Anokha Chaal Baaz | Episode 4

521
اگر اس بے چارے نے یقین کرلیا تھا کہ دنیا کے کسی ملک میں ’’کیرب ایئرلائن‘‘ بھی موجود تھی اور وہ اپنی سروس کو امریکا میں توسیع دے رہی تھی تو میں کیا کرسکتا تھا۔ آدمی کی جنرل نالج اتنی بھی کمزور نہیں ہونی چاہئے خاص طور پر جب وہ سیلز کے شعبے میں کام کررہا ہو۔ شاید اس کی نظر میں اہمیت صرف اس بات کی تھی کہ کمپنی کے پاس کچھ آتا دکھائی دے رہا تھا، باقی باتیں اس کی نظر میں غیر اہم تھیں۔
’’اوہ… مسٹر ولیم! آپ جیسے کارڈ چاہیں گے، ویسے چھپ جائیں گے۔ تمام ایئرلائنز کے ملازمین کے کارڈ ہم ہی تیار کرتے ہیں۔ آیئے میں آپ کو نمونے دکھاتا ہوں۔‘‘ وہ پرجوش لہجے میں بولا اور مجھے اپنے آفس میں لے گیا۔
اس نے ایک شیلف سے چمڑے کی جلد والا ایک بڑا سا البم نما فولڈر نکالا اور اس کے ورق پلٹنے لگا۔ اس میں کارڈز کے علاوہ بھی نہ جانے کیاکیا چیزیں لگی ہوئی تھیں۔ بعض چیزیں تو بانڈ اور شیئر سرٹیفکیٹس سے بھی مشابہ تھیں۔
آخر وہ آمنے سامنے کے دو صفحات پر رکتے ہوئے بولا۔ ’’یہ ہیں ایئرلائنز کے کارڈز!‘‘ پھر اس نے ایک کارڈ پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔ ’’ایئرلائنز سب سے زیادہ یہ کارڈ اور یہ ڈیزائن استعمال کرتی ہیں۔‘‘
میں نے دیکھا۔ وہ کارڈ بالکل ویسا ہی تھا جیسا میں پین ایم کے ملازمین کے پاس دیکھ چکا تھا۔ سیلز کا نمائندہ اپنے مخصوص انداز میں بات جاری رکھتے ہوئے بولا۔ ’’اس پر ملازم کا نمبر، بیس، عہدہ اور تصویر وغیرہ ہوتی ہے۔ اس کونے میں کمپنی کا مونوگرام ہوتا ہے۔ میرے خیال میں تو آپ کی کمپنی کیلئے بھی یہی بہترین رہے گا۔‘‘
میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ ’’ہاں…! ہماری کمپنی ایسا ہی کارڈ چاہ رہی ہے۔‘‘
کمپنی چاہتی نہ چاہتی، کم ازکم میں ایسا ہی کارڈ چاہتا تھا۔ سیلز کے نمائندے نے مجھے تعداد کے لحاظ سے اس کی قیمت اور دیگر بہت سی باتیں بتانا شروع کردیں جنہیں میں نے ظاہری طور پر بڑی توجہ سے سنا پھر اچانک گویا کسی خیال کے تحت کہا۔ ’’کیا آپ اس کا ایک نمونہ مجھے دے سکتے ہیں؟ مجھے وہ کمپنی کے کچھ بڑے افسروں کو دکھانا ہوگا، حتمی فیصلہ تو انہی لوگوں کو کرنا ہے۔‘‘
سیلزمین نے میری یہ فرمائش پوری کرنے میں پانچ منٹ بھی نہیں لگائے۔ وہ اندر کہیں سے کارڈ لے آیا۔ میں نے چند لمحے الٹ پلٹ کر اس کا جائزہ لیا۔ پھر کہا۔ ’’مگر یہ تو سادہ ہے۔ میں چاہ رہا تھا کہ مکمل تیار نمونہ ان کے سامنے ہو تا کہ انہیں فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ کیا آپ ایک کارڈ تیار کرکے مجھے نہیں دے سکتے؟ ملازم کی جگہ میں ہی موجود ہوں۔ فرض کرلیں جیسے آپ میرا کارڈ تیار کررہے ہیں۔‘‘
’’ہاں! یہ تو عمدہ تجویز ہے۔‘‘ سیلزمین نے فوراً آمادگی سے سر ہلایا اور مجھے اپنے ساتھ ایک کیمرے کے سامنے لے گیا جس سے چند سیکنڈ میں میری ویسی تصویر تیار ہوگئی جیسی شناختی کارڈ پر لگائی جاتی ہے۔ سیلزمین نے نہایت صفائی سے اسے کاٹا اور کارڈ پر مخصوص خانے میں چسپاں کردیا۔ پھر اس نے کارڈ پر خالی جگہوں میں میرا نام، عہدہ اور دیگر چیزیں درج کیں۔ ان میں قد کاٹھ، وزن، جنس تو اصل تھیں نام، عہدہ فرضی تھا۔ کارڈ مکمل کرکے اس نے اسے مشین کے ذریعے پلاسٹک کوٹڈ بھی کردیا۔
پھر وہ کارڈ خوشی خوشی میرے حوالے کرتے ہوئے بولا۔ ’’آپ اپنے افسران کو اطمینان دلا سکتے ہیں کہ اصل کارڈ اس سے بھی بہتر ہوں گے۔‘‘
افسران گئے بھاڑ میں، اصل مسئلہ میرے مطمئن ہونے کا تھا۔ ویسے تو میں بھی کافی حد تک مطمئن تھا بس ایک کمی محسوس ہورہی تھی۔ کارڈ پر پین ایم کا نام اور مونوگرام نہیں تھا۔
میں وہاں سے نکل آیا ،تاہم میرا ذہن اسی مسئلے میں پھنسا ہوا تھا کہ نام اور مونوگرام کے سلسلے میں کیا جائے؟ سیلزمین مجھے اپنے دفتر کے دروازے تک چھوڑنے آیا تھا۔ اس کے چہرے پر اچھی امیدوں کا پرتو تھا۔
میں اپنے مسئلے پر غور کرتا فٹ پاتھ پر چلا جارہا تھا کہ میری نظر ایک ’’ہابی شاپ‘‘ پر پڑی جس کی شیشے کی دیوار کے عقب میں شیلفوں پر رکھی ہوئی بہت سی چیزیں باہر سے بھی دکھائی دے رہی تھیں۔ اس دکان پر ڈھیروں ایسی چیزیں دستیاب تھیں جن کی ضرورت لوگوں کو مختلف مشاغل کے سلسلے میں پڑ سکتی تھی۔
شوکیس میں چھوٹے بڑے کئی کھلونا جہاز سجے ہوئے تھے۔ وہ سب مختلف ایئرلائنز کے ماڈل تھے۔ انہی کے درمیان پین ایم کا جیٹ سجا ہوا تھا جس کی دم پر اس کا مونوگرام اور پہلو پر مخصوص انداز کے حروف میں نام بھی نظر آرہا تھا۔ حروف کا یہ انداز باقاعدہ رجسٹرڈ تھا۔
میں فوراً دکان کے اندر چلا گیا۔ پین ایم کے اس جہاز کا ماڈل کئی سائزوں میں موجود تھا۔ میں نے سب سے چھوٹے سائز کا جہاز ڈھائی ڈالر میں خرید لیا اور وہ بھی مکمل حالت میں نہیں بلکہ الگ الگ ٹکڑوں کی صورت میں!
میں جلدی سے گھر پہنچا۔ جہاز کے کئی ٹکڑے تو میں نے بے پروائی سے ایک طرف پھینک دیئے البتہ وہ ٹکڑے پانی میں ڈبو دیئے جن پر مونوگرام اور مخصوص حروف میں نام موجود تھا۔ وہ حروف اور مونوگرام درحقیقت کاغذ سے بھی پتلی پلاسٹک کی شیٹ سے مشینی عمل کے ذریعے تراش کر بنائے گئے تھے اور سلوشن جیسی کسی چیز کے ذریعے جہاز پر چپکے ہوئے تھے۔ کچھ دیر پانی میں پڑے رہنے کی وجہ سے وہ میرے اندازے کے مطابق جہاز کے ٹکڑوں سے علیحدہ ہوگئے۔
انہیں میں نے نہایت صفائی اور نفاست سے خاص گم کے ذریعے اپنے کارڈ پر صحیح جگہوں پر چپکا لیا۔ اب وہ کارڈ ہی پر چھپے ہوئے معلوم ہورہے تھے اور کارڈ گویا ہر لحاظ سے مکمل ہوگیا تھا۔ اس میں جو جعلسازی کی گئی تھی، اس کا پتا چلانے کیلئے خوردبین سے اس کا معائنہ کرنا پڑتا۔ ویسے تو اسے اچھی خاصی توجہ سے دیکھنے پر بھی اس میں کسی گڑبڑ کا احساس نہیں ہوسکتا تھا۔
اس کارڈ کی حد تک تو میں کوئی جہاز چلائے بغیر کوپائلٹ بن گیا تھا لیکن ابھی مجھے ایک اور چیز کی اشد ضرورت تھی۔ وہ پائلٹ کا لائسنس تھا۔ میں نے اسکول کے اخبار کا فرضی رپورٹر بن کر جس پائلٹ کا انٹرویو لیا تھا، اس نے بتایا تھا کہ پائلٹ کی سب سے اہم دستاویز اس کا لائسنس ہوتا ہے۔ ڈیوٹی کے دوران اس کے پاس لائسنس ضرور ہونا چاہئے۔ وہ اس سے کسی بھی وقت طلب کیا جاسکتا ہے۔ وہ ساتھ رکھنا تقریباً اتنا ہی ضروری تھا جتنا اپنے پاس کارڈ رکھنا۔
میں اس مسئلے پر کئی دن غور و خوض کرتا رہا لیکن کوئی حل سمجھ میں نہ آیا سوائے اس کے کہ میں ایوی ایشن اسکول میں داخلہ لوں اور باقاعدہ تعلیم و تربیت حاصل کرکے پائلٹ بنوں۔ ظاہر ہے یہ میرے بس کی بات نہیں تھی۔
میں نے ایک بار پھر کتابوں کی دکانوں کے چکر لگانے شروع کردیئے۔ میں ہوابازی اور جہازوں سے متعلق کتابوں اور رسائل وغیرہ کی ورق گردانی کرتا رہتا۔ مجھے خود بھی معلوم نہیں تھا کہ مجھے کس چیز کی تلاش تھی لیکن پھر ایک روز مجھے ایک چیز مل گئی اور مجھے یوں لگا جیسے مجھے اسی کی تلاش تھی۔
وہ ایک کتاب کی پشت پر چھپا ہوا ایک فرم کا اشتہار تھا۔ کتاب چونکہ ہوا بازی اور جہازوں سے متعلق تھی شاید اسی لئے وہ اشتہار اس میں دیا گیا تھا کیونکہ اس اشتہار میں صرف پائلٹ ہی دلچسپی لے سکتے تھے۔
وہ ایک ایسی فرم کا اشتہار تھا جو لائسنس کی ایسی کاپی تیار کرکے دیتی تھی جو آٹھ انچ چوڑی اور گیارہ انچ لمبی لکڑی کی مضبوط تختی پر کاغذ ہی جیسے سفید بیک گرائونڈ میں ہوتی تھی۔ اس تختی کو آپ میز یا کارنس پر کہیں کھڑی بھی کرسکتے تھے اور دیوار پر آویزاں بھی کرسکتے تھے۔ آپ نے دیکھا ہوگا بعض ڈاکٹر، وکیل اور دوسرے لوگ اس انداز میں اپنی ڈگریوں اور سرٹیفکیٹس کی کاپی تیار
کروا کے گھر یا دفتر میں رکھتے تھے۔ وہ ایک طرح سے نمائش کیلئے ہوتی تھی۔ آنے جانے والے لوگ آسانی سے اسے دیکھ سکتے تھے، پڑھ سکتے تھے۔
فرم کے اشتہار میں بتایا گیا تھا کہ یہ نقل 35؍ڈالر میں تیار کرکے ڈاک کے ذریعے آپ کے پتے پر بھیجی جاتی تھی اور اس کے لئے کوئی خاص زحمت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ بس اپنا نام، عہدہ، نمبر وغیرہ لکھ کر بھیجنے پڑتے تھے جو خالی جگہوں میں درج کرلئے جاتے تھے ،باقی سارا مضمون، لائسنس کا ڈیزائن حتیٰ کہ مخصوص انداز کے حروف سب کچھ ان کے پاس محفوظ تھا کیونکہ وہ عرصے سے یہ کام کررہے تھے۔
بجلی کے کوندے کی طرح ایک خیال میرے ذہن میں لپکا۔ اگر میرے پاس بڑے سائز میں لائسنس کی نقل آجاتی ہے تو پھر اس کے ذریعے کسی نہ کسی طرح اصل سائز میں لائسنس تیار کرانا بھی میرے لئے ممکن ہوجائے گا۔
یہ خیال آتے ہی میرا دل اس حد تک جوش و خروش سے بھر گیا کہ میں ایک لمحہ بھی صبر نہ کرسکا۔ فرم کا دفتر ملکواکی میں واقع تھا۔ میں نے انہیں خط لکھنے کے بجائے فوراً فون کر ڈالا۔
جس سیلزمین سے میرا رابطہ ہوا، میں نے اسے بتایا کہ میں اپنے لائسنس کی نقل لکڑی کی تختی پر تیار کرانا چاہتا ہوں لیکن کیا یہ کام فون پر ہوسکتا ہے؟ سیلزمین نے بتایا کہ فون پر آرڈر تو بک کرلیں گے اور میں جو کوائف بتائوں گا، وہ بھی نوٹ کرلیں گے لیکن تختی کی تیاری کا کام تبھی شروع ہوگا جب انہیں 38؍ڈالر کا چیک یا منی آرڈر مل جائے گا۔
میرے لئے انہوں نے نرخ 35؍ڈالر کے بجائے 38؍ڈالر اس لئے کردیئے تھے کہ ان کے حساب سے یہ خصوصی آرڈر تھا جو فون پر نوٹ کرایا جارہا تھا۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ چیک یا منی آرڈر ملتے ہی کم سے کم وقت میں میرے آرڈر کی تعمیل کرتے ہوئے اسپیشل ڈلیوری کے ذریعے تختی مجھے بھجوا دیں گے۔
میں اس وقت قیمت پر حیل حجت یا سودے بازی کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ میں نے فوراً آرڈر بک کرا دیا اور اپنے وہی کوائف بتا دیئے جو میرے کارڈ میں درج ہوچکے تھے۔ تختی منگوانے کیلئے میں نے ایڈریس ’’جنرل ڈلیوری‘‘ لکھوا دیا۔ جنرل ڈلیوری کی ڈاک آپ کے مقامی ڈاک خانے کے توسط سے آتی ہے اور آپ کو خود پوسٹ آفس جاکر لینی پڑتی ہے۔
میرا یہ ایڈریس لکھوانا سیلزمین کیلئے حیرت کا باعث نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ پائلٹ اکثر حالت سفر میں ہوتے ہیں۔ ایک گھنٹے بعد میں فرم کے پتے پر ارجنٹ منی آرڈر بھی روانہ کرچکا تھا۔
ایک ہفتے بعد لکڑی کی تختی پر سفید بیک گرائونڈ میں میرا لائسنس تیار ہوکر آگیا۔ وہ ایک خوبصورت چیز تھی۔ اسے ہاتھ میں لیتے ہی میں نے چند لمحوں کیلئے خود کو واقعی ایک باضابطہ پائلٹ محسوس کیا۔ اس لائسنس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس پر فیڈرل ایوی ایشن ایجنسی کے ڈائریکٹر کے دستخط بھی موجود تھے۔ گو کہ وہ دستخط کا صرف عکس ہی تھا لیکن بالکل اصل دستخط ہی کی طرح تھا۔
میں اس تختی کو لے کر بروکلین کے علاقے میں واقع ایک چھوٹے سے گمنام قسم کے پریس پر چلا گیا۔ وہاں میں نے پرنٹنگ کرنے والے سب سے سینئر آدمی کو پکڑا۔ وہ دبلے پتلے سے ایک بڑے میاں تھے جنہوں نے پیتل کے فریم اور گول شیشوں والی عینک لگائی ہوئی تھی۔
’’دیکھئے! میں اپنے لائسنس کی ایک چھوٹی کاپی بنوانا چاہتا ہوں جو پلاسٹک کوٹنگ کروا کر بٹوے میں رکھی جاسکے جس طرح اکثر کارڈ رکھے جاتے ہیں۔ کیا اسی تختی کے ذریعے یہ کام ہوجائے گا؟‘‘
جواب دینے سے پہلے پرنٹر نے بغور تختی کا جائزہ لیا اور رشک آمیز لہجے میں بولا۔ ’’بہت خوب! مجھے معلوم نہیں تھا کہ پائلٹوں کو اس انداز میں بھی لائسنس ملتا ہے۔ یہ تو کالج کے ڈپلومے سے بھی زیادہ خوبصورت ہے۔‘‘
’’اصل لائسنس تو سرٹیفکیٹ کی طرح ہی ہوتا ہے۔ وہ کاغذ پر اسی چیز کی کاپی ہوتی ہے لیکن وہ اصل لائسنس لاس اینجلس میں میرے گھر پر پڑا ہے۔ یہ مجھے یہاں آتے وقت میری گرل فرینڈ نے تحفے کے طور پر دیا تھا۔ میں جلدی میں یہی لے کر چل دیا تھا لیکن یہاں آکر مجھے پتا چلا کہ اب کئی مہینے تک میری بیس یہی رہے گی اس لئے میں نے سوچا ہے کہ اس کی بٹوے میں رکھنے والی کاپی بنوا لوں۔ آپ اس سے بنا دیں گے یا مجھے گھر سے اصل لائسنس منگوانا پڑے گا؟‘‘
’’اگر یہ تختی اصل لائسنس سے بنی ہے تو اسی سے کسی بھی سائز میں جتنی چاہو کاپیاں پرنٹ کروالو، اصل منگوانے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ اس نے اطمینان سے جواب دیا۔
اس کے بعد اس نے ایک خاص قسم کے کیمرے سے اس لائسنس کو اس کے اصل سائز جتنا چھوٹا کیا اور اس کی ایک عمدہ کاپی نفیس کاغذ پر چھاپ کر پلاسٹک کوٹنگ بھی کردی۔ اس سارے کام میں بمشکل پون گھنٹہ لگا اور اس نے سات ڈالر لئے۔ اب میں ایک لائسنس یافتہ پائلٹ بن چکا تھا۔
میں نے گھر آکر اپنی پائلٹ کی یونیفارم پہنی جس کی میں کاٹ چھانٹ کروا چکا تھا۔ اب وہ مجھے بالکل فٹ تھی۔ یونیفارم پہن کر، لائسنس جیب میں رکھ کر اور کارڈ کوٹ پر آویزاں کرکے میں بس میں بیٹھ کر لاگارڈیا ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوگیا۔ اب میں فلائٹ ڈیوٹی کیلئے پوری طرح تیار تھا بشرطیکہ اس ڈیوٹی میں جہاز اڑانا شامل نہ ہوتا۔
٭…٭…٭
بعض وردیوں کو پہن کر ایک خاص قسم کے فخر کا احساس ہوتا ہے۔ کسی وردی کو دیکھ کر لوگوں کو تاثر ملتا ہے کہ اس کا پہننے والا کوئی غیر معمولی تربیت حاصل کرچکا ہے اور کچھ خاص صلاحیتوں کا ملک ہے۔ کسی وردی کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ اس کے پہننے والے کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں حتیٰ کہ گارڈیا دربان کی وردی بھی کسی نہ کسی حد تک حاکمیت کا احساس دلاتی ہے۔
پائلٹ کی وردی بھی انسان کو عام لوگوں سے کافی حد تک ممتاز کردیتی ہے۔ میں بھی جب یہ وردی پہنے، لاگارڈیا ایئرپورٹ کی حدود میں داخل ہوا تو خود کو کافی اہم اور ذرا غیر معمولی سی شخصیت محسوس کررہا تھا۔ میرا دل ایک عجیب سی خوشی سے سرشار تھا۔
مرد میری طرف دیکھتے تو ان کی آنکھوں میں ستائش اور رشک کی جھلک محسوس ہوتی تھی۔ لڑکیاں اور عورتیں میٹھی اور مہربان مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھ رہی تھیں۔ ایئرپورٹ کے سیکورٹی گارڈ نے میری طرف دیکھ کر قدرے تعظیم سے سر ہلایا۔ پاس سے گزرتے ہوئے دوسرے پائلٹوں اور ایئرہوسٹسوں نے مجھے دیکھ کر ہاتھ ہلایا اور بعض نے ہیلو بھی کہا حالانکہ یہ بات یقینی تھی کہ ان میں سے کوئی بھی مجھے نہیں جانتا تھا۔ جو کوئی بھی میری طرف دیکھ رہا تھا، اس کا ردعمل میرے لئے خوشی کا باعث بن رہا تھا۔
یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ انسان جہاں بھی جائے، اسے ہر طرف سے ایسا ہی ردعمل دیکھنے کو ملے، ایسی نظریں اس کا استقبال کریں تو دماغ پر ایک عجیب نشہ سا طاری ہونے لگتا ہے۔ دل میں ایک ترنگ سی آجاتی ہے۔ میں اس نشے اور اس ترنگ کے سحر میں کچھ زیادہ ہی ڈوب گیا تھا۔ اگلے پانچ سالوں تک وردی کا نشہ میرے دماغ سے نہیں اترا۔ میری انا کو سب سے زیادہ تسکین گویا اس وردی سے ملتی تھی۔
ہیروئن کے عادی نشے باز کو جب اس کا ڈوز مل جاتا ہے تو اس کا دماغ گویا آسمان پر پہنچ جاتا ہے۔ پائلٹ کی وردی پہن کر میرا بھی کچھ ایسا ہی حال ہوتا تھا۔ میں جب بھی خود کو تنہا اور ٹھکرایا گیا انسان محسوس کرتا یا مجھ پر ڈپریشن اور اپنی ذات کی بے وقعتی کے احساس کا غلبہ ہوتا تو میں وردی پہن کر پرہجوم مقامات پر چلا جاتا۔
پچاسوں انسانوں کی نظروں میں اپنے لئے پسندیدگی اور احترام کے تاثرات دیکھ کر میری دل شکستگی اور مایوسی دور ہوجاتی، خوشی اور خود اعتمادی لوٹ آتی، میں ایک بار پھر خود کو معاشرے کا کارآمد اور باعزت فرد محسوس کرنے لگتا، مجھ پر خوش قسمتی سایہ فگن ہوجاتی۔ میں وردی کے سحر میں بری طرح گرفتار ہوچک
تھا۔
خیر…! یہ تو بعد کی باتیں ہیں، میں پہلے دن کا قصہ بیان کررہا تھا۔ لاگارڈیا ایئرپورٹ پہنچ کر میں لابی میں لوگوں کے ہجوم میں شامل ہوکر ادھر ادھر گھومتا رہا اور اپنی نئی حیثیت سے لطف اندوز ہوتا رہا۔
لوگ جس طرح مجھے احترام دے رہے تھے، جس طرح رشک بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے، وہ سب مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا۔ میں گھر سے یہی سوچ کر چلا تھا کہ کسی جہاز پر سوار ہوجائوں گا اور کسی دوسرے شہر جاکر اپنے بوگس چیک چلانے کا سلسلہ شروع کردوں گا لیکن مجھے اپنے نئے بہروپ میں اتنا لطف آنے لگا کہ فی الحال میں نے اپنے پروگرام پر عملدرآمد کا ارادہ ملتوی کردیا۔
اسی دوران مجھے بھوک لگ گئی۔ ایئرپورٹ پر بیسیوں کافی شاپس موجود تھیں۔ میں ان میں سے ایک میں چلا گیا اور کائونٹر کے سامنے اسٹول پر بیٹھ گیا۔ میں نے اپنے لئے سینڈوچ اور دودھ کا آرڈر دیا۔
میں اپنی دونوں چیزیں تقریباً ختم کرچکا تھا جب ٹرانس ویسٹرن ایئرلائنز کا ایک پائلٹ آکر میرے برابر کونے والے اسٹول پر بیٹھ گیا۔ اس نے کافی اور رول کا آرڈر دیا اور ذرا غور سے میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں معمولی سا تجسس تھا۔
’’پین ایم کا پائلٹ یہاں لاگارڈیا ایئرپورٹ پر کیا کررہا ہے؟‘‘ آخر اس نے پوچھ ہی لیا۔ اس کے سوال سے مجھے اندازہ ہوا کہ اس ایئرپورٹ سے پین ایم کی پروازیں نہیں جاتی تھیں۔
’’میں دراصل ڈیڈ ہیڈنگ کرکے پہلی پرواز پکڑ کر سان فرانسسکو سے یہاں پہنچا ہوں۔ میں اب ہیلی کاپٹر کے ذریعے کینیڈی ایئرپورٹ جائوں گا۔‘‘ میں نے گھبرائے بغیر فراٹے سے جواب دیا۔
’’تم کس قسم کی مشین پر ہوتے ہو؟‘‘ اس نے اپنا رول چباتے ہوئے سرسری سے لہجے میں پوچھا۔
مشین…؟ میں یہ لفظ سن کر چکرا گیا۔ خون میری رگوں میں گویا منجمد ہونے لگا۔ مجھے اندیشہ محسوس ہوا کہ میں غیر ارادی طور پر وہاں سے اٹھ کر نہ بھاگ لوں۔ میں بہت تیزی سے ذہن پر زور دے کر اندازہ لگانے کی کوشش کررہا تھا کہ مشین سے اس کی مراد کیا ہوسکتی ہے۔ انجن یا کاک پٹ کے کچھ آلات…؟ میں نے ایئرلائنز کے تذکرے کے ساتھ یہ لفظ نہ کہیں پڑھا تھا اور نہ ہی سنا تھا۔
اس پائلٹ کے انداز سے ظاہر تھا کہ اس نے کوئی عام سا سوال کیا تھا۔ میں نے اپنے ذہن میں انتہائی تیزی سے اس کتاب کے مندرجات بھی تازہ کرنے کی کوشش کی جس پر میں بہت زیادہ انحصار کرتا تھا اور جو ایک پائلٹ کی یادداشتوں پر مشتمل تھی۔ مجھے یاد پڑتا تھا کہ میں نے اس کتاب میں بھی یہ لفظ نہیں پڑھا تھا۔
اس سوال کی بہرحال کوئی اہمیت تھی کیونکہ ٹی ڈبلیو اے کا پائلٹ رول چباتے ہوئے منتظر نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔ اسے اپنے سوال کے جواب کا انتظار تھا۔
’’جنرل الیکٹرک…!‘‘ آخر میں نے اپنی دانست میں ایک گول مول سا جواب دینے کی کوشش کی۔ میرا خیال تھا شاید اس میں سے وہ پائلٹ خود ہی صحیح جواب اخذ کرلے۔
چند سیکنڈ کیلئے وہ میری طرف دیکھتا رہ گیا پھر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سرد مہری سی ابھر آئی اور شک سا جھانکنے لگا۔
’’اوہ…!‘‘ اس نے صرف اتنا کہا اور اپنے رول اور کافی کی طرف متوجہ ہوگیا۔ اس کے بعد اس نے میری طرف نہیں دیکھا۔ مجھے اندازہ ہوگیا کہ میرا جواب میری دانست میں گول مول ہوتے ہوئے بھی نہایت غیر موزوں تھا اور اس نے گڑبڑ کردی تھی۔ میں نے جلدی جلدی اپنا بچا سینڈوچ اور دودھ ختم کیا اور تین ڈالر کائونٹر پر رکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ تین ڈالر دودھ اور سینڈوچ کی قیمت سے کافی زیادہ تھے۔
’’خدا حافظ!‘‘ میں نے ٹی ڈبلیو اے کے پائلٹ کی طرف دیکھ کر کہا اور وہاں سے کھسک لیا۔ پائلٹ نے غرانے کے سے انداز میں زیرلب کچھ کہا لیکن وہ میری سمجھ میں نہ آسکا۔ کچھ بعید نہیں تھا کہ اس کی مادری زبان انگریزی نہ ہو اور اس نے اپنی مادری زبان میں مجھے کوئی گالی دی ہو۔
میں باہر کی طرف چل دیا۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ بیشک میں نے اپنے جعلسازی کے منصوبے کیلئے کافی محنت کی ہے اور اچھی خاصی تحقیق اور مطالعہ بھی کیا ہے لیکن ابھی میں وہ سفر کرنے کیلئے پوری طرح تیار نہیں تھا جسے پائلٹوں کی اصطلاح میں ’’ڈیڈ ہیڈنگ‘‘ کہا جاتا تھا۔ ابھی مجھے ایئرلائنز کے ملازمین کی گفتگو میں استعمال ہونے والی اصطلاحوں سے مزید واقف ہونے کی ضرورت تھی۔ کچھ دوسری چیزوں سے بھی مجھے آگاہ ہونا چاہئے تھا۔
میں جب ٹرمینل سے نکل رہا تھا تو میں نے دیکھا ٹی ڈبلیو اے کی ایک ایئرہوسٹس اپنا ایک بڑاسا بیگ فرش پر کھینچنے کی کوشش کررہی تھی اور اسے کچھ دشواری پیش آرہی تھی۔ شاید بیگ کے پہیوں میں کوئی نقص تھا۔ سیڑھیوں سے نیچے سامنے ہی اس کی بس کھڑی تھی۔ وہ اس بیگ کو اس بس تک لے جانا چاہ رہی تھی۔
’’لائو میں پہنچا دوں۔‘‘ میں نے فوراً آگے بڑھ کر اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔
اس نے فوراً سکون کی سانس لے کر بیگ چھوڑ دیا اور پیشگی میرا شکریہ ادا کیا۔ میں نے بیگ کو کھینچنے کے بجائے اٹھا لیا اور بس کی طرف چل دیا۔
’’تم شاید ابھی کسی فلائٹ سے اتری ہو؟‘‘ میں نے سرسری انداز میں کہا۔
’’ہاں!‘‘ وہ برا سا منہ بنا کر بولی۔ ’’اور میں بری طرح تھکی ہوئی ہوں۔ دماغ کی چولیں بھی ہل گئی ہیں۔ ہماری فلائٹ میں آدھے مسافر وہسکی کے سیلزمین تھے جو اسکاٹ لینڈ میں کسی کنونشن میں شرکت کرکے واپس آرہے تھے۔ تم اندازہ کرسکتے ہو کہ جہاز میں کیا منظر ہوگا؟‘‘
میں ہنس دیا اور ایک لمحے کے توقف کے بعد میں نے سرسری سے لہجے میں کہا۔ ’’تم کس قسم کی مشین پر ہوتی ہو؟‘‘
’’بوئنگ707 پر اور مجھے وہی سب سے اچھے لگتے ہیں۔‘‘ اس نے بلاتامل جواب دیا اور اس لمحے یہ عقدہ حل ہوگیا کہ جہازوں کے عملے کے لوگ جہاز کو مشین کہتے ہیں۔
میں گہری سانس لے کر رہ گیا۔ پھر میں نے اس کا بیگ بس پر رکھوا دیا۔ وہ بس کے پائیدان پر کھڑی ہوکر مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولی۔ ’’بہت شکریہ! اس وقت مجھے واقعی تم جیسے مضبوط آدمی کی مدد کی ضرورت تھی۔‘‘
’’مجھے خوشی ہے کہ میں تمہارے کسی کام آسکا۔‘‘ میں نے حقیقی خلوص سے کہا۔ اس بیچاری کو معلوم نہیں تھا کہ اس نے میرا کتنا بڑا معمہ حل کردیا تھا۔
کوئی اور موقع ہوتا تو شاید میں اس جیسی حسین اور پرکشش لڑکی سے شناسائی بڑھانے کی کوشش کرتا۔ میں نے تو اس کا نام بھی نہیں پوچھا تھا۔ بعد میں مجھے خیال آیا کہ اچھا ہی ہوا میں نے اس سے شناسائی بڑھانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ یقیناً ایئرلائنز، ان کے نظام اور تمام تفصیلات سے اچھی طرح واقف تھی۔ ایئرلائنز کے نہ جانے کتنے شعبوں کے کتنے لوگوں کو وہ جانتی ہوگی۔ اس سے شناسائی بڑھانے پر میری پول کھل سکتی تھی۔
بہرحال اس واقعے سے مجھے اندازہ ہوا کہ ایئرلائنز کے لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں ضرور باتیں کرنے لگتے ہیں اور میں ابھی ان کی گفتگو میں صحیح طور پر حصہ لینے کے قابل نہیں ہوا تھا۔ مجھے اب یہ بھی خیال آرہا تھا کہ ٹی ڈبلیو اے کے پائلٹ کو میں نے جو جواب دیا تھا، اسے سن کر وہ میرے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا اور اپنے ساتھیوں کو یہ واقعہ کس انداز میں سنا رہا ہوگا۔ اس تصور سے مجھے شرمندگی محسوس ہورہی تھی۔
اس کے بعد میں نے کئی دن سادہ لباس میں ایئرپورٹ پر مختلف ایئرلائنز کی حدود میں انہی کے لوگوں کے درمیان گھومتے پھرتے گزارے۔ میں اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ ایئرلائنز کے بارے میں سب سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ ایئرلائنز کے لوگ ہوسکتے تھے۔ میں کبھی ان سے ایک طالب علم بن کر ملتا جو ذرائع آمدورفت کے بارے میں ایک تھیسس لکھ رہا تھا۔ کبھی میں زیرتربیت فیچر رائٹر یا رپورٹر بن جاتا۔ یوں میں لوگوں سے ان
پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں ہر سوال کرسکتا تھا۔
معلومات جمع کرنے کی اسی مہم کے دوران میری ہر ایئرلائن کے پبلک ریلیشنز آفیسر سے بھی ملاقات ہوگئی۔ وہ لوگ اپنی اپنی ایئرلائن کے بارے میں ہر قسم کے لکھنے والوں، صحافیوں اور رپورٹرز کو ہر بات بڑی تفصیل اور بڑی خوشی سے بتاتے تھے۔ چند دنوں کے اندر اندر میرے پاس معلومات کا خزانہ جمع ہوگیا۔
مجھے معلوم ہوگیا کہ امریکی اور غیر ملکی ایئرلائنز کے پاس کون کون سے جہاز تھے، کس جہاز میں کتنے مسافروں کی گنجائش تھی، کس جہاز کی رفتار کیا تھی، کس میں کتنے ایندھن کی گنجائش تھی، کس پر کتنا عملہ ہوتا تھا۔ اس طرح کی نہ جانے کتنی باتیں مجھے معلوم ہوگئیں۔ مختلف شعبوں سے وابستہ لوگ اپنی گفتگو میں کون کو ن سی اصطلاحیں استعمال کرتے تھے، یہ بھی مجھے کافی حد تک معلوم ہوگیا۔
مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایئرلائنز میں زیادہ تر ایئرفورس سے سبکدوش ہونے والے ہوابازوں کو پائلٹ کے طور پر رکھا جاتا ہے۔ بعض پائلٹ چھوٹی ایئرلائنز سے بڑی ایئرلائنز میں آجاتے ہیں۔ بہت کم پائلٹ پرائیویٹ طور پر ہوابازی کی تعلیم و تربیت حاصل کرکے ایئرلائنز میں آتے تھے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں پائلٹ تیار کرنے والی سب سے باعزت اور مستند درسگاہ ’’ایمبری رڈل‘‘ تھی۔
یہ ہوا بازی کی تعلیم و تربیت دینے والی ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی تھی۔ یہ ریاست فلوریڈا میں ’’ڈیٹونا بیچ‘‘ کے مقام پر واقع تھی۔ اس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے میں طلبا کو برسوں لگ جاتے تھے لیکن انہیں کسی بھی ایئرلائن میں باعزت طور پر رکھ لیا جاتا تھا۔
مجھے فوجی زندگی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا اس لئے میں یہ دعویٰ نہیں کرسکتا تھا کہ میں ایئرفورس سے سبکدوش ہوکر پین ایم میں آیا ہوں۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنے آپ کو ’’ایمبری رڈل‘‘ سے فارغ التحصیل قرار دیا کروں گا اور اگر کوئی مجھے مزید کریدنے کی کوشش کرے گا تو یہ بھی کہہ دیا کروں گا کہ پین ایم سے پہلے میں نے ایک دو سال ایسٹرن ایئرلائنز میں خدمات انجام دی ہیں۔
جب ایئرلائنز کے بارے میں میری معلومات بہت زیادہ ہوگئیں اور پائلٹوں کی اصطلاحوں سے بھی میں واقف ہوگیا تو میری خوداعتمادی لوٹ آئی اور میں نے اپنے آپ کو اس میدان میں اتارنے کیلئے تیار محسوس کیا۔
اب میں نے فرینک ولیم کے نام سے ایک اکائونٹ کھولا۔ بینک میں اپنا ایڈریس میں نے ایک پوسٹ بکس کا لکھوایا اور ساتھ ہی دو سو چیکوں پر مشتمل چیک بک بھیجنے کے لئے ہدایت درج کرا دی۔ چیک بک میں نے پوسٹ آفس ہی کی معرفت یعنی ’’جنرل ڈلیوری‘‘ ایڈریس پر منگوائی۔
جب چیک بک آگئی تو میں نے اپنے پائلٹ والے مکمل بہروپ میں چند چیک کیش کرانے کی مہم شروع کی۔ مجھے اس کام میں ذرا بھی دشواری پیش نہیں آئی۔ ہر کیشئر نے نہایت سعادت مندی اور مستعدی سے میرا چیک کیش کیا۔ مجھے وردی میں دیکھ کر انہوں نے مجھ سے کوئی شناخت بھی طلب نہیں کی لیکن میں خود ہی ہر چیک کیش کراتے وقت اپنا پائلٹ والا کارڈ اور لائسنس ضرور سامنے کردیتا تھا۔ آخر میں نے اتنی محنت سے وہ دونوں چیزیں تیار کی تھیں۔ میں چاہتا تھا کہ کوئی تو انہیں دیکھے۔
میں نے جو چیک لکھے، ان میں صرف پہلے دو چیک ایسے تھے جو میرے اکائونٹ میں پڑی ہوئی رقم سے کیش ہوسکتے تھے۔ میرے لکھے ہوئے باقی چیکوں کی حیثیت کسی چاکلیٹ یا چیونگم پر لپٹے ہوئے کاغذ سے زیادہ نہیں تھی۔
اپنے بوگس چیک کیش کراتے وقت مجھے یہ خیال ضرور آتا تھا کہ ہمارا ملک امریکا واقعی لاجواب ہے۔ یہاں ہر شخص کو اس حد تک باعزت سمجھا جاتا ہے کہ بلاتحقیق اس کا چیک فوراً کیش کردیا جاتا ہے۔ یہ بعد میں دیکھا جاتا ہے کہ اس کے اکائونٹ میں پیسے ہیں یا نہیں…؟ حکومت صرف یہ قانون بنا کر مطمئن ہوگئی ہے کہ بوگس چیک لکھنا یا کسی کو دینا سنگین جرم ہے۔ ویسے اس قانون کا اتنا اثر ضرور ہے کہ بہت کم لوگ بوگس چیک کسی کو دینے یا کیش کرانے کی جرات کرتے ہیں لیکن بہرحال…! ’’جرأت رندانہ‘‘ رکھنے والے لوگ تو ہر دور میں پیدا ہوتے رہے ہیں۔
میں نے اب لاگارڈیا ایئرپورٹ پر باقاعدگی سے منڈلانا شروع کردیا۔ فی الحال میرا کوئی فلائٹ پکڑنے کا ارادہ نہیں تھا۔ میں ایئرلائنز کے ملازمین کے آس پاس بیٹھ کر ان کی گفتگو سنتا تھا اور یہ دیکھتا تھا کہ جو اصطلاحیں وہ استعمال کرتے ہیں، وہ مجھے پہلے سے معلوم ہیں یا نہیں! میں اپنے ذخیرئہ الفاظ کا جائزہ لیتا رہتا تھا۔
میں نے اپنی آمدورفت صرف لاگارڈیا ایئرپورٹ تک ہی محدود رکھی۔ کینیڈی ایئرپورٹ کا میں نے رخ نہیں کیا کیونکہ وہاں پین ایم کی فلائٹس آتی جاتی تھیں۔ مجھے اندیشہ تھا کہ وہاں اگر میرا پین ایم کے کسی حقیقی پائلٹ سے سامنا ہوگیا تو کہیں اسے فوراً ہی میرے جعلی پائلٹ ہونے کا اندازہ نہ ہوجائے اور وہ مجھے وہیں گرفتار کروا کے میرا کورٹ مارشل نہ کرا دے۔ اس صورت میں، میں فوراً ہی اپنی وردی اور اس کے لوازمات سے محروم ہوجاتا۔ فی الحال مجھے یہ گوارا نہیں تھا۔
لاگارڈیا ایئرپورٹ پر مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا۔ جس طرح بعض کتابوں کو ان کے اچھے اور خوبصورت سرورق کی وجہ سے اچھا سمجھا جاتا ہے، اسی طرح شاید میری یونیفارم، میری شخصیت کا وقار اور کشش بڑھا دیتی تھی۔ میں ایئرپورٹ کی کسی کافی شاپ میں داخل ہوتا تو وہاں دس بارہ پائلٹ یا عملے کے دوسرے لوگ ضرور موجود ہوتے۔ ان میں سے کوئی نہ کوئی مجھے ضرور کافی کی دعوت دے دیتا۔ جس طرح بطخیں ایک جگہ جمع ہوکر ’’قیں قیں‘‘ کرنا پسند کرتی ہیں، اسی طرح ایئرلائنز کے لوگ بھی زیادہ تر ایک جگہ جمع ہوکر گپ شپ کرنا پسند کرتے ہیں۔
بار میں بھی یہی صورتحال ہوتی لیکن وہاں مجھے ایک آدھ جام کی دعوت نرمی سے مسترد کرنا پڑتی کیونکہ ابھی تک میں نے شراب پینا شروع نہیں کی تھی بلکہ پینا تو دور کی بات ہے، ابھی تک چکھی بھی نہیں تھی۔ فی الحال میں اس سے دور ہی رہنا چاہتا تھا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ مجھ پر کس طرح اثرانداز ہوگی۔ مجھے تھوڑا سا خوف بھی محسوس ہوتا تھا کہ کہیں میں ترنگ میں آکر کوئی حماقت نہ کر بیٹھوں جس سے میرے بہروپ کے بارے میں کچھ شکوک و شبہات پیدا ہوجائیں۔
میرا شراب سے انکار کرنا بہرحال کسی قسم کے شک کا باعث نہیں بنتا تھا کیونکہ کوئی بھی پائلٹ کسی بھی وقت شراب کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کرسکتا ہے۔ دراصل پائلٹوں کیلئے قانون تھا کہ وہ پرواز پر جانے سے دس گھنٹے پہلے پینا پلانا بند کردیں اور میں بہرحال ایک پائلٹ تھا۔
ابتدا میں، میں نے طریقہ یہ رکھا کہ خود گفتگو میں کم حصہ لیتا، سنتا زیادہ تھا اور ہر نیا لفظ، ہر نئی بات ذہن نشین کرتا رہتا تھا۔ لاگارڈیا ایئرپورٹ میرے لئے بڑی اچھی درسگاہ ثابت ہورہی تھی۔
ایئرہوسٹسیں تو مجھ پر فوراً ہی مہربان ہوجاتی تھیں۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ کسی بھی ایئرلائن کا مجھ جیسا نوجوان پائلٹ شاذونادر ہی نظر آتا تھا۔ اس منزل تک پہنچتے پہنچتے اکثر پائلٹ اچھے خاصے پختہ عمر کے ہوجاتے تھے چنانچہ مجھ پر نظر پڑتے ہی تقریباً ہر ایئرہوسٹس کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ آجاتی تھی اور وہ نہایت شیریں آواز میں مجھے ہیلو کہتی ہوئی گزرتی تھی۔
میں نے چند دلکش ایئرہوسٹسوں سے رسم و راہ بڑھانے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی۔ میں انہیں یکے بعد دیگرے بلاناغہ مختلف تفریح گاہوںاوراپنے گھر لے جاتا۔ کبھی میں خود ان کے گھر چلا جاتا۔ ان سے ملاقاتوں میں زندگی میں رنگینی تو آتی ہی تھی لیکن معلومات میں بھی خوب اضافہ ہوتا تھا۔ وہ خود تو
; میں میری معلومات میں اضافہ کرتی ہی رہتی تھیں مگر میں بھی انہیں غیر محسوس انداز میں کریدتا رہتا تھا۔ اس کام کیلئے انتہائی ضبط اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے کہ لڑکی سخت رومانی موڈ میں ہو اور آپ اس سے ایئرلائنز کی مختلف چیزوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہوں۔
ایک بار میں اکٹھی تین ایئرہوسٹسوں کے ساتھ ایک پہاڑی مقام پر چند چھٹیاں گزارنے کیلئے مقیم رہا۔ اس دوران بھی انہیں میرے پائلٹ والے بہروپ کے بارے میں کوئی شک نہیں ہوا۔ ایئرہوسٹسوں کے بارے میں ذاتی تجربات کے بعد میں نے یہ رائے قائم کی کہ وہ زیادہ تر ذہین، نفیس، باذوق اور بڑی اچھی طبیعت کی مالک ہوتی ہیں۔ ان میں سے بیشتر کے ساتھ میری نہایت حسین ،دلچسپ اور سنسنی خیز یادیں وابستہ ہیں۔
ان میں سے ایک لڑکی ایسی بھی تھی جس سے میرا تعلق ایک خاص حد تک بے تکلفی سے آگے نہیں بڑھا۔ دوستی کے تقریباً آخری دنوں تک ایسا ہی معاملہ رہا۔ اس کے پاس کار تھی اور ایک روز اس نے ایئرپورٹ سے واپس مین ہٹن تک جانے کیلئے مجھے لفٹ کی پیشکش کی تھی۔
جب ہم ٹرمینل کی لابی سے گزر رہے تھے تو میں نے اس سے کہا۔ ’’تم مجھے پلازہ پر اتار دینا۔ مجھے ایک چیک کیش کرانا ہے اور وہاں لوگ مجھے جانتے ہیں، آسانی سے چیک کیش ہوجائے گا۔‘‘
ایئرہوسٹس رک گئی۔ اس نے طویل و عریض لابی میں چاروں طرف بنے ہوئے ٹکٹ کائونٹرز کی طرف اشارہ کیا اور بولی۔ ’’تم ان کائونٹر والوں میں سے کسی کے پاس بھی اپنا چیک لے جائو، وہ کیش کردے گا۔‘‘
میں نے قدرے حیرت سے ادھر ادھر دیکھا۔ چاروں طرف دیواروں کے ساتھ سو سے زائد ایئرلائنز کے ٹکٹ کائونٹر موجود تھے۔
’’کیا ان میں سے کوئی بھی میرا چیک کیش کردے گا؟‘‘ میں نے تصدیق چاہی اور کوشش کی کہ میرے چہرے سے زیادہ حیرت کا اظہار نہ ہو۔ ’’وہ میرا ذاتی چیک ہے اور ہماری ایئرلائن کی تو یہاں سے پروازیں بھی نہیں چلتیں۔‘‘
’’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ وہ کندھے اچکا کر بولی۔ ’’تم پین ایم کے پائلٹ ہو، اس وقت وردی میں ہو، کسی بھی ایئرلائن کے کائونٹر پر تمہارا ذاتی چیک کیش ہوجائے گا۔ ایئرلائنز ایک دوسرے سے اتنا تعاون تو کرتی ہیں۔ کیا کینیڈی ایئرپورٹ پر ایسا نہیں ہوتا؟‘‘
’’معلوم نہیں، اس سے پہلے مجھے اپنا کوئی ذاتی چیک کسی ٹکٹ کائونٹر پر کیش کرانے کا اتفاق نہیں ہوا۔‘‘ میں نے دیانتداری سے جواب دیا۔
میں ایک امریکی ایئرلائن کے کائونٹر پر پہنچا۔ وہ میرے قریب تھا اور اس کے عقب میں موجود کلرک زیادہ مصروف نہیں تھا۔
’’کیا آپ میرا سو ڈالر کا ایک ذاتی چیک کیش کردیں گے؟‘‘ میں نے اس سے پوچھا۔ چیک بک میرے ہاتھ میں تھی۔
’’بڑی خوشی سے!‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور میں نے چیک اسے تھما دیا۔ اس نے سرسری نظر سے اسے دیکھا اور سو ڈالر مجھے تھما دیئے۔ اس نے مجھ سے اپنی شناخت کرانے کیلئے بھی نہیں کہا۔
اس کے بعد میں نے دھڑادھڑ ان کائونٹرز پر چیک کیش کرانے شروع کردیئے لیکن میں ایک کائونٹر پر دوبارہ نہیں جاتا تھا۔ میری حالت اس لومڑی جیسی ہوگئی جو مرغیوں سے بھرے ہوئے کسی پولٹری فارم میں گھس گئی ہو اور وہاں بہت سی مرغیاں دیکھ کر اس کی سمجھ میں نہ آرہا ہو کہ پہلے کس مرغی کی گردن دبوچے۔ ہر طرف شکار ہی شکار تھا۔ ایئرپورٹ کی لابی اتنی بڑی تھی اور وہاں اتنے زیادہ لوگوں کی آمدورفت رہتی تھی کہ میں خاص طور پر کسی کائونٹر والے کی نظر میں نہیں آسکتا تھا۔ میں نے ایک دن میں کئی کئی چیک کیش کرائے۔
اس کے علاوہ ایسے ہوٹل اور موٹیل بھی میرا ہدف تھے جہاں ایئرلائنز کے ملازموں کی آمدورفت رہتی تھی۔ حتیٰ کہ ایک بار ایسے ہی مزید ٹھکانوں سے استفادہ کرنے کے لئے میں بوسٹن بھی چلا گیا۔ اس کیلئے میں نے جعلسازی کی کمائی سے باقاعدہ جہاز کا ٹکٹ بھی خریدا۔ وہاں بھی میں نے لوگن ایئرپورٹ کے آس پاس واقع ہوٹلوں اور موٹیلز سے خوب مال سمیٹا اور جلد ہی نیویارک لوٹ آیا۔
نہایت آسانی سے یہ سب کامیابیاں حاصل ہونے اور پائلٹ کے بہروپ میں اتنے دنوں تک کامیاب رہنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اب میں وہ پرواز کرنے کے لئے تیار تھا جسے ڈیڈ ہیڈنگ کہا جاتا تھا۔
میں نے ان دنوں ویسٹ سائیڈ کے علاقے میں چھوٹا سا ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لے رکھا تھا۔ میں کرایہ نقد اور بڑی باقاعدگی سے ادا کرتا تھا۔ میری مکان مالکن کا خیال تھا کہ میں کسی اسٹیشنری اسٹور میں کام کرتا ہوں۔ میں کبھی پائلٹ کی یونیفارم میں اس بلڈنگ میں نہیں گیا تھا۔ اس اپارٹمنٹ میں فون نہیں تھا اور اس ایڈریس پر میں نے کبھی ڈاک بھی نہیں منگوائی تھی۔ چنانچہ جب میں اپنا مختصر سا سامان پیک کرکے وہاں سے روانہ ہوا تو وہاں میرا کوئی سراغ باقی نہیں رہا۔ اگر کوئی وہاں پہنچ بھی جاتا تو اس کیلئے یہ جاننا ممکن نہیں تھا کہ وہاں سے میں کہاں گیا۔
میں بس پکڑ کر لاگارڈیا ایئرپورٹ چلا گیا۔ وہاں میں سیدھا ایسٹرن ایئرلائن کے آپریشن روم میں پہنچا۔ وہاں ایک کائونٹر کے عقب میں تین آدمی موجود تھے۔
’’جی سر…! فرمایئے؟‘‘ ان میں سے ایک نے پوچھا۔
میں نے اپنا پین ایم کا جعلی کارڈ اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا۔ ’’مجھے آپ لوگوں کی اگلی فلائٹ پر میامی کیلئے ڈیڈ ہیڈنگ کرنی ہے بشرطیکہ جہاز میں جگہ ہو۔‘‘
’’ہماری ایک فلائٹ تو پندرہ منٹ میں روانہ ہورہی ہے مسٹر ولیم!‘‘ اس نے میرے کارڈ پر نظر ڈال کر کہا۔ ’’دوسری سہ پہر کو جائے گی۔ دونوں میں جمپ سیٹ دستیاب ہے۔ آپ کون سی فلائٹ پر جانا پسند کریں گے؟‘‘
میں انتظار کرنے کے لئے قطعی تیار نہیں تھا۔ میں نے بلاتامل کہا۔ ’’میں پہلی فلائٹ ہی پکڑ لیتا ہوں۔ اس طرح مجھے وہاں کے ساحل پر گزارنے کیلئے بھی کچھ وقت مل جائے گا۔‘‘
اس نے مسکراتے ہوئے تین تہوں والا چھوٹا سا گلابی فارم میری طرف کھسکا دیا۔ میں نے اس سے پہلے یہ فارم نہیں دیکھا تھا لیکن یہ میرے لئے اتنا اجنبی بھی نہیں تھا۔ میں نے اسکول کے اخبار کا رپورٹر بن کر ٹیلیفون پر جس مہربان صفت پائلٹ کا انٹرویو لیا تھا، اس نے مجھے اس فارم کے بارے میں بتا دیا تھا۔ ویسے بھی اس میں مجھے زیادہ لمبے چوڑے یا مشکل قسم کے اندراجات نہیں کرنے تھے۔ میں نے ذرا سی دیر میں اسے پرُ کردیا اور اس نے اوپر والا فارم الگ کرکے مجھے دے دیا۔ یہ ایک طرح سے میرا بورڈنگ پاس تھا۔ اسے ایئرہوسٹس کو دکھا کر میں جہاز میں سوار ہوسکتا تھا۔
مگر اسی لمحے کائونٹر کلرک نے فون اٹھایا اور آپریٹر سے کہا کہ ایف اے اے ٹاور سے رابطہ کرائے۔ اس سے مراد ’’فیڈرل ایوی ایشن ایجنسی ٹاور‘‘ تھی۔ مرکزی حکومت کی یہ ایجنسی تمام ایئرلائنز اور ایئرپورٹس کے نظام کو کنٹرول کرتی تھی۔ پائلٹوں کو لائسنس بھی یہی جاری کرتی تھی۔ ہر ایئرپورٹ پر ان کا ایک ٹاور ہوتا تھا جس میں ان کے دفاتر ہوتے تھے۔ وہی ایک طرح سے اس ایئرپورٹ کے لئے ان کا کنٹرول ٹاور ہوتا تھا۔
کائونٹر کلرک نے جب میری طرف دیکھتے ہوئے فون پر ایف اے اے ٹاور سے رابطہ کیا تو میرا دل بیٹھنے لگا۔ رابطہ ہونے پر اس نے کہا۔ ’’میں ایسٹرن سے بول رہا ہوں۔ ہماری فلائٹ نمبر602 پر میامی کیلئے پین ایم کا ایک کوپائلٹ فرینک ولیم جمپ سیٹ پر سفر کرے گا۔ اوکے تھینکس…!‘‘
اس نے ریسیور رکھ دیا تو میری جان میں جان آئی۔ یہ محض ضابطے کی کارروائی تھی۔ کائونٹر کلرک نے شیشے کے ایک دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’آپ ادھر سے جاسکتے ہیں مسٹر ولیم! بائیں طرف جہاز پرواز کیلئے تیار ہے۔‘‘
یہ رہنمائی کرکے اس نے میرا کام اور بھی آسان کردیا ورنہ کچھ بعید نہیں تھا کہ میں ایسٹرن ایئرلائنز کا
ڈھونڈتا پھرتا یا پھر کسی سے پوچھتا کہ اپنے مطلوبہ جہاز تک پہنچنے کے لئے مجھے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہئے اور پائلٹ کی یونیفارم پہن کر یہ دونوں ہی حرکتیں بہت عجیب معلوم ہوتیں۔
ایسٹرن ایئرلائنز کا وہ طیارہ بوئنگ 727 تھا جس کے بیشتر مسافر سوار ہوچکے تھے۔ میں نے دروازے پر کھڑی ایئرہوسٹس کو گلابی کاغذ تھمایا اور یوں بلاجھجک کاک پٹ کی طرف بڑھا جیسے میں برسوں سے اس طرح سفر کرنے کا عادی ہوں۔ ایک اور ایئرہوسٹس نے اس خانے کی طرف میری رہنمائی کی جس میں مجھے اپنا بیگ رکھنا چاہئے تھا۔ بیگ رکھ کر میں چھوٹے سے دروازے سے کاک پٹ میں داخل ہوا۔ اندر تین آدمی پہلے سے موجود تھے۔
’’ہیلو…! میں فرینک ولیم ہوں۔‘‘ میں نے کہا۔
وہ تینوں مختلف کل پرزوں سے الجھے ہوئے تھے۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ کیپٹن اور فلائٹ انجینئر کو پرواز سے پہلے تمام کل پرزوں کو چیک کرنا ہوتا تھا۔ وہ اس وقت اسی کام میں مصروف تھے۔ انہوں نے میری طرف دیکھ کر دھیرے سے گردن ہلانے پر اکتفا کیا۔ بہرحال ان کا انداز خیرمقدمی تھا۔
میں نے چھوٹے سے اس کیبن کا جائزہ لیا جو کل پرزوں سے بھرا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ جو تھوڑی بہت جگہ بچی ہوئی تھی، اس میں ان تینوں افراد کی نشستیں تھیں۔ جمپ سیٹ مجھے کہیں دکھائی نہ دی۔ ایک بار پھر میرے معدے میں گرہیں سی پڑنے لگیں۔
اچانک فلائٹ انجینئر نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا۔ اسے گویا اس بات پر حیرت ہوئی کہ میں ابھی تک کھڑا تھا مگر دوسرے ہی لمحے اس کے تاثرات تبدیل ہوئے۔
’’سوری…!‘‘ اس نے کہا اور ہاتھ بڑھا کر میرے عقب میں کیبن کا دروازہ بند کردیا۔ جونہی دروازہ بند ہوا، چھوٹی سی ایک فولڈنگ سیٹ خودبخود کھل گئی جو فرش سے جڑی ہوئی تھی۔ میں اس پر آہستگی سے ٹک گیا۔ اس وقت مجھے سگریٹ کی اشد ضرورت محسوس ہورہی تھی جبکہ میں سگریٹ پیتا ہی نہیں تھا۔ یہ مرحلہ طے کرنے میں میرے اعصاب تن کر رہ گئے تھے اور مجھے اندازہ ہورہا تھا کہ سگریٹ نوشی کرنے والے ایسے موقعوں پر خاص طور پر سگریٹ کی ضرورت محسوس کرتے ہوں گے۔
(جاری ہے)