Anokha Chaal Baaz | Episode 3

619
میرے سامنے ایک راستہ یہ تھا کہ نیویارک چھوڑ دوں، کہیں اور چلا جائوں لیکن اس تصور سے ہی مجھے خوف آتا تھا۔ نیویارک میں ایک تو میرا دل لگ گیا تھا، دوسرے لاشعوری طو پر یہاں ایک قسم کے تحفظ کا احساس ہوتا تھا کیونکہ والدین یہاں سے قریب تھے۔ اگر کبھی میں کسی زیادہ ہی سنگین مصیبت میں پھنس جاتا تو ایک فون کرنے پر وہ بہت کم وقت میں میری مدد کو پہنچ سکتے تھے۔ اس بات کا مجھے یقین تھا کہ میری حرکتیں خواہ کچھ بھی ہوں، لیکن آڑے وقت میں والدین میرے کام ضرور آئیں گے، مجھے بے یارومددگار نہیں چھوڑیں گے۔
اگر میں شکاگو، میامی، واشنگٹن یا کسی اور دور افتادہ شہر چلا جاتا تو والدین کا بروقت میری مدد کیلئے پہنچنا ذرا مشکوک ہوجاتا اور یہ تصور میرے لئے پریشان کن تھا۔ ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ ابھی تک مجھے صرف ایک ہی ’’ہنر‘‘ آتا تھا اور وہ تھا بوگس چیک لکھنا! یہی میرا ذریعہ آمدن تھا۔ آمدنی کا کوئی اور ذریعہ اختیار کرنے کے بارے میں، میں سوچتا بھی نہیں تھا۔
مجھے اندازہ نہیں تھا کہ جتنی آسانی سے میں نیویارک کے دکانداروں، ہوٹل والوں اور کمپنیوں کے ملازمین کو بے وقوف بنا رہا تھا، اس طرح کسی دوسرے شہر میں بھی بنا سکوں گا یا نہیں…؟ نیویارک کی حدود میں کم ازکم ایک بینک میں میرا نام نہاد اکائونٹ تو موجود تھا جس کی بنیاد پر میں بوگس چیک لکھتا رہتا تھا۔ اس کے علاوہ میرے پاس اسی ریاست کا ڈرائیونگ لائسنس بھی موجود تھا۔ گو میں نے اس میں اپنی عمر دس سال بڑھائی ہوئی تھی لیکن وہ بہرحال میری شناخت کے سلسلے میں کام آتا تھا۔
چیکوں کی میرے پاس ابھی تک ایک گڈی موجود تھی۔ اکائونٹ میں خواہ کوئی رقم نہیں تھی لیکن چیک ابھی تک میرے کام آرہے تھے۔ کسی دوسری ریاست میں یہ چیک اور ڈرائیونگ لائسنس شاید میرے لئے بیکار ہوجاتا۔ وہاں مجھے کوئی نیا نام اختیار کرکے دوسرا ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا اور نیا اکائونٹ کھلوانا پڑتا۔ یہ کام فی الحال مجھے مشکل، پیچیدہ اور پرخطر معلوم ہورہا تھا۔ میں کامیابی سے ایک مخصوص نوعیت کی ہیرا پھیری تو شروع کرچکا تھا لیکن ابھی مجھ میں بہت زیادہ اعتماد اور بے خوفی نہیں آئی تھی۔
چند دن بعد بھی میں اسی مسئلے میں الجھا ہوا تھا کہ اچانک ایک حل یوں سامنے آیا جیسے کوئی نیا سورج طلوع ہورہا ہو۔ اس وقت میں کموڈور ہوٹل کے قریب سے گزر رہا تھا۔ جونہی میں گھومنے والے دروازے کے قریب پہنچا، میں نے ایک باوردی شخص کو باہر آتے دیکھا۔ اس کے پیچھے وردیوں ہی میں چند افراد اور برآمد ہوئے۔ وہ دراصل ایسٹرن ایئرلائنز کا عملہ تھا۔ ایک کیپٹن، ایک کوپائلٹ، ایک فلائٹ انجینئر اور چار ایئرہوسٹسیں تھیں۔ وہ سب ہنستے اور آپس میں باتیں کرتے ہوئے باہر آرہے تھے۔ گردوپیش سے وہ گویا بالکل بے نیاز تھے۔
تینوں مرد چھریرے جسم کے تھے۔ وہ اپنی باریک سنہری پٹیوں والی یونیفارم میں بڑے اسمارٹ اور پروقار معلوم ہورہے تھے۔ لڑکیاں نہایت متناسب جسم کی مالک اور خوبصورت تھیں۔ میں سحرزدہ سا ایک طرف کھڑا انہیں دیکھتا رہا۔ فٹ پاتھ کے قریب ایئرلائن کی بس کھڑی تھی، وہ جاکر اس میں بیٹھ گئے تو میں گویا کسی خوبصورت خواب سے چونکا۔ میں محسوس کررہا تھا کہ میں نے اتنے جاذب نظر اور دلکش دکھائی دینے والے مردوں اور عورتوں کا گروپ پہلی بار دیکھا تھا۔
میں آگے بڑھ گیا لیکن ان کی شخصیت کا سحر میرے ذہن پر کافی دیر تک چھایا رہا اور میں انہی کے بارے میں سوچتا رہا۔ ان میں سے ہر ایک کا دلکش سراپا باربار میری نظروں کے سامنے ابھر رہا تھا۔ پھر اچانک ایک ایسے خیال نے میرے ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیا کہ میں خود بھی حیرت سے مفلوج سا ہوکر رہ گیا۔ بات بظاہر ناممکنات میں سے تھی اور میں خود بھی باربار اپنے آپ سے یہی سوال کررہا تھا کہ ایسا بھلا کیسے ہوسکتا ہے؟ مگر پھر بھی میں ان خطوط پر سوچے جارہا تھا اور خود ہی حیران بھی ہوئے جارہا تھا۔
دراصل میں سوچ رہا تھا کہ اگر میں پائلٹ بن جائوں تو کیسا رہے؟ حقیقی اور اصل پائلٹ بننے کا تو میں نہیں سوچ سکتا تھا کیونکہ اتنی پڑھائی، طویل تربیت، ہوابازی کے اسکول میں برسوں کی جان ماری، لاکھوں کے اخراجات اور دیگر مسائل اور مرحلوں سے گزرنے کا میں تصور ہی نہیں کرسکتا تھا۔
میں صرف یہ سوچ رہا تھا کہ اگر مجھے پائلٹ کی یونیفارم اور اس پر لگانے والے بیج مل جائیں تو کیسا رہے گا؟ یہ یونیفارم پہن کر میں ملک بھر کے کسی بھی بڑے ہوٹل یا کسی اور کاروباری مرکز میں داخل ہوکر اپنا چیک کیش کرا سکتا تھا۔ پائلٹ وہ لوگ تھے جن کی ملک بھر میں بڑی عزت تھی، انہیں رشک کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور اکثر لوگ ان کے کام آکر خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان پر اعتبار کیا جاتا تھا اور ان کا شمار خوشحال طبقے میں ہوتا تھا۔
ان کے بارے میں ایک خاص بات یہ ہوتی تھی کہ وہ جہاں نظر آرہے ہوتے تھے، ضروری نہیں ہوتا تھا کہ وہ وہیں کے رہنے والے ہوتے۔ وہ تو اکثر حالت سفر میں ہی ہوتے تھے چنانچہ ایک پائلٹ اپنا چیک کہیں بھی کیش کرانے کیلئے پیش کرتا تو کوئی اس پر یہ اعتراض نہیں کرسکتا تھا کہ وہ کسی دوسرے شہر یا دوسری ریاست کا ہے، چیک کو کیش نہ کرنے کیلئے یہ عذر نہیں تراشا جاسکتا تھا اور نہ ہی کسی کے وہم و گمان میں یہ بات ہوسکتی تھی کہ کوئی پائلٹ چیکوں کے فراڈ کا عادی مجرم بھی ہوسکتا تھا۔
پائلٹ بننے میں فی الحال میری دلچسپی کی بنیاد صرف یہی تھی لیکن چند منٹ اس موضوع پر سوچنے کے بعد میں نے اس خیال کو ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کی۔ یہ بہت ہی مضحکہ خیز اور احمقانہ سا خیال تھا۔ اس میں چیلنج ضرور پوشیدہ تھا مگر اس پر عملدرآمد تقریباً ناممکن تھا۔
میں چلتے چلتے اسی دوران پارک ایونیو کے قریب جا پہنچا اور سامنے ہی مجھے پین امریکن ایئرویز کی بلند و بالا عمارت نظر آگئی۔ پین امریکن ایئرویز کو مختصراً پین ایم کہا جاتا ہے۔ میں نے سر اٹھا کر اس کی فلک بوس عمارت کو دیکھا۔ اس لمحے وہ مجھے لوہے، سیمنٹ اور شیشے سے بنی عمارت نہیں بلکہ ایک اونچا پہاڑ معلوم ہوئی جسے سر کرنا ایک کاردارد تھا۔
اسی لمحے اچانک میرے خیالات نے ایک زقند بھری اور وہیں کھڑے کھڑے میں نے گویا اس پہاڑ کو سر کرلیا۔ میں ایک فیصلے پر پہنچ گیا۔ میں نے دل ہی دل میں طے کرلیا کہ مجھے پین ایم کا پائلٹ بننا ہے۔ اس بلڈنگ میں بیٹھے ہوئے پین ایم کے اعلیٰ عہدیداروں کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے پائلٹوں کی فوج میں ایک پائلٹ کا اضافہ ہونے والا ہے جو ان کی تاریخ میں سب سے مہنگا پائلٹ ثابت ہوگا اور پائلٹ بھی ایسا جسے جہاز اڑانا نہیں آتا ہوگا۔
یہ بات ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتی تھی مگر دوسرے ہی لمحے میں نے خود کو تسلی دی کہ یہ کوئی ایسی ناقابل یقین بات بھی نہیں تھی۔ شہد کی مکھی کی بھی ایک قسم ایسی ہوتی تھی جو اڑنا نہیں جانتی مگر خوب شہد تیار کرتی تھی۔ میں بھی پین ایم کے شہد کے چھتے میں ایک ایسی ہی مکھی بن کر رہنا چاہتا تھا۔
اس رات میں جاگتا رہا اور سوچتا رہا۔ صبح کی سپیدی نمودار ہونے پر میں سویا۔ اس وقت تک میرے ذہن میں ایک منصوبے کا دھندلا سا خاکہ تیار ہوچکا تھا۔ گو اس منصوبے پر عملدرآمد کیلئے پہلے مجھے بہت کچھ معلوم کرنا تھا اور کان لگا کر بہت کچھ سننا تھا لیکن یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں تھی۔ دنیا کے بیشتر بڑے منصوبے اسی طرح شروع ہوتے ہیں۔ سننے سے آپ بہت کچھ سیکھتے ہیں۔
دوپہرایک بجے کے قریب میری آنکھ کھلی۔ میں نے
فوراً ڈائریکٹری اٹھائی اور وہ مخصوص زرد اوراق الٹنے پلٹنے لگا جن پر چھوٹے بڑے کاروباری اداروں کے نمبر ہوتے تھے۔ میں نے پین ایم کے بورڈ کا نمبر ملایا جہاں سے آگے مختلف شعبوں کے نمبر ملائے جاتے تھے۔ آپریٹر کی آواز سن کر میں نے اس سے کہا کہ مجھے پرچیزنگ ڈیپارٹمنٹ میں کسی سے بات کرنی تھی۔ میرا فوراً ہی کسی سے رابطہ کرا دیا گیا۔
’’میں خریداری کے شعبے سے جانسن بول رہا ہوں۔ فرمایئے! میں آپ کی کیا مدد کرسکتا ہوں؟‘‘ دوسری طرف سے ایک شائستہ سی آواز سنائی دی۔
میں نے اپنے منصوبے کے سلسلے میں نہایت اعتماد سے پہلا تیر ہوا میں چلایا۔ ’’میرا نام رابرٹ بلیک ہے۔ مجھے تھوڑی سی معلومات درکار تھیں۔ میں پین ایم ہی میں ایک کوپائلٹ ہوں اور بنیادی طور پر لاس اینجلس میں تعینات ہوں۔‘‘ اتنا کہہ کر میں اس کا ردعمل محسوس کرنے کیلئے خاموش ہوا۔ میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
جانسن نامی وہ نامعلوم شخص پہلے سے بھی زیادہ شائستگی اور خوش خلقی سے بولا۔ ’’جی… جی! کہئے مسٹر بلیک! میں آپ کیلئے کیا کرسکتا ہوں؟‘‘
اس کے خوشگوار لہجے اور ہمدردانہ ردعمل سے حوصلہ پا کر میں نے اگلی چھلانگ لگائی۔ ’’میں آج صبح آٹھ بجے ایک فلائٹ کے ساتھ یہاں پہنچا ہوں اور سات بجے مجھے یہاں سے روانہ بھی ہوجانا ہے۔‘‘
پروازوں کے یہ اوقات میں نے یونہی تکے سے بتا دیئے تھے۔ مجھے امید یہی تھی کہ پرچیزنگ ڈیپارٹمنٹ کا آدمی اپنی ایئرلائن کے پروازوں کے شیڈول سے میری ہی طرح زیادہ واقف نہیں ہوگا۔ میں دل ہی دل میں یہ دعا بھی کررہا تھا کہ میرا یہ اندازہ درست ثابت ہو۔
میں نے اپنے لہجے میں پریشانی اور خجالت سموتے ہوئے بات آگے بڑھائی۔ ’’سمجھ میں نہیں آرہا کیسے اپنا مسئلہ بیان کروں اور یہ بھی سمجھ میں نہیں آرہا کہ یہ ہوا کیسے…؟ بہرحال! میری یونیفارم کسی نے چرا لی ہے یا شاید میری بھاگ دوڑ کے دوران کہیں رہ گئی ہے۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ اس وقت میں عام کپڑوں میں ہوں اور سات بجے مجھے فلائٹ پر جانا ہے۔ ظاہر ہے مجھے سویلین کپڑوں میں تو ڈیوٹی پر پہنچنے کی اجازت نہیں ملے گی۔ دوسری یونیفارم میرے گھر پر لاس اینجلس میں ہے۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ دوسری یونیفارم یہاں کہاں سے ملے گی۔ ہمارا سپلائر کون ہے یا ہماری یونیفارمز تیار کرنے کا ٹھیکہ کس کے پاس ہے۔ مجھے کچھ پتا نہیں ہے صرف اس فلائٹ کیلئے مجھے یونیفارم چاہئے خواہ کسی سے مستعار ہی مل جائے۔‘‘
جانسن خوشدلی سے ہنسا اور بولا۔ ’’یہ کوئی ایسا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ آپ کے پاس اس وقت پین یا پنسل ہے؟‘‘
میں نے اثبات میں جواب دیا تو وہ بولا۔ ’’نام نوٹ کرلیں۔ آپ کو یونیفارم تیار کرنے والی ایک بہت بڑی دکان پر جانا ہے۔ اس کا نام ’’ویل بلٹ یونیفارم کمپنی‘‘ ہے۔‘‘ اس نے مجھے ایڈریس بھی لکھوا دیا اور بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ’’وہاں آپ مسٹر روزن سے ملئے گا۔ وہ آپ کا مسئلہ حل کردیں گے۔ میں انہیں فون بھی کردوں گا اور آپ کے بارے میں بتا دوں گا۔ ٹھیک ہے؟‘‘ اس کے لہجے سے اس بوائے اسکائوٹ کی طرح خوشی کا اظہار ہورہا تھا جس نے اپنے حصے کا فریضہ بڑی خوش اسلوبی سے ادا کردیا ہو۔ میں نے صدق دل سے اس کا شکریہ ادا کیا اور فون بند کردیا۔
پون گھنٹے بعد میں ’’ویل بلٹ یونیفارم کمپنی‘‘ کی دکان میں داخل ہورہا تھا۔ مسٹر روزن ایک دبلے پتلے، مختصر الوجود سے آدمی تھے۔ ان کے بال الجھے ہوئے تھے، ناک پر عینک ٹکی ہوئی تھی اور گلے میں وہ ٹیپ جھول رہی تھی جو درزی ناپ لینے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔
میں نے جیسے ہی اپنا فرضی نام بتایا، وہ اپنی سوکھی سی گردن اثبات میں ہلاتے ہوئے بولے۔ ’’اچھا… اچھا! تو تم ہو رابرٹ بلیک! آئو میرے پیچھے پیچھے آجائو۔‘‘
میں ان کی رہنمائی میں بہت سے شیلفوں اور الماری نما خانوں کی قطاروں کے درمیان سے گزرا۔ ان خانوں میں بہت سی یونیفارمز ٹنگی ہوئی تھیں۔ یہ صرف پین ایم ہی کی نہیں، دوسری کئی ایئرلائنز کی بھی تھیں۔ آخر روزن الماری نما خانوں کی ایک ایسی ہی قطار کے سامنے رکا۔ اس میں پین ایم کی نیلی یونیفارمز لٹکی نظر آرہی تھیں جو سنہری ڈوریوں سے آراستہ تھیں۔
’’تمہارا عہدہ کیا ہے؟‘‘ روزن نے مجھ سے پوچھا۔
مجھے ایئرلائن کی اصطلاحوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ میں نے سرسری انداز میں کہہ دیا۔ ’’کوپائلٹ‘‘ یہ کہتے ہوئے میری دھڑکنیں کچھ تیز ہوگئی تھیں اور میں دل ہی دل میں دعا کررہا تھا کہ میرا جواب درست ہو۔
’’اچھا…! فرسٹ آفیسر ہو؟‘‘ روزن نے خودکلامی کے انداز میں کہا اور لٹکی ہوئی یونیفارمز کو ادھر ادھر ہٹا کر دیکھنے لگا۔ اس کے انداز میں بے پروائی دیکھ کر میں نے سکون کی سانس لی۔
چند ہی لمحوں میں اس نے میرے لئے ایک یونیفارم منتخب کرلی جو غالباً اس کے خیال میں مجھے فٹ آنی چاہئے تھی۔ وہ یونیفارم میرے حوالے کرتے ہوئے بولا۔ ’’اگر سائز میں کچھ فرق ہوا بھی تو وہ بہت معمولی ہوگا۔ اسے درست کرنے کا میرے پاس وقت نہیں ہے۔ تم فی الحال اسی سے کام چلا لینا۔‘‘
اس نے مجھے ایک چھجے دار ٹوپی بھی نکال دی۔ اچانک مجھے احساس ہوا کہ یونیفارم اور ٹوپی پر کوئی چیز کم تھی۔ پھر میں نے چونکتے ہوئے کہا۔ ’’پین ایم کے وہ دھات کے شناختی اور علامتی بیج کہاں ہیں؟‘‘
روزن نے عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھا اور میرا دل بیٹھ گیا۔ مجھے احساس ہوا کہ میں نے احمقانہ بات کرکے اپنی پول کھول دی ہے مگر روزن دوسرے ہی لمحے کندھے اچکا کر بولا۔ ’’وہ چیزیں ہم تھوڑا ہی رکھتے ہیں۔ ہم تو صرف یونیفارمز تیار کرتے ہیں۔ وہ چیزیں ہارڈ ویئر میں شمار ہوتی ہیں اور براہ راست پین ایم سے ملتی ہیں۔ کم ازکم یہاں تو یہی قاعدہ ہے۔ وہ چیزیں تمہیں پین ایم کے اسٹورز ڈیپارٹمنٹ سے لینی پڑیں گی۔‘‘
’’اوہ… اچھا…!‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’ہمارے یہاں لاس اینجلس میں جو کمپنی یونیفارم سپلائی کرتی ہے، اسی سے بیج بھی ملتے ہیں۔‘‘ ایک لمحے کے توقف کے بعد میں نے کہا۔ ’’مجھے آپ کو کتنی ادائیگی کرنی ہے؟ میں آپ کو چیک لکھ دیتا ہوں۔‘‘ میں جیب میں ہاتھ ڈال کر چیک نکالنے ہی لگا تھا کہ اچانک مجھے یاد آیا چیکوں پر تو میرا نام فرینک ولیم چھپا ہوا ہے جبکہ اس وقت میں رابرٹ بلیک بنا ہوا تھا۔ چیک سامنے آنے پر میرا سارا ڈرامہ فلاپ ہوسکتا تھا، ساری بھاگ دوڑ بیکار ہوسکتی تھی۔
روزن نے خود ہی میری یہ مشکل حل کردی۔ وہ بولا۔ ’’آپ کی طرف دو سو نوے ڈالر ہوگئے لیکن میں اس رقم کا چیک نہیں لوں گا۔ معذرت چاہتا ہوں۔‘‘
میں گو دل ہی دل میں اس کی اس بات پر خوش ہوا تھا لیکن چہرے سے میں نے قدرے مایوسی کا اظہار کرنے کی کوشش کی اور کہا۔ ’’اوہ! پھر تو مجھے چیک کیش کرا کے آپ کو رقم لا کر دینی پڑے گی۔‘‘
روزن نے ایک بار پھرنفی میں سر ہلایا اور بولا۔ ’’میں آپ سے نقد رقم بھی نہیں لے سکتا۔ ہر ملازم کا ایک اکائونٹ نمبر ہوتا ہے، میں اس نمبر پر بل بھیجوں گا۔ یہ رقم آپ کے یونیفارم الائونس یا پھر تنخواہ سے کٹے گی۔ یہ معاملہ اکائونٹس ڈیپارٹمنٹ والے خود ہی دیکھیں گے کہ آپ پر کون سا طریقہ لاگو ہوتا ہے۔ نیویارک میں تو پین ایم کا یہی طریقہ کار ہے۔‘‘
روزن کو اندازہ نہیں تھا کہ اس سے بات کرکے میری معلومات میں کتنا اضافہ ہورہا تھا۔ میں دل ہی دل میں اس کا بے حد شکر گزار تھا۔
اس نے مجھے تین رنگ کے تین اوراق پر مشتمل ایک فارم پرُـ کرنے کیلئے دے دیا۔ ایک اصل فارم تھا جسے پرُ کرتے وقت اس کی دو کاربن کاپیاں خودبخود بن جانی تھیں۔ میں اسے بھرنے لگا۔ اس میں نام کیلئے جو جگہ خالی چھوڑی گئی تھی، اس کے
سامنے پانچ چھوٹے چھوٹے خانے بنے ہوئے تھے۔ میں نے اندازہ لگایا کہ ہر بڑی کمپنی میں ملازم کا ایک نمبر ہوتا ہے، وہ خانے یقیناً اسی کیلئے تھے۔ میرے ذہن میں فوری طور پر جو بھی پانچ ہندسے آئے، وہ میں نے ان خانوں میں درج کردیئے۔ فارم بھر کر میں نے روزن کے حوالے کردیا۔ اس نے سب سے نیچے والی کاپی الگ کرکے مجھے دے دی۔
’’بہت شکریہ مسٹر روزن!‘‘ میں نے کہا اور وہ خوبصورت یونیفارم اٹھائے باہر آگیا جو میرے خوابوں کی تعبیر تھی۔ اگر روزن نے میرے شکریئے کے جواب میں کچھ کہا تھا تو وہ میں سن نہیں سکا۔
میں اپنے کمرے میں واپس آگیا جہاں میری رہائش تھی۔ میں نے ایک بار پھر پین ایم کے بورڈ کا نمبر ملایا اور الجھن زدہ سے لہجے میں آپریٹر سے کہا۔ ’’معاف کیجئے گا مجھے آپ کے اسٹورز ڈیپارٹمنٹ میں جانے کی ہدایت کی گئی ہے لیکن میں چونکہ پین ایم کا ملازم نہیں ہوں اس لئے مجھے معلوم نہیں ہے کہ آپ لوگوں کا اسٹورز ڈیپارٹمنٹ کیا ہے اور کہاں واقع ہے۔ مجھے ایک پیکٹ وہاں پہنچانا ہے۔ کیا آپ میری کچھ رہنمائی کرسکتی ہیں؟‘‘
آپریٹر لڑکی کافی بااخلاق معلوم ہوتی تھی اور اس کے دل میں یقیناً لوگوں کی مدد کرنے کا جذبہ موجزن تھا، وہ مستعدی سے بولی۔ ’’اسٹورز ڈیپارٹمنٹ دراصل ہمارا وہ شعبہ ہے جہاں سے ہمارے ملازمین کو ان کی ضرورت کی زیادہ تر چیزیں دی جاتی ہیں۔ یہ کینیڈی ایئرپورٹ پر ہینگر نمبر چودہ میں واقع ہے۔ کیا میں آپ کو راستے اور سمتیں بھی سمجھا دوں؟‘‘
میں نے سوچا اس کی اتنی ہی مہربانی کافی تھی چنانچہ اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میں نے کہا۔ ’’بس! اتنی رہنمائی کافی ہے، میں تلاش کرلوں گا۔‘‘
میں نے کینیڈی ایئرپورٹ جانے والی بس پکڑی اور کوئی واضح منصوبہ ذہن میں لئے بغیر اپنی مہم پر روانہ ہوگیا۔ بس نے جب مجھے ہینگر نمبر چودہ کے سامنے اتارا تو میرا دل ڈوب گیا۔ ہینگر نمبر چودہ میں پین ایم کے جو بھی اسٹورز یا دوسری چیزیں تھیں، وہ یقیناً بہت زیادہ اہمیت کی حامل تھیں کیونکہ ان کی حفاظت کے انتظامات زبردست تھے۔
ہینگر کی عمارت کسی قلعے سے کم نہیں تھی اور اس کی اونچی چار دیواری کو طوفان کی تباہ کاریوں سے بچانے کیلئے لوہے کے ایک نہایت مضبوط جنگلے کا سہارا دیا گیا تھا۔ دیوار پر اوپر کی طرف خار دار تار بھی لگے ہوئے تھے۔ گیٹ پر مسلح گارڈ تعینات تھے اور ایک بورڈ بھی لگا ہوا تھا جس پر لکھا تھا۔ ’’صرف ملازمین کیلئے!‘‘
گویا عمارت کے اندر صرف پین ایم کے ملازمین ہی جاسکتے تھے۔ میں وہاں سے ذرا پیچھے آگیا۔ میں نے دس بارہ پائلٹوں اور ایئرہوسٹسوں کو اندر جاتے دیکھا۔ سادہ کپڑوں والے کچھ افراد بھی اندر جارہے تھے لیکن میں نے دیکھا کہ گارڈز نے انہیں شناخت کیلئے روک لیا تھا تاہم انہوں نے اپنا کوئی کارڈ دکھایا تب انہیں اندر جانے کی اجازت مل گئی۔
تاہم میں نے دیکھا کہ باوردی پائلٹوں اور ایئرہوسٹسوں کو گارڈزنے بالکل نہیں روکا۔ وہ لوگ تو اندر جاتے وقت گارڈز کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کررہے تھے۔ اسی دوران ایک پائلٹ کسی گارڈ سے کچھ کہنے کیلئے جاتے جاتے پلٹا تو میں نے دیکھا کہ اس کے کوٹ پر سامنے کی طرف جیب سے ذرا اوپر ایک شناختی کارڈ آویزاں تھا۔ اس سے ذرا اوپر ایئرلائن کا وہ دھات کا بیج لگا ہوا تھا جس کی ساخت اڑتے ہوئے پرندے کے پروں جیسی تھی۔ یہ انہی نشانات میں سے ایک تھا جن کی مجھے اشد ضرورت تھی۔
اس روز موسم کچھ ایسا تھا کہ بارش کا خطرہ محسوس ہورہا تھا اس لئے میں رین کوٹ ساتھ لایا تھا۔ میں نے دیکھا تقریباً ویسا ہی سیاہ رنگ کا رین کوٹ کئی پائلٹوں نے بھی بازو پر لٹکایا ہوا تھا۔ میں اپنی نئی حاصل کردہ یونیفارم ایک بیگ میں ساتھ لایا تھا۔
اس بیگ کو ہاتھ میں لٹکائے میں خود کو ایک ایسا سپہ سالار محسوس کررہا تھا جس کے پاس برائے نام سامان جنگ اور شکستہ حال مختصر سی فوج تھی مگر اسے کسی بہت بڑے اور بہت مضبوط قلعے کو سر کرنے کا مرحلہ درپیش تھا۔ میں نے احساس شکست کو اپنے اوپر غالب نہیں آنے دیا اور فوراً ہی اپنی جرأت، ہمت اور خود اعتمادی کو مجتمع کیا۔
میں ایئرپورٹ پر بنے ہوئے بہت سے واش رومز میں سے ایک میں چلا گیا۔ وہاں میں نے اپنا سویلین لباس اتار کر بیگ میں ڈالا اور ان کی جگہ پین ایم کی وردی پہن لی۔ پھر میں ٹرمینل سے نکلا اور ایک بار پھر ہینگر نمبر چودہ کی طرف چل دیا۔ اس کا جو گیٹ مجھے قریب پڑ رہا تھا، میں نے اس کا رخ کیا۔
اس گیٹ کا گارڈ، گیٹ کے ساتھ ہی بنے ہوئے اپنے چھوٹے سے کمرے میں کچھ کرنے گیا ہوا تھا۔ اس کی پشت میری طرف تھی۔ میں جب گیٹ کے قریب پہنچا تو میں نے اپنا رین کوٹ بائیں کندھے پر ڈال لیا جس سے میری یونیفارم کے کوٹ کا بائیں طرف کا حصہ بالکل چھپ گیا۔ جب گارڈ نے گھوم کر میری طرف دیکھا، اس وقت تک میں اپنی چھجے دار ٹوپی بھی اتار کر ہاتھ میں لے چکا تھا اور چلتے چلتے انگلیوں سے بالوں میں کنگھی کرنے لگا تھا۔ میں قدرے تیز قدموں سے چلا جارہا تھا۔ میں نے گارڈ کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلایا اور خوش مزاجی سے اسے بلند آواز میں ’’گڈ ایوننگ‘‘ کہتے ہوئے بدستور آگے بڑھتا رہا۔ اس نے مجھے روکنے کی کوشش نہیں کی بلکہ جواباً مسکراتے ہوئے خود بھی ’’گڈ ایوننگ‘‘ کہا۔ ایک لمحے بعد میں ہینگر نمبر چودہ میں داخل ہوچکا تھا۔
وہ محض ایک عمارت نہیں تھی بلکہ سچ مچ طیاروں کا ہینگر تھا۔ سامنے ہی ایک چمکتا ہوا بوئنگ 707 کھڑا تھا لیکن یہاں بہت سے لوگوں کے چھوٹے چھوٹے دفاتر بھی تھے جن میں چیف پائلٹ اور چیف ایئرہوسٹس کے دفاتر بھی شامل تھے۔
پچاسوں افراد مستعدی سے ادھر ادھر آتے جاتے دکھائی دے رہے تھے جن میں پائلٹ، ایئرہوسٹس اور سادہ لباس والے شامل تھے۔ لوگوں کی آمدورفت اور باتوں کی آوازوں کی وجہ سے مدھم سا شور بھی سنائی دے رہا تھا۔ سادہ لباس والے شاید کلرک، ٹکٹ ایجنٹ اور میکینک وغیرہ تھے۔
میں طویل و عریض لابی میں رک گیا۔ یکدم ہی مجھ پر کچھ ہچکچاہٹ سی غالب آگئی تھی اور میں خود کو سولہ سال کا وہ دیہاتی لڑکا محسوس کرنے لگا تھا جو شہر کی کسی بہت زیادہ بارونق اور بہت اونچے درجے کی جگہ میں غلطی سے داخل ہوگیا تھا اور اب اس کی سمجھ میں یہ بھی نہیں آرہا تھا کہ واپسی کا راستہ کس طرف ہے۔
میرے جسم پر پائلٹ کی یونیفارم تھی لیکن مجھے اندیشہ محسوس ہونے لگا کہ کوئی بھی میری طرف دیکھے گا تو اسے یہ اندازہ ہوجائے گا کہ اتنا کم عمر نوجوان پائلٹ نہیں ہوسکتا اور وہ غالباً جلد ازجلد کسی پولیس والے کو بلانے کی کوشش کرے گا۔
میں نے دزدیدہ نظروں سے ادھر ادھر کا جائزہ لیا اور محسوس کیا کہ جو لوگ میری طرف دیکھتے ہوئے گزرے تھے، ان میں سے کسی نے بھی آگے جاکر پلٹ کر دوبارہ میری طرف دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ جب ان کی نظر مجھ پڑی تھی، اس وقت بھی مجھے ان کی آنکھوں میں شک یا تجسس کی جھلک نظر نہیں آئی تھی۔ یہ محسوس کرنے کے بعد میں نے قدرے اطمینان کی سانس لی اور میری خود اعتمادی لوٹ آئی۔
ایک دیوار پر بڑا سا بورڈ لگا ہوا تھا جس پر اس بلڈنگ میں واقع دفاتر اور شعبوں کے نام درج تھے اور تیر کے نشان کے ذریعے ہر ایک کی طرف رہنمائی بھی کی گئی تھی۔ اسٹورز ڈیپارٹمنٹ کیلئے بائیں طرف کی ایک راہداری سے راستہ جارہا تھا۔ مجھے وہاں پہنچنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔ وہ ایک بڑا سا کمرہ تھا جس میں دیواروں کے ساتھ چھوٹے شیلفوں کے انداز میں بہت سے خانے بنے ہوئے تھے۔ ایک طرف کائونٹر موجود تھا۔ اس کے عقب میں بڑی سی ایک میز کے قریب ایک نوجوان بیٹھا تھا جس کی قمیض کی جیب پر اس کا نام
ہوا تھا۔
مجھے کائونٹر پر رکتے دیکھ کر وہ اٹھ کر آگیا۔ وہ لمبا سا، ایک دبلا پتلا نوجوان تھا۔
’’جی فرمایئے! میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں؟‘‘ اس کے الفاظ مؤدبانہ تھے لیکن لہجے میں بے پروائی تھی۔
میں نے ذرا خجالت کے سے انداز میں کہا۔ ’’وہ دراصل مجھے کوٹ اور ٹوپی پر لگانے کیلئے دھات کے نشانات درکار تھے۔ میرے دو سال کے بیٹے نے رات یہ دونوں چیزیں میری یونیفارم اور ٹوپی سے اتار کر نہ جانے کہاں پھینک دی ہیں۔ اب وہ ان کے بارے میں کچھ بھی بتا نہیں پا رہا ہے۔‘‘
نوجوان نے قہقہہ لگایا اور بولا۔ ’’پین ایم کے یہ نشانات ہمارے پائلٹوں کے اتنا کام نہیں آتے جتنا بچوں کے کام آتے ہیں۔ ہمیں اپنے اکثر پائلٹوں کو یہ کئی کئی مرتبہ دینے پڑتے ہیں۔‘‘
اس نے دھات کا ایک مکمل مونوگرام اور اڑتے ہوئے پرندے کے چھوٹے سے پر کائونٹر پر رکھ دیئے اور ساتھ ہی ایک فارم نکال لیا۔ پین سنبھال کر وہ اس فارم پر جھکتے ہوئے بولا۔ ’’اپنا نام اور نمبر بتا دیں۔‘‘
’’رابرٹ بلیک… 35099۔‘‘ میں نے وہ دونوں چیزیں اپنے کوٹ کی جیب اور ٹوپی پر لگاتے ہوئے کہا۔ ’’میں لاس اینجلس میں تعینات ہوں۔ کیا میرا وہاں کا ایڈریس بھی درکار ہوگا؟‘‘
’’نہیں!‘‘ وہ مسکرایا۔ ’’جب سے یہ کمبخت کمپیوٹر ایجاد ہوا ہے، تب سے تفصیلات کی ضرورت نہیں رہی بس نمبر ہی کافی ہوتا ہے، باقی سب چیزیں کمپیوٹر خود ڈھونڈ نکالتا ہے۔‘‘
میں سوچے بغیر نہ رہ سکا کہ میرے دیئے ہوئے نمبر پر کمپیوٹر نہ جانے کس کا ڈیٹا نکال کر رکھ دے گا۔ اس کے بعد کمپیوٹر کو بھی کافی پریشانی ہوگی اور کمپیوٹر چلانے والے کو بھی…!
نوجوان نے فارم کی ایک کاپی مجھے تھما دی اور میں جلدی سے باہر آگیا۔ لوگوں کے ہجوم میں شامل ہوکر میں عمارت کی لابی میں آیا۔ کسی نے میری طرف توجہ نہیں دی۔ میں چاہ رہا تھا کہ پائلٹوں اور پروازوں کے بارے میں مجھے تھوڑی بہت معلومات حاصل ہوجائیں اس لئے میں لابی میں رک گیا۔ میں نے سوچا کچھ نہ کچھ باتیں تو کانوں میں پڑیں گی۔
میں نے محسوس کیا کہ وہاں موجود سب لوگ ایک ہی کمپنی کے ملازمین ہونے کے باوجود ایک دوسرے کیلئے اجنبی تھے۔ میں نے دزدیدہ نظروں سے خاص طور پر پلاسٹک کوٹنگ والے ان کارڈز کا جائزہ لیا جو بیشتر لوگوں نے کوٹ پر آویزاں کئے ہوئے تھے۔ ایئرہوسٹسوں کے پاس بھی یہ کارڈز تھے۔ انہوں نے اپنے کارڈ اپنے اپنے شولڈر بیگ کے فیتوں پر کلپ کے ذریعے لٹکائے ہوئے تھے۔
ایک دیوار پر بڑا سا بلیٹن بورڈ لگا ہوا تھا جس پر کچھ نوٹس لگے ہوئے تھے۔ بعض پائلٹ ان کا جائزہ لے رہے تھے۔ میں نے ان میں سے ایک کے کارڈ کو بالکل قریب سے دیکھا۔ چھوٹا سا وہ کارڈ میرے ڈرائیونگ لائسنس سے مشابہہ تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس پر اوپر کی طرف ایک کونے میں متعلقہ آدمی کی چھوٹی سی تصویر لگی ہوئی تھی اور پین ایم کا مونوگرام چھپا ہوا تھا۔
میں جب عمارت سے نکل رہا تھا تو مجھے احساس ہورہا تھا کہ اگر میں کامیابی سے پین ایم کے پائلٹ کا کردار ادا کرنا چاہتا تھا تو مجھے یونیفارم کے علاوہ بھی کچھ چیزوں کی ضرورت ہوگی۔ کم ازکم پلاسٹک کوٹنگ والا ایک کارڈ اور پائلٹوں، ایئر لائنز اور ان کے طریقہ کار کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات لازمی ہوں گی۔
گھر پہنچ کر میں نے یونیفارم تو کپڑوں کی الماری میں لٹکا دی اور اسی دن سے کتابوں کی دکانوں اور لائبریریوں کے چکر لگانے شروع کردیئے۔ جہاں سے بھی ممکن تھا، میں ایسی کتابیں حاصل کرنے کی کوشش کررہا تھا جن میں پائلٹوں، ہوا بازی اور ایئر لائنز کے بارے میں معلومات موجود تھیں۔
کتابیں تو میں نے بہت سی جمع کرلیں اور پڑھ بھی ڈالیں لیکن ایک پتلی سی کتاب خاص طور پر میرے لئے بہت زیادہ مفید اور معلومات افزا ثابت ہوئی۔ وہ پین ایم ہی کے ایک ریٹائرڈ پائلٹ کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب تھی۔ اس میں ایئرلائن کے ملازمین اور ہوا بازی کی بہت سی مخصوص اصطلاحیں اور کافی تعداد میں ایسی تصویریں موجوجود تھیں جو میرے لئے بہت مفید ثابت ہوئیں لیکن بہت بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ ان میںسے بعض اصطلاحیں کافی پرانی ہوچکی تھیں۔
یہ سب کتابیں کھنگالنے کے بعد بھی مجھے احساس ہوا کہ مجھے اپنی مطلوبہ معلومات میں سے بعض بنیادی اور ضروری باتیں معلوم نہیں ہوسکی تھیں چنانچہ میں نے ایک بار پھر پین ایم کے سوئچ بورڈ کا نمبر ملایا اور آپریٹر سے کہا۔ ’’براہ مہربانی میری کسی پائلٹ سے بات کرا دیں۔ میں اپنے اسکول کے اخبار کا رپورٹر ہوں اور میں پائلٹ کی زندگی کے بارے میں ایک فیچر لکھ رہا ہوں۔ میں چاہتا ہوں اس فیچر کے ذریعے طلباء کو پائلٹوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل ہوسکیں مثلاً وہ جہاز اڑانے کی تربیت کہاں اور کس طرح حاصل کرتے ہیں۔ پائلٹ بننے کیلئے کون سی بنیادی تعلیم ضروری ہوتی ہے ۔ آپ مہربانی کرکے میری کسی ایسے پائلٹ سے بات کرائیں جو خوشی سے اس مقصد کیلئے تھوڑا سا وقت دے سکے۔ کیا یہ ممکن ہے؟‘‘
میں سمجھتا ہوں کہ پین ایم میں کم ازکم اس دور میں آپریٹر سے لے کر اوپر تک زیادہ تر بہت ہی اچھے لوگ تھے۔ آپریٹر نے بڑے تحمل سے میری بات سنی پھر شیریں لہجے میں بولی۔ ’’میں آپریشنز کے شعبے میں لائن ملا دیتی ہوں، وہاں تمہاری اس لائونج میں بات ہوجائے گی جہاں عملے کے لوگ فارغ وقت میں بیٹھتے ہیں۔ شاید وہاں تمہیں کوئی ایسا پائلٹ مل جائے جو تمہارے سوالوں کا جواب دے سکے۔‘‘
مزید دو تین افراد سے بات ہونے کے بعد آخرکار میرا رابطہ ایک ایسے کیپٹن سے ہوگیا جو خوشی سے میرے سوالات کے جواب دینے کیلئے تیار معلوم ہوتا تھا۔ اس نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ نوجوان پائلٹ کے طور پر اپنا کیریئر بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ میں نے اس سے اپنا تعارف بوبی بلیک کے نام سے کرایا۔ میں نے پہلے تو اس سے چند رسمی سے سوالات پوچھے اس کے بعد میں ان سوالوں کی طرف آگیا جو میرے ذہن میں کھٹک رہے تھے اور جن کے جوابات درحقیقت مجھے درکار تھے۔
’’کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت پین ایم میں کم عمر ترین پائلٹ کی عمر کتنی ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’فلائٹ انجینئر تو ہمارے ہاں بائیس، تئیس سال کے بھی ہوتے ہیں۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’البتہ پائلٹ اس عمر کے نہیں ہوتے۔ ہمارا کم عمر ترین کوپائلٹ غالباً پچیس سال سے اوپر کا ہے۔ ہمارے کیپٹن کی اوسط عمر تقریباً چالیس سال سے لے کر اڑتالیس سال کے درمیان ہوتی ہے۔‘‘
’’یعنی کوپائلٹ پچیس چھبیس سال کا ہوسکتا ہے؟‘‘ میں نے تصدیق چاہی۔
’’ہماری ایئرلائن میں تو شاید اس عمر کے کوپائلٹ بہت ہی کم ہوں گے لیکن میں نے دیکھا ہے کہ دوسری ایئرلائنز میں کافی ہیں۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’آپ کے خیال میں پین ایم جیسی ایئرلائن میں کم ازکم کس عمر کے نوجوان کو کوپائلٹ کے طور پر بھرتی کرلیا جائے گا۔ اگر وہ مطلوبہ معیار پر پورا اترتا ہو؟‘‘ میں نے اسے کریدنے کی کوشش جاری رکھی۔
’’مجھے یاد پڑتا ہے کہ پین ایم میں بیس سال کی عمر میں بھی فلائٹ انجینئر کے طور پر لڑکوں کو بھرتی کرلیا جاتا ہے بشرطیکہ ان کے پاس مطلوبہ قابلیت اور تعلیم موجود ہو اس کے بعد اسے کوپائلٹ بننے میں زیادہ سے زیادہ پانچ چھ سال کا عرصہ لگ سکتا ہے لیکن اس کا زیادہ دارومدار اس کی لگن اور محنت پر ہے۔‘‘
’’ایک پائلٹ عام طورپر کتنا کما لیتا ہے؟‘‘ پھر مجھے گویا کوئی خیال آیا اور میں نے اپنی دانست میں اعلیٰ اخلاقیات اور احتیاط پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’کیا آپ لوگوں کو اس قسم کے سوالات کے جواب دینے کی اجازت ہے؟‘‘
’’ہاں… ہاں! اس میں کوئی ایسی چھپانے
والی بات نہیں۔‘‘ وہ بے پروائی سے بولا۔ ’’لیکن پائلٹ کی آمدنی کا انحصار بہت سی باتوں پر ہے مثلاً وہ کتنا سینئر ہے، کون سا جہاز اڑا رہا ہے، کس روٹ پر اڑا رہا ہے، کتنے گھنٹے فلائنگ کررہا ہے۔ اس طرح کی بہت سی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی تنخواہ کا چیک بنتا ہے۔ سب پائلٹوں کی ایک جیسی تنخواہ اور ایک جیسی ڈیوٹی نہیں ہوتی۔ بہرحال ایک کوپائلٹ کی زیادہ سے زیادہ تنخواہ 32000؍ڈالر اور کیپٹن کی 50000؍ڈالر تک ہوسکتی ہے۔‘‘
’’پین ایم میں کتنے پائلٹ ہیں؟‘‘ میں نے اگلا سوال کیا۔
کیپٹن نے قہقہہ لگایا اور بولا۔ ’’برخوردار! اس سوال کا جواب دینا تو کافی مشکل ہے۔ بہرحال میرا اندازہ ہے کہ کم ازکم اٹھارہ سو تو ہوں گے۔ بالکل صحیح تعداد تمہیں پرسونل منیجر سے معلوم ہوسکتی ہے۔‘‘
’’یہ بتایئے کہ یہ پائلٹ کتنے مقامات پر پھیلے ہوئے ہیں؟‘‘ میں نے دریافت کیا۔
پائلٹ نے خود ہی میرے سوال کی تصحیح کردی۔ وہ بولا۔ ’’غالباً تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ پائلٹ بنیادی طور پر کن کن شہروں میں تعینات ہیں؟ امریکا میں پانچ شہروں میں ہماری سروس جاری ہے۔ ان میں سے ہر شہر گویا ہماری ایک بیس ہے جیسے ایئرفورس کی کسی کسی مقام پر ایک بیس ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر ہمارے پائلٹ انہی شہروں میں تعینات ہوتے ہیں لیکن ظاہر ہے وہ پوری دنیا میں گھومتے رہتے ہیں۔ بہرحال سان فرانسسکو، واشنگٹن، شکاگو، میامی اور نیویارک میں ہماری بیس ہے۔ انہی شہروں میں ہمارا عملہ رہتا ہے۔‘‘
’’یعنی پرواز کے ساتھ جانے والا عملہ اپنے شہر سے ڈیوٹی کے لیے روانہ ہوتا ہے اور خواہ اسے پوری دنیا میں گھومنا پڑے، لیکن وہ لوٹ کر وہیں آتا ہے۔ اس کی ڈیوٹی اپنے شہر سے شروع ہوتی ہے اور اپنے ہی شہر پر ختم ہوتی ہے؟‘‘ میں نے تصدیق چاہی۔
’’ہاں بالکل…!‘‘ پائلٹ گویا میری ذہانت پر خوش ہوتے ہوئے بولا۔ پھر اس نے میرے کوئی سوال کئے بغیر ہی میری معلومات میں مزید اضافہ کیا۔ ’’شاید یہ جاننا بھی تمہارے لئے دلچسپی کا باعث ہو کہ ہماری ایئرلائن ڈومیسٹک نہیں، انٹرنیشنل ہے۔ یعنی ہم اپنے ملک میں ایک سے دوسرے شہر نہیں جاتے بلکہ جہاں سے بھی پرواز کرتے ہیں، کسی دوسرے ملک جاتے ہیں۔ ہماری ایئرلائن مکمل طور پر بین الاقوامی ہے۔‘‘
میری معلومات میں زبردست اضافہ ہورہا تھا۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا۔ ’’یہ سوال میں محض اپنے تجسس کے تحت پوچھ رہا ہوں، ضروری نہیں کہ یہ فیچر میں شامل ہو۔ کیا یہ ممکن ہے کہ پین ایم کے دو کوپائلٹ یا پائلٹ نیویارک میں رہتے ہوں اور وہ دونوں ایک دوسرے کیلئے اجنبی ہوں؟ ان کی کبھی ایک دوسرے سے ملاقات نہ ہوئی ہو؟‘‘
’’ہاں! بالکل ممکن ہے۔‘‘ پائلٹ نے بلاتامل جواب دیا۔ ’’اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک جہاز پر ایک وقت میں دو پائلٹ یا دو کوپائلٹ تو سفر کرتے ہی نہیں صرف ایک پائلٹ ہوتا ہے اور ایک کوپائلٹ! اور یہ بھی ممکن ہوتا ہے کہ ان دونوں نے بھی اس سے پہلے کبھی اکٹھے ڈیوٹی نہ دی ہو۔ کمپنی کے دو ملازمین ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوسکتے ہیں البتہ کبھی کمپنی کی میٹنگ یا کسی سماجی تقریب میں ان کی پہلے ملاقات ہوچکی ہو تو الگ بات ہے۔ اتنی بڑی کمپنی میں ایک ہی شہر میں رہنے والے زیادہ تر ملازمین ایک دوسرے کیلئے اجنبی ہوتے ہیں۔ اب مجھے ہی دیکھ لو۔ مجھے پین ایم کیلئے جہاز اڑاتے ہوئے اٹھارہ سال ہوگئے ہیں اور میں اب تک اٹھارہ سو پائلٹوں میں سے مجموعی طور پر صرف چالیس پچاس سے شناسا ہوں، ان کے علاوہ میں کسی کی شکل بھی نہیں پہچانتا۔‘‘
پائلٹ کی باتیں سن کر میرا دماغ ’’روشن‘‘ ہوتا جارہا تھا اور دل میں ایک عجیب سا جوش ابھر رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے میں کوئی نئی دنیا دریافت کررہا ہوں۔
میں نے فوراً اگلا سوال داغا۔ ’’سنا ہے پائلٹ جہازوں میں سفر کرسکتے ہیں؟ میرا مطلب ہے اس وقت بھی جب ان کی ڈیوٹی نہیں ہوتی اور وہ جہاز نہیں اڑا رہے ہوتے۔ یعنی وہ ایک مسافر کے طور پر بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ مفت جاسکتے ہیں؟‘‘
’’ہاں…! لیکن اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔‘‘ کیپٹن نے اس سوال کا جواب بھی مشفقانہ لہجے میں دیا۔ ’’ایک تو ہمارے پاس اپنے اور اپنی فیملی کیلئے ایک پاس ہوتا ہے جس پر ہم مفت سفر کرسکتے ہیں لیکن ہم اسٹینڈ بائی یا چانس پر ہوتے ہیں یعنی اگر ہماری مطلوبہ پرواز میں سیٹیں خالی ہوئیں تو ہمیں مل جائیں گی ورنہ دوسری پرواز کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اس صورت میں ہم کرایہ نہیں دیتے صرف وہ ٹیکس ادا کرتے ہیں جو حکومت کی طرف سے ٹکٹ پر عائد ہوتے ہیں۔‘‘
’’اور دوسری صورت کیا ہوتی ہے؟‘‘ میں نے دریافت کیا۔
’’اسے ’’ڈیڈ ہیڈنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ فرض کرو میرے باس مجھے آج رات فون کرکے حکم دیتے ہیں کہ کل مجھے لاس اینجلس میں ہونا چاہئے۔ وہاں سے مجھے کوئی جہاز لے کر کسی دوسرے ملک جانا ہے تو میں کسی بھی ایئرلائن کے جہاز میں سوار ہوجائوں گا جو مجھے وقت پر لاس اینجلس پہنچا دے۔ اگر اس جہاز میں عام مسافر والی کوئی سیٹ خالی ہوگی تو وہ مجھے دے دی جائے گی ورنہ کاک پٹ میں بھی ایک فولڈنگ سیٹ خالی ہوتی ہے جسے ’’جمپ سیٹ‘‘ کہا جاتا ہے، وہ مجھے دے دی جائے گی اور میں کاک پٹ میں ایک مسافر کی حیثیت سے سفر کروں گا۔ بعض اوقات فوری طور پر جمپ سیٹ بھی میسر نہیں ہوتی، اس کیلئے بھی کوئی آپ سے پہلے درخواست کرچکا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ سیٹ کسی وی آئی پی کو بھی ہنگامی ضرورت کے تحت دی جاتی ہے اور کبھی ایئرپورٹ کے عملے کا کوئی آدمی کسی چیز کا معائنہ کرنے کہیں جارہا ہوتا ہے تو اس کے استعمال میں آتی ہے۔‘‘
’’کیا اس سیٹ پر سفر کرنے والے پائلٹ یا کوپائلٹ کو جہاز اڑانے میں عملے کا ہاتھ بٹانا پڑتا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’نہیں… نہیں…!‘‘ پائلٹ جلدی سے بولا۔ ’’وہ دوسری کمپنی کا جہاز ہوتا ہے، لفٹ لینے والے کیلئے اسے اڑانا قطعی ضروری نہیں ہوتا۔ اخلاقاً اس جہاز کا پائلٹ تھوڑی بہت دیر کیلئے اپنی سیٹ خالی کرنے اور کنٹرول مہمان کے سپرد کرنے کی پیشکش کرتا ہے لیکن مہمان کیلئے قطعی ضروری نہیں ہوتا کہ وہ اس پیشکش کو قبول کرے۔ میں ہمیشہ انکار کردیتا ہوں۔ ویسے بھی انسان اس وقت کہیں پہنچنے کیلئے جہاز میں لفٹ لیتا ہے۔ اب یہ کوئی اچھی بات تو نہیں کہ اس وقت بھی وہ اسی کام میں لگ جائے جو وہ زندگی بھر سے کرتا آرہا ہے اور آئندہ بھی نہ جانے کب تک کرتا رہے گا۔‘‘
’’ڈیڈ ہیڈنگ کا طریقہ کار کیا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
پائلٹ بڑا تحمل مزاج آدمی تھا، وہ میرے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے ابھی تک بیزار نہیں ہوا تھا۔ وہ اب بھی نرم اور مشفقانہ لہجے میں بولا۔ ’’اس کیلئے سب ایئر لائنز والے گلابی رنگ کا ایک فارم دیتے ہیں جو پرُ کرنا پڑتا ہے۔ فرض کرو مجھے ڈیلٹا ایئرلائن کی کسی فلائٹ سے میامی جانا ہے۔ میں ایئرپورٹ پہنچ کر ڈیلٹا والے حصے میں جائوں گا، ان کے آپریشن ڈیپارٹمنٹ میں کسی کو اپنا پین ایم کا کارڈ دکھائوں گا اور بتائوں گا کہ مجھے میامی جانا ہے۔ وہ مجھے اپنی کمپنی کا گلابی رنگ کا مخصوص فارم دیں گے۔ اس میں اپنا نام، نمبر، عہدہ، فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی سے ملے ہوئے پائلٹ لائسنس کا نمبر اور اس شہر کا نام لکھنا ہوتا ہے جہاں آپ جارہے ہیں۔ اس فارم کی ایک کاپی وہ آپ کو دے دیتے ہیں۔ وہ ایک طرح سے آپ کا ٹکٹ ہوتا ہے۔ آپ جہاز پر جاکر وہ دکھاتے اور جمپ سیٹ آپ کو مل جاتی ہے۔‘‘
میں اس بے چارے کے تحمل اور شرافت سے پورا پورا فائدہ اٹھانے پر تلا ہوا تھا اس لئے میں نے اب بھی اس کی جان نہیں چھوڑی اور پوچھا۔ ’’پائلٹ کا لائسنس کس قسم کا ہوتا ہے؟
وہ اس قسم کے سرٹیفکیٹ کی طرح ہوتا ہے جنہیں فریم کروا کے دیوار پر لٹکایا جاتا ہے یا وہ بھی ڈرائیونگ لائسنس جیسی کوئی چیز ہوتی ہے؟‘‘
وہ ہنس دیا اور بولا۔ ’’نہیں…! وہ دیوار پر لٹکانے والے سرٹیفکیٹ کی طرح نہیں ہوتا بلکہ کافی حد تک ڈرائیونگ لائسنس ہی کی طرح ہوتا ہے۔ اتنا ہی بڑا ہوتا ہے لیکن اس پر آپ کی کوئی تصویر نہیں ہوتی بس سفید کارڈ پر سیاہ پرنٹنگ اور مونوگرام ہوتے ہیں۔‘‘
میں نے فیصلہ کیا کہ اب اس بے چارے کی جان چھوڑ دینی چاہئے شاید وہ کوئی آرام دہ نشست چھوڑ کر کسی کونے کھدرے میں آکر میرا فون سن رہا تھا۔ میں نے خالص نوعمر لڑکوں کے انداز میں اس کا شکریہ ادا کیا۔
وہ بولا۔ ’’مجھے تمہاری مدد کرکے خوشی ہوئی اگر تمہارا نصب العین بھی پائلٹ بننا ہے تو میں تمہارے لئے دعا کروں گا کہ ایک نہ ایک روز تمہیں بھی ہماری نیلی وردی مل جائے۔‘‘
اب میں اسے کیا بتاتا کہ میں تو وردی اور اس کے لوازمات پہلے ہی حاصل کرچکا تھا۔ اب مجھے کمپنی کے کارڈ اور پائلٹ کے لائسنس کی ضرورت تھی۔ کمپنی کے کارڈ کا مسئلہ میری نظر میں زیادہ بڑا نہیں تھا، پائلٹ کے لائسنس کا مسئلہ زیادہ سنگین تھا۔ یہ لائسنس فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی جاری کرتی تھی جو مختصراً ’’ایف اے اے‘‘ کہلاتی تھی۔ اب یہ کوئی ایسا ادارہ تو تھا نہیں جسے میں منی آرڈر کے ذریعے مطلوبہ فیس ارسال کردیتا اور وہ مجھے لائسنس بنا کر بھیج دیتا۔
بہرحال میں اب بھی باقاعدہ کسی میدان عمل میں اترنے کیلئے گھر سے باہر نہیں نکلا بلکہ میں نے صرف اپنی انگلیوں کو زحمت دی اور ایک بار پھر ڈائریکٹری کے پیلے اوراق الٹنے پلٹنے شروع کئے۔ جلد ہی مجھے شناختی کارڈ تیار کرنے والی ایک کمپنی کا نمبر مل گیا جس کا ایڈریس میڈیسن ایونیو کا تھا۔ میڈیسن ایونیو کافی مہنگا اور اونچے درجے کا علاقہ تھا اس لئے مجھے یہ امید نظر آئی کہ اس کمپنی کا کام معیاری ہوتا ہوگا۔
ایک عمدہ سوٹ پہن کر میں اس کمپنی کے دفتر کی طرف روانہ ہوگیا۔ میرا اندازہ درست نکلا۔ کمپنی کا دفتر خاصا شاندار تھا۔ سامنے ہی ایک خوبصورت ریسپشنسٹ بیٹھی تھی۔
’’جی… فرمایئے؟‘‘ اس نے مستعدی سے پوچھا۔
’’میں آپ کے سیلز کے شعبے کے کسی نمائندے سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے نہایت سنجیدہ کاروباری افراد کے سے انداز میں کہا۔
فوراً ہی سیلز کے نمائندے کو میرے سامنے حاضر کردیاگیا جو ایک خوش لباس آدمی تھا۔ سیلز کے شعبے سے تعلق رکھنے والے اکثر افراد کی طرح اس کے چہرے سے بھی خود اعتمادی جھلک رہی تھی۔ وہ خاصی خوش مزاجی سے مجھ سے ملا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ اگر میں اس سے صرف ایک شناختی کارڈ تیار کرانے کی بات کروں گا تو اس کی ساری خوش مزاجی ہوا ہوجائے گی۔ اس کی خوش مزاجی اور خوش خلقی برقرار رکھنے کا طریقہ یہی تھا کہ میں اسے امید دلاتا، کوئی بہت بڑا کام اس کے توسط سے کمپنی کے پاس آنے والا ہے۔ چنانچہ میں نے ایک خاص کاروباری خود اعتمادی کے ساتھ اس سے کہنا شروع کیا۔ ’’میرا نام فرینک ولیم ہے۔ میں پوئرٹوریکو کی ایئرلائن ’’کیرب‘‘ کی نمائندگی کرتا ہوں۔ شاید تمہیں معلوم ہو کہ ہم اپنی ایئرلائن کو توسیع دے رہے ہیں اور اس کا دائرئہ کار امریکا کی بعض ریاستوں تک بڑھا رہے ہیں۔ اس وقت بھی کینیڈی ایئرپورٹ پر مختلف شعبوں میں ہمارے دو سو آدمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ابھی تک تو ہم معمولی کارڈ پر سیدھے سادے انداز میں چھپے ہوئے عارضی قسم کے شناختی کارڈز سے کام چلا رہے تھے لیکن اب ہم چاہ رہے ہیں کہ عمدہ قسم کے کارڈ پر چھپے ہوئے اور پلاسٹک کوٹنگ والے ویسے ہی کارڈ اپنے تمام ملازمین کو بنوا کر دیں جیسے دوسری ایئر لائنز کے ہوتے ہیں۔ اس پر مونوگرام بھی ہونا چاہئے۔ ہمیں بہت معیاری قسم کے کارڈ تیار کرانے ہیں اور مجھے پتا ہے کہ آپ کی کمپنی بہت معیاری کام کرتی ہے۔‘‘ (جاری ہے)