Akhri Station | Episode 9

801
شاہو زور سے چلّایا۔ وہ کان پر ہاتھ رکھ کر ایک جانب جھکا ہوا تھا اور اس کی اُنگلیوں سے خون بہہ رہا تھا۔
’’اوئے مار دیا میرے شاہو کو تو نے کتّے کی اولاد! اب میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ راجہ نے غصّے سے گارڈ کی گن چھینی۔
بی جے نے چلّا کر کہا۔ ’’تمہارے نشانے پر میں نہیں، تمہارا بیٹا ہوگا۔ میں نے تو صرف اس کا ایک کان اُڑایا ہے لیکن اگر تم نے گولی چلائی تو وہ بچ نہیں سکے گا۔ اس لیے گولی چلانے سے پہلے دس بار سوچ لینا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ شاہو کو اسی طرح نشانے پر رکھ کر پیچھے ہٹنے لگا تو راجہ سے برداشت نہیں ہوا۔
’’اوئے کوئی بچائو اسے۔ چھڑائو اسے۔ وہ لے گیا تو پھر ملنا مشکل ہو جائے گا۔‘‘ اس نے دُہائی دی۔
اسی وقت ایک فائر ہوا۔ فائر کسی بھاری ہتھیار کا تھا۔ بی جے کی کھوپڑی اُڑ گئی۔ سارا چہرہ بے شناخت ہوگیا۔ اس صورت حال نے سب کو ایک لمحے کے لیے ساکت کر دیا اور یہ خاموشی کسی آنے والے طوفان کا پیش خیمہ لگی۔
پھر اس سکوت کو توڑتی ہوئی جوگی کی پھٹی پھٹی سی کچھ غیرانسانی سی آواز گونجی۔ ’’تو نے بی جے کو مار دیا راجہ تو نہیں جانتا۔ تیرے اور قیامت کے بیچ وہی کھڑا ہوا تھا۔ اب تیرے اور میرے جیسی قیامت کے بیچ کوئی نہیں۔ کوئی رُکاوٹ نہیں۔ اب دیکھ۔ اب دیکھ ذرا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ کچھ بڑبڑانے لگا۔
وہ ایک حیرت ناک منظر تھا۔ اتنا حیرت ناک کہ دیکھنے والوں کی سانسیں ان کے گلے میں اَٹک کر رہ گئیں اور آنکھیں ساکت ہو کر وہ منظر دیکھنے لگیں۔
وہ شیر تھے۔ دونوں ساتھ ساتھ نمودار ہوئے تھے اور آگے بڑھتے آ رہے تھے ان میں سے ایک پر لڑکی بیٹھی ہوئی تھی۔ خوبصورت لباس پہنے وہ شیر پر اس طرح بیٹھی ہوئی تھی کہ جسم کمان کی طرح کھنچا ہوا اور اُٹھے ہوئے سر کے ساتھ خوبصورت کاجل لگی آنکھیں سامنے کسی نامعلوم چیز پر مرکوز تھیں۔
شیر آہستہ آہستہ چلتے ہوئے جوگی کے نزدیک آ رہے تھے۔ اس کے قریب پہنچ کر وہ رُک گئے۔ جوگی نے سہارا دے کر اس خوبصورت لڑکی کو اُتار کر نیچے کھڑا کیا۔ تب شناسائی کا احساس جاگا اور ایک آواز سُنائی دی۔ ’’رانی صاحبہ؟‘‘
زری نے بے ساختہ اس کی طرف بڑھنا چاہا پھر ٹھٹھک کر رُک گیا۔
’’غور سے دیکھ راجہ! شاید اس لڑکی کو تو جانتا ہو۔‘‘ جوگی زہرخند انداز میں ہنسا۔
راجہ نے چونک کر لڑکی کو غور سے دیکھا۔ اس کے لبوں سے بے اختیار نکلا ’’شمی!‘‘ پھر وہ چلّایا۔ ’’شمی۔شمی! آگے آ۔ بابا کے پاس۔ آ جا شمی! اس وقت تیرے بھائیوں کی زندگی دائو پر لگی ہوئی ہے۔ آگے آ شمی۔‘‘
اس کی بات سُن کر بھی وہ آگے بڑھی اور نہ اس نے باپ کی طرف دیکھا بالکل ایسے جیسے وہ راجہ کو جانتی ہی نہیں۔
’’دیکھ لے راجہ! اب وہ تیری نہیں رہی بلکہ میری ہوگئی ہے۔ دیکھنا میرے اشارے پر کس طرح ناچتی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر جوگی نے اس کا دوپٹہ کھینچ کر پھینک دیا۔ ’’ناچو! ناچو۔ اس وقت تک ناچو۔ جب تک تمہارا باپ اور تمہارے بھائی سامنے موجود ہیں۔ ان کے سامنے ناچو۔‘‘
شمائلہ نے دونوں ہاتھ لہرا کر ناچنا شروع کر دیا۔
’’او کتّے! سور کی اولاد! بند کر یہ بیہودہ ڈرامہ۔ ورنہ اگلی گولی تیری کھوپڑی میں اُتار کر تیری ساری خرمستیوں کا خاتمہ کر دوں گا۔‘‘ راجہ اشتعال کی شدّت میں آگ بگولا ہو رہا تھا۔
’’ضرور راجہ! مار دے مجھے گولی۔ پر تو اپنی دو اولادوں کا کیا کرے گا۔ یہ دونوں مکمل طور پر میرے اختیار میں ہیں۔ یہ ساری زندگی وہی کرتے رہیں گے جن کی میں نے انہیں ہدایات دے رکھی ہیں۔ ایک ایسے ہی پاگل رہے گا اور دُوسری ایسے ہی ساری زندگی ناچتی رہے گی۔ ان کا علاج صرف اور صرف میرے پاس ہے کیونکہ انہیں یہ درد بھی میں نے ہی دیا ہے۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ عقل کے ناخن لے راجہ! ورنہ ایک ایک کر کے تو اپنی ساری اولادوں سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ جوگی کا انتقام۔ صدیوں کی سزا۔ بول منظور ہے۔‘‘
’’لعنت ہو تجھ پر۔ ہزار بار لعنت۔ اوئے مار دو اسے۔ بعد میں دیکھ لیں گے سب۔ مارو۔‘‘ راجہ نے اس طرح بپھر کر کہا کہ زری حواس باختہ ہوگیا۔
اس نے فوراً کوئی خفیہ پیغام بھیج دیا۔ اب اسے صرف چند سیکنڈ درکار تھے۔ وہ حاصل کرنے کے لیے اس نے راجہ کے سامنے دہائیاں دینا شروع کر دیں۔ ’’او، نہیں جی راجہ صاحب! یہ کیا کرتے ہیں آپ۔ آپ کا بیٹا اور بی بی جی ساری زندگی کے لیے ایسے ہی رہ جائیں گے۔ یہ تو جیتے جی مر جائیں گے جی۔ جوگی کو نہ ماریں۔ یہی انہیں ٹھیک کرے گا جی! اسے نہ مارو۔
’’بکواس بند کر۔ دیکھ نہیں رہا ہے۔ یہ کر کیا رہا ہے۔ کوئی یہ کیسے برداشت کر سکتا ہے۔ بتا! تو کر سکتا ہے برداشت؟‘‘ اس نے نظر اُٹھا کر شمائلہ کی طرف دیکھا جسے جوگی ہدایت دے چکا تھا اور وہ آہستہ آہستہ بے لباس ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔
جوگی پھر چنگاریاں لگانے والی ہنسی ہنسا اور بولا۔ ’’دیکھ راجہ! اگر میں نے اسے منع نہیں کیا تو یہ ساری زندگی کپڑے نہیں پہنے گی۔ سوچ لے۔ مجھے مار کر ساری عمر تجھے یہ عذاب بھگتنا ہوگا۔‘‘
’’اوئے بکواس نہ کر۔ میں خود اس لعنت کو ختم کر دیتا ہوں اوئے زری! دے میرا پستول۔ میں اسے گولی مار دیتا ہوں۔ نہ یہ رہے گی اور نہ میری عزت کا تماشا بنے گا۔ دے میرا پستول۔‘‘ وہ چلّایا۔
زری گھبرا کر اس کے نزدیک آیا تو راجہ نے اس کے ہاتھ سے پستول چھیننے کی کوشش کی۔
’’راجہ صاحب!‘‘ اس نے سرگوشی کی۔ ’’بی بی کو گولی مارنے کی بجائے ان دو شیروں کو گولی مار دیں۔ جوگی کی اصلی طاقت یہی دونوں شیر ہیں۔ یہ مر گئے تو جوگی کی اوقات دو کوڑی کی ہو جائے گی۔ مار دیں دونوں شیروں کو۔‘‘
راجہ کی سمجھ میں یہ بات آگئی۔ اس نے پستول کا رُخ پہلے تو شمائلہ کی طرف کیا اور پھر تھوڑا سا زاویہ بدل کر اس کا رُخ نزدیک کھڑے شیر کی طرف کر دیا اور ٹریگر دبا دیا۔
’’یہ کیا ہوا؟‘‘ پستول سے صرف ٹرچ کی آواز آئی۔ فائر نہیں ہوا۔ راجہ نے دو تین بار ٹریگر دبایا لیکن اسے ناکامی ہوئی۔
’’اوئے اسے کیا ہوا ہے؟ گولیاں تو ابھی اس میں ہیں۔ چل کیوں نہیں رہا یہ؟‘‘ وہ بڑبڑایا اور پستول ریت پر پھینک کر قریب کھڑے ہوئے گارڈ سے گن چھین کر نشانہ لے رہا تھا کہ شیروں نے اپنی جگہ سے جنبش کی۔ زقند لگائی اور سامنے کھڑے لوگوں کو دیکھ کر حملہ کرنے کی کوشش کی۔
راجہ نے خودکار گن کا ٹریگر دبایا لیکن وہ بھی جام ہوگئی تھی۔ اب وہ براہِ راست شیروں کے نشانے پر تھا۔ باقی گارڈز نے بھی شیروں پر فائر کرنے کی کوشش کی لیکن کچھ نہ ہوا۔ پھر اچانک زری نے اپنی چھوٹی اور چپٹی سی گن نہ جانے کہاں سے برآمد کی۔ پہلے دونوں شیروں کو نشانہ بنایا اور فوراً ہی جوگی کی طرف بھی ایک فائر کر دیا۔ باریک چمکتی سی سوئیاں اس کے نوزل سے خارج ہوئیں اور اپنے صحیح نشانے پر جاپہنچیں، پہلے شیر جو اپنی جگہ سے چھلانگیں لگا چکے تھے۔ سوئیوں کا نشانہ بن کر پتھر کی طرح گرے اور ساکت ہوگئے۔ جوگی کو بھی ایک جھٹکا لگا۔ وہ شاید کچھ بولنے والا تھا لیکن اس کے منہ سے آواز نہ نکلی۔ منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ ساری شعلہ فشاں صورتحال یک لخت اس طرح ساکت ہوگئی جیسے اچانک فیوز اُڑ جائے۔ ایک لمحے کو حیرتوں نے سب کو ساکت کر دیا تھا۔
پھر کچھ آوازوں نے ماحول کو بیدار کیا۔ وہ انجانے لوگ تھے جو چاقو اور خنجر لے کر اچانک نمودار ہوئے تھے اور انہوں نے وہاں موجود لوگوں پر حملہ کیا۔ نشانہ راجہ ہارون کے گارڈز اور ان کے ساتھی تھے۔ ایک دوسرے گروپ نے جوگی کو اُٹھا لے جانے کی کوشش کی تو زری نے ان پر حملہ کر دیا اور چند منٹوں کی پٹائی نے انہیں پسپا کر ڈالا۔
’’فضل! رانی صاحبہ کو دیکھ۔ لے جا انہیں یہاں سے۔ دو منٹ ہیں تیرے پاس۔ جلدی اُٹھا۔‘‘ اس نے چلّا کر فضل کو ہدایت دی اور وہ نہ جانے کس خفیہ گوشے سے نکل کر لمحے بھر میں وہاں پہنچ گیا۔ اس نے شمائلہ کو اُٹھا کر کندھے پر ڈالا اور اس کے ہلکے پھلکے وجود کو اُٹھا کر دوڑتا چلا گیا۔
پھر وہاں چند اور نادیدہ چہرے نمودار ہوئے۔ ان میں اور پہلے آنے والوں میں ایک زبردست مقابلہ شروع ہوگیا۔ وہ دونوں گروہ ایک دوسرے کو زیر کرنے کی جان توڑ کوششوں میں مصروف تھے۔ ان کے لڑنے کا انداز دیکھ کر لگ رہا تھا کہ دونوں طرف باقاعدہ تربیت یافتہ لوگ ہیں۔ ہتھیار بیکار ہوگئے تھے۔ اب صرف چاقو اور خنجر استعمال ہو رہے تھے یا پھر جسمانی دائو پیچ۔
اس نے جوگی کو پکڑا اور کھینچ کر دُور لے گیا۔ وہ اس وقت بے سُدھ سا تھا۔ یہ اس کے جسم میں داخل ہونے والی اس عجیب و غریب سوئی کا اثر تھا جو صرف ڈھائی سے تین منٹ تک اپنا اثر دکھاتی تھی۔ اس نے دھکا دے کر اسے زمین پر گرایا۔ پہلے اس کا لمبا سا چولا اُتار کر اسے پھاڑا اور ان پٹیوں سے اس کے ہاتھ پیچھے باندھے۔ پھر پائوں باندھے اور اس کے بعد اسے سیدھا کر کے منہ میں کپڑا ٹھونس کر اس پر بھی پٹّی باندھ دی۔
’’تیری سب سے زیادہ فساد پھیلانے والی ایک چیز تو رہ گئی فسادی…‘‘ اس نے ایک پٹّی کی دو تین تہیں کر کے اس کی آنکھوں پر بھی باندھ دی۔ ’’تیری ہمت کیسے ہوئی کہ تو نے رانی صاحبہ کو ہاتھ لگایا۔ تیرے اُن ہاتھوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا میں جنہوں نے انہیں چھوا تھا کیسے ہمت ہوئی تیری۔ کیسے؟‘‘ اس نے جنون کے عالم میں اس کی پسلیوں پر ایک زوردار ٹھوکر ماری۔ پھر نہ جانے کب کا بھرا ہوا غصہ اور اشتعال ایک دم اس طرح اس کے وجود میں پھٹا جیسے کوئی آتش فشاں بھڑک اُٹھا ہو۔ وہ جنونی کیفیت میں اسے بُری طرح پیٹ رہا تھا۔ جوگی کا وجود بے بسی سے اس کی ٹھوکروں کی زد میں تھا اور اس کے پیر مشینی انداز میں چل رہے تھے کہ اچانک وہ رُک گیا۔
’’بس کرو جوان! کتنا پیٹو گے اسے۔ کہیں مر ہی نہ جائے۔ ابھی بہت کام لینا ہے اس سے۔ جانتے ہو نا؟‘‘
’’یس سر!‘‘ اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور مڑ کر دیکھا تو کرنل صاحب اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے صبر کی تلقین کر رہے تھے۔ وہ سر ہلا کر اس طرف متوجہ ہوا جہاں سارا اکھاڑہ سجا ہوا تھا۔ وہاں بھی اس جنگ کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ اب لوگوں کو پکڑ پکڑ کر لے جایا جا رہا تھا۔
’’سر! راجہ ہارون اور اس کے دونوں بیٹے غائب ہیں۔ کہاں گئے؟ اصل میں تو سزا کے حقدار وہی ہیں۔ پتا نہیں کہاں غائب ہوگئے۔‘‘ وہ کچھ فکرمند ہوا۔
’’فکر نہ کرو۔ انہوں نے کہاں جانا ہے۔ کسی بھی بل میں گھس جائیں۔ آخر کار پکڑے جائیں گے۔‘‘ کرنل صاحب نے اسے تسلی دے کر کچھ لوگوں کو اشارہ کیا۔ وہ آگے آئے تو انہیں ہدایت دی جو جوگی کے بارے میں تھی۔
’’یہ سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ اسے بہت احتیاط سے لے جائو۔ راستے میں اگر یہ کوئی ڈرامہ کرنے کی کوشش کرے تو گونگے بہرے بن جانا بلکہ دیکھنا بھی مت اس کی طرف۔ بی کیئر فل۔ اوکے۔‘‘
وہ لوگ اسے اُٹھا کر لے گئے۔ کرنل صاحب اس کا کاندھا تھپتھپا کر آگے بڑھ گئے۔
٭…٭…٭
صبح کی ہلکی روشنی نمودار ہوئی تو ہر طرف بیداری کی لہر دوڑ گئی۔ سیاہ نظر آنے والی پہاڑیاں، جنگل اور جھاڑیاں تیزی سے اپنا رنگ بدلنے لگے۔ پرندوں کی خوبصورت آوازوں سے ماحول نغمہ ریز ہو گیا۔ اس صبح کی خوبصورتی کو وہ دل سے محسوس کر رہا تھا۔
وہ تیزی سے اس خوبصورت اور پوشیدہ سی وادی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ جہاں اس کی زندگی کا سب سے بڑا سُکھ یا پھر سب سے بڑا دُکھ اس کا منتظر تھا۔ ایک عجب اضطراب نے اس کے دل کی دھڑکنوں کو منتشر کر رکھا تھا کہ نہ جانے وہاں کس صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس اضطراب میں وہ گھوڑے کی پسلیوں پر دبائو بڑھاتا جا رہا تھا اور گھوڑا اشارہ سمجھ کر سرپٹ دوڑ رہا تھا۔ آخر کار وہ ٹیلوں کے درمیان سے مڑ کر اس وادی میں داخل ہوگیا۔
صبح کی ہلکی روشنی میں ماحول کی خوبصورتی اور اس میں تازگی کا احساس اس کے جلتے وجود میں سکون اور ٹھنڈک بن کر اُترا تو اس کے جذبات کا فشار بھی کچھ کم ہوگیا۔ سرسبز درختوں، رنگ برنگ پھولوں اور سبز غالیچہ نما گھاس کے پیش منظر میں وہ چھوٹا سا آبشار یونہی گنگناتا، موتی لُٹاتا بہہ رہا تھا۔ اور اس کے نزدیک ہی پہاڑی کے دامن میں وہ چھوٹا سا چوبی مکان تھا جو اس کی منزل تھا۔ وہ اس کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ نزدیک پہنچا تو فضل ایک درخت سے چھلانگ لگا کر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
’’یہ کیا کھا رہے ہو۔ اور درخت پر کیا کر رہے تھے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’آپ کے پہلے سوال کا جواب ہے۔ ناشپاتیاں کھا رہا ہوں۔ اور دُوسرے سوال کے دو جوابات ہیں۔ ایک تو ناشپاتیاں درخت پر لگتی ہیں اور انہیں توڑنے کے لیے درخت پر چڑھنا پڑتا ہے۔ دُوسرے اس محل میں موجود ملکہ عالیہ یعنی آپ کی رانی صاحبہ کی حفاظت بھی مطلوب تھی کیونکہ جس طرح آپ آئے ہیں۔ کوئی بھی آ سکتا ہے۔ اس لیے۔‘‘
’’اوہ! کیا حال ہے اس کا؟ کیا کر رہی ہے وہ اب تک؟‘‘ اس نے کچھ اضطرابی کیفیت میں پوچھا۔
’’گم صم ہے بالکل۔ نہ کچھ بول رہی ہے۔ نہ کچھ سن اور سمجھ رہی ہے۔ بس ایک ہی کوشش میں مصروف تھی۔ اسے اپنے کپڑے بُرے لگ رہے تھے۔ ان سے چھٹکارا پانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس لیے میں نے اس کے ہاتھ باندھ دیے ہیں۔ آئی ایم سوری!‘‘
’’یہ اس منحوس جوگی کی کارستانی ہے۔ اسے ٹھیک کرنا ہی پڑے گا ورنہ میں اس کی وہ درگت بنائوں گا کہ پناہ مانگے گا لیکن اسے حساب دینا پڑے گا۔‘‘ اس نے بدمزگی سے ہاتھ جھٹکتے ہوئے اس چھوٹے سے گھر کے دروازے کی طرف قدم بڑھائے۔
دروازہ کھلا تو اس پر نظر پڑی اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور وہ بے خبر سو رہی تھی۔ چہرے پر صبح کی تازگی اور بکھرے بالوں میں رات کا سماں ٹھہرا ہوا تھا۔ لمبی اور گھنی پلکیں گلابی گالوں پر جھکی ہوئی اور تراشیدہ ہونٹ نیم وا تھے۔ اس کا چہرہ کسی غزل کا عنوان لگ رہا تھا۔
وہ مسحور ہو کر اس کے حسن میں کھویا ہوا تھا کہ چونک پڑا۔ اس نے ہلکی سی کراہ کے ساتھ تھوڑی حرکت کی تھی۔
’’رانی صاحبہ! رانی صاحبہ! اٹھیے! آنکھیں کھولیے۔ رانی صاحبہ!‘‘ اس نے بے چین ہو کر کہا تو یک لخت اس نے آنکھیں کھول دیں۔ وہ جو بے چینی سے اسے آنکھیں کھولتے دیکھ رہا تھا۔ دَم بخود ہو گیا۔
اس کی ٹھہری ہوئی ساکت آنکھوں میں ایک عجب طرح کی اَجنبیت، سردمہری اور غیر انسانی سی کیفیت تھی۔ وہ کسی زندہ جیتے جاگتے انسان کی آنکھیں نہیں تھیں۔ ان آنکھوں سے زندگی چھین لی گئی تھی۔ جذبات اور احساسات سے عاری وہ مکمل طور پر مردہ آنکھیں تھیں۔ اس کے دل پر بڑی گہری چوٹ پڑی۔ آہ سسکی بن کر اس کے حلق میں اٹک گئی۔
’’شمائلہ! مجھے پہچانتی ہو یا نہیں؟‘‘ اس نے بڑے درد بھرے لہجے میں پوچھا۔ لیکن وہ اسی طرح گم صم اور بے جان سی اسے دیکھتی رہی۔
’’کچھ تو بولو! کچھ تو کہو۔ مجھے آواز دو۔ دیکھو تم اس وقت اپنے خواب محل میں ہو۔ وہی خواب محل جس کا ذکر تم بڑی حسرت سے کرتی تھیں۔ یہ تمہارا خواب تھا جو میں نے تعبیر میں بدلا۔ تمہاری خاطر۔ صرف تمہاری خاطر۔ تم کچھ تو کہو۔‘‘ آنسوئوں کا گولا اس کے حلق میں آیا تو آواز بند ہوگئی۔ اس نے نم آنکھوں سے اس کے بندھے ہوئے ہاتھوں کو دیکھا تو جلد پر بندشوں کے نشان نظر آئے۔ وہ آہستگی سے اس کے نازک ہاتھ تھام کر ان کی بندشیں کھولنے لگا۔ پھر اسے اُٹھایا اور باہر آبشار تک لے گیا۔
’’رانی صاحبہ! منہ ہاتھ دھو لیجئے تاکہ آپ کے لیے شاہی ناشتے کا بندوبست کیا جا سکے۔‘‘ اس نے یہ کہتے ہوئے ایک جبریہ مسکراہٹ چہرے پر سجائی لیکن وہ اسی طرح کھڑی رہی کسی تاثر کے بغیر جیسے مخاطب کوئی اور ہو۔ اس نے بیتاب ہو کر اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر مقابل کیا اور بولا۔ ’’دُنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں جو محبت کرنے والوں کو مجبور کر دے۔ آپ کو میرے جذبوں کو سمجھنا پڑے گا۔ مجھ تک واپس آنا ہوگا۔ میری آنکھوں میں دیکھیں۔ غور سے دیکھیں۔ میرے جذبات کا عکس ضرور نظر آئے گا۔ دیکھیں میری آنکھوں میں۔‘‘ جذبات کی شدت سے اس کی آواز ہی نہیں اس کے ہاتھ بھی لرز رہے تھے۔ وہ ہر بار اسے جھنجھوڑ کر اپنی موجودگی، اپنی محبت کا احساس دلانا چاہ رہا تھا۔ اس میں اتنی شدت تھی کہ آخر کار اس کے محسوسات میں معمولی سی تبدیلی آئی۔ اس کی نظریں جو اس کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں ان میں ایک لمحے کے لیے زندگی کی رمق اُبھری۔ ان میں ہلکی سی نمی آئی اور پھر وہ بے جان سی ہوگئیں۔ اس کے دل کو تھوڑا سکون ہوا اور جذبات میں ٹھہرائو سا آ گیا۔
’’تمہارا یہ لمحے بھر کا جاگنا مجھے امید اور آس کی نئی بلندیوں پر لے آیا ہے۔ میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ میں تمہیں اس منحوس جوگی کے چنگل سے نکال کر لے جائوں گا۔ آئو! آگے آئو۔‘‘ پھر اس نے خود ہی اس کا ہاتھ منہ دُھلایا اور چلّو میں پانی لے لے کر اسے پلایا بھی۔ پھر وہ اسے واپس مکان کی طرف لے آیا۔ فضل ایک پلیٹ میں ناشپاتیوں کی قاشیں اور خوبانیاں لے کر آیا اور پلیٹ سامنے رکھ کر بولا۔ ’’یہ لیں جی! رانی صاحبہ کے لیے شاہی ناشتہ۔ امید ہے پسند آئے گا۔‘‘
’’فضل! اسے ابھی کچھ دن ادھر ہی رکھنا پڑے گا۔ سب سے چھپا کر۔ ادھر راجہ اور اس کے بیٹے غیرت کے نام پر اس کی جان کے درپے ہیں۔ ہمارے لوگوں نے وہاں ٹیک اوور کر لیا ہے۔ راجہ اور اس کے دونوں بیٹے غائب ہو چکے ہیں۔ شدت سے ان کی تلاش جاری ہے۔ ٹیلوں کے پار کا سارا علاقہ، کانیں اور اب راجہ کی وسیع و عریض حویلی سب کچھ کھنگالا جا رہا ہے۔ مجھے ابھی جانا ہوگا تو یہیں رہے گا۔ اس کا خیال رکھے گا۔ میں اب کل آئوں گا تو کچھ کھانے پینے اور ضرورت کا سامان لے آئوں گا۔ تجھے کچھ چاہیے تو بتا دے۔‘‘
’’نہیں۔ مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ تم بے فکر ہو کر جائو۔ میں اس کا خیال رکھوں گا لیکن یار! تُو تو کل آئے گا۔ مجھے تو ابھی سے بھوک لگ رہی ہے۔ کل تک تو میں بے ہوش ہو جائوں گا۔‘‘
’’تو گانے گا کر گزارہ نہیں کر سکتا۔ جب بھی بھوک ستائے کچھ گا لینا۔ پیٹ بھر جائے گا۔‘‘ اس نے گھوڑے کو واپسی کے لیے موڑا اور بولا۔ ’’فکر نہ کر۔ میں میرو کو بھیجتا ہوں۔ وہ لے آئے گا کھانا۔ اس کے آنے تک بے ہوش نہ ہونا۔‘‘ وہ اسے تسلی دیتا ہوا گھوڑے کو ایڑ لگا کر دُور ٹیلوں کی طرف بڑھ گیا۔
٭…٭…٭
گھوڑا سر پٹ دوڑ رہا تھا۔ وہ گائوں کو پیچھے چھوڑتا، چوبی پل کو عبور کر کے اب اس سڑک کے متوازی چل رہا تھا جو بڑے شہر کو جاتی تھی۔ اسے دو تین ٹرک آتے ہوئے نظر آئے۔ اس میں بھرے ہوئے بدحال اور فاقہ زدہ لوگوں کو دیکھ کر صاف اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ کانوں میں کام کرنے والے وہ کارکن ہیں جو وہاں جبری مشقت کر رہے تھے۔ ان کے چہروں پر چھائی ہوئی خوشی اور مسرت بتا رہی تھی کہ وہ اپنی اس آزادی پر بے حد خوش ہیں۔
پیچھے آنے والے ایک چھوٹے ٹرک میں اس نے خون آشام اور دہشت ناک شیروں کی لاشیں دیکھیں، انہیں شاید گولیاں ماری گئی تھیں؟ لیکن انہیں گولیاں ماری کیسے گئیں؟ کیونکہ اس وقت تو ایک ڈرون وہاں ٹھہرا دیا گیا تھا جس پر جیمرز لگے ہوئے تھے۔ سارے ہتھیار جام ہو گئے تھے۔ کوئی گولی نہیں چل رہی تھی۔ چاقو، خنجر سے لڑائی ہو رہی تھی۔ شاید کچھ بہادر جوانوں نے انہیں بھی اسی بل بوتے پر زیر کیا ہوگا۔ بڑی بات ہے۔ ایسے خون آشام شیروں کو چاقو اور خنجروں سے مار دینا۔ شاباش ہے بھئی! وہ سوچتا ہوا آگے بڑھتا جا رہا تھا۔
کانوں کے قریب سے گزرتے ہوئے اس نے دیکھا کہ ان مہیب گڑھوں کی شکل کی کانوں میں آج خاموشی تھی۔ ہر روز مزدوروں کی ہائے ہائے اور گارڈز کے ہنٹروں کی شائیں شائیں والا تکلیف دہ شور نہیں تھا۔ وہ ان جگہوں پر گہری نظر ڈالتا ہوا آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کا رُخ اس اسپتال کی طرف تھا جہاں بیمار مزدور اور ان کے علاج میں مصروف ڈاکٹر مائیکل اور دو نرسیں شینا اور لورین ہوتی تھیں۔ قریب پہنچ کر وہ گھوڑے سمیت اس بڑے خیمے میں داخل ہوا تو وہ خالی پڑا تھا۔ نہ ڈاکٹر تھا، نہ مریض۔ باقی سب چیزیں جوں کی توں موجود تھیں۔ اس نے چاروں طرف نظر ڈالی تو ایک عجیب سے خالی پن کے احساس نے اس کے دل کو چھوا۔
اس نے گھوڑے کو واپس موڑا۔ اب اس کا رُخ اپنے آفس کی طرف تھا۔ ٹوٹے پھوٹے کھنڈر نما اسٹیشن کی ویران عمارت کے نزدیک سے گزرتے ہوئے پہلے اس کی نظر اس لوہے کے بھاری بھرکم، زنگ آلود گیٹ پر پڑی جو ہمیشہ بند نظر آتا تھا اور زیریں حصے سے اس کا تقریباً تین فٹ تک کا حصہ ریت میں دباہوا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ سالہا سال سے اسی طرح بند ہے کبھی کھولا ہی نہیں گیا۔ لیکن وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ مہینے میں ایک دن اسے کھولا جاتا تھا۔ اس اندھیری سرنگ سے ایک انجن آتا تھا اور ٹرالیوں میں بھری ہماری قیمتی دولت کو کھینچ کر لے جاتا تھا۔
کھنڈر نما عمارت کی چھت سے پہاڑی کی جانب جانے والا پتھریلا راستہ جو اس پہاڑی غار تک جاتا تھا وہ جوگی کی کٹیا کہلاتا تھا۔ درحقیقت وہ کٹیا نہیں تھی۔ اس سارے شیطانی چرخے کو چلانے کا مرکز تھا۔ آج اس راستے پر شیر تھے اور نہ ہی کٹیا میں جوگی تھا۔ یہ احساس کہ آج یہ کٹیا خالی ہے نہ یہاں جوگی ہے، نہ شیر اور نہ ہی حفاظتی نظام جو لیزر شعاعوں پر مشتمل تھا۔ اس خیال کے آتے ہی اس نے گھوڑے کی لگامیں کھینچ دیں اور اس کا رُخ موڑ کر روک دیا۔
آج دیکھتے ہیں چل کر، اس شیطان نے کون سی نگری بسائی ہوئی تھی۔ گھوڑے کی لگامیں ایک درخت کے تنے سے باندھ کر اس نے اسٹیشن کی عمارت کی چھت سے ہوتے ہوئے اس راستے پر قدم رکھ دیے جو پتھریلی سیڑھیوں کی شکل میں جوگی کے ٹھکانے تک جاتا تھا۔ اِدھر اُدھر نظر ڈالتا ہوا وہ اُوپر بغیر پٹوں والے دروازے تک پہنچ گیا۔
وہ ایک غار کا دَر تھا۔ اندر داخل ہوا تو حیرت انگیز طور پر وہاں کی فضا کو تازہ ہوا اور روشنی سے مزین پایا۔ نہ جانے کس طرح سے یہ کام انجام دیا گیا تھا۔ وہ ایک کمرے کی شکل میں تھا اور وہاں لیٹنے بیٹھنے کے بڑے مناسب انتظام تھے۔ ایک بڑا سا تخت جس پر آرام دہ بستر اور اس کے مقابل دیوار کے ساتھ فرشی نشست کا اہتمام تھا۔ جانوروں کی فر والی کھال سے بنے ہوئے غالیچے اور کچھ کشن نما نشستیں موجود تھیں۔
وہ پورے کمرے کو اچھی طرح کھنگال چکا تھا لیکن اسے کوئی ایسی چیز نہیں مل پائی تھی جس سے وہ جوگی کے پھیلائے ہوئے سارے کھٹ راگ کا سراغ پا سکتا۔
کچھ تو ہے۔ جو کہیں چھپا ہوا ہے۔ پر کہاں؟ کچھ سوچ کر اس نے دیواروں کو ایک چھوٹے پتھر سے بجانا شروع کیا۔ شاید کہیں کسی دیوار کے پیچھے کسی چیز کی موجودگی کا اندازہ ہو سکے۔ کافی دیر کی کوششوں کے بعد ایک دیوار کے انتہائی کونے میں اس کے پتھر سے بجانے کی صدا میں بہت ہلکی سی تھرتھری اور کچھ گونج سی محسوس ہوئی۔
’’اوہ! یہیں ہے کچھ۔‘‘ اس نے ایک بھرپور نظر اس دیوار کو چھت سے فرش تک دیکھا اور اس دیوار پر اس جگہ موجود تقریباً تمام اُبھرے ہوئے پتھروں کو ہلا کر، گھما کر اور دبا کر دیکھتا رہا۔ لیکن کوئی فرق نہیں پڑا۔ وہ کچھ جھنجھلا سا گیا اور اس جھنجھلاہٹ میں ہاتھ میں پکڑا وہ پتھر اس نے فرش پر دے مارا۔ اور یہیں وہ جادو ہوگیا جس کا وہ منتظر تھا۔ جہاں پتھر ٹکرایا تھا۔ وہاں سے اینٹ کے برابر پتھر دَب کر کھل گیا۔ بالکل اس طرح جیسے کسی اسپرنگ لگی چیز کو دبایا جائے تو وہ اُچھل کر باہر آتی ہے۔
’’اوہ مائی گاڈ! یہاں ہے اس طلسم نگر کی چابی۔‘‘ اس نے فرش پر بیٹھ کر جائزہ لیا تو اسے وہاں ایک ناب نظر آئی جو کسی میکنزم کو کھولنے اور بند کرنے کے لیے لگائی گئی تھی۔ وہ کچھ دیر اسے دیکھتا اور سوچتا رہا کہ اسے گھمانے پر نہ جانے کس اسرار سے پردہ ہٹ جائے۔ اور دُوسری طرف نہ جانے کیا ہو؟
’’کوئی بات نہیں۔ کچھ بھی ہو۔ دیکھنا تو پڑے گا۔‘‘ اس نے سوچتے ہوئے ارادہ مضبوط کیا اور آہستہ آہستہ ناب کو گھمانا شروع کیا۔ حیرت انگیز طور پر دیوار کا ایک حصہ بے آواز طریقے سے ایک طرف کھسکنا شروع ہوگیا۔ جیسے سلائیڈنگ ڈور کھسکتا ہے۔ دیوار میں ڈھائی تین فٹ چوڑا ایک دَر نمودار ہوا اور دُوسری جانب ایک اور بڑے کمرے کے آثار نظر آئے۔ اس نے وہاں کھڑے ہو کر اس کمرے کا جائزہ لیا۔
کمرے کے آدھے حصے میں کچھ مشینیں، کمپیوٹر اور بعض ایسی ہی دوسری چیزیں نظر آئیں۔ ایک دوسرے گوشے میں جنریٹر بھی نظر آیا۔ ایک اور جانب کسی نفسیات کے ڈاکٹر کے کلینک کا سا سیٹ اَپ دکھائی دیا۔ اس کے پیچھے لوہے کا ایک بڑا پنجرہ بھی تھا جس میں شیر کے دو بچے سو رہے تھے۔ یہ سب اس کے بائیں جانب تھا۔ جب اس نے مڑ کر دائیں
جانب نظر ڈالی تو اس کی کھوپڑی بھک سے اُڑ گئی۔
وہاں ایک شاندار بیڈ تھا اور اس بیڈ پر ایک لڑکی اس کا خاموشی سے جائزہ لے رہی تھی۔ اس سے نظریں ملیں تو مدھم سے لہجے میں اس نے سوال کیا۔ ’’کون ہو تم؟‘‘
’’تمہارے لیے یہ جاننا اہم نہیں ہے کہ میں کون ہوں۔ لیکن میرے لیے یہ جاننا بہت زیادہ اہم ہے کہ تم کون ہو اور یہاں تمہیں کیوں قید کیا گیا ہے۔ تم واقعی قید ہو یا اپنی مرضی سے یہاں رہ رہی ہو؟‘‘
’’لمبی کہانی ہے۔ بتائوں گی لیکن تمہارا چہرہ مجھے کچھ شناسا لگ رہا ہے۔ شاید تم وہی ہو جو حویلی کی ایک لڑکی کو ایمرجنسی میں خیمہ اسپتال لے کر آئے تھے اور اگلی صبح زبردستی اسے واپس لے گئے تھے۔ وہی ہو نا؟‘‘
’’ہاں۔ میں وہی ہوں اور اب مجھے لگ رہا ہے کہ تم شاید نرس ہو اور اس رات ڈاکٹر کو بلانے گئی تھیں۔ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا؟‘‘ اس نے سوال کیا۔
لڑکی اثبات میں سر ہلا کر بولی۔ ’’ہاں، میں وہی نرس ہوں۔ جو تمہارے کیے کی سزا بھگت رہی ہوں۔‘‘
’’کیا مطلب؟ میرے کیے کی سزا؟ میں نے ایسا کیا کر دیا تھا؟‘‘ وہ حیران ہوا۔
’’جس لڑکی کو تم اسپتال لے کر آئے تھے۔ یہ وہ تھی جس کے لیے جوگی مر رہا تھا۔ وہ ہر قیمت پر اسے اپنے اس ٹھکانے پر لانا چاہتا تھا۔ وہ اس کے لیے دیوانہ ہو رہا تھا۔ اس لڑکی کے اسپتال لائے جانے کی اطلاع جب صبح ڈاکٹر مائیکل نے دی تو اس نے فوراً کہا کہ آبزرویشن میں رکھنے کے بہانے وہ اسے وہیں روکے رکھے۔ میں خود آکر اسے لے جائوں گا۔ ابھی وہ اس کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ تم آ گئے اور اسے واپس لے جانے کے لیے کہا۔ وہاں اس وقت میں موجود تھی۔ میں نے اسے اطلاع دی تو اس نے کہا کہ میں کسی طرح کوشش کر کے اسے صرف تھوڑی دیر کے لیے روکے رہوں۔ وہ آ رہا ہے۔ میں نے تمہیں روکنے کی پوری کوشش کی۔ لیکن اس لڑکی نے میرے منہ پر ایک زنّاٹے دار تھپڑ مار کر میری ساری کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ تم فوراً ہی اسے لے کر چلے گئے۔ میں نے جوگی کو اطلاع دی تو وہ آگ بگولا ہوگیا۔ اس نے مجھے کہا کہ میں سزا بھگتنے کے لیے تیار ہو جائوں۔ فوری طور پر اس نے اپنے شیروں کو ہدایات دے کر تمہارا راستہ روکنے کے لیے بھیجا لیکن تم نے پتا نہیں کیا جادو کیا کہ وہ خون آشام درندے جو تمہیں مارنے اور لڑکی کو اُٹھا کر جوگی کے پاس لانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ تمہارے سامنے مٹی کے شیر بن گئے اور تم اس لڑکی کو لے کر چلے گئے۔ اس ناکامی نے جوگی کو پٹاخوں کی جلتی ہوئی لڑی بنا دیا۔ وہ لڑکی اس کے چنگل سے بچ نکلی۔ جوگی کے خیال میں اس کی سو فیصد ذمہ دار میں ہوں۔ وہ اسی وقت مجھے گھسیٹتا ہوا یہاں لے آیا تھا۔ یہ دیکھو! میرا جسم خراشوں اور زخموں سے بھرا ہوا ہے اور پھر میں مسلسل ایک ایسے عذاب میں مبتلا ہوں جسے دینے والا جہنمی وہی ہے۔ جوگی…‘‘ اس کی آواز بھرّا گئی اور وہ ضبط کر کے خاموش ہوگئی۔
’’آئی ایم سوری۔ دیکھو! تم میری وجہ سے اس عذاب میں گرفتار ہوئی تھیں نا! اب خوش ہو جائو! میں نے اس جوگی کو جہنم رسید کر دیا ہے۔ اس کی بنائی ہوئی شیطانی دُنیا تباہ و برباد کر دی ہے۔ تم اب آزاد ہو۔ جہاں جانا چاہو جا سکتی ہو۔‘‘
’’کیا؟ تم واقعی سچ کہہ رہے ہو۔ جوگی کو قابو کرنا یا مارنا اتنا آسان کام نہیں ہے۔ اگر تم نے اسے اپنے ہاتھوں سے مارا نہیں ہے اور اسے کسی کے حوالے کر دیا ہے تو یقین کرلو۔ جوگی پھر آ جائے گا۔ وہ یقینی طور پر واپس آ جائے گا۔ جانتے ہو۔ وہ گھنٹوں کے لیے سانس روک سکتا ہے۔ جب وہ سانس روکتا ہے تو بالکل مردہ لگتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں۔ مر گیا۔ لیکن وہ سانس لینے لگتا ہے۔ زندہ ہو جاتا ہے۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور اس کی پریکٹس وہ روزانہ کرتا ہے۔ انسان نہیں وہ شیطان ہے شیطان۔ اور سُنا ہے کہ شیطان کبھی نہیں مرتا۔ وہ بھی نہیں مرے گا۔ تم دیکھ لینا۔ ایک دن پھر وہ یہاں ہوگا۔‘‘
’’نہیں۔ اب ایسا نہیں ہوگا۔ تم یقین رکھو۔ خیر چھوڑو۔ یہ بتائو اس جگہ کے بارے میں تم جانتی ہو کچھ؟‘‘
’’ہاں۔ ان دو تین ہفتوں میں بہت کچھ دیکھ چکی ہوں۔ ایک کمرہ باہر تم دیکھ آئے ہوگے۔ دُوسرا یہ ہے۔ جہاں اس نے یہ جدید ترین سیٹ اَپ لگایا ہوا ہے۔ جنریٹر، سیٹلائٹ فون اور انٹرنیٹ سسٹم ہے۔ کچھ بڑے عجیب و غریب قسم کے خودکار ہتھیار ہیں۔ لیزر بیم مارنے والی گنیں ہیں۔ جس پر اس کی ایک شعاع مار دی جائے۔ وہ چند سیکنڈز میں راکھ کا ڈھیر بن جاتا ہے۔ جسے مٹھی میں بھر کر اُڑا دیتا ہے وہ۔ پھر ہنس کر کہتا ہے کہ کہاں گیا وہ؟ میں نے یہ نظارہ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔‘‘
’’اوہ۔ ویری سیڈ۔ اچھا یہ بتائو۔ ان دو کمروں کے علاوہ بھی کوئی اور جگہ ہے یہاں۔‘‘
’’ہاں۔ ایک اور کمرہ ہے۔ دراصل وہ کمرہ نہیں بلکہ یہاں سے باہر نکلنے کا ایک خفیہ راستہ ہے اور یہ راستہ اس سرنگ میں کھلتا ہے۔ جہاں سے وہ مال گاڑی آتی اور جاتی ہے۔ اس راستے سے میں نے جوگی کو آتے جاتے دیکھا ہے۔‘‘
’’اچھا! کہاں ہے وہ راستہ؟‘‘
’’وہ سامنے باتھ رُوم کے نزدیک جو سپاٹ اور پتھریلی سی دیوار نظر آ رہی ہے۔ وہ کھلتی ہے لیکن میں تمہیں یہ نہیں بتا پائوں گی کہ اسے کیسے کھولا جاتا ہے۔ بس میں نے جوگی کو اس پر ہاتھ پھیرتے دیکھا ہے۔ وہ ہاتھ پھیرتا ہے اور دیوار بغیر آواز کے دروازے کی طرح کھل جاتی ہے اور ایسے ہی بند بھی ہو جاتی ہے۔ پتا نہیں کس طرح؟‘‘
’’اوہ۔ شاید اس کے فنگر پرنٹ اسکین ہوں گے وہی اس دروازے کو کھولنے کا پاس ورڈ ہوں گے۔ کوئی بات نہیں۔ اگر اسے کھولنے کی ضرورت پڑی تو میں اس کے دونوں ہاتھ کاٹ کر لے آئوں گا۔ اُٹھو! میں تمہیں باہر لے چلتا ہوں۔ آج سے تم آزاد ہو۔ اپنا بیان ریکارڈ کروا کر تم جہاں جانا چاہو جاسکتی ہو۔ ویسے کس ملک سے تعلق ہے تمہارا؟‘‘
’’میں اور ڈاکٹر مائیکل کیوبا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک میڈیکل سروسز کے مشن پر ہم لوگ تمہارے پڑوسی ملک آئے تھے۔ وہاں مائیکل کی دوستی نہ جانے کیسے اس بی جے سے ہوگئی۔ اس نے ہم دونوں کو یہاں یہ اسپتال چلانے کی دعوت دی اور اتنی زیادہ رقم کی آفر کی کہ ہم وہاں رہ کر اگر ساری زندگی بھی کماتے تو اتنے پیسے جمع نہیں کر سکتے تھے۔ اتنی اچھی آفر ہم ٹھکرا نہیں سکے۔ ویسے بھی اس نے بتایا تھا کہ یہ دُور دراز کے دیہی علاقے میں میڈیکل سروسز پَروائڈ کرنے کا ایک چیریٹی سسٹم ہے اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ یہاں یہ سب کچھ غیر قانونی اور انسانوں پر ظلم کے لیے ہو رہا ہے تو ہم دونوں کبھی یہاں نہ آتے۔ لیکن جب معلوم ہوا تو ہم ان کے چنگل میں پھنس چکے تھے۔ واپسی کی کوئی صورت نہیں رہی تھی۔ مجبوراً ہمیں یہاں کام کرنا پڑا۔‘‘
’’ویری سیڈ۔ لیکن اب وہ سب کچھ ختم ہوگیا ہے۔ اب تم چاہو تو جا سکتی ہو۔ یقیناً کیوبا ہی جائو گی اور تمہیں وہاں بھجوانے کے لیے ہم تمہاری پوری مدد کریں گے۔‘‘
’’ڈاکٹر مائیکل کہاں ہے؟‘‘ اُس نے پوچھا۔
’’تم یہاں بند تھیں۔ اس لیے تمہیں معلوم نہیں ہوا۔ کل بہت زور دار معرکہ برپا ہوا تھا باہر۔ ہماری بارڈر سیکیورٹی فورس نے کل ان لوگوں کی اس ساری لنکا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے جو انہوں نے چوری چھپے بنائی ہوئی تھی۔ کافی لوگ مارے گئے ہیں۔ بہت سے پکڑے گئے ہیں۔ اس لیے ابھی میں کچھ بتا نہیں سکتا کہ ڈاکٹر مائیکل کون سے لوگوں میں شامل ہوگا۔ فی الحال تم اپنے بارے میں سوچو۔ چلو۔ آئو!‘‘
’’لیکن۔ باہر… وہ… وہ شیر ہوں گے۔‘‘ اس کی آواز میں خوف تھا۔
’’نہیں کیونکہ یہاں آتے ہوئے میں نے ان کی لاشیں دیکھی ہیں۔ اب صرف یہ بچے ہیں جو پنجرے میں بند ہیں اور یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے اسے باہر آنے کا اشارہ کیا اور باہر کی جانب بڑھ گیا۔
٭…٭…٭
وہاں سے نکل کر اس نے اپنے آفس کا رُخ کیا۔ وہ کمپیوٹر پر اپنا میل باکس چیک کرنا چاہتا تھا۔ نہ جانے کیوں اسے یہ خیال آ رہا تھا کہ اسے میل باکس ضرور چیک کرنا چاہیے۔ شاید کوئی نئی اطلاع، کوئی نئی حیرت اس کی منتظر ہو۔
وہ تیز تیز قدم بڑھاتا ہوا آفس میں داخل ہوا تو کرنل صاحب اس کی کرسی پر براجمان تھے اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے۔ ماحول سنجیدہ تھا اور آپریشن کے بعد کے حالات پر گفتگو چل رہی تھی۔
’’پکڑے جانے والے لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ فی الحال وہ کام نامکمل تھا لیکن جتنی معلومات حاصل ہوئی تھیں ان کی روشنی میں بعض فوری اقدامات کرنا بے حد ضروری تھا۔‘‘
وہ اندر داخل ہو کر کمرے کے ایک کونے میں چپ چاپ ہاتھ سینے پر باندھ کر کھڑا ہوا تھا اور ان کی گفتگو سُن رہا تھا۔ فی الحال موضوع زیرِ بحث یہ تھا کہ راجہ ہارون اور اس کا بڑا بیٹا شاہنواز دونوں غائب تھے اور حویلی کی تلاشی لے لی گئی تھی لیکن ان کا سراغ نہیں مل سکا تھا جبکہ ان کا چھوٹا بیٹا راجہ دلنواز حویلی میں موجود تھا لیکن وہ اپنے حواسوں میں نہیں تھا کہ اس سے کچھ پوچھا جائے تو وہ کوئی معلومات دے سکے۔
تھوڑی دیر میں گفتگو ختم ہوگئی۔ کیا اور کیسے کرنا ہے۔ ٹاسک طے کر لیے گئے تھے۔ کچھ اور نفری کو بلا لیا گیا تھا۔ سب کو ان کی ذمے داریاں تفویض کر کے کام پر لگ جانے کا کاشن دے دیا گیا تو وہ سب اُٹھ کر وہاں سے چلے گئے۔
کرنل صاحب اکیلے وہاں بیٹھ کر اسے بغور دیکھتے رہے۔ پھر اس سے مخاطب ہوئے۔ ’’ہاں تو جوان! لگ تو رہا تھا کہ چھوٹا سا کام ہے لیکن اس کی گہرائی بہت زیادہ نکلی۔ خیر! سب کچھ انڈر کنٹرول ہے اب۔ تم سُنائو! کیا خبریں ہیں تمہارے پاس۔‘‘ انہوں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
’’سر! آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ اب سب کچھ انڈر کنٹرول ہے لیکن بعض معاملات میں جواب بھی ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ مثلاً راجہ ہارون اور اس کے بیٹوں کو تلاش کرنا کیونکہ وہی بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے اس طلسم کدے کے معاملات کہاں تک پھیلا رکھے تھے۔ معاملہ صرف پڑوسی ملک تک محدود نہیں ہے۔ کچھ اور بھی ممالک اس میں ملوث ہیں۔ ان سے کس قسم کی ڈیلز ہوئی ہیں۔ یہ صرف راجہ ہی بتا سکتا ہے۔ اگر وہ ہمیں نہیں ملتا وہ فرار ہو جاتا ہے تو اس کا اثر ان ممالک سے ہمارے تعلقات پر بھی پڑ سکتا ہے۔ دُوسرا مسئلہ ان لوگوں کا ہے جنہیں جوگی نے اپنی شیطانی طاقت کے زور پر اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ جب تک وہ انہیں ٹھیک نہیں کرتا۔ وہ صحیح نہیں ہوں گے اور نہ ہی نارمل انسانوں کی طرح زندگی گزار سکیں گے۔ اس لیے جوگی کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ ایسے متاثرہ لوگوں کو اپنے شیطانی چنگل سے آزاد کر دے۔‘‘
’’کیا وہ سب اتنے اہم لوگ ہیں کہ اگر ٹھیک نہ ہو سکیں تو دُنیا رُک جائے گی۔‘‘ انہوں نے مدھم سے لہجے میں کہا۔
اُس نے چونک کر انہیں دیکھا اور بولا۔ ’’یہ کیا کہہ رہے ہیں سر! ہر انسان اپنی جگہ اہم اور قیمتی ہوتا ہے۔ وہ لوگ بھی ہیں۔ ہمیں جوگی کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ انہیں ٹھیک کرے۔‘‘
’’انہیں پروفیسر عادل شہریار بھی ٹھیک کر سکتا ہے۔ جوگی ضروری تو نہیں ہے۔‘‘
’’سر! ڈاکٹر عادل بہت اچھے ماہرنفسیات ہیں لیکن جوگی کو آپ شاید اچھی طرح جانتے نہیں ہیں۔ وہ شیطانی بلا ہے بلا… جنہیں اس نے بگاڑا ہے۔ کوئی اور دُوسرا انہیں سنوار نہیں سکتا۔ صرف وہی ٹھیک کر سکتا ہے۔‘‘
’’لیکن مجبوری میں انسان کو کوئی دُوسرا آپشن بھی لینا پڑتا ہے۔ شاید ہمیں بھی لینا پڑے۔‘‘
’’کیا بات ہے سر؟ جوگی کو کیا ہوا ہے؟‘‘ اس کے لہجے میں اندیشے بول رہے تھے۔
’’ویری سوری! تم نے اسے مار پیٹ کر اور باندھ کر جس طرح ہمارے حوالے کیا تھا۔ ہم اسے اسی طرح وہاں اپنے ہیڈ کوارٹر لے گئے تھے لیکن جب وہاں پہنچ کر اسے گاڑی سے نکالا۔ تو…‘‘ وہ ہچکچا کر خاموش ہوگئے۔
وہ بےچین ہوکر بولا۔ ’’تو… تو کیا ہوا سر! وہ گاڑی میں نہیں تھا؟ بھاگ گیا کیا؟‘‘
’’نہیں۔ وہ مر چکا تھا۔‘‘ انہوں نے افسردہ لہجے میں جواب دے کر سر جھکا لیا تو اس کے حواسوں پر بھی جیسے بجلی گر گئی۔ اب شمائلہ کا کیا ہوگا؟ اسے سکتہ سا ہوگیا۔ غم کے بوجھ تلے دَب کر وہ ساکت بیٹھا رہ گیا۔
ذہن سائیں سائیں کرنے لگا اور وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھا۔ دُکھ اور مایوسی نے اسے بڑی دیر ساکت رکھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس کے اعصاب بیدار ہونا شروع ہوئے اور دماغ نے بھی کام کرنا شروع کیا۔ سوچتے سوچتے وہ یکایک چونکا۔ اسے کسی کی باتیں یاد آئیں۔
’’سر! جوگی مر گیا۔ پکی بات ہے نا۔‘‘ (جاری ہے)