Aisi Mohabbat Say Hum Baaz Aaye | Teen Auratien Teen Kahaniyan

5991
جب امی نے بھائی جان کی شادی کا عندیہ دیا تو سب نے منع کیا کہ یہ بیل منڈھے چڑھنے کی نہیں۔ خدارا سوچ سمجھ لیں، کیوں ایسی آرام طلب بہو گھر لانا چاہتی ہیں جو آپ کو ناکوں چنے چبوا دے گی۔ میری ماں نے خاندان والوں کی باتوں پر کان نہ دھرے کیونکہ انہیں بیٹے کی خوشی عزیز تھی۔
بات دراصل یہ تھی کہ ہمارے بھائی جنید کو زریں پسند آگئی تھی، جسے انہوں نے ایک بار کسی شادی میں دیکھا تھا۔ وہ امی کی دور کی ایک کزن کی بیٹی تھی اور اس شادی میں یہ لوگ بھی مدعو تھے۔ کافی عرصے سے امی، بیٹے کے پیچھے پڑی ہوئی تھیں کہ تمہاری عمر پینتیس سال ہوگئی ہے، شادی کرلو، کیا بوڑھے ہوکر کرو گے؟ جب کوئی لڑکی پسند آئے گی، کرلوں گا۔ ان کا ہمیشہ یہی جواب ہوتا تھا۔ والدہ جنید کے لئے عرصہ پانچ سال سے تندہی سے لڑکیاں دیکھ رہی تھیں۔ خاندان اور خاندان سے باہر لیکن میرے بھائی کو کوئی لڑکی پسند نہ آتی تھی۔
پسند آئی بھی تو کون…؟ زریں جس کے بارے میں تمام خاندان میں مشہور تھا کہ اتنی سست اور کاہل ہے ہل کر پانی نہیں پیتی، دن بھر سوئی رہتی ہے یا پھر ٹی وی دیکھتی رہتی ہے۔ گھر کے کام کو ہاتھ لگانا توہین جانتی ہے۔ تنک مزاج اور بدزبان الگ ہے۔ بھائی جان سے شادی ہوگئی۔ پتا چلا کہ ان خصوصیات کے علاوہ بھی بہت سی اور خصوصیات ہیں جو گھر کو ویران اور گھر والوں کی نیندیں اجاڑنے کے لئے کافی ہیں۔ مثلاً دن میں بھی انہیں جن، بھوت نظر آتے تھے۔ ہر وقت یہ اندیشہ کہ یہ کام کیا تو بیمار نہ پڑجائوں اور وہ کام کیا تو نظر نہ لگ جائے۔ ساس پر شک و شبہات، جادو ٹونا نہ کرا دیں اور پڑوسیوں سے اس قدر اپنائیت کہ گھر کی وہ باتیں بھی جو کسی کو نہیں بتائی جاتیں، پڑوسنوں سے جاکر کہنا لازمی کہ ان سے نہ کہوں تو کس سے کہوں؟ امی سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔ ہائے! کسی کا تو کہا سن لیا ہوتا۔ لوگ باگ سچ کہتے تھے۔ زریں کو بہو بنا کر لارہی ہو، خوب سوچ سمجھ لو۔
امی کا بھی کیا قصور، برا ہو عشق کا کہ عشق نہ پوچھے ذات…! یہ کیا دھرا تو سب ہمارے بھائی صاحب کا تھا کہ جنہیں ایک نظر میں زریں سے عشق ہوگیا تھا۔ کہتے ہیں شرفا غلطی کرتے نہیں، اگر کرتے ہیں تو نباہتے ہیں۔ ہمیں بھی نباہ کرنا تھا سو لب سی لئے۔ امی نے گھر سنبھال رکھا تھا اور میں ان کا دست و بازو تھی۔ خیال تھا کہ بہو آئے گی تو گھر سنبھال لے گی، میں پڑھائی پر زیادہ توجہ دے سکوں گی اور ماں کو آرام ملے گا۔ آرام تو کیا ملنا تھا، دن رات کی بے سکونی ہوگئی۔
بھابی صاحبہ دن چڑھے سوتی رہتی تھیں اور رات بھر ٹی وی دیکھتی تھیں۔ پکا ہوا کھانا ہاتھ میں لیتیں اور خالی برتن کمرے میں جمع کرتی جاتیں۔ اگر ہم نہ اٹھاتے دو تین دن جھوٹے برتن ان کے کمرے میں جمع رہتے۔ بھائی جان توجہ دلاتے تو رونے بیٹھ جاتیں۔ کہتیں۔ ماں، بہن کی باتوں میں نہ آئو، خدا کے لئے مجھے سکون سے جینے دو۔ امی کبھی کہہ دیتیں۔ بیٹا! دوپہر تک سوتے رہنا ٹھیک نہیں ہے، رشتے دار عورتیں تمہیں دیکھنے اور تم سے ملنے آتی ہیں۔ کہتی ہیں دلہن سے ملنے آئے ہیں۔ وہ بغیر ملے چلی جاتی ہیں۔ بھابی رونے لگتیں۔ آپ ہر وقت مجھے ٹینشن دیتی ہیں، کیوں میرے پیچھے پڑی ہیں۔ جب میرا جی چاہے گا، اٹھوں گی۔ جب تک دل چاہے گا، سوتی رہوں گی۔ زندگی اسی کا نام ہے۔ اپنی مرضی سے سونا، اپنی مرضی سے جاگنا اور جو جی چاہے کرنا۔ میں انسان ہوں، کوئی روبوٹ نہیں کہ کسی کے اشاروں پر ناچوں۔ یوں پہلے دن سے ہمارے گھر آکر وہ تمام گھریلو ذمے داریوں سے بری الذمہ ہوگئیں۔ امی بیچاری تو یوں بھی اللہ میاں کی گائے تھیں۔ عورتیں کہتیں۔ اس نیک بی بی کے منہ میں زبان نہیں ہے، صابر اتنی کہ بڑے سے بڑا صدمہ سہہ کر بھی اف نہیں کرتیں۔
وہ جھیلتی رہیں، بہو عیش کرتی گئی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹی سے نواز دیا۔ مدت بعد اس گھر میں ننھی منی پری آئی تھی۔ ہم سب خوشی سے دیوانے ہورہے تھے کہ اللہ نے ایک خوبصورت تحفہ عنایت کیا تھا۔ بھابی کی ساری کوتاہیاں اور سست روی بھلا کر اس گڑیا کی محبت میں کھو گئے۔ وہ دادی کی جان تو پھپھو اور چچا کی آنکھوں کا تارا بن گئی۔ دیکھتے دیکھتے پالنے سے پائوں پائوں چلتی کسی نرم و نازک تتلی کی طرح سارے گھر میں دوڑنے لگی۔
سبھی کو اس سے پیار تھا۔ وہ گھر بھر کی جان تھی۔ بھائی جنید تو اسے دیکھ دیکھ کر جیتے تھے اور امی پیار سے میری گڑیا پکارتی تھیں اور بھابی کہتیں۔ چاند ہے میری زندگی کا…! وقت تیزی سے گزرنے لگا۔ گڑیا بڑی ہونے لگی۔ وہ زیادہ تر امی کے پاس رہتی یا میرے پاس! بے شک بھابی کا چاند تھی لیکن جب ان کے آرام میں خلل پڑتا تو گڑیا کو لا کر ہمارے سامنے ڈال جاتیں کہ یہ لو سنبھالو اسے، مجھے سکون سے سونے بھی نہیں دیتی۔
بھابی نیند کی شیدائی تھیں۔ بھلا ایک ننھی بچی کیونکر یہ باتیں سمجھ سکتی تھی۔ اسے تو بس ماں درکار تھی، ہر بچے کی طرح بے شک سارا زمانہ اسے چاہے مگر بچہ تو یہی چاہتا ہے کہ اسے ماں چاہئے اور ماں کی بانہوں میں جاکر ہی وہ سکون محسوس کرتی ہے۔ یہ بات بھابی نہیں سمجھتی تھیں۔ ان کا جب سوجانے یا آرام کرنے کا موڈ ہوتا، وہ گڑیا کو اپنے کمرے سے نکال کر ہماری طرف ہانک دیا کرتیں۔ میں اور امی اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا کرتے تھے۔
یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب گڑیا چار برس کی تھی کہ ہمارے پڑوس میں نئے کرائے دار آگئے۔ برابر والا مکان دو سال سے خالی پڑا تھا۔ پڑوس آباد ہوگیا تو ہم نے سکھ کا سانس لیا کہ ویران گھر بھی کھٹکتا تھا۔ آنے والا یہ کنبہ میاں، بیوی پر مشتمل تھا۔ مرد کا نام سرور اور عورت نے اپنا نام زبیدہ بتایا تھا۔
زبیدہ پکے سن کی تھی، بے اولاد ہونے کی وجہ سے بجھی بجھی رہتی۔ والدہ سے پہلی بار ملی تو ان کو اس عورت کی تنہائی کا احساس ہوگیا۔ بولیں۔ اس کا کوئی بچہ نہیں ہے، شوہر صبح کا گیا شام ڈھلے لوٹتا ہے، سارا دن گھر میں اکیلی ہوتی ہے۔ محلے دار خواتین سے تذکرہ کیا تو سب اس کے پاس جانے لگیں۔ اولاد سے محروم سمجھ کر حسن سلوک سے ملنے لگیں۔
زبیدہ خالہ جلد ہم سے گھل مل گئیں۔ جو پکاتیں، ہمارے گھر آکر دے جاتیں کہ آپ کھایئے اور بتایئے کیسا پکایا ہے۔ مجھے تو ہمیشہ بھرے گھر میں رہنے کی عادت تھی۔ اب اکیلا پن کاٹتا ہے، کیا کروں؟ والدہ جواب دیتیں۔ ہمیں اپنے پاس سمجھو، ایک دیوار ہی تو گھر کے درمیان ہے۔ جب چاہو آجایا کرو۔ ہاں آپا جان! اگر آپ لوگوں کا آسرا نہ ہوتا تو میری تو جان چلی جاتی۔ اللہ جانے وہ یہ کیوں کہتی تھی۔ ہم نے کبھی اس بات پر غور نہ کیا، البتہ ایک بات پر ضرور چونک جاتی کہ جب بھی ہماری گڑیا کو دیکھتی تھی، آنکھوں میں نمی تیر جاتی اور وہ حسرت کی تصویر لگنے لگتی۔ یہ بات امی جان اور بھابی نے بھی نوٹ کی تھی۔ ایک روز وہ آئی تو گڑیا کے لئے خوبصورت سی گڑیا اور چاکلیٹ لائی۔ بچی خوشی سے کھل گئی، تبھی بھابی نے کہا۔ زبیدہ خالہ! آپ کو ہماری بیٹی اچھی لگتی ہے تو بے شک اسے اپنے گھر لے جایا کریں۔
میں سمجھ گئی کہ بھابی چاہتی ہیں گڑیا کچھ دیر پڑوسن کے پاس رہے تاکہ وہ دن میں سو سکیں۔ میں نے ایم اے میں داخلہ لے لیا تھا اور امی جان کی طبیعت کچھ ناساز رہنے لگی تھی۔ وہ کچن سنبھالتیں یا بچی کو دیکھتیں۔ انہوں نے بھابی سے کہہ دیا کہ بیٹی! تم گڑیا کا خیال رکھا کرو۔ اسے وقت پر کھانا کھلانا، نہلانا دھلانا تمہاری ذمہ داری ہے۔ پانچ برس کی ہونے کو ہے، ابھی تک اسکول میں داخل نہیں کرایا۔ یہ ذمے داری بھی تمہیں پوری کرنی ہے۔ بھابی کے کانوں پر جوں نہ رینگی۔ چاہتی تھیں کہ بچی کے سارے کام کوئی اور کرے۔
اس مرحلے پر خالہ زبیدہ کام آئیں۔ گڑیا اسکول میں داخل ہوگئی۔ وہ اسے اسکول لینے جاتیں۔ کہتیں کہ میرا جی بہل جاتا ہے۔ کہیں آتی جاتی نہیں یوں روز ’’واک‘‘ ہوجاتی ہے۔ گڑیا کو اسکول پہنچانا اور لانا اچھا لگتا ہے۔
گڑیا بھی خالہ سے ہل گئی تھی۔ ان کے بغیر نہ رہتی تھی۔ اسکول سے گھر آکر بمشکل کھانا کھاتی اور یونیفارم تبدیل کرکے دوڑتی ہوئی برابر کے گھر میں چلی جاتی۔ امی گڑیا کو روکتیں کہ کبھی کچھ دیر تو اپنے گھر میں بھی رہو، تبھی بھابی انہیں ٹوک دیتیں۔ جانے دیجئے خالہ زبیدہ بچاری بے اولاد ہیں۔ ان کی پیاسی ممتا کو ہماری گڑیا سے سکون ملتا ہے۔ یہ جاتی ہے تو ان کا جی بہل جاتا ہے۔ وہ پردیسی ہیں، کیوں گڑیا کو روکتی ہیں آپ ان کے گھر جانے سے! امی کو بھی خالہ زبیدہ سے ہمدردی تھی لیکن بچی کا معاملہ تھا۔ کہتی تھیں کہ گڑیا لڑکی ذات ہے، اسے اپنے گھر سے باہر رہنے کی عادت پڑ جائے گی۔ دن میں ایک بار ایک آدھ گھنٹے کو چلی جایا کرے لیکن صبح سے شام تک کسی کے گھر رہنا اچھی بات نہیں ہے۔
یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ بزرگوں کی باتیں چھوٹوں کو اچھی نہیں لگتیں۔ والدہ کے روکنے پر بھابی بہت برا مانتیں۔ پڑوسن کو بتا دیتیں تاکہ اس کا دل بھی ساس سے برا ہوجائے۔ مجھے بھابی کی یہ روش ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ اپنی تن آسانی کی وجہ سے اپنا بوجھ دوسروں پر ڈال کر مزے سے آزاد ہوجاتیں۔ ٹی وی دیکھتیں یا سہیلیوں کے گھر چلی جاتیں یا بے وقت سو جاتیں۔ گویا بچی ان پر ایک بوجھ تھی۔ وہ روز اول سے ہی کسی قسم کی ذمے داری قبول کرنے پر تیار نہیں تھیں۔ میرا دل کڑھتا تھا لیکن چپ رہتی۔ اپنی تعلیم مکمل کرنی تھی۔ گڑیا کی پوری ذمے داری نہیں سنبھال سکتی تھی۔ بھائی جان صبح دفتر جاتے، شام کو آتے تھے۔ امی چلنے سے معذور تھیں۔ لے دے کر خالہ زبیدہ رہ جاتی تھیں جو ہماری خیر خبر لینے آجاتیں۔
وہ اب ہم میں اس قدر گھل مل گئی تھیں کہ گھر کا فرد لگتی تھیں۔ صبح سویرے گڑیا کو ناشتہ کرانا پھر تیار کرا کے اسکول لے جانا، اسکول سے واپس لے آنا۔ امی کے لئے کچن میں کھانا بنا دینا۔ امی سخت بیمار پڑ گئیں۔ میرے سالانہ پیپر ہورہے تھے، تب بھی ہماری بے حس سنگدل بھابی ٹس سے مس نہ ہوئیں۔ گرمیوں کی چھٹیاں آگئیں۔ گڑیا چاہتی تھی کہ ماں توجہ دے۔ بھابی الجھتیں، ڈانٹ دیتیں۔ وہ دوڑ کر خالہ زبیدہ کے گھر چلی جاتی، سارا دن ان کے پاس رہتی۔ میں شام کو بلانے جاتی۔ چلو گھر! خالہ کے پیچھے چھپتی۔ ضد کرتی کہ مجھے گھر نہیں جانا، رات کو یہیں رہنا ہے خالہ کے پاس…!
وہ کہتیں۔ کیوں اسے رلاتی ہو، فکر مت کرو، میں کھانا کھلا دوں گی، تھوڑی دیر بعد لے آئوں گی۔ غرض ایسا روز ہونے لگا۔ ہم نے ذہنی طور پر قبول کرلیا کہ ہماری بچی خالہ جی کے پاس زیادہ خوش رہتی ہے اور ان کا دل بھی گڑیا سے بہلا رہتا ہے، پھر کیوں زبردستی گڑیا کو کھینچ لائیں۔ رات کو ان کا شوہر گھر آتا تو وہ بچی کو خود آکر چھوڑ جاتیں۔
خالہ جس قدر ملنسار تھیں، ان کا شوہر اسی قدر خاموش طبع اور سنجیدہ شخص تھا۔ وہ کاروباری آدمی تھا۔ اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔ ان لوگوں کو آئے دو برس ہونے والے تھے مگر اس شخص نے ابھی تک محلے کے لوگوں سے راہ و رسم نہ بڑھائی تھی۔ دور سے سلام کرتا اور کلام کرنے کی زحمت گوارا نہ کرتا۔ سب اسے بدمزاج اور آدم بیزار سمجھتے جبکہ زبیدہ کی خوش اخلاقی کے چرچے تھے۔
ایک دن انہوں نے امی کو بتایا کہ آج میرے شوہر دوسرے شہر جارہے ہیں کسی ضروری کام کے سلسلے میں، رات کو مجھے ڈر لگے گا۔ اکیلی کیسے رہ پائوں گی۔ امی نے کہا۔ تم ہمارے گھر آکر سوجانا۔ بولی۔ مجھے آپ کے گھر نیند نہیں آئے گی۔ چاہتی ہوں گڑیا کو اپنے پاس سلا لوں۔ تم کہتی ہو تو میں تمہارے گھر آکر سو جاتی ہوں۔ والدہ نے دوسری آفر دی۔ آپ کو تکلیف ہوگی، رات بھر آپ کی کھانسی کی آواز سنائی دیتی ہے۔ وہ تو ہے، کھانسی رات بھر مجھے خود کو سونے نہیں دیتی، آپ کیونکر سو سکیں گی۔ ٹھیک ہے کل اس کے اسکول کی چھٹی ہے، آپ گڑیا کو لے جانا۔ یوں بھی اس کی فرمائش ہوتی ہےکہ خالہ کے گھر میں رہنا ہے۔ خالہ خوش ہوگئیں اور گڑیا کو لے کر اپنے گھر چلی گئیں۔ میں نے نوٹ کیا خالہ زبیدہ سے زیادہ ہماری بچی ان کے ساتھ جانے پر خوش تھی۔ انہوں نے گڑیا سے اس قدر پیار بڑھا لیا تھا کہ وہ یہی چاہتی تھی کہ ان کےپاس رہے۔ ہر وقت انہی کے گھر گھسی رہتی کہ اسے کھلاتی پلاتی اور ساتھ کھیلتی تھیں، اس پر جان چھڑکتی تھیں۔
صبح سویرے گڑیا کو لے کر ہمارے گھر آگئیں۔ بولیں کہ میں ناشتے کا سامان لینے جارہی ہوں۔ بھابی سو رہی تھیں۔ میں نے گڑیا کو اپنے پاس بٹھا لیا، پیار کیا۔ سمجھایا خالہ جی کو جانے دو۔ وہ ان کے ہمراہ دکان پر جانے کی ضد کررہی تھی۔ بڑی مشکل سے جانے دیا۔ دن کو بھائی اور بھابی زریں میکے گئے۔ گڑیا جانے پر راضی نہ تھی۔ زبردستی بھابی نے گاڑی میں ڈالا کہ تمہاری نانی اماں یاد کرتی ہیں، کیا ان سے نہ ملو گی؟ شام کو جونہی یہ لوگ واپس آئے، گڑیا دوڑ کر خالہ جی کے گھر پہنچ گئی جیسے اس پر انہوں نے جادو کردیا ہو۔
سچ ہے پیار بچوں کے لئے جادو کا اثر رکھتا ہے۔ جو زیادہ پیار دے، بچے اسی کے ہورہتے ہیں۔ سبھی سمجھ رہے تھے کہ بے اولاد ہونے کی وجہ سے سرور کی بیوی گڑیا پر جان چھڑکتی ہے۔ پیاسی ممتا کی تسکین کو واری صدقے ہوتی ہے۔ کیا خبر تھی کہ آنے والا وقت ہمیں کیا دکھانے والا ہے۔ دوسرے روز بھی تمام دن گڑیا انہی کے گھر رہی۔ امی نے کئی بار کہا۔ زریں بٹیا! جاکر بچی کو دیکھو، اسے گھر لے آئو، میرا جی گھبرا جاتا ہے، اسے نہ دیکھوں تو…! آپ کسی کو خوش دیکھ سکتی ہیں بھلا… آپ کا تو مزاج ہی ایسا ہے۔ گڑیا، خالہ کے پاس خوش رہتی ہے اور آپ کو پریشانی ہوجاتی ہے۔ کیا وہمی طبیعت پائی ہے آپ نے، اپنا اور دوسروں کا سکون برباد کرڈالتی ہیں۔
بھابی جب بھی امی سے مخاطب ہوتیں، ایسا ہی کڑوا کسیلا جواب دیتی تھیں۔ میری ماں بچاری چپ ہوجاتی۔ اس روز بھی وہ صبر کا گھونٹ بھر کر رہ گئیں۔ خود اٹھ نہ سکتی تھیں کہ جاکر بچی کو گھر لے آتیں۔ گزشتہ صبح سے رات بھر وہ خالہ کے گھر رہی تھی اور اب دن کے دس بجے تھے، اسے آجانا چاہئے تھا۔
میں یونیورسٹی گئی ہوئی تھی اور بھائی جان دفتر…! زریں نے بے دلی سے میری ماں کو چائے اور توس لا کر دیئے۔ خود جانے کیا ناشتہ کیا اور جاکر اپنے کمرے میں لیٹ گئیں۔ دس سے گیارہ اور پھر دوپہر بھی ڈھل گئی۔ زریں کو خالہ زبیدہ ہمارے گھر نہ لائیں۔ امی جان کو فکر ہوگئی۔ انہوں نے مجھے فون کیا کہ کب تک آئو گی؟ میرا جی گھبرا رہا ہے۔ بھابی کہاں ہیں…؟ وہ صبح کی اپنے کمرے میں گھسی ہے۔ نکلی نہیں ہے ابھی تک…؟ ہاں! سو رہی ہے جاگ رہی ہے، خدا معلوم…! کمرے سے باہر آئے تو کہوں کہ زبیدہ کے گھر جاکر بچی کو لے آئے۔
میں سمجھ گئی کہ امی گڑیا کی وجہ سے پریشان ہیں۔ میں نے بتایا۔ راستے میں ہوں امی! بس پہنچنے والی ہوں۔ گڑیا کی آپ فکر نہ کریں۔ وہ خود نہیں آئی ہوگی، میں اسے آتے ہی گھر لے آئوں گی۔ میں جب گلی میں پہنچی تو اپنے گھر جانے کی بجائے خالہ کی طرف چلی گئی کہ گڑیا کو لیتی جائوں۔ ان کے گھر کا دروازہ کھلا تھا مگر گھر میں کوئی نہ تھا۔ گڑیا تھی اور نہ خالہ…! سمجھی کہ ہمارے گھر بچی کو چھوڑنے گئی ہیں۔ ایسا نہ تھا خالہ آئی تھیں نہ گڑیا۔ امی مجھے دیکھ کر بے قراری سے اٹھ بیٹھیں۔ زبیدہ کی طرف جائو اور میری پری کو لے کر آئو۔ کیا وہ آئی نہیں…؟
نہیں! تبھی تو بے چینی محسوس ہورہی ہے۔ اچھا! حوصلہ رکھئے، آتی ہوں گی شاید دکان تک گئی ہوں۔ دکان تک گئی ہوں گی! کیا مطلب…؟ میں خالہ کے گھر سے ہوتی ہوئی آئی ہوں، وہاں کوئی نہیں ہے۔ یااللہ…! امی نے سر پکڑ لیا۔ تبھی تو جی گھبرا رہا تھا میر!ا تم سب کتنے غافل اور لاپرواہو۔ اپنی بھابی کو جگائو، اسے بتائو کہ گڑیا نہیں ہے۔ امی! کیا ہوگیا ہے آپ کو… زبیدہ خالہ قریبی اسٹور ضرورت کی اشیاء لینے جاتی ہیں، ضد کرکے گڑیا بھی ان کے ہمراہ چلی گئی ہوگی۔ آجائیں گی۔ مجھے سانس تو لینے دیں، اتنی دور سے آرہی ہوں، کپڑے بدل لوں پھر جاتی ہوں ان کے گھر! میں نے ہاتھ، منہ دھویا، کپڑے بدلے لیکن کھانا نہیں کھایا حالانکہ سخت بھوک لگی تھی۔ والدہ کی بے چین طبیعت کو جانتی تھی۔ وہ پوتی کے معاملے میں بے صبر ہوجاتی تھیں۔
دوبارہ ان کے گھر گئی مگر گھر اسی طرح بھائیں بھائیں کررہا تھا۔ غور کیا تو لگا کہ گھر خالی ہے اور بیشتر ضرورت کا سامان موجود نہیں ہے۔ بس وہاں کچھ فرنیچر اور چارپائیاں پڑی تھیں اور یہ فرنیچر مالک مکان کا تھا۔ اب میرا دل بھی دھک سے رہ گیا۔ اگر وہ مومنہ کو کہیں ساتھ لے گئی تھیں تو ہمارے گھر اطلاع ضرور کرکے جاتیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ…! اس سے آگے میرے ذہن نے کچھ سوچنے سے انکار کردیا۔ کبھی انہوں نے ایسا نہ کیا تھا۔ آخر وہ بچی کو لے کر کہاں چلی گئی تھیں اور ان کا سامان…؟ میرا دماغ سن ہونے لگا، کان شائیں شائیں کررہے تھے۔ بھابی جان کے الفاظ کانوں میں سیٹیاں بجانے لگے۔ بے اولاد ہے بیچاری! ہماری بچی سے اسے اپنے گھر میں رونق محسوس ہوتی ہے، جی بہل جاتا ہے اس کا! بہت پیار کرتی ہے مومنہ کو! تم باربار گڑیا کو آواز دے کر مت بلایا کرو، خالہ زبیدہ کا دل برا ہوجائے گا۔
بھائی کو گئے ہفتہ ہونے لگا تھا۔ وہ بیوی کو تین روز بعد آنے کا کہہ کر گیا تھا۔ میں نے ایک انجانے خدشے کو محسوس کرلیا اور بھائی جان کو دفتر فون کیا۔ بھائی! آپ کب تک گھر آئیں گے، پلیز ذرا جلد آنے کی کوشش کرنا۔ امی کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ میرے لہجے کی گمبھیرتا کو انہوں نے محسوس کرلیا۔ بولے۔ ابھی نکل رہا ہوں، گھنٹہ ڈیڑھ تک پہنچ رہا ہوں تب تک تم سنبھالو۔ امی جان کی زیادہ طبیعت خراب ہو تو اسلم بھائی (چچازاد) کو فون کرلینا، وہ آجائے گا۔
بھائی کو آنے میں تھوڑا وقت تو لگنا تھا لیکن اب میرے دل کو قرار نہ تھا۔ سامنے سڑک پار دکاندار کے پاس پہنچی۔ خالہ اسی سے اکثر سودا سلف لیا کرتی تھیں۔ جی نہیں! میں نے ان کے ساتھ کسی بچی کو یہاں سے گزرتےنہیں دیکھا۔ وہ صبح سے میری دکان پر بھی نہیں آئی ہیں۔ کچھ آگے جنرل اسٹور تھا، میں وہاں بھی گئی۔ اسٹور کے مالک اور ملازم سبھی نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ گلی میں کھیلتے بچوں سے دریافت کیا مگر کسی نے اقرار نہ کیا کہ انہوں نے خالہ یا گڑیا کو دیکھا ہے۔ اتنے میں بھائی جان آپہنچے۔ انہوں نے خالہ کے گھر جاکر دیکھا۔ ان کا رنگ فق ہوگیا کیونکہ خالہ کا ذاتی سامان موجود نہ تھا۔ صرف وہ فرنیچر پڑا تھا جو مالک مکان کا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ یہ لوگ صبح سویرے ہی کوچ کرگئے تھے۔ پہلے سے سامان رفتہ رفتہ سرور لے جاتا رہا ہوگا۔ اب کیا کریں؟ ان کا کوئی اتاپتا معلوم نہ تھا۔ سرور نے بھائی جان سے بھی دور ہی سے سلام دعا رکھی تھی۔ خالہ سے ہم نے کبھی نہ پوچھا کہ تمہارا مستقل ٹھکانہ کہاں ہے۔ یہ بات کبھی ہمارے ذہن میں نہ آئی تھی کہ وہ ہماری گڑیا کو لے کر غائب ہوسکتی ہیں۔ اب تو بھابی جان بھی جلے پائوں کی بلی کی طرح صحن میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھیں۔ کبھی ہاتھ ملتیں اور کبھی سر تھام کر دیوار سے ٹیک لگا لیتیں۔ بھائی باہر چلے گئے مومنہ کو تلاش کرنے اور میں امی کو سنبھال رہی تھی کہ ان کی حالت غیر ہوئی جاتی تھی۔
بھابی نے وضو کیا، جائے نماز بچھا لی۔ وہ دعائیں مانگنے لگیں۔ آنکھوں سے آنسو رواں تھے، سر سجدے میں تھا اور ہچکیاں سارے بدن کو ہلا رہی تھیں۔ اب تو انہیں اپنی آرام طلبی بھولی ہوئی تھی۔ رات کے گیارہ بجے جبکہ بھائی جان تھانے میں بیٹھے تھے، انہیں سرور نے فون کیا۔ بھائی جنید…! پریشان مت ہونا، گڑیا ہمارے پاس ہے اور ہم کسی مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی نہیں آسکتے، کل صبح ان شاء اللہ میں آپ کی بچی کو آپ کے پاس پہنچا دوں گا۔ فون سن کر بھائی کی جان میں جان آئی۔ انہوں نے پولیس والوں کو کہا کہ وہ کل صبح آئیں گے، آج کی رات انتظار کرنا ہوگا۔ سرور نے خدا جانے بھائی کا فون نمبر کہاں سے اور کس سے لیا تھا۔
رات بھر ہم میں سے کوئی سو نہ سکا تھا۔ ساری رات دعا کرتے گزری۔ امی کو تو بھائی نے نیند کی گولی کھلا کر سلا دیا تھا۔ زریں بھابی رات بھر دعائیں کرتی رہیں۔ خدا خدا کرکے صبح طلوع ہوئی، سرور کا فون آگیا۔ جنید بھائی! میں راستے میں ہوں، بس چار چھ گھنٹوں بعد ہم پہنچ جائیں گے۔ فکر نہ کریں، گڑیا خیریت سے ہے۔ دوپہر بارہ بجے دروازے پر دستک ہوئی۔ دل دھک دھک کرنے لگا۔ دوڑ کر جنید بھائی نے در کھولا۔ سرور کے ساتھ گڑیا آگئی تھی لیکن خالہ زبیدہ موجود نہ تھیں۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔ سرور کو گھر کے اندر بٹھایا۔ گڑیا کو لپک کر بھابی جان نے بانہوں میں اٹھا لیا اور گلے سے لگا لیا۔
بھائی کو سرور نے بتایا کہ میری بیوی عجب احمق عورت ہے۔ میرا تبادلہ ہوگیا تو میں نے اسے بتا دیا کہ اب ہم نے واپس جانا ہے۔ وہ کہتی تھی کہ مجھے نہیں جانا کیونکہ اسے گڑیا سے پیار ہوگیا تھا۔ آپ کی بچی بھی اس قدر میری بیوی سے پیار کرنے لگی تھی کہ زبیدہ سوچتی کیسے اسے چھوڑ کر جائوں، اسے صدمہ ہوگا، بیمار پڑ جائے گی۔ پھر اس نے عجب بات سوچ لی کہ گڑیا کو ساتھ لے کر نکل جائوں۔ اس روز صبح چھ بجے گھر سے نکل کر لاری اڈے آگئی۔ میرے پاس پہنچی۔ میں اس کے ساتھ آپ کی بچی کو دیکھ کر حیران ہوگیا۔ پوچھا۔ کیوں لائی ہو؟ کیا اس کے والدین کو بتا کر آئی ہو؟ بولی۔ نہیں! کیونکہ میں اس کی محبت میں گرفتار ہوں اور یہ بھی میرے ساتھ ہل گئی ہے۔ اگر بتاتی تو کیا اس کے والدین آنے دیتے؟ اب میں اسے نہیں دوں گی، ہمیشہ اپنے پاس رکھوں گی۔ تم بھی کسی کو مت بتانا۔ تم پاگل ہوگئی ہو؟ جانتی ہو کیا کہہ رہی ہو؟ اور ان لوگوں کے بارے میں سوچا ہے جن کی یہ بچی ہے، ان پر قیامت گزر رہی ہوگی۔ تم نے محبت میں اندھی ہوکر اسے ساتھ لے لیا مگر معلوم نہیں ہے کہ کسی کا بچہ بغیر اطلاع کے لے جانا کتنا بڑا جرم ہے۔ ابھی اور اسی وقت اسے واپس کرنا ہوگا ورنہ پولیس تک بات پہنچی تو انجام اچھا نہ ہوگا۔ بس صاحب! وہ روتی پیٹتی رہ گئی اور میں بچی کو اس سے چھین کر لے آیا۔ آپ لوگوں کے حوالے کرنے کے لئے! آپ میری بیوی کو خدا کے لئے معاف کردیں۔ سرور نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔ وہ نادان ہے، بے وقوف ہے، قانون کو بالکل نہیں سمجھتی۔ بس بچی کی محبت میں اندھی ہوگئی ہے۔ جنید بھائی نے کہا۔ ٹھیک ہے بھائی! تم نے بچی صحیح سلامت پہنچا دی ہے، یہی بہت ہے، ورنہ ہم مرجاتے، یہ صدمہ کیسے سہتے۔ آپ کی بڑی مہربانی! میں پولیس میں رپورٹ لکھوانے گیا ہوا تھا کہ آپ کا فون آگیا۔ میں نے معاف کیا۔ ہماری بچی مل گئی تو ہماری زندگی واپس آگئی۔
سرور جس کو ہم بداخلاق انسان سمجھتے تھے، وہ ہمارے لئے فرشتہ ثابت ہوااور زبیدہ جسے اپنا سمجھا، اس نے دھوکا دیا۔ انسان کی پہچان بہت مشکل ہے۔ کب وہ بدل جائے، کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ آج بھی بھابی کی یہ بات یاد آتی ہے۔ اب کبھی غفلت سے کام نہیں لوں گی۔ میرا سارا آرام اور سو سال کی نیندیں گڑیا پر قربان…!
(س… کراچی)