Monday, May 20, 2024

Kahan Say Kahan Pounche | Teen Auratien Teen Kahaniyan

میری عمر ان دنوں چھ سات برس تھی۔ والد سرکاری ملازم تھے اور سرکاری کالونی میں انہیں گھر ملا ہوا تھا۔ لڑکیوں کا اسکول ذرا دور تھا، تبھی مجھے مالی بابا اسکول چھوڑنے جایا کرتے تھے۔ مالی بابا کافی عمر رسیدہ تھے اور محکمے کی طرف سے کالونی میں مالی لگے ہوئے تھے۔ والد صاحب، بابا کی عزت کرتے تھے، یہ بھی کالونی میں ہی ایک کوارٹر میں رہتے تھے۔ بیوی، بچے نہیں تھے، اکیلے رہتے تھے۔ امی انہیں روز کھانا دیا کرتی تھیں۔ مالی بابا، امی جان کو سودا سلف لا کر دیتے، مجھے اسکول چھوڑنے اور لانے کا بھی انہی کا ذمہ تھا۔
ایک دن جب اسکول کی چھٹی ہوگئی اور میں گیٹ کے پاس آئی تو مجھے بابا نظر نہیں آئے حالانکہ وہ روزانہ چھٹی سے پہلے ہی آجاتے اور جونہی میں گیٹ سے جھانکتی، وہ سامنے کھڑے نظر آجاتے۔ بابا کو نہ پا کر پریشان ہوگئی۔ گیٹ سے دو قدم باہر نکلی۔ ان دنوں اسکولوں کے گیٹ پر اتنے پہرے نہیں ہوتے تھے۔ پرامن دور تھا لہٰذا گارڈ بھی نہ رکھے جاتے تھے۔ ہمارا اسکول سرکاری تھا جہاں عام لوگوں کے بچے تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔
میں نے ادھر ادھر دیکھا، بابا کو نہ پا کر چاہئے تھا کہ وہاں رک کر انتظار کرتی لیکن بچی تھی اور انتظار کی زحمت برداشت نہ کرسکتی تھی، تبھی ایک جگہ کھڑی نہ رہ سکی۔ آہستہ آہستہ آگے چلنے لگی۔ میں نے بستہ گلے میں ڈال رکھا تھا اور اسکول یونیفارم میں تھی، تبھی ایک شخص میرے پاس آیا اور بولا۔ بچی! تمہیں کوئی لینے نہیں آیا؟ روزانہ ہمارا مالی بابا آتا ہے، آج نہیں آیا۔ میں نے جواب دیا۔
کیا گھر کا راستہ معلوم ہے؟ ہاں! میں نے ویسے ہی کہہ دیا حالانکہ اکیلی کبھی اسکول نہیں آئی تھی ،تاہم ایسا لگا جیسے پیدل چلتی گئی تو گھر پہنچ جائوں گی۔ دھوپ تیز تھی اور میں پسینے میں شرابور تھی، پیاس بھی لگ رہی تھی۔ موسم گرم تھا، ہوا میں تپش تھی، لو چل رہی تھی۔ اس آدمی نے میری کیفیت کو بھانپ لیا اور کہا۔ آج تمہارا مالی بابا نہیں آئے گا۔ اس کو لو لگ گئی ہے، اسے اسپتال لے گئے ہیں۔ تمہارے ابا نے مجھے لینے بھیجا ہے۔ میں ان کے دفتر میں کام کرتا ہوں۔ بابا مالی مجھے سائیکل پر لینے آیا کرتا تھا۔ یہ شخص بھی سائیکل پر تھا، پس میں گرمی سے گھبرائی ہوئی اس کی سائیکل پر بیٹھ گئی۔ اس نے مجھ سے بستہ لیا جس پر میرا نام اور جماعت لکھی ہوئی تھی۔ میرا نام لے کر کہنے لگا۔ تم جماعت اول میں پڑھتی ہو نا…؟ ہاں! مگر آپ کو کیسے معلوم ہے؟ تمہارے ابا نے تمہارا نام اور جماعت بتا دی تھی۔ میں تمہیں لینے گیٹ پر پہنچنے والا تھا، تم راستے میں مل گئیں۔ اتنی باتیں کرنے کے بعد وہ مجھے لے کر کسی سمت روانہ ہوگیا۔ اس کے بعد پتا نہیں کیا ہوا، اپنے حافظے پر بہت زور دیتی ہوں مگر یادداشت جواب دے جاتی ہے، جیسے زمانے کی تکلیفوں نے ذہن سے ہر بات کے نشانات کھرچ کر مٹا دیئے ہوں، یہاں تک کہ اپنا نام، اپنی پہچان، اپنے ماں، باپ کا نام، گلی، محلہ! سبھی کچھ بھول گئی۔
مجھے اغوا کرنے والے جہاں لائے، وہاں اور بھی بچے اور بچیاں تھیں۔ میں نے ان پر ہوتے مظالم کو دیکھا تو یادداشت کھو بیٹھی۔ ان مظالم کو میں تحریر نہیں کرسکتی، ان کو بیان کرنے کی تاب نہیں۔ تصور سے ہاتھ، پائوں لرزنے لگتے ہیں، سانس رک جاتا ہے، روح فنا ہونے لگتی ہے۔ نہیں… نہیں ان کے بیان کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔ ان ظالموں کے چہرے تو موت کے چہرے سے بھی زیادہ بھیانک ہیں۔ اس قدر اندازہ کرسکتی ہوں کہ یہ لوگ بچوں کو اغوا کرکے فروخت کرتے ہوں گے یا بھیک منگوانے کی غرض سے کوئی گروہ خریدتا ہوگا یا پھر کسی ایسے ہی مذموم مقصد کیلئے معصوم بچوں کو اغوا کیا جاتا ہوگا۔
ان بچوں سے مشقت بھی لی جاتی تھی۔ دن، رات کی بدسلوکی سے یہ بچارے ہوش کھو چکے تھے۔ اپنے نام، پتے بھول چکے تھے۔ کچھ ایسے تھے جو گنگ ہوگئے تھے۔ ان کی قوت گویائی ختم ہوچکی تھی۔ میرے ذمے اس گھر کی صفائی تھی۔ جہاں ہمیں رکھا گیا تھا، میرے ساتھ میرے برابر دو اور بھی لڑکیاں صفائی کرتی تھیں۔ کبھی سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ قدرت مہربان ہوجائے گی اور میں اس عقوبت خانے سے نکلنے میں کامیاب ہوجائوں گی۔
ایک دن سردار نے مجھے اپنے ٹرک میں بٹھا لیا۔ نجانے وہ مجھے کہاں لے جارہا تھا۔ رات کے وقت ایک جگہ اس نے ٹرک روکا اور اتر گیا، سامنے ہوٹل تھا۔ وہاں کچھ لوگ بیٹھے تھے۔ غالباً وہ ان سے بات کرنے گیا تھا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ میں سو رہی ہوں۔ میں سوئی نہ تھی۔ اس کے اترتے ہی اٹھ بیٹھی۔ مجھے چھلانگ لگانے کا موقع مل گیا۔ چھلانگ لگا کر میں جھاڑیوں میں گھس گئی۔ اس وقت موت کے خوف سے زیادہ اس آدمی سے بچ کر نکل جانے کا جذبہ مجھ پر غالب تھا۔ تھوڑی دیر بعد ٹرک اسٹارٹ ہونے کی آواز آئی۔ شاید اس نے گدڑی کی طرف دیکھا ہوگا جس میں، میں لپٹی پڑی تھی۔ وہ سمجھا ہوگا میں اس میں لپٹی سو رہی ہوں۔ بہرحال جب ٹرک کی آواز دور ہوگئی۔ میں جھاڑیوں سے نکلی اور سڑک کنارے بیٹھ گئی۔ میری ٹانگ میں چوٹ لگی تھی، حالانکہ میں سڑک کنارے پڑے ہوئے کچی مٹی کے ڈھیر پر گری تھی، پھر بھی یہ چھلانگ میرے ناتواں وجود اور طاقت سے بڑی تھی کیونکہ ٹرک کافی اونچا تھا، رات کا اندھیرا تھا اور سڑک کا کنارا…! ٹانگ میں درد تھا اور خوف کا دبائو ذہن کو اپنی گرفت میں ایک آہنی پنجے کی طرح جکڑے ہوئے تھا۔ اللہ جانے کب تک میں یونہی کسمپرسی میں بیٹھی رہی کہ ایک کار میرے قریب آکر رکی۔ اس میں ایک عورت اور ایک آدمی موجود تھا۔ جب ان کی گاڑی کی روشنیاں مجھ پر پڑیں، انہوں نے گاڑی روکی اور بیٹری کی روشنی میں مجھے دیکھا۔ میں کانپ رہی تھی۔ میری خستہ حالت پر عورت نے اٹھا کر گلے لگایا اور پوچھنے لگی۔ تم کون ہو، کہاں سے آئی ہو؟ یہاں کیوں بیٹھی ہو رات کے وقت…؟
یہ مسافر لوگ تھے اور لاہور جارہے تھے۔ میں ان کے کسی سوال کا جواب نہ دے سکی، کانپتی رہی۔ تب عورت نے کہا۔ یہ کھو گئی ہے، اسے لے چلتے ہیں۔ ایسا نہ ہو رات کے وقت اس معصوم کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آجائے۔ انہوں نے مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا لیا۔ میں بھی محفوظ ہونا چاہتی تھی جلد ازجلد تبھی بلاچون چرا بیٹھ گئی اور گاڑی میں بیٹھتے ہی اس عورت کے شانے سے لگ کر سو گئی۔ آنکھ کھلی تو میں ان مہربان اجنبی لوگوں کے گھر میں تھی جو مجھ لاوارث کو سڑک سے اٹھا کر گھر لے آئے تھے۔ اس مہربان عورت کا نام عائشہ تھا اور اس کا شوہر ذکا ایک وکیل تھے۔ جب میں نے متعدد بار پوچھنے کے باوجود ان کے کسی سوال کا جواب نہ دیا تو یہ لوگ ایک ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ انہوں نے سمجھا کہ میرا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے۔ کچھ دن ڈاکٹر کے پاس لے جاتے رہے۔ وہ میرے ساتھ شفقت سے پیش آتے اور آرام کا خیال رکھتے تھے۔ رفتہ رفتہ خوف دور ہونے لگا۔ میں ان کے ساتھ باتیں کرنے لگی۔ گویا انسانوں پر میرا اعتماد بحال ہونے لگا۔ تب میں نے جو کچھ یاد تھا، بتا دیا مگر والدین کا نام اور پتا پھر بھی نہ بتا سکی۔ مجھے ماں کی صورت یاد آجاتی تو میں رونے لگتی۔ سوچتی کہ میرے گم ہوجانے کے بعد نجانے انہیں کتنا صدمہ ہوا ہوگا اور جدائی کیسے ماں نے برداشت کی ہوگی۔
جن کے گھر میں رہتی تھی، انہوں نے گرچہ مجھے بیٹی بنا لیا، تاہم ان کی اپنی دو بیٹیاں پہلے سے موجود تھیں۔ ایک کا نام ماہ رخ اور دوسری کا ماہ نور تھا۔ یہ دونوں مجھ سے بڑی تھیں۔ ان کے والدین سمجھاتے کہ ماہ جبیں کے ساتھ پیار سے پیش آیا کرو کیونکہ یہ تمہاری تیسری بہن ہے۔ وہ کبھی پیار کرتیں اور کبھی نظرانداز کرتیں، تب ان کی ماں میری زیادہ دیکھ بھال میں لگ جاتی۔ میں انہیں امی جان کہنے لگی تھی اور وکیل صاحب کو ابو کہا کرتی تھی۔ ان کے گھر کا ماحول بہت پرسکون تھا۔ اس پیار بھرے ماحول نے مجھے ایک نارمل انسان بنا دیا۔ اب میں پڑھنے لکھنے میں دلچسپی لینے لگی مگر باوجود کوشش کے مجھے اپنے ماں، باپ اور اپنا نام یاد نہ آسکا۔ پہلے انہوں نے گھر پر پڑھائی کا انتظام کیا اور پھر مجھے اسکول میں داخل کرا دیا۔ جلد میں نے پانچویں کا کورس ختم کرلیا اور چھٹی میں داخلہ مل گیا۔ عائشہ امی نے بہت کوشش کی اور ان کی کوششوں کا پھل یہ ملا کہ میں نے بالآخر مڈل پاس کرلیا۔
وقت گزرتے دیر نہیں لگتی۔ ابو کی دونوں بیٹیوں کی شادیاں ہوگئیں۔ ان دو بچیوں کی پیدائش کے بعد عائشہ امی کا آپریشن ہوا تھا جس کے بعد ان کے یہاں پھر کوئی اولاد نہ ہوئی۔ بچیاں اپنے گھروں کی ہوئیں تو ان کو میری فکر ستانے لگی۔ مگر قسمت نے میرا ساتھ نہ دیا۔ وکیل صاحب اور ان کی بیوی بذریعہ کار کسی کام سے اسلام آباد گئے۔ واپسی پر ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آگیا۔ میں ان دونوں شفیق ہستیوں سے یکلخت محروم ہوگئی۔ ان کے جہان سے چلے جانے کے بعد میرے حالات یکسر بدل گئے۔ میں پھر سے لاوارث ہوگئی۔ دونوں بہنوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مجھے اپنے پاس رکھیں گی کیونکہ میرا کوئی نہ تھا لیکن ان کی ساس کو یہ قبول نہ تھا۔ وہ دونوں دو سگے بھائیوں سے بیاہی گئی تھیں اور ایک گھر میں رہتی تھیں۔ بڑی مشکل سے کچھ عرصے مجھے اپنے ہاں رکھنا قبول کیا، پھر اپنے بیٹوں کو بھڑکانا شروع کردیا تو وہ بھی کہنے لگے کہ اس لاوارث لڑکی کا جلد ازجلد کوئی بندوبست ہونا چاہئے۔ اس دوران میری دونوں منہ بولی بہنوں کے یہاں یکے بعد دیگرے بچوں کی ولادت ہوئی تو میں نے دن، رات ان کی خدمت کرکے اپنی جگہ ان کے گھر میں بنا لی۔ تب ان کی ساس نے جو چچی بھی لگتی تھی، میرا گھر میں رہنا قبول کرلیا مگر وہ مجھے نوکرانی سے زیادہ حیثیت دینے پر تیار نہ تھیں۔
میں تو پہلے ہی نصیبوں جلی تھی، برداشت کرتی رہی۔ بہنوں نے بچوں کی لائن لگا دی اور میں ان کی آیا بن گئی۔ کسی کو اب یہ خیال تک نہ آتا کہ اس کی شادی کی عمر ہے، اسے بھی اپنا گھر بسانا ہے ۔شاید وہ میری شادی کے بارے میں سوچنا ہی نہ چاہتی تھیں کہ پھر مجھ سی بے مول باندی ان کو کہاں سے ملتی جبکہ میرے ذہن میں خواب جاگ رہے تھے۔ اپنا گھر ہو، ایک پیار کرنے والا جیون ساتھی ہو۔ ہر لڑکی کی یہ خواہش ہوتی ہے اور یہ خواہش فطری ہوتی ہے۔
وقت گزرتا رہا اور میں اپنا مدعا کسی کو نہ بتا سکی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ میں نے اپنے بارے میں خود سوچنا شروع کردیا۔ مجھے نہیں معلوم محبت کیا بلا ہوتی ہے۔اس کے چرچے زمانے میں تھے۔ ہر جگہ محبت محبت کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا۔ فلموں میں، رسالوں میں یہی پڑھتی تھی کہ محبت سے زندگی ہے۔ نہیں جانتی تھی کہ محبت خوشیوں کی موت کا بھی دوسرا نام ہے۔
ایک روز اپنی بھانجی کو اسکول سے لینے جارہی تھی کہ راستے میں ایک نوجوان ملا وہ اپنی بھتیجی کو اسکول سے لینے آیا تھا۔ دونوں بچیاں ایک ہی اسکول میں پڑھتی تھیں۔ ہم ایک راستے کے مسافر تھے، سو آگے پیچھے چل رہے تھے۔ اگلے روز بھی یہی ہوا اور اس کے بعد ایسا ہی ہوتا رہا۔ میرے اور اس نوجوان کے دل میں ایک خیال نے جنم لیا کہ ہمیں ایک دوسرے سے ہم کلام ہونا چاہئے، تاہم جرأت نہ اس میں تھی اور نہ مجھ میں!
ایک دن چند آوارہ لڑکے میری راہ میں آگئے، مجھ پر آوازیں کسنے لگے۔ گھبرا کر تیز تیز چلی۔ جب اس نوجوان نے مجھے گھبراہٹ میں دیکھا تو وہ بھی تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا میرے برابر آپہنچا اور ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ نوجوان مجھ سے ہم کلام ہوا۔ برا مت ماننا ان آوارہ لڑکوں کے ارادے کو بھانپ کر تمہارے قریب آگیا ہوں۔ اچھا کیا۔ میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔ میں واقعی ان سے ڈر رہی ہوں۔ ڈرنے کی ضرورت نہیں، بے خوف ہوجائو، میں ساتھ ہوں۔ جب وہ لڑکے ذرا قریب آگئے تو اس خیرخواہ نے انہیں ڈانٹا۔ کیا بات ہے تم لوگ ادھر کیوں آئے ہو؟ دوبارہ دیکھا تو جان سے مار دوں گا۔ واہ…! وہ ہنسنے لگے۔ لگتا تو ایسا ہے جیسے یہ اس کی بیوی ہو۔ ہاں! بیوی ہے میری… پھر تم سے مطلب؟ ہم سیر سپاٹے کو اس دھوپ میں نہیں نکلے، اپنی بچیوں کو اسکول سے لینے جارہے ہیں۔ آئی سمجھ…! ٹھیک ہے ہم بھی دیکھتے ہیں کہ واپس یہاں سے گزرتے ہو یا آگے کسی ریسٹورنٹ میں چائے پینے نکل جاتے ہو۔ یہ کہہ کر وہ ادھر ادھر ہوگئے۔ میں پہلے ہی ہر شے سے ڈرتی تھی، میں تو اپنے سائے تک سے ڈرتی تھی۔ میں اس کے ساتھ اسکول تک چلتی رہی اور جب دونوں بچیاں باہر آگئیں، ہم دونوں انہیں ہمراہ لے کر واپس گھر کو پلٹے اور یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ جہاں وہ لڑکے ملے تھے، واپسی میں دوبارہ وہاں موجود تھے۔ یہ دیکھنے کیلئے کہ ہم نے جھوٹ کہا تھا یا سچ! بچیوں کو ساتھ دیکھا تو وہ نودو گیارہ ہوگئے لیکن ہم دونوں کو ایک ان دیکھے رشتے میں باندھ گئے۔
اگلے دن دل نے آرزو کی وہ مل جائے اور وہ مل گیا۔ کیوں نہ ملتا، اسے خدشہ تھا کہ وہ لڑکے دوبارہ کہیں نہ مجھے پریشان کریں۔ اس کے بعد یہ روز کا معمول ہوگیا کہ جب میں گھر سے نکلتی، کچھ آگے جاکر وہ دکھائی دے جاتا اور ساتھ ساتھ چلنے لگتا۔ سوچا کیا خبر کب میری بہن میری جگہ کسی اور کو بچی کو لینے اسکول بھیجنا شروع کردے تب میں ہمیشہ کیلئے اس مہربان انسان کو کھو دوں گی جو قسمت سے مل گیا تھا اور میرے دل میں بس گیا تھا۔
ایک صبح بھانجی کو اسکول پہنچا کر واپسی میں، میں نے اس سے اس کا نام وغیرہ پوچھا۔ اس نے کہا۔ تم نے میرے دل کی بات کہہ دی ہے۔ یہی سوچتا تھا کہ بچھڑ جانے سے پہلے تم سے یہ پوچھ لوں کہ تمہارا نام کیا ہے اور کہاں رہتی ہو؟ کیا شادی شدہ ہو اور یہ بچی تمہاری کیا لگتی ہے۔ میں نے بتا دیا کہ ایک لاوارث کھوئی ہوئی لڑکی ہوں جسے بچپن میں اسکول سے واپسی پر چھٹی کے وقت اغوا کرلیا گیا تھا۔ اب اصل نام، پتا گم کرچکی ہوں۔ الغرض اس کو تمام احوال مختصراً بتا دیا۔ وہ بہت متاثر ہوا۔ وہ بولا۔ کیا مجھ سے شادی کرو گی؟ میں بھی اپنے بڑے بھائی کے پاس رہتا ہوں اور شام کو ان کا بزنس سنبھالتا ہوں۔ صبح وہ دکان پر جاتے ہیں اور شام کو گھر آکر آرام کرتے ہیں۔
اس نے اپنا نام اسد بتایا۔ کہنے لگا کہ والدہ حیات ہیں، کہو تو انہیں اپنی بھابی کے ہمراہ رشتے کیلئے تمہارے گھر بھیجوں، اس سے پہلے کہ کسی وجہ سے ہمارا ملنا ختم ہوجائے؟ ہاں! ضرور مجھے بھی اپنا گھر، اپنی جنت چاہئے۔ میں بھی یہی سوچتی ہوں کل بہنوئی نے کوئی اور ملازمہ یا ڈرائیور وغیرہ رکھ لیا اور میں گھر میں قید ہوگئی تو آپ سے کیونکر مل پائوں گی۔
اسد نے اپنی والدہ اور بھائی، بھابی سے میرا تذکرہ کیا۔ وہ میرا رشتہ طلب کرنے پر راضی ہوگئے اور اس کی والدہ کے ہمراہ بھابی مجھے دیکھنے آئیں۔ میری بہنوں سے مدعا بیان کیا تو وہ ناک بھوں چڑھانے لگیں۔ ان کو یہ کہہ کر ٹکا سا جواب دے دیا کہ دوبارہ آنے کی زحمت گوارا نہ کریں۔ ہم نہیں جانتے آپ کون لوگ ہیں، ہمارے شوہر ماہ جبیں کا رشتہ اپنے رشتے داروں میں تلاش کررہے ہیں۔ غرض کہ ان خودغرض منہ بولی بہنوں نے ’’منہ بولی‘‘ ہونے کا بھی لحاظ نہ کیا۔ انہیں چائے، پانی کا بھی نہ پوچھا۔ رکھائی سے پیش آئیں۔ اسد کی والدہ آزردہ ہوکر چلی گئیں۔
انہوں نے اسد کو گھر جاکر برابھلا کہا کہ راہ چلتی لاوارث پر تم نے بھروسہ کرلیا اور ہمارے دل میں بھی اس کیلئے ہمدردی کے جذبات ابھارے۔ وہ لوگ اس لائق نہیں کہ ان کے گھر سے ہم اس بچی کو بیاہ کر لے آئیں۔ نہایت بداخلاق اور بدتمیز ہیں وہ عورتیں جن کے گھر ماہ جبیں رہتی ہے۔ وہ ہرگز اس کا رشتہ کہیں نہ کریں گی۔ تم ماہ جبیں کا خیال دل سے نکال دو۔
وہ یہ سن کر بے حد دلگرفتہ ہوا۔ مجھے بتا دیا کہ والدہ بہت برہم ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی نام نہاد بہنیں اس کی شادی نہ کریں گی۔ اگر تمہیں وہ اتنی ہی پسند ہے تو بھگا کر لانا پڑے گا اور شریفوں میں یہ طریقہ نہایت ناپسندیدہ ہے۔ ایسا کرنے کی ہم تمہیں اجازت نہ دیں گے۔ یہ لڑکی جہاں ہے، اسے وہاں ہی رہنے دو۔ اس کے بعد اسد مجھے نظر نہ آیا البتہ اس کی جگہ اس کا چھوٹا بھائی بچی اسکول سے لینے آنے لگا۔ میں اتنی ناسمجھ تھی کہ اس سے اس کا گھر بھی دیکھنے کو نہ کہہ سکی تھی کہ اس نے راستہ بدل لیا غالباً اس کے گھر والوں نے میری بہنوں کے رویئے سے توہین محسوس کی تو وہ بیزار ہوگیا۔ یہ سب کچھ اس قدر جلد ہوا کہ مجھے کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع نہ ملا۔
اب دل میں ایک خلش، ایک کسک تھی جو چین نہ لینے دیتی تھی۔ بہنوئی اسلام آباد سے تبادلہ کرا کر آگئے، گاڑی ڈرائیور بھی مہیا ہوگئے اور اب بہن خود بچی کو لینے جانے لگیں۔ میں گھر میں قید ہوگئی۔ وقت گزرتا گیا۔ ایک روز میرے دونوں بہنوئی اور بہنوں نے بتایا کہ وہ بیرون ملک جارہے ہیں۔ ساس ان کی وفات پا چکی تھیں۔ مجھے انہوں نے اپنی ایک رشتے کی نند کو بخش دیا کیونکہ گھر وہ فی الحال بند کرکے جارہے تھے۔ یہ اچانک تبدیلی میرے لئے کسی صدمے سے کم نہ تھی۔ حیران پریشان کہ اب نئے گھر میں، نئے لوگوں کے ساتھ رہنا ہے جو میرے کچھ نہیں لگتے تھے۔ ابو اور عائشہ امی کی نسبت سے ایک نام نہاد رشتہ جو ابھی تک چل رہا تھا، وہ بھی خلائوں میں گم ہوتا نظر آنے لگا۔ کوئی اور چارہ نہ تھا۔ جو بھی یہ لوگ میری قسمت کا فیصلہ کرتے، ماننا پڑتا۔
دونوں بہنوں نے تسلی دی کہ ہم کچھ مدت وہاں رہ کر واپس آجائیں گے۔ تم فکر مت کرو سلیمہ باجی بھی تمہارا خیال رکھیں گی۔ وہ بہت اچھی اور رحم دل عورت ہیں۔ بے شک سلیمہ باجی بہت اچھی اور رحم دل تھیں لیکن ان کی بہو نہایت سنگدل اور سفاک عورت تھی۔ اس کے دل میں عجب قسم کے خدشات رہتے کہ کوئی خوبصورت لڑکی میرے شوہر کے دل کو نہ بھا جائے۔ وہ مجھ پر کڑی نگرانی رکھتی اور بدسلوکی کرتی تھی۔ اس کی نگاہیں ہر دم میرے گرد پہرہ دیتیں۔ اس عورت نے میرا ہی نہیں خود اپنا بھی سکون خراب کرکے رکھ دیا۔
وہ نام نہاد بہنیں ماہ نور اور ماہ رخ پھر اچھی تھیں، کم ازکم مجھ پر شک نہ کرتی تھیں۔ یہ عجب قسم کی عورت تھی۔ ہر وقت کی اہانت سے دل گھبرایا رہتا۔ دعا کرتی کہ میری بہنیں جلد لوٹ آئیں لیکن وہ نہ لوٹیں اور تین برس اذیت میں گزر گئے۔ باجی سلیمہ بتاتی تھیں کہ وہ چار سال کی مدت پوری ہوجانے کے بعد لوٹیں گی۔ اس اثناء میں باجی سلیمہ بیمار پڑ گئیں۔ میں نے ان کی خوب خدمت کی۔ وہ مجھے دعائیں دیتیں۔ کہتی تھیں۔ اللہ مجھے صحت دے، تیری شادی کردوں گی۔ اب جی جان سے تیرے لئے کوئی اچھا رشتہ دیکھوں گی۔
ان کی زندگی کے دن گنے جا چکے تھے۔ اللہ نے مہلت نہ دی۔ وہ وفات پاگئیں اور میں ایک بار پھر بے آسرا ہوگئی۔ اب ان کی بہو مدیحہ نے خوب پنجے نکال لئے۔ ساس کے ڈر سے جو ذرا دبکی ہوئی نظر آتیں، وہ ڈر جاتا رہا تھا۔ اب انہوں نے بات بات پر مجھے ذلیل کرنا شروع کردیا۔ کہتیں کہ کہاں تک تمہاری نگرانی کروں، اب تمہیں دارالامان بھجوانا پڑے گا۔ تم لاوارثوں کا یہی ٹھکانہ ہے۔
ان باتوں سے ایک روز میں اتنی دل شکستہ ہوئی کہ رونے بیٹھ گئی۔ اتفاق سے ان کی پڑوسن آگئی، در میں نے ہی کھولا۔ انہوں نے میری بھیگی آنکھوں کی طرف دیکھا اور سارا معاملہ سمجھ گئیں۔ ہم انہیں خالہ جی کہتے تھے۔ وہ میرا بیشتر احوال جانتی تھیں۔ مجھ سے کہا۔ معلوم ہے کہ مدیحہ تم کو کتنا تنگ رکھتی ہے۔ ایسا کرو کہ تم ایک روز چپکے سے کنڈی کھول کر میرے پاس آجائو کہ جب یہ سو رہی ہو۔ میں تمہیں ایک نیک گھرانے میں بھجوا دوں گی۔ وہ کب سے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں کوئی لڑکی چاہئے۔ عارفہ میری بہن بنی ہوئی ہیں اور ان کی بہو بچے کو جنم دینے والی ہے۔ عارفہ دل کی مریضہ ہے، بہو اور بچے کی دیکھ بھال سے قاصر ہے۔
اس وقت میں اس قدر رنجیدہ تھی کہ خالہ جی کی بات کو گرہ میں باندھ لیا۔ اگلے دن جب مدیحہ سو گئی، میں چپکے سے در کھول کر ان کے گھر چلی گئی۔ انہوں نے مجھے برقع پہنا دیا اور جلدی سے اپنی گاڑی میں بٹھا کر عارفہ کے گھر لے گئیں۔ پہلے تو میں پہچانی نہیں ،پھر یاد آیا یہ اسد کی امی ہیں جو میرا رشتہ طلب کرنے آئی تھیں۔ میری آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ انہوں نے بھی آگے بڑھ کر مجھے گلے لگا لیا۔ اپنی بہو کو آواز دی، مجھ سے ملوایا۔ دل بیٹھ گیا۔ سمجھی کہ یہ اسد کی بیوی ہوگی مگر بعد میں علم ہوا کہ یہ چھوٹے بیٹے کی بہو ہیں اور اسد نے ابھی تک شادی نہیں کی ہے۔
اسد نے مجھے اپنے گھر میں دیکھا تو حیرت میں ڈوب گیا۔ اس بات پر اور دکھی ہوگیا کہ میں لاوارث تھی اور لاوارث ہی رہ گئی اور اب اس کے گھر بطور ایک ملازمہ لائی گئی ہوں۔ وہ اس دم خاموش ہوگیا لیکن بعد میں اس نے ماں سے کہا۔ ماہ جبیں کا عندیہ لو، اگر یہ راضی ہو تو میں اس کے ساتھ شادی کے لئے تیار ہوں۔
اس کی والدہ نے یہ بات مجھے نہ بتائی کیونکہ وہ کچھ دن مجھے اپنے پاس رکھ کر میرے طوراطوار دیکھنا اور پرکھنا چاہتی تھیں۔ سال بھر تک انہوں نے میری اسد کے ساتھ شادی کا نام نہ لیا یہاں تک کہ ایک روز خالہ جی آگئیں اور بتایا کہ مدیحہ تمہارے چلے جانے سے بہت سکون میں ہے اور سلیمہ مرحومہ ہوچکی ہے۔ اس لئے تمہاری گمشدگی کا کسی کو ملال نہیں ہے۔ ہاں! مگر اب تمہاری دونوں بہنیں چار برس کی مدت پوری کرکے واپس آگئی ہیں۔ وہ مدیحہ کے پاس تمہارے بارے میں معلوم کرنے آئی تھیں۔ اس نے یہی بتایا کہ تم گھر سے بھاگ گئی ہو۔ وہ دونوں بے حد پریشان ہوئی ہیں۔ اس روز میں بھی اتفاق سے وہاں موجود تھی جب وہ آئی تھیں۔ کہتی تھیں خالہ جی! ہمیں یقین نہیں آتا کہ ماہ جبیں خود سے بھاگی ہوگی، یقیناً اس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آیا ہے۔ میں نے ان سے سرگوشی میں کہا تھا کہ اصل احوال جاننا چاہتی ہو تو میری طرف آجانا۔ وہ مدیحہ کے گھر سے میرے گھر آگئیں۔ میں نے بتا دیا کہ تمہیں میں نے اپنی سہیلی کے گھر پہنچا دیا تھا کہ مدیحہ کسی سینٹر پہنچانے کا ارادہ رکھتی تھی۔ وہ شکی عورت ہے، اس کے ساتھ کسی کا رہنا بہت مشکل ہے۔
ماہ نور اور ماہ رخ دونوں تم سے ملنے آنا چاہتی ہیں۔ اب تم بتائو کہ ان سے کیا کہوں؟ میں نے کہا۔ میں عارفہ آنٹی کے سامنے انہیں نہیں لانا چاہتی مگر ابو اور عائشہ آنٹی کا خیال آتا ہے جو میرے محسن تھے اور یہ ان کی بیٹیاں ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں؟ میں خود انہیں سمجھا دیتی ہوں، تم مجھ پر چھوڑ دو۔ خالہ جی نے دلاسہ دیا اور پھر میرے جذبات کے عین مطابق کرکے بھی دکھایا یعنی ادھر عارفہ آنٹی کو سمجھایا اور ادھر میری بہنوں کو اور یوں انہوں نے میری اور اسد کی شادی کی راہ ہموار کردی۔
اللہ کو یہی منظور تھا کہ ہماری شادی ہو۔ ہماری لگن سچی تھی کہ بچھڑ جانے کے بعد کبھی اسد کے دل سے میرا خیال گیا اور نہ میں ہی اسے بھلا سکی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزہ ہوگیا کہ ہم پھر مل گئے۔ مجھے اسد کے گھر پناہ ملی اور یہ پناہ مضبوط اور دائمی تھی، یعنی زندگی بھر کیلئے اسد کے گھر کی چھت تلے مجھے رہنا تھا اور سکون کے بقیہ دن گزارنے کا موقع بالآخر اللہ تعالیٰ نے دے دیا لیکن اس خوشی کو میرے حقیقی ماں، باپ دیکھ سکے اور نہ وہ جنہوں نے مجھے ایک رات سڑک سے لاوارث بچی کی صورت میں اٹھایا اور اپنے گھر لا کر پناہ دی، پیار دیا اور پروان چڑھایا۔ ان کا بھی مجھ پر بہت حق تھا مگروہ اس دنیا سے ایسی دنیا میں جا چکے تھے کہ جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔
مجھے بہنوں نے عزت سے رخصت کیا اور میں اسد کی دلہن بن گئی۔ بیرون ملک رہ کر ان کے تنگ خیالات میں بہت وسعت آچکی تھی۔ وہ مجھے ایک باندی کی صورت میں نہیں بلکہ ایک ہنستے بستے انسان کی صورت میں زندگی بسر کرتے دیکھنا چاہتی تھیں۔
جس وقت میری اسد سے شادی ہوئی، میری عمر تقریباً چالیس کی ہونے والی تھی۔ اللہ نے کرم کیا پھر بھی اولاد کی نعمت سے نواز دیا۔ ہمارے تین بچے ہیں اور میں خوش و خرم اسد کے ہمراہ زندگی گزار رہی ہوں۔ آج زندگی میں خوشیوں کی کمی نہیں، پھر بھی میری خوشیاں ادھوری ہیں کیونکہ حقیقی ماں، باپ، بہن، بھائی، رشتے دار کبھی نہیں مل سکیں گے۔ نجانے وہ کہاں ہیں، کیسے ہیں، زندہ ہیں یا نہیں…؟ یہ اور ایسے کتنے ہی سوالات ہیں جو کبھی کبھی مجھے اس قدر پریشان کردیتے ہیں کہ راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے، پھر خود کو یہ سوچ کر پرسکون کرلیتی ہوں کہ ماں، باپ، بہن، بھائی نہ مل سکے تو کیا ہوا، اللہ نے کتنا بڑا کرم کیا کہ اسد کے گھرانے جیسا نیک گھرانہ دیا اور اسد جیسا نیک دل شوہر عطا کیا۔ ہمیں جدا کرکے دوبارہ ملا دیا، اولاد دی، خوشیاں دے دیں ورنہ مجھ ایسی لاوارث لڑکیاں تو زمانے کی ٹھوکروں میں خاک کردی جاتی ہیں، بھیک منگوائی جاتی ہے، ان کو فروخت کیا جاتا ہے
اور اس سے آگے سوچتےہوئے دل لرز جاتا ہے تو پھر کیوں نہ اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ جو نہ ملا، وہ تقدیر میں نہیں تھا۔ جو مل گیا، وہ قسمت میں لکھا گیا تھا۔ بس اسی ایمان کے ساتھ زندگی گزرتی ہے تو سہل لگتی ہے، ورنہ ماضی میں میری زندگی کے دن جس طرح گزرے ہیں، انہیں یاد کرکے سوائے آنسوئوں کے اور کچھ نہیں ملتا۔
(ج… لاہور)

Latest Posts

Related POSTS