Armano Ki Raakh | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2732
وہ ساتویں کلاس میں میری سہیلی بنی۔ اس سے پہلے صرف ہم جماعت تھی۔ خاموش خاموش سی، معصوم سی۔ ایک روز کلاس میں آئی تو آنکھیں سرخ تھیں جیسے بہت روئی ہو۔ میں نے پوچھا کیا ہوا ہے فیروزہ پریشان لگ رہی ہو۔ کیا رو کر آئی ہو۔
ہاں۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ کس وجہ سے… مجھے نہ بتائو گی۔ آج اسکول میں میرا آخری دن ہے۔ میڈم کو یہ بتانے آئی ہوں۔ کل سے نہ آسکوں گی۔ کیوں۔ مگر… وجہ تو بتائو۔
میں اسکول کی فیس نہیں دے سکتی۔ اپنے لئے کاپی اور قلم نہیں خرید سکتی۔ ماں بیمار پڑ گئی ہے اب ان سے مشین نہیں چلائی جاتی۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ نکلے۔ ارے بھئی روئو تو نہیں۔ اس سے آگے میں تسلی کا ایک بول نہ کہہ سکی۔ سمجھ گئی معاملہ غربت کا ہے اور یہاں جانے کتنی فیروزہ جیسی لڑکیاں ہوں گی جنہوں نے اپنی منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی اپنے خوابوں کو خیرباد کہہ دیا تھا۔
یہ اچنبھے والی بات نہ تھی لیکن اس کی آنکھوں میں حسرت کے الائو دیکھ کر میرا دل بیٹھ گیا۔ سوچا اگر امی سے کہوں کہ تعلیم کے لئے ایک غریب لڑکی کی مدد کرنا چاہتی ہوں یقیناً وہ ضرور میری ہمت افزائی کریں گی۔ تبھی فیروزہ سے کہا۔ دیکھو روئو مت مجھے اپنی بہن سمجھو۔ اگر صرف غربت کے باعث اسکول کو خیرباد کہنے آئی ہو تو ایسا کرنے کی ضرورت نہیں۔ تمہاری فیس میں ادا کردیا کروں گی۔ میرے لئے یہ کوئی مشکل مسئلہ نہیں ہے لیکن تم جیسی لائق اور سنجیدہ لڑکی زیور تعلیم سے محروم رہ جائے یہ مجھے گوارا نہیں۔
کوئی کسی کے لئے زیادہ عرصے تک کچھ نہیں کرسکتا۔ کرے بھی تو کسی کا احسان اٹھا کر جینا بھی بہت دشوار ہوتا ہے۔ فضول باتیں مت کرو۔ کتابی باتوں سے باہر آئو۔ یہ تمہاری زندگی اور مستقبل کا سوال ہے۔
سوچو تم اپنی غربت کو کیونکر شکست دے سکتی ہو۔ صرف اور صرف تعلیم حاصل کرکے ہی۔ اپنے پیروں پرکھڑی ہو کر تم اپنے گھر کے مالی حالات بدلنے کی سعی کرسکتی ہو۔ اگر مثبت سوچ کو اپنالو تو ایک دوست کا احسان اٹھانے میں کوئی حرج نہیں۔ جو تم سے مخلص ہے اور تمہیں بہن کہہ رہی ہے۔ میرا انداز اس کے دل پر اثر کر گیا۔ اس نے آنسو پونچھ لئے اور میری پیشکش کو قبول کرلیا۔ میرے والد وکیل تھے۔ ہمیں کسی شے کی کمی نہ تھی۔ میں نے امی ابو سے بات کی۔ دونوں نے فوراً کہا تم یہ نیکی ضرور کرو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کا موقع دیا ہے۔ اپنی دوست کو تسلی دو کہ اس کے تعلیمی اخراجات ہم اٹھائیں گے۔ وہ بے فکر ہوکر پڑھائی جاری رکھے۔
میں نے سال بھر کی اس کی فیس ادا کی اس طرح کہ کسی سے ذکر کیا اور نہ کسی کو کانوں کان خبر ہوئی۔ غالباً یہی وہ چاہتی تھی۔ آٹھویں میں ایک ٹیچر کو اس کی کسی رشتے دار لڑکی کی زبانی حالات معلوم ہوگئے تو انہوں نے اسے بلا کر کہا کہ آئندہ اس کے تعلیمی اخراجات کا مسئلہ وہ حل کرا دیں گی اور یہ رقم اسکول کے اس مخصوص فنڈ سے ادا کی جائے گی جو لائق مگر مستحق طالبات کے لئے پرنسپل نے منظور کرالی ہے لہٰذا کسی کا احسان لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
فیروزہ شاید میری دی ہوئی امداد سے خود کو میرے احسان کے بوجھ تلے دبا ہوا محسوس کرتی تھی۔ اس نے مجھے بتایا کہ آٹھویں کی کلاس ٹیچر نے میرے لئے میرٹ اسکالر شپ کا انتظام کردیا ہے۔ اب میں تم سے کچھ نہیں لیا کروں گی۔
میں نے کہا۔ ٹھیک ہے اگر تم اسی میں خوشی محسوس کرتی ہو تو یہی سہی… تمہارا تعلیمی ریکارڈ اچھا ہے۔ تمہیں اسکول کی طرف سے یہ سہولت مل رہی ہے تو اس سے استفادہ کرو۔
فیروزہ کو کلاس ٹیچر کی معرفت مالی مدد ملنے لگی اور وہ میرے احسان کے بوجھ سے آزاد ہوگئی لیکن ہماری دوستی اب پکی ہوچکی تھی۔ وہ مجھ سے اپنی کوئی بات نہ چھپاتی۔ اگر مجھے پڑھائی سے لاپروا پاتی تو سرزنش کرتی کہ امتحان نزدیک ہیں فضول باتوں میں وقت ضائع کرنے کی بجائے پڑھائی پر توجہ دو۔ مجھے اس کی یہ سرزنش بہت بھلی لگتی جیسے کوئی اپنا کسی اپنے کی غلطی پر اسے روکے۔
وہ پڑھائی میں سب سے آگے تھی۔ کبھی مجھے کوئی سوال سمجھنا ہوتا تو بڑی دل جمعی سے سمجھا دیتی۔ امتحانات قریب تھے اور مجھے کچھ مضامین میں دشواری محسوس ہورہی تھی۔ میں نے اس سے ذکر کیا کہنے لگی۔ فکر مت کرو ہر اتوارکو آکر تمہیں امتحان کی تیاری میں مدد دے
دیا کروں گی۔ اس نے اپنا قول نباہ دیا۔ اتوار کو وہ دو چار گھنٹوں کے لئے میرے گھر آجاتی اور مجھے ٹیوشن دیتی۔ وہ نویں جماعت تک درست راہ پر رہی لیکن دسویں میں اچانک اس میں تبدیلی آگئی۔ وہ اب پہلے جیسی نہ رہی تھی۔ انداز گفتگو، لباس، پہناوا سبھی کچھ بدل گیا تھا۔
ان دنوں ہمارے اسکول میں یونیفارم صرف نویں تک تھا اور دسویں کی لڑکیاں آخری تین ماہ میں اپنی مرضی کا لباس پہن کر آسکتی تھیں کہ وہ اسکول میں بطور مہمان رہ جاتی تھیں۔ فیروزہ بھی نت نئے کپڑوں میں ملبوس نت نئے ڈیزائن کے جوڑے اور قیمتی گھڑی… وہ یکسر ایک دوسری فیروزہ نظر آنے لگی تھی۔ اپنے آپ پر اس قدر اصراف جو صرف خوشحال طبقے کی لڑکیاں ہی کرسکتی ہیں، عام طالبات اتنا قیمتی لباس نہیں خرید سکتیں جبکہ میں جانتی تھی کہ وہ پیدائشی غریب تھی۔ کئی بار اس کے گھر جاچکی تھی۔ اس کی والدہ، والد اور چھوٹی بہن، بھائی سب سے مل چکی تھی۔ پانچ افراد پر مشتمل یہ کنبہ انتہائی تنگ دستی میں زندگی گزار رہا تھا۔ باپ ریٹائرڈ ٹیچر تھا جس کو قلیل پنشن ملتی تھی اور یہ تینوں بہن بھائی پڑھ رہے تھے۔ گھر بھی چھوٹا اور بوسیدہ تھا۔ شاید ان کے دادا نے تعمیر کرایا تھا۔ اچانک فیروزہ قیمتی سوٹ اور سوئیٹرز پہن کر آنے لگی تو ساری کلاس ہی نہیں تمام اسٹاف چونک گیا کہ جو لڑکی اسکول کے اس فنڈز سے تعلیمی اخراجات لیتی تھی جو فنڈ غریب اور یتیم طالبات کے لئے مختص تھا اچانک اسے کہاں سے خزانہ ہاتھ لگ گیا۔
لڑکیاں اب اسے دیکھ کر چہ میگوئیاں کرتیں چونکہ وہ میری دوست تھی مجھے بھی معنی خیز نظروں سے دیکھتی تھیں۔ ہماری کچھ ہم جماعت لڑکیوں نے الگ گروپ بنا رکھا تھا۔ وہ خاص طور پر فیروزہ کی وجہ سے مجھ سے بھی کٹی کٹی اور گریزاں رہنے لگیں۔ مجھے احساس ہوا کہ فیروزہ کے لباس اور انداز و ادا میں تبدیلی کے باعث انہوں نے اس کے ساتھ ساتھ مجھ سے بھی دوری اختیار کرلی ہے۔ یہ بات میرے لئے تکلیف کا باعث بنی کیونکہ کہا جاتا ہے کہ آدمی اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے۔ مجھے آخرکار اس سے یہ سوال کرنا پڑا کہ فیروزہ یہ تم میں اچانک اتنی تبدیلی کیسے آگئی۔ تم ایک یونیفارم دو سال تک پہنتی تھیں اور تمہارے جوتے بغیر پالش بوسیدہ اور بے رونق ہوتے لیکن اب تم کسی ماڈل سے کم سج دھج کر نہیں آتیں۔ آخر کون سا قارون کا خزانہ تمہارے ہاتھ لگ گیا ہے۔
پہلے تو اس نے ہنس کر ٹال دیا۔ جب میں اس کے گلے پڑگئی تو بولی۔ وعدہ کرتی ہوں بتادوں گی مگر چند دن ٹھہر جائو۔ وہ لڑکی جو مجھے اپنی ہر بات بتا دیتی تھی آج یہ راز بتانے سے گریز کررہی تھی۔ دلی صدمہ ہوا لیکن دوستی یکلخت توڑ بھی نہ سکتی تھی کیونکہ ہماری دوستی اخلاص پر قائم ہوئی تھی۔ میں یہ بھی سوچنے پر آمادہ نہ تھی کہ جو لڑکی مجھ سے اپنی کوئی بات نہیں چھپاتی، اب کیوں مہر بہ لب ہے۔ آخر ایسی کیا بات ہے کہ وہ مجھے حقیقت حال بتانے کی ہمت نہیں کر پارہی۔
ایک روز اسی الجھن میں، میں اردو بازار کچھ کتابیں خریدنے گئی تو وہاں اس کی رشتہ دار لڑکی مل گئی جس نے ہمارے اسکول سے میٹرک کا امتحان دیا تھا۔
میں نے نگینہ سے فیروزہ کے بارے میں سوال کیا کہ ایسا کیا قارون کا خزانہ ہاتھ لگا ہے جو یہ لڑکی دیکھتے ہی دیکھتے ہوائوں میں اڑنے لگی ہے اور اس کے قدم زمین پر نہیں ٹکتے۔
یہ لڑکی فیروزہ کے محلے میں رہتی تھی اور اس کے گھر آتی جاتی تھی۔ کہنے لگی، لوگ اگر یہ کہتے ہیں کہ وہ بے راہ روی کا شکار ہے اور پیسے کے لئے کچھ غلط کررہی ہے تو یہ درست نہیں ہے لیکن شاید کہ غلط بھی نہیں ہے، واقعی اس کے ہاتھ ان دنوں قارون کا خزانہ آگیا ہے۔
ایک رشتہ کرانے والی سے اس کی ماں نے فیروزہ کا رشتہ کرانے کو کہا تھا۔ وہ عورت جو رشتہ لائی وہ بہت زیادہ امیر گھرانے کے لڑکے کا تھا۔ لڑکے کی شرط تھی کہ وہ لڑکی سے بات کرے گا پھر رشتہ طے ہوگا۔ فیروزہ کی والدہ نے یہ شرط قبول کرلی اور ساجد کو اپنے گھر دعوت پر مدعو کرلیا۔ ساجد نے فیروزہ سے بات کی تو اسے وہ بہت پسند آگئی، وہ ایک مل اونر کا بیٹا ہے اور ایک خوبصورت لڑکی بطور شریک حیات چاہتا تھا۔ اسے لڑکی کی غربت سے کچھ غرض نہ تھی۔ فیروزہ سے بات کرکے اس کے دل کو تسلی ہوگئی۔ گویا اس کے خوابوں کی تعبیر اسے مل گئی۔ اس نے فوراً اس کے ساتھ شادی کی خواہش کا اظہارکردیا۔ والدین


گھر آئی دولت کو ٹھکرانا مناسب نہ سمجھا اور ہاں کردی۔
فیروزہ کی منگنی ساجد سے ہوگئی۔ اس دن مجھے بھی آنٹی نے مدعو کیا تھا۔ فیروزہ قسمت کی دھنی نکلی ہے۔ لڑکا اس پر فریفتہ ہوگیا اور وہی اس کے لئے یہ قیمتی کپڑے لاتا ہے۔ اسے اپنے ساتھ شاپنگ پر لے جاتا ہے اور یہ دل کھول کر شاپنگ کرتی ہے۔ اس کی قسمت کھل گئی ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ آنٹی اور انکل بھی فیروزہ کے ساجد کے ساتھ جانے پر اعتراض نہیں کرتے۔
یہ بات صرف مجھے معلوم تھی۔ ساری کلاس کو پتا نہ تھا کہ وہ اپنے منگیتر کے پیسے پر عیش کررہی ہے لہٰذا لڑکیاں اس سے بدگمان رہنے لگیں کہ وہ غریب ماں باپ کی بیٹی آخر اتنا روپیہ لاتی کہاں سے ہے جو اس طرح اپنے آپ پر خرچ کرتی ہے۔ فیروزہ سے پوچھنے والا کوئی نہیں تھا مگر اس سے بدگمان ہونے والے بہت تھے جو چپکے چپکے دبی زبان میں اس کے کردار پر تنقید کرتے اور کیچڑ اچھالتے کہ ایک غریب لڑکی اتنا پیسہ کہاں سے لاتی ہے۔
اب لڑکیاں حتیٰ کہ کچھ ٹیچرز بھی مجھ سے کہتیں کہ تمہاری دوستی فیروزہ سے ٹھیک نہیں ہے۔ لوگ اس کو شک و شبہ کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ تم کنارہ کرلو ورنہ وہ تمہیں بھی برا سمجھیں گے۔ دیکھو کل تک جو یتیم لڑکیوں کے لئے سرکاری مختص فنڈ سے پڑھ رہی تھی آج ٹھاٹھ امیروں جیسے ہیں۔ چونکہ ہمارے اس اسکول میں آخری ڈیڑھ ماہ باقی تھے، میں نے فیروزہ سے دوستی توڑ لینا مناسب نہ جانا، سوچا کہ اب دن ہی کتنے باقی رہ گئے ہیں۔ دسویں کے پرچے ہوتے ہی ہم سب جدا ہوجائیں گے۔
لڑکیوں کو مگر چین نہ تھا۔ ٹیچرز فیروزہ کے ساتھ مجھے بھی ٹیڑھی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ میں نے پھر اس کے ساتھ قطع تعلق کا سوچا۔ مگر اس سے یہ کہنے کی ہمت نہ کرسکی۔ البتہ اب میرا رویہ فیروزہ سے کافی سرد تھا۔
ایک روز وہ میرے گھر آگئی۔ میں نے سرد مہری سے اس کا سواگت کیا۔ وہ بجھ کر رہ گئی۔ کہا کہ سارے زمانے نے مجھے بدگمانی سے دیکھا لیکن مجھے پروا نہ ہوئی۔ آج تمہاری بے رخی نے مجھے گھائل کردیا ہے۔ سچ ہے غیروں کے پتھروں سے وہ چوٹ نہیں لگتی جو ایک دوست کے پھول مارنے سے لگتی ہے۔ میں نے جواب دیا۔ فیروزہ تم میری بہترین سہیلی ہوکر بھی مجھ سے چھپا رہی ہو جو میں جاننا چاہتی ہوں۔ پھر میں کیوں نہ تم سے بے رخی برتوں۔ میرا یہ حق ہے تمہاری خاطر لڑکیاں اور ٹیچرز تک مجھ سے کٹی کٹی رہتی ہیں اور تم ہو کہ کچھ بتاتی نہیں ہو۔ آخر تم لوگ راتوں رات امیر کیسے ہوگئے۔ دنیا تو بدظن ہوگی ہی بھلا یہ دنیا کسی کو معاف کرتی ہے۔ جبکہ تم ابھی تک تین مرلے کے اس جھونپڑے نما پرانے مکان میں رہتی ہو، تو پھر غریب لڑکیوں کی تقدیریں سیدھے سبھائو تو بدلا نہیں کرتیں۔
تم مانو یا نہ مانو… اس نے کہا، مگر میں سچ کہتی ہوں کہ میں بری ہرگز نہیں۔ میرا نکاح ایک بہت امیر گھرانے کے لڑکے سے ہوگیا ہے اور اب میں جس کی منکوحہ ہوں وہ یہ چیزیں اور تحفے مجھے دلواتا ہے۔ میں اپنے ہونے والے ساس سسر کی اجازت سے ساجد کے ساتھ شاپنگ کرنے جاتی ہوں تو اس میں بری کیا بات ہے۔ میٹرک کے امتحانات کے فوراً بعد میری شادی ہونے والی ہے۔ یہ اپنی اپنی تقدیر ہے اور اللہ کی مرضی ہے، وہ بے نیاز ہے، غریب کو رانی بنا دے اور رانی کو فقیرنی کردے۔ تمہاری قسمت کا ستارہ گویا عروج پر ہے تو یہ مجھے تم بتا دیتیں تمہاری منگنی ہوئی، نکاح بھی ہوگیا اور تم نے مجھے بلایا نہیں، بلانا تو دور بتایا تک نہیں، بدگمانی تو ہوگی۔ اگر بتادیتیں، میں لڑکیوں کی غلط فہمی دور کرتی کہ جو اب تمہیں آوارہ بدچلن اور نہ جانے کیا کیا کہتی ہیں۔
وہ جلتی رہتی ہیں جلنے دو، مجھے کیا فرق پڑتا ہے، کیوں میں ہر ایک کے سامنے وضاحتیں پیش کروں۔ میرا، آخر ان سے کیا واسطہ ہے۔ شادی، بیاہ ہر ایک کا نجی معاملہ ہوتا ہے اور نکاح کے بعد منکوحہ کا حق ہوجاتا ہے اگر اس کا ہونے والا شوہر اسے تحفے دے۔
یہاں غربت ایک جرم ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ غریب کو اچھی زندگی گزارنے یا اچھا کھانے پہننے کا حق نہیں۔ دیکھو اگر غربت عیب ہے تو اس عیب سے چھٹکارا پانے کا تمہیں حق تو ہے اگر قسمت یاوری کرے۔ میں نے کہا۔ فیروزہ، تمہارا فلسفہ تمہارے ساتھ اور میرے نظریات میرے ساتھ۔ مجھے شادی سے قبل ہونے والے شوہر کے پیسے پر عیش کرنا بھلا نہیں لگا اور دولت کے لئے زندگی کے سودے کو اتنی عجلت میں طے کرنا بھی خطرے
خالی نہیں ہوتا۔ بہرحال میں نے اس کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا۔ میری دعا ہے یہ اونٹ صحیح کروٹ بیٹھے۔ ورنہ سودا مہنگا پڑ جائے گا۔ رئیس زادے کم ہی غربت کے ماروں سے رشتے داریاں جوڑتے ہیں۔ میں اس کو تمہاری تقدیر کا کمال بلکہ اس دور میں ایک معجزہ ہی کہوں گی۔ بہتر ہوتا کہ تمہاری کامیاب شادی تک ہم اپنی کتاب دوستی کو بند کرکے رکھ دیں۔ میرے اس جملے پر وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے مجھے دیکھنے لگی جیسے یہ فقرہ نہیں زہر میں بجھا ہوا تیر تھا جو اس کے دل پر لگا تھا۔
امتحان شروع ہوگئے اور اس کے بعد اسکول سے ناتا ختم ہوا تو وہ پھر مجھ سے نہ مل سکی۔
ہمارا میٹرک کا رزلٹ آئوٹ ہوا۔ اسکول رزلٹ دیکھنے گئے تو پرانی سہیلیاں مل گئیں۔ تبھی ایک لڑکی نے بتایا کہ تم لوگوں کو پتا ہے کہ فیروزہ فوت ہوگئی ہے۔ کیا؟ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ کیا کہہ رہی ہو تم؟
میں صحیح کہہ رہی ہوں۔ شادی کے بعد وہ بہت خوش تھی لیکن جلد ہی پتا چل گیا کہ اس کے شوہر کی پہلی بیوی بھی ہے جو اس کی تایا زاد ہے اور تین بچے بھی ہیں۔ اسے صدمہ تو بہت ہوا تاہم برداشت کرلیا کہ جو ہونا تھا ہوگیا۔ شوہر کی محبت پاکر وہ اس دکھ کو پی گئی لیکن سوتن سے اس کا وجود برداشت نہ ہوا۔
ایک دن حسد میں اس نے دودھ کے گلاس میں زہر ملا دیا۔ یہ دودھ سے بھرا گلاس نند نے لاکر فیروزہ کو دیا۔ رواج تھا کہ روز رات کو گھر کا ہر فرد دودھ کا ایک گلاس پیتا تھا۔ وہ کیا جانتی تھی کہ اس کے گلاس میں سوتن نے زہر ملا دیا ہے۔ اس بے چاری نے انجانے میں پی لیا۔ یوں موت کی وادی میں اتر گئی۔ جس نند کو سوتن نے فیروزہ کے لئے دودھ کا گلاس دیا تھا وہ بھی نہیں جانتی تھی کہ اس دودھ میں نئی دلہن کے لئے موت کا سامان ہے۔ تمام گھر والوں کے لئے بالٹی میں برف شربت اور بادام ڈال کر یہ شیریں مشروب ہر روز سوتن ہی بناتی تھی۔
سوتن اگر دودھ لاکر اس کو دیتی، شاید فیروزہ کو شک گزرتا مگر نند پر اس نے شک نہ کیا کہ یہ لڑکی تو اسے چاہتی تھی اور بھابھی دلہن کہتے اس کا منہ سوکھتا تھا۔ بااثر لوگوں کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔ ایک غریب لڑکی کی اچانک موت پر چند دن چہ میگوئیاں ہوئیں مگر کسی میں ہمت نہ تھی کہ اونچی آواز میں کوئی اعتراض اٹھاتا۔ یوں اچھے کپڑوں اور پسندیدہ چیزوں کو ترستی لڑکی زندگی کو ترستی قبر میں جا سوئی۔
جب فیروزہ کی امی سے میری ملاقات ہوئی وہ زار و قطار رو رہی تھیں، بیٹی… بھلا مخمل میں ٹاٹ کا پیوند لگتا ہے؟ یہ بات میں نے کئی بار فیروزہ کو سمجھائی تھی مگر وہ نہ سمجھی۔ وہ اچھی زندگی کی آرزو میں دیوانی ہوگئی تھی۔ دولت کی خواہش میں ماری گئی۔ ساجد کی بیوی اس کی تایا زاد اور بااثر باپ کی بیٹی تھی، بھلا کوئی اس کا کیا بگاڑ سکا مگر میری معصوم بچی تو اپنے سنہرے خوابوں کے پیچھے جان سے چلی گئی۔ (ف … ڈیرہ غازی خان)