Sunday, May 19, 2024

Ajab Raste

ہم بہنیں تو ابو کے ساتھ گاؤں میں رہتی تھیں لیکن بھائی کراچی کے کالج میں زیر تعلیم تھا۔ ابو گاؤں میں اپنی زمین داری سنبھالتے تھے، تبھی زمین چھوڑ کر بڑے شہر میں رہنا پسند نہیں کرتے تھے۔ ایک روز سہیل بھائی کا خط آیا۔ لکھا تھا۔ ابا جان یہاں اکیلے اتنے بڑے گھر میں دل نہیں لگتا۔ مجھے بڑی وحشت ہوتی ہے۔ آپ خدا کے لئے فائزہ اور آئمہ کو میرے پاس شہر بھیج دیجئے ورنہ میں اکیلے نہ رہ پاؤں گا اور واپس گاؤں آجاؤں گا ۔ ابو اسے اچھے ادارے سے اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے تھے ، بیٹے کی بات کو نہ ٹال سکے۔ امی نے بھی اصرار کیا کہ بیٹا وہاں پریشان ہے۔ بوا حلیمہ کے ساتھ ان دونوں کو سہیل کے پاس کراچی بھجوا دو ۔ یہ وہاں اچھے اسکولوں میں پڑھ بھی لیں گی۔ بوا حلیمہ میرے والد کی رشتہ کی بہن تھیں۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ بیوگی کے بعد والد صاحب ان کو اپنے گھر لے آئے تھے۔ وہ ہمارا اپنی اولاد کی طرح خیال رکھتی تھیں۔ یوں ہم بہنیں ان کے ساتھ کراچی آگئے۔ یہاں کے ماحول اور گاؤں کے ماحول میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ گاؤں سے ہم نے صرف چھ جماعتیں پڑھی تھیں اور یہاں تو ساری لڑکیاں ہی اسکول اور کالج جاتی تھیں۔ ہمارے دل میں بھی شوق انگڑائی لیتا کہ ہم بھی پڑھنے جایا کریں۔ جب ہم نے کراچی کے اسکول میں داخلہ لیا تو تایا بہت بگڑے، کہا کہ دیکھ لینا لڑکیاں کسی دن اسکول سے ہی غائب ہو جائیں گی۔ تبھی میرے والد نے ہماری دیکھ بھال کے لئے امی کو بھی کراچی بھیج دیا ۔ انہوں نے رشتہ داروں کی باتیں سہہ لیں ، مگر ہم پر تعلیم کے دروازے کھول دئیے۔ ہماری خاطر، بابا عابد کو بھی کراچی آنا پڑا جو ہمارا پرانا ڈرائیور تھا۔ وہ ہمیں اسکول چھوڑنے اور لینے آتا تھا۔ میں پڑھائی میں بہت تیز تھی جبکہ آئمہ کو گھومنے پھرنے کا شوق تھا میں نے جلد میڑک پاس کرلیا اور کالج جانے لگی جبکہ وہ ابھی آٹھویں کلاس میں تھی۔

اب ہم دونوں بہنوں کے راستے الگ ہو گئے ۔ عابد بابا پہلے آئمہ کو اسکول چھوڑنے جاتا پھر مجھے ، اس طرح واپسی میں بھی ہم الگ الگ وقت پرگهر پہنچتی تهیں اور کبھی ساتھ آجاتی تھیں۔ ایک دن بھائی نے بتایا کہ گاؤں سے کافی مہمان آرہے ہیں۔ تم لوگ جلدی گھر آجانا۔ میں نے کہا ۔ ٹھیک ہے، دو پیریڈ اٹینڈ کرنے کے بعد آئمہ کے اسکول چلی جاؤں گی اور اس کی چھٹی دلوا کرہم جلدی گھر آجائیں گی۔ کالج سے چھٹی لے کر میں آئمہ کے اسکول گئی۔ وہاں اس کی کلاس فیلو سے بات ہوئی ۔ اس نے بتایا کہ آئمہ آج اسکول ہی نہیں آئی۔ میں خاموشی سے واپس آگئی۔ اتنے میں چھٹی کا ٹائم ہوگیا۔ میں دوبارہ آئمہ کے اسکول گئی دیکھا تو وہ گیٹ کے باہر کھڑی ڈرائیور کا انتظار کررہی ہے۔ میں نے اس وقت اسے کچھ نہ کہا کہ سچ تو بتائے گی نہیں، پھر ایسے پوچھ گچھ کرنے کا کیا فائدہ؟ سوچا کہ اس کا پیچھا کرکے پتا کروں گی کہ آخریہ کہاں جاتی ہے؟ ایک روز میں نے نوٹس کیا کہ آج آئمہ کچھ اہتمام سے تیار ہورہی ہے۔ اس نے بالوں میں نئے ربن باندھے اور آنکھوں میں کاجل بھی لگایا جبکہ وہ روز سادگی سے چلی جاتی تھی۔ آج اس کے کپڑے بھی اجلے تھے اور اس نے استری پر کافی توجہ دی تھی۔ میں اس کی تیاری اور انداز کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ اس روز میں نے اپنا آخری پیریڈ چھوڑ دیا اور اس کے اسکول چلی گئی۔ چھٹی ہونے میں کچھ دیر تھی۔ دیکھا، وہ اسکول سے کچھ دور نیلے رنگ کی کار سے اتری اور اپنے ڈرائیور کے انتظار میں مخصوص جگہ جاکر کھڑی ہوگئی وہ اپنے خیالات میں اتنی گم تھی کہ اس نے مجھے نہیں دیکها ، یہاں تک کہ میں اس کے قریب پہنچ گئی۔ تھوڑی دیر میں ہمارا ڈرائیور آگیا اور ہم دونوں بہنیں گاڑی میں بیٹھ گئیں۔ راستے بھر میں چپ رہی، نہ ہی آئمہ کچھ بولی۔ گھر آکر میں نے اس سے کہا۔ آئمہ تم کو ذرا شرم نہیں آئی۔ ابو نے سارے خاندان کی مخالفت کے باوجود بھیا کے کہنے پر کتنی مشکل سے ہمیں پڑھنے کی اجازت دی ہے اور تم ان کے اعتماد کواس طرح دھوکا دے رہی ہو کیا ہی اچھا تھا کہ ہم گاؤں ہی میں رہتیں ۔ جب میں نے خوب اسے لعنت ملامت کی تو وہ رونے لگی اور مجھ سے وعدہ کیا کہ اب وہ پھر کبھی اس لڑکے سے نہیں ملے گی۔ میرے پوچھنے پراس نے بس اتنا ہی بتایا کہ وہ بہت اچھا اور شریف لڑکا ہے اور بہت جلد پڑھنے کے لئے لندن جارہا ہے۔

امتحان کے بعد میں نے آئمہ کو امی کے ساتھ گاؤں بھجوا دیا۔ مجھے ڈر تھا کہ وہ کوئی غلطی نہ کر بیٹھے ۔ بھیا کی شادی ہوگئی تو میں بھائی کے ساتھ کراچی میں رہ گئی اور آئمہ امی کے ساتھ گاؤں میں ہی رہنے لگی۔ وہ جب بھی کراچی آتی، بہت پریشان ہوتی۔ اس لڑکے کو یاد کر کے روتی۔ میں اس کو سمجھاتی کہ پگلی بھول جا اس کو کون تھا، کہاں گیا ۔ وہ سمجھتی تھی کہ شاید وه لندن چلا گیا ہوگا۔ وہ مجھ سے کہتی۔ باجی میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ اس سے کوئی واسطہ نہ رکھوں گی، اس لئے تبھی آخری بار ملی تھی۔ اس نے پتا دینا چاہا تو میں نے نہ لیا اور اس نے جب میرا پتا مانگا تو میں نے وہ بھی نہ دیا۔ میں ڈرتی تھی کہ اگر اس نے خط و کتابت کی کوشش کی تو آپ ابو کو کہہ دیں گی۔ آئمہ نے بتایا کہ اس لڑکے نے اس کو اپنی گھڑی بھی دی تھی، کہ اس گھڑی کو دیکھ کر مجھے یاد کرلیا کرنا۔ میں اسی گھڑی میں ٹائم دیکھ کر تمہارے پاس آیا کرتا تھا ۔ چھوٹی بہن کو روتے دیکھ کر میرا دل پسیجنے لگا اور میں خود کو مجرم سا محسوس کرنے لگی۔ ایک روز اس کے رونے پر مجبور ہوکر میں نے ایک ہفت روزہ میں اشتہار دیا اور پورا واقعہ بھی لکھ دیا۔ آئمہ بتاتی تھی کہ وہ بھی گاؤں کا رہنے والا تھا اور دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ ہفتہ میں ایک دن آئمہ اسکول سے چھٹی کرکے اس سے ملتی تھی۔ وہ اسے گھمانے لے جاتا۔ وہ کہتا تھا کہ آئمہ میں تم سے شادی کروں گا ، اس پہلے کبھی تم پر بری نظر نہیں ڈالوں گا۔ کبهی کبهی وہ صبح اٹھ کر میرے پاس آجاتی اور کہتی۔ باجی، آج میں نے اس کو خواب میں دیکھا ہے۔ میناپنی بہن کو سمجھاتی کہ دیکھو ، تم ابھی ناسمجھ ہو۔ مردوں کو نہیں جانتیں۔ وہ تو تم کو بھول بھی چکا ہوگا۔ کسی کا خیال اتنا نہیں لگا لینا چاہیے کہ آدمی نفسیاتی مریض بن کررہ جائے۔ وہ بیچاری چپ ره جاتی۔ اپنا دکھ میرے سوا کسی اور سے بانٹ بھی تو نہیں سکتی تھی چند روز کراچی میں رہ کر وہ گاؤں چلی گئی۔

اس کے جانے کے بعد بھائی میرے لئے اپنے ایک دوست فیروز کا رشتہ لائے۔ اس کی بہن اور امی ہمارے گھر ایک دوبار آچکی تھیں۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور پسند کرلیا۔ کچھ دنوں بعد فیروز کی امی نے بھابھی سے رشتے کے لئے ذکر کیا تو بھائی نے امی ابو کو گاؤں سے بلوالیا۔ میرے والدین نے لڑکے کو دیکھا اور سوچا کہ رشتہ اچھا ہے۔ ہماری لڑکی بھی کافی پڑھ لکھ گئی ہے ، اب کسی آن پڑھ سے نباہ مشکل ہے، تبھی انہوں نے بہت سوچ سمجھ کرمیری منگنی فیروز سے کردی کہ وہ بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا۔ آئمہ کی منگنی ماموں کے لڑکے سے ہوگئی۔ وہ صرف میٹرک پاس تھا گرچه ماموں کی کافی زمینیں تھیں، لیکن بیٹے نے میڑک کے بعد تعلیم کی طرف توجہ نہ دی۔ منگنی کے بعد بھی میں نے کبھی فیروز کو نہ دیکھا کیونکہ ہم اندرون سندھ کے روایتی گھرانے اور خاندانی رسم ورواج کے سختی سے پابند تھے۔ ان دنوں منگیتر سے پردہ کیا جاتا تھا، اس لئے وہ بھی مجھ کو نہیں دیکھ پائے جب والدہ اور بہنوں نے پسند کرلیا تو انہوں نے اپنے گھروالوں کی پسند پر بھروسہ کرلیا۔ منگنی کے بعد صرف دو مرتبہ وہ ہمارے گھر آئے، وہ بھی عید کے دوسرے روز ، بھائی کے ساتھ آئے اور انہی کے ہمراہ کراچی چلے گئے۔ وہ صرف ایک روز ٹھہرے ، وہ مردان خانے میں ، جو گھر سے تھوڑی دور ہی بنا ہوا تھا۔ آئمہ کو البتہ میرے منگیتر کو دیکھنے کا بڑا شوق تھا مگر جب بھی وہ گاؤں آتی، اتفاق سے فیروز، بھیا کے گھر نہیں آپاتے تھے۔ منگنی کے چھ ماہ بعد شادی کی تاریخ رکھ دی گئی اور تیاریاں ہونے لگیں ۔ میرے ساتھ آئمہ کو بھی مایوں بٹھا دیا گیا۔ ہم دونوں بہنوں کی ساتھ رخصتی ہونا تھی۔ اس کی بارات حیدرآباد سے آئی تھی اور میری کراچی سے شادی کا دن آگیا، رخصتی ہوگئی اور میں رات دس بجے دولہا کے گھر پہنچا دی گئی، جبکہ آئمہ بیاہ کرحیدر آباد چلی گئی۔ رواج کے مطابق ہم دونوں کو ساتویں دن میکے آنا تھا ۔ اتوار کی صبح ، آٹھ بجے میں امی کے گھر آگئی اور آئمہ کوئی دوبجے حیدرآباد سے آئی۔ ہم دونوں ہی اپنی اپنی جگہ خوش تھیں ۔ آئمہ کی شادی اپنوں میں ہوئی تھی۔ اسے ابھی تک میرے دولہا کو دیکھنے کا اشتیاق تھا ہماری شادی والے دن تو وه خود دلهن بنی ہوئی تھی ، اس لئے فیروز کو نہیں دیکھ پائی تھی۔ بار بار کہتی کہ باجی تمہارے دولہا کب اندر آئیں گے کہ میں ان کو دیکھوں رات کے آٹھ بجے فیروز آئے۔ میں نے ان کو بتایا کہ مجھ سے زیادہ میری چھوٹی بہن آپ کا انتظار کر رہی ہے ۔ میں آئمہ کو کمرے میں لے آئی۔

اس کو دیکھتے ہی وہ بجھ کر رہ گئے بولے۔ آئمہ تم؟ وہ بھی حیران تھی۔ بولی۔ وجاہت تم؟ میں فیروز کا نام وجاہت سن کر حیران رہ گئی۔ پتا نہ تھا کہ اس کے دونام ہیں۔ پیار سے ان کی دادی ان کو وجاہت بلاتی تھیں، لہذا گھر میں انہیں یہی کہا جاتا اور اسکول میں نام فیروز لکھوا گیا تھا۔ انہوں نے آئمہ کو اپنا گهر والا نام بتایا ہوا تھا ۔ اب میری بہن کا یہ عالم کہ چہرے پر خوشی کی جگہ زردی چھائی تھی۔ وہ بجھ کررہ گئی ، پھر کرسی پر بیٹھتے ہی بے ہوش ہوگئی۔ اس کو اسپتال لے گئے۔ میں فیروز کے ساتھ رات کو گھر واپس آگئی۔ میں نے ان کو قسم دے کر پوچھا تو انہوں نے ساری بات سچ سچ بتادی۔ وہی باتیں جو آئمہ بتایا کرتی تھی۔ آپ نے آئمہ کو اپنا نام وجاہت کیوں بتایا تھا ؟ وہ بولے۔ مجھے اپنا نام وجاہت ہی پسند تھا۔ گھر والے بھی اسی نام سے بلاتے تھے۔ بے شک مجھے اس سے محبت تھی مگر آج سے تم یقین کرلو کہ وہ میری بہن ہے۔ فیروز نے شاید آئمہ کو بھلا دیا تھا لیکن وہ اس کو نہیں بھلا پائی تھی۔ اس کے بعد اگر آئمہ میکے آتی تومیں ہی اس سے ملنے امی کے گھر چلی جاتی لیکن وہ میرے گھر نہیں آتی تھی شادی کو ایک سال گزر گیا لیکن پهر کبھی آئمہ اور فیروز کا سامنا نہیں ہوا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹے سے نوازا۔ آئمہ بھی ایک بچی کی ماں بن گئی ۔ اس کے سسرال والے آئمہ سے شکوہ کرتے کہ وہ اداس رہتی ہے اور اس کا دل ابھی تک شوہر سے نہیں لگا ہے۔ گھر داری میں بھی دلچسپی نہیں لیتی ہے ۔ دو ایک باراس کا شوہر میرے پاس آیا اور کہا۔ باجی آپ اس کو سمجھائیے۔ وہ مجھ سے سیدھے منہ بات نہیں کرتی۔ یہ سن کر مجھے بہت دکھ ہوتا ہے مگر میں اس کو کیا سمجھاؤں کہ مجھے خود اپنے سرتاج سے محبت تھی ۔

Latest Posts

Related POSTS