Andheron Main Doob Gaye | Teen Auratien Teen Kahaniyan

896
ایک روز میری اماں سیدو بی بی کے گھر رضائیاں ترُپنے گئی تو میں بھی ہمراہ تھی۔ مجھے دیکھ کر انہوں نے پوچھا۔ ’’گلاں! کیا تیری بیٹی اسکول جاتی ہے؟ نہیں بی بی…! یہ نہیں جاتی۔ کیوں نہیں جاتی، اسکول دور تو نہیں ہے۔ اس کا باپ منع کرتا ہے۔ اماں نے مختصر جواب دیا اور سلائی میں مصروف ہوگئی۔
سرکار کو زمین دے کر نمبردار نے اپنی حویلی کے نزدیک اسکول بنوا دیا ہے مگر وہاں بستی کی چند ہی بچیاں پڑھنے آتی ہیں، وہ بھی میرے کہنے پر! اگر لڑکیوں کی تعداد نہ بڑھی تو اسکول بند کرنا پڑ جائے گا۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی۔ شروع میں چار استانیاں تعینات ہوئیں بعد میں تین کا تبادلہ کردیا گیا۔ باقی جماعتیں خالی تھیں، وہ کس کو پڑھاتیں… اگلے دن نمبردار نے ابا کو بلا کر سمجھایا۔ گھر آکر انہوں نے اماں کو کہا۔ کل گوہراں کو اسکول داخل کرانا ہے، اس کا اجلا جوڑا تیار کردینا۔ یہ سن کر میں خوش ہوگئی۔
اگلے روز اسکول جاتے ہوئے اماں نے تھیلے میں کھانے کا ڈبہ رکھ دیا جس میں ایک چپڑی روٹی پر تھوڑی سی شکر لپیٹ دی تھی۔ کہا ۔بھوک لگے تو آدھی چھٹی میں کھا لینا۔ میرے پاس پنسل تھی نہ کاپی، قاعدہ بھی نہ تھا۔ خالی ہاتھ پہلے دن اسکول گئی تھی مگر استانی نے پیار سے سواگت کیا۔ پہلی کا قاعدہ اور سلیٹ بھی اپنی طرف سے دی۔ یہ اثاثہ تعلیم لے کر میں خوشی سے پھولی نہ سماتی تھی۔
مجھے پڑھنے کا شوق ہوگیا۔ ذہین تھی، استانی بھی اچھی تھی۔ اس نے محنت اور توجہ سے مجھے پڑھایا۔ ہر جماعت میں اچھے نمبر لیتی تو وہ شاباش دیتی اور میری رپورٹ روزانہ نمبردارنی کو بتاتی۔ دوپہر میں آدھی چھٹی کے وقت ہماری ٹیچر آپا صغریٰ، سیدو بی بی کے گھر چلی جاتیں۔ وہاں کھانا کھاتیں جوسیدو بی بی ان کیلئے رکھتی تھیں۔ فریش ہوتیں اور دوچار باتیں نمبردارنی سے کرکے واپس اسکول آجاتی تھیں۔ ان کو بستی سے واپس شہر تک پہنچانے کا انتظام بھی انہوں نےہی کررکھا تھا۔ ہمارے نمبردار صاحب کا بہت رعب تھا۔ محکمہ تعلیم کے افسران اسکول کے معائنے کیلئے آتے تو انہی کے گھر قیام کرتے۔ شاہ صاحب کو اپنی بستی میں تعلیم کی ترقی کی فکر تھی۔ ان کی لگن کے سبب ہی یہاں سرکار نے اسکول منظور کیا اور علاقے کی بچیوں کو کتابوں کی شکل دیکھنی نصیب ہوئی تھی۔
یہ بستی دور افتادہ تھی۔ راستوں میں دھول اڑتی تھی۔ پکی سڑک تک جانے کیلئے دو میل پیدل چلنا پڑتا۔ شہر سے کوئی استانی تعینات ہوتی تو وہ یہاں آکر پڑھانے سے انکاری ہوتی کیونکہ یہاں سواری کا آنا دشوار تھا۔ ایسے میں نمبردار صاحب کو استانیوں کیلئے سواری یا پھر قیام و طعام کا بندوبست کرنا پڑتا۔ پھر بھی والدین اپنی بچیوں کو بطور ٹیچر بستیوں کے اسکول میں بھیجنے سے کتراتے اور جو بارسوخ سیاستدانوں تک پہنچ پاتے، اپنی خواتین کے تبادلے شہر میں کرا لیتے تھے۔ اسکولوں میں بچے پڑھنے آتے تو استانیاں ندارد ہوتی تھیں۔
شہاب شاہ اور ان کی بیگم چاہتے تھے کہ اپنے علاقے کی لڑکیاں کم ازکم میٹرک تک تعلیم حاصل کرلیں تاکہ یہی بچیاں آئندہ استانیاں بن سکیں۔ یہ ان کا مشن تھا کیونکہ وہ اپنے علاقے کو ترقی یافتہ دیکھنے کے آرزومند تھے۔ دونوں میاں، بیوی نے یہ بیڑا اٹھایا تھا کہ کسانوں کی بچیوں کو آمادہ کریں گے کہ وہ اپنی لڑکیوں کو اسکول پڑھنے بھیجیں۔ انہی کی کوششوں سے میں نے مڈل شاندار نمبروں سے پاس کیا اور پھر سیدو بی بی نے اپنے گھر میں مجھے خود پڑھا کر بطور پرائیویٹ طالبہ کے بورڈ کا امتحان دلوایا۔ میٹرک تک معاونت کی۔ وہ مجھے ٹیچر بنانا چاہتی تھیں۔ میں نے میٹرک شاندار نمبر لے کر پاس کیا تو انہوں نے مجھ سے بی اے کی تیاری بھی بطور پرائیویٹ طالبہ کرائی اور میں گریجویشن کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
یہ سن 1960ء کی بات ہے تب قریبی شہر میں بھی کالج نہیں تھا۔ شہر کی لڑکیاں گریجویشن کیلئے لاہور کا سفر اختیار کرتی تھیں۔ ہم بستی کی لڑکیوں کیلئے اعلیٰ تعلیم ایک خواب تھا۔ بی اے کے بعد سیدو بی بی نے میرے والدین کو مشورہ دیا کہ لڑکی نے بی اے فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا ہے۔ اس کو بی ایڈ کرنے کیلئے لاہور بھجوانا چاہتی ہوں، خرچہ ہم دیں گے۔ اسے پڑھنے دو کیونکہ ہمارے علاقے میں شہروں سے استانیوں کو تعینات کرنا محال ہے۔ ان کا روزانہ یہاں آنا آسان نہیں ہوتا،وہ بہت چھٹیاں کرتی ہیں اور بارسوخ لوگوں سے سفارشیں کروا کر گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتی ہیں۔ باقاعدگی سے اسکول نہیں آتیں۔ اپنی بستی کی بچیاں اگر پڑھ لیں گی تو وہ استانیاں بھی لگ جائیں گی۔
والد اس امر پر آمادہ نہ تھے کہ میں لاہور جاکر پڑھوں لیکن نمبردار شہاب شاہ اور سیدو بی بی کی وجہ سے انہیں مجھے بی ایڈ کرنے کیلئے لاہور بھیجنا پڑا۔ اگرچہ قریبی رشتے داروں نے بہت مخالفت کی تھی۔ پھپھو نے تو یہاں تک کہا کہ دیکھ لینا تمہاری لڑکی اگر زیادہ پڑھ لکھ گئی تو شادی بھی اپنی مرضی سے کرے گی۔ تبھی اماں نے کہا تھا۔ شاداں بی بی…! کیسی بات منہ سے نکال رہی ہو؟ وہ میری بیٹی ہے، ایسا ہرگز نہ کرے گی۔ جانے کون سی گھڑی پھپھو نے یہ کلمات منہ سے نکالے تھے کہ بعد میں ان کا کہا پورا ہوا۔ دراصل میری منگنی بچپن میں انہی کے بیٹے منگلے سے ہوگئی تھی۔ وہ اپنے باپ کے ساتھ کھیتی باڑی کرتا تھا۔ سیدھا سادہ، اَن پڑھ منگلا سدا تہبند، کرتے میں رہتا۔ ڈھور ڈنگر چرانا، بھینسوں کو نہلانا اور فارغ وقت میں پتنگ بازی اور کبڈی کھیلنا بس یہی اس کی زندگی تھی۔ بی ایڈ کے بعد گائوں واپس آئی تو شہاب شاہ کی مہربانی سے میری تعیناتی بستی کے ساتھ والے گائوں کے پرائمری اسکول میں بطور ٹیچر ہوگئی۔ دو سال کی ملازمت کے بعد میں اس اسکول کی ہیڈ مسٹریس بن گئی۔ گورنمنٹ کی ملازمت تھی۔ والدین خوش تھے کیونکہ اسکول کی ہیڈ ہونے پر ان کی عزت علاقے میں دوچند ہوگئی تھی۔
اس بار چھٹی پر گھر گئی تو گھر میں میری منگلے سے بیاہ کی تیاریاں چل رہی تھیں۔ میں تو سن ہوکر رہ گئی۔ ہمارے یہاں منگنی کا مطلب نکاح ہی تھا۔ میں کتابوں کی دنیا میں کھوئی تو اس حقیقت کو بھول گئی کہ منگنی کا ٹوٹ جانا ایک جرم گردانا جاتا ہے تاہم مرنا منظور تھا مگر اب منگلے سے شادی منظور نہیں تھی۔ وہ سخت ناپسند تھا پھر شادی کا کیا سوال…! گریجویشن کرنے کے بعد اتنا تو جان گئی تھی کہ عاقل، بالغ لڑکی کی شادی اس کی مرضی کے خلاف نہیں کی جاسکتی۔ دبے لفظوں ماں سے کہا۔ اماں! ہمارا قانون اور دین لڑکی کی زبردستی شادی کی اجازت نہیں دیتا۔
یہ الفاظ دوبارہ منہ سے مت نکالنا ورنہ تیرا باپ، چچا اور بھائی تجھ پر کلہاڑیاں لے کر ٹوٹ پڑیں گے اور تیری ہڈیاں توڑ دیں گے۔ جانتی نہیں ہے تو ہمارے رواجوں کو… تو پڑھ لکھ گئی ہے مگر وہ تو پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ ماں کی بات میری سمجھ میں آگئی۔ ان دنوں میںبہت پریشان تھی۔ منگلے کے ساتھ شادی کا سوچ کر دل بیٹھنے لگتا تھا۔ نگہت میری ساتھی ٹیچر تھی۔ اس نے پوچھا۔ آپ آج کل کیوں اتنی پریشان رہتی ہیں؟
میری پریشانی کا کوئی حل نہیں ہے، نہ سہی، بتانے پر دل کا بوجھ تو ہلکا ہوتا ہے۔ وہ یہاں گرلز ہاسٹل میں بھی میرے ساتھ رہتی تھی۔ قابل اعتماد تھی۔ ذہنی دبائو کم کرنے کیلئے میں نے اسے بتا دیا کہ میرا پھوپی زاد چٹا اَن پڑھ ہے۔ وہ صرف تہواروں پر نہاتا ہے اور اچھے کپڑے پہنتا ہے ورنہ عام دنوں میں تہبند اور بنیان میں گھومتا ہے۔ میں اس کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی۔
بس یہی مسئلہ ہے…؟ وہ بولی۔ انسان اگر پڑھا لکھا ہو تو اپنے جیون


ساتھی کی زندگی میں سدھار لا سکتا ہے۔
میں… لیکن منگلے کو قبول نہیں کرسکتی۔ مجھے پتا چل گیا ہے کہ بڑے شہروں میں انسان اچھے گھروں اور صاف ستھری جگہوں پر کس طرح رہتے ہیں۔ بستی کے کچے گھروں میں جہاں غسل خانے تک نہیں ہوتے، جہاں عورتوں کوحوائج ضروری کیلئے بھی کھیتوں میں جانا پڑتا ہے اور بچے سارا دن دھول اڑاتی گلیوں میں بھاگتے دوڑتے بچپن گزار دیتے ہیں۔ میں اب ایسی زندگی کو قبول نہیں کرسکتی۔ بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے۔ کسی تعلیم یافتہ انسان کے ساتھ شادی کرکے معیاری زندگی گزارنا میرا حق بنتا ہے۔
میرا بھائی اوورسیئر ہے، جلد ہی ترقی پا کر ایس ڈی او بن جائے گا۔ ہمارا خاندان تعلیم یافتہ ہے۔ تم نے میرے بھائی جمال کو دیکھا ہے۔ اگر ہم تمہارے والدین سے رشتہ طلب کریں تو کیا وہ ہمیں رشتہ دے دیں گے؟ ہم زیادہ امیر نہیں لیکن سفید پوش ضرور ہیں۔
ہرگز نہیں…! وہ کبھی رشتہ غیر خاندان میں نہیں دیں گے لیکن میری آنکھوں میں اچھی زندگی کا خواب بس گیا ہے۔ میں اسے ضرور پورا کروں گی۔
نگہت کے بھائی کو میں نے دوچار مرتبہ دیکھا تھا جب وہ چھٹیوں پر نگہت کو لینے ہمارے اسکول آیا کرتا تھا۔ اس کے پاس ایک سرکاری جیپ ہوتی تھی کیونکہ اسے علاقے کا سروے کرنا ہوتا تھا۔ اس کی شہرت یہاں اچھی تھی۔ لوگ اسے دیانتدار اوورسیئر کے طور پر جانتے تھے۔ نگہت نے جمال کا ذکر کیا تو میرے ذہن میں اس کا سراپا ابھر آیا۔ وہ نہ صرف پڑھا لکھا بلکہ ہینڈسم اور مہذب تھا۔ ایک دو بار مجھے سرکاری کام سے لاہور جانا پڑا تو نگہت نے جمال سے کہا تھا اور اس نے ہم سے تعاون کیا تھا کیونکہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو ملازمتوں اور اپنے مسائل کی خاطر دوردراز علاقوں سے سیکرٹریٹ کی جانب سفر اختیار کرنے پڑتے تھے تاہم خواتین کیلئے یہ سفر طے کرنا انتہائی سخت مسئلہ ہوتا تھا۔
جب جمال اپنی بہن سے ملنے شہر سے اسکول آیا تو نگہت نے میری اس سے بات کرائی۔ میں نے اپنے ادارے کی ہیڈ ہونے کی حیثیت سے اس سے بات کرلی۔ بعد میں جوں جوں سوچتی گئی، وہ میرے دل میں سماتا گیا۔
میرا دل جمال سے رشتہ کرنے پر آمادہ ہوچکا تھا مگر جانتی تھی والدین کو یہ بات بتانے سے الٹی آنتیں گلے پڑ جائیں گی اور وہ میری ملازمت کو ختم کرانے کے درپے ہوجائیں گے۔ یہی نہیں وہ زبردستی جلد ازجلد مجھے منگلے سے ازدواجی بندھن میں باندھ دیں گے۔ مجھ پر والد، چچا اور اپنے بھائیوں کا اس قدر رعب تھا کہ اس معاملے میں چوں بھی نہ کرسکتی تھی۔ جمال نے مجھے پسند کرلیا۔ اسی نے نے نگہت سے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ اس کی شادی مجھ سے کرانے میں معاونت کرے تاہم ہمارے درمیان کوئی عشق و محبت کا چکر نہیں چلا تھا صرف ایک دوسرے کو شادی کے نقطہ نظر سے دیکھا اور پسند کیا تھا۔
اس بار گھر پہنچی تو بھابی نے بتایا کہ نمبردار شہاب شاہ نے تمہارا تبادلہ اپنی بستی کے گائوں میں کروا لیا ہے کیونکہ اب اسکول میٹرک تک ہوگیا ہے اور پندرہ دن بعد تمہاری شادی ہے۔ میں ان کا منہ تکنے لگی۔
اس بھابی سے مجھے ڈر لگتا تھا جو اب میری نند ہونے جارہی تھی۔ یہ بدزبان اور بہت جھگڑالو قسم کی عورت تھی، منگلا اسی کا بھائی تھا۔ اگر میرے والدین میری شادی منگلے سے کرنے سے انکار کردیتے تو یہ بھی اپنا گھر برباد کرنے پر تل جاتی۔ میکے چلی جاتی اور اپنے چھوٹے چھوٹے چار بچے میری ماں کے پاس چھوڑ جاتی۔ مجھے اپنے بھتیجے، بھتیجیوں سے پیار تھا۔ میں ان کو اتنی بڑی سزا نہیں دینا چاہتی تھی کہ ماں سے جدا ہوجائیں۔
تمام مشکلات سامنے تھیں۔ خود کو بہت سمجھایا مگر دل کو منگلے کی دلہن بننے پر راضی نہ کرسکی۔ میں سیدوبی بی کے پاس ملنے گئی اور ان سے اپنا مسئلہ بیان کیا۔ وہ بولیں۔ تمہاری بات درست ہے لیکن تمہاری برادری کے رسم و رواج کے سامنے ہم بھی بے بس ہیں۔ اگر شہاب صاحب نے مداخلت کی تو ساری بستی ان کے خلاف ہوجائے گی۔ تم حوصلہ رکھو، میں ان سے بات کرتی ہوں شاید وہ کوئی حل نکال لیں۔
شہاب صاحب نے والد اور چچا کو سمجھایا مگر وہ نہ مانے۔ کہا کہ اس طرح برادری ہمارا حقہ پانی بند کردے گی۔ ہم نے لڑکی کو اس لئے نہیں پڑھایا تھا کہ یہ اپنی مرضی کرے اور ساری برادری میں ہماری پگڑی اچھال دے۔ یہ نہیں ہوسکتا۔ ہاں! اگر آپ ہماری جان مانگیں تو حاضر ہے مگر گوہر کی شادی منگلے سے ہی ہوگی۔
نمبردار صاحب خاموش ہوگئے مگر وہ اس سوچ میں تھے کہ کیا کرنا چاہئے۔ میرے وارثوں نے اس کا موقع ہی نہ دیا اور شادیانے بجانے کا اہتمام کرلیا۔ تمام رشتے داروں کو شادی کا بلاوا دے دیا گیا تب نکاح سے ایک دن پہلے میں نے یہ قدم اٹھا لیا جو میں ہرگز بھی نہیں اٹھانا چاہتی تھی۔
اڈے پر جاکر ویگن میں سوار ہوگئی اور نگہت کے گھر چلی گئی۔ وہ مجھے اچانک اپنے گھر دیکھ کر حیران رہ گئی۔ پوچھا۔ خیر تو ہے، یہ اچانک کیسے آنا ہوا…؟ آنے سے پہلے اطلاع کیوں نہ دی؟
میں نے تمام احوال بتا کر کہا کہ اب جمال کو ہمت دکھانی ہے۔ آپ لوگ میرا ساتھ دیں، میں تمہارے بھائی کے ساتھ نکاح کرکے اپنی زندگی اور اپنا حق محفوظ کرنے آئی ہوں۔ نگہت کے والدین کسی طور راضی نہ ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر بتائے لڑکی گھر سے آگئی ہے، یہ مناسب بات نہیں۔ اس کے والدین راضی ہوں یا پھر گائوں کا نمبردار ہمارا ساتھ دینے پر تیار ہو تو ہم مسئلہ حل کرلیں گے۔
والدین کا راضی ہونا ممکن نہیں ہے البتہ ہماری بستی کے نمبردار سے آپ رابطہ کرلیں، وہ ضرور ساتھ دیں گے۔ انہوں نے نمبردار سے رابطہ کیا۔ لڑکی عاقل، بالغ اور تعلیم یافتہ ہے۔ اگر شادی کرلے تو پھر میں ضرور آپ لوگوں کی حمایت کروں گا کیونکہ میں نے گوہر بی بی کے والد اور چچا کو سمجھانے کا فرض ادا کرلیا ہے، وہ اس کا جائز حق نہیں مانتے۔ ان لوگوں نے مجھے اپنے گھر سے دھکا دینے کی بجائے مولوی صاحب کو بلوا لیا اور یوں میرا نکاح جمال سے ہوگیا۔ اس نکاح پر ہم دونوں راضی تھے۔ نکاح جمال کی ضد کی وجہ سے ہی ممکن ہوسکا ورنہ اس کے والد اس طرح نکاح کرانے پر آمادہ نہ ہورہے تھے۔
نکاح کے بعد شیرینی تقسیم ہورہی تھی کہ میرے والد اور چچا نگہت کے گھر پہنچ گئے اور شب عروسی سے قبل ہی پولیس کو لے کر آگئے۔ کہا کہ ہمیں خبر ملی ہے ہماری لڑکی کو آپ کے لڑکے نے اغوا کیا ہے۔ لڑکی ہمیں واپس کردو ورنہ آپ کی اور آپ کے بیٹے کی گرفتاری ہوجائے گی۔ پھوپھا نے موٹی رقم کا انتظام کرکے پولیس والوں کی جیبیں بھری تھیں تبھی وہ ابا کے ساتھ آئے تھے۔
نمبردار صاحب اسی وقت کے منتظر تھے کہ نکاح ہوجائے تو پھر مداخلت کریں۔ اگر پہلے مداخلت کرتے تو بستی کے بہت سے ووٹ جو ان کو ملنے تھے، وہ ان سے محروم رہ جاتے۔ اغوا کا پرچہ درج ہوچکا تھا۔ اب آگے کی کارروائی میں حدود آرڈیننس کے تحت مجرم قرار پانے کیلئے میڈیکل رپورٹ لازمی تھی۔ مجھے لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔ اس نے جو رپورٹ دی، وہ درست تھی کیونکہ میری دوشیزگی پر حرف نہ آیا تھا۔ پولیس حیران تھی۔ یہ کیسی محبت ہے کہ جو آئینے کی طرح شفاف ہے، نکاح نامہ بھی موجود تھا۔ نمبردار صاحب وقت پر جیپ میں یہاں آگئے اور ساتھ ہی اپنی بستی کے دوبزرگ بھی لے آئے جو ہمارے دور پرے کے رشتے دار بھی ہوتے تھے۔ مالی اعتبار سے مستحکم بھی تھے۔ ہم نے نکاح کیا تھا، یہ کوئی جرم نہیں تھا۔ جرم ثابت نہ ہوسکا۔ طبی رپورٹ پر حدود کا کیس نہیں بنتا تھا۔ اس وقت تو والدین نے نمبردار صاحب کے کہنے پر جمال کے والدین سے صلح کرلی تاہم یہ شرط رکھی کہ ہماری بیٹی ہمارے حوالے کردو تاکہ ہم برادری کے سامنے عزت سے اسے رخصت کریں ورنہ ہماری مونچھ نیچی ہوجائے
سے معاملہ طے ہو تو اچھا ہوتا ہے۔ میں نے بھی سوچا کہ والد اور بھائیوں کو اتنا رسوا نہیں کرنا چاہئے۔ جمال سے نکاح ہوگیا ہے، والد اور چچا اس پر راضی ہوگئے ہیں، نمبردار بھی ساتھ ہیں۔ اب میرے ساتھ یہ لوگ کیسے دھوکا کرسکتے ہیں۔ پس والدین کے ساتھ جانے پر آمادگی ظاہر کردی۔ میرے سسرال والے سفید پوش اور شریف لوگ تھے۔ انہوں نے میرے ورثاء کے وعدے پر اعتبار کرلیا۔ گرچہ جمال کہتا رہا کہ پہلے اس نکاح کو ہم عدالت سے کنفرم کرا لیں پھر بے شک یہ میری منکوحہ کو ساتھ لے جائیں مگر بزرگوں نے کہا کہ ہم جو درمیان میں ہیں۔ بے اعتباری کی کوئی بات نہیں ہے۔ تمہیں عزت سے رخصت کرکے ان کے ساتھ بھیجیں گے۔ یہ بارات لے آئیں گے تو نکاح نامہ بھی رجسٹرڈ کرا لیں گے۔ میں دھڑکتے دل سے والد اور چچا کے ہمراہ اپنی بستی آگئی۔ سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ یہاں ایک اور گیم تیار ہے۔ ورثاء کس نیت سے لائے ہیں، جانتی تو کبھی نہ آتی۔
دیہاتی لوگ جہاں بھولے بھالے اور سادہ لوح ہوتے ہیں، وہاں ضدی اور انا پرست بھی ہوتے ہیں کیونکہ وہ تعلیم یافتہ نہیں ہوتے اور ان کا برادری سسٹم بہت مضبوط ہوتا ہے۔ میرے ورثاء نے کسی طرح ایک جھوٹی میڈیکل رپورٹ تیار کروا لی۔ پولیس کے کچھ اہلکار جو رشوت لے چکے تھے، ان کی معاونت کررہے تھے تب انہوں نے جمال کو سزا دلوانے کیلئے مجھے خود پولیس کے حوالے کردیا یہ کہہ کر کہ اس رپورٹ کی روشنی میں جمال پر حدود کا کیس بنتا ہے۔ آگے کیا لکھوں۔ مجھ پر والد اور بھائیوں نے اتنا تشدد کیا کہ میرا ذہنی توازن متاثر ہوگیا۔ کچھ اس طرح ڈرایا کہ میرا جسم، میری سوچیں، میرے ارادے سبھی پتھر کے ہوگئے۔ میں سر تا پائوں پتھراکر رہ گئی۔
بیچارے مولوی صاحب بھی گھیر لائے گئے۔ ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ شرعی طریقے سے میرا نکاح پڑھایا تھا۔ گواہ بھی ساتھ ملزم قرار پائے۔ جمال بھی گرفتار ہوکر حوالات میں قید ہوگیا۔ ان حالات سے گھبرا کر جمال کے والد نے فوراً ہتھیار ڈال دیئے۔ عدالت میں معاملہ لے جانے کی بجائے میرے ورثاء کے مطالبے پر جمال سے کہا کہ طلاق دے کر گلوخلاصی کرا لو۔ ہمیں ایسے جاہل لوگوں سے واسطہ رکھنا ہرگز منظور نہیں۔ ہم نے اس لڑکی کی آہ و زاری پر رحم کیا تھا کہ جو خود ہمارے گھر آگئی تھی اور کہتی تھی کہ اب واپس جانے پر مجبور نہ کرنا ورنہ ورثاء کے ہاتھوں ماری جائوں گی۔
بات بھی ایسی ہی تھی۔ میں روتی رہ گئی اور وہ مجھ سے ناتا ختم کرکے اپنے بیٹے کو حوالات سے آزاد کرا کر لے گئے۔ انہوں نے کہا۔ اگر ہم ایسا نہ کرتے تو اس جھگڑے میں عزت کے ساتھ ہمارے بیٹے کی نوکری بھی چلی جاتی یا پھر جان چلی جاتی۔ وہ لمبی سزا میں جیل کی آہنی سلاخوں کے پیچھے چلا جاتا۔
میں ادھر کی رہی اور نہ ادھر کی…! عدالت میں بھی ابا اور چچا نے اپنی مرضی کا بیان مجھ سے دلوایا۔ جمال کی موت کے خوف نے میرے وجود میں ہر جذبہ اور صداقت کو موت کی نیند سلا دیا تھا کیونکہ اب میں ظالموں کے قبضے میں تھی اور یہ ظالم میرے اپنے ہی تھے۔ بالآخر مجھے منگلے کی زوجہ بنا کر ہی برادری نے دم لیا۔ وقت گزرتا رہا۔ ملازمت جاتی رہی۔ میں اس کے چھ بچوں کی ماں بن کے بچوں کے ہجوم میں گھر گئی اور انہی کی محبت کے سہارے زندگی کٹ گئی مگر کبھی بھی ذہن نے منگلے کو بطور جیون ساتھی تسلیم نہ کیا۔
میری روح ہر دم میرے تن مردہ سے روٹھی رہتی۔ سانسوں پر بس نہیں چلتا تھا کہ یہ ڈور میں خود ہی کاٹ دوں۔ سیدو بی بی سے بھی روٹھ گئی اور قسم کھا لی کہ اپنی بچیوں کو پرائمری سے زیادہ نہیں پڑھائوں گی۔ اگر ان کی سوچ کے دریچے کھل گئے تو وہ بھی میری طرح کہیں جاہلیت کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں۔
سوچ کے در بند رہیں تو انسان جس حال میں دھکیلا جائے، حالات سے سمجھوتہ کرلیتا ہے لیکن ایک بار آگہی آجائے تو اس کا کرب پھر عذاب بن جاتا ہے۔ ہمارے دیہات کی عورتوں کی بھی کیا زندگی ہے۔ اَن پڑھ ہوں تو دکھی، پڑھ لکھ جائیں تو بھی دکھ ہی سمیٹنا پڑتے ہیں۔ دیہاتی عورت قانون کی مدد سے جیت بھی جائے تو ہار جاتی ہے کیونکہ رسم و رواجوں میں جکڑے، بستی کے لوگ بڑے ظالم ہوتے ہیں۔ (الف… ڈیرہ غازی خان)