Aseer Ishq | Episode 11

146
افسردہ چہرے اور شکستہ قدموں سے ڈاکٹر بہروز انور ضیا کے گھر سے نکلے تھے مگر اپنے گیٹ تک پہنچنے تک انہوں نے خود کو سنبھال لیا تھا۔ گیٹ فضیلت بوا نے کھولا تھا۔
’’بات ہوگئی؟‘‘ انہوں نے بے تابانہ پوچھا۔
’’جی ہوگئی۔‘‘ ڈاکٹر بہروز نے گول مول سا جواب دیا۔ ’’اب دیکھیے…!‘‘ پھر وہ تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔ انہوں نے سوچ لیا تھا رات کو ربیعہ کو سلیقے سے بتادیں گے اور تاکید کردیں گے کہ وہ تسلی بخش انداز میں گھر کے لوگوں اور خاص طور پر شہروز کو سمجھادیں۔ نصیبوں کے فیصلے آسمانوں میں ہوتے ہیں۔ اب اگر فریحہ ہمارے بیٹے کے نصیب میں نہیں ہے… تو صبر کے سوا کیا کیا جاسکتا ہے۔
٭……٭……٭
دھماکا اس لیے ہوا تھا کہ سامنے ٹین کے بکسوں پر دھرے ڈھیروں رجسٹروں میں سے کئی رجسٹر اٹھاکر دلکش نے اپنی جانب بڑھتے مرید خان کے سر پر دے مارے تھے۔ اور وہ اگلے ہی لمحے کھڑکی سے باہر کود گئی تھی۔ مرید خان کو اس اچانک افتاد کی قطعاً امید نہ تھی۔ ابھی اس نے دونوں بازو سامنے کرکے اپنا چہرہ اور سر بچانے کی کوشش ہی کی تھی کہ اتنی دیر میں دلکش کھڑکی سے کود کر بھاگ کھڑی ہوئی تھی۔ مرید خان تیزی سے کھڑکی کی طرف لپکا مگر کھڑکی اتنی بڑی نہیں تھی کہ وہ یا ان کا کوئی ساتھی کھڑکی سے کود کر باہر نکل سکتا۔ چنانچہ وہ تینوں بدحواس ہوکر حجرے کے داخلی دروازے کی طرف لپکے تھے۔ مسجد کا چکر کاٹ کر جب وہ حجرے کے پیچھے پہنچے تو تب تک دلکش کھیتوں کے قریب پہنچ چکی تھی۔ وہ تینوں اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے کافی دور تک آئے تھے۔ پھر مرید خان نے رک کر حمید کو حکم دیا… ’’بابا حمید… تو جلدی سے ادھر جیپ لے آ… یہ چھوکری کھیتوں میں گھس کر ادھر پکی سڑک کی طرف نکلے گی۔ ہم جیپ میں اُدھر پہنچیں گے… اور اسے پکڑ لیں گے۔‘‘
’’لیکن اگر وہ پکی سڑک کی بجائے پیچھے ٹیلوں کی طرف نکل گئی تو…؟‘‘ مٹھل نے خدشہ ظاہر کیا۔
’’ہاں یہ تو ہے۔‘‘ مرید خان نے ہانپتے ہوئے جواب دیا۔ ’’تو بابا تو ایسا کر کھیتوں میں اس کا پیچھا کر ہم ادھر سے پیچھے آرہے ہیں۔‘‘
حمید جیپ لینے چلا گیا تھا جبکہ مرید وہیں رک کر اپنی چڑھی ہوئی سانسیں اعتدال پر لانے کی کوشش کرتا رہا۔ حجرے سے یہاں تک دوڑ کر آنے میں وہ بری طرح ہانپ گیا تھا۔ البتہ مٹھل چھریرے جسم کا پھرتیلا شخص تھا وہ تیزی سے دلکش کے پیچھے دوڑ پڑا تھا۔
دلکش کھیتوں میں راستہ بناتی آگے بڑھ رہی تھی۔ اسے سمت کا بالکل اندازہ نہیں تھا… وہ نہیں جانتی تھی کہ کھیتوں کے اختتام پر وہ کس جگہ پہنچے گی۔ اُس نے دوڑتے دوڑتے پلٹ کر دیکھا، کافی فاصلے پر اسے مٹھل اپنی جانب آتا دکھائی دیا، لمحہ بھر کو رک کر اُس نے سانس لی اور پھر دوبارہ تیز رفتاری سے دوڑ پڑی۔ کھیتوں کے اختتام پر ایک کھلا میدان تھا۔ میدان میں کہیں کہیں اکا دکا جھاڑیاں اور پیڑ تھے۔ اور تھوڑا آگے اونچے ٹیلوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ عموماً یہ علاقہ بالکل سنسان پڑا رہتا تھا۔ شاید ہی کوئی بھولا بھٹکا کبھی اس طرف کا رخ کرتا تھا۔ دلکش میدان میں آکر ایک پیڑ سے ٹیک لگاکر بیٹھ گئی، مسلسل بھاگتے رہنے سے اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ حلق خشک ہوچکا تھا اور وہ بری طرح تھک چکی تھی۔ ابھی اس کی سانس اعتدال پر نہیں آئی تھی کہ اُس نے دور کھیتوں کے آخری سرے سے مٹھل کو نکلتے دیکھا۔
مٹھل نے بھی اسے دیکھ لیا تھا اس لیے اس کی رفتار میں اضافہ ہوگیا۔ دائیں طرف کچی سڑک دور دور تک سنسان پڑی تھی، دلکش نے اپنی چادر سمیٹی اور ایک بار پھر دوڑنے کے لیے تیار ہوگئی۔ مٹھل تیز رفتاری سے اس کی جانب بڑھا چلا آرہا تھا۔ دلکش نے سامنے دور تک پھیلے چھوٹے بڑے اور اونچے نیچے ٹیلوں کی طرف دیکھا، اگر وہ اُن ٹیلوں تک پہنچ جائے تو مٹھل تو کیا وہ حمید اور مرید خان کی نظروں سے بھی محفوظ رہ سکتی تھی۔ چنانچہ اُس نے ایک بار پھر تیزی سے دوڑنا شروع کردیا تھا۔ اتنی دیر میں مٹھل اس کے بالکل سر پر پہنچ چکا تھا، مگر اس سے قبل کہ وہ اسے پکڑ پاتا ٹھوکر کھاکر منہ کے بل زمین پر گرا اور پھر اٹھ نہ سکا۔
کافی دیر بعد حمید جیپ لے کے اس طرف پہنچا تو اُن دونوں نے مٹھل کو بے سدھ زمین پر پڑے پایا۔
’’مٹھل…! ‘‘مرید خان اور حمید نے اسے اٹھایا۔ وہ بے ہوش نہیں تھا مگر ہوش میں بھی نہیں تھا۔ چہرہ مٹی میں اٹ گیا تھا۔ ماتھے پر زخم سے خون رس رہا تھا، گھٹنے بھی چھل گئے تھے۔
پانی پی کے کچھ دیر بعد وہ کچھ بولنے کی حالت میں آیا۔
’’بابا چھوکری کدھر گئی… اور تو اس حال میں کیسے آیا…؟‘‘
’’مجھے ٹھوکر لگی تھی… مجھے معلوم نہیں میرے گرنے کے بعد وہ کس طرف نکل گئی۔‘‘ مٹھل کا جواب سن کر مرید خان نے فکر مند نظروں سے دور تک پھیلے ٹیلوں کی طرف دیکھا۔
٭…٭…٭
دلکش دوڑتی ہوئی ایک سنسان سی جگہ پر پہنچ گئی۔ کچھ دور کچے ٹوٹے پھوٹے گھر دکھائی دے رہے تھے، لگتا تھا کہ جیسے اُن گھروں میں کوئی نہیں رہتا۔ یہ خستہ حال گھر جانے کیوں، اور کب سے خالی پڑے ہوئے تھے۔ سامنے ایک اونچے ٹیلے کے پیچھے ایک پرانا کھنڈر نما گھر نظر آرہا تھا۔ دلکش نے پلٹ کر دیکھا دور ٹیلوں کے درمیان مرید خان اور حمید بھاگتے ہوئے چلے آرہے تھے۔ اُن دونوں سے خاصے فاصلے پر مٹھل بھی لنگڑاتا ہوا چلا آرہا تھا۔ دلکش ٹیلوں کی آڑ لیتی تیزی سے سامنے والے خستہ حال گھر کی طرف بڑھ گئی۔ سامنے ایک دروازہ تھا جو اس کے ہاتھ لگاتے ہی کھلتا چلا گیا۔ سامنے نیچے کی جانب سیڑھیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ دلکش بے سوچے سمجھے سیڑھیاں اترتی چلی گئی۔ سیڑھیوں کے اختتام پر ایک دروازہ تھا وہ دھڑ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئی۔ سامنے ایک چھوٹا مستطیل نما کمرہ تھا جس میں دو دروازے موجود تھے۔ وہ قریبی دروازے میں داخل ہوکر ایک نیم تاریک کوٹھری میں جاگھسی۔
وہ تینوں شکستہ اور خالی گھروں کے پاس آکر ٹھہر گئے اور متلاشی نظروں سے چاروں طرف دیکھنے لگے۔ ’’مجھے یقین ہے کہ وہ بدبخت اسی طرف گئی ہوگی۔‘‘ مرید خان نے ٹیلے کی آڑ میں موجود کھنڈر نما گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ مرید خان کے ساتھ حمید اور مٹھل بھی گھر کی جانب بڑھے۔
مرید خان کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ دروازہ اندر سے بند نہیں تھا۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں اترتا نچلے دروازے تک جاپہنچا۔ کمرے میں ایک سفید داڑھی والا بوڑھا پرانی پگڑی باندھے دیوار کے ساتھ کیل پر لٹکی لالٹین اتار رہا تھا۔ مرید خان کے دروازہ کھولنے پر اُس نے پلٹ کر گھبرائے ہوئے انداز میں دیکھا اور بولا۔ ’’مرید خان…تم…؟‘‘
’’دینو بابا۔‘‘مرید خان نے بوڑھے کو مخاطب کیا۔ ’’وڈیرے کے پنجرے سے ایک بلبل اڑ گئی ہے… ادھر تونہیں آئی؟‘‘ تب ہی زنجیروں اور ہتھکڑیوں کی تیز آواز سن کر مرید خان نے سامنے کی طرف دیکھا۔ سامنے دروازے میں ایک بوڑھا کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پائوں میں بیڑیاں تھیں۔ کپڑے پرانے اور پھٹے ہوئے تھے اور پائوں چپلوں سے محروم تھے۔
’’شاباش اس بلبل کی ہمت کو۔‘‘ بوڑھے نے تحسین آمیز اور حیرت بھرے لہجے میں کہا۔ ’’جو اس ظالم صیاد کا قفس توڑ کر نکل بھاگی۔ ہم سے تو وہی اچھی رہی۔‘‘
مرید خان نے ناگوار نظروں سے نیم خبطی بوڑھے کی طرف دیکھا پھر دینو بابا سے اشارے سے پوچھا۔ ’’وہ لڑکی ادھر تو نہیں آئی؟‘‘
’’پاتال میں بنے اس قید خانے میں خود سے کون آتا ہے مرید خان؟‘‘ دینو بابا نے افسردہ لہجے میں بوڑھے پابہ سلاسل شخص کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’یہاں تو بندوں کو ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں جکڑ کر لایا جاتا ہے۔‘‘
’’اس پاگل کے ساتھ رہتے رہتے تو بھی پاگل ہوگیا ہے۔‘‘ مرید خان نے تلخ اور غصیلے لہجے میں کہا اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا اوپر چلا گیا۔ ’’اور سارے دروازے کس لیے کھلے پڑے ہیں، اوپر کا دروازہ بھی کھلا ہے؟‘‘ دروازے کے پاس رک کر اُس نے سخت لہجے میں دینو بابا سے سوال کیا۔
’’یہاں موجود قیدی کو برسوں بیت گئے۔‘‘ دینو بابا نے دکھ بھرے لہجے میں جواب دیا۔ ’’اب تو وہ باہر کا راستہ بھی بھول گیا۔ دروازہ کھلا رہے یا بند اُسے کیا فرق پڑتا ہے۔‘‘
’’اچھا زیادہ بک بک نہ کر۔‘‘ مرید خان نے زچ ہوکر کہا۔ ’’چل دروازہ بند کر اور اگر کوئی خاص بات نظر آئے تو فوراً سائیں کے موبائل پر اطلاع دینا… سمجھا۔‘‘ مرید خان کے جاتے ہی دینو بابا نے دروازہ بند کرلیا۔ دروازے کی چوکھٹ سے لگا بوڑھا اب تک اسی طرح کھڑا تھا۔ کلائیوں میں بیڑیوں کے باعث زخم پڑگئے تھے جن سے خون رس رہا تھا۔ ’’سرکار آپ کو اس حال میں پہنچانے میں میرا بھی حصہ ہے۔‘‘ دینو بابا بوڑھے کے زخم دیکھ کر بولا۔’’مگر آپ جانتے ہیں کہ میرا اکلوتا بیٹا وڈیرے کے قبضے میں تھا۔ اگر میں یہ سب نہ کرتا تو کیا کرتا؟‘‘
دلکش دائیں جانب کی نیم تاریک کوٹھری میں چھپی ہوئی تھی۔ مرید خان کے جاتے ہی وہ کوٹھری سے نکل کر دروازے تک آگئی۔ اب اسے اس لمحے کا انتظار تھا کہ جب یہ دونوں بوڑھے اندر جاتے اور وہ لپک کر سیڑھیاں چڑھتی اوپر جاپہنچتی۔
’’سرکار! میں آپ کی ہتھکڑیاں اور بیڑیاں کھول دیتا ہوں۔ آپ اس قید و بند سے آزاد ہوجائیں اور یہاں سے نکل جائیں۔‘‘
بوڑھے قیدی نے مایوس اور دکھی نظروں سے دینو بابا کی طرف دیکھا اور حسرت بھرے لہجے میں بولا۔ ’’میں کس کے لیے باہر جائوں۔‘‘
دینو بابا تڑپ کر بولا۔ ’’مجھے حال ہی میں پتا چلا کہ آپ کا بیٹا سلامت ہے۔‘‘
’’میرا بیٹا؟‘‘ بوڑھے نے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں سوال کیا۔
’’جی سرکار آپ کا بیٹا… عدیل شاہ…‘‘ دینو بابا کی آواز دلکش کی سماعت تک پہنچی تو وہ حیرت زدہ ہوگئی اور ساری بات سمجھنے میں اسے ایک لمحہ بھی نہیں لگا۔ اس رات جب وہ حویلی کے پچھلے گیٹ سے کود کر بھاگنے والی تھی، اسے بے ساختہ اُن دو دیہاتیوں کی باتیں یاد آگئی تھیں۔ ’’سائیں عقیل شاہ تو بیوی کے قتل کے بعد اس کے غم میں پاگل ہوکر جانے کس طرف نکل گیا… جلیل شاہ نے بہت تلاش کروایا مگر اس کا کچھ پتا نہیں چلا… کوئی خبر نہیں ملی…‘‘
’’اف۔‘‘ دلکش نے اپنا سر تھام لیا۔ ’’جلیل شاہ نے اپنی بھاوج کو ناصرف قتل کروایا تھا بلکہ اپنے بڑے بھائی عقیل شاہ کو پاگل ظاہر کرکے اس دور افتادہ ویرانے میں قید کروا دیا تھا۔‘‘
باہر دینو بابا عقیل شاہ کو یقین دلانے کی کوشش کررہاتھا کہ اُن کا اکلوتا بیٹا زندہ ہے مگر وہ ماننے کو تیار نہیں تھے۔
’’یقین کریں سرکار… نا صرف عدیل شاہ زندہ ہیں بلکہ ابھی ہفتہ دس دن پہلے ان کی شادی بھی ہوئی ہے۔‘‘
’’نہیں دینو… یہ سب کہانی ہے… عدیل شاہ تو کب کا مرچکا۔‘‘
’’نہیں بابا۔‘‘ دلکش ایک دم دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئی۔ ’’یہ کوئی کہانی نہیں ہے بلکہ زندہ حقیقت ہے کہ عدیل شاہ ناصرف زندہ ہے بلکہ پچھلے دنوں اس کی شادی بھی ہوئی ہے۔‘‘
’’کون ہو تم؟‘‘ دینو بابا اچھل کر کھڑا ہوگیا۔ عقیل شاہ بھی حیران اور بے یقین نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ’’تم یہاں کیسے پہنچیں؟‘‘ دینو بابا کے لہجے میں سراسیمگی جھلکنے لگی تھی۔
’’میں وہ پرندہ ہوں جو شکاری کے جال سے نکل کر اپنی آزادی کے لیے برسرپیکار ہے۔‘‘ دلکش نے دھیمے لہجے میں کہا اور قدم بڑھاکر عقیل شاہ کے قریب چلی آئی۔ ’’آپ عقیل شاہ ہیں نا؟‘‘ اُس نے ہاتھ پکڑتے ہوئے تصدیق چاہی۔
’’یہ نام تو میں خود بھی بھول چکا ہوں۔‘‘ عقیل شاہ نے حیرت سے دلکش کی طرف دیکھا۔ ’’تم میرا نام کیسے جانتی ہو؟‘‘
’’کبھی کبھی تقدیر خود شناخت کا کتبہ اٹھائے سامنے آجاتی ہے۔‘‘ دلکش نے دھیمے لہجے میں کہا۔ ’’میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ دینو بابا جو بات کہہ رہے ہیں، وہ درست ہے۔ نا صرف آپ کا بیٹا عدیل شاہ زندہ ہے بلکہ حال ہی میں اس کی شادی بھی ہوئی ہے۔‘‘
’’مگر۔‘‘ عقیل شاہ نے مشکوک لہجے میں پوچھا۔ ’’تمہیں یہ سب کیسے معلوم ہوا؟ تم کیسے جانتی ہو یہ کہانی؟‘‘
’’کیونکہ۔‘‘ دلکش نے گہرا سانس لیا۔ ’’اس کہانی کا میں بھی ایک کردار ہوں۔‘‘
عقیل شاہ کے اس سوال پر کہ تم کون ہو؟ جانے اس سوال میں ایسا کیا تھا کہ دلکش کا دل پگھل کر آنکھوں سے بہہ نکلا۔ وہ بے اختیار روپڑی اور پھر سسکیوں اور ہچکیوں کے درمیان اُس نے شروع سے آخر تک کی ساری بپتا کہہ سنائی۔
’’اوہ جلیل شاہ کمینے پن کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔‘‘ عقیل شاہ نے غصیلے لہجے میں کہا۔ اُن کے لیے یہ بات انتہائی شرمناک اور کرب انگیز تھی کہ عدیل شاہ کی دلہن کو جلیل شاہ نے بے عزت کرنے کی کوشش کی تھی۔ ’’کاش تم میرے بھائی نہ ہوتے۔‘‘ چند لمحوں بعد وہ شرمسار لہجے میں دلکش سے مخاطب ہوئے۔ ’’بیٹی میں تم سے شرمندہ ہوں اور اس نابکار کی اس حرکت میں تم سے معافی کا خواستگار ہوں۔‘‘
’’اوہ بابا۔‘‘ دلکش نے بے ساختہ عقیل شاہ کے ہاتھ تھام لیے۔ ’’وہ میرا ہی نہیں، آپ کا بھی مجرم ہے۔ اسی کی وجہ سے تو آپ آج اس مقام پر ہیں… اس کا یہ ظلم کچھ کم تو نہیں۔‘‘
’’میری بچی! تم سے مل کر مجھے ایک انوکھی خوشی حاصل ہوئی ہے۔ برسوں سے تاریک پڑے ایوانِ دل میں اجالا پھیل گیا ہے۔‘‘
دینو بابا کا مشورہ تھاکہ دلکش شام ڈھلنے کے بعد یہاں سے باہر نکلے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ شام ڈھلتے ہی وڈیرے کے گرگے عموماً بھنگ گھوٹنے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ مگر دلکش فوری طور پر نکلنا چاہ رہی تھی۔ اسے توقع تھی کہ شاید مصعب اسے تلاش کرتے ہوئے کہیں مل جائیں۔ اس کے اصرار پر دینو بابا اندر گیا تھا اور ایک بڑی اجرک لاکر اسے دی کہ اپنی چادر کے اوپر اسے اوڑھ لیں تاکہ کوئی پہچان نہ سکے۔
سہ پہر ڈھل رہی تھی۔ ہر سمت قبرستان کی سی خاموشی تھی۔ اسے کس طرف جانا چاہیے؟ ابھی وہ فیصلہ نہ کرپائی تھی کہ دور کچی سڑک کی طرف کچھ حرکت سی محسوس ہوئی۔ اُس نے ایک دم ٹیلوں کی جانب دوڑ لگادی۔ پھر وہ ٹیلوں کی آڑ لیتی گائوں کی جانب چل دی۔
دلکش کے جانے کے بعد عقیل ماضی کی بھول بھلیوں میں گم ہوگئے تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اپنے والد رئیس خلیل شاہ کے ساتھ زمینوں اور جاگیر کے معاملات میں حصہ لینا شروع کردیا تھا۔ رئیس خلیل شاہ اب خاصے بوڑھے ہوچکے تھے۔ جوانی میں ہی اُن کی شریک حیات انہیں تنہا چھوڑ کر ملک عدم کو سدھار گئی تھی۔ انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں عقیل شاہ اور جلیل شاہ کی خاطر دوسری شادی نہیں کی تھی اور اپنے دونوں بچوں کو باپ ہی نہیں بلکہ ماں کا بھی پیار دیا تھا۔ عقیل شاہ بڑے تھے اور فطرتاً نیک اور محبت کرنے والے انسان تھے۔ انہیں ناصرف باپ بلکہ چھوٹے بھائی جلیل شاہ سے بھی بے پناہ محبت تھی، مگر جلیل شاہ نے باپ اور بھائی کی محبتوں کا غلط مطلب لیا تھا اور اُن کے لاڈ پیار نے اسے خاصا بگاڑ دیا تھا۔ ضد، خودسری، خودغرضی اور لالچ اس کے مزاج کا حصہ بن گئی تھی۔
٭…٭…٭
حارب کے جانے کے بعد انوشہ آذر کے فیصلے کی منتظر تھی۔ اُسے اپنی پسند پر اعتبار تھا ، ساتھ ہی بھائی کی محبت پر بھی بے حد مان تھا۔ جانتی تھی وہ ہرگز ایسا کوئی فیصلہ نہیں کریں گے جس سے اس کی خوشی غم میں بدل جائے۔ اس کی خوشی کی خاطر وہ کچھ بھی کرسکتے تھے۔ سو انہوں نے انوشہ کی خوشی کی خاطر حارب کو اس گھر کا داماد بنانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ ان کے لیے یہ بات اطمینان اور خوشی کا باعث تھی کہ شادی کے بعد بھی انوشہ اپنے شوہر کے ساتھ اُن کی اور اپنی والدہ کی نظروں کے سامنے اسی گھر میں رہے گی۔ اس سلسلے میں وہ حارب کے شکر گزار تھے کہ وہ انوشہ سے شادی کے بعد اسی گھر میں رہنے پر آمادہ ہوگیا تھا۔
آذر کی رضا مندی نے انوشہ کا دل مسرت سے بھر دیا تھا۔
آذر نیچے لائونج میں بیٹھے ماں کا انتظار کررہے تھے۔ تب ہی اُن کے موبائل کی بب گنگنا اٹھی۔ کنزہ کا فون تھا۔ وہ اُن سے جلد جانے کا سبب پوچھ رہی تھی۔ آذر نے مسکراتے لہجے میں اسے حارب کے بارے میں ساری بات بتادی۔
’’اوہ اچھا۔‘‘ کنزہ کے لہجے میں حیرت کے ساتھ تشویش بھی سمٹ آئی تھی۔ آج سہ پہر کو بھی وہ حارب سے ملنے اس کے ٹھکانے پر گئی تھی۔ وہ اسے انوشہ سے دور رہنے کی تلقین کرنے گئی تھی مگر اس نے اسے دوستی کے لیے آمادہ کر لیا تھا۔ وہ انوشہ کو سیڑھی بناکر آذر تیمور کی بے تحاشا دولت سے انوشہ کا حصہ حاصل کرنا چاہتا تھا، کنزہ کو اس پرکوئی اعتراض نہ تھا۔ وہ جانتی تھی آذر، انوشہ سے بے حد محبت کرتے ہیں اور انوشہ کی جس سے بھی شادی ہوتی آذر نہایت دیانت داری سے انوشہ کا حصہ اسے سونپ دیتے۔ اب یہ حصہ اگر حارب کے حصے میں آجاتا تو بھلا کنزہ کا کیا نقصان تھا؟ ابھی وہ آذر سے اس کے فیصلے کے بارے میں سوال کرنا چاہ رہی تھی کہ تب ہی گاڑی کے رکنے کی آواز پر آذر نے جلدی سے کہا۔ ’’شاید مام آگئیں۔‘‘ یہ کہہ کر آذر نے فون بند کردیا۔
صاعقہ تیمور ہنستی مسکراتی ہوئی اندر داخل ہوئی تھیں۔ وہ اپنے مشن میں کامیاب لوٹی تھیں۔
ماں کوخوش دیکھ کر آذر کے چہرے پر بھی مسکراہٹ بکھر گئی تھی، ادھر اُدھر کی چند باتوں کے بعد وہ اصل موضوع کی طرف آگئے تھے۔ انہوں نے حارب سے اپنی ملاقات کے بارے میں بتاکر کہا۔ ’’وہ بہت اچھا لڑکا ہے مام… وہ ہماری انو کی پسند ہے… وہ ہر لحاظ سے انو کے لائق ہے… بس مام اب آپ بھی اوکے کردیجیے۔‘‘
’’آذر اسے دیکھے بنا میں کس طرح اوکے کرسکتی ہوں۔‘‘ آذر کی معصومانہ فرمائش پر انہوں نے قدرے حیرت سے کہا۔
’’آپ جب حکم کریں وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوجائے گا۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے آئندہ ہفتے اسے بلوالینا۔‘‘ وہ دھیمے سے مسکرائیں۔ ’’میں بھی دیکھ لوںگی کہ اُس لڑکے میں ایسا کیا جادو ہے کہ تم دونوں بہن بھائی اُس کے نام کی مالا جپ رہے ہو۔‘‘
ماں کی رضا مندی پر آذر کھل اٹھے تھے۔ ساری بات جان کر انوشہ بھی بے حد مسرور تھی اور صاعقہ تیمور بھی بے حد خوش تھیں۔ آج وہ آذر کے نکاح کی تاریخ طے کرکے آئی تھیں۔ جمعے کو یہ مبارک کام ہونا قرار پایا تھا۔ اب تک انہوں نے نہایت رازداری سے یہ سب کیا تھا حتیٰ کہ انوشہ اور خود آذر اس کارروائی سے لاعلم تھے۔ آذر کو اس شادی کے لیے کس طرح آمادہ کرنا تھا یہ وہ بہت پہلے سوچ چکی تھیں۔ ویسے بھی انہیں آذر کی سعادت مندی اور فرمانبرداری پر بے حد ناز تھا۔ انہوں نے آذر کی شریک زندگی کے لیے ایک اچھی لڑکی کا انتخاب کیا تھا۔ کنزہ جیسی تیز طرار اور عیار لڑکی کے مقابلے میں فریحہ کسی معصوم فرشتے جیسی تھی۔ وہ فریحہ کا انتخاب کرکے بے حد خوش تھیں۔ آخر کار وہ اپنے معصوم اور سیدھے سادے بیٹے کو کنزہ جیسی عیار اور لالچی عورت کے شر سے بچانے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔ گوکہ نکاح کے لیے ابھی کچھ وقت باقی تھا، اس کے باوجود وہ خود کو کامیاب و کامران محسوس کررہی تھیں۔
٭…٭…٭
دوسری منزل کی منڈیر سے دھوپ نیچے اتر آئی تھی۔ شام کے سرمئی سایے دبے پائوں آگے بڑھتے چلے آرہے تھے۔ سجیلہ نے فائلیں سمیٹ کر رضیہ کو دیں اور گہرا سانس لے کر کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ شروع سے ہی اس کا میھتس بہت اچھا تھا۔ اسی لیے تمنا باجی نے اکائونٹ کا سیکشن اس کے حوالے کردیا تھا۔ اکائونٹ سیکشن کے لیے مولوی بشیر خان پہلے سے موجود تھے مگر اب سجو کی وجہ سے انہیں کام میں خاصی آسانی ہوگئی تھی۔ اکائونٹس کے علاوہ وہ اسکول میں اردو پڑھانے کا کام سرانجام دیتی تھی۔ یہ ذمے داری اس نے خود کہہ کرلی تھی۔ ننھے اپاہج بچوں کے بیچ اسے بے انتہا خوشی کا احساس ہوتا تھا۔ اپنی بے کسی اور اکیلے پن کا احساس قدرے کم ہوجاتا تھا۔ خاص طور پر کرن کی کلاس میں اسے ایک عجب سا اپنے پن کا احساس ہوتا تھا۔ کرن شروع سے ہی اُس سے ایک والہانہ لگائو رکھتی تھی۔ رفتہ رفتہ سجو کو بھی کرن سے انسیت ہوگئی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ انسیت محبت میں بدلتی جارہی تھی۔ کرن کا بس چلتا تو وہ ہر دم سجو کے ساتھ ہی رہتی۔ جب موقع ملتا، اس کے پاس چلی آتی اور سجو کے سامنے بیٹھ کر پیار بھری نظروں سے اسے تکے جاتی۔ ’’کرن! بھلا اس طرح ہر وقت کیا دیکھتی رہتی ہو؟‘‘ سجو نے ایک دن پوچھ ہی لیا۔
’’پتا نہیں آنٹی۔‘‘ کرن نے معصومیت سے جواب دیا۔ ’’بس آپ کو دیکھنا اچھا لگتا ہے۔ آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں۔‘‘
’’تم خود بھی بہت اچھی ہو۔‘‘ اُس نے پیار سے کہا۔
’’نہیں آنٹی۔‘‘ کرن افسردہ لہجے میں بولی۔ ’’اگر میں اچھی ہوتی تو میرے پاپا کیوں مجھے اس طرح اس ادارے میں پھینک دیتے؟ وہ آج تک مجھ سے ملنے نہیں آئے۔ بھلا میں کس طرح اچھی ہوسکتی ہوں؟‘‘
کرن کے رنجیدہ لہجے کی تڑپ نے سجو کو تڑپا کر رکھ دیا۔ اس کے پوچھنے پر تمنا باجی نے بتایا تھا۔ ’’ہم تو اپنی سی کوشش کرکے ہار کے بیٹھ گئے ہیں۔ کتنے ہی خطوط بھیج کے دیکھ چکے مگر مصعب احمد کسی چیز کا کوئی جواب دیتا نہ فون ہی ریسیو کرتا ہے۔ صولت آپا کئی بار اس کے گھر اس سے ملنے بھی گئیں… کئی کئی گھنٹے اس کے دروازے پر انتظار کرکے لوٹ آئیں مگر اس نے ایک بار بھی ملنا گوارا نہیں کیا۔‘‘
’’عجب سنگ دل اور بے رحم انسان ہے۔‘‘ سجو نے افسردہ اور دکھی لہجے میں کہا۔ ’’آپ مجھے پلیز اس کی تفصیلات بتائیے۔‘‘ اور اس بات کے جواب میں تمنا باجی نے کرن کی فائل نکلواکر سجو کے حوالے کردی۔
رات کے کھانے کے بعد اپنے بستر پر بیٹھ کر اس نے وہ فائل کھولی۔ فائل کھولتے ہی پہلے صفحے پر کرن کے والد ایڈووکیٹ مصعب کی تصویر لگی تھی۔ ساتھ ہی نام، پتا اور دیگر تفصیلات تحریر تھیں۔ سجو تفصیلات پر سرسری نظر ڈالتی تصویر کی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔ دلکش اور مسکراتی آنکھوں والا یہ نرم و گداز سا انسان اس قدر سخت کس طرح ہوسکتا ہے کہ اس نے پچھلے دس برسوں میں ایک بار بھی اپنی اپاہج بیٹی کی خبر نہیں لی تھی۔ سجو تصویر سے نظر ہٹاکر دوسرے صفحے پر موجود تفصیلات پڑھنے لگی، اس میں وہی کچھ تحریر تھا جو تمنا باجی اُسے بتاچکی تھیں۔ چہیتی بیوی کے انتقال کے بعد وہ نفسیاتی مریض بن گیا تھا اور اپنی بیوی کی موت کا ذمہ دار اپنی اپاہج بیٹی کو سمجھنے لگا تھا۔ اسے بیٹی سے شدید نفرت ہوگئی تھی اور اس نے بچی پر اک نگاہ ڈالنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ اس نے میٹرنٹی ہوم کی ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر مسز تمنا آغا سے رابطہ کرکے بچی کو ادارے میں داخل کرنے کی درخواست کی تو مسز آغا نے کرن کو اپنی آغوش محبت میں سمیٹ لیا تھا۔ اب تک دس سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ رفتہ رفتہ مصعب کی دماغی حالت بہترہوگئی تھی۔ اس کے باوجود اس نے دنیا سے رابطہ توڑ کر تنہائی کو اپنا مقدر بنالیا تھا۔ برسوں پہلے وکالت بھی چھوڑ دی تھی اور اب کچھ جائداد اور زمینوں سے آنے والی آمدن کے سہارے زندگی بسر ہورہی تھی۔ بیگم تمنا کے بار بار بلوانے کے باوجود مصعب ایک بار بھی اس ادارے میں نہیں آیا تھا۔ البتہ ہر چھ ماہ بعد اس کا گھریلو ملازم فضل دین ایک خاصی بڑی رقم کا چیک ادارے کو دے جاتا تھا اور بچی کی خیر خبر لے جاتا تھا۔
مصعب کی یہ بات سجو کے لیے حیران کن ہونے کے ساتھ خوش آئند بھی تھی کہ اتنی نفرت، دوری اور فاصلے کے باوجود اسے اپنی ذمہ داری کا احساس تھا۔ اس کے پتھر دل میں کہیں نہ کہیں بیٹی کے لیے نرم گوشہ موجود تھا۔ وہ ایک بار پھر اس کی تصویر کی طرف متوجہ ہوگئی۔ اس کی بڑی بڑی سیاہ خمار آلود آنکھیں کسی کو بھی اپنی جانب متوجہ کرلینے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ ان روشن آنکھوں سے اپنائیت کا احساس چھلکتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔
سجو کو یکایک اپنا دل عجب سے انداز میں دھڑکتا محسوس ہوا۔ ہوش سنبھالنے سے اب تک کبھی اس کا دل اس انداز سے نہیں دھڑکا تھا۔ زندگی میں آج پہلی بار اس کی سوچوں کی سنسان ڈگر پر اس انجانے اجنبی شخص کے قدموں کی آہٹ جاگ اٹھی تھی اور اپنے اس پاگل پن پر وہ حیران اور پریشان ہوگئی تھی۔ شاید اکیلے پن کے احساس نے اسے اس قدر زودرنج بنادیا تھا۔ وقت کے عفریت نے ایک ایک کرکے اس کے ہر رشتے کو نگل لیا تھا۔ اب جیون بتانے کے لیے نئے رشتوں کی ضرورت تو تھی اور آج اس پل مصعب کی تصویر دیکھ کر اس کا دل بالکل اچانک ہی ایک نئے رشتے کی تمنا کر بیٹھا تھا۔
وہ نگاہ چرا کر ایک بار پھر مصعب کی تصویر دیکھنے لگی۔ کرن کی شکل اس سے بہت ملتی جلتی تھی۔ کرن کا خیال آتے ہی اسے خیال آیا کہ کرن نے کیسے پہلی ہی نگاہ میں اس سے کیسا اٹوٹ رشتہ قائم کرلیا تھا اور باپ نے تصویر کے ذریعے اسے تسخیر کرلیا تھا۔
’’سجو بٹیا: تمہارے لیے چائے لے آئوں۔‘‘ رضیہ کی آواز پر وہ چونک کر سیدھی ہوتے ہوئے بولی۔’’ نہیں میں کرن کی فائل دیکھ رہی تھی۔ تم کبھی کرن کے والد سے ملی ہو؟‘‘
’’نہیں، وہ کبھی یہاں نہیں آئے۔‘‘
رضیہ نے تصویر پر نگاہ ڈالتے ہوئے دھیمے لہجے میںکہا۔ ’’سنا ہے بیوی سے بہت محبت کرتے تھے۔ بچی کی ولادت میں بیوی کا انتقال ہوگیا۔ بس اس کے بعد دنیا تیاگ کر گوشہ نشین ہوگئے، بہت کامیاب وکیل تھے، وکالت بھی چھوڑ دی۔ یہ ان کی دس سال پرانی تصویر ہے۔‘‘ رضیہ نے تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔ ’’بیوی کی موت کے صدمے نے ان کا دماغی توازن بگاڑ دیا تھا۔ جانے ان دس سالوں میں ان کی شکل و شباہت میں کتنا فرق آیا ہوگا۔‘‘
یہ بات تو سجو نے سوچی بھی نہیں تھی۔ واقعی دس سالوں میں مصعب میں جانے کتنی تبدیلیاں آئی ہوں گی؟ اس سے ملنے اور اسے دیکھنے کی شدید خواہش یکایک ہی اس کے دل میں جاگ اٹھی تھی۔
’’رضیہ! تم آفس سے ایک لفافہ لے آئو۔ میں مصعب صاحب کو ایک لیٹر بھیجنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’جی بہتر۔‘‘ رضیہ کے جانے کے بعد سجو ایک بار پھر مصعب کی تصویر کی طرف متوجہ ہوگئی۔ یک ٹک تصویر کو تکنے کے بعد اس نے فائل بند کردی۔ کتنی عجیب اور ناقابل یقین بات تھی کہ وہ اس فائل میں کرن کے گمشدہ باپ کو تلاش کرنے چلی تھی مگر ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے خود کو کہیں کھوبیٹھی ہے۔
٭…٭…٭
حارب اور آذر کی ملاقات نے کنزہ کو تشویش میں مبتلا کردیا تھا۔ گو کہ خود حارب اسے اپنے ارادے سے آگاہ کرچکا تھا اور اس سے دوستی کا ہاتھ ملانے کے بعد اسے کوئی اعتراض بھی نہیں تھا۔ اس کے باوجود اس خبر نے اسے ایک عجب سی رنجیدگی میں مبتلا کردیا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ جب وہ دونوں کالج میں پڑھتے تھے تو ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ اگرچہ وہ دونوں ہی دولت کی تلاش میں تھے مگر دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر انہوں نے محبت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ جہاں تک کنزہ کا تعلق تھا ہوش سنبھالتے ہی یہ بات اس کی سمجھ میں آگئی تھی کہ دولت کے بغیر یہ زندگی بے رنگ بے معنٰی اور بے قیمت ہے۔ صرف چھ برس کی عمر میں باپ کے انتقال کے بعد اس کے چچا نے ان کے گھر پر قبضہ کرکے اسے اور اس کی ماں شمسہ کو گھر سے نکال دیا تھا۔ اس کی ماں اسے لے کے اپنے ایک دور پرے کے رشتے دار کے گھر چلی آئی تھی۔
سلطان ماموں نے بڑی محبت سے ان کا استقبال کیا تھا مگر ان کی بیوی نادرہ ممانی اور ان کے نو سالہ بیٹے واحد نے کسی خاص خوشی کا اظہار نہیں کیا تھا بلکہ ممانی کے چہرے پر باقاعدہ ناگواری اور بے زاری کے آثار تھے۔ خود کنزہ کو یہ ٹوٹا پھوٹا کچا چھوٹا سا مکان اور مکان کے چھوٹے دل کے مکین پسند نہیں آئے تھے۔ خاص طور پر ممانی اور ان کا بدتمیز بیٹا، مگر سلطان ماموں کا رویہ اس کے اور اس کی ماں کے ساتھ بے حد اچھا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نادرہ ممانی کی فطرت کھل کر سامنے آگئی تھی۔ اس کی بے زبان ماں نے پورے گھر کی ذمے داری اٹھالی تھی۔ صبح سے رات تک نوکرانی کی طرح گھر کے کام کاج میں لگی رہتی مگر نادرہ ممانی پھر بھی لڑائی جھگڑے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتی۔ تب اس کی ماں نے کہیں نوکری کرلینے کے بارے میں سوچا مگر اس سے پہلے کہ وہ کہیں نوکری کرتی نادرہ ممانی نے خود ایک فیکٹری میںنوکری کرلی۔ وہ صبح گھر سے نکلتی اور رات گئے گھر میں داخل ہوتی۔
شمسہ نوکرانی کی طرح اس کے سامنے کھانا رکھتی اور وہ بیگموں کی طرح کھانا کھاکر پائوں پسار کر سوجاتی۔ اسے گھر، شوہر اور بچے سے کوئی غرض نہ تھی۔ وہ جلد از جلد بہت ساری دولت کما لینا چاہتی تھی۔ خود اس کا بیٹا واحد بھی چھوٹی سی عمر میں پیسے کی طمع کا شکار ہوگیا تھا، ماںکی ہر وقت کی ’’پیسے پیسے‘‘ کی رٹ نے واحد کے دل میں بھی دولت کی طلب جگادی تھی۔ وہ جس اسکول میں پڑھتا تھا، اسے جب موقع ملتا وہ کسی نہ کسی بچے کے پیسے، کتابیں اور دیگر اشیاء اڑا لیتا۔ پھر وہ ان کتابوں کو ردی میں بیچ کر پیسے کھرے کرلیتا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر سلطان ماموں اسے اپنے سیٹھ کے پاس لے گئے تھے۔ ان کا سیٹھ ایک بے حد اچھا انسان تھا۔ اس نے واحد کی تعلیم و تربیت کا ذمہ لے لیا تھا۔ اس کی بیگم نے واحد کو ایک بہت اچھے اسکول میں داخل کرادیا۔ مگر جلدہی وہ وہاں سے بھاگ کر دوبارہ اپنی ماںکے پاس آگیا۔
نادرہ ممانی کی بے اعتنائی اور گھر کے کشیدہ ماحول کے باعث سلطان ماموں بے حد بددل اور دکھی رہنے لگے تھے۔ ان کے اندر کا اکیلاپن انہیں شمسہ کی طرف راغب کرنے کا باعث بن گیا اور ایک رات وہ شمسہ کو ساتھ لے کر اس گھر اور اس شہر سے کہیں دور چلے گئے۔ ممانی پر تو گویا قیامت ٹوٹ پڑی۔ جس سلطان کو وہ منہ نہیں لگاتی تھیں اس کے جانے کے بعد اب رات دن تڑپتی دامن پھیلا پھیلا کر ان دونوں کو بددعائیں دیتی تھیں۔
شاید ان کی بد دعائوں کا ہی اثر تھا کہ ایک دن اطلاع ملی کی سلطان اور شمسہ ملتان جاتے ہوئے ٹرین کے حادثے کا شکار ہوکر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ یہ خبر نادرہ ممانی کے لیے بے حد تسکین و مسرت کا باعث تھی۔ اس نے اگلے ہی دن کنزہ کو یتیم خانے میں داخل کرادیا اور گھر بیچ کر واحد کو ساتھ لے کر فیکٹری کے کوارٹر میں شفٹ ہوگئی۔
یتیم خانے میں کنزہ کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ وہ دولت مند بننا چاہتی تھی اور اس مقصد کے حصول کے لیے اسے سمجھایا گیا تھا کہ اسے خوب دل لگاکر تعلیم حاصل کرنی چاہیے تاکہ پڑھ لکھ کر کسی بڑے عہدے پر فائز ہوکر خوب دولت کما سکے۔ یہ بات اس کی سمجھ میں آگئی تھی اور اس نے خو ب دل لگا کر پڑھنا شروع کردیا تھا۔
میٹرک میں اس کی پہلی پوزیشن آئی تھی۔ اس کی تعلیمی لگن اور کارکردگی دیکھتے ہوئے اسے یتیم خانے کی طرف سے شہر کے سب سے بڑے کالج میں داخلہ دلوایا گیا تھا۔ وقت گزرتا رہا اور وہ انٹر پاس کرکے تھرڈ ایئر میں آگئی۔ وقت نے اسے خاصا بدل دیا تھا۔ اب وہ چھ سال کی معصوم سہمی ہوئی کنزہ نہیں رہی تھی بلکہ اب وہ ایک حسین پُرکشش دوشیزہ بن چکی تھی۔
وقت کے ساتھ ایک بات اور اس کی سمجھ میںآئی تھی کہ تعلیم کا حصول اپنی جگہ مگر حصول دولت کے لیے تعلیم کے علاوہ بھی کئی راستے ہیں اور انہی راستوں میں سے ایک راستہ یہ بھی ہے کہ کسی رئیس زادے کو اپنے حسن کے جال میں پھنساکر اس کی دولت پر عیش بھری زندگی گزاری جائے اور سوچ کا یہی زاویہ اسے حارب کے قریب لے گیا تھا۔
حارب اس سے دو سال سینئر تھا اور لباس و انداز اور رکھ رکھائو سے خاصا دولت مند نظر آتا تھا۔ اسے دیکھ کر کنزہ کو ایک غیر محسوس سی شناسائی کا احساس ہوتا تھا۔ وہ اسے بہت دولت مند سمجھ کے اس کے قریب آئی تھی مگر جلدہی اسے احساس ہوگیا کہ حارب بھی اسی کی طرح ایک قلاش انسان ہے، اس کے باپ کا انتقال ہوچکا تھا اور ماں کسی فیکٹری میں کام کرتی تھی اور اس کے تعلیمی اخراجات کسی سیٹھ کی بیگم اٹھاتی تھی۔ اصلیت جان کر کنزہ کو مایوسی ہوئی تھی۔ وہ اپنا دامن چھڑاکر الگ ہوجانا چاہتی تھی، مگر دلوں میں موجود محبت نے اسے ایسا نہ کرنے دیا اور چاہتے ہوئے بھی وہ حارب سے الگ نہ ہوسکی۔
خود حارب بھی کسی دولت مند لڑکی کی تلاش میں تھا۔ اس کی ماں بھی اپنے بیٹے کی وجاہت اور صلاحیت سے واقف تھی اسی لیے وہ بھی یہی چاہتی تھی کہ اپنے شاندار بیٹے کی شادی کسی بہت ہی دولتمند گھرانے میں کرے تاکہ اس کی دولت کی ہوس پوری ہوسکے مگر حارب نا چاہتے ہوئے بھی کنزہ کے عشق میں گرفتار ہوگیا تھا اور اب ان دونوں نے شادی کا فیصلہ کرلیا تھا۔ جب وہ اسے اپنی ماں سے ملوانے اپنے گھر لے کے آیا تو حارب کی ماں نے کنزہ کو دیکھتے ہی ہذیانی انداز میں چیخ کر کہا۔ ’’شمسہ کی منحوس بیٹی، تیری ماں نے مجھ سے میرا شوہر چھینا اور تو اب مجھ سے میرا بیٹا چھیننے آئی ہے۔‘‘
اور اب اس کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ حارب کو دیکھ کر جو اسے شناسائی اور انسیت کا احساس ہوتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کی بچپن کی یادوں کا حصہ تھا، سلطان ماموں کا بیٹا تھا۔ واحد جس سے وہ بچپن میں ہمیشہ نفرت کرتی رہی تھی اسے حیرت تھی کہ وہ اس بدتمیز لڑکے کو پہچان کیوں نہ سکی؟
اور یوں اس کی اور حارب کی محبت کی کہانی ادھوری رہ گئی۔ گو کہ اسے اس کہانی کے ادھورا رہ جانے کا کوئی خاص صدمہ نہیں ہوا تھا۔ خود حارب کے انداز سے بھی کسی دکھ کا پتا نہیں چلتا تھا۔ دونوں آسانی سے ایک دوسرے سے الگ ہوگئے تھے۔
کنزہ کی نگاہیں اب کسی دولت مند لڑکے کی تلاش میں تھیں۔ تلاش بسیار کے بعد اس کی نگاہ انتخاب آذر تیمور پر آٹھہری تھی۔ حیدرآباد سے کراچی آنے کے بعد آذر کی فرم میں ملازمت اختیار کرنے سے قبل اس نے باقاعدہ آذر کی ماں صاعقہ تیمور اور اس کے خاندانی پس منظر کے بارے میں پوری تحقیق کی تھی اور اس سلسلے میں وہ حارب کی ماں کی بھی شکر گزار تھی کہ اگر وہ اسے نہ بتاتی تو وہ آذر کے ماضی کے بارے میں اتنا کچھ نہ جان پاتی۔ آذر سے زیادہ اس کی ماں صاعقہ تیمور کا ماضی معنٰی خیز اور اہم تھا۔ جوں جوں وہ ان کے ماضی اور حال کے بارے میں معلومات اکٹھا کرتی رہی اسے اپنی کامیابی کا یقین بڑھتا گیا۔
پھر وہ باقاعدہ تیاری اور منصوبے کے ساتھ سرفراز سے ملی اور سرفراز نے اس کی تعلیمی لیاقت، قابلیت اور صلاحیت کو دیکھتے ہوئے ملازم رکھ لیا۔
جب اس نے پہلی بار آذر کو دیکھا تو وہ حیران رہ گئی تھی۔ اتنی عیار، چالاک اور جوڑ توڑ کی ماہر ماں کا بیٹا اتنا سادہ اور معصوم ہوگا؟ اس کا کام آسان ہوگیا تھا۔ آذر جیسے سادہ لوح انسان کو محبت کے جال میں پھنسانا کون سا مشکل کام تھا۔ لیکن جلدہی اسے احساس ہوگیا کہ صاعقہ تیمور جیسی ماں کی موجودگی میں اس کے چہیتے بیٹے کو زلفِ گرہ گیر کا اسیر بنانا، اتنا آسان نہیں تھا۔ مگر اس نے تہیہ کرلیا تھا کہ اسے ہر حال میں اپنے مشن میں کامیاب ہونا تھا۔ دوسری طرف بیگم تیمور نے بھی بھانپ لیا تھا کہ وہ اس فرم میں محض جاب کرنے نہیں آئی بلکہ اس کے عزائم خطرناک ہیں۔ سو انہوں نے بھی آذر کو کنزہ سے بچانے کا مصمم ارادہ کرلیا تھا۔
حارب کی انوشہ سے شادی کی پیش رفت دیکھ کر جانے کیوں کنزہ کو ایک عجیب سی تکلیف محسوس ہوئی تھی اور اس نے فیصلہ کیا تھا کہ اب اسے بھی اپنی محبت کا سفر آگے بڑھانا ہوگا۔ اب اسے بھی کھل کر آذر کے سامنے اپنی محبت کا اظہار کرنا ہوگا۔ سو اس نے دل میں مصمم ارادہ کرلیا کہ آج وہ آذر کے سامنے اپنا دل کھول کے رکھ دے گی… سو وہ بہت اہتمام سے تیار ہوئی اور بہت جلد آفس پہنچ گئی۔
عموماً آذر نو بجے تک آفس پہنچ جاتے تھے… مگر اب دس بجنے کو تھے۔ وہ بے چینی سے ان کا انتظار کررہی تھی، کئی بار دل چاہا انہیں فون کرکے پوچھے مگر وہ اپنی اس خواہش کو دباتی رہی۔ کوئی سوا دس کے قریب آذر آفس پہنچے تھے، انہیں دیکھ کر اس کا دل عجب انداز سے دھڑک اٹھا تھا۔
معمول کی کارروائی کے بعد وہ کافی کے گرم کپ لیے ان کے پاس جا پہنچی تھی۔ کافی کا مگ آذر کے سامنے رکھتے ہوئے کنزہ نے سرسری سے لہجے میں سوال کیا۔ ’’کل آپ نے فون پر بتایا تھا کہ انوشہ کے سلسلے میں کوئی لڑکا آپ سے ملنے آیا تھا آپ کو کیسا لگا؟‘‘
’’حارب؟‘‘ آذر کے لہجے میں پیار اور اپنا پن سمٹ آیا۔ ’’بہت اچھا لڑکا ہے… ابھی اس کی مام سے ملاقات نہیں ہوئی۔ مام مل لیں گی تب ہی شادی کا فیصلہ ہوگا۔‘‘
’’آپ انوشہ میم سے عمر میں بڑے ہیں۔‘‘ کنزہ نے اچانک سوال کیا۔ ’’اصولاً انوشہ میم سے پہلے آپ کی شادی ہونی چاہیے۔‘‘
’’میری شادی؟‘‘ آذر اپنی شادی کے ذکر پر قدرے جھینپ کر بولے۔ ’’اس بارے میں کبھی سوچا نہیں۔‘‘
’’ویسے اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘
کنزہ کے سوال پر وہ مسکراکر بولے۔ ’’میرا خیال ہے یہ مام کا ڈیپارٹمنٹ ہے۔‘‘
’’جب انوشہ میم اپنے لیے کسی لڑکے کو پسند کرسکتی ہیں تو آپ کیوں نہیں؟‘‘ کنزہ کی بات میں وزن تھا۔ ’’اب دیکھیے نا انسان کی اپنی بھی کوئی پسند ہوتی ہے۔ کبھی کوئی چہرہ اچھا لگتا ہے۔ کبھی کسی کی کوئی بات، کوئی ادا اچھی لگتی ہے۔‘‘
’’کنزہ۔‘‘ انہوں نے دھیمے لہجے میں اسے مخاطب کیا۔ ’’زندگی کی راہ میں بہت سے ایسے لوگ ملتے ہیں جو آپ کو اچھے لگتے ہیں مگر ہر اچھے لگنے والے فرد سے آپ شادی تو نہیں کرسکتے؟‘‘
’’شادی کے لیے کیا ہونا چاہیے؟ میرا مطلب ہے…‘‘ کنزہ نے پرتجسس لہجے میں سوال کیا۔
’’شادی کے لیے صرف ایک چیز ہونی چاہیے۔‘‘ آذر نے بحث سمیٹتے ہوئے مسکرا کر کہا۔ ’’ماں کا اپروول۔ میرا مطلب ہے ماں کی اجازت ۔ سچ کہوں کہ میں نے آج تک کبھی اس سلسلے میں نہیں سوچا کیونکہ میرا خیال ہے کہ یہ مام کا ڈیپارٹمنٹ ہے۔ بیٹوں کی شادی کا خواب مائوں کی آنکھوں میں پنپتا ہے تو اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا حق بھی ان کو ہی ہونا چاہیے۔ ‘‘
کنزہ نے کوئی جواب نہیں دیا بس آنکھوں میں بے بسی اور حیرانی لیے آذر کو دیکھے گئی۔
٭…٭…٭
آذر جس قدر راست گو، معصوم اور بے ریا انسان تھے، صاعقہ تیمور ان کے بالکل برعکس تھیں۔ انہوں نے پہلے دن ہی کنزہ کے عزائم کا اندازہ کر لیا تھا اور ہر قیمت پر آذر کو کنزہ کے شر سے بچانا چاہتی تھیں۔ اس وقت وہ اپنے بیڈ روم میں بیٹھی اس مسئلے پر غور کر رہی تھیں۔ آج جمعہ تھا اور آج شام کو آذر اور فریحہ کا نکاح تھا جبکہ انہوں نے یہ بات اب تک آذر کو نہیں بتائی تھی۔ انہوں نے وال کلاک کی طرف دیکھا اور موبائل نکال کر سرفراز کا نمبر ملانے لگیں۔
٭…٭…٭
کنزہ آہستگی سے ان کے کمرے میں داخل ہوئی۔ ’’آذر صاحب۔‘‘ اس نے دھیمے سروں میں انہیں پکارا۔ وہ انہیں ہمیشہ ’’سر‘‘ ہی کہتی تھی مگر اس وقت اس کا ’’آذر صاحب ‘‘ کہنا انہیں عجیب سا لگا مگر برا نہیں لگا۔
’’میرا آپ کا نام لینا آپ کو برا تو نہیں لگا۔ ‘‘
اس کے سوال پر وہ بے ساختہ ہنس پڑے۔ ’’نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔‘‘
’’اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ سے ایک سوال کروں۔‘‘
کنزہ کے لہجے کی معنی خیزی پر آذر نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ بولے کچھ نہیں۔
’’سر آپ نے کبھی کسی سے محبت کی ہے؟‘‘ کنزہ نے براہ راست ان کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کیا اور وہ اس غیر متوقع سوال پر سٹپٹا گئے تھے۔
’’اگر آپ مجھ سے یہ سوال کرتے…‘‘کئی لمحوں تک انتظار کرنے کے بعد کنزہ نے دھیمی آواز میں کہنا شروع کیا۔ ’’تو میرا جواب اثبات میں ہوتا۔ آج سے چار ماہ قبل اگر کسی نے مجھ سے یہی سوال کیا ہوتا۔ تو میں حیرت سے الٹا اس سے سوال کرتی کہ، بھلا یہ محبت کس چڑیا کا نام ہے… مگر آج… میں پورے وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ میں محبت کرتی ہوں، شدید اور بے پناہ …اپنے دل کی تمام گہرائیوں اور روح کی تمام تر سچائیوں کے ساتھ… ‘‘آذر حیرت اور دلچسپی سے اس کی جانب دیکھ رہے تھے۔
’’آپ یہ نہیں پوچھیں گے … میں کس سے محبت کرتی ہوں ؟‘‘ آذر منہ سے کچھ نہیں بولے۔ مگر ان کی بڑی اور گہری آنکھوں میں بڑا واضح سوال تھا۔
’’میں آپ کو بتاتی ہوں…‘‘ کنزہ نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ ’’وہ شخص جو مجھے بے حد عزیز ہے وہ…‘‘
کنزہ کا جملہ ابھی پورا بھی نہیں ہوا تھا کہ دھڑ سے دروازہ کھلا اور سرفراز گھبرائے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ ’’میں بلااجازت کمرے میں داخل ہونے پر معافی کا خواستگار ہوں… مگر کیا کروں بات ہی ایسی ہے… آپ کی والدہ…!‘‘
’’والدہ …؟‘‘ آذر نے سوالیہ نظروں سے سرفراز کی طرف دیکھا۔ پھر حیرت سے بولے۔ ’’یو مین مام …؟‘‘
’’جی آپ کی مام…‘‘ سرفراز صاحب کے لہجے میں ملال کے ساتھ وحشت بھی شامل ہو گئی۔ ’’انہیں دل … دل کا دورہ…‘‘ انہوں نے مارے گھبراہٹ کے جملہ ادھورا چھوڑ دیا تھا۔
’’کیا کہہ رہے ہیں آپ؟‘‘ آذر بے تابانہ سرفراز کی طرف بڑھے تھے۔
’’ہاں۔آذر میاں، آپ کو فوراً میرے ساتھ گھر چلنا ہو گا ۔‘‘ انہوں نے آذر کا ہاتھ پکڑا اور تیزی سے دروازے کی طرف بڑھ گئے۔
کنزہ حیرت بھری نظروں سے آذر کی پریشانی اور وحشت دیکھ رہی تھی۔ اسے سرفراز کی اس غیر متوقع آمد اور اس بے جا دخل در معقولات پر غصہ آرہا تھا۔ کس مشکل سے وہ آج آذر کو محبت کے موضوع پر بولنے پر آمادہ کر پائی تھی اور مہینوں بعد پہلی بار اسے یہ موقع ملا تھا کہ وہ اپنا دل کھول کے ان کے سامنے رکھ دے۔ مگر سرفراز رنگ میں بھنگ ڈالنے آگئے تھے۔ اگر وہ دس منٹ اور نہ آتے تو وہ اظہار محبت کر کے ان سے اقرار محبت لینے میں کامیاب ہو سکتی تھی۔ مگر وہ کیسے وقت پر نازل ہو گئے تھے اور خوشگوار کہانی کا رخ اچانک ٹریجڈی کی طرف مڑ گیا تھا۔
ماں کی بیماری کی خبر سنتے ہی آذر بے تابانہ سرفراز کے ساتھ فوراً روانہ ہو گئے تھے۔ اور وہ گہرا سانس لے کر دھپ سے کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔
٭…٭…٭
آذر ، سرفراز کے ساتھ گھر پہنچے توماں کو بے سدھ بستر پہ پڑے پایا۔ ’’مام۔‘‘ وہ دیوانہ وار ماں کی طرف لپکے۔ ڈاکٹر بھی موجود تھا جس نے بتایا کہ مائنر ہارٹ اٹیک تھا۔ مگر اب بے حد احتیاط کی ضرورت ہے۔ انہیں خوش رکھنے کی کوشش کی جائے اور ان کی کسی بات
انکار کر کے انہیں صدمہ نہ پہنچایا جائے ورنہ صورت حال خطر ناک ثابت ہوسکتی ہے۔
’’پلیز ڈاکٹر…‘‘ آذر تڑپ کر بولے۔ ’’پلیز ایسی بات نہ کریں۔‘‘
’’آذر۔‘‘ بیگم تیمور نے ان کا ہاتھ تھام کر انہیںاپنے قریب بٹھا لیا۔ ’’مجھے تمہاری محبت پہ ناز ہے… میری ایک خواہش ہے… میں مرنے سے پہلے تمہارے سر پہ سہرا دیکھنا چاہتی ہوں… پچھلے دنوں ایک تقریب میں مجھے ایک بہت ہی اچھے خاندان کی بے حد پیاری لڑکی نظر آئی تھی۔‘‘ وہ سانس لینے کو رکیں۔ ’’اسے دیکھتے ہی میرے دل نے کہا میں اسے تمہاری دلہن بنائوں گی۔ بس میں نے ان سے رابطہ کیا… اور وہ لوگ راضی ہو گئے۔‘‘ آذر حیران نظروں سے ماں کی طرف دیکھ رہے تھے۔
’’یہ تو خوشی کی خبر ہے۔‘‘ سرفراز درمیان میں مسرور لہجے میں بولے۔ ’’ بیگم صاحبہ آپ کو مبارک ہو۔‘‘
’’شکریہ سرفراز صاحب۔‘‘ وہ پہلی بار مسکرائیں۔ پھر آذر کی طرف متوجہ ہو گئیں۔ ’’میں نے تم سے پوچھے بنا تمہارا رشتہ طے کر دیا، تمہیں برا تو نہیں لگا۔‘‘ آذر کے نفی میں سر ہلانے پر وہ پھر گویا ہوئیں۔ ’’تو بس پھر ٹھیک ہے میں آج ہی اپنے بیٹے کو دولہا بنائوںگی۔ سرفراز صاحب بارات کی تیاری کیجیے۔ ہم آج ہی اپنے بیٹے کا نکاح کریں گے۔‘‘
’’مگر مام…‘‘ آذر اس اچانک افتاد پہ حیران ہونے کے ساتھ پریشان بھی ہو گئے تھے۔ ’’یوں اچانک۔‘‘
’’منع مت کرنا بیٹا۔ ‘‘ بیگم تیمور نے التجا کی ۔ ’’میں لڑکی کے گھر والوں سے بات کر چکی ہوں۔ میری طبیعت کے پیش نظر وہ بھی رضا مند ہوگئے اب تم بھی مان جائو۔ میں تمہیں دولہا بنے دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘
ماننے کے سوا چارہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے سر تسلیم خم کر دیا تھا۔
’’مجھے تم سے یہی امید تھی۔‘‘ بیگم تیمور نے آذر کو تھام کر گلے سے لگالیا۔
’’سرفراز صاحب۔‘‘ پھر وہ سرفراز صاحب سے مخاطب ہوئیں۔ ’’ہمیں شام سات بجے روانہ ہونا ہے۔‘‘ اب ان کی آواز کی نقاہت بالکل غائب ہو چکی تھی۔ ’’آپ آذر کو اپنے ساتھ لے جائیں اور میرے بیٹے کو بہت شان سے دولہا بنائیے۔ شیروانی، کلاہ اور دیگر سامان آذر کے بیڈ روم میں موجود ہے۔‘‘
(جاری ہے)