Aisa Sochna Bhe Nahi | Teen Auratien Teen Kahaniyan

653
میری اکلوتی پھپھو شادی کے چھ سال بعد بیوہ ہوگئیں تو والد صاحب انہیں اپنے ساتھ گھر لے آئے، کیونکہ جٹھانی اور جیٹھ نے ساتھ رکھنے سے انکار کردیا تھا۔ ساس سسر وفات پاچکے تھے اب وہ کس کے سہارے سسرال میں بیوگی کی زندگی کاٹتیں۔ پھپھو کا ایک ہی بیٹا تھا جو باپ کی وفات پر پانچ برس کا تھا۔ یہ ایک مجبوری تھی۔ وہ بیٹے کو خود سے جدا نہ کرسکتی تھیں لہٰذا عدت کے بعد جتنے رشتے آئے انہوں نے ٹھکرادیئے۔ والد سے التجا کی کہ عمر بھر آپ کے بیوی بچوں کی سیوا کروں گی۔ مجھے اپنے گھر میں رہنے دیں اور دوسری شادی پر مجبور نہ کریں، میرا بیٹا طارق میرے لئے سب کچھ ہے۔ اسی کے آسرے پہ عمر کاٹ دوں گی۔
ابو، بہن سے محبت کرتے تھے۔ ان کو دکھ نہ دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے پھپھو کو دوسری شادی پر مجبور نہ کیا، امی کو بھی سمجھایا کہ عقیلہ کا ہمارے سوا کوئی نہیں ہے، تم دل چھوٹا نہ کرنا، اسے یہیں رہنا ہے تو خوش خلقی سے رہنے دو، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا اجر دے گا۔ والدہ بڑی خاموش مزاج تھیں۔ بحث و مباحثہ میں نہ الجھتیں لیکن جو دل میں ٹھانی ہوتی وہ کسی پر ظاہر کئے بغیر اپنے مشن کی تکمیل میں لگی رہتیں۔ بالآخر اپنی سی کرکے رہتیں۔
پھپھو کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے بظاہر شوہر کی مخالفت کی اور نہ نند سے کچھ کہا، بڑی منصوبہ بندی سے نند کو بیزار کرنے کی تدبیریں کرتی رہیں۔ بیچاری پھپھو نے امی کا ہر وار خاموشی سے سہا لیکن ابو سے کبھی شکایت نہ کی۔ انہوں نے بھی ٹھان لی تھی۔ بے شک بھاوج ریشم میں لپیٹ کر عمر بھر جوتے مارتی رہے وہ اس در کی دہلیز سے باہر قدم نہ رکھیں گی کہ گھر کے اندر کے سو عذاب، بھیڑیوں سے بھرے جنگل میں گم ہوجانے سے بہتر ہے۔ وہ زیادہ پڑھی لکھی نہ تھیں، مڈل پاس تھیں۔ اچھی نوکری بھی مڈل پاس کو کہاں ملتی ہے۔ امی کے گھر کے سارے کام کرکے ان کو بس دو وقت کی روٹی درکار تھی۔
والدہ کو شاید یہ سودا مہنگا نہ لگتا لیکن طارق ان کے لئے کانٹے کے جھاڑ جیسا تھا۔ والد اپنے یتیم بھانجے پر جاں نثار کرتے جو اپنے بچوں کے لئے لاتے وہی طارق کو بھی لاکر دیتے تاکہ وہ احساس کمتری کا شکار نہ ہو۔ اسے بھی اچھے اسکول میں داخل کرایا جس کی فیس کافی تھی۔ طارق ان کے لئے بوجھ نہ تھا بلکہ ان کی آنکھوں کا تارا تھا لیکن یہ سات برس کا بچہ میری والدہ کے دل پر پتھر کی سل کی طرح رکھا تھا۔
کم ہی عورتیں ایسی فراغ دل ہوتی ہیں جو کسی کے بچے کو یتیم پاکر اپنے بچوں جیسا درجہ دیں، ورنہ زیادہ زبانی کلامی ہی اللہ کو راضی کرتی رہتی ہیں، عملاً اپنی اولاد سے غرض رکھتی ہیں۔


والدہ کا دل اس معاملے میں بڑا نہ تھا، بلکہ تنگ دل کہوں تو بے جانہ ہوگا۔ والد سے مخالفت کھلم کھلا مول لینا ان کے بس کی بات نہ تھی، لیکن وہ چپکے چپکے طارق کے معاملے میں پھپھو کو آزردہ دل کرتی رہتی تھیں۔ میری صابر پھپھو نے پھر بھی اف نہ کی، امی نے تھک ہار کر والد کو تجویز پیش کردی کہ اپنی بہن کو اب گھر کے اندر یعنی ’’انیکسی‘‘ میں شفٹ کردو تو بہتر ہے ان کا لڑکا بڑا ہورہا ہے۔ ہمارا لڑکیوں بھرا گھر ہے مسئلے مسائل ہوں گے تو ہم نند بھاوج میں بدمزگی ہوجائے گی۔ والد نے بیوی کے ارادے کو بھانپ لیا اور پھپھو کو ’’انیکسی‘‘ میں منتقل کردیا۔
یہ ’’انیکسی‘‘ کیا تھی دو کمروں کا کوارٹر نما سوٹ تھا۔ جس میں غسل خانہ اور کچن بھی ملحق تھا اور برآمدے کے آگے تھوڑا سا صحن بنا کر چار دیواری بنادی گئی تھی۔ کبھی اس کو اسٹور کے طور پر اور کبھی سرونٹ کوارٹر کے طور پر استعمال میں لایا جاتا تھا۔ آج کل یہاں والد صاحب کی پرانی موٹر سائیکل اور میرے دونوں بھائیوں کی بے کار سائیکلیں پڑی تھیں اور کچھ ایسا ہی کباڑ تھا جس کو ایک کباڑی کے سپرد کرکے والد نے ’’انیکسی‘‘ کو وائٹ واش کرادیا اور ضرورت کا سامان بھی خرید کر پھپھو کو دے دیا۔
اب وہ اور ان کا بیٹا زیادہ وقت ان کی نظروں سے اوجھل رہتے تو میری ماں کے دل کا بوجھ کم ہوگیا تھا۔ پھپھو طارق کو اسکول روانہ کرنے کے بعد آجاتیں، امی کا ہاتھ بٹادیتیں اور پھر دوپہر کو اپنے ٹھکانے پر لوٹ جاتیں۔ اب وہ اپنا کھانا علیحدہ تیار کرتی تھیں۔ والد صاحب کے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ تھا۔ وہ ان کو راشن ڈلوادیا کرتے تھے تاکہ خود کو بھاوج کی محتاج محسوس نہ کریں۔
وقت گزرتا رہا۔ ہم اسکول سے کالج تک پہنچ گئے۔ طارق کو روز شام میں ابو اپنے پاس بلالیتے اور اس کا ہوم ورک چیک کرتے، پھر اپنے ساتھ ٹی وی دکھانے یا گھمانے پھرانے لے جاتے۔ میرے والد کا معمول تھا۔ پھپھو بھی شام کو آجاتیں رات کا کھانا بنانے میں امی کا ہاتھ بٹاتیں، یوں طارق ہمارے ساتھ ہی رہتا تھا۔ میرے بھائی شرجیل سے اس کی بہت بنتی تھی ، دونوں کلاس فیلو تھے اور دوستی بھی تھی۔ مجھے بھی طارق کو دیکھ کر سکون ملتا تھا۔ بچپن ساتھ گزرا، جب ہم نے ہوش سنبھالا تب بھی اسے اپنے گھر ہی پایا۔ جب تک اسے دیکھ نہ لیتی چین نہ آتا تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس کی محبت کی بیل میرے وجود پر چھاگئی۔ یقین تھا کہ ابو ہمارا رشتہ کردیں گے۔ طارق سے ان کے پیار کی سن گن سارے خاندان کو تھی۔ اسی لئے کسی نے رشتہ نہ بھیجا۔ شاید والد صاحب نے خاندان میں کچھ لوگوں سے تذکرہ بھی کردیا تھا کہ مدیحہ کا رشتہ طارق سے کروں گا۔
حقیقت یہی تھی ابو دل سے یہی چاہتے تھے اور پھپھو بھی لیکن امی کے دل کی کسی کو خبر نہ تھی۔ وہ بظاہر جب سکون کا سمندر نظر آتیں لیکن اپنے اندر طوفان چھپائے ہوتی تھیں۔
جانتی تھی کہ امی کو پھپھو اور ابو کی محبت ایک آنکھ نہیں بھاتی لیکن کبھی اس بارے میں زبان نہ کھولتیں۔ بڑی دھیرج والی اور دنیا دار تھیں۔ میں، پھپھو اور طارق اپنی جگہ مطمئن تھے کیونکہ ہمیں ابو کی طرف سے یقین تھا۔ امی نے کبھی طارق کو گھر آنے سے نہ روکا، نہ ہمیں آپس میں بات چیت سے منع کیا۔
میں نے اور طارق نے گریجویشن مکمل کرلی۔ اب ہمارے خوابوں کے پورا ہونے کا وقت آگیا تھا۔ پھپھو نے سوچا پہلے بھاوج کو راضی کروں تاکہ وہ اپنی اہمیت کو محسوس کریں اور بعد میں رشتہ میں کوئی اڑچن کھڑی نہ کردیں۔ انہوں نے دھیمے انداز میں امی جان سے تذکرہ کیا کہ بچے اب بڑے ہوگئے ہیں، طارق کے لئے مدیحہ بیٹی کا ہاتھ مانگنے کی آرزو دل میں ہے، آپ بھائی جان سے ذکر کریں، ہم اپنے ہیں ہمیشہ اپنے رہیں گے، میرے بیٹے کے سر پر ماموں کا ہاتھ رہے گا تو زندگی میں اس کو کوئی کمی محسوس نہ ہوگی۔ یہ سن کر امی جان کی تیوری پر بل پڑگئے۔ بولیں۔ عقیلہ بیگم، میرا بڑا حوصلہ ہے، برسوں تمہیں برداشت کیا اور کبھی تمہارے بیٹے کے بارے میں ایک لفظ منہ سے نہیں نکالا تاکہ میرے شوہر کا دل تم سے برا نہ ہو لیکن یہ بات ایسی ہے کہ اب چپ رہ نہیں سکتی۔ آج تم نے خود ذکر چھیڑا ہے تو جی چاہتا ہے کہ تمہارے لڑکے کی پول کھول دوں۔
امی کی بات سن کر پھپھو دنگ رہ گئیں، کہا… یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں… کیسی پول؟ میری تو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ میں بھی اپنے کمرے کی کھڑکی سے ان دونوں کی گفتگو سن رہی تھی۔ دل دھک سے رہ گیا۔ سوچا کہ میری والدہ بڑی سیاست دان ہیں، نہ جانے اب کیسا الزام طارق پر دھرنے والی ہیں۔ اصرار کے باوجود انہوں نے ان باتوں کا انکشاف نہ کیا جن کو وہ طارق کی پول کھلنے کا رنگ دے رہی تھیں۔ پھپھو دل مسوس کر چلی گئیں۔
کچھ دن خاموشی رہی۔ گزر بسر معمول کے مطابق چلتی رہی لیکن والد کی بہن کے دل میں کھٹک تو آگئی تھی، ان کو چین نہ آرہا تھا۔ بالٓاخر ایک روز پھر انہوں نے بات چھیڑی، تب والدہ بھڑک اٹھیں بولیں۔ میرے صبروتحمل سے کام لینے پر بھی تمہیں چین نہیں آیا تو بتائے دیتی ہوں کہ تمہارا بیٹا مدیحہ سے شادی کا امیدوار ہے اور عشق فرمانے کی کوشش کرچکا ہے۔ فریحہ سے… یہ سن کر جیسے پھپھو پر بم گرگیا… کیا کہہ رہی ہیں بھابی… طارق دن رات آپ کے سامنے رہتا ہے آپ کے ہاتھوں پلا بڑھا ہے اس کی ایسی جرأت کیوں کر ہوسکتی ہے کہ گھر کے اندر اپنی بہنوں جیسی ماموں زادیوں سے کوئی گری پڑی یا مذموم حرکت کرے۔ خدارا اگر کوئی غلط فہمی ہے تو کم از کم مجھے تو آگاہ کیجئے۔
امی نے فریحہ کو پہلے ہی سکھا پڑھا دیا تھا۔ وہ تو نادان سی چودہ برس کی بچی تھی، جیسا ماں نے کہا ویسا ہی اس نے پھپھو کے سامنے کہہ دیا کہ طارق بھائی مجھ سے غلط باتیں کرتے تھے کہتے تھے کہ تم سے محبت کرتا ہوں تم سے شادی کروں گا… اور نہ جانے کیا کیا … جب میں نے امی کو بتانے کی دھمکی دی تو باز آگئے۔
میں اور طارق خوب جانتے تھے یہ امی کی چال ہے، ایسا کوئی معاملہ نہ تھا وہ مجھ کو پسند کرتا تھا۔ اپنی والدہ اور میرے والد کی خواہش کے مطابق سمجھتا تھا کہ ہماری شادی ہوگی، لیکن کبھی مجھ سے اس نے کوئی ایسی ویسی بات نہ کہی تھی، جبکہ ایک گھر میں رہتے ہوئے ہمیں ہزار مواقع ملے تھے لیکن طارق نے نہ کہا کہ مدیحہ میں تم کو پسند کرتا ہوں یا محبت کرتا ہوں۔ امی نے ایسی بات اس لئے کہی کہ بھائی کے دل سے بہن اور بھانجے کا بھرم اور عزت جاتی رہے اور عقیلہ بیگم دوبارہ ایسا خواب دیکھنے کی کوشش نہ کرسکیں یہ ایک طرح کی دھمکی تھی بیوہ نند کو کہ اگر زیادہ توقع کی تو تمہیں اور تمہارے بیٹے کو اوقات یاد دلوادوں گی کہ اب بھی ہمارے ٹکڑوں پر پل رہے ہو۔
خطرے کی گھنٹی بج گئی پھپھو نے سمجھ لیا کہ اس خاموش مگر خطرناک قسم کی بھابی سے ٹکر لینا کوئی آسان کام نہیں۔ انہوں نے فریحہ کی گواہی کو مدنظر رکھتے ہوئے میرا رشتہ لینے کا بھی ارادہ ترک کردیا۔
ایک روز اکیلے میں فریحہ سے میں نے پیار سے پوچھا۔ سچ بتادے کہ طارق نے کیا تم سے کبھی ایسا کچھ کہا تھا جو تم نے پھپھو کے سامنے کہا۔
وہ بولی۔ باجی کبھی طارق بھائی نے مجھے ایسا کچھ نہیں کہا۔ وہ تو مجھ سے بات بھی کم کرتے ہیں یہ امی نے مجھے سکھایا تھا کہ تم نے پھپھو کے سامنے یہ کہنا ہے۔ جو انہوں نے سکھایا وہ کہہ دیا۔ باجی اس میں میرا کیا قصور اگر امی کا کہنا نہ مانتی وہ مجھے مارتیں۔
فریحہ نے صحیح کہا تھا امی اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کرسکتی تھیں۔ وہ طارق کو پسند نہیں کرتی تھیں، پھر کیسے داماد کے روپ میں قبول کرلیتیں جو محبت والد صاحب کو اپنے بھانجے سے تھی ویسی ان کے دل میں کیوں کر ڈالی جاسکتی تھی ۔ طارق نے ہماری طرف آنا بند کردیا۔ میں پہلے ہی پھپھو کی طرف نہیں جاتی تھی۔
میں اور طارق ایک دوسرے کی
صورت دیکھنے کو ترس گئے۔ میری ماں نے جو تیر پھینکا تھا وہ ایسا نشانے پر لگا کہ طارق اور اس کی ماں سہم کر خاموش ہوبیٹھے۔
انہی دنوں پھپھو کی جٹھانی ان سے ملنے آئیں۔ وہ کبھی کبھار جب شہر آتیں ان سے ملنے بھی آجاتی تھیں۔ پھپھو کو پریشان دیکھ کر پوچھا۔ کیا بات ہے کیسی پریشانی ہے۔ بیٹے کی شادی کے لئے فکرمند ہوں۔ اور تو کوئی پریشانی نہیں ہے کوئی لڑکی دیکھی؟ نہیں… ابھی تک تو نہیں دیکھی ہے۔ میری رمشا لے لو… اپنی بچی ہے اور اپنا بچہ ہے طارق بھی۔ یہ تو قسمت نے تم کو ہم سے الگ کردیا، ورنہ دلوں میں دوری نہیں ہے، اگر چاہو پھر سے اپنے گھر کی مالکہ بن سکتی ہو۔ بیٹے کو میری بیٹی سے بیاہ دوگی تو اسی وسیلے سے آکر ہمارے پاس آباد ہوجائو گی، تمہارے جیٹھ بھی یہی چاہتے ہیں۔ اگر ارادہ ہو بتادینا۔
ٹھیک ہے بھائی سے مشورہ کرلوں بتادوں گی۔ ابو سے بھی میری ماں نے اشاروں کنایوں میں جتلا دیا کہ وہ طارق کو داماد کے روپ میں دیکھنا نہیں چاہتیں، کھل کر بات نہ کی تھی۔ جب پھپھو نے ابو سے اپنی جٹھانی کے آنے اور رشتہ کی بات بتائی تو والد نے کہا۔ جیسی تمہاری خوشی بہن وہاں بھی تم عزت سے بڑھاپا گزارو گی اور یہاں بھی عمر بھر رہو تو میرے لئے سر آنکھوں پر تمہاری جگہ دل میں ہے۔
چاہتی تو تھی کہ مدیحہ لوں مگر بھابی کی مرضی نہیںہے۔ بات کرکے دیکھ لی ہے… ان کی ناراضی سے رشتہ ہوا یا انہوں نے دل سے اس رشتے کو قبول نہ کیا تو بعد میں کچھ مسئلے نہ بن جائیں، آگے بھائی جان آپ سمجھدار ہیں۔ ٹھیک ہے میں بیوی سے بات کرلوں تم پھر اپنی جٹھانی کو ہاں کہنا۔
ابو نے امی کو راضی کرنا چاہا وہ روتے روتے بیہوش ہوگئیں اور بیمار پڑگئیں، والد کو یقین ہوگیا کہ یہ بیل منڈھے چڑھنے نہ دیں گی ۔ زبردستی کی تو بھی میری بہن اور بھانجے کو جوتیوں میں جگہ دے گی۔ اپنی شریک حیات کے مزاج کو وہ خوب سمجھتے تھے۔ یہ سوچ کر بہن کو اجازت دے دی کہ جیٹھ کی بیٹی کو بہو بنانے سے طارق کے مرحوم باپ کا گھر اور بہت کچھ واپس میری بیوہ بہن کو مل جائے گا۔ ادھر بیوی سے زبردستی منوا بھی لیا تو سکون سے بیٹی داماد کو جینے نہ دیں گی، والدہ کی کینہ پروری خاندان میں ضرب المثل تھی۔
پھپھو نے یہ سوچ کر کہ جیٹھ جٹھانی کی نیت نہ بدل جائے فوراً ان سے رابطہ کرکے ہاں کہہ دی۔ طارق کی شادی اس کی تایازاد سے ہوگئی۔ بی اے کے بعد ملازمت کا حصول اس کے لئے ممکن نہ تھا۔ والد داماد بنا کر کاروبار میں شریک کرنا چاہتے تھے اس ارادہ کو امی نے ناکام بنادیا۔ تبھی طارق شادی کے بعد اپنی والدہ کو لے کر آبائی گائوں چلا گیا جہاں اس کے مرحوم باپ کا گھر اس کے لئے موجود تھا۔ اس گھر کو تالا لگا ہوا تھا اور مرحوم کے بھائی اس انتظار میں تھے کہ طارق بالغ ہو تو اس کو اس کے باپ کا گھر واپس کردیں۔ بیٹی کو اس کے نکاح میں دے کر تایا نے بھتیجے کو واپس بلالیا تھا۔ اراضی میں جو اس کا حصہ بنتا تھا دے دیا، طارق کو روزی روٹی کے لئے نوکری کرنے کی بھی ضرورت نہ رہی۔
پھپھو کا مسئلہ اللہ تعالیٰ نے حل کر دیا۔ میرے یا طارق کے دل پر کیا گزری یہ کسی کو نہیں معلوم۔ امی جان نہال تھیں، کہ ازخود بلا ٹل گئی جو عمر بھر کی ذمہ داری بن کر ہمارے گلے پڑگئی تھی۔ انیکسی خالی ہوئی تو انہوں نے پھر سے اس میں کاٹھ کباڑ بھر دیا۔
طارق کی شادی کے روز میں اور ابو بہت افسردہ تھے۔ ہمیں پھپھو سے والہانہ محبت تھی ادھر امی نے اپنی بہن کو سندیسہ بھجوایا کہ آکر رشتے کی بات کرلو جو تم نے کہا، میں نے کردیا اب تمہاری باری ہے مدیحہ کو بہو بنا کر لے جائو۔ خالہ آگئیں ان کا بیٹا بھی ساتھ آیا۔ جس سے وہ مجھے بیاہنے کے خواب دیکھ رہی تھیں۔ وہ سول سروس کا امتحان پاس کرکے آفیسر لگ چکا تھا۔ ہماری خالہ کے بیٹے مسعود میں بھی کوئی کمی نہ تھی۔ لمبے چوڑے خوبصورت اور پھر آفیسر لیکن انہوں نے مجھے دیکھا تو یہ کہہ کر ماں کی آرزو پر پانی پھیر دیا کہ مدیحہ سانولی ہے، مجھے گوری لڑکی کا رشتہ چاہئے فریحہ سے کردیں تو قبول ہے، ورنہ نہیں۔
ابو بولے… بڑی تین لڑکیاں چھوڑ کر چوتھی کا کیسے رشتہ کردوں، جبکہ ابھی اس نے میٹرک بھی پاس نہیں کیا ہے۔ بھلا یہ کوئی تک ہے ان لوگوں کی… رشتہ لینا ہے تو مدیحہ کا لیں جو لڑکے کی ہم عمر ہے، ورنہ چلتے بنیں۔ اب ان کو بھی ہوش آیا کہ بہن نے کیا روپ دکھادیا۔ عرصے تک رشتے کے لئے کہتی رہیں کہ مدیحہ لوں گی اور اب آخری والی پسند آرہی ہے یہ بات ان کو بھی ناگوار ہوئی۔ خالہ سے کہا اگر مدیحہ نہیں تو فرحانہ لے لو۔
کیا کروں بیٹا نہیں مانتا۔ اس کی رضا ہو تب نا… اس نے کہہ دیا ہے کہ فریحہ دیں گی تو رشتہ ہوگا ورنہ نہیں…
تو پھر تم جانو اور تمہارا بیٹا، فرحانہ کے لئے تو شاید اپنے خاوند کو منا بھی لیتی۔ فریحہ ابھی بہت چھوٹی ہے اور اس کی شادی سے پہلے بڑی بہن کو بیاہنا لازم ہے۔ خالہ کے افسر بیٹے کا دماغ بھی ساتویں آسمان پر تھا۔ وہ نہ مانے خالی ہاتھ خالہ منہ لٹکائے چلی گئیں کہ امی نے کہہ دیا تھا، میری بیٹیاں بیٹیاں ہیں، بھیڑ بکریاں نہیں کہ لڑکے آکر خود چنیں اور لے جائیں، پھر بزرگوں کا کیا کام۔ تمہارا بیٹا آفیسر صحیح لیکن یہ طریقہ نہیں رشتے ناتے جوڑنے کا، اس سے طارق اور اس کی ماں کیا برے تھے۔ لڑکا ہمارے ہاتھوں پلا بڑھا تھا۔ کاروبار کرادیتے، عمر بھر احسان مند رہتا۔ تم لوگوں کی خاطر میں نے اس پر تہمت دھری اور تم نے میرا مان مٹی میں ملا دیا۔
خالہ بیچاری مجبور تھیں، ان کے صاحبزادے پر ہماری اماں کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا، شاید ان کو کسی اونچے گھرانے کی تلاش تھی، تبھی میرے سانولے رنگ کو بہانہ بنا کر انکار کرگئے۔ میرے دل پہ تو چوٹ لگی ہی تھی، ماں نے بھی چوٹ کھائی لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت۔
والد نے اپنے ہی خاندان میں مجھ سمیت چھوٹی بیٹیوں کے بھی رشتے کردیئے۔ ان کو ان کے ہم عمر مل گئے۔ میری قسمت میں جوڑ کا رشتہ نہ تھا، ابو کے کزن کا بیٹا جلیل یوں تو صحیح بندہ تھا مگر عمر میں مجھ سے پندرہ برس بڑا تھا۔ پہلی بیوی بیٹے کو جنم دیتے وقت فوت ہوگئی۔ ان کو اس بچے کیلئے ماں چاہئے تھی۔ مجھے جلیل سے محبت نہ ہوسکی، مگر شوہر کے رشتے سے احترام کرتی تھی، البتہ ان کے بچے کو گود میں بھرلیا اور کبھی ماں کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ مجھے احساس تھا کہ کسی بچے کا باپ اس دنیا میں نہ رہے یا ماں نہ رہے تو اس یتیم کی حالت قابل رحم ہوجاتی ہے جس کی مثال طارق تھا، صد شکر میرے والد سنگدل ثابت نہ ہوئے، ورنہ جانے طارق کا کیا حال ہوتا۔
آج تک طارق پر بیتے دن یاد ہیں مجھے، جو میری ماں اس کے ساتھ ڈھکے چھپے انداز سے بے انصافیاں کرتی تھیں اور پھپھو صبر کے گھونٹ بھر کر خاموش ہوجاتی تھیں۔ آج پھپھو تو خوش ہیں مگر امی جان افسردہ رہتی ہیں۔ (م۔ راجن پور)