Aseer Ishq | Episode 12

76
’’جی بہتر۔‘‘ سرفراز ایک دَم اُٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر وہ آذر کی طرف مڑ کر قدرے شوخ لہجے میں گویا ہوئے۔ ’’آیئے دولہا میاں۔‘‘
’’مام یہ سب… اس طرح …اچانک۔‘‘ آذر کشمکش اور مخمصے کا شکار تھے۔
’’اب کچھ نہ سوچو۔‘‘ بیگم تیمور نے پیار بھرے لہجے میں کہا۔ ’’وقت کے اس خوبصورت فیصلے کے لیے خود کو تیار کرو۔‘‘
آذر اور سرفراز کے جانے کے بعد انہوں نے انوشہ کو بلوایا۔ وہ بھی اس فیصلے سے بے خبر تھی۔ جب بیگم تیمور نے ساری بات اسے بتائی تو وہ حیران رہ گئی۔ ’’کیا کہہ رہی ہیں مام، شادی وہ بھی بھیا کی… یوں خامشی سے اس طرح اچانک آئی کانٹ بلیو اِٹ۔‘‘
بیگم تیمور نے اس کا ہاتھ پکڑ کے قریب بٹھا لیا اور دیر تک اپنی طبیعت کے بارے میں بتانے کے بعد بولیں۔ ’’میں اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹے کا گھر بسا ہوا دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘
ماں کی بھرّائی ہوئی آواز نے انوشہ کے دل پر خاصا اَثر کیا۔ ’’وہ تو ٹھیک ہے مام۔‘‘ وہ دھیمے لہجے میں بولی۔ ’’بھیّا کی شادی کے لیے میں نے اتنا کچھ سوچا ہوا تھا مہندی میں اپنی فرینڈز کو بلانا تھا مگر آپ نے تو یہ سب کچھ اچانک اور سادگی سے…‘‘
’’آج صرف نکاح ہے۔‘‘ بیگم تیمور سمجھانے والے انداز میں بولیں۔ ’’دو دن بعد کسی بڑے فائیو اسٹار میں ہم آذر کے ولیمے کی تقریب کریں گے۔ ایسی شاندار پارٹی ہوگی کہ لوگ برسوں یاد کریں گے تم اپنی تمام فرینڈز کو اُسی دن بلا لینا۔‘‘
’’یہ ٹھیک ہے۔‘‘ انوشہ خوش ہوگئی۔ ’’مگر یہ بتایئے ہماری بھابی کیسی ہیں۔‘‘
’’تمہارے دِل و ذہن میں بھابی کا جو بھی تصور ہے۔‘‘ بیگم تیمور پُراعتماد انداز میں مسکرائیں۔ ’’سمجھو فریحہ اُس تصور کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔‘‘
’’ہیں مام۔‘‘ انوشہ کا چہرہ مسرت سے کھل اُٹھا۔ وہ تیار ہونے کے لیے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
٭…٭…٭
فوزیہ بیگم جس بیٹی کی شادی کے لیے کب سے پریشان تھیں۔ آج اُن کی اُس بیٹی کی بارات آنے والی تھی۔ صاعقہ تیمور نے سادگی سے شادی اور رُخصتی کی شرط رکھی تھی مگر اُن کی طرف سے آنے والی بری میں سادگی کا کوئی دخل نہ تھا۔ بیش قیمت عروسی جوڑا، یاقوت کا جڑائو سیٹ، ہیرے کے کنگن، سونے کی درجن بھر چوڑیاں اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔
یہ سب اُنہیں خواب جیسا لگ رہا تھا۔ کبھی انہیں فریحہ کی خوش بختی پر شبہ ہونے لگتا۔ خود صفیہ بھی حیران تھیں۔ نکاح کا جوڑا اور زیور دیکھ کر وہ خاصی اَپ سیٹ اور مغموم ہو گئی تھیں۔
’’کیا ہوا؟ تم اتنی دُکھی کیوں نظر آرہی ہو؟‘‘ صفدر نے پوچھا۔
’’آپ نے فریحہ کے نکاح کا جوڑا اور زیور دیکھے۔‘‘ اُنہوں نے میاں کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اُلٹا انہی سے سوال کر دیا۔ ’’بری جیسی بری ہے… نکاح کا جوڑا بھی کم از کم ایک لاکھ کا ہوگا۔ اور زیور بھی تو دیکھو یاقوت کا یہ بڑا جڑائو سیٹ… بالشت بھر کے جھالے ہیں، سونے کی یہ موٹی موٹی چوڑیاں اور ہیرے کے کنگن۔‘‘ وہ ایک دم سے چپ ہوگئیں۔ ’’اپنی بہو فاریہ کے لیے میں نے جو سیٹ بنا کر رکھا ہے وہ تو اس زیور کے سامنے نظر بھی نہیں آئے گا، اُنگل بھر کے بندے اور ستلی جیسا نیکلس۔‘‘
’’ارے تو یہاں تمہاری بہو کے زیور کا کیا موازنہ ہے۔‘‘ صفدر میاں حیرانی سے بولے۔ ’’گھر میں جتنی بھی بیٹیاں ہوں سب کے نصیب جدا جدا ہوتے ہیں اور عقل مند وہی ہے جو اپنی تقدیر پر شاکر رہے، میں جانتا ہوں فاریہ ایک پڑھی لکھی سمجھ دار لڑکی ہے۔ وہ یہ بات سوچے گی بھی نہیں… جو بات تم کر رہی ہو۔‘‘
’’تو میں فاریہ کی بات کب کر رہی ہوں۔‘‘ صفیہ بیگم چٹخ کر بولیں۔ ’’میں تو اپنی بات کر رہی ہوں۔ کیسی سبکی اور احساس کمتری محسوس ہو رہا ہے۔ کل کو میں اپنے بیٹے کی بری لے کے اُسی گھر میں جائوں گی تو…‘‘
نکاح کی تقریب میں ایک آدھ قریبی رشتے دار کو ہی بلایا گیا تھا۔ باقی گھر کے ہی لوگ تھے، پڑوس سے صرف ڈاکٹر بہروز اور اُن کی فیملی کو مدعو کیا گیا تھا۔ دوپہر ڈھلتے ہی فاریہ نے فریحہ کو نہلا دُھلا کر دُلہن بنانے کا کام شروع کر دیا تھا۔
مہمانوں کے بیٹھنے کے لیے ڈرائنگ روم میں انتظام کیا گیا تھا۔ فوزیہ بیگم کی بڑی خواہش تھی کہ مہمانوں کو رات کا کھانا کھلائیں مگر بیگم تیمور صرف کولڈ ڈرنک پینے پر بہ مشکل آمادہ ہوئی تھیں۔
کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر بہروز اور ربیعہ بیگم آ گئے۔
’’زویا اور شہروز کہاں ہیں۔‘‘ فوزیہ بیگم نے پوچھا۔
’’شہروز کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ ربیعہ نے جواب دیا۔ ’’زویا اُسی کے پاس ہے۔ ہم بھی ذرا جلد جانا چاہ رہے ہیں۔‘‘
ٹھیک سات بجے بیگم صاعقہ تیمور، انوشہ، نورجہاں، خیرالنساء، سرفراز اور آذر کے ساتھ آ موجود ہوئی تھیں۔ فریحہ کو دیکھ کر انوشہ خوش ہو گئی تھی۔ اُس پر ایسا رُوپ چڑھا تھا کہ جو دیکھتا، دیکھتا ہی رہ جاتا تھا۔
مغرب سے پہلے آذر اور فریحہ کے نکاح کی رسم ادا کی گئی۔ پھر ٹھنڈی بوتلوں سے مہمانوں کی تواضع کی گئی اور مغرب کے فوراً بعد رُخصتی کر دی گئی۔
٭…٭…٭
رُخصتی کے بعد ڈاکٹر بہروز اور ربیعہ بھی گھر جانے کے لیے روانہ ہوگئے۔ گیٹ فضیلت بوا نے کھولا تھا۔ وہ دونوں شکستہ قدموں سے چلتے لائونج میں جا بیٹھے۔ فضیلت بوا کے پوچھنے پر ربیعہ نے بتایا۔ ’’دُلہن بن کر فریحہ بے حد پیاری لگ رہی تھی۔ دولہا بھی بہت پیارا ہے۔‘‘
تب ہی اُن کی نظر لائونج کے دروازے سے ٹیک لگائے کھڑے شہروز پر پڑی۔ اس کے چہرے پر حیرت اور بے یقینی تھی۔ اُس نے لرزتی ہوئی آواز میں سوال کیا۔ ’’یہ کس کی شادی کا ذکر ہو رہا ہے؟‘‘
’’فریحہ بٹیا کی شادی کا۔‘‘ فضیلت بوا نے سرسری سے انداز میں بتایا۔ ’’آج ان کا نکاح اور رُخصتی تھی۔ بہروز میاں اور ربیعہ بیگم وہیں سے آ رہے ہیں۔‘‘
’’امی۔‘‘ شہروز حیران و پریشان سا ماں کی طرف پلٹا۔ ’’یہ فضیلت بوا کیا کہہ رہی ہیں؟ یہ غلط ہے نا کہہ دیجیے فریحہ کی شادی نہیں ہوئی… یہ جھوٹ ہے… غلط ہے۔‘‘
ربیعہ نے اثبات میں سر ہلا کر نگاہیں جھکا لی تھیں۔
وہ چند لمحوں تک حیرت و اذیت کی تصویر بنا ماں کا جھکا سر دیکھتا رہا۔ پھر تیزی سے لائونج سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف بھاگا۔
’’شہروز… شہری…‘‘ ربیعہ تیزی سے اس کے پیچھے لپکی تھیں مگر اُن کے پہنچنے سے پہلے ہی شہروز نے کمرے میں داخل ہو کر اندر سے دروازہ بند کر لیا تھا۔
’’شہری، میرے بچے کیا کر رہے ہو؟‘‘ وہ دروازے کو پیٹتے ہوئے بے بسی سے پوچھے جا رہی تھیں۔ ’’شہری سنو بیٹا۔‘‘ مگر شہروز اس وقت سننے اور سمجھنے کی منزل سے بہت آگے نکل چکا تھا۔ اسے خبر تک نہ ہوئی اور اس کی دُنیا لٹ گئی تھی۔ جسے وہ برسوں سے چاہتا چلا آ رہا تھا وہ فریحہ چشم زدن میں کسی اور کی دُلہن بن کر رُخصت ہو چکی تھی۔ اب زندہ رہنے کی آرزو تھی نہ خواہش۔ خواب کرچی کرچی ہو کر پلکوں میں چبھ گئے تھے۔ آنکھیں ہی نہیں دل بھی لہو لہان ہوگیا تھا۔
اُس نے میز کی دراز سے خواب آور گولیوں کی شیشی نکالی۔ میز پر دھرے جگ سے گلاس میں پانی اُنڈیلا۔ پھر شیشی کھول کر تمام گولیاں حلق میں اُلٹ لیں، دو گھونٹ پانی پی کر گولیاں حلق سے اُتاریں اور ڈگمگاتے قدموں سے بیڈ کی طرف بڑھا اور دَھپ سے بستر پر گر گیا۔
٭…٭…٭
مصعب نے جیپ مسجد اور مسجد کے پچھواڑے بنے مولوی کے حجرے سے کافی فاصلے پر روکی تھی اور دلکش کو اکیلے ہی مولوی کے پاس جانے کو کہا تھا۔ مگر اب اسے گئے کافی دیر ہوگئی تھی۔ پھر اُنہوں نے مسجد کے سامنے ایک جیپ رُکتے دیکھی تھی۔ تب ہی اُن کا ماتھا ٹھنکا تھا اور وہ اپنی جیپ اسٹارٹ کر کے حجرے کے سامنے پہنچے تھے۔ اُنہوں نے حجرے میں دیکھنے کی کوشش کی تھی۔ وہاں مکمل سنّاٹا تھا۔دلکش وہاں موجود نہیں تھی۔ اب سوال یہ تھا کہ اس وقت دلکش کہاں ہوگی؟ کیا وڈیرے کے گرگے اسے پکڑ کے لے گئے یا وہ بھاگ کر نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔ ایسی صورت میں وہ کھیتوں کے آس پاس کہیں چھپی ہوگی۔ یہ سوچ کر وہ کھیتوں کے ساتھ ساتھ چلتے دُور پھیلے ٹیلوں کی طرف روانہ ہوگئے۔ اُن کا دل دلکش کے لیے عالم اضطراب میں دھڑک رہا تھا اور وہ اپنے دل کی کیفیت پر حیران تھے۔ اُن کے اس دل نے ایک عرصے سے کسی بھی واقعے کا اثر لینا چھوڑ دیا تھا مگر آج اُن کا دل دلکش کے لیے پریشان ہو رہا تھا۔
دلکش تہہ خانے سے نکل کر پہلے کچے راستے کی طرف چلی تھی۔ پھر اسے اُس راستے پر کسی شخص کی موجودگی کا احساس ہوا تو وہ جلدی سے ایک اُونچے ٹیلے کے پیچھے دُبک کر بیٹھ گئی۔ کچھ دیر بعد اُس نے ٹیلوں کے مخالف سمت چلنے کا فیصلہ کیا۔ کافی دُور چلنے کے بعد وہ کھیتوں کی جانب آ نکلی، تب ہی اس کے کانوں میں جیپ کے انجن کی آواز گونجی تھی۔ وہ فوراً کھیتوں میں جا چھپی۔ وہ جیپ مصعب کی بھی ہو سکتی تھی اور جلیل شاہ کے غنڈوں کی بھی۔ اس لیے اُس نے چھپ کر جیپ کا معائنہ کیا۔
اگلے ہی لمحے اُس کے تنِ ناتواں میں ایک نئی توانائی سمٹ آئی۔ جیپ میں مصعب ہی تھے۔ وہ کھیت سے نکل کر کچے راستے پر دوڑ پڑی۔ اسے دیکھ کر مصعب تیزی سے جیپ دلکش کے قریب لے آئے۔ دلکش اُچھل کر جیپ میں سوار ہوگئی تو مصعب نے ایکسیلیٹر پر دبائو بڑھا دیا۔
نکاح نامہ حاصل نہ کر سکنے کا دلکش کو ملال تھا۔ اب یہ خدشہ بڑھ گیا تھا کہ جلیل شاہ نکاح نامہ وہاں سے غائب کروا دے گا۔ جہاں نکاح نامہ نہ ملنے پر اسے افسوس تھا وہیں عدیل شاہ کے والد عقیل شاہ سے اچانک اور غیرمتوقع ملاقات پر اسے حیرت اور مسرت تھی۔ عقیل شاہ کی یہ طویل اسیری جلیل شاہ کے کالے کرتوتوں کا ثبوت ثابت ہوسکتی تھی۔
جیپ شہر جانے والی پکی سڑک پر تیزی سے رواں دواں تھی۔
٭…٭…٭
جب اُنہوں نے اسے بخیر و عافیت پا لیا تھا تو انہیں اپنے دل و رُوح میں ایک اطمینان کا احساس اُترتا محسوس ہوا تھا۔ وہ اپنے رویوں کی اس تبدیلی پر حیران بھی تھے اور پریشان بھی… اسی پریشانی میں وہ دلکش سے اس کے سفر کے بارے میں کوئی سوال نہ کر سکے۔ خود دلکش بھی بے حد تھکی ہوئی اور دل شکستہ سی بیٹھی تھی، اسی لیے سارا سفر خاموشی سے اُن دونوں نے طے کیا تھا۔
٭…٭…٭
جیپ رُکنے کی آواز سنتے ہی فضلو بابا نے لپک کر گیٹ کھول دیا۔ اُن دونوں کے خاموش اور شکستہ چہرے دیکھتے ہی انہیں اندازہ ہوگیا کہ کامیابی نہیں ہوئی، اس لیے کوئی سوال کیے بنا وہ چائے بنانے کے لیے کچن میں چلے گئے۔ دلکش نے کمرے میں جا کر منہ
ہاتھ دُھویا تو اُسے خاصا سکون ملا۔ تب ہی فضلو بابا نے اسے چائے کے لیے مصعب کے کمرے میں بلا لیا۔ مصعب بھی منہ ہاتھ دھو کر خاصے فریش لگ رہے تھے۔ چائے کے ساتھ سموسے اور کباب بھی تھے۔ مگر دلکش کا کچھ بھی کھانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔
’’یہ کیا بات ہوئی؟‘‘ فضلو بابا مصنوعی غصّے سے آنکھیں نکال کر بولے۔ ’’دن بھرکچھ نہیں کھایا اور اب بھی کچھ کھانے کو دل نہیں چاہ رہا، چلو لو جلدی سے کھا کر بتائو سموسے کیسے بنے ہیں۔ آج برسوں بعد تمہارے لیے ہم نے یہ سموسے بنائے ہیں۔ کوکب بٹیا کو ہمارے ہاتھ کے سموسے بے حد پسند تھے۔ ان کے بعد ہم نے سموسے بنانے ہی چھوڑ دیے تھے۔‘‘
کوکب کے ذکر پر مصعب کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا تھا مگر آج ایسا نہیں ہوا تھا۔ دلکش کا خیال تھا کہ کوکب کی یاد کی وجہ سے مصعب سموسہ نہیں کھائیں گے مگر نا صرف اُنہوں نے سموسہ لیا تھا بلکہ سموسے کی تعریف بھی کی تھی۔ فضلو بابا کے چہرے پر حیرت کے ساتھ مسرت اور اُمید کے رنگ بکھر گئے تھے۔
چائے کے بعد فضلو بابا کے پوچھنے پر دلکش نے سارا واقعہ کہہ سُنایا تھا اور دلکش نے جب عقیل شاہ کے بارے میں بتایا تو وہ دونوں حیرت زدہ رہ گئے تھے۔
’’کیا تم یقین سے کہہ سکتی ہو وہ اسیر شخص عقیل شاہ ہی تھا؟‘‘ مصعب نے جرح والے انداز میں سوال کیا۔
’’جی بالکل۔‘‘ دلکش نے پورے وثوق سے جواب دیا۔ ’’اور یقین مانئے عدیل کی ماں کا قتل بھی جلیل شاہ کے سوچے سمجھے منصوبے کا شاخسانہ ہے۔ بھاوج کو قتل کروا کے بھائی کو نشہ آور چیزیں دے کر نیم پاگل کرکے اُس نے انہیں زنجیروں میں جکڑ کر تہہ خانے میں قید کر رکھا ہے۔‘‘
کتنی ہی دیر وہ تینوں، عقیل شاہ کی حالت اور ان حالات میں کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں بات کرتے رہے تھے۔
’’ان سب باتوں میں اصل بات تو رہ گئی؟‘‘ فضلو بابا کو اچانک یاد آیا۔ ’’پہلے یہ سوچنا ہے کہ نکاح نامہ کیونکر حاصل کیا جائے۔ اس سے پہلے کہ جلیل شاہ کو اس نکاح نامے کی اہمیت کا اندازہ ہو اور وہ اسے ضائع کروا دے ہمیں کسی طرح اُسے حاصل کر لینا چاہیے۔‘‘
’’بات تو آپ کی بالکل صحیح ہے۔‘‘ مصعب نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’مگر سوال یہ ہے کہ کیسے؟‘‘
’’اس کا جواب ہے ہمارے پاس۔‘‘ فضلو بابا معنی خیز انداز میں مسکرائے۔
٭…٭…٭
رات نے اپنے سیاہ آنچل میں ہر شے کو سمیٹ لیا تھا۔ ہوا میں خنکی کا احساس جاگ اُٹھا تھا۔
گائوں کی واحد مسجد کا مولوی خدا بخش آج عشاء کی نماز پڑھاتے ہی اپنے حجرے میں آ کر سو گیا تھا۔ دن کو پیش آنے والے واقعات نے اسے خاصا تھکا دیا تھا۔ دلکش کا نکاح نامے کا مطالبہ، پھر مرید خان اور اس کے ساتھیوں کا اسے پکڑنے کی کوشش کرنا اور لڑکی کا فرار ہونے میں کامیاب ہو جانا۔ اب کل تک اسے جلیل شاہ کے حضور پیش ہونا تھا تاکہ نکاح نامہ وڈیرے کے حوالے کر دے۔ وہ تو جلیل شاہ گائوں میں نہیں تھا ورنہ وہ ابھی جا کر یہ نکاح نامہ اس کے حوالے کر دیتا۔
ہر سمت ایک خاموشی کا عالم تھا کبھی کبھی کسی کتّے کے بھونکنے سے کچھ دیر کو یہ خاموشی ٹوٹتی اور ذرا دیر میں دوبارہ سکوت چھا جاتا۔ تب ہی ایک سایہ دیوار کود کر صحن میں اُترا۔ پھر وہ دبے پائوں کوٹھری میں داخل ہوا اور اُس نے مولوی کے پیچھے دھرے، ٹین کے بکسے پر موجود رجسٹر اور فائلیں کھنگالنا شروع کر دی تھیں۔ ٹارچ کی ہلکی روشنی میں وہ ایک ایک کاغذ غور سے چیک کر رہا تھا۔
اچانک ایک رجسٹر زوردار آواز میں مولوی کے سرہانے آگرا۔
’’کیا ہوا… کیا ہوا؟‘‘ مولوی بدحواسی میں چیختا ہوا اُٹھ بیٹھا۔ ’’کون ہو تم…؟‘‘ اندھیرے کے باوجود مولوی نے چند قدم کے فاصلے پر موجود کھیس میں لپٹے شخص کو دیکھ لیا۔ ’’کون ہو تم… یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘ مولوی نے کراری آواز میں للکارا۔
’’اوئے آرام سے…‘‘ اَجنبی نے دوبارہ ٹارچ جلاتے ہوئے قدرے نیچی آواز میں کہا۔ ’’میں ہوں مرید خان۔‘‘
’’مرید خان؟‘‘ مولوی کے لہجے میں حیرت کے ساتھ وحشت بھی ٹپک رہی تھی۔ ’’تم رات کو اس طرح میرے حجرے میں کیا تلاش کر رہے ہو؟‘‘
’’نکاح نامہ۔‘‘ مرید خان نے اطمینان سے جواب دیا اور دوبارہ رجسٹروں اور فائلوں کی طرف متوجہ ہوگیا۔ کافی دیر تلاش کے باوجود جب اس کے ہاتھ کچھ نہ آیا تو اس کے چہرے پر حیرانی کے ساتھ پریشانی پھیل گئی۔ پھر اُس نے مولوی سے نکاح نامہ تلاش کرنے کے لیے کہا تھا۔ مگر کافی دیر کی تلاش کے باوجود وہ دونوں نکاح نامہ نہ تلاش کر سکے۔
’’اوئے مولوی! یہاں تو سرے سے کوئی نکاح نامہ ہے ہی نہیں۔‘‘ مرید خان نے قدرے متعجب اور غصیلے لہجے میں پوچھا۔
’’میں خود حیران ہوں۔‘‘ مولوی سر کھجاتا ہوا بولا۔ ’’قسم اللہ پاک کی میں نے تو یہیں رکھا تھا۔ اللہ جانے کہاں چلا گیا۔‘‘
٭…٭…٭
ایڈووکیٹ مصعب احمد کو کئی خط روانہ کیے جا چکے تھے مگر اتنے دن گزر جانے کے باوجود ان کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔ کرن کی محبت اور تڑپ دیکھتے ہوئے سجو نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ باپ کی محبت کے لیے ترسی ہوئی اس بچی کو اس کے باپ کی محبت ضرور دلوائے گی، مگر اب کبھی کبھی اس کی ہمت بھی جواب دینے لگتی تھی۔ ایسا بے حس انسان جس نے دس سالوں میں ایک بار بھی اپنی معذور بچی سے ملنے کی کوشش نہیں کی تھی ایسے سنگ دل انسان سے بھلا کیا توقع کی جا سکتی تھی۔ مگر جب وہ کرن کی طرف دیکھتی تو اسے حیرت ہوتی کہ وہ کمزور سی معذور اور معصوم بچی کس طرح، برسوں سے اپنی آنکھوں میں اُمید کے دیے جلائے اپنے باپ کی راہ تک رہی تھی۔ اسے اُمید ہی نہیں یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن اس کے پاپا نہ صرف اس سے ملنے آئیں گے بلکہ اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہاں سے اپنے ساتھ لے جائیں گے۔
بہت سوچ بچار اور تمنّا باجی سے مشورے کے بعد سجیلہ نے کرن کے باپ سے ملنے کا فیصلہ کیا۔
’’تم جب جانا چاہو تمہیں ڈرائیور لے جائے گا۔ وہ ایک بار صولت آپا کو بھی لے جا چکا ہے، وہ اُن کے گھر سے واقف ہے۔‘‘
’’اگر آپ اجازت دیں تو میں آج شام کو ہی چلی جائوں۔‘‘ سجیلہ نے قدرے ہچکچاہٹ بھرے لہجے میں کہا۔
’’ہاں ہاں کیوں نہیں۔‘‘ تمنّا آپا نے جواب دیا۔ پھر چند لمحے رُک کر رَسان بھرے لہجے میں بولیں۔ ’’دیکھو سجو! مصعب احمد ایک انتہائی جذباتی بحران کا شکار ہے۔ وہ آج تک اُس گرداب سے نہیں نکل سکا۔ تنہائی اور دُنیا سے لاتعلقی نے اس کے اندر ایک اکھڑ پن اور بیزاری پیدا کر دی ہے۔ اس لیے تم اُس سے زیادہ اُمید نہ رکھنا۔‘‘
’’جی مگر وہ… کرن۔‘‘ سجو نے کچھ کہنا چاہا۔
’’کرن کو تو کبھی اس نے اولاد ہی تسلیم نہیں کیا۔ وہ اسے اپنی چہیتی بیوی کا قاتل سمجھتا ہے۔ تم ہرگز یہ اُمید نہ رکھنا کہ ایک ملاقات میں ہی تم اس کے پتھر دل پر جونک لگانے میں کامیاب ہو جائو گی۔‘‘
سجو اپنے کمرے میں آ کر مصعب کے بارے میں سوچتی رہی۔ جب سے اُس نے اس کی تصویر دیکھی تھی تب سے اسے مسلسل اس کا خیال گھیرے ہوئے تھا۔ ایک انوکھا سا احساس، ایک انجانا اَن دیکھا جذبہ اس کے دل کے نہاں خانوں میں کہیں موجود تھا جسے وہ اب تک سمجھ نہیں پائی تھی۔ کوئی نام نہ دے پائی تھی۔ ایک خلش اب خواہش بنتی جا رہی تھی۔
وہ مصعب سے صرف کرن کے لیے نہیں ملنا چاہتی تھی۔ اُس سے ملنے کی خواہش کے پیچھے خود اس کا تجسس، اس کا شوق بھی شامل تھا۔ وہ اُس شخص سے ملنا چاہتی تھی جو محبت اور نفرت کی انتہائی حدوں کو چھوتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ بیوی سے اس قدر محبت کہ اس کی موت کے بعد وہ خود جیتے جی دُنیا سے کنارہ کش ہو کر مُردوں کی سی زندگی بتانے لگا تھا۔ اور نفرت کا یہ عالم تھا کہ دس سال سے اپنی اکلوتی اولاد کی شکل تک نہیں دیکھی تھی۔ وہ اسے اپنی چہیتی بیوی کی قاتل محسوس ہوتی تھی۔
یہ وقت بھی کیسے کیسے ستم ڈھاتا ہے؟ جب یہ بچی دُنیا میں آنے والی ہوگی تب مصعب نے اپنی محبوب بیوی کے ساتھ آنے والے بچے کے لیے کیسے کیسے خواب دیکھے ہوں گے مگر وقت کی ایک کروٹ نے سارے خواب چکنا چور کر دیے۔ کرن کی ماں کوکب نے جیتے جی کب سوچا ہوگا کہ جس اولاد کی خاطر وہ جان کی بازی لگا رہی ہے وہ بچی ایک اپاہج خانے میں بے آسرا بچوں کے ساتھ زندگی گزارے گی۔
خود اس کے ساتھ بھی تو یہی ہوا تھا۔ کچھ دن قبل اُس نے کب سوچا تھا کہ سانپ کے کاٹنے سے باپ چل بسے گا۔ ماں اور بہن یوں اچانک اُس سے بچھڑ جائیں گی اور وہ بھری دُنیا میں تنہا رہ جائے گی۔ اور پھر اپنا گھر بار، گائوں، بستی چھوڑ کر ایک خیراتی ادارے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائے گی۔ اس محرومی، بے بسی و مایوسی کے عالم میں اس کے دل کے تاریک گوشے میں مصعب ایک اُمید کی کرن بن کر چمکا تھا۔ وہ اس روشنی کو کوئی نام دیے بغیر اپنے دل میں چھپا کر رکھنا چاہتی تھی۔
٭…٭…٭
دلکش نے اپنی چادر دھو کر الگنی پر پھیلا دی تھی۔ وہ ایک ہی جوڑا کتنے دن سے پہن رہی تھی۔ فضلو بابا نے کئی بار کہا بھی کہ وہ اس کے گھر جا کر اس کے کپڑے لے آتے ہیں مگر مصعب نے انہیں سختی سے منع کر دیا تھا کیونکہ قرین قیاس یہی تھا کہ اُدھر دلکش کے گھر پر جلیل شاہ نے کسی کو نگرانی کے لیے چھوڑ رکھا ہوگا اس طرح وہ پیچھا کرتا ہوا یہاں تک آ پہنچے گا۔
یہ بات دُرست تھی مگر سوال یہ تھا کہ ایک جوڑے میں دلکش کب تک گزارہ کر سکتی تھی۔ مصعب برآمدے میں کھڑے اُن دونوں کی بات سن رہے تھے۔ وہ دھیمے لہجے میں بولے۔ ’’آپ دلکش کو آج ہی مارکیٹ لے جا کر کپڑے وغیرہ دلوا دیں۔‘‘
’’ہاں بات تو آپ نے ٹھیک کی ہے۔‘‘ فضلو بابا کھل اُٹھے۔ ’’یہ خیال ہمارے ذہن میں آیا ہی نہیں تھا۔‘‘
مگر دلکش کچھ خریدنے کے حق میں نہیں تھی مگر مصعب کے کہنے اور فضلو بابا کے بے حد اصرار پر وہ اُن کے ساتھ بازار جانے پر آمادہ ہوگئی۔
جیپ کی طرف بڑھتے ہوئے اچانک اس کی نظر لیٹر بکس سے جھانکتے لفافے پر پڑی۔
’’فضلو بابا… یہ لیٹر؟‘‘ اُس نے لیٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’لیٹر؟‘‘ فضلو بابا نے ہاتھ بڑھا کر لفافہ نکالا اور ایک نگاہ ڈال کر دوبارہ وہیں رکھ دیا۔ ’’یہ کرن بٹیا کے ادارے سے آیا ہے۔ وہی لکھا ہوگا جو ہر بار لکھا ہوتا ہے۔ کرن اپنے والد کو بہت یاد کرتی ہے انہیں اپنی بیٹی سے ملنا چاہیے۔‘‘
’’کتنی عجیب بات ہے۔‘‘ دلکش نے لفافے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’مصعب صاحب پر ان خطوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔‘‘
ہاتھ دُھویا تو اُسے خاصا سکون ملا۔ تب ہی فضلو بابا نے اسے چائے کے لیے مصعب کے کمرے میں بلا لیا۔ مصعب بھی منہ ہاتھ دھو کر خاصے فریش لگ رہے تھے۔ چائے کے ساتھ سموسے اور کباب بھی تھے۔ مگر دلکش کا کچھ بھی کھانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔
’’یہ کیا بات ہوئی؟‘‘ فضلو بابا مصنوعی غصّے سے آنکھیں نکال کر بولے۔ ’’دن بھرکچھ نہیں کھایا اور اب بھی کچھ کھانے کو دل نہیں چاہ رہا، چلو لو جلدی سے کھا کر بتائو سموسے کیسے بنے ہیں۔ آج برسوں بعد تمہارے لیے ہم نے یہ سموسے بنائے ہیں۔ کوکب بٹیا کو ہمارے ہاتھ کے سموسے بے حد پسند تھے۔ ان کے بعد ہم نے سموسے بنانے ہی چھوڑ دیے تھے۔‘‘
کوکب کے ذکر پر مصعب کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا تھا مگر آج ایسا نہیں ہوا تھا۔ دلکش کا خیال تھا کہ کوکب کی یاد کی وجہ سے مصعب سموسہ نہیں کھائیں گے مگر نا صرف اُنہوں نے سموسہ لیا تھا بلکہ سموسے کی تعریف بھی کی تھی۔ فضلو بابا کے چہرے پر حیرت کے ساتھ مسرت اور اُمید کے رنگ بکھر گئے تھے۔
چائے کے بعد فضلو بابا کے پوچھنے پر دلکش نے سارا واقعہ کہہ سُنایا تھا اور دلکش نے جب عقیل شاہ کے بارے میں بتایا تو وہ دونوں حیرت زدہ رہ گئے تھے۔
’’کیا تم یقین سے کہہ سکتی ہو وہ اسیر شخص عقیل شاہ ہی تھا؟‘‘ مصعب نے جرح والے انداز میں سوال کیا۔
’’جی بالکل۔‘‘ دلکش نے پورے وثوق سے جواب دیا۔ ’’اور یقین مانئے عدیل کی ماں کا قتل بھی جلیل شاہ کے سوچے سمجھے منصوبے کا شاخسانہ ہے۔ بھاوج کو قتل کروا کے بھائی کو نشہ آور چیزیں دے کر نیم پاگل کرکے اُس نے انہیں زنجیروں میں جکڑ کر تہہ خانے میں قید کر رکھا ہے۔‘‘
کتنی ہی دیر وہ تینوں، عقیل شاہ کی حالت اور ان حالات میں کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں بات کرتے رہے تھے۔
’’ان سب باتوں میں اصل بات تو رہ گئی؟‘‘ فضلو بابا کو اچانک یاد آیا۔ ’’پہلے یہ سوچنا ہے کہ نکاح نامہ کیونکر حاصل کیا جائے۔ اس سے پہلے کہ جلیل شاہ کو اس نکاح نامے کی اہمیت کا اندازہ ہو اور وہ اسے ضائع کروا دے ہمیں کسی طرح اُسے حاصل کر لینا چاہیے۔‘‘
’’بات تو آپ کی بالکل صحیح ہے۔‘‘ مصعب نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’مگر سوال یہ ہے کہ کیسے؟‘‘
’’اس کا جواب ہے ہمارے پاس۔‘‘ فضلو بابا معنی خیز انداز میں مسکرائے۔
٭…٭…٭
رات نے اپنے سیاہ آنچل میں ہر شے کو سمیٹ لیا تھا۔ ہوا میں خنکی کا احساس جاگ اُٹھا تھا۔
گائوں کی واحد مسجد کا مولوی خدا بخش آج عشاء کی نماز پڑھاتے ہی اپنے حجرے میں آ کر سو گیا تھا۔ دن کو پیش آنے والے واقعات نے اسے خاصا تھکا دیا تھا۔ دلکش کا نکاح نامے کا مطالبہ، پھر مرید خان اور اس کے ساتھیوں کا اسے پکڑنے کی کوشش کرنا اور لڑکی کا فرار ہونے میں کامیاب ہو جانا۔ اب کل تک اسے جلیل شاہ کے حضور پیش ہونا تھا تاکہ نکاح نامہ وڈیرے کے حوالے کر دے۔ وہ تو جلیل شاہ گائوں میں نہیں تھا ورنہ وہ ابھی جا کر یہ نکاح نامہ اس کے حوالے کر دیتا۔
ہر سمت ایک خاموشی کا عالم تھا کبھی کبھی کسی کتّے کے بھونکنے سے کچھ دیر کو یہ خاموشی ٹوٹتی اور ذرا دیر میں دوبارہ سکوت چھا جاتا۔ تب ہی ایک سایہ دیوار کود کر صحن میں اُترا۔ پھر وہ دبے پائوں کوٹھری میں داخل ہوا اور اُس نے مولوی کے پیچھے دھرے، ٹین کے بکسے پر موجود رجسٹر اور فائلیں کھنگالنا شروع کر دی تھیں۔ ٹارچ کی ہلکی روشنی میں وہ ایک ایک کاغذ غور سے چیک کر رہا تھا۔
اچانک ایک رجسٹر زوردار آواز میں مولوی کے سرہانے آگرا۔
’’کیا ہوا… کیا ہوا؟‘‘ مولوی بدحواسی میں چیختا ہوا اُٹھ بیٹھا۔ ’’کون ہو تم…؟‘‘ اندھیرے کے باوجود مولوی نے چند قدم کے فاصلے پر موجود کھیس میں لپٹے شخص کو دیکھ لیا۔ ’’کون ہو تم… یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘ مولوی نے کراری آواز میں للکارا۔
’’اوئے آرام سے…‘‘ اَجنبی نے دوبارہ ٹارچ جلاتے ہوئے قدرے نیچی آواز میں کہا۔ ’’میں ہوں مرید خان۔‘‘
’’مرید خان؟‘‘ مولوی کے لہجے میں حیرت کے ساتھ وحشت بھی ٹپک رہی تھی۔ ’’تم رات کو اس طرح میرے حجرے میں کیا تلاش کر رہے ہو؟‘‘
’’نکاح نامہ۔‘‘ مرید خان نے اطمینان سے جواب دیا اور دوبارہ رجسٹروں اور فائلوں کی طرف متوجہ ہوگیا۔ کافی دیر تلاش کے باوجود جب اس کے ہاتھ کچھ نہ آیا تو اس کے چہرے پر حیرانی کے ساتھ پریشانی پھیل گئی۔ پھر اُس نے مولوی سے نکاح نامہ تلاش کرنے کے لیے کہا تھا۔ مگر کافی دیر کی تلاش کے باوجود وہ دونوں نکاح نامہ نہ تلاش کر سکے۔
’’اوئے مولوی! یہاں تو سرے سے کوئی نکاح نامہ ہے ہی نہیں۔‘‘ مرید خان نے قدرے متعجب اور غصیلے لہجے میں پوچھا۔
’’میں خود حیران ہوں۔‘‘ مولوی سر کھجاتا ہوا بولا۔ ’’قسم اللہ پاک کی میں نے تو یہیں رکھا تھا۔ اللہ جانے کہاں چلا گیا۔‘‘
٭…٭…٭
ایڈووکیٹ مصعب احمد کو کئی خط روانہ کیے جا چکے تھے مگر اتنے دن گزر جانے کے باوجود ان کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔ کرن کی محبت اور تڑپ دیکھتے ہوئے سجو نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ باپ کی محبت کے لیے ترسی ہوئی اس بچی کو اس کے باپ کی محبت ضرور دلوائے گی، مگر اب کبھی کبھی اس کی ہمت بھی جواب دینے لگتی تھی۔ ایسا بے حس انسان جس نے دس سالوں میں ایک بار بھی اپنی معذور بچی سے ملنے کی کوشش نہیں کی تھی ایسے سنگ دل انسان سے بھلا کیا توقع کی جا سکتی تھی۔ مگر جب وہ کرن کی طرف دیکھتی تو اسے حیرت ہوتی کہ وہ کمزور سی معذور اور معصوم بچی کس طرح، برسوں سے اپنی آنکھوں میں اُمید کے دیے جلائے اپنے باپ کی راہ تک رہی تھی۔ اسے اُمید ہی نہیں یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن اس کے پاپا نہ صرف اس سے ملنے آئیں گے بلکہ اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہاں سے اپنے ساتھ لے جائیں گے۔
بہت سوچ بچار اور تمنّا باجی سے مشورے کے بعد سجیلہ نے کرن کے باپ سے ملنے کا فیصلہ کیا۔
’’تم جب جانا چاہو تمہیں ڈرائیور لے جائے گا۔ وہ ایک بار صولت آپا کو بھی لے جا چکا ہے، وہ اُن کے گھر سے واقف ہے۔‘‘
’’اگر آپ اجازت دیں تو میں آج شام کو ہی چلی جائوں۔‘‘ سجیلہ نے قدرے ہچکچاہٹ بھرے لہجے میں کہا۔
’’ہاں ہاں کیوں نہیں۔‘‘ تمنّا آپا نے جواب دیا۔ پھر چند لمحے رُک کر رَسان بھرے لہجے میں بولیں۔ ’’دیکھو سجو! مصعب احمد ایک انتہائی جذباتی بحران کا شکار ہے۔ وہ آج تک اُس گرداب سے نہیں نکل سکا۔ تنہائی اور دُنیا سے لاتعلقی نے اس کے اندر ایک اکھڑ پن اور بیزاری پیدا کر دی ہے۔ اس لیے تم اُس سے زیادہ اُمید نہ رکھنا۔‘‘
’’جی مگر وہ… کرن۔‘‘ سجو نے کچھ کہنا چاہا۔
’’کرن کو تو کبھی اس نے اولاد ہی تسلیم نہیں کیا۔ وہ اسے اپنی چہیتی بیوی کا قاتل سمجھتا ہے۔ تم ہرگز یہ اُمید نہ رکھنا کہ ایک ملاقات میں ہی تم اس کے پتھر دل پر جونک لگانے میں کامیاب ہو جائو گی۔‘‘
سجو اپنے کمرے میں آ کر مصعب کے بارے میں سوچتی رہی۔ جب سے اُس نے اس کی تصویر دیکھی تھی تب سے اسے مسلسل اس کا خیال گھیرے ہوئے تھا۔ ایک انوکھا سا احساس، ایک انجانا اَن دیکھا جذبہ اس کے دل کے نہاں خانوں میں کہیں موجود تھا جسے وہ اب تک سمجھ نہیں پائی تھی۔ کوئی نام نہ دے پائی تھی۔ ایک خلش اب خواہش بنتی جا رہی تھی۔
وہ مصعب سے صرف کرن کے لیے نہیں ملنا چاہتی تھی۔ اُس سے ملنے کی خواہش کے پیچھے خود اس کا تجسس، اس کا شوق بھی شامل تھا۔ وہ اُس شخص سے ملنا چاہتی تھی جو محبت اور نفرت کی انتہائی حدوں کو چھوتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ بیوی سے اس قدر محبت کہ اس کی موت کے بعد وہ خود جیتے جی دُنیا سے کنارہ کش ہو کر مُردوں کی سی زندگی بتانے لگا تھا۔ اور نفرت کا یہ عالم تھا کہ دس سال سے اپنی اکلوتی اولاد کی شکل تک نہیں دیکھی تھی۔ وہ اسے اپنی چہیتی بیوی کی قاتل محسوس ہوتی تھی۔
یہ وقت بھی کیسے کیسے ستم ڈھاتا ہے؟ جب یہ بچی دُنیا میں آنے والی ہوگی تب مصعب نے اپنی محبوب بیوی کے ساتھ آنے والے بچے کے لیے کیسے کیسے خواب دیکھے ہوں گے مگر وقت کی ایک کروٹ نے سارے خواب چکنا چور کر دیے۔ کرن کی ماں کوکب نے جیتے جی کب سوچا ہوگا کہ جس اولاد کی خاطر وہ جان کی بازی لگا رہی ہے وہ بچی ایک اپاہج خانے میں بے آسرا بچوں کے ساتھ زندگی گزارے گی۔
خود اس کے ساتھ بھی تو یہی ہوا تھا۔ کچھ دن قبل اُس نے کب سوچا تھا کہ سانپ کے کاٹنے سے باپ چل بسے گا۔ ماں اور بہن یوں اچانک اُس سے بچھڑ جائیں گی اور وہ بھری دُنیا میں تنہا رہ جائے گی۔ اور پھر اپنا گھر بار، گائوں، بستی چھوڑ کر ایک خیراتی ادارے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائے گی۔ اس محرومی، بے بسی و مایوسی کے عالم میں اس کے دل کے تاریک گوشے میں مصعب ایک اُمید کی کرن بن کر چمکا تھا۔ وہ اس روشنی کو کوئی نام دیے بغیر اپنے دل میں چھپا کر رکھنا چاہتی تھی۔
٭…٭…٭
دلکش نے اپنی چادر دھو کر الگنی پر پھیلا دی تھی۔ وہ ایک ہی جوڑا کتنے دن سے پہن رہی تھی۔ فضلو بابا نے کئی بار کہا بھی کہ وہ اس کے گھر جا کر اس کے کپڑے لے آتے ہیں مگر مصعب نے انہیں سختی سے منع کر دیا تھا کیونکہ قرین قیاس یہی تھا کہ اُدھر دلکش کے گھر پر جلیل شاہ نے کسی کو نگرانی کے لیے چھوڑ رکھا ہوگا اس طرح وہ پیچھا کرتا ہوا یہاں تک آ پہنچے گا۔
یہ بات دُرست تھی مگر سوال یہ تھا کہ ایک جوڑے میں دلکش کب تک گزارہ کر سکتی تھی۔ مصعب برآمدے میں کھڑے اُن دونوں کی بات سن رہے تھے۔ وہ دھیمے لہجے میں بولے۔ ’’آپ دلکش کو آج ہی مارکیٹ لے جا کر کپڑے وغیرہ دلوا دیں۔‘‘
’’ہاں بات تو آپ نے ٹھیک کی ہے۔‘‘ فضلو بابا کھل اُٹھے۔ ’’یہ خیال ہمارے ذہن میں آیا ہی نہیں تھا۔‘‘
مگر دلکش کچھ خریدنے کے حق میں نہیں تھی مگر مصعب کے کہنے اور فضلو بابا کے بے حد اصرار پر وہ اُن کے ساتھ بازار جانے پر آمادہ ہوگئی۔
جیپ کی طرف بڑھتے ہوئے اچانک اس کی نظر لیٹر بکس سے جھانکتے لفافے پر پڑی۔
’’فضلو بابا… یہ لیٹر؟‘‘ اُس نے لیٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’لیٹر؟‘‘ فضلو بابا نے ہاتھ بڑھا کر لفافہ نکالا اور ایک نگاہ ڈال کر دوبارہ وہیں رکھ دیا۔ ’’یہ کرن بٹیا کے ادارے سے آیا ہے۔ وہی لکھا ہوگا جو ہر بار لکھا ہوتا ہے۔ کرن اپنے والد کو بہت یاد کرتی ہے انہیں اپنی بیٹی سے ملنا چاہیے۔‘‘
’’کتنی عجیب بات ہے۔‘‘ دلکش نے لفافے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’مصعب صاحب پر ان خطوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔‘‘
دیکھتے ہوئے وہ مزید بولا۔‘‘ آفس میں سب کو ہی اس نکاح کی خبر ہے اور کلیم تو نکاح کے گواہوں میں شامل تھا۔ آپ خود کلیم کو فون کر کے پوچھ لیں۔‘‘
کنزہ نے فوراً ہی فیصلہ کرلیا کہ وہ کلیم سے فون کر کے اس جان لیوا خبر کی تصدیق کرے گی اور جب کلیم نے تصدیق کر دی تو وہ کسی کٹے ہوئے شہتیر کی طرح کرسی پر گر پڑی تھی۔ محبت اور جنگ کے اس محاذ پر وہ ہار گئی تھی۔ اس کی مہینوں کی محنت لمحوں میں ضائع ہو گئی تھی۔ یہ سچ تھا وہ دولت کی طمع میں یہاں آئی تھی، مگر یہاں آ کر وہ آذر کی چاہت میں گرفتار ہوگئی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ صاعقہ تیمور اس کی محبت کی کامیابی کی راہ میں رُکاوٹ ڈالے گی مگر اُس نے یہ کب سوچا تھا کہ وہ اس کی محبت کی دُنیا پر یوں شب خون مارے گی اور ایک ہی وار میں اُس سے ہمیشہ کے لیے آذر کو چھین لے گی۔
کنزہ کچھ حاصل کرنے سے پہلے ہی اپنا سب کچھ گنوا بیٹھی تھی۔ اس کے دل و دماغ میں آندھیاں سی چل رہی تھیں۔ اس کے رَگ و پے میں سنسناہٹ بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ کسی بھی طرح اپنی اس ہار کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔ غفار اس کی متغیر کیفیت دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔ اس کے چہرے پر بے بسی، محرومی، شکستگی کے سائے تھے جبکہ اس کی آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی۔
’’آپ ٹھیک تو ہیں میڈم؟‘‘ غفار نے پُرتشویش لہجے میں سوال کیا۔
’’تم جانتے ہو غفار؟‘‘ کنزہ نے شکستہ لہجے میں غفار کو مخاطب کیا۔ ’’میں یہاں جاب کرنے آئی تھی مگر میں یہاں محبت کر بیٹھی … تمہارے باس سے۔‘‘ لگ رہا تھا جیسے کنزہ ہوش میں نہیں رہی تھی۔ ’’تمہارے آذر صاحب سے مجھے محبت ہوگئی۔ شدید اور بے پناہ محبت… وہ میرے دل میں ہی نہیں میری رُوح میں سما گئے۔‘‘
غفار پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ غفار ہی نہیں آفس کے سب لوگ جانتے تھے کہ کنزہ آذر کی طرف راغب و ملتفت ہے اور عام طور پر باس اور سیکرٹری کے باہمی تعلقات کو کچھ ایسا معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا مگر کون سوچ سکتا تھا کہ کنزہ جیسی ماڈرن اور فیشن ایبل لڑکی اپنی محبت کے سلسلے میں اس قدر سنجیدہ بھی ہو سکتی ہے؟
’’آذر نے اپنا گھر بسا کر میری دُنیا اُجاڑ دی ہے۔‘‘ کنزہ نے گھٹے گھٹے لہجے میں کہا۔ ’’میں آذر کو کھو کر زندہ نہیں رہ سکتی۔ غفار تم سن رہے ہو نا؟ تم گواہ رہنا غفار کہ میں آذر کے لیے اپنی محبت کے لیے جان دے رہی ہوں۔‘‘
غفار کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ وہ متوحش سا کنزہ کی بدلتی حالت کو دیکھ رہا تھا۔ وہ چند لمحوں تک سوچتی نظروں سے غفار کی طرف دیکھتی رہی۔ پھر اُس نے ٹیبل سے پیپر نائف اُٹھا لیا تھا۔
غفار حیران نظروں سے اس کی طرف تکے جا رہا تھا۔ کنزہ نے اپنی بائیں کلائی اُوپر کی اور دائیں ہاتھ سے چاقو کی کند دھار پوری قوت سے بائیں کلائی میں پیوست کر دی۔ اس کی کلائی کی نس سمیت دُور تک گوشت چر گیا اور خون کا ایک فوارہ سا پھوٹا۔
’’میڈم۔‘‘ غفار چیختا ہوا اس کی طرف بڑھا۔ ’’یہ کیا کیا آپ نے؟‘‘
’’تم آذر کو بتانا غفار! میں اس کی خاطر جان دے رہی ہوں۔‘‘ کنزہ دھپ سے کرسی پر بیٹھ گئی اس کا ہاتھ پھسل کر نیچے لٹک گیا اور کٹی ہوئی نس سے تیزی سے خون بہہ کر فرش کو خون رنگ کرنے لگا۔ اُس نے اپنا سر میز پر رکھ دیا اور آنکھیں بند کرلیں۔ ’’میں مر رہی ہوں… میں … مر رہی… ہوں۔‘‘ اس کی دھیمی آواز ڈُوبتی چلی گئی۔
غفار تیزی سے فون کی طرف لپکا۔
٭…٭…٭
بیگم تیمور اپنی نئی نویلی بہو فریحہ کو رُخصت کروا کر اپنی شاندار کوٹھی کی طرف روانہ ہو چکی تھیں۔ اُنہوں نے کن انکھیوں سے آذر کی طرف دیکھا۔ اُن کے دلکش چہرے پر اب تک حیرانی اور بے یقینی کے آثار تھے۔ آذر ایک محنتی اور باعمل انسان تھے۔ کاروبار کی ترقی اور وسعت ہی اُن کی پہلی ترجیح تھی۔ اس کے بعد ماں اور بہن کی خوشی اُن کے لیے اہم تھی۔ ماں اور بہن کی محبت سے آگے کسی اور محبت کے بارے میں اُنہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا اور اپنی شادی کا تو انہیں کبھی بھولے سے بھی خیال نہیں آیا تھا۔ آج کل وہ انوشہ کی شادی کے خواب بُن رہے تھے۔ اپنی شادی کا تمام تر اختیار وہ ماں کو سونپ کر مطمئن و بے نیاز ہو بیٹھے تھے۔ محبت جیسے موضوع پر سوچنے کے لیے اُن کے پاس وقت ہی کہاں تھا۔ البتہ کنزہ کی کچھ کہتی کچھ بولتی آنکھوں نے اکثر انہیں چوکنے پر مجبور کیا تھا مگر اس سے قبل کہ وہ اس کی آنکھوں کا مفہوم سمجھ سکتے اُن کی چہیتی ماں نے اُن کی سوچوں پر پہرے بٹھا دیے تھے۔ اُن کے اُڑنے سے قبل ہی انہیں ازدواجی رشتے کی زنجیر میں جکڑ دیا تھا۔ اُنہوں نے بھی ماں کی خوشی کے سامنے سر جھکا دیا تھا اور ایک اَجنبی اور اَنجانی لڑکی کو شریک حیات بنا کر گھر لے آئے تھے۔
تین کاروں پر مشتمل یہ مختصر سی بارات ’’تیمور ولا‘‘ کے سامنے آٹھہری تھی۔ سب سے آگے آذر کی کار تھی۔ وہ جونہی دروازہ کھول کے باہر نکلے اچانک اُن کا موبائل چیخ اُٹھا۔ ’’ہاں بولو غفار؟‘‘
بیگم تیمور نے غفار کے نام پر چونک کر آذر کی طرف دیکھا۔ دُوسرے دروازے سے نور جہاں نے سہارا دے کے دُلہن کو باہر اُتارا۔ ساتھ ہی انوشہ بھی باہر آگئی اب وہ دونوں فریحہ کو تھامے اندر کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ بیگم تیمور بظاہر اُن تینوں کے پیچھے چلتی لائونج کی طرف جا رہی تھیں مگر اُن کے کان آذر کی طرف لگے ہوئے تھے۔
’’کیا کہہ رہے ہو غفار؟‘‘ آذر کی حیران سی آواز گونجی۔ ’’اوہ… او مائی گاڈ۔‘‘ ایک دَم ہی اُن کے لہجے سے گھبراہٹ اور وحشت جھانکنے لگی۔ ’’یہ سب کیسے ہوا؟ اچھا ٹھیک ہے۔‘‘ چند لمحوں تک دُوسری طرف کی بات سننے کے بعد وہ بے تابی سے بولے۔ ’’اوکے… اوکے… تم خود کوسنبھالو… میں دس منٹ میں پہنچ رہا ہوں۔‘‘
اگلے ہی لمحے وہ اپنی گاڑی کی جانب تیزی سے لپکے۔ ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہی اُنہوں نے کار اسٹارٹ کر دی۔
نورجہاں اور انوشہ دُلہن کو لیے سیڑھیاں چڑھتی دُلہن کے حجلۂ عروسی کی طرف بڑھ گئی تھیں۔ یہ آذر کا بیڈروم تھا جسے گلاب کے تازہ پھولوں کی معطر لڑیوں سے آراستہ کیا گیا تھا۔ نورجہاں اور انوشہ نے فریحہ کو بے حد پیار سے آرام دہ اور کشادہ بیڈ پر بٹھا دیا تھا۔
آذر کا یوں بوکھلائے ہوئے انداز میں کسی کو کچھ بتائے بنا، عجلت سے گھر سے روانہ ہونا بے حد معنی رکھتا تھا۔ بیگم تیمور کے چہرے پر تفکر کی لکیریں کھنچ گئی تھیں۔ چند لمحوں پہلے تک چہرے پر بکھرا اطمینان اور فتح کا احساس اب فکرمندی اور تشویش میں تبدیل ہو چکا تھا۔
اُنہوں نے اپنا موبائل نکالا اور آذر کے آفس کا نمبر ملانے لگیں۔ آذر کے کمرے کی گھنٹی بجتی رہی۔ کئی لمحوں تک انتظار کرنے کے بعد وہ فون بند کرنے ہی والی تھیں کہ غفار کی گھبرائی ہوئی آواز سُنائی دی اور اُن کے پوچھنے پر غفار نے سارا واقعہ من و عن کہہ سنایا۔
’’اوہ! تو اُس نے یہ ڈرامہ کیا ہے؟‘‘ صاعقہ تیمور کی رُوح تک سلگ کر رہ گئی تھی۔
آج رات کے کھانے پر نورجہاں نے خاص اہتمام کیا تھا۔ مگر غفار سے بات کرنے کے بعد بیگم تیمور کی تو بھوک ہی اُڑ گئی تھی۔ البتہ دُلہن اور انوشہ کے لیے نورجہاں کھانے کی ٹرے سجا کر اُوپر بیڈ روم میں پہنچا آئی تھی۔ فریحہ کو بھی کہاں بھوک تھی، پر انوشہ نے بے حد پیار اور اصرار سے اُسے کھانا کھلایا تھا۔ کھانے کے بعد اس کا میک اَپ دُرست کر کے چھوٹا سا گھونگھٹ نکال وہ واپسی کے لیے پلٹ گئی تھی۔
’’بھابی وش یو گڈلک۔‘‘ چلتے چلتے رُک کر اُس نے فریحہ کے گھونگھٹ میں جھانک کر کہا۔ ’’میرے بھیّا لاکھوں میں ایک ہیں۔ آپ کو ضرور پسند آئیں گے اور جہاں تک آپ کا تعلق ہے آپ تو اتنی پیاری ہیں کہ بھیّا آپ کو دیکھتے ہی عاشق ہو جائیں گے۔‘‘
فریحہ نے شرما کر جھکا سر کچھ اور جھکا لیا تھا اور اس کے لبوں پر شرمیلی سی مسکان پھیل گئی تھی۔
انوشہ کے جانے کے بعد فریحہ نے ذرا سی گردن سیدھی کر کے اپنے اطراف پر نگاہ ڈالی۔ یہ ایک کشادہ اور شاندار بیڈ روم تھا۔ کمرے کی پوری فضا گلاب کی مسحورکن خوشبو میں ڈُوبی ہوئی تھی۔ سب کچھ خواب سا لگ رہا تھا۔ کمرے کا سرسری سا جائزہ لینے کے بعد اُس نے آنکھیں موند لی تھیں۔ بند پلکوں کے اُس پار اس کی شرمگیں آنکھوں میں اُس انجانے اَن دیکھے شخص کا انتظار تھا جو یک جنبشِ قلم اور یک جنبشِ زبان اس کے جسم کا ہی نہیں بلکہ اس کی رُوح کا بھی بلا شرکت غیرے مالک بن گیا تھا۔
وقت اپنی مخصوص رفتار میں آگے بڑھتا رہا۔ جانے کتنا وقت گزر چکا تھا۔ سر جھکائے جھکائے فریحہ کی گردن دُکھنے لگی تھی… تب ہی بیگم تیمور کمرے میں داخل ہوئی تھیں اور اُنہوں نے بتایا تھا کہ آذر کے آفس میں ایک ایمرجنسی ہوگئی ہے اسی لیے اُنہیں فوری طور پر آفس جانا پڑا۔ کوئی ورکر حادثے کا شکار ہوگیا ہے اسے اسپتال لے جانے میں ممکن ہے کچھ وقت لگ جائے۔ پھر وہ فریحہ کے سامنے ذرا سا جھک کر بولیں۔ ’’کوئی اتنی اہم بات نہیں ہے تم پریشان مت ہونا بس وہ آتے ہی ہوں گے۔ اُن کے آتے ہی میں انہیں تمہارے پاس بھیج دوں گی۔‘‘ وہ ممتا بھرے انداز میں مسکرائیں۔ ’’چاہو تو لباس چینج کر لو۔ اس بھاری جوڑے اور زیور میں تو تم خاصی اَن ایزی فیل کر رہی ہوگی ہے نا۔ میں نور جہاں کو بھیجتی ہوں۔‘‘ بیگم تیمور نے چلتے چلتے کہا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئیں۔
٭…٭…٭
فضلو بابا جیپ ڈرائیو کرتے ہوئے مین روڈ پر لے آئے۔ دلکش آج پہلی بار کرن سے ملنے جا رہی تھی، اس لیے وہ اس کے لیے کوئی تحفہ خرید کے لے جانا چاہتی تھی۔ چنانچہ اس کے کہنے پر فضلو بابا نے کھلونوں کی ایک بڑی دکان کے سامنے جیپ روک دی اور وہ تیزی سے دکان میں داخل ہوگئی۔ کچھ دیر بعد وہ دکان سے نکلی تو اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت سا ڈبا تھا۔ اس کے جیپ میں بیٹھتے ہی خاصی تیز رفتاری سے جیپ ڈرائیو کرتے وہ بیگم آغا کے رفاہی ادارے کے سامنے آ ٹھہرے تھے۔
پھر وہ دلکش کو لیے بیگم آغا کے آفس کی طرف بڑھ گئے۔ بیگم آغا نے خنداں پیشانی اور گرم جوشی سے اُن کا استقبال کیا۔
’’ارے فضلو بابا۔ آیئے… آیئے۔‘‘
فضلو بابا نے دلکش کا تعارف کروایا۔ ’’میں انہیں آپ اور کرن بٹیا سے ملوانے لایا تھا۔‘‘
’’اوہ اچھا۔‘‘ بیگم آغا نے پُرشوق نظروں سے دلکش کی طرف دیکھا۔ ’’پھر بھی کبھی آیئے گا۔ سجیلہ بھی آپ سے مل کر خوش ہوگی۔‘‘
’’سجیلہ؟‘‘ دلکش نے چونک کر بیگم
کی طرف دیکھا۔ یہ نام سنتے ہی دل میں کیسی کسک جاگی تھی کہ آپ ہی آپ نگاہوں میں سجو کا معصوم چہرہ گھوم گیا۔ ’’یہ سجیلہ کون ہیں؟‘‘ وہ بے ساختہ سوال کر بیٹھی تھی۔
’’میری چھوٹی بہن سمجھیے۔‘‘ مسز آغا محبت بھرے لہجے میں بولیں۔ ’’اسی ادارے میں ہمارے ساتھ کام کرتی ہیں۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ دلکش نے گہرا سانس لیا۔
یہ اس کی بہن سجیلہ کس طرح ہو سکتی تھی۔ کہاں وہ گائوں کی سیدھی سادی لڑکی کہاں اس بڑے ادارے کی فعال ورکر سجیلہ، اس کا دل بجھ سا گیا۔ ’’کہاں ہیں مس سجیلہ؟‘‘
’’سجیلہ ایک بہت ذمّے دار اور محبت کرنے والی ورکر ہے۔ خاص طور پر کرن سے تو وہ خصوصی محبت رکھتی ہے۔‘‘ مسز آغا نے دھیمے لہجے میں بتایا۔ ’’آج وہ کرن کے سلسلے میں ہی اس کے والد مصعب صاحب سے ملنے اُن کے گھر گئی ہے۔‘‘
’’یعنی ہم یہاں آئے اور وہ وہاں ہمارے گھر گئی ہیں۔‘‘ فضلو بابا حیرانی سے ہنس کر بولے۔
تب ہی رضیہ کرن کو لیے کمرے میں داخل ہوئی۔ (جاری ہے)