجہ سے اسے بیٹی جیسا پیار دیا ہے۔ وہ ہم سے محبت کرتی ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ نینا ماں کے بغیر نہیں رہ سکتی اور چچی، ماں کی جگہ نہیں لے سکتی۔
چچی کی باتیں سن کر والد صاحب سوائے اس کے اور کچھ نہ کہہ سکے کہ بھابی…! آپ نے جو
اچھا کیا، شاید اللہ کو یہی منظور تھا۔ ہم نے جب یہ احوال سنا تو دم بخود رہ گئے۔ میں سوچتی تھی کہ اگر چچی نے اپنی مطلقہ بہو کا نکاح چھوٹے بیٹے سے پڑھوا ہی دیا تھا تو ہم سے اس امر کو خفیہ کیوں رکھا؟ اب تو پوتا بھی ہوچکا تھا۔ نکاح اور اولاد چھپائے جانے والی باتیں نہیں ہیں۔ ان باتوں کا خاندان میں باقاعدہ اعلان کیا جاتا ہے۔ چچی اور چچا نے جانے کیا مصلحت جانی کہ جس حقیقت کو ظاہر کرنا لازم ہے، اس کو چھپا لیا۔
آخر یہ راز یوں کھلا کہ ایک دن نبیلہ باجی سے ملاقات ہوگئی۔ وہ ہمارے گھر آئی تھیں اور بہت آزردہ تھیں، بولیں۔ وہ لوگ جن کو اپنا جانا، کتنے دھوکے باز نکلے، سوچتی ہوں تو کلیجہ شق ہونے لگتا ہے۔ بے اولاد تھے تو مجھے گود لیا، بیٹی بنا لیا۔ اپنی اولاد ہوگئی مجھے جھاڑ کا کانٹا جان کر نکال دیا۔ رمشا کو دوسری بار بہو بنا لیا اور میری بیٹی سے بچپن کی منگنی توڑ دی۔ جانتی ہو کہ میری بیٹی کو اس بات کا کتنا صدمہ پہنچا ہے؟ اس نے خواب آور گولیاں پھانک لی تھیں۔ یہ تو شکر ہے میرے رب کا کہ وقت پر ہم اسے اسپتال لے گئے اور فوراً طبی امداد میسر آگئی، ورنہ میری بچی تو جان سے گئی تھی۔ وہ رو رہی تھیں۔ امی نے سوال کیا۔ تم کو کس نے یہ سب بتایا؟ مجھے کسی نے نہیں بتایا تائی جان…! ہم مری سیر کو گئے تھے، وہاں زین اور رمشا بچوں کے ساتھ گھومنے آئے ہوئے تھے، اماں بھی ہمراہ تھیں۔ تبھی پتا چلا۔ مجھ پر تو جیسے سکتہ طاری ہوگیا۔ وہ تو میرے میاں نے تھاما ورنہ کھائی میں گر جاتی۔ وہ رودھو کر چلی گئیں اور میری اماں دانتوں میں انگلیاں دبا کر رہ گئیں۔ تبھی میں نے کہا۔ ہر ایک کے اپنے مسائل اور معاملات ہوتے ہیں۔ ہمارا کسی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے امی جان… ان کی وہ جانیں، آپ کیوں پریشان ہورہی ہیں؟ (ر۔ص… کراچی)