Apne Ghur Ki Talash | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2807
میرا نام کنچن ہے۔ ایک باعزت گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ والد صاحب اچھا کماتے تھے۔ وہ کھالوں کا کاروبار کرتے تھے۔ امی کے رشتے میں کزن ہوتے تھے۔ دونوں میں بہت محبت تھی لیکن والد صاحب کو شک کی عادت تھی۔ اکثر امی سے کہا کرتے کہ جس روز تم نے بے وفائی کی، میں زہر کھا کر مر جائوں گا۔
میری والدہ ایک شریف عورت تھیں۔ وہ ہم سے پیار کرتی تھیں۔ ان کا ایک منہ بولا بھائی تھا جو ان سے عمر میں دس برس چھوٹا تھا۔ کہتی تھیں، یہ ایک لاوارث اور یتیم لڑکا تھا، میرے والد کو ملا تو گھر لے آئے اور والدہ (میری نانی) نے اسے پالا۔ تبھی سے یہ ہمارے گھر میں ایک فرد کی طرح رہتا تھا۔ اس کا نام بلال تھا۔
بلال اکثر ہمارے گھر امی سے ملنے آتا۔ تبھی امی اور ابو کی تکرار ہوجاتی۔ بلال کے جانے کے بعد والد کہتے کہ تمہارا یہ منہ بولا بھائی مجھے پسند نہیں، اسے کہو کہ یہ ہمارے گھر نہ آیا کرے۔ والدہ جواب دیتیں۔ خود ملنے آجاتا ہے، میں بلاتی نہیں ہوں۔ اسے منع نہیں کرسکتی۔ یتیم ہے، اس کا دل ٹوٹ جائے گا۔ ہمارے گھر میں بہت سکون تھا۔ بس اس دن والدین میں تکرار ہوتی جس روز بلال آجاتا۔ میں بھی اس لڑکے سے چڑنے لگی تھی۔
ان دنوں ساتویں میں تھی جب ایک روز والدین میں بہت جھگڑا ہوا۔ والد نے بلال کو گھر آنے سے منع کردیا تھا اور والدہ سے بھی کہہ دیا کہ آج کے بعد تم اس سے نہیں ملو گی۔ بے شک تمہاری ماں نے اسے پالا ہے لیکن یہ خون کے رشتے سے میرے بچوں کا کچھ نہیں لگتا۔ میں اپنے گھر میں اس کے قدم برداشت نہیں کرسکتا کیونکہ میری بیٹی اب بڑی ہورہی ہے۔
امی کچھ دن خاوند سے روٹھی رہیں مگر چند روز بعد ابا نے انہیں منا لیا۔ انہوں نے کہا۔ دیکھ خورشیدہ، میں تیری ہر خواہش پوری کرتا ہوں تو کیا میری ایک خواہش پوری نہیں کرسکتی کہ بلال سے تعلق ختم کردے۔ میری ماں نے وعدہ کرلیا کہ ٹھیک ہے تمہاری خوشی کی خاطر میں یہ قربانی دوں گی اور اپنے منہ بولے بھائی سے آیندہ نہیں ملوں گی۔ دراصل نانا نانی وفات پا چکے تھے، اسی وجہ سے بلال امی کے پاس آتا تھا۔ وہ بھی اس سے انس رکھتی تھیں۔ بہرحال ابا کی ہدایت پر ماں نے بلال کو گھر آنے سے منع کردیا۔
اس واقعے کو کافی عرصہ گزر گیا۔ بلال پھر ہمارے گھر نہیں آیا۔ ایک روز امی کو بخار آگیا۔ وہ دوا لینے گئیں تو راستے میں بلال مل گیا۔ دونوں گلی میں کھڑے ہوکر باتیں کرنے لگے۔ اتفاق سے اسی وقت ابا کا ادھر سے گزر ہوا۔ بلال کو ماں کے ساتھ باتیں کرتے دیکھ لیا۔ گھر آئے، والدہ سے کلام کیا اور نہ جھگڑا کیا، بس اتنا کہا کہ تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ بلال سے تعلق نہ رکھو گی لیکن تم پھر بھی ملتی ہو۔ نہ جانے کب سے مجھے دھوکا دے رہی ہو۔ اب میرے جینے کا کوئی فائدہ نہیں۔
وہ رات کو سوئے تو اللہ جانے کیا کھا لیا کہ صبح بستر سے نہ اٹھ سکے، زندگی ہار گئے۔ ہمارے گھر میں کہرام مچ گیا۔ ماں رو رو کر کہہ رہی تھیں کہ اتفاق سے بھائی بلال مل گیا تھا، میں نے اسے نہیں بلایا تھا۔ جانتی اگر کہ یہ سب ہونے والا ہے تو دوا لینے گھر سے نہ نکلتی اور نہ بلال گلی میں ملتا۔
میری ماں کی شادی کم سنی میں ہوئی تھی۔ ابھی جوان تھیں اور شکل و صورت کی اچھی تھیں۔ چاہتیں تو دوسری شادی کرسکتی تھیں لیکن انہوں نے ہم بچوں کی خاطر دوسری شادی کا نہ سوچا۔ چچا نے بھی کہا کہ اگر تم بچوں کی خاطر گھر بیٹھ جائو گی تو میں ان کا خرچہ دوں گا۔ تمہارے بچوں کو کسی شے کی کمی نہ ہونے دوں گا۔
چچا نے قول نبھایا۔ وہ برابر خرچہ دیتے رہے اور ہمیں کوئی تکلیف نہ ہونے دی۔ والد کی وفات کے ایک سال بعد بلال کا دوبارہ ہمارے گھر آنا جانا شروع ہوگیا۔ اگرچہ وہ امی کو باجی کہتا تھا، پھر بھی میں اسے ماموں نہیں کہتی تھی کیونکہ مجھے اس سے نفرت تھی۔ اسی آدمی کی وجہ سے میرا باپ مرا تھا۔ نہیں چاہتی تھی وہ اب بھی ہمارے گھر آئے۔
چچا میری شادی اپنے بیٹے سے کرنا چاہتے تھے لیکن ماں نہیں چاہتی تھیں۔ کہتی تھیں کہ بے شک چھوٹی لڑکی لے لو، کنچن کی شادی میں اپنی مرضی سے کروں گی۔ اس بات پر چچا ناراض ہوگئے اور ہمیں خرچہ دینا بند کردیا۔ بلال اچھا کما رہا تھا، وہ والدہ کی مالی معاونت کرنے لگا۔
ایک روز ماں نے کہا کہ میں تیری شادی بلال سے کرنا چاہتی ہوں۔ مجھے اس پر بھروسا ہے۔ اس سے اچھا رشتہ اور کوئی نہیں ملے گا کیونکہ تیرے چچا نے ہماری سرپرستی سے ہاتھ اٹھا لیا ہے، اب ہمیں اور کون سہارا دے گا۔ میں نے جواب دیا۔ ماں! مجھے اس آدمی سے نفرت ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ابا کی جان گئی۔ وہ بولیں۔ تمہارے ابا کو اس کے بارے میں غلط فہمی تھی حالانکہ یہ اچھا لڑکا ہے اور تمہارے والد کو شک کے صدمے کی وجہ سے دل کا دورہ پڑا۔ کسی نے انہیں نہیں مارا، خود ان کی شکی طبیعت نے جان لے لی۔
جو بھی ہو ماں… انہیں صدمہ تو اسی بات کا تھا۔ میں کیونکر اس بات کو بھلا سکتی ہوں۔ میں بلال کو زبان دے چکی ہوں، تم میری بیٹی ہو اور اسے اپنے بیٹے کی طرح سمجھتی ہوں۔ تمہارے نانا نانی اس جہان سے رخصت ہوچکے ہیں اور بلال کے سوا میرا اس دنیا میں کوئی ہمدرد نہیں ہے۔ یہ کبھی مجھے دھوکا نہیں دے گا۔ یہ کہہ کر ماں رو دیں تو میں ان کے رونے دھونے کی وجہ سے مجبور ہوکر بلال سے شادی کے لیے راضی ہوگئی اور یوں میری اس کے ساتھ شادی ہوگئی۔
جوں توں گزربسر ہونے لگی۔ بلال نے ہمارا سارا خرچہ بھی اٹھا لیا۔ ماں پُرسکون ہوگئی۔ لیکن مجھے وہ اب بھی اچھا نہ لگتا تھا۔ دل نے اسے قبول نہ کیا۔ سیدھے منہ اس سے بات نہ کرتی۔ بے رخی سے جینے پر مجبور تھی۔ ساتھ نہ رہتی تو کیا کرتی۔ بلال ہفتہ میں پانچ دن ہمارے ساتھ رہتا تھا۔ ایک دن بلال نے کہا کہ تم میری پڑوسن کے پاس دو دن جاکر رہو کیونکہ وہ اسپتال میں ہے اور اس کی وہاں دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اس وقت ماں گھر پر نہ تھی۔ وہ بازار سودا سلف لینے گئی تھی۔
میں کیوں تمہاری پڑوسن کے پاس جاکر رہوں جبکہ میری اس سے واقفیت بھی نہیں ہے۔ تم واقف نہیں ہو، میں تو ہوں۔ جلدی کرو، برقع اوڑھ کر تیار ہوجائو۔ مجبوراً میں اس کے ساتھ اسپتال گئی اور وہ مجھے ایک وارڈ میں پہنچا کر واپس چلا گیا۔ وہاں اس کا ایک دوست بھی موجود تھا۔ اس آدمی نے مجھ سے پوچھا۔ آپ بلال کی کون ہیں؟ میں نے بتایا۔ اس کی بیوی ہوں۔ حیرت ہے اس کی بیوی تو اسپتال میں ہے اور بچے کو جنم دینے والی ہے۔ وہ تمہیں اسی کے پاس چھوڑ گیا ہے۔
یہ سن کر میرے ہوش اُڑ گئے۔ جب وہ شخص اِدھر اُدھر ہوا، میں اسپتال سے نکل کر واپس گھر آگئی۔ دروازے پر پہنچی تو ماں سے بلال گفتگو کررہا تھا۔ کان لگا کر سننے لگی۔ ماں کہہ رہی تھی۔ زندگی بھر میں نے کہیں اسے اکیلے جانے نہیں دیا، ہمیشہ اس کے ساتھ رہی اور اب تم نے اسے اکیلے بھیج دیا۔ مجھے تو آنے دیتے۔
کیا کرتا۔ وقت ہی ایسا ہے کہ دیر نہیں کرسکتا۔ چلو اب میں تمہیں بھی لے چلتا ہوں۔ مجھے لگا جیسے ماں کو علم تھا کہ بلال پہلے سے شادی شدہ ہے۔ پھر بھی اس نے مجھے سوتن پر بیاہ دیا تھا۔ ایک بیٹی کے لیے اس سے بڑا کیا صدمہ ہوسکتا ہے کہ اس کی ماں اسے بتائے بغیر سوتن پر بیاہ دے۔
مجھ سے یہ صدمہ برداشت نہ ہوسکا اور میں گھر سے کچھ دور اماں طیبہ کے گھر چلی گئی۔ یہ وہ عورت تھی جس نے بچپن میں مجھے سیپارہ پڑھایا تھا۔ جاتے ہی اماں جی کے گلے لگ کر رونے لگی۔ انہوں نے مجھے پیار کیا اور دلاسہ دے کر پوچھا۔ بیٹی کیا ہوا ہے، کیوں رو رہی ہو۔ انہیں ساری بات بتا کر کہا۔ اماں اور بلال نے مجھے دھوکا دیا ہے۔ میں سوتن کے پاس اسپتال جاکر رہنا نہیں چاہتی بلکہ میں گھر ہی واپس جانا نہیں چاہتی۔ اسی وقت اماں جی کا بھانجا آگیا۔ اس نے اماں جی سے کہا۔ خالہ یہ گھر جانا نہیں چاہتی تو زبردستی نہ بھیجنا ورنہ بڑا جھگڑا ہوگا۔ بہتر ہے کہ اسے میری ماں کے پاس بھجوا دو۔ تم پہلے اس کی والدہ اور خاوند سے بات کرنا پھر اسے ان کے حوالے کرنا۔
اماں جی ایک سیدھی سادی عورت تھی۔ اس نے اعتبار کرلیا اور اپنے بھانجے سے کہا۔ اچھا تو اسے اپنے گھر لے جائو، دو دن بعد واپس لے آنا۔
وہ شخص جو کام کرتا تھا، اس کا علم اماں جی کو نہیں تھا۔ اس کا رابطہ ایسے گروہ سے تھا جو نوکریاں دلوانے کے بہانے غریب اور ضرورت مند خواتین کو بیرون ملک بھجواتے تھے لیکن وہ انہیں وہاں لے جاکر فروخت کردیتے تھے۔ اس شخص کا نام ہمدان تھا۔ اس نے مجھ سے راستے میں کہا۔ تم شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہو یا نہیں؟ میرا بالکل دل نہیں چاہتا اس کے ساتھ رہوں۔ ماں نے زبردستی بلال سے میری شادی کی ہے کیونکہ وہ ہمارے گھر کا خرچہ اٹھاتا ہے ورنہ مجھے تو اس سے شروع دن سے نفرت ہے۔
تو پھر ایسا کرو۔ گھر مت جائو اور میرے ساتھ چلو۔ وہاں اور بھی ضرورت مند عورتیں ہیں، ہم انہیں ملازمتیں دلواتے ہیں۔ میں تمہیں بھی ملازمت دلوا دوں گا۔ اپنے پیروں پر کھڑی ہوجائو گی تو اپنا بچہ بھی لے آنا۔ جب کوئی عورت خوشحال ہوجاتی ہے، وہ کسی کی محتاج نہیں رہتی۔ میں اس کی باتوں میں آگئی اور اس کے پیچھے چل پڑی۔ اس نے دو دن بعد مجھے طلاق نامہ لاکر دیا کہ دیکھو یہ میرے شوہر نے دیا ہے۔ اس کے بعد اس نے میرا پاسپورٹ بنوایا اور نکاح نامہ بھی تیار کروا لیا۔ کہا کہ تم میری بیوی بن کر ہی کسی دوسرے ملک جاسکتی ہو ورنہ نہیں۔
میرا دل ٹوٹا ہوا تھا، میں راضی ہوگئی۔ یوں میں اس کے ساتھ ایک ایسی جگہ آگئی جہاں میرے جیسی اور بھی عورتیں تھیں، سبھی کو انہوں نے ملازمت کا جھانسا دیا تھا۔ ہمدان نے مجھے ایک دوست کے گھر ٹھہرایا اور خود غائب ہوگیا۔ چند دن بعد آیا تو میں نے شکایت کی۔ بولا کہ میں نے اپنا دوست سمجھ کر اس پر اعتبار کیا تھا، اب میں اس سے نبٹ لوں گا۔ وہ مجھے دیارغیر لے آیا تب حقیقت کھلی کہ میں بردہ فروشوں کے ہاتھوں اسمگل ہوچکی ہوں۔ اب کیا ہوسکتا تھا۔ میں بے سہارا تھی، اس ظلم کو برداشت کرنا تھا۔
ہمدان کا ایک دوست اظہر تھا۔ اس کا گھر دیہات میں تھا۔ وہ دل کا اچھا آدمی تھا۔ جب اس نے مجھے روتے دیکھا تو ہمدان سے کہا کہ تم اس پر ظلم بند کرو اور اسے غلط روش پر جانے پر مجبور نہ کرو۔ اگر اسے بیچنا ہی ہے تو میرے ہاتھ بیچ دو۔ ہمدان نے جو رقم بتائی، اس نے ادا کردی اور مجھے اپنے ساتھ دیہات لے آیا جہاں اس کی بیوی اور چھ بیٹیاں تھیں۔ اظہر نے کہا۔ دیکھو یہ دنیا بری جگہ ہے اور ایک بے سہارا عورت کے لیے کسی جہنم سے کم نہیں۔ اگر عزت کی زندگی چاہتی ہو تو مجھ سے نکاح کرلو۔ سوتن اور میرے بچوں کو بھی قبول کرلو۔ ہوسکتا ہے تم سے میرے اولاد نرینہ ہوجائے۔ میں نے جواب دیا۔ تم نے بھی میرے ساتھ دھوکا ہی کیا ہے۔ جو دھوکا بلال اور میری ماں نے کیا، وہی تم نے کیا۔ سوتن مجھے برداشت نہیں تھی۔ یہ تو پھر دوسرا ملک ہے اور تمہاری عمر بلال سے بھی زیادہ ہے۔ اظہر بولا۔ دیکھو کنچن! چاہو تو میں دوبارہ تمہیں ہمدان کے حوالے کر آتا ہوں لیکن وہاں جس روش پر وہ تمہیں چلائے گا، تو کیا اس زندگی سے عزت کی یہ زندگی بھلی نہیں ہے۔ میری بیوی نیک دل ہے، اسے میں نے سب بتا دیا ہے۔ وہ تمہیں قبول کررہی ہے تو تم کیوں اسے قبول نہیں کرسکتیں۔
میں نے بہت سوچا۔ کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا مگر چاہتی تھی کہ اظہر مجھے عمر بھر یونہی گھر میں پناہ دے دے تو میں رہ لوں گی اور اس کی بیوی کا بھی کام کاج میں ہاتھ بٹا دیا کروں گی لیکن وہ یہ بات قبول کرنے پر راضی نہ تھا۔
چھ ماہ میں اظہر کے گھر رہی اور سوچتی رہی لیکن مجھے کوئی راہ سجھائی نہ دی ۔بالآخر یہ عمررسیدہ شخص مجھے اچھا لگنے لگا کیونکہ وہ واقعی ایک اچھا انسان تھا۔ میں اس کی ماں کے ہمراہ علیحدہ کمرے میں رہتی تھی۔ وہ بھی سمجھاتی کہ دیکھو میرے بیٹے کی چھ بیٹیاں ہیں اور کوئی بیٹا نہیں ہے۔ اس کی عورت مزید اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں۔ اس کی عمر ڈھل چکی ہے۔ اپنے خاوند سے سات سال بڑی ہے اور اس کا آپریشن بھی ہوچکا ہے۔ مجھے اب اظہر کی دوسری شادی کرنی ہے۔ اگر تم مان جائو تو تمہیں سہارا مل جائے گا اور ہمیں بہو مل جائے گی۔ ہم سب تمہارا بہت خیال رکھیں گے۔
اظہر کی ماں کے روز روز سمجھانے پر بالآخر میرے دل پر اثر ہوا ۔پھر میں نے ان لوگوں کی سادہ دلی اور اچھائیوں کو قریب سے دیکھ لیا تو اس گھر کو قبول کرلیا اور کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ یوں میری شادی اظہر سے ہوگئی۔ اس نے باقاعدہ شادی کی تقریب منعقد کی، ولیمہ ہوا اور اظہر نے اپنی برادری میں مجھے اچھے طریقے سے متعارف کروا دیا۔
جب میں اظہر کے تین بیٹوں کی ماں بن گئی تو اس کے گھر کے ہر فرد سے محبت ہوگئی کیونکہ ان لوگوں نے بھی مجھے بے لوث محبت دی تھی۔ سچ ہے کہ محبت میں ایسی طاقت ہے کہ جو ہر شے کو بدل دیتی ہے۔ سوتن کے بچے مجھ سے پیار کرتے تھے، میری عزت کرتے تھے تو مجھے بھی ان سے پیار ہوگیا۔ وہ میری ہر بات مانتے، میرے کام دوڑ دوڑ کر کرتے تھے۔ ایک بار میں بیمار پڑی، بیٹیوں نے دیکھ بھال کی۔ جب میرے بچے کچھ بڑے ہوگئے اور اظہر بیمار پڑ گئے تب بھی بیٹیاں ان کا خیال رکھتیں اور مجھے کام نہ کرنے دیتیں۔
وقت گزرتا رہا اور میں اسی گھر کی ہوکر رہ گئی۔ اب بچے جوان ہوگئے ہیں۔ سوچتی ہوں کہ اگر اظہر نہ ملتے تو جانے میرا کیا حشر ہوتا۔ آج کم از کم محفوظ تو ہوں۔ تین بیٹوں کی ماں ہونے نے بھی جینے کی ڈھارس دی ہے۔ خوش ہوں کہ اپنے گھر میں سکون سے ہوں۔ کبھی بیٹے کی یاد آتی ہے تو دل دکھی ہوجاتا ہے۔ اللہ کرے وہ جہاں ہو، خوش ہو اور مجھے بھول کر بھی یاد نہ کرے ورنہ جیسے اس کی یاد مجھے اداس کردیتی ہے، میری یاد بھی اسے اداس ہی کرے گی۔
(ک… روشن پور)