Aik Thi Dulhan | Teen Auratien Teen Kahaniyan

420
میرے بھائی اختر کی کپڑوں کی دکان تھی جہاں شادی بیاہ کے جوڑے دستیاب تھے لہٰذا زیادہ تر وہی لوگ اختر بھائی کی دکان کا رخ کرتے تھے جنہیں جہیز یا بری کے جوڑے لینے ہوتے۔ محلے والوں کو بھی ان کی دکان کا پتا تھا۔ کسی کے گھر میں شادی ہونے والی ہوتی تو خواتین اختر بھائی کی دکان پر خریداری کے لئے جانا پسند کرتی تھیں کیونکہ وہ نہ صرف خوش اخلاق تھے بلکہ لحاظ دار بھی تھے۔ اپنے محلے والوں کے ساتھ قیمت میں رعایت کردیتے تھے۔ یہ بات سب کو معلوم تھی، اسی لئے وہ اپنے علاقے میں مقبول تھے۔
ان کی عمر بائیس برس تھی۔ وجیہ اور متاثرکن شخصیت کے مالک تھے۔ والدہ نے ان کے لئے رشتے داروں میں کئی لڑکیاں دیکھیں۔ اختر بھائی انکار کردیتے۔ انہیں کوئی لڑکی پسند ہی نہ آتی تھی۔
ایک دن ایک لڑکی ان کی دکان پر آئی۔ اس نے کچھ کپڑے خریدے۔ پہلی بار کوئی لڑکی میرے بھائی کو پسند آئی مگر وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے کہ کون ہے اور کہاں رہتی ہے۔
دوچار روز بعد وہ دوبارہ آئی۔ کچھ دوپٹے خریدے شاید اس کے گھر میں کسی کی شادی تھی۔ اس بار وہ ایسی بنی سنوری ہوئی تھی کہ اختر اس پر مر مٹے۔ جونہی وہ خریداری کرکے دکان سے باہر نکلی، انہوں نے اپنے ملازم سے کہا۔ اس کے پیچھے جائو، دیکھو کہاں رہتی ہے۔
ملازم حکم کا غلام تھا۔ وہ موٹرسائیکل پر لڑکی کے پیچھے چلا مگر یہ کیا وہ قریبی محلے سے آئی تھی اور یہ محلہ ہمارا اپنا تھا۔ ملازم بھی اسی محلے کا رہائشی تھا۔ اس نے دیکھا کہ لڑکی ایک گھر کے اندر چلی گئی ہے۔ اس نے واپس آکر بتایا۔ اختر بھائی! وہ لڑکی ہمارے ہی محلے میں رہتی ہے۔ عابد صاحب کے برابر والا مکان جو برائے فروخت تھا، یہ لوگ وہاں آبسے ہیں۔ شاید انہوں نے گھر خرید لیا ہے۔
یہ بات درست تھی۔ عابد ہمارے ماموں تھے جو ہمارے گھر سے اگلی گلی کے ایک مکان میں رہتے تھے اور ان کے گھر کے برابر والا مکان ایک سال سے خالی پڑا تھا جو برائے فروخت تھا اور اب اس میں نئے لوگ آبسے تھے۔
ایک روز ممانی کے ہمراہ میں اور امی ان کے گھر گئے۔ وہ لڑکی ہم لوگوں سے بہت اخلاق سے ملی، اس کا نام ندا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ سال دوم کی طالبہ ہے۔ اس کے بھائی کی شادی عنقریب ہونے والی تھی، تبھی وہ اختر بھائی کی دکان سے شادی کے جوڑوں کی خریداری کرنے گئی تھی۔ اس کی ماں بھی بہت ملنسار تھی۔ ہم لوگوں کی خوب آئو بھگت کی۔ غرض کہ ہم ان نئے پڑوسیوں کے بارے بہت اچھا تاثر لے کر گھر آئے۔
اختر بھائی کو معلوم نہ تھا کہ ہم ندا کے گھر ہو آئے ہیں۔ ایک دن دکان پر جاتے ہوئے انہوں نے ندا کو گھر سے نکلتے دیکھ لیا۔ وہ کالج جارہی تھی۔ اب انہیں علم ہوچکا تھا کہ وہ کس وقت گھر سے نکلتی ہے۔ یہ گھڑی دیکھتے رہتے اور ٹھیک ندا کے ٹائم پر اپنی دہلیز پار کرتے اور اس طرح دکان پر جاتے ہوئے وہ ہر صبح اس کا دیدار کرلیتے۔
دن گزرتے گئے۔ ندا کی پڑھائی ختم ہوگئی اور وہ گھر بیٹھ گئی۔ اب وہ کالج جانے کے لئے مقررہ وقت پر گھر سے نہیں نکلتی تھی۔ اس کا دیدار کیونکر ہوتا۔ اختر بھائی روز صبح دکان جاتے ہوئے سانسیں روکے اس کے گھر کے دروازے کو دیکھتے جو بند ہی رہتا۔ پھر ٹھنڈی سانس بھر کر آگے بڑھ جاتے۔
ہم سب نے محسوس کیا کہ اختر بھائی کو چپ سی لگ گئی ہے۔ امی نے بیٹے کی اداسی کو محسوس کیا تو پوچھا۔ کیا بات ہے بیٹے! کیوں پریشان رہتے ہو۔ بیٹے نے جواب نہ دیا، ماں کے سوال کو ٹال دیا۔ بس اتنا کہا کہ آج کل کاروبار مندا جارہا ہے۔
ایک روز امی نے پھر ذکر چھیڑ دیا کہ اختر! عمر نکلتی جاتی ہے، کب شادی کرو گے؟ کیا اس وقت جب سر کے بال سفید ہوجائیں گے۔ تمہارے لئے کتنی لڑکیاں دیکھیں، تمہیں کوئی پسند ہی نہیں آتی۔ اب دیکھیں، پسند آئے گی تو میں انکار نہ کروں گا۔ کوئی ہے تو بتا…؟ میں سر کے بل جائوں گی۔
اختر بھائی نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا۔ سبحان صاحب کے گھر جاکر لڑکی دیکھ آیئے۔ وہ بھائی کی بات سن کر کچھ دیر کے لئے تو ساکت ہوگئیں، پھر بولیں۔ ان کے گھر جا چکی ہوں، ندا کو بھی دیکھا ہے۔ اچھی لڑکی ہے مگر نئے لوگ ہیں اور بالکل غیر ہیں۔ سمجھ میں نہیں آرہا، رشتے کی بات کیسے کروں؟
بہرحال بیٹے کی خوشی اسی میں مضمر پاکر انہوں نے ہمت کی اور سبحان صاحب کے گھر ان کی بیٹی ندا کا رشتہ اختر بھائی کے لئے طلب کرنے چلی گئیں۔ وہاں سے انکار ہوا تو مایوس ہوکر لوٹ آئیں۔
اختر بھائی دکان سے آئے تو والدہ سے پوچھنے لگے۔ کیا جواب ملا امی…؟ والدہ نے بتا دیا کہ انکار کردیا ہے انہوں نے۔ بھائی یکدم خاموش ہوگئے۔ ایسی چپ سادھی کہ کسی سے بات کرتے تھے اور نہ ہنسی مذاق! ہنسی مذاق تو کیا، دس بار سوال کرو تو ایک ’’ہوں‘‘ میں جواب ملتا تھا، جیسے ندا کے گھر والوں کا انکار ان کی زندگی کا روگ بن گیا تھا۔
چند دن گزرے کہ ندا کے گھر سے مٹھائی کا ڈبہ آگیا۔ اس کا رشتہ طے ہوگیا تھا۔ میں یہ دیکھنے گئی کہ وہ خوش ہے کہ نہیں! وہ بہت خوش تھی جیسے اسے اس کی خواہش کے مطابق جیون ساتھی مل گیا ہو۔ اس کا ہونے والا جیون ساتھی تعلیم یافتہ اور بیرون ملک سے خوب دولت کما کر لوٹا تھا۔
میں نے اختر بھائی کو سمجھایا کہ ندا کی شادی کی تاریخ رکھی جا چکی ہے لہٰذا اب وہ اس کا خیال دل سے نکال دیں۔ اس کا منگیتر اس کا کزن بھی ہے۔ ان کا آپس کا رشتہ ہے اور بچپن سے اس کی بات طے ہوچکی تھی۔ ایسے معاملات میں ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ دنیا میں ندا سے زیادہ اچھی اور خوبصورت لڑکیاں موجود ہیں۔ ہم کسی اور اچھی لڑکی کو تلاش کرلیں گے۔ شادی تو نصیبوں کی بات ہوتی ہے، ایسے میں دل کو غم لگانے سے کیا ہوگا، مگر میرا بھائی ایک ایسے روگ میں مبتلا تھا جس کا کوئی علاج نہ تھا۔
المیہ یہ تھا کہ بیچاری ندا کو قطعی ہمارے بھائی کے اس یکطرفہ لگائو کا علم نہ تھا۔ وہ تو اپنی خوشیوں میں مگن تھی۔ شادی کی تاریخ مقرر ہوچکی تھی اور اس کا منگیتر احد دبئی سے شادی کے لئے پاکستان آگیا تھا۔ احد کو ندا پسند تھی اور یہ اس کے بچپن کا پیار تھا۔ وہ خوشی سے نہال تھا۔ ندا خوبصورت اور باسلیقہ لڑکی تھی۔ والدین کی لاڈلی بیٹی جنہوں نے اس کے جہیز کے لئے ہر چیز خریدی اور کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔
شادی کا دن آگیا تو ندا نے مایوں کے روز مجھے بلا بھیجا۔ پڑوسی ہونے کے ناتے ہمیں بھی ان کی خوشی میں شریک ہونا تھا۔ رسم مہندی دھوم دھام سے ہوگئی اور اگلے روز جب رخصتی تھی تو ندا کو سولہ سنگھار کرکے دلہن بنایا گیا۔ وہ آسمانی حور لگ رہی تھی۔ اس پر اتنا روپ چڑھا تھا کہ ایسی حسین دلہن میں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ ڈھولک کی تھاپ پر رات آہستہ آہستہ گزر رہی تھی، تبھی شور اٹھا۔ دولہا بارات لے کر آگیا ہے۔ وہ کسی شہزادے کی طرح نظر آرہا تھا۔ رسموں کے بعد احد اپنی دلہن کو رخصت کرا کے لے گیا۔
ایک روز بعد ولیمہ بہت شاندار تھا، پھر شام کے وقت دولہا کے ساتھ اس کے دوستوں نے سیر و تفریح کا پروگرام بنا لیا۔ پھر یہ سب احد کو لے کر کاروں میں نکل پڑے۔ ایک پرفضا مقام کی طرف جاتے ہوئے راستے میں انہوں نے کاریں روک لیں اور ایک بڑے ہوٹل میں چائے پینے اور کچھ دیر آرام کو ٹھہر گئے۔ ایک گھنٹے بعد وہ دوبارہ جانب منزل محوسفر ہوگئے۔ تب دولہا کی کار سب سے آگے تھی۔ ابھی تھوڑا سا سفر طے ہوا تھا کہ بدقسمتی سے کار کا اگلا ٹائر پھٹ گیا اور کار الٹ گئی۔ احد کو سر پر گہری چوٹ لگی۔ وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ باقی کزنوں کو بھی چوٹیں آئیں مگر وہ جان لیوا نہ تھیں۔ وہ معمولی مرہم پٹی کے بعد ٹھیک ہوگئے۔
ندا ادھر سیج پر دلہن بنی بیٹھی تھی۔ سہیلیوں کے جھرمٹ میں ہنس رہی تھی، جبکہ سہیلیاں اور ہم عمر رشتے دار لڑکیاں اس سے ہنسی مذاق کررہی تھیں، تبھی دولہا کی موت کی اطلاع ملی۔ ندا اور اس کے گھر والوں پر یہ خبر قیامت بن کر ٹوٹی۔ شادی والے گھر میں خوشی کی بجائے ماتم چھا گیا۔ خبر سنتے ہی ندا بے ہوش ہوگئی۔ اسے فوراً اسپتال لے گئے جہاں وہ دو دن بے سدھ پڑی رہی۔ ولیمے کے دوسرے دن احد کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں علاقے کے بہت لوگوں نے شرکت کی کیونکہ یہ اپنی نوعیت کا ایک بہت بڑا حادثہ تھا۔ کسی کو یقین نہیں آرہا تھا کہ حقیقت میں احد زندگی ہار چکا ہے۔ اپنے پرائے ایک دن پہلے اس کی شادی کی دعوت ولیمہ کھا کر گئے تھے۔
دونوں گھرانوں میں قیامت کا سماں تھا۔ تیسرے دن ندا کے والد اسے اپنے گھر لے آئے۔ میکے آکر ندا کو مستقل چپ لگ گئی۔ وہ کھاتی تھی نہ پیتی تھی۔ اس کے منہ میں زبردستی چند لقمے ڈالنے پڑتے تھے۔ وہ گھر میں کسی سے بات نہ کرتی تھی، میں اور امی تعزیت کے لئے گئے تو ہم سے اس کا غم دیکھا نہ گیا۔ دعا کی۔ اللہ اسے یہ غم سہنے کا حوصلہ دے اور اللہ تعالیٰ کسی کی بیٹی کو ایسا غم نہ دکھائے۔ میرا بس نہیں چلتا تھا کہ کیسے اس کا دکھ بانٹ لوں۔
جب اختر بھائی کو بتایا تو انہیں اور زیادہ دکھ ہوا مگر موت کا کسی کے پاس کیا علاج…! وقت گزرتے پتا نہیں چلتا تین سال کا عرصہ گزر گیا۔ بالآخر امی نے اختر بھائی کو شادی پر راضی کرلیا کیونکہ امی کی بیماری بڑھتی جارہی تھی اور اب انہیں بہو کی ضرورت تھی۔ میری بھی شادی ہوچکی تھی۔ امی اکیلی ہوگئی تھیں۔ اختر بھائی کی شادی ان کی خالہ زاد سے ہوگئی۔ بھابی کا نام مہرالنساء تھا۔ پیار سے سب مہرو پکارتے تھے۔ بہو کے آنے سے امی کی صحت بہتر ہوگئی۔ وہ اتنی اچھی لڑکی تھی کہ آتے ہی سب کے دلوں میں گھر کرلیا۔ اللہ تعالیٰ نے بیٹا دیا تو مہرو کی محبت میرے بھائی کے دل میں جاگزیں ہوگئی۔ دونوں میاں، بیوی حسن سلوک سے رہنے لگے۔
ایک دن ندا کچھ کپڑا لینے بھائی کی دکان پر گئی۔ اس کی حالت ایسی تھی کہ پہچانی نہ جاتی تھی۔ ماں ساتھ تھی۔ بھائی اختر اسے دیکھ کر افسردگی کے سمندر میں ڈوب گئے۔ اگلے دن ہم اس کے گھر گئے۔ امی نے پیار کیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ امی نے ندا کو گلے لگا لیا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ میری آنکھیں بھی چھلک پڑیں۔ وہ کمرے میں چلی گئی تو میں اس کے پیچھے گئی۔ تسلی دینا چاہتی تھی مگر میرے پاس الفاظ کہاں تھے، خاموشی سے اس کے ٹھنڈے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر بیٹھی رہی۔
گھر آکر جب ہم نے اختر بھائی کو بتایا تو انہوں نے غمناک آنکھوں سے دعا کی۔ خدایا…! ندا کو صبر اور سکون عطا کر اور احد کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔
مہرو نے بھائی سے پوچھا کہ کیا کہہ رہے ہو اختر اور کس کے بارے میں کہہ رہے ہو؟ وہ بولے۔ کچھ نہیں، ایک دوست کے بارے میں دعا کررہا ہوں جو اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ تب میں نے مہرو بھابی کے مطمئن چہرے کی طرف دیکھا۔ سوچنے لگی۔ واقعی خوشی اور غم اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں۔ شادیاں نصیبوں سے ہوتی ہیں اور جوڑے آسمان پر بنتے ہیں۔
(ع۔الف… سیالکوٹ)