Apnoun Say Judai | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1367
جب منڈیر پر بیٹھی چڑیوں کی چہکار میں غنائیت پیدا ہوجاتی ہے۔ آنگن میں لگے پیڑ کے پتوں میں سرگوشیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ گھر میں قہقہے قہقہے لگانے والی بچی کی آواز میں موسیقی کی کھنک سنائی دیتی ہے۔ بالوں میں چمک اور آنکھوں میں قندیلیں روشن ہو جاتی ہیں تو پیغاموں اور رشتوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔ یہی روبینہ کے گھر میں ہوا۔
وہ اپنی بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ دو بڑی بہنوں کی شادی ہوچکی تھی۔ چھوٹا بھائی جنید امریکا سے تعلیم مکمل کرکے آگیا تھا اور کسی اعلیٰ ملازمت کی تلاش میں تھا۔ ماں کو حسینہ سے پہلے روبینہ کی شادی کی فکر کھائے جاتی تھی۔
وہ باپ کی ریٹائرمنٹ کے بعد اور پھر دل کا مریض ہونے کی وجہ سے سخت نروس تھی۔ اسی زمانے میں روبینہ کے والد کے دوست چوہدری خدا بخش نے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکے کا ذکر کیا جس کا تعلق زمین دار گھرانے سے تھا۔
چند دنوں بعد بیل بجی،جنید جو اپنے دوست کے ساتھ لان میں ٹینس کھیل رہا تھا۔ اس نے گیٹ کھولا۔ گاڑی میں سے منہ نکال کر ایک خاتون نے اس کے والد کا نام پوچھا کہ کیا یہ ان کا گھر ہے۔ جنید نے اثبات میں سر ہلادیا۔ دونوں خواتین نے گہری نظر سے اُسے دیکھا پھر معنی خیز انداز میں ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور گھر کے اندر چلی گئیں۔
یہ خواتین جنہوں نے بڑے بھاری سونے کے کڑے پہن رکھے تھے۔ روبینہ کو دیکھنے امجد علی کے گھر سے آئی تھیں جن کا ذکر خدا بخش نے کیا تھا۔ وہ سارا وقت بیٹھی اپنی زمینوں اور آم کے باغات کا ذکر کرتی رہیں۔ جس کا روبینہ کی امی اور دونوں بہنوں شاہینہ اور امینہ نے کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔ ان کی ساری توجہ اس بات پر تھی کہ لڑکے نے لندن کی کونسی یونیورسٹی سے سی پی اے کی ڈگری لی ہے اور ملازمت میں اس کے آگے بڑھنے کے کیا چانسز ہیں۔
کراچی کے عام لوگوں کی طرح ان کو زمین سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ مگر جنید کو حیرت اس بات پر تھی کہ زمین دار گھرانوں کے عام لڑکوں کی طرح امجد علی کی تعلیم معمولی ہونے کی بجائے اتنی اعلیٰ … خاص طور پر بیرونی ڈگری کیسے لی ہے۔
چوہدری خدا بخش کی یقین دہانی پر اور لندن کے کالج میں کھینچے گئے فوٹوز دیکھ کر ان کو یقین آگیا کہ امجد علی نے واقعی تعلیم اپنے ذوق اور شوق سے حاصل کی۔
روبینہ گلابی رنگ کا وہ مجسمہ تھی جسے کوئی بھی پسند کئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ تبھی اس کا رشتہ اس زمیندار گھرانے سے آگیا۔ جنید بہن کا مذاق اُڑایا کرتا تھا کہ اب وہ پلنگ پر بیٹھ کر چنے کی دال کی بوریاں اور آم کی پیٹیاں گن گن کر نوکرانیوں کو گودام میں رکھنے کا حکم دیتے دیتے چند سال میں خود ایک موٹی بوری بن جا ئے گی۔
روبینہ بیاہ کر سسرال چلی گئی۔ ماں نے اس کو سختی سے منع کردیا تھا کہ وہ بالکل اجنبی ماحول میں جارہی ہے لہٰذ بہت سوچ سمجھ کر وہاں رہے گی اور بغیر سوچے سمجھے کوئی بات منہ سے نہ نکالے گی۔
ہفتہ بعد روبینہ سسرال سے پہلی دفعہ واپس آرہی تھی۔ ایئرپورٹ جاتے ہوئے جنید، امینہ اور شاہینہ سارے راستے اپنے جوڑوں پر تبصرہ کرتے رہے جو وہ ولیمے میں پہن کر جانے والے تھے۔ تینوں بہن بھائی بہترین لباس زیب تن کرنا چاہتے تھے کیونکہ اس دعوت میں بہت اعلیٰ طبقے کے لوگ آنے والے تھے۔
جہاز نے لینڈ کیا۔ وہ لائونج کی طرف لپکے مگر اُسے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اُڑی اُڑی رنگت، تھکے تھکے قدم ، ویران آنکھوں کے ساتھ اس نے اداسی سے سب کو گلے لگایا۔ وہ راستے بھر اس سے مخاطب ہونے کی ہمت نہ کرسکے۔ گھر پہنچ کر اس نے بیمار باپ کو سلام کیا اور اپنے کمرے میں خاموشی سے چلی گئی۔ ماں اور بہنیں اس کے پیچھے پیچھے آئیں۔ سبھی کے ذہنوں میں ایک ہی سوال تھا کہ وہ ایسی کیوں لگ رہی ہے۔ یہ سوال اس نے پڑھ لیا اور بولی کہ اس کے شوہر نے کہا ہے کہ امجد کی بڑی بہن روشن جس کی ایک ٹانگ بچپن میں پولیو کا شکار ہو کر خراب ہوگئی ہے اور وہ چلنے پھرنے سے معذور ہے، وہیل چیئر پر رہتی ہے۔ اس کی شادی جنید سے کردی جائے کیونکہ روشن کے منگیتر نے یورپ میں شادی کرلی ہے۔ اسی وجہ سے اس کی منگنی توڑ کر غیروں میں شادی طے کی ہے۔
اب روشن کی منگنی اور امجدعلی کا ولیمہ ایک ساتھ کیا جائے گا۔ اگر یہ رشتہ روبینہ کے والدین کو منظور نہ ہو تو پھر روبینہ سسرال واپس آنے کی زحمت نہ کرے۔
روبینہ کے گھر والے یہ شرط سن کر سناٹے میں آگئے۔ سب سے بڑا مسئلہ جنید سے بات کرنے کا تھا۔ ہمت کرکے بڑی بہن نے بات کی۔ وہ پریشان ہوگیا۔ اس نے گھر والوں کو مشورہ دیا کہ چوہدری خدا بخش سے بات کریں جنہوں نے یہ رشتہ کرایا ہے۔
چوہدری نے ساری بات سن کر جواب دیا کہ ان کو اس اسکیم کا قطعی علم نہیں تھا۔ مگر اب جنید کو یہ شادی کرنی پڑے گی کیونکہ وہ خود زمیندار ہیں۔ اگر جنید نے یہ شادی نہ کی اس کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ دوستوں نے مشورہ دیا وہ گھر سے غائب ہو جائے۔
اس نے ایک بیگ میں ضرورت کی چیزیں رکھیں اور گھر سے فرار ہونے کا ارادہ کیا۔ مگر دروازے پر ماں نے اُسے روکا اور شور مچادیا۔ دل کا مریض باپ پلنگ پر گر گیا۔ روبینہ نے رو روکر بُرا حال کرلیا۔
کسی نوکر نے امینہ اور شاہینہ کے گھر والوں کو فون کردیا۔ وہ دونوں جلدی سے آگئیں۔
گھر میں ایک کہرام مچا ہوا تھا۔ کسی کی سمجھ میں نہ آرہا تھا کیا کرے۔ جنید سر پکڑے بیٹھا تھا۔ آخر اس نے کچھ سوچ کر ہاںکردی۔ امینہ نے فوراً امجد علی کو فون کردیا کہ وہ دو دن بعد بارات لے کر آرہے ہیں۔
شادی کے دن سوجی آنکھوں سے امینہ ، شاہینہ اور ان کی ماں اسٹیج پر بیٹھے تھے۔ جہاں وہیل چیئر پر روشن ، جنید جیسے وجیہہ اور شکیل دولہا کے برابر بیٹھی تھی۔ حیرت سے لوگ اس عجیب و غریب جوڑے کو دیکھ رہے تھے۔ خاص طور پر روشن کے چچا کا گھرانہ جہاں سے روشن کی منگنی ٹوٹی تھی۔ روشن بیاہ کر کراچی آگئی۔
روبینہ کو امجد علی گائوں کی بڑی سی حویلی میں چھوڑ کر اسلام آباد اپنی ملازمت پر چلے گئے۔ حویلی کا ماحول اس کے لیے قطعی اجنبی تھا۔ خواتین صرف فیشن ، جادو اور اپنی ساس نندوں کے خلاف باتیں کرتی تھیں۔ باہر کی دنیا سے ان کا رابطہ جاہل نوکرانیوں کے ذریعے تھا۔
ان حویلیوں میں سالہا سال سے ایک ہی گھرانے میں شادیاں کرنے کی وجہ سے ذہنی اور جسمانی معذور بچوں کی بہتات تھی۔ جن کو باہر کی دنیا کی نظروں سے خاص طور پر چھپایا جاتا تھا۔ یہ معصوم بچے نوکروں کی خدمت داری کی وجہ سے اپنی زندگی کے دن پورے کر رہے تھے۔
گھر کے مردوں کا عورتوں کے ساتھ تحکمانہ سلوک تھا۔ وہ ان کو کمتر جان کر مخاطب کرتے تھے۔ سہمی ہوئی بیوی بہت مختصر جواب دیا کرتی۔ روبینہ کو ایسا لگا کہ جیسے وہ سونے کے پنجرے میں قید ہوگئی ہے۔ مگر وہ کسی سے اپنا حالِ دل بیان نہیں کرسکتی تھی۔
امجد علی ایک ماہ بعد جب واپس آئے تو بیوی کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اس کی گلابی رنگت سرسوں کے پھول جیسی ہوگئی تھی۔ آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے تھے۔ گھٹے ہوئے ماحول نے اس کی یہ حالت کردی تھی۔ انہوں نے اُسے اپنے ساتھ اسلام آباد لے جانے کا ارادہ کیا۔ گھر والوں نے اعتراض کیا کہ باہر نئی نویلی دلہن کو لے جانا خاندانی روایات کے خلاف ہے۔ مگر امجد نے کسی کی نہ سنی اور روبینہ کو اپنے ساتھ اسلام آباد لے گئے۔
اب ماں نے عجیب بات کردی کہ جب تک ہماری روشن ماں نہیں بن جاتی روبینہ بھی ماں نہیں بنے گی۔
یہ شرط جنید کے لئے بڑی صبرآزما تھی۔ مگر وہ اس صبر آزما مرحلے سے گزر گئے اور سال بعد جب روشن نے ایک بچی کو جنم دیا تو پتہ چلا کہ اس بچی میں پیدائشی نقص ہے۔ اس کی کولہے کی ہڈی ایک طرف سے بڑھی ہوئی تھی۔ یہی نقص روشن میں تھا۔
بچی کی شکل و صورت بھی ننھیال پر تھی۔ روشن جو پہلے سے بیمار رہتی تھی۔ بچی کی پیدائش کے بعد پلنگ سے لگ گئی۔ روبینہ نے بھی شادی کے دو سال بعد بیٹی کو اور پھر بیٹے کو جنم دیا۔ اب وہ دو بچوں کی ماں تھی۔
بیٹے کی پیدائش پر بظاہر امجد کے بھائیوں نے خوشی منائی لیکن دل سے خوش نہ تھے کہ روبینہ غیرخاندان سے اور غریب گھر سے تھی۔ ان کے ہم پلّہ اس کے والدین نہ تھے اور ایسی عورت کے بطن سے ان کی جائداد کا وارث پیدا ہوگیا تھا۔
خدا کی کرنی کچھ عرصہ بیمار رہ کر روشن فوت ہوگئی۔ اب جنید نے پوری توجہ اپنی بیٹی کی پرورش پر لگادی۔ روبینہ کے سسرال والوں نے جتلادیا تھا کہ جنید نے ہماری معصوم نواسی پر اس قدر جلد سوتیلی ماں لابٹھائی تو ہم بھی امجد علی کی دوسری شادی کردیں گے اور روبینہ پر سوتن لابٹھائیں گے۔
جنید کی بیٹی عالیہ ذہین نہ تھی وہ پڑھائی میں نہ چل سکی جبکہ روبینہ کے دونوں بچے فروزاں اور نعمان بہت ذہین تھے۔ دونوں بچوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرلی۔ نعمان نے کمپیوٹر سائنس میں ڈگری لے لی۔ اس نے امریکا میں ہی کمپیوٹر پر تلاش کرکے اسپین ، میڈرڈ میں ملازمت ڈھونڈ لی۔ امریکا سے پاکستان آنے سے پہلے میڈرڈ جاکر کامیابی سے انٹرویو دیا۔ لیکن ملازمت جوائن کرنے سے پہلے وہ کچھ دن اسلام آباد آکر والدین کے پاس گزارنا چاہتا تھا۔
فروزاں کی شادی باپ نے اپنے دوست کے بیٹے سے کردی جو امریکا میں سیٹل تھا۔ گھر والوں نے اس رشتے پر اعتراض کیا تھا کہ جب اپنے خاندان میں لڑکے موجود ہیں تو وہ لڑکی باہر کیوں دے رہے ہیں۔ مگر امجد جانتے تھے کہ اسلام آباد اور کراچی میں رہنے کی وجہ سے ان کی لڑکی زمینوں پر رہنے والے ان کے جاہل بھتیجوں میں سے کسی کے ساتھ گزارا نہیں کرسکتی۔ جلدازجلد اس کو امریکا اپنے شوہر کے ہمراہ روانہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کو علم تھا کہ انتقام کے طور پر ان کے بھائی ان کے داماد کو جانی نقصان نہ پہنچادیں۔
کولہے کی ہڈی ایک طرف نکلی ہونے کے سبب عالیہ ایک طرف جھک کر چلتی تھی اور زیادہ دیر تک یا زیادہ دور تک بھی نہ چل سکتی تھی۔ اوپر سے آٹھویں میں ہی اس نے تعلیم کو خیرباد کہہ دیا تھا۔
اب شادی کا مرحلہ آیا تو عالیہ کے لیے رشتہ تلاش کرنا مشکل ہوگیا۔ کوئی بھی اس معذور لڑکی سے شادی کے لیے آمادہ نہ تھا۔ تب بزرگوں میں یہ طے ہوا کہ فروزاں کی شادی خاندان میں نہیں ہوئی تو عالیہ کی شادی نعمان سے کردی جائے۔ امجدعلی نے ساری زندگی فیصلے خاندان کی مرضی کے خلاف کئے تھے اور اب عالیہ کی نعمان سے شادی سے انکار کی ہمت ان میں نہ تھی۔ یہاں تو اس قسم کی بے جوڑ شادی معمول کی بات تھی۔ انہوں نے سوچا عالیہ شادی کے بعد گھر میں پڑی رہے گی اور نعمان اپنی مرضی کی دوسری شادی کرلے گا۔
انہوں نے بیوی سے بات کی۔ روبینہ نے کبھی کسی معاملے میں شوہر کی بات کی مخالفت نہ کی تھی کیونکہ جانتی تھی۔ اس کا انکار یا اس سلسلے میں بحث و مباحثہ ان کے لیے قابلِ قبول نہ ہوگا۔ وہ اپنی اعلیٰ ملازمت، بیرونی ڈگریوں کے باوجود اندر سے زمیندارانہ ذہن رکھتے تھے۔ انہوں نے روبینہ کو ہر طرح کا آرام پہنچایا تھا مگر اپنے مزاج پر قابو نہ پاسکے تھے اور روبینہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتی تھی۔
ایک دن موقع پاکر اس نے بیٹے سے عالیہ کے ساتھ شادی کی بات کی۔ نعمان نے ماں کے ہکلاتے ہوئے خشک حلق کے ساتھ بات کرنے سے اندازہ لگا لیا کہ وہ اپنے اوپر کتنا جبر کرکے یہ بات کررہی ہیں۔ تبھی ماں کو جواب نہ دیا۔
دوچار دن کے بعد نعمان دوپہر کے وقت باپ کے آفس پہنچا اور ان کے کمرے میں رکھی میز پر مُکہ مار کر بولا۔ وہ ہرگز قربانی کا بکرا بننے کو تیار نہیں ہے۔ وہ عالیہ باجی سے شادی نہ کرے گا۔ وہ اس کی ماں کو طلاق کا ڈراوا دے کر ہرگز بلیک میل نہیں کرسکتے۔ اگر وہ اس کو نہیں رکھ سکتے تو وہ خود اپنی ماں کو لے جائے گا۔ نعمان جس طرح آیا تھا بغیر رکے اسی طرح واپس چلا گیا۔
امجد علی سے آج تک کسی نے اس طرح بات نہیں کی تھی۔ دو منٹ تک وہ ششدر بیٹھے رہ گئے کہ ان کی زمینوں کا وارث ان کا اکلوتا بیٹا اس قدر بے باک اور بدتمیز بھی ہوسکتا ہے۔ یہ ان کے وہم و گمان میں نہ تھا۔ آج تک ان کی کسی بات، کسی رائے کو کوئی ٹال نہ سکا تھا مگر بیٹے نے ان کے غرور کا تاج محل چند لمحوں میں توڑ دیا تھا۔ وہ سکون سے آفس میں بیٹھے رہے۔ شام کو گھر آکر انہوں نے روبینہ سے نعمان کے بارے میں پوچھا۔ اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ ماں باپ دونوں نے جاکر اس کے کمرے کو دیکھا جہاں ہر چیز سوائے اس کے پاسپورٹ کے، موجود تھی۔
گاڑی گیر اج میں موجود تھی جو وہ استعمال کرتا تھا۔ چوکیدار نے بتایا نعمان صاحب دوپہر کو ایک بیگ لٹکا کر پیدل گھر سے نکلے تھے۔ اس کے بعد کا اس کو پتہ نہیں۔ دوسرے دن انہوں نے ایئرلائن کو فون کرکے معلوم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کل کی فلائٹ سے نعمان علی نام کا مسافر جاچکا ہے۔
ادھر جب اس ساری بات کا جنید کو پتہ چلا تو برسوں سے اس نے جو صبر کی سل رکھی ہوئی تھی۔ اس میں دراڑیں پڑ گئیں اور سخت قسم کا ہارٹ اٹیک ہوگیا۔ نیم بیہوشی میں جنید نے اپنی بہنوں کو وصیت کی کہ اُسے والدین کے قریب دفن کیا جائے۔ صرف اور صرف اپنی بہن روبینہ کی وجہ سے اس نے روشن کو برداشت کیا تھا اب وہ قیامت تک اس عورت کا قرب برداشت نہیں کرسکتا۔ امجد علی تو یہی چاہتے تھے کہ وہ جنید کو روشن کے برابر قبر میں دفن کریں مگر بہنوں نے ایک نہ سنی۔
ماں باپ کے مرنے کے بعد عالیہ کے رہنے کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اُسے رکھنے کو کوئی تیار نہ تھا۔ سبھی کہتے تھے کہ امجد علی اور روبینہ کو اس کی ذمہ داری اٹھانی چاہئے۔ اس عرصہ میں ڈاکٹر فروزاں نے اپنے والدین کا امیگریشن کرادیا تھا اور وہ عالیہ کو لے کر امریکا آگئے۔
اب بھی عالیہ امریکا میں روبینہ اور امجدعلی کے ساتھ رہتی ہے اور شاید تا عمر وہ یہیں رہے گی۔ نعمان نے ایک خط جس پر کوئی پتہ نہ تھا اپنی بہن کو تصویر کے ساتھ بھیجا کہ اس نے اسپین کی ایک لڑکی سے شادی کرلی ہے۔ اور شادی کے دن اس کو اپنی ماں اور بہن بہت یاد آئے تھے۔ اپنے خاندان کے بارے بتاتے اور یہ واقعات سناتے ہوئے ڈاکٹر فروزاں کی آواز بھرا گئی۔ اس کو اپنا اکلوتا بھائی بہت یاد آتا ہے جس نے خاندان کے رسم و رواج کی وجہ سے والدین اور بہن کو چھوڑ دیا ہے۔
(یاسمین چشتی… ہیوسٹن امریکا)