Aseer Ishq | Episode 17

99
’’نہیں… وہ…!‘‘ برہان کو عدیل سے اس سوال کی توقع نہیں تھی اس لیے بری طرح کنفیوژ ہوگیا۔
’’اچھا آئو… اندر تو آئو… باہر کیوں کھڑے ہو؟‘‘ عدیل نے راستہ دیتے ہوئے کہا اور وہ دونوں بے تابانہ کمرے میں داخل ہوئے۔ ان کی تیز نگاہیں کمرے میں گردش کررہی تھیں۔ کمرے کا طائرانہ جائزہ لینے کے بعد انہیں مایوسی ہوئی۔ ’’چلو پھر ٹھیک ہے، ہم نیچے چلتے ہیں۔‘‘ چند لمحوں بعد ہی برہان نے کہا۔ اب وہ جلدازجلد اس کمرے سے باہر نکل کر دلکش کو ڈھونڈنا چاہتا تھا۔
ان دونوں کے جانے کے بعد عدیل نے الماری کے دروازے پر ہلکی سی دستک دے کر اسے باہر نکلنے کا اذن دیا اور وہ ماتھے سے پسینہ پونچھتی باہر نکل آئی۔
عدیل اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے جلدی سے بولے۔ ’’پلیز بتائیے یہ سب کیا ہے؟ آپ مجھ سے ملنا کیوں چاہ رہی تھیں اور آپ ہیں کون…؟‘‘ دلکش کا جسم چادر میں چھپا ہوا تھا صرف آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔
’’میں دلکش ہوں…‘‘ دلکش نے دھیمی آواز میں کہا۔
’’کون دلکش؟‘‘ انہوں نے الجھے ہوئے لہجے میں پوچھا۔ تب دلکش نے چہرے سے چادر ہٹا دی۔ عدیل نے اس کی طرف چونک کر دیکھا اور پھر دیکھتے ہی رہ گئے۔ اس چہرے کو آج سے قبل انہوں نے صرف دو بار دیکھا تھا۔ جلیل شاہ نے اس کے بارے میں جو کہانی سنائی تھی، اس پر یقین کرنے کے بعد انہوں نے بارہا اس چہرے سے نفرت کرنے کی کوشش کی تھی مگر اپنی اس کوشش میں وہ ہمیشہ ناکام رہے تھے۔ جلیل شاہ کی ہر بات پر یقین کرنے کے باوجود ان کا دل اس لڑکی کو فریب کار اور جرائم پیشہ ماننے کو تیار نہ تھا۔
دلکش نگاہیں جھکائے شکستہ سی کھڑی تھی۔ ’’میں دلکش زوار حسین ہوں اور اس شام آپ سے نکاح کے بعد اب دلکش عدیل شاہ ہوں۔‘‘
’’مگر اس شام… اس رات کو…؟‘‘ دلکش کے بیوی ہونے کے پُر یقین دعوے کو سن کر عدیل گڑبڑا گئے تھے۔ اور انہیں اس شام پیش آنے والے سارے واقعات یاد آگئے۔
’’مجھے نہیں معلوم جلیل شاہ نے آپ کو کیا بتایا ہے۔‘‘ دلکش نے ان کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی انہیں روک دیا۔ ’’لیکن میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں، اس نے آپ کو ایک جھوٹی اور من گھڑت کہانی سنائی ہے۔‘‘
’’تو سچ کیا ہے؟‘‘
عدیل کے سوال پر دلکش نے کرب بھرے لہجے میں جواب دیا۔ ’’سچ اتنا بھیانک ہے کہ شاید آپ سن نہ سکیں، اگر سن لیں تو یقین نہ کریں، مگر میں آپ کو سب بتانا چاہتی ہوں۔ بس ایک گزارش ہے کہ آپ خاموشی سے میری پوری بات سن لیجیے۔ اس کے بعد آپ کا جو دل چاہے، کہیے گا۔‘‘ پھر دلکش نے دھیمی آواز میں اپنی اندوہناک کہانی سنانی شروع کی۔ عدیل آنکھوں میں حیرت اور بے یقینی لیے اس کی بات سن رہے تھے۔ ساری بات سن لینے کے بعد بھی ان کی بے یقینی قائم رہی۔ اس کہانی کو وہ بھلا کس طرح سچ مان سکتے تھے۔ ہوش سنبھالنے کے بعد جلیل شاہ نے انہیں جس توجہ اور محبت سے نوازا تھا، جس طرح ان کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ان کے والدین کی چھوڑی ہوئی دولت و جائداد کا خیال رکھا تھا… ان اقدام نے جلیل شاہ کو ان کی نگاہ میں محترم بنا دیا تھا مگر یہ لڑکی جو ان کی منکوحہ ہونے کی داعی تھی، اس بت کو چکناچُور کرنے کے درپے تھی۔ اس کی کہانی کو سچ ماننے کے لیے ان کا دل آمادہ نہیں تھا اور یہ بات تو انہیں بالکل ہضم نہیں ہوئی تھی کہ ان کے والد عقیل شاہ کہیں گم نہیں ہوئے بلکہ جلیل شاہ نے انہیں کھنڈرات میں قید کرکے رکھا ہوا ہے اور انہیں دوائیں دے کے مسلسل نیم غنودگی اور پاگل پن کی کیفیت میں رکھا جاتا ہے۔
اپنے والد کے بارے میں خبر سن کر ان کے رگ و پے میں ایک اضطراب جاگ اٹھا تھا۔ ’’تم جو کہہ رہی ہو، ثابت کرسکتی ہو؟‘‘ انہوں نے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیر کر پوچھا۔

’’جی! میں آپ کو ان کھنڈرات میں لے جاسکتی ہوں۔ ایک بات ثابت ہوجائے گی تو دوسری باتیں خودبخود صاف ہوجائیں گی۔‘‘ عدیل کو بے یقین انداز میں دیکھ کر دلکش نے ملتجی لہجے میں مزید کہا۔ ’’یقین کریں میں نے جو کچھ بتایا ہے وہ سب صحیح ہے۔ جلیل شاہ ایک بدنیت، بدفطرت اور کمینہ انسان ہے جس کے نزدیک رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘‘
’’چپ ہوجائو۔‘‘ عدیل شاہ سر تھام کر کسی کٹے ہوئے شہتیر کی طرح صوفے پر ڈھیر ہوگئے۔ ’’چلی جائو… خدا کے لیے چلی جائو یہاں سے۔ ایسا نہ ہو، میں کچھ غلط کر بیٹھوں۔‘‘ وہ کرب بھرے انداز میں کہہ رہے تھے۔
دلکش نے اپنے بیگ سے کاغذ نکال کر قلم سے اس پر کچھ لکھا۔ پھر وہ کاغذ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی۔ ’’یہ مصعب صاحب کے گھر کا نمبر ہے۔ آپ جب اپنے والد سے ملنا چاہیں، اس نمبر پر مجھ سے رابطہ کرلیجیے گا۔‘‘
کاغذ ان کے ہاتھ میں تھما کر وہ دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ وہ جانتی تھی برہان اور اس کے گُرگے اس کے لیے گھات لگائے بیٹھے ہوں گے۔ چنانچہ اس نے باہر نکلنے کے لیے کچن کی راہداری کا انتخاب کیا۔ وہ ہوٹل کے عقب سے ہوتی پچھلے گیٹ سے روڈ پر نکل آئی، پھر جلد ہی اس کو رکشہ مل گیا تھا۔
دلکش کے جانے کے بعد عدیل نے آنکھیں کھول کر نمبر کی طرف دیکھا تھا۔ ’’سب جھوٹ ہے، بالکل جھوٹ۔‘‘ انہوں نے کاغذ کا پرزہ دور پھینک دیا تھا۔
٭…٭…٭
بیگم تیمور نے حارب کو ذلیل کرکے گھر سے نکال دیا تھا مگر وہ مایوس نہیں ہوا تھا۔ اس کے پاس ابھی ترپ کے کئی پتے موجود تھے۔ اور اسے یقین تھا کہ آج نہیں تو کل بیگم تیمور کو اسے داماد کے روپ میں قبول کرنا ہی ہوگا۔ اسی لیے انوشہ کے پوچھنے پر امید بھرے لہجے میں کہا تھا۔ ’’مجھے یقین ہے وہ جلد ہی یہ بات تسلیم کرلیں گی کہ ان کی چہیتی بیٹی کو مجھ سے زیادہ چاہنے والا شوہر مل ہی نہیں سکتا۔‘‘
اور وہ اس کی بات سن کر مطمئن ہوگئی تھی۔
اس صبح ناشتے کی ٹیبل پر گھر کے سب افراد موجود تھے۔ مگر فریحہ اب تک اپنے کمرے میں تھی۔ کئی دنوں سے اس کی طبیعت گری گری سی تھی۔ بیگم صاعقہ تیمور نے نور جہاں کو مخاطب کرکے فریحہ کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ دلہن بیگم کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔
تب ہی فریحہ ڈائننگ روم میں داخل ہوئی۔ اس کی زرد رنگت اور اترے چہرے نے سب کو متوجہ کرلیا۔ اتنے میں خالہ خیرن لائونج میں داخل ہوئی تھیں۔ بیگم تیمور نے آج انہیں انوشہ کے لیے کوئی اچھا رشتہ ڈھونڈنے کے لیے بلوایا تھا۔
خالہ خیرن بھی فریحہ کا بجھا چہرہ دیکھ کر قدرے حیران ہوئیں۔ چند لمحے اس کا چہرہ دیکھتی رہیں۔ پھر مسکرا کر بولیں۔ ’’فکر کی کوئی بات نہیں بلکہ خوشی کی بات ہے… آپ دادی بننے والی ہیں۔‘‘
آذر نے بے ساختہ چونک کر فریحہ کی طرف دیکھا اور بیگم تیمور کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
آذر کے والد تیمور احمد کی وصیت کے مطابق آذر کا پہلا بچہ ہوتے ہی تمام جائداد اور کاروبار آذر کے نام منتقل ہوجاتا۔ ان کا بس چلتا تو وہ ساری زندگی آذر کی شادی ہی نہ کرتیں۔ کنزہ کے درمیان میں آجانے کے باعث وہ آذر کی شادی کرنے پر مجبور ہوگئی تھیں۔
اب صاعقہ تیمور آنے والے حالات پر غور کررہی تھیں اور ایسے میں انہیں سلطان کی سخت یاد آرہی تھی۔ اس کی خدمات اور وفاداریاں گو کہ بہت زیادہ تھیں مگر اب ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ اپنی اکلوتی بیٹی کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیتیں مگر اب انہیں لگ رہا تھا کہ حارب سلطان سے سمجھوتہ کرنا ہی پڑے گا۔ سو بہت غور و خوض کے بعد انہوں نے اپنا موبائل اٹھایا اور حارب سلطان کا نمبر ملانے لگیں۔
دوسری طرف سے سلطان کی مستعد اور مودبانہ آواز سنائی دی۔ ’’جی بیگم صاحبہ!‘‘
’’سلطان! میں تمہیں ایک کام سونپ رہی ہوں، اس کا ہونا بے حد ضروری ہے۔‘‘
’’میری بھی ایک شرط ہے۔‘‘ حارب سلطان نے دھیمے مگر مضبوط لہجے میں کہا۔ ’’آپ کو میرے سوال پر غور کرنا ہوگا۔‘‘
’’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔‘‘ بیگم تیمور نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا۔ ’’میں سوچوں گی مگر پہلے تمہیں میرا کام کرنا ہوگا۔‘‘
’’آپ کام بتایئے۔‘‘ حارب سلطان مضبوط لہجے میں بولا۔
’’اچھا! میری بات غور سے سنو۔‘‘ بیگم تیمور کی آواز دھیمی ہوتی سرگوشی میں ڈھل گئی۔ ساری بات سن کر حارب ایک لمحے کو حیران رہ گیا مگر پھر بھی اس نے اگلے دن یہ کام کرنے کا وعدہ کرلیا۔
آذر نے جب سے یہ خبر سنی تھی کہ وہ باپ بننے والے ہیں تو ایک عجب سی خوشی انہیں اپنے رگ و پے میں سرسراتی محسوس ہورہی تھی۔
بیگم تیمور نے فون کرکے گائناکالوجسٹ سے فریحہ کے لیے ٹائم لے لیا تھا اور کل صبح دس بجے فریحہ کو اپنے ساتھ لے کر ڈاکٹر کے پاس جانے والی تھیں۔ وہ رات ان پر بہت بھاری تھی۔ دولت کی خاطر انہوں نے کیا کچھ نہیں کیا تھا مگر تیمور احمد مرتے وقت یہ ساری دولت اپنے اکلوتے بیٹے آذر کے نام لکھ گئے تھے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ بہت پہلے آذر سے بھی جان چھڑا لیتیں یا آذر کی ماں طاہرہ تیمور کی طرح اسے بھی کسی طرح نظروں سے دور کردیتیں۔ مگر تیمور احمد کی وصیت نے انہیں یہ سب کرنے سے باز رکھا تھا… اس بے تحاشا دولت کی خاطر ہی انہوں نے آذر کے والد سیٹھ تیمور احمد کی پہلی بیوی طاہرہ کو راستے سے ہٹایا تھا۔ گو کہ وہ ابھی حیات تھی مگر منظر سے غائب تھی۔ پھر خود بیگم تیمور بن کر ہر چیز کی مالک بن بیٹھی تھیں، مگر مالک بن کر بھی وہ ہر چیز کی محض نگراں تھیں۔ مگر اب جبکہ آذر بچے کے باپ بن جاتے تو ان کی یہ نگراں والی حیثیت بھی ختم ہوجاتی… سب کچھ آذر کے نام ہوجاتا اور ان کی اس طویل تگ و دو کے صلے میں ان کے ہاتھ کچھ نہ آتا۔ یہ انہیں منظور نہ تھا۔ اسی لیے انہوں نے سوچا کہ جس شاخ پر پھول کھلنے والا ہے، وہ شاخ ہی کاٹ دی جائے۔
سو اگلے دن فریحہ ڈرائیور کے ساتھ اسپتال کے لیے روانہ ہوئی۔ ابھی وہ زیادہ دور نہ گئی تھی کہ ایک سیاہ گاڑی دائیں جانب سے اچانک سامنے آگئی۔ ڈرائیور نے سائیڈ لینے کی کوشش کی مگر آنے والی گاڑی کسی آندھی طوفان کی طرح فریحہ کی کار سے ٹکرائی۔ ٹکر سے فریحہ کسی گیند کی طرح سیٹ سے اچھلی اور ایک چیخ کے ساتھ بے ہوش ہوگئی۔
’’بیگم صاحبہ! آپ کا کام ہوگیا… آپ فوراً بہروز اسپتال پہنچیں۔‘‘ سلطان کے فون پر وہ چونک کر سیدھی ہوئی تھیں۔ ان کا ڈرائیور اکبر، فریحہ کو لے کر چیک اَپ کے لیے اسپتال روانہ ہوا تھا۔ وہ بے چینی سے سلطان کے فون کا انتظار کررہی تھیں۔
٭…٭…٭
’’ڈاکٹر تارہ زخمی خاتون کو آپریشن تھیٹر میں پہنچا دیا ہے۔‘‘ نرس کی آواز پر ڈاکٹر تارہ حسن نے
نگاہ اٹھا کر اس کی جانب دیکھا تھا۔ ’’بہت زیادہ چوٹیں نہیں آئی ہیں مگر کیونکہ وہ حاملہ تھی، اس لیے آپریشن کرنا پڑے گا۔‘‘ نرس نے مزید بتایا۔
’’اوہ…! تو اس کا مطلب ہے کہ بچہ ضائع ہوگیا۔‘‘ ڈاکٹر تارہ افسوس بھرے انداز میں اپنی جگہ سے اٹھی۔ ’’تم چلو، میں آرہی ہوں۔‘‘ تارہ نے چند چیزیں جلدی جلدی دراز میں رکھیں اور نرس کے جاتے ہی خود بھی دروازے کی طرف بڑھی۔
تب ہی دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا اور ایک شخص اندر داخل ہوا۔ اس کے پیچھے ایک باوقار متکبر سی خاتون بھی تھی۔
’’مجھے سلطان کہتے ہیں۔‘‘ اس شخص نے اپنا تعارف کرایا۔ ’’اور یہ بیگم تیمور ہیں۔ ہم اس زخمی خاتون کے سلسلے میں آپ سے تعاون چاہتے ہیں۔ پہلے یہ بتائیں اس کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘
’’میں نے اسے ابھی دیکھا نہیں۔‘‘ تارہ نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔ ’’مگر وہ خطرے سے باہر ہے۔ بس مس کیریج ہوا ہے۔‘‘
’’یہی تو ہم چاہتے تھے۔‘‘ سلطان سفاکی سے بولا۔ ’’جو ہم چاہتے تھے، وہ تو ہوگیا۔ اب آپ کو ایک چھوٹا سا کام کرنا ہوگا تاکہ وہ آئندہ کبھی ماں نہ بن سکے۔‘‘
’’واٹ۔‘‘ تارہ نے حیرت بھرے لہجے میں کہا۔ ’’اس عمر میں ایسا آپریشن خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ میں یہ نہیں کروں گی۔‘‘
تارہ کے انکار پر سلطان نے پستول نکال لیا تھا۔ وہ پستول دیکھ کر خوف زدہ ہوگئی۔ سلطان اسے پستول کی زد میں آپریشن تھیٹر تک لایا۔
’’آپ کو باہر ہی رکنا ہوگا۔‘‘ تارہ نے خشک لہجے میں کہا۔ ’’آپ نے جو کہا ہے، ہوجائے گا۔‘‘
وہ جونہی آپریشن ٹیبل کے قریب آئی تو فریحہ کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئی۔ اسے تو بتایا گیا تھا فریحہ اپنے گھر میں بہت خوش ہے۔ اس کا میاں جان چھڑکتا ہے۔ ساس واری صدقے جاتی ہے… مگر یہاں تو کہانی ہی کچھ اور تھی۔ اس کی ساس اور اس کا کرائے کا غنڈہ، فریحہ کو ہمیشہ کے لیے بانجھ کرنے کے درپے تھے۔
پہلے اس نے سوچا کہ انتظامیہ کو بلائے یا پولیس کو فون کرے مگر سلطان کے ہاتھ میں موجود پستول نے اسے ہر بات سے باز رکھا۔
آپریشن کے بعد بیگم تیمور، فریحہ کو ڈسچارج کروا کر لے گئی۔ اس بات کو بھی دو روز گزر چکے تھے اور ڈاکٹر تارہ حسن اب تک شش و پنج کا شکار تھی۔ کئی بار اس نے سوچا اس بارے میں کسی کو بتائے، کم ازکم شہروز سے ہی ذکر کرے۔ مگر اس کے دل نے اسے سمجھایا کہ تارہ! کس مشکل اور جتن سے شہری، فریحہ کو بھول پایا ہے اور تم ہو کہ پھر اسے اس کی یاد دلانے چلی ہو۔ سو اس نے دل پر پتھر رکھ کر فیصلہ کرلیا کہ اس واقعے کے بارے میں وہ کسی کو کبھی کچھ نہیں بتائے گی۔ فریحہ کے لیے جو وہ کرسکتی تھی، اس نے کردیا تھا۔ بس اتنا ہی کافی تھا۔
٭…٭…٭
اگلے دن صبح بیگم تمنا آغا کے رفاہی ادارے میں جانے سے قبل دلکش نے فون کرلینا مناسب سمجھا۔ وہ جلد از جلد سجیلہ سے ملنے کے لیے بے تاب تھی۔ ادھر خود سجیلہ بھی دلکش کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ میری بہن کا نام بھی تو دلکش ہی تھا۔
’’ارے بٹیا! تم یہاں بیٹھی ہو، ادھر مصعب صاحب، فضلو بابا اور ان کی بہن آئے بیٹھے ہیں۔‘‘ رضیہ نے اطلاع دی۔
سجو کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر آفس کی طرف چل دی۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی سجیلہ کی نگاہ سب سے پہلے دلکش پر پڑی تھی۔ دلکش بھی منتظر نگاہوں سے دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ان دونوں کی نگاہیں ملیں تو ان کی آنکھیں حیرت اور بے یقینی سے پھیلتی چلی گئیں۔
’’سجو… میری بہن۔‘‘ دلکش اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کی طرف لپکی۔ ’’میری بہن، میری جان! تم کہاں کھو گئی تھیں۔‘‘ اس نے سجو کو اپنے بازوئوں میں بھر لیا۔
’’باجی… میری باجی! تم زندہ ہو… میرا دل کہتا تھا تم مر نہیں سکتیں۔ نانی اور ماں کی طرح تم مجھے چھوڑ کے نہیں جاسکتیں۔‘‘ سجیلہ نے زار و قطار روتے ہوئے کہا اور سجو کی ہچکیوں میں دلکش کی سسکیاں بھی شامل ہوگئی تھیں۔ دلکش نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ سجو اسے یوں بھی مل سکتی ہے؟ اب وہ مل گئی تھی تو وہ اسے اور کرن کو گھڑی کی چوتھائی میں گھر لے جانا چاہتی تھی۔ ہر پل، ہر لمحہ اسے اپنے سینے سے لگا کر رکھنا چاہتی تھی۔
٭…٭…٭
رنگ و روغن کے بعد گھر دمک اٹھا تھا۔ مصعب کے بیڈ روم کو جدید طرز کے بیڈ روم سیٹ نے، چار چاند لگا دیے تھے۔ دلکش اپنی ہر پریشانی بھول کر سجو کی خوشی میں لگ گئی تھی۔ عدیل نے اس ملاقات کا کیا اثر لیا، کیا فیصلہ کیا، اسے کچھ پتا نہیں تھا۔ وہ انہیں گھر کا نمبر دے آئی تھی مگر کتنے ہی دن بیت گئے تھے۔ انہوں نے پلٹ کر خبر تک نہیں لی تھی۔ یہ سب الجھنیں اور پریشانیاں اپنی جگہ تھیں مگر تقدیر نے اسے اس کی بچھڑی بہن سے ملا دیا تھا۔ اب وہ مصعب کی شریک حیات بن کر اس گھر میں آنے والی تھی۔ وہ جانتی تھی مصعب، سجیلہ کے لیے بہت اچھے جیون ساتھی ثابت ہوں گے۔ اس خوشی میں وہ اپنا غم بھلا بیٹھی تھی اور رات، دن شادی کی تیاریوں میں مصروف تھی۔
بالآخر وہ مبارک گھڑی آگئی۔ مصعب، سجیلہ کو دلہن بنا کر اپنے گھر، اپنی دنیا میں لے آئے۔ کرن دلہن بنی سجیلہ کے پہلو میں بیٹھی اسے پرشوق نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
’’کرن…!‘‘ دلکش نے پیار بھرے لہجے میں کرن کو مخاطب کیا۔ ’’آئو میرے ساتھ، میں تمہیں تمہارا گھر دکھاتی ہوں اور تمہارا کمرہ بھی…‘‘
’’چلیے۔‘‘ کرن پرشوق انداز میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ ’’پاپا! آپ یہاں بیٹھ کر امی سے باتیں کیجیے، میں پھوپھی کے ساتھ اپنا کمرہ دیکھنے جارہی ہوں۔‘‘ اس نے دروازے میں ایستادہ مصعب کو مخاطب کرکے کہا اور دلکش کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گئی۔
کرن اور دلکش کے جانے کے بعد مصعب نے سجیلہ کی طرف دیکھ کر کہا۔ ’’کرن بہت خوش ہے۔‘‘
’’اور آپ…؟‘‘ سجیلہ نے شرمیلے لہجے میں پوچھا۔
’’مجھے مسرت بھی ہے اور حیرت بھی۔‘‘ مصعب مسکراتے ہوئے بولے۔ ’’سچ پوچھو تو میں نے کبھی زندگی کے اس رخ کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا لیکن اب…!‘‘ وہ کہتے کہتے رک گئے۔
’’اب کیا…؟‘‘ چند لمحوں کے انتظار کے بعد سجیلہ نے بے تاب لہجے میں پوچھا۔
’’اب۔‘‘ مصعب نے شوخ نظروں سے سجیلہ کی طرف دیکھا۔ ’’بتاتا ہوں۔‘‘ پھر وہ آہستگی سے دروازے کی طرف بڑھ گئے۔ اگلے ہی لمحے وہ دروازہ بند کرکے سجیلہ کے قریب آگئے تھے۔
٭…٭…٭
کوئی بھی شریف اور خاندانی مرد گھر میں ایک وفادار اور محبت کرنے والی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی دوسری عورت کے عشق میں زیادہ دیر تک مبتلا نہیں رہ سکتا۔ کنزہ اس حقیقت سے اچھی طرح واقف تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ پوری طرح آذر کو اپنی طرف راغب کرنے میں بری طرح ناکام رہی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے میاں، بیوی کا رشتہ اپنی تمام تر توانائیوں اور سچائیوں کے ساتھ آذر پر مسلط ہوتا جارہا تھا اور غیر محسوس طور پر وہ بیوی کی چاہتوں کی ان دیکھی زنجیروں میں پوری طرح جکڑ گئے تھے۔
فریحہ کے ایکسیڈنٹ کی خبر سن کر آذر جس دیوانہ وار انداز میں سارے کام چھوڑ کر اسپتال کی طرف روانہ ہوئے تھے، کنزہ وہ سب دیکھ کر حیران رہ گئی تھی۔
اسقاط کا انہیں صدمہ ہوا تھا مگر فریحہ کے صحیح سلامت بچ جانے پر انہیں یک گونہ خوشی تھی۔ فریحہ انہیں دیکھ کر بے اختیار رو دی تھی۔ جس بچے کی خبر سن کر وہ کل بے حد خوش تھے، آج وہ تہی دامن لوٹ آئی تھی۔ گو کہ ابھی وہ اس خبر سے بے خبر تھی کہ اب وہ کبھی ماں نہیں بن سکتی جبکہ یہ خبر درست نہیں تھی کیونکہ ڈاکٹر تارہ حسن نے صاعقہ تیمور اور سلطان کے حکم کی تعمیل نہیں کی تھی مگر انہیں یہی بتایا تھا کہ آپ کے حکم کے مطابق کام ہوگیا ہے۔ بیگم تیمور بے حد خوش اور مطمئن تھیں۔ انہوں نے جائداد کے وارث کی راہ ہمیشہ کے لیے مسدود کردی تھی۔ اب جو کچھ بھی تھا، ان کا اور ان کی چہیتی بیٹی کا تھا۔
بیگم تیمور کو تو قرار مل گیا تھا مگر کنزہ حق کو کسی طور قرار نہیں تھا۔ دن بہ دن اس پر قنوطیت طاری ہوتی جارہی تھی۔ وہ ہر بار محبت پانے میں ناکام رہی تھی۔ کل حارب اسے چھوڑ گیا تھا اور آج آذر واپسی کے سفر پر تھے۔ فریحہ کے ایکسیڈنٹ کے بعد کتنے ہی دن بیت گئے تھے وہ آفس نہیں آئے تھے۔ ظاہر ہے بیوی کی تیمار داری میں لگے تھے۔ کنزہ ٹھنڈی سانس لے کر اپنے کیبن میں آبیٹھی تھی۔ تب ہی غفور نے حارب کی آمد کی خبر دی تھی۔
حارب اور کنزہ کو باہم بچھڑے کئی برس بیت چکے تھے۔ حارب کی دل کی دنیا میں داخل ہونے والی کنزہ پہلی لڑکی تھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ انہیں کسی دولت کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ دونوں کسی چھوٹے سے گھر میں خوش رہ سکتے تھے مگر اپنی ماں صابرہ کے انکار کے سامنے حارب نے ہار مان لی تھی۔ اور کنزہ کو چھوڑ دیا تھا اور وہ اس کی بے وفائی کا داغ لے کر شہر بھی چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ اور اس کے جانے کے بعد اسے احساس ہوا تھا کہ اس نے کیا کھو دیا ہے۔ وہ ماں پر بہت بگڑا اور ماں کو چھوڑ کر اس بڑے شہر میں چلا آیا تھا۔ یہاں اس کی ملاقات صاعقہ تیمور سے ہوئی۔ اس کا باپ احمد سلطان بھی بیگم تیمور کا خدمت گار رہ چکا تھا۔ بیگم صاعقہ تیمور نے اسے کام کی آفر کی مگر یہ کام ایسے نہیں تھے جنہیں وہ آسانی سے قبول کرلیتا۔ مگر پھر ایک شام اس نے صاعقہ تیمور کے ساتھ اس کی اکلوتی بیٹی انوشہ کو دیکھا تو اسے دیکھتے ہی اسے ماں کے خواب کا خیال آیا اور یوں وہ انوشہ کی طرف راغب ہوگیا اور اس نے بیگم تیمور کی آفر بھی قبول کرلی۔ جلد ہی انوشہ اس کی محبت میں ڈوب گئی۔ تب اس نے رشتے کی بات کی اور بیگم تیمور کی طرف سے تحقیر آمیز انکار کے بعد اب اس میں ایک غصہ اور ضد پیدا ہوگئی تھی۔ وہ صاعقہ تیمور کے ماضی کو کھنگالتا پھر رہا تھا اور جب اس پر اس عورت کی حقیقت آشکار ہوئی تو حیرت زدہ رہ گیا۔ تیمور گروپ آف کمپنیز کی ایک ڈسپنسری کی معمولی سی نرس صاعقہ کس طرح سیٹھ تیمور کی بیوی طاہرہ تیمور کو راستے سے ہٹا کر اس کے دس سالہ بیٹے آذر اور سیٹھ آذر کو اپنا بنا کر ساری دولت و جائداد پر ناگن کی طرح قابض ہوگئی تھی۔
بیگم تیمور کا حکم تھا کہ کنزہ کو ہمیشہ کے لیے راستے سے ہٹا دیا جائے۔ اوّل تو حارب کسی کو قتل کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ وہ کم ازکم کنزہ کو کسی صورت جان سے نہیں مار سکتا تھا۔ دونوں کے راستے الگ ہوجانے کے باوجود ایک تعلق باقی تھا۔
آج وہ کنزہ سے ملنے آیا تو اس نے اس کا مسکرا کر استقبال کیا۔ وہ
نگاہ اٹھا کر اس کی جانب دیکھا تھا۔ ’’بہت زیادہ چوٹیں نہیں آئی ہیں مگر کیونکہ وہ حاملہ تھی، اس لیے آپریشن کرنا پڑے گا۔‘‘ نرس نے مزید بتایا۔
’’اوہ…! تو اس کا مطلب ہے کہ بچہ ضائع ہوگیا۔‘‘ ڈاکٹر تارہ افسوس بھرے انداز میں اپنی جگہ سے اٹھی۔ ’’تم چلو، میں آرہی ہوں۔‘‘ تارہ نے چند چیزیں جلدی جلدی دراز میں رکھیں اور نرس کے جاتے ہی خود بھی دروازے کی طرف بڑھی۔
تب ہی دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا اور ایک شخص اندر داخل ہوا۔ اس کے پیچھے ایک باوقار متکبر سی خاتون بھی تھی۔
’’مجھے سلطان کہتے ہیں۔‘‘ اس شخص نے اپنا تعارف کرایا۔ ’’اور یہ بیگم تیمور ہیں۔ ہم اس زخمی خاتون کے سلسلے میں آپ سے تعاون چاہتے ہیں۔ پہلے یہ بتائیں اس کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘
’’میں نے اسے ابھی دیکھا نہیں۔‘‘ تارہ نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔ ’’مگر وہ خطرے سے باہر ہے۔ بس مس کیریج ہوا ہے۔‘‘
’’یہی تو ہم چاہتے تھے۔‘‘ سلطان سفاکی سے بولا۔ ’’جو ہم چاہتے تھے، وہ تو ہوگیا۔ اب آپ کو ایک چھوٹا سا کام کرنا ہوگا تاکہ وہ آئندہ کبھی ماں نہ بن سکے۔‘‘
’’واٹ۔‘‘ تارہ نے حیرت بھرے لہجے میں کہا۔ ’’اس عمر میں ایسا آپریشن خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ میں یہ نہیں کروں گی۔‘‘
تارہ کے انکار پر سلطان نے پستول نکال لیا تھا۔ وہ پستول دیکھ کر خوف زدہ ہوگئی۔ سلطان اسے پستول کی زد میں آپریشن تھیٹر تک لایا۔
’’آپ کو باہر ہی رکنا ہوگا۔‘‘ تارہ نے خشک لہجے میں کہا۔ ’’آپ نے جو کہا ہے، ہوجائے گا۔‘‘
وہ جونہی آپریشن ٹیبل کے قریب آئی تو فریحہ کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئی۔ اسے تو بتایا گیا تھا فریحہ اپنے گھر میں بہت خوش ہے۔ اس کا میاں جان چھڑکتا ہے۔ ساس واری صدقے جاتی ہے… مگر یہاں تو کہانی ہی کچھ اور تھی۔ اس کی ساس اور اس کا کرائے کا غنڈہ، فریحہ کو ہمیشہ کے لیے بانجھ کرنے کے درپے تھے۔
پہلے اس نے سوچا کہ انتظامیہ کو بلائے یا پولیس کو فون کرے مگر سلطان کے ہاتھ میں موجود پستول نے اسے ہر بات سے باز رکھا۔
آپریشن کے بعد بیگم تیمور، فریحہ کو ڈسچارج کروا کر لے گئی۔ اس بات کو بھی دو روز گزر چکے تھے اور ڈاکٹر تارہ حسن اب تک شش و پنج کا شکار تھی۔ کئی بار اس نے سوچا اس بارے میں کسی کو بتائے، کم ازکم شہروز سے ہی ذکر کرے۔ مگر اس کے دل نے اسے سمجھایا کہ تارہ! کس مشکل اور جتن سے شہری، فریحہ کو بھول پایا ہے اور تم ہو کہ پھر اسے اس کی یاد دلانے چلی ہو۔ سو اس نے دل پر پتھر رکھ کر فیصلہ کرلیا کہ اس واقعے کے بارے میں وہ کسی کو کبھی کچھ نہیں بتائے گی۔ فریحہ کے لیے جو وہ کرسکتی تھی، اس نے کردیا تھا۔ بس اتنا ہی کافی تھا۔
٭…٭…٭
اگلے دن صبح بیگم تمنا آغا کے رفاہی ادارے میں جانے سے قبل دلکش نے فون کرلینا مناسب سمجھا۔ وہ جلد از جلد سجیلہ سے ملنے کے لیے بے تاب تھی۔ ادھر خود سجیلہ بھی دلکش کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ میری بہن کا نام بھی تو دلکش ہی تھا۔
’’ارے بٹیا! تم یہاں بیٹھی ہو، ادھر مصعب صاحب، فضلو بابا اور ان کی بہن آئے بیٹھے ہیں۔‘‘ رضیہ نے اطلاع دی۔
سجو کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر آفس کی طرف چل دی۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی سجیلہ کی نگاہ سب سے پہلے دلکش پر پڑی تھی۔ دلکش بھی منتظر نگاہوں سے دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ان دونوں کی نگاہیں ملیں تو ان کی آنکھیں حیرت اور بے یقینی سے پھیلتی چلی گئیں۔
’’سجو… میری بہن۔‘‘ دلکش اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کی طرف لپکی۔ ’’میری بہن، میری جان! تم کہاں کھو گئی تھیں۔‘‘ اس نے سجو کو اپنے بازوئوں میں بھر لیا۔
’’باجی… میری باجی! تم زندہ ہو… میرا دل کہتا تھا تم مر نہیں سکتیں۔ نانی اور ماں کی طرح تم مجھے چھوڑ کے نہیں جاسکتیں۔‘‘ سجیلہ نے زار و قطار روتے ہوئے کہا اور سجو کی ہچکیوں میں دلکش کی سسکیاں بھی شامل ہوگئی تھیں۔ دلکش نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ سجو اسے یوں بھی مل سکتی ہے؟ اب وہ مل گئی تھی تو وہ اسے اور کرن کو گھڑی کی چوتھائی میں گھر لے جانا چاہتی تھی۔ ہر پل، ہر لمحہ اسے اپنے سینے سے لگا کر رکھنا چاہتی تھی۔
٭…٭…٭
رنگ و روغن کے بعد گھر دمک اٹھا تھا۔ مصعب کے بیڈ روم کو جدید طرز کے بیڈ روم سیٹ نے، چار چاند لگا دیے تھے۔ دلکش اپنی ہر پریشانی بھول کر سجو کی خوشی میں لگ گئی تھی۔ عدیل نے اس ملاقات کا کیا اثر لیا، کیا فیصلہ کیا، اسے کچھ پتا نہیں تھا۔ وہ انہیں گھر کا نمبر دے آئی تھی مگر کتنے ہی دن بیت گئے تھے۔ انہوں نے پلٹ کر خبر تک نہیں لی تھی۔ یہ سب الجھنیں اور پریشانیاں اپنی جگہ تھیں مگر تقدیر نے اسے اس کی بچھڑی بہن سے ملا دیا تھا۔ اب وہ مصعب کی شریک حیات بن کر اس گھر میں آنے والی تھی۔ وہ جانتی تھی مصعب، سجیلہ کے لیے بہت اچھے جیون ساتھی ثابت ہوں گے۔ اس خوشی میں وہ اپنا غم بھلا بیٹھی تھی اور رات، دن شادی کی تیاریوں میں مصروف تھی۔
بالآخر وہ مبارک گھڑی آگئی۔ مصعب، سجیلہ کو دلہن بنا کر اپنے گھر، اپنی دنیا میں لے آئے۔ کرن دلہن بنی سجیلہ کے پہلو میں بیٹھی اسے پرشوق نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
’’کرن…!‘‘ دلکش نے پیار بھرے لہجے میں کرن کو مخاطب کیا۔ ’’آئو میرے ساتھ، میں تمہیں تمہارا گھر دکھاتی ہوں اور تمہارا کمرہ بھی…‘‘
’’چلیے۔‘‘ کرن پرشوق انداز میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ ’’پاپا! آپ یہاں بیٹھ کر امی سے باتیں کیجیے، میں پھوپھی کے ساتھ اپنا کمرہ دیکھنے جارہی ہوں۔‘‘ اس نے دروازے میں ایستادہ مصعب کو مخاطب کرکے کہا اور دلکش کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گئی۔
کرن اور دلکش کے جانے کے بعد مصعب نے سجیلہ کی طرف دیکھ کر کہا۔ ’’کرن بہت خوش ہے۔‘‘
’’اور آپ…؟‘‘ سجیلہ نے شرمیلے لہجے میں پوچھا۔
’’مجھے مسرت بھی ہے اور حیرت بھی۔‘‘ مصعب مسکراتے ہوئے بولے۔ ’’سچ پوچھو تو میں نے کبھی زندگی کے اس رخ کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا لیکن اب…!‘‘ وہ کہتے کہتے رک گئے۔
’’اب کیا…؟‘‘ چند لمحوں کے انتظار کے بعد سجیلہ نے بے تاب لہجے میں پوچھا۔
’’اب۔‘‘ مصعب نے شوخ نظروں سے سجیلہ کی طرف دیکھا۔ ’’بتاتا ہوں۔‘‘ پھر وہ آہستگی سے دروازے کی طرف بڑھ گئے۔ اگلے ہی لمحے وہ دروازہ بند کرکے سجیلہ کے قریب آگئے تھے۔
٭…٭…٭
کوئی بھی شریف اور خاندانی مرد گھر میں ایک وفادار اور محبت کرنے والی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی دوسری عورت کے عشق میں زیادہ دیر تک مبتلا نہیں رہ سکتا۔ کنزہ اس حقیقت سے اچھی طرح واقف تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ پوری طرح آذر کو اپنی طرف راغب کرنے میں بری طرح ناکام رہی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے میاں، بیوی کا رشتہ اپنی تمام تر توانائیوں اور سچائیوں کے ساتھ آذر پر مسلط ہوتا جارہا تھا اور غیر محسوس طور پر وہ بیوی کی چاہتوں کی ان دیکھی زنجیروں میں پوری طرح جکڑ گئے تھے۔
فریحہ کے ایکسیڈنٹ کی خبر سن کر آذر جس دیوانہ وار انداز میں سارے کام چھوڑ کر اسپتال کی طرف روانہ ہوئے تھے، کنزہ وہ سب دیکھ کر حیران رہ گئی تھی۔
اسقاط کا انہیں صدمہ ہوا تھا مگر فریحہ کے صحیح سلامت بچ جانے پر انہیں یک گونہ خوشی تھی۔ فریحہ انہیں دیکھ کر بے اختیار رو دی تھی۔ جس بچے کی خبر سن کر وہ کل بے حد خوش تھے، آج وہ تہی دامن لوٹ آئی تھی۔ گو کہ ابھی وہ اس خبر سے بے خبر تھی کہ اب وہ کبھی ماں نہیں بن سکتی جبکہ یہ خبر درست نہیں تھی کیونکہ ڈاکٹر تارہ حسن نے صاعقہ تیمور اور سلطان کے حکم کی تعمیل نہیں کی تھی مگر انہیں یہی بتایا تھا کہ آپ کے حکم کے مطابق کام ہوگیا ہے۔ بیگم تیمور بے حد خوش اور مطمئن تھیں۔ انہوں نے جائداد کے وارث کی راہ ہمیشہ کے لیے مسدود کردی تھی۔ اب جو کچھ بھی تھا، ان کا اور ان کی چہیتی بیٹی کا تھا۔
بیگم تیمور کو تو قرار مل گیا تھا مگر کنزہ حق کو کسی طور قرار نہیں تھا۔ دن بہ دن اس پر قنوطیت طاری ہوتی جارہی تھی۔ وہ ہر بار محبت پانے میں ناکام رہی تھی۔ کل حارب اسے چھوڑ گیا تھا اور آج آذر واپسی کے سفر پر تھے۔ فریحہ کے ایکسیڈنٹ کے بعد کتنے ہی دن بیت گئے تھے وہ آفس نہیں آئے تھے۔ ظاہر ہے بیوی کی تیمار داری میں لگے تھے۔ کنزہ ٹھنڈی سانس لے کر اپنے کیبن میں آبیٹھی تھی۔ تب ہی غفور نے حارب کی آمد کی خبر دی تھی۔
حارب اور کنزہ کو باہم بچھڑے کئی برس بیت چکے تھے۔ حارب کی دل کی دنیا میں داخل ہونے والی کنزہ پہلی لڑکی تھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ انہیں کسی دولت کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ دونوں کسی چھوٹے سے گھر میں خوش رہ سکتے تھے مگر اپنی ماں صابرہ کے انکار کے سامنے حارب نے ہار مان لی تھی۔ اور کنزہ کو چھوڑ دیا تھا اور وہ اس کی بے وفائی کا داغ لے کر شہر بھی چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ اور اس کے جانے کے بعد اسے احساس ہوا تھا کہ اس نے کیا کھو دیا ہے۔ وہ ماں پر بہت بگڑا اور ماں کو چھوڑ کر اس بڑے شہر میں چلا آیا تھا۔ یہاں اس کی ملاقات صاعقہ تیمور سے ہوئی۔ اس کا باپ احمد سلطان بھی بیگم تیمور کا خدمت گار رہ چکا تھا۔ بیگم صاعقہ تیمور نے اسے کام کی آفر کی مگر یہ کام ایسے نہیں تھے جنہیں وہ آسانی سے قبول کرلیتا۔ مگر پھر ایک شام اس نے صاعقہ تیمور کے ساتھ اس کی اکلوتی بیٹی انوشہ کو دیکھا تو اسے دیکھتے ہی اسے ماں کے خواب کا خیال آیا اور یوں وہ انوشہ کی طرف راغب ہوگیا اور اس نے بیگم تیمور کی آفر بھی قبول کرلی۔ جلد ہی انوشہ اس کی محبت میں ڈوب گئی۔ تب اس نے رشتے کی بات کی اور بیگم تیمور کی طرف سے تحقیر آمیز انکار کے بعد اب اس میں ایک غصہ اور ضد پیدا ہوگئی تھی۔ وہ صاعقہ تیمور کے ماضی کو کھنگالتا پھر رہا تھا اور جب اس پر اس عورت کی حقیقت آشکار ہوئی تو حیرت زدہ رہ گیا۔ تیمور گروپ آف کمپنیز کی ایک ڈسپنسری کی معمولی سی نرس صاعقہ کس طرح سیٹھ تیمور کی بیوی طاہرہ تیمور کو راستے سے ہٹا کر اس کے دس سالہ بیٹے آذر اور سیٹھ آذر کو اپنا بنا کر ساری دولت و جائداد پر ناگن کی طرح قابض ہوگئی تھی۔
بیگم تیمور کا حکم تھا کہ کنزہ کو ہمیشہ کے لیے راستے سے ہٹا دیا جائے۔ اوّل تو حارب کسی کو قتل کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ وہ کم ازکم کنزہ کو کسی صورت جان سے نہیں مار سکتا تھا۔ دونوں کے راستے الگ ہوجانے کے باوجود ایک تعلق باقی تھا۔
آج وہ کنزہ سے ملنے آیا تو اس نے اس کا مسکرا کر استقبال کیا۔ وہ
اور اترے ہوئے چہرے سے تھکن کا اظہار ہورہا تھا۔ وہ یک ٹک اسے دیکھے گئی۔
’’یہاں آنے سے میں نے تمہیں منع کیا تھا۔‘‘ بیگم تیمور نے دھاڑتی آواز میں اسے مخاطب کیا۔
’’مگر مجھے آپ کا جواب چاہیے تھا اس لیے یہاں آنا پڑا۔‘‘ حارب نے نرم لہجے میں جواب دیا۔ ’’شاید آپ کو یاد نہیں میں نے آپ سے آپ کی بیٹی کا ہاتھ مانگا تھا۔‘‘
’’اور میں نے تمہارے اس سوال کا جواب انکار میں دے دیا تھا۔‘‘ صاعقہ تیمور کی پھنکارتی ہوئی آواز پر انوشہ نے چونک کر ماں کی طرف دیکھا۔ ’’میں نے تم سے کہہ دیا تھا کہ تم اس قابل نہیں ہو کہ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں دے سکوں۔‘‘
’’انوشہ! تم نے سن لیا۔‘‘ حارب نے افسردہ لہجے میں انوشہ کو مخاطب کیا۔ ’’اسی دن کے لیے میں شادی کی بات سے خوف زدہ رہتا تھا۔ بہرحال تم نے اپنے کانوں سے سن لیا کہ تمہاری مام اس رشتے سے انکاری ہیں۔‘‘
’’سلطان! میری بیٹی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ بیگم تیمور نے غصیلے لہجے میں کہا۔ ’’تم پہلے بھی اسے بہت بے وقوف بنا چکے ہو۔ اگر میں تمہاری حقیقت اسے بتا دوں تو میری طرح یہ بھی تم سے نفرت کرنے لگے گی۔‘‘
’’اور اگر آپ کی حقیقت میں اسے بتا دوں تو…؟‘‘ پہلی بار حارب سلطان کے لبوں پر سفاکانہ مسکراہٹ جاگی۔
’’انوشہ تم اپنے کمرے میں جائو۔‘‘ صاعقہ تیمور نے سخت لہجے میں انوشہ کو مخاطب کیا اور وہ تیزی سے اٹھ کر اندر کی طرف چلی گئی۔
’’آپ نے کنزہ کے ساتھ کیا کیا اور کنزہ کو چھوڑیے اپنی بہو فریحہ کے ساتھ کیا کیا؟‘‘ انوشہ کے جاتے ہی حارب نے اس کے ایک ایک گناہ کی تفصیل بیان کرنا شروع کی۔ اور صاعقہ تیمور حیرت اور غصے سے اسے تکے جارہی تھی۔
’’میں کہتی ہوں دفع ہوجائو یہاں سے…‘‘ آخرکار اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔
’’میں جارہا ہوں۔‘‘ دل کی بھڑاس نکال لینے کے بعد حارب نے پرسکون لہجے میں کہا۔ ’’آپ کو آپ کی دولت اور بیٹی دونوں مبارک ہوں۔ آپ نے مجھ سے ہمیشہ کہا کہ آپ اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے نہیں کرسکتیں لیکن آج میں آپ سے کہہ رہا ہوں مجھے آپ جیسی ماں کی بیٹی سے شادی نہیں کرنی۔‘‘ وہ تیزی سے دروازے کی طرف پلٹ گیا۔
’’حارب… پلیز حارب۔‘‘ پچھلی جانب ستون کے پیچھے کھڑی انوشہ تیزی سے حارب کی طرف لپکی۔ ’’حارب مجھے اس طرح چھوڑ کے مت جائو۔ حارب تم جانتے ہو میں تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔‘‘
مگر حارب نے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا تھا اور تیزی سے دروازے سے نکلتا چلا گیا۔ انوشہ حیرت، اذیت اور وحشت کے ملے جلے احساس کے ساتھ ادھ کھلے دروازے کی طرف دیکھتی رہ گئی۔
اسے ماں کی نخوت اور نفرت بھری آواز سنائی دی تھی۔ ’’میں نے تو پہلے ہی کہا تھا وہ بہت برا ہے…!‘‘
’’اور آپ؟‘‘ انوشہ نے پلٹ کر ماں کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔ وہ ستون کے پیچھے کھڑی حارب کی تمام باتیں سن رہی تھی۔ اس کے دل کے سنگھاسن پر دھرا اس کی ماں کا بلند و بالا بت لحظہ بھر میں پاش پاش ہوکر زمیں بوس ہوگیا تھا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کی ماں نے دولت کی خاطر آذر کی ماں کو پاگل بنا کر پاگل خانے میں داخل کروا دیا تھا اور آذر کے بچے کو ضائع کروانے کے لیے فریحہ کا ایکسیڈنٹ کروایا تھا۔
’’میں کبھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔‘‘ وہ تیزی سے اندر کی طرف دوڑتی چلی گئی۔
’’نورجہاں! ذرا اسے دیکھو۔‘‘ صاعقہ تیمور نے گھبرا کر نورجہاں کو آواز دی۔ مگر نورجہاں کے انوشہ کے کمرے میں پہنچنے تک اس نے خواب آور گولیوں کی پوری شیشی حلق سے اتار لی تھی۔
اسے چکرا کر بستر پر گرتے دیکھ کر نورجہاں نے چیخ کر صاعقہ تیمور کو پکارا۔ ’’بیگم صاحبہ۔‘‘
’’کیا ہوا…کیا ہوا؟‘‘ صاعقہ تیمور گھبرائے ہوئے انداز میں دوڑتی ہوئی اندر آئیں۔
’’انوشہ بٹیا نے نیند کی ساری گولیاں کھا لی ہیں۔‘‘
نور جہاں کا جواب سن کر وہ لپک کر فون کی طرف بڑھی تھیں مگر ڈاکٹر کے آنے سے پہلے ہی انوشہ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی تھی۔ ایک ہی وقت میں دو بڑے سانحے اس کے ننھے سے دل پر گزر گئے تھے۔ ماں کا اصل اور کریہہ چہرہ دیکھنے کے بعد اس کا ہر چیز سے ایمان اٹھ گیا۔ اور حارب سے بچھڑنے کے بعد زندہ رہنے کا جواز ہی باقی نہیں رہا تھا۔ سو لمحوں میں اس نے مرنے کا فیصلہ کرکے موت کو گلے سے لگا لیا تھا۔
اپنی جس چہیتی بیٹی کے لیے دولت حاصل کرنے کے لیے وہ کتنے جوڑ توڑ میں لگی تھیں اب وہی چہیتی بیٹی سب کچھ چھوڑ کر لمحوں میں ملک عدم کو سدھار گئی تھی۔ کاش! وہ جان سکتیں کہ حارب اس کے لیے اتنا اہم تھا تو شاید وہ کبھی حارب کو ٹھکرانے کی غلطی نہ کرتیں۔ پر اب تو سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔
٭…٭…٭
کوچ تیز رفتاری سے حیدرآباد کی جانب اُڑی جارہی تھی۔ حارب نے فون کرکے ماں کو اپنی اور کنزہ کی آمد کی اطلاع دے دی تھی۔ اس کی ماں بہو کے استقبال کی تیاریاں کررہی تھی۔ اور وہ آنکھوں میں جہاں بھر کا پیار سمیٹے اپنے پہلو میں بیٹھی کنزہ کو تکے جارہا تھا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کے لوٹ آنے کے بعد تیمور ہائوس پر کیا قیامت ٹوٹی تھی۔ اسے دل کی گہرائیوں سے چاہنے والی انوشہ اس کی جدائی کا زخم نہ سہتے ہوئے موت کی وادی میں اتر گئی تھی اور اپنی دولت، طاقت اور ذہانت پر ناز کرنے والی صاعقہ تیمور کومے میں چلی گئی تھی۔
٭…٭…٭
ڈی آئی جی اعظم خان کی جیپ کے ساتھ پورچ میں ایک اور پولیس جیپ کھڑی تھی۔
’’غالباً پاپا سے ملنے کوئی پولیس آفیسر آیا ہوا ہے۔‘‘ سونم نے جیپ کی طرف دیکھ کر سوچا اور کار سے اتر کر اپنے کمرے کی طرف چل دی۔ تب ہی زیتون نے اسے اطلاع دی تھی۔ ’’صاحب آپ کو ڈرائنگ روم میں بلا رہے ہیں۔‘‘
سونم نے ایک نظر خود پر ڈالی، ہاتھوں سے بالوں کو پیچھے کرتی وہ ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئی۔
’’آئو… آئو بیٹی۔‘‘ اسے دیکھتے ہی اعظم خان کھڑے ہوگئے۔ ان کے ساتھ ہی سامنے صوفے پر بیٹھا پولیس آفیسر بھی کھڑا ہوگیا تھا۔ ’’بیٹی ان سے ملو۔‘‘ اعظم خان نے مسرور انداز میں اپنے سامنے کھڑے پولیس آفیسر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’تمہیں وہ ہمارے دوست رحمان علی خان تو یاد ہوں گے، وہی جو کئی سال پہلے امریکا شفٹ ہوگئے تھے۔‘‘
’’جی…!‘‘ سونم نے اثبات میں سر ہلایا۔ ہنس مکھ، خوش اخلاق اور بے حد محبت کرنے والے انکل رحمان اسے آج بھی یاد تھے۔
’’یہ سلمان علی تمہارے انہی رحمان انکل کے اکلوتے صاحبزادے ہیں۔‘‘
سونم نے چونک کر سلمان کی طرف دیکھا۔ لمبے قد، مضبوط جسم کے ساتھ ایس ایس پی کی وردی میں وہ بہت شاندار جوان دکھائی دے رہا تھا۔
’’امریکا سے کرمنالوجی میں ماسٹرز کرنے کے بعد مقابلے کا امتحان پاس کرکے یہ حال ہی میں ایس ایس پی بنے ہیں۔ بہت ذہین اور بہادر آفیسر ہیں۔ پولیس کے محکمے کو ان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔‘‘
’’اوہ تو پاپا نے اسے جلیل شاہ کے کیس کو حل کرنے کے لیے بلایا ہے۔‘‘ سونم نے نگاہ اٹھا کر سلمان کی طرف دیکھا۔ اس کا سادہ، معصوم سا چہرہ اور شفاف بے ریا آنکھیں اس کے اچھے انسان ہونے کی غماز تھیں۔ جانے کیوں پہلی ہی نگاہ میں سونم کو سلمان علی اچھا لگا تھا۔ وہ یک ٹک اسے دیکھے گئی۔ وہ اس کے اس طرح دیکھنے پر کچھ کنفیوژ ہوگیا تھا۔ اسے احساس ہوا تو وہ خود بھی نروس ہوگئی۔
’’وہ پایا… میں ذرا…‘‘ اس نے اجازت طلب لہجے میں کہا۔
’’ہاں کیوں نہیں۔‘‘ اعظم خان نے فراخدلانہ انداز میں کہا۔ ’’تم جاکر آرام سے فریش ہو کر آجائو، سلمان تو ابھی یہیں ہیں۔ میں نے انہیں ڈنر کے لیے روک لیا ہے اور ہاں سونو! میں نے انہیں بتایا ہے کہ ہماری سونو بٹیا بہت اچھا چائنیز بناتی ہے۔ ہمارے اس دعوے کی عزت اب تمہارے ہاتھ میں ہے۔‘‘
’’جی!‘‘ اعظم خان کی اس بات پر سونم کے ساتھ سلمان علی کے لبوں پر بھی مسکراہٹ بکھر گئی۔ وہ معذرت خواہانہ انداز میں ہاتھ سے اشارہ کرتی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ ابھی وہ نہا کر باتھ روم سے نکلی ہی تھی کہ دروازے پر ہلکی سی دستک دیتے اعظم خان اندر چلے آئے۔ ’’سونو بیٹی مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔‘‘ وہ بلا تمہید بولے۔ ’’تم ابھی سلمان سے ملی ہونا، تمہیں وہ کیسا لگا؟‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ سونم حیران ہوئی۔
’’بیٹی سال بھر قبل جب سلمان نے پولیس کے محکمے کو جوائن کیا تھا تب ہی اس کے والد رحمان نے تمہارے لیے مجھ سے بات کی تھی۔‘‘ اعظم نے پرسوچ نظروں سے سونم کو دیکھتے ہوئے بتایا۔ ’’مگر میں نے کہہ دیا تھا جب تک میری بیٹی سلمان کو دیکھ کر اوکے نہیں کردیتی، میں اس سلسلے میں کوئی جواب نہیں دے سکتا۔‘‘ پھر وہ لحظہ بھر کو تھمے۔ ’’بیٹی سلمان ایک اعلیٰ خاندان کا تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان ہے۔ کروڑ پتی باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔ اخلاق و کردار میں بھی بے مثل ہے۔ شکل و صورت تو تم نے دیکھ ہی لی ہے۔ اب بولو تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘
’’جی…!‘‘ سونم نروس ہوگئی۔ ’’میں کیا کہہ سکتی ہوں۔‘‘
’’بیٹی، سلمان مجھے ہر لحاظ سے پسند آیا ہے۔‘‘ اعظم خان بولے۔ ’’لیکن اگر تمہاری پسند کوئی اور ہے تو مجھے اس پر بھی کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ بس تمہارا جو بھی فیصلہ ہو، مجھے جلد ازجلد بتا دو کیونکہ اب میں تمہارے فرض سے سبکدوش ہوجانا چاہتا ہوں۔‘‘
اعظم خان کمرے سے جا چکے تھے۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے اسٹول پر گم صم بیٹھی تھی۔ اسے عدیل پسند تھے۔ اس پسند کو اس نے اکثر محبت کا نام دینے کی کوشش کی تھی مگر پھر دلکش ایک سوالیہ نشان بن کے اس کے اور عدیل شاہ کے بیچ آکھڑی ہوئی تھی۔
(جاری ہے)