Ajnabe Ka Kya Aitbaar | Teen Auratien Teen Kahaniyan

396
ابا ایک اسکول ٹیچر تھے ۔ ان کو دادا کی وراثت سے تھوڑی سی اراضی ملی تھی۔ یوں ٹھیک گزارہ ہو رہا تھا۔ والد چونکہ خود ٹیچر تھے اسی لیے تعلیم کے حق میں تھے۔ ہم چاروں بہنوں کو اسکول میں داخل کرادیا جبکہ باجی صرف پانچ جماعت پڑھ کر گھر بیٹھ گئیں کیونکہ والدہ کا گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹانے والا کوئی نہ تھا۔
ان دنوں میں پانچویں جماعت میں تھی جب ایک روز ابا اپنے ساتھ ایک شخص کوگھر لے آئے۔ وہ آدمی میرے والد صاحب کی عمر کا تھا۔ اور صورت شکل سے شریف آدمی لگتا تھا۔ آتے ہی والد نے پوچھا زاہدہ کی ماں کیا کھانا تیار ہے؟ جی ہاں۔ سرسوں کا ساگ اور چاولوں کے آٹے کی روٹی بنائی ہے، آپ ہاتھ منہ دھولیں، میں کھانا ابھی لاتی ہوں۔ صحن میں ہی چولہا تھا جس کے چاروں طرف چھوٹی سی چار دیواری بنی ہوئی تھی۔ اماں نے جلدی جلدی ساگ کو مکھن اور لہسن کا تڑکا لگایا اور بڑے سے قلعی والے کٹورے میں دیگچی سے انڈیل کر کٹورا بھردیا۔ چنگیری میں نیا رومال بچھا کر روٹیاں لپیٹ دیں۔ اس وقت تک ابا، مہمان کے ہاتھ دھلاچکے تھے اور دونوں آمنے سامنے چارپائی پر بیٹھے ہوئے تھے، میری ماں نے روٹیاں اور ساگ کا کٹورا ان کے درمیان رکھ دیا۔ وہ دونوں ہی صبح سے بھوکے تھے۔ بہت اشتیاق اور رغبت سے کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے۔ ہم ساری بہنیں… مہمان کوگھر میں داخل ہوتے دیکھ کر کمرے میں چلی گئی تھیں۔ جب والد کھانا کھاچکے تو خالی برتن اٹھاکر چوکے کی طرف آئے تو ماں نے سرگوشی میں سوال کیا زاہدہ کے ابا … یہ مہمان کون ہے؟
میرا بھائی ہے۔ مدت بعد اچانک مل گیا۔ ان کو سلام کرو۔ اماں نے سر پر دوپٹہ ٹھیک کیا اور مہمان کے قریب پہنچ کر ادب سے کہا، سلام بھائی جی ! اجنبی مرد نے اس کا جواب دیا۔ ابا نے ہمیں آواز دی ادھر آؤ … تمہارا چاچا آیا ہے، انہیں سلام کرو۔ ہم نے اس چاچے کو جسے پہلی بار دیکھا تھا، ادب سے کہا سلام چاچا جی ۔ جیتی رہو… انہوں نے پیار سے جواب دیا۔ ایک لمحہ رکے بغیر ہم دوبارہ اپنے کمرے میں آکر پڑھنے بیٹھ گئیں۔ مغرب ہوچکی تھی۔ سب نے نماز پڑھی، ہمارے گاؤں میں ان دنوں بجلی نہ تھی، لالٹین جلاکر کمرے میں رکھی تھی اور اسے بجھا کر اپنے اپنے بستروں پر لیٹ گئیں۔ ہمارے گھر میں دوکمرے قریب قریب تھے، ان کے آگے برآمدہ تھا۔ صحن کی دوسری جانب ایک اور بھی کمرہ تھا جو نسبتاً چھوٹا تھا اور اکثر بند رہتا تھا۔ دراصل یہ مہمان خانے کے طور پر بنوایا گیا تھا۔ اس کا ایک دروازہ باہر کی طرف بھی کھلتا تھا۔ آنے والے مہمان کو کمرہ کھول کر والد نے وہاں ٹھہرا دیا۔ پانی کا جگ اور گلاس بھی لے جاکر رکھ دیا۔ دودھ کا گلاس بھرکر لے گئے اور کہا بھائی اگر کچھ اور ضرورت ہو تو درکھٹ کھٹا دینا اور رات کو یہ دودھ پی لینا۔
جب مہمان داری سے فارغ ہوئے تو ابا اپنے کمرے میں آئے۔ اماں عشاء کی نماز پڑھ چکی تھیں اور ان کی آمد کی منتظر تھیں۔ پوچھا۔ زاہدہ کے ابا یہ مہمان کون ہے … پہلے تو کبھی نہیں دیکھا۔کیا کہیں پردیس سے آیا ہے۔
آہستہ بولو، ابا نے کہا۔ یہ میرا کچھ نہیں ہے۔ آج صبح اسکول سے کھیتوں میں گیا تھا، یہ وہاںمنڈیر پر بیٹھا مل گیا۔ بہت خستہ حال اور بھوکا پیاسا تھا۔ اس کی حالت زار دیکھ کر سوال کیا بھائی کیا پردیسی ہو، راستہ بھول گئے ہو۔ اس گاؤں میں کس کے پاس آئے ہو۔
فضل دین کے پاس، اس سے دور کی رشتے داری ہے۔ وہ تو مرچکا کب کا۔ اسے مرے ہوئے دس برس ہوچکے ہیں۔ کیا تم کو اس بات کی خبر نہیں تھی۔
نہیں، اگر ہوتی تویہاں کیوں آتا۔ اس کا تو گھر بھی بک گیا۔ اس کا ایک بیٹا تھا جودبئی چلاگیا اور پھر نہیں لوٹا۔ شام ہورہی ہے اب تم کدھر جاؤگے۔
بڑی دور کا سفر کرکے بڑی آس لے کر آیا تھا۔ یہ آخری سہارا بھی ہاتھ سے نکل گیا، کیا بتاؤں کہ اب کدھر جاؤں گا، اس نے بے بسی سے کہا … تو مجھے اس پر ترس آگیا۔ میرے ساتھ چلو میرے گھر۔ یہ فوراً ساتھ ہولیا۔ بہت مشکور ہوا۔ راستے میں بتایا کہ اس کا اس دنیا میں اب کوئی نہیں ہے۔ بے اولاد ہے۔ بیوی مرچکی ہے۔ شہر میں نوکری کرتا تھا، سیٹھ نے نکال دیا کہ تم بوڑھے ہوگئے ہو۔ کام ٹھیک سے نہیں کرسکتے۔ آنکھوں سے بھی کم نظر آتا ہے۔ میں اس کی گاڑی چلاتا تھا، ایک روز رات کے وقت سامنے سے آتی گاڑی نظر نہ آئی، آنکھوں میں لائٹ پڑی تو ٹکر مار دی … اس کی نئی گاڑی کا کافی نقصان ہوا، شکر ہے کہ جان بچ گئی ۔ سیٹھ نے فوراً نوکری سے فارغ کردیا۔ کافی دن بیمار رہا۔ معمولی چوٹیں آئیں جب ٹھیک ہوکر اسپتال سے نکلا تو رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ سوچا فضل دین کے پاس چلا جاتا ہوں، میری مرحومہ بیوی کا چچا زاد ہے۔ کچھ دن آرام کروں گا پھر دیکھی جائے گی ۔
بچارا بہت دکھی تھا۔ اسے گھر لے آیا ہوں، اب آگے کی سوچو… کب تک رکھو گے ۔ سوچ لیں گے کچھ دن تو آرام کرلینے دو۔ ابھی تک چوٹیں درد کرتی ہیں۔ سخت کام نہیں کرسکتا۔ یہ کہانی سن کر اماں کے دل میں بھی رحم نے جگہ بنالی۔ دونوں کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد سوگئے۔
امی اور ابا سارا دن کام کرتے تھے۔ تھک جاتے تھے تو عشاء کے فوراً بعد سوجاتے تھے، صبح تڑکے جو اٹھنا ہوتا تھا۔ میری بہنیں بھی گہری نیند میں جاچکی تھیں لیکن میں جاگ رہی تھی، جانے کیوں دیر تک نیند نہ آئی۔ بار بار اس بیچارے پردیسی کا خیال آتا رہا جس کا کوئی نہ تھا اور ہمارے گھرآکر پناہ لی تھی … ابا نے اسے بھائی بتاکر تعارف کروایا تھا جبکہ وہ ہمارا کسی رشتے سے بھی چچا نہیں ہے۔
والد نے اس شخص یعنی شفیق کے بارے میں کسی سے پوچھ گچھ نہ کی، بس دکھی اور بے سہارا جان کر ٹھہرالیا۔ رفتہ رفتہ شفیق چچا ہم سے اور ہم ان سے مانوس ہوتے گئے۔ انہوں نے جانے کا نام نہ لیا اور میرے والدین نے بھی جانے کو نہ کہا۔ وہ ہمارے گھر کے ایک فرد کی طرح رہنے لگے۔ والد صاحب جیسے سادہ لوح تھے۔ والدہ بھی ویسی ہی تھیں، وہ شفیق کی عزت کرتے تو ہم بھی ان کی عزت کرتے تھے۔ ہمارا کوئی چچا، تایا یا ماموں نہ تھا تبھی ہم اس شخص سے پیار کرنے لگے۔ حسب معمول، والد صبح سویرے اٹھ کر مسجد چلے جاتے، نماز پڑھ کر لوٹتے،امی ناشتہ تیار کرچکی ہوتیں، وہ ناشتہ کرکے اسکول چلے جاتے ہم بھی ان کے جانے کے بعد ناشتہ کرکے اپنے اسکول چلی جاتیں۔ امی گھر کے کاموں میں مصروف ہوجاتیں جبکہ شفیق چچا اپنی کوٹھری میں لیٹے رہتے۔
کچھ دن بعد انہوں نے والد سے کہا، آپ اسکول پڑھانے کے بعد اپنے کھیتوں میں کام کرنے نکل جاتے ہو اور میں سارا دن بیکار رہتا ہوں۔ بیکار رہنے سے گھبرا گیا ہوں، مجھے بھی کھیتوں میں کسی کام پر لگا دو تاکہ کچھ کام کاج کرکے بیکاری سے نجات پالوں۔
ارے بھائی… پوری طرح توانا ہوجاؤ، ابھی تک تمہاری ٹانگ میں درد ہوتا ہے۔ ایکسیڈنٹ کی چوٹ سے سخت محنت والا کام نہیں کرپاؤ گے اور کھیتوں کاکام بے حد محنت مشقت والا ہوتا ہے۔ بہتر ہے فی الحال گھر پر آرام کرو، گھر میں بھی چھوٹے موٹے بہت سے کام ہوتے ہیں تمہاری بھابھی جن سے پریشان رہتی ہے تم وہ کام کردیا کرو۔ اس کے بعد چچا شفیق بھینسوں کو چارہ ڈالتے اور ماں کو لکڑیاں کاٹ کردیتے تھے۔ مٹکوں میں پانی بھرتے، کھیت سے ساگ توڑ کر لادیتے، غرض وہ گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹانے لگے۔
ایک دن امی اور دونوں چھوٹی بہنیں خالہ کے گھر گئی ہوئی تھیں۔ ابا گھر لوٹے تو ان کے اچانک گردے میں درد ہونے لگا۔ چچا نے کہا چلو میں تمہیں اسپتال لے چلتا ہوں۔ پڑوسی سے ٹرک مانگ لو ، میں ڈرائیونگ کر لیتا ہوں۔ والد کو درد میں شدت محسوس ہونے لگی تو انہوں نے مجھے کہا۔ فائزہ جاکر چاچا کرم داد کو کہو کہ اپنا ٹرک دے دیں۔ شفیق مجھے اسپتال لے جائے گا۔ چاچا کرم داد موجود نہ تھا۔ اس کی بیوی نے چابی دے کرکہا بے شک لے جاؤ، کرم داد تو کھیتوں کو پانی لگانے گیا ہے۔ میں نے چابی لاکر ابا کو دی۔ انہوں نے شفیق کو کہا، ٹرک پڑوس سے اپنے دروازے پر لے آؤ۔ وہ لے آیا اور سہارا دے کر ابا کو اس میں بٹھایا، وہ ان کو شہر کے اسپتال لے گیا۔ دوگھنٹے کے بعد چچا آگیا مگر ابا ساتھ نہیں تھے۔ بولا، ڈاکٹر نے ان کو داخل کرلیا ہے کل ایکسرے وغیرہ کریں گے پھر دیکھیں گے کہ آپریشن کرنا ہے یا کیا کرنا ہے۔
والدہ شام کو لوٹیں تو بہت پریشان ہوئیں۔ چچا شفیق سے کہا کہ مجھے ابھی اسپتال لے چلو۔ وہ بولے۔ ابھی جانے کا فائدہ نہیں، وہ وہاں بستر پر آرام سے لیٹے ہیں، درد کم کرنے کا انجکشن ان کو لگا دیا تھا، سو رہے ہوں گے تم رات کو بچیوں کو اکیلے چھوڑ کر اسپتال کیوں جارہی ہو، وہاں کیا کروگی جاکر، صبح تڑکے میں خود چلا جاؤں گا۔ بچیوں کو اکیلے گھر میں چھوڑ کر تمہارا جانا مناسب نہیں ہے۔ چچا شفیق کی بات امی کے دل کو لگی، بولیں۔ بھائی جی کہتے توآپ ٹھیک ہو۔ اللہ ان کو شفا دے رات تو کسی نہ کسی طرح کاٹنی ہے۔
اماں رات بھر اپنے سہاگ کی سلامتی کے لیے دعائیں کرتی رہیں۔ ہم بچیوں کو کچھ دیر بعد نیند آگئی اور چچا آج کوٹھری میں سونے کی بجائے دروازے کے پاس چارپائی ڈال کر سوگئے جیسے ہمارے گھر کی نگرانی کررہے ہوں۔ صبح سویرے وہ اسپتال چلے گئے۔ قریب ہی لاری اڈا تھا اور ویگن شہر کو جانے کے لیے آسانی سے مل جاتی تھی۔ دوپہر تک ہم اور والدہ بے چین رہے، بے قراری سے چچا کا انتظار کرتے رہے ۔ دوپہر کے بعد کہیں وہ آئے بولے۔ چھوٹا آپریشن ہوا ہے، درد گردے میں نہیں تھا بلکہ اپنڈکس کا آپریشن ہوا ہے۔ دوچار روز میں ٹھیک ہوکر گھر آجائیں گے۔ ان کے لیے یخنی وغیرہ تیار کردیں تو میں جاکر دے آتا ہوں۔ رات وہاں رک جاؤں گا صبح آؤں گا آپ لوگ اپنا خیال رکھنا۔
بھائی جی! گاؤں میں کسی بات کا ڈر نہیں ہے آپ بس زاہدہ کے ابا کا خیال رکھنا۔ ہوسکے تو کل مجھے لے چلنا۔ ٹھیک ہے بھابھی جی۔ اب میں چلتا ہوں۔ یخنی کا ٹفن لے کر وہ چلے گئے۔ وہ رات بھی ہم نے دعائیں مانگتے بے چینی میں کاٹی۔ صبح چچا آگئے، خالی ٹفن ہاتھ میںتھا۔ بولے۔ دو دن اور ان کو اسپتال میں رہنا ہے پھر چھٹی ہوجائے گی۔ اب ٹھیک ہیں، فکر مت کریں۔ والدہ بہ ضد ہوگئیں کہ مجھے اسپتال جانا ہے آج میں ان کے پاس رکوں گی۔
جیسی آپ کی مرضی۔ بھابھی تیار ہوجائیے۔ امی نے جلدی سے دلیہ بنایا، ٹفن میں بھرا اور صاف جوڑا پہن کر تیار ہوگئیں۔ وہ چچا کے ساتھ لاری اڈے چلی گئیں۔ دو گھنٹے بعد شفیق چچا لوٹ آئے۔ کہا کہ آپ کے والدین نے مجھے بھیج دیا ہے، آپ بچیاں
اکیلی ہو نا… آج تمہاری امی وہاں رک گئی ہیں، میں نے بہت کہا وہ نہ مانیں بولیں کہ ان کی پھوپھی کاگھر قریب ہے ان کو رات کوبلا کر گھر میں بچیوں کے پاس سلا لینا۔ یہ سن کر میں دوڑی ہوئی پڑوس میں گئی اور کرم داد کی بیوی سے کہا۔ پھپھو آج تم ہمارے پاس ہمارے گھر سونا… اماں ابا دونوں اسپتال میں ہیں۔ وہ ہماری سگی پھوپھی نہ تھیں مگر ہم ان کو پھوپھی ہی کہتے تھے۔ فوراً سر پر برقع ڈال کر میرے ساتھ ہمارے گھر آگئیں اور رات کو ہمارے پاس رہیں جبکہ شفیق چچا گھر کے باہر دروازے پر چارپائی ڈال کر سوگئے۔ صبح سویرے زاہدہ باجی اٹھ گئیں۔ پھپھو اپنے گھر چلی گئیں اور میری بہن نے چولہا چوکا سنبھال لیا۔ اماں کی طرح ہم سب کا ناشتہ بناکر اسکول روانہ کیا۔ ابا کے لیے کھچڑی بنائی اور ٹفن میں بھر کردے دی کہ آپ اسپتال جاکر دے آئیں۔
وہ بولے۔ زاہدہ بیٹی تم بھی ساتھ چلو میں تمہارے ابا کے پاس رک جاؤں گا۔ تمہاری ماں شہر سے یہاں اکیلی کیسے آئے گی تم ساتھ ہوگی تو دونوں اکٹھی آجانا، ابا کوبھی دیکھ لوگی۔ باجی تو دل سے چاہ رہی تھی کہ ابا کو اسپتال جاکر دیکھے، فوراً تیار ہوگئی اور چچا شفیق کے ساتھ چلی گئی۔ جاتے ہوئے پھپھو کو بتاگئی کہ تم ہمارے گھر کا خیال رکھنا میں اسپتال جارہی ہوں۔ امی کے ساتھ دوگھنٹے تک آجاؤں گی۔
اس دن کے بعد میری بہن زاہدہ ایسی غائب ہوئی کہ ان کا کوئی نشان نہ ملا۔ امی ابو اسی شام کوگھر آگئے۔ ابا کو اسپتال سے چھٹی مل گئی تھی۔ وہ چچا کرم دادکے ٹرک پر آئے تھے جو ان کی عیادت کو اسپتال گئے تھے۔ ہم بھی اسکول سے گھر آگئی تھیں مگر زاہدہ باجی اور چچا شفیق کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ روتے روتے امی کو دورے پڑنے لگے، ابا بھی ماتھا پیٹ کرکہتے تھے ہائے میں نے کیوں ایک اجنبی پر اعتبار کیا۔ اب میں آپریشن کے سبب اٹھ بھی نہیں سکتا۔ زاہدہ کو ڈھونڈنے کے لیے کیوں کر بھاگ دوڑ کروں۔ وہ ظالم انسان جو مظلوم بن کر آیاتھا نجانے ہماری بیٹی کو کہاں لے گیا۔ پولیس میں رپورٹ لکھوائی جہاں تک ممکن ہوسکا، باجی کو ڈھونڈنے کی کوشش کی، انہیں اب کہاں ملنا تھا، ابا کی زمین بک گئی مگر بیٹی کو نہ ڈھونڈ سکے۔
وقت کے ساتھ صبر توکرلیا مگر صبر کہاں آتا ہے ایسے معاملات میں، جیتے جی مر گئے تھے۔ یونہی دوسال گزر گئے۔ ایک دن اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ ایک شخص کراچی شہر سے آیا تھا اس نے بتایا کہ آپ کی بیٹی فلاں جگہ ہے، اس نے مجھے پتا دیا ہے کہ جاکر آپ لوگوں کو بتاؤں میرے ساتھ چلو، میں زاہدہ کے پاس لے چلتا ہوں۔
والد نے گاؤں کے دو معزز لوگوں کو ہمراہ لیا اور پولیس کو بھی اطلاع کرائی۔ سب لوگ کراچی روانہ ہوگئے۔ چھ روز بعد اباجی، زاہدہ باجی کو لے آئے۔ وہ سوکھ کرکانٹا ہوگئی تھیں۔ شفیق چچا اسپتال لے جانے کے بہانے انہیں شہر لے گئے جہاں ایک گاڑی میں بٹھایا۔ گاڑی میں ان کے دوآدمی تھے جنہوں نے باجی کو بیہوش کردیا اورکراچی لے گئے، باجی زاہدہ نے بتایا۔ شفیق مجھے ایک فلیٹ میں لے گیا جہاں چند لوگ تھے وہاں ایک فارم پر میرا انگوٹھا لگوایا اور ایک نوجوان کے حوالے کردیا کہ یہ تیرا شوہر ہے اور اب تم نے اسی کے ساتھ رہنا ہے۔ اس جعلی نکاح کے بدلے شفیق نے اس آدمی سے کافی موٹی رقم لی، گویا باجی کو بیچ دیا۔
دوسال تک باجی اس آدمی کے پاس رہی جو خود کو ان کا شوہر کہتا تھا اور میری بہن بادل نخواستہ اس کے ساتھ رہنے پر مجبور تھی۔ وہ کہیں بھاگ کر بھی نہ جاسکتی تھی کیونکہ مکان کے دروازے پر ایک مسلح گارڈ پہرہ دیتا تھا۔ ایک روز اس گارڈ کو ترس آگیا اس نے زاہدہ باجی سے حال معلوم کیا اور اپنا ایک بھروسے کا آدمی گاؤں ہمارے گھر بھیج دیا۔ یوں باجی بازیاب کرانے میں اباجی کامیاب ہوگئے۔
وہ شخص جس نے نکاح کیا تھا، اس کے پاس نکاح نامہ موجود تھا۔ اس نے ہماری بہن کا پیچھا نہ کیا لیکن شفیق مردود کا پھر کبھی پتا نہ چلا۔ ابا کہتے تھے اگر کبھی مل جائے تو اسے جان سے ماردوں گا لیکن اسے ملنا تھا اور نہ ملا۔ صد شکر کہ ہماری بہن ہمیں مل گئی سچ ہے جس گھر میںبیٹیاں ہوں، کبھی کسی اجنبی کوگھر کے اندر نہیںٹھہرانا چاہیے کیونکہ اجنبی کا کیا اعتبار۔ (م…ملتان)