Aseer Ishq | Last Episode 18

570
اُن دونوں نے دو الگ الگ کہانیاں سنائی تھیں۔ سونم یہ فیصلہ کرنے سے قاصر تھی کہ سچا کون ہے، جلیل شاہ یا دلکش؟ سچائی کی تصدیق کا بس ایک ہی ذریعہ تھا کہ عدیل شاہ سے مل کر حقائق جاننے کی کوشش کی جائے۔ شروع میں وہ دلکش کی کسی بھی بات کو سچ ماننے کے لیے آمادہ نہیں تھی مگر اب وقت گزرنے کے ساتھ اس کے اندر ایک ٹھہرائو سا آتا جا رہا تھا۔ دلکش اس کی دوست تھی اگر واقعی اس کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی تھی تو ایک اچھی دوست ہونے کے ناتے اس کا فرض بنتا تھا کہ وہ مظلوم کو حق دلانے میں اس کا ساتھ دے۔
اُس نے اپنا موبائل اُٹھا کر عدیل کا نمبر ملایا۔ ’’میں تم سے فوراً ملنا چاہتی ہوں۔‘‘ اُس نے بنا کسی تمہید کے کہا۔ ’’کافی ہائوس میں، میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں۔‘‘
وہ جیسے ہی کافی ہائوس پہنچی عدیل بھی آ گئے۔
’’عدیل میں ایک بے حد ضروری مسئلے پر بات کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ کونے کی ٹیبل پر بیٹھنے کے بعد سونم نے عدیل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’سونم خیریت تو ہے… مسئلہ کیا ہے؟‘‘ عدیل نے حیران ہو کر پوچھا۔
’’کیا یہ سچ ہے کہ تمہارا نکاح دلکش کے ساتھ ہوا تھا؟‘‘
’’تمہیں کیسے پتا؟‘‘ عدیل نے گہرا سانس لیا۔ ’’تم اُسے کیسے جانتی ہو۔‘‘
’’بتاتی ہوں۔‘‘ سونم نے جب بتایا کہ وہ اس کی دوست ہے تو عدیل نے دلکش کو دیکھنے، نکاح، رُخصتی اور فون آنے کے بعد اپنے شہر جانے تک کی تمام کہانی من و عن بیان کر دی۔
’’اُف۔‘‘ اُس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔ دلکش کے ساتھ کیسا ظلم ہوا تھا۔ اس کی نانی اور ماں کے بہیمانہ قتل اور سجیلہ کی گمشدگی کا سوچ کر اس کا دل بھر آیا۔ وہ کتنی بے حس اور خود غرض ہوگئی تھی کہ دلکش کی بات کو تسلیم کرنے کی بجائے اُلٹا اُس سے حسد کرنے لگی تھی، سونم کو خود سے کراہیت اور نفرت محسوس ہو رہی تھی۔
’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں دلکش کی بات پر کس طرح یقین کروں؟‘‘
’’ایک راستہ ہے۔‘‘ سونم نے پُرسوچ لہجے میں کہا۔ ’’اُس نے جن کھنڈرات میں تمہارے والد کی موجودگی کی نشان دہی کی ہے تم دلکش کے ساتھ وہاں جا کر تصدیق کر سکتے ہو، اگر وہاں تمہیں عقیل شاہ مل جاتے ہیں تو اس طرح جلیل شاہ کے کردار کی سچائی کھل کر سامنے آ جائے گی۔‘‘
عدیل شاہ نے تائید بھرے انداز میں سر ہلا کر کہا۔ ’’مجھے یہ کرنا ہی پڑے گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ سونم اُٹھ کھڑی ہوئی۔ ’’اب میں چلتی ہوں۔‘‘ اس کے ساتھ ہی عدیل بھی کافی ہائوس سے باہر آگئے۔
گھر پہنچتے ہی سونم کچن میں چلی گئی تھی۔ اعظم خان نے سلمان علی کو بتایا تھا کہ اُن کی بیٹی بہت اچھا چائینیز بناتی ہے، اسے باپ کے اس دعوے کو سچ ثابت کرنا تھا، اسی لیے وہ آج بہت اہتمام سے کھانا تیار کر رہی تھی۔
’’ہے… سونو بٹیا۔‘‘ اسے اپنے چاہنے والے باپ اعظم خان کی آواز سنائی دی۔ ’’کتنی دیر ہے بھئی؟‘‘
’’بس پاپا، اب کوئی دیر نہیں۔‘‘ وہ پھول کی طرح شگفتہ و شاداب مسکراتی ہوئی باہر نکلی۔ ’’بس میں کھانا لگوانے جا رہی ہوں۔‘‘
’’جانے سے پہلے میرے سوال کا جواب تو دے دو بٹیا۔‘‘ اعظم خان نے دھیمی آواز میں پوچھا۔ ’’بابا، اگر سلمان کو کوئی اعتراض نہیں تو مجھے بھی یہ رشتہ منظور ہے۔‘‘ اُس نے نگاہیں جھکا کر اپنا جملہ مکمل کیا۔
’’جیتی رہو بیٹی، مجھے تم سے یہی اُمید تھی۔‘‘ سونم گھبرا کر کچن کی طرف بھاگ گئی تھی اور ڈی آئی جی اعظم خان قہقہہ لگاتے ہوئے ڈرائنگ رُوم کی طرف بڑھ گئے، سونم کی رضامندی کی خوش خبری ابھی سلمان علی کو بھی تو سنانی تھی۔
٭…٭…٭
خوشگوار صبح کا آغاز ہو چکا تھا۔ نماز کے بعد فوزیہ بیگم کچن میں آ گئیں۔ کل رات ہی اُن کی آذر سے بات ہوئی تھی۔ آذر نے کہا تھا آج آفس جاتے ہوئے وہ فریحہ کو چھوڑ جائیں گے اور واپسی پر ساتھ لے جائیں گے۔ اور ہاں امی ہم دونوں بنا ناشتہ کیے آئیں گے تا کہ آپ لوگوں کے ساتھ ناشتہ کر سکیں۔ وہ پیار بھرے لہجے میں بولے۔
’’ضرور بیٹا۔‘‘ فوزیہ بیگم نے نہال ہوتے ہوئے جواب دیا۔ اتنا لائق، تعلیم یافتہ اور دولت مند ہونے کے ساتھ اس قدر سادہ اور معصوم داماد پا کر وہ اللہ کی بے حد شکرگزار تھیں، مگر وہ خالہ خیرن کی بھی احسان مند تھیں۔ تب ہی آج انہوں نے خالہ خیرن کو بھی بلا بھیجا تھا۔ وہ نماز کے بعد ہی کچن میں آ گئی تھیں تاکہ داماد کے لیے زبردست ناشتہ تیار کر سکیں۔
’’مجھے بھی کوئی کام بتایئے۔‘‘ صفیہ مسکراتی ہوئی کچن میں داخل ہوئیں۔ ’’اشعر نے بتایا کہ آج ناشتے پر آذر اور فریحہ آ رہے ہیں تو میں نے سوچا آپ کا کچھ ہاتھ ہی بٹا دوں۔‘‘
عزیز از جان بہن انوشہ کی اچانک موت… اور بے حد پیار کرنے والی ماں صاعقہ تیمور کے اس حادثے کے بعد کومے میں چلے جانے کے بعد آذر ایک طرح سے جیتے جی مرگئے تھے… اگر فریحہ جیسی بے حد محبت کرنے والی اور خدمت گزار بیوی نہ ہوتی اور آنے والے نئے مہمان کی اُمید نہ ہوتی تو شاید وہ اتنی جلدی زندگی کی طرف نہیں لوٹ سکتے تھے۔
اس حادثے کو کئی مہینے بیت گئے تھے۔ انوشہ نے غلطی سے زیادہ نیند کی گولیاں کھا لی تھیں اور اس کی ناگہانی موت بے حد محبت کرنے والی ماں برداشت نہ کر سکی تھیں اور ہوش و خرد کی دُنیا چھوڑ کر ایک گہری نیند میں چلی گئی تھیں۔ آذر اور دُنیا والوں کو یہی پتا تھا… حارب پھر نہیں آیا تھا۔آذر کا خیال تھا کہ انوشہ کی حادثاتی موت نے اسے بھی توڑ کر رکھ دیا ہوگا اور وہ کہیں جنگلوں میں مارا مارا پھر رہا ہوگا… اور جہاں تک اُن کا تعلق تھا اگر فریحہ اور اس کے گھر والے اتنی محبت، اپنائیت اور خلوص دل سے اس کا ساتھ نہ دیتے تو شاید وہ آج اس قدر نارمل نہ ہوتے۔ کچھ ہی دنوں بعد وہ باپ بننے والے تھے، اس اُمید نے بھی انہیں زندگی سے کنارہ کش ہونے نہیں دیا تھا۔
٭…٭…٭
حالات دھیرے دھیرے بہتر ہوتے جارہے تھے، جیسے تیز لہروں میں ہچکولے لیتی کشتی آخرکار ساحل سے آ لگی ہو… وہ اشعر جو ہر وقت اپنے دولت مند دوستوں کے ساتھ پھرا کرتا تھا اور اپنی زندگی کی ناآسودگی پر کڑھتا رہتا تھا، آخر انور ضیا کے سمجھانے پر راہ راست پر آ گیا۔ اب پابندی سے اسکول جانے لگا تھا اور شام کا وقت اظفر کی دُکان پر گزارنے لگا تھا۔ وہی دکان جو اسے کبھی چھوٹی اور حقیر لگا کرتی تھی۔
خود صفیہ بیگم کے خیالات میں بھی انقلابی تبدیلی آئی تھی۔ پہلے وہ سمجھا کرتی تھیں کہ اظفر اتنی تعلیم حاصل کر کے ایک معمولی سی دکان کھول کر تعلیم کو ضائع کر رہا تھا۔ مگر اب وہ اس بات پر خوش تھیں کہ اُن کا بیٹا نوکری کی درخواست اُٹھائے دَر دَر مارے پھرنے کی بجائے اپنا کام کر رہا تھا اور اللہ کے فضل سے دن بہ دن ترقی اور برکت ہو رہی تھی۔ اور اب وہ کہتی تھیں کہ محنت ہی میں عظمت ہے اور کوئی بھی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا، بس بُرے کام میں بُرائی ہے۔
کچھ ہی دیر میں خالہ خیرن بھی آ گئی تھیں۔ فریحہ نے جھک کر اَدب سے انہیں سلام کیا۔
’’سکھی رہو۔‘‘ انہوں نے محبت بھرے لہجے میں دُعائیں دیں، پھر وہ فوزیہ بیگم کی طرف متوجہ ہو کر گویا ہوئی تھیں۔ ’’اے بڑی دُلہن، فاریہ کو بدیس گئے اب تو کافی وقت گزر گیا واپس کب آ رہی ہے۔‘‘
’’جی آپ کی دُعا سے بس چند ہی مہینوں میں آیا چاہتی ہے۔‘‘ فوزیہ بیگم نے مسرور لہجے میں بتایا۔ ’’میں اور صفیہ شادی کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ دیکھ ہی رہی ہیں۔‘‘
’’ہاں واقعی… وقت گزرتے پتا ہی نہیں چلتا… دیکھتے ہی دیکھتے یہ دن آ گئے… ماشاء اللہ چھوٹی فروا بھی کتنی بڑی ہوگئی ہے۔‘‘ خالہ خیرن نے فروا کو غور سے دیکھتے ہوئے سرگوشی کی۔ ’’اس کے لیے کوئی اچھا رشتہ دیکھوں کیا؟‘‘
’’ابھی تو چند ماہ بعد فاریہ آنے والی ہے۔‘‘ فوزیہ بیگم نے رسان بھرے لہجے میں کہا۔ ’’پہلے میں فاریہ اور اظفر کا بیاہ کروں گی… پھر ان شاء اللہ جب وقت آئے گا فروا کا بھی نصیب کھل جائے گا۔‘‘
کھڑکی کے اُس پار کھڑے اظفر سوچ رہے تھے۔ اُن کی اور فاریہ کی راہ میں کتنے مسائل آئے تھے۔ خود اُن کی والدہ کا خیال تھا کہ فاریہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے کے بعد ایک معمولی دُکاندار سے شادی سے انکار کر دے گی… یا باہر جا کر واپس پلٹ کر نہیں آئے گی… مگر سارے خدشات غلط ثابت ہوئے تھے۔ اُن کے سچے جذبے جیت گئے تھے۔ اُن کے دل میں سلگتی محبت کی آگ نے فاریہ کے دل تک رسائی حاصل کر لی تھی… اور اب وہ واپس آ رہی تھی۔ پی ایچ ڈی کا تمغہ لگائے اور دامن میں محبت کے انمول پھول سمیٹے۔
٭…٭…٭
مصعب کی زندگی یکسر تبدیل ہوگئی تھی۔ وہ پوری طرح زندگی کی طرف لوٹ آئے تھے۔ کرن کی محبت اور سجیلہ کا پیار پا کر اُن کی ویران اور بے رنگ زندگی ایک دَم سرسبز و شاداب ہوگئی تھی۔ اِک عمر انہوں نے تنہائی کے دشت میں آبلہ پا چلتے گزاری تھی۔ اب تقدیر نے اُن کے لیے محبت کا ٹھنڈا نخلستان عطا کر دیا تھا۔ تقدیر کی اس مہربانی پر وہ بے حد خوش تھے۔
سجیلہ کی خواہش پر گھر کی آرائش کا کام جاری تھا۔ لان کی ازسرنو آبیاری کی جا رہی تھی۔ کیاریوں میں خوش رنگ پودے لگائے گئے تھے۔ ڈرائنگ رُوم کے لیے پردے، قالین اور نیا فرنیچر خریدا گیا تھا، لائونج کی بھی ازسرنو ڈیکوریشن کی گئی تھی۔
شہر کے کاروباری علاقے میں ایک معروف بلڈنگ میں مصعب کا دفتر موجود تھا جو پچھلے دس گیارہ سالوں سے بند پڑا تھا۔ اب اُسے بھی کھولا گیا تھا۔ وہاں بھی رنگ و روغن جاری تھا اور اب ہنی مون سے واپس آتے ہی مصعب کا وکالت شروع کرنے کا ارادہ تھا۔
’’باجی! آپ بھی ساتھ چلیے نا۔‘‘ سجیلہ دو روز سے دلکش سے اصرار کیے جا رہی تھی۔ ’’کرن بھی تو ساتھ جا رہی ہے… آپ بھی چلیں گی تو اچھا لگے گا۔‘‘
’’پاگل تو نہیں ہوگئی ہو، سجو بات کو سمجھ نہیں رہیں۔‘‘ دلکش نے پیار بھرے انداز میں ڈانٹتے ہوئے کہا۔ ’’کرن کو تم لوگ اس لیے ساتھ لے جا رہے ہو کہ وہاں سوئٹزرلینڈ میں کسی اچھے ڈاکٹر سے اس کی معذوری کے بارے میں مشورہ کر سکو… ویسے بھی وہ بچی ہے گھوم پھر کر خوش ہوگی، بھلا تمہارے ہنی مون ٹور پر میرا ساتھ جانے کا کیا جواز ہے۔‘‘
’’کیا ہو رہا ہے بھئی؟‘‘ مصعب کرن کا ہاتھ تھامے کمرے میں داخل ہوئے۔ ’’آپ دونوں یوں خاموش کیوں بیٹھی ہیں؟‘‘ انہوں نے باری باری دلکش اور سجو کے چہروں کی طرف دیکھتے ہوئے حیرانی سے سوال کیا۔
’’میں
باجی سے کہہ رہی ہوں کہ یہ بھی ہمارے ساتھ سوئٹزرلینڈ چلیں۔‘‘ سجو نے منہ پھلائے مصعب کو بتایا۔
’’ہمارے ساتھ ہنی مون پر؟‘‘ مصعب نے حیرت سے سجیلہ کی طرف دیکھا۔
’’تو کیا ہوا؟‘‘ سجیلہ نے تنک کر مصعب کی طرف دیکھا۔
’’نہیں ہوا تو کچھ نہیں…‘‘ مصعب جلدی سے گھبرا کر بولے۔ ’’اگر دلکش چلنا چاہیں تو موسٹ ویلکم۔‘‘
’’آپ بھی نا مصعب بھائی۔‘‘ دلکش بے ساختہ ہنس پڑی۔ ’’دو دن میں جورو کے غلام بن گئے ہیں۔ بیگم کی ہر بات میں ہاں میں ہاں ملانے لگے۔ شادی کے بعد آپ دونوں کا یہ پہلا سفر ہے۔ آپ دونوں کو اکیلے ہی جانا چاہیے تاکہ ایک دُوسرے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزار کر ایک دُوسرے کو سمجھ سکیں۔‘‘
مصعب نے شوخ نظروں سے سجیلہ کی طرف دیکھا۔ اُن کی آنکھوں کی شرارت کو محسوس کر کے اُس نے شرما کر نظریں جھکا لی تھیں۔
اگلی صبح مصعب، سجیلہ اور کرن روانہ ہوگئے۔ اب گھر میں صرف فضلو بابا اور دلکش رہ گئے تھے۔
مصعب، سجو اورکرن کے جانے کے بعد گھر میں ایک بار پھر ایک دَم سنّاٹے اُتر آئے تھے۔ فضلو بابا حسب معمول گھر کے کام کاج میں لگے رہتے اور وہ اپنے کمرے میں بیٹھی لاحاصل سوچوں میں کھوئی رہتی۔ کتنی تگ و دو اور تلاش بسیار کے بعد وہ عدیل سے ملنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ عدیل سے ملنے اور سچائی اُن کے گوش گزار کرنے کے بعد حالات میں بہتری آئے گی مگر اس کا یہ خیال خام ثابت ہوا تھا۔ انہوں نے اس کی کسی بات کا یقین نہیں کیا تھا۔ یہی کیا کم تھا کہ انہوں نے اپنے چچا پر اتنے سنگین الزامات لگانے کے باوجود اسے واپس جانے دیا تھا۔
گھر آنے کے بعد دلکش اور زیادہ افسردہ اور مضطرب ہوگئی تھی، اُس نے عدیل کو جب جب دیکھا تھا اس کے اضطراب میں اضافہ ہی ہوا تھا۔ وہ سمجھتی تھی وہ عدیل کو سچائی تسلیم کرنے پر مجبورکر دے گی مگر وہ ایسا نہیں کر سکی تھی۔ عدیل نے اس کی کسی بات پر یقین نہیں کیا تھا۔ وہ اپنا فون نمبر چھوڑ آئی تھی مگر انہوں نے اب تک اُس سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اب اس بات کو بھی کتنے دن بیت گئے تھے۔ شروع شروع میں تو فون کی ہر گھنٹی پر اس کا دل دھڑک اُٹھتا تھا۔ مگر جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا، اس کی آس کے دیے مایوسی کے اندھیروں میں گم ہوتے جا رہے تھے۔
’’میں تو کہتا ہوں بٹیا! اب ہمیں جلیل شاہ اور عدیل میاں پر مقدمہ دائر کر دینا چاہیے۔‘‘ فضلو بابا کی یہی رائے تھی اور مصعب بھی کسی قدر اس رائے سے متفق تھے۔
’’پر اس سے کیا ہوگا فضلو بابا؟‘‘ دلکش اس رائے کے حق میں نہیں تھی۔ ’’اس طرح تو میں انہیں ہمیشہ کے لیے کھو دوں گی۔‘‘ وہ کرب بھرے لہجے میں کہتی۔ وہ کسی بھی قیمت پر عدیل کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔ وہ اس کے شوہر تھے، اس کا سہاگ تھے، وہ رشتے کی اس قید سے آزاد نہیں ہونا چاہتی تھی۔
اسے مایوسی کے گرداب میں گھرے دیکھ کر فضلو بابا اسے سمجھانے بیٹھ جاتے۔ ’’دیکھو بیٹا اللہ سے ہمیشہ اچھی اُمید رکھنا چاہیے، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ مصعب میاں کی زندگی میں یوں چھم سے بہار آ جائے گی۔ جس بچی کا نام سن کر وہ چیخنے، دھاڑنے لگتے تھے آج اُسی بچی کو وہ سینے سے لگائے پھرتے ہیں۔ وقت کروٹ بدلتا ہے تو سب کچھ بدل جاتا ہے۔ مجھے یقین ہے تمہیں اپنا شوہر اس کی محبت اور وفائیں سب کچھ ملیں گی۔‘‘
یونہی اُمید و بیم کی کیفیت میں کتنے دن اور گزر گئے اور تب ایک دن بالکل اچانک ہی عدیل کا فون آ گیا۔ فون فضلو بابا نے ریسیو کیا تھا۔
دلکش سے ملنے کے بعد عدیل بہت اَپ سیٹ ہوگئے تھے۔ اُس نے جو باتیں بتائی تھیں اُن پر یقین کر لینا اتنا آسان نہیں تھا۔ جس جلیل شاہ کو وہ بچپن سے آج تک دیوتا مان کر پوجتے چلے آ رہے تھے۔ وہ جلیل شاہ اتنا کمینہ بھی ہو سکتا ہے۔ وہ اُن کی ماں کا قاتل اور باپ کی گمشدگی کا ذمّے دار بھی ہو سکتا ہے۔ اُن کا دل ان باتوں پر یقین کرنے کو آمادہ نہیں تھا۔ مگر سونم کی زبانی دلکش کے بارے میں جان کر اُن کے اضطراب میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔ سونم نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ دلکش کے ساتھ اُن کھنڈرات میں جا کر اپنے والد عقیل شاہ سے جا کر ملے۔ پھر کافی سوچ بچار کے بعد انہوں نے کھنڈرات جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ سوچ کر اُن کے ہاتھ فون کی طرف بڑھ گئے تھے۔ دلکش کا دیا ہوا نمبر اُن کے پاس محفوظ تھا۔
دُوسری طرف فون فضلو بابا نے اُٹھایا تھا۔ وہ اُن کا نام سن کر حیرت بھری مسرت سے دوچار ہو گئے۔ ’’عدیل شاہ… میرا مطلب ہے آپ عدیل میاں بات کر رہے ہیں نا… میرا مطلب ہے کہ دلکش بٹیا کے شوہر بات کر رہے ہیں نا؟‘‘
’’جی۔‘‘ عدیل نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔ ’’کیا اُن سے بات کی جا سکتی ہے؟‘‘
’’ہاں کیوں نہیں۔‘‘ فضلو بابا جلدی سے بولے۔ ’’میں ابھی بلاتا ہوں۔‘‘
’’فضلو بابا۔‘‘ فون بند کر کے دلکش نے مشتاق نظروں سے اپنی جانب دیکھتے فضلو بابا کو مخاطب کیا۔ ’’عدیل مجھے کھنڈرات والے تہہ خانے تک لے جانا چاہتے ہیں۔‘‘ دلکش نے دھیمی آواز میں انہیں بتایا۔ ’’وہ اپنے والد عقیل شاہ سے مل کر میری باتوں کی سچائی کو پرکھنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’یہ تو بہت اچھی بات ہے۔‘‘ فضلو بابا جلدی سے بولے۔ ’’تم انہیں فون کر کے بلا لو ہم تمہیں وہاں لے چلیں گے۔‘‘
فضلو بابا دلکش کو لے کر جب مقررہ جگہ پر پہنچے تو عدیل پہلے سے ہی وہاں موجود تھے۔
’’فضلو بابا! یہ عدیل صاحب ہیں۔‘‘ انہیں دیکھتے ہی دلکش نے جلدی سے عدیل کا تعارف کروایا۔ ’’اور یہ ہمارے فضلو بابا ہیں۔ اُس دن میں نے ان کے بارے میں آپ کو بتایا تھا نا…؟‘‘
عدیل نے سر کی جنبش سے انہیں سلام کیا۔
فضلو بابا عدیل شاہ کو دیکھ کر حیران ہونے کے ساتھ خوش بھی ہوگئے تھے۔ یوں تو ایک دو بار انہوں نے عدیل کی جھلک دیکھی تھی۔ آج انہیں اپنے سامنے اتنا قریب کھڑے دیکھ کر اُن کی وجاہت کے قائل ہوگئے تھے۔ دلکش کے ساتھ کھڑے وہ کتنے اچھے لگ رہے تھے۔ دونوں کی جوڑی چاند سورج کی جوڑی محسوس ہو رہی تھی۔
’’میں انہیں ساتھ لے کر گائوں کے پرانے کھنڈرات تک جانا چاہتا ہوں۔‘‘ عدیل نے اجازت طلب لہجے میں فضلو بابا سے کہا۔ ’’آپ سے میرا وعدہ ہے کہ انہیں بہ حفاظت واپس آپ تک پہنچا دوں گا۔‘‘
’’ہاں ہاں…‘‘ فضلو بابا نے اثبات میں زور زور سے سر ہلاتے ہوئے کہا۔ ’’کیوں نہیں۔ دلکش بیٹی آپ کی امانت ہے۔ اللہ آپ کی جوڑی سلامت رکھے۔‘‘
عدیل کے ساتھ کار کی طرف بڑھنا دلکش کو اچھا لگ رہا تھا۔
عدیل نے اس کے لیے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا تو دلکش نے آہستگی سے کہا۔ ’’میرا خیال ہے کہ پیچھے بیٹھنا مناسب ہوگا۔ راستے میں کوئی بھی مل سکتا ہے۔‘‘
عدیل کسی بات کو سچ نہیں سمجھ رہے تھے مگر دلکش، جلیل شاہ اور اس کے گرگوں سے محتاط رہنا چاہتی تھی۔
’’جیساآپ چاہیں۔‘‘ عدیل نے بے نیازی سے کندھے اُچکاتے ہوئے جواب دیا اور وہ پچھلا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی۔ اس کے بیٹھتے ہی عدیل نے کار اسٹارٹ کر دی۔ عدیل اور دلکش کے جانے کے بعد فضلو بابا بھی جیپ میں آ بیٹھے تھے۔
ہر سمت ایک پُراسرار سکوت پھیلا ہوا تھا۔ دلکش متوحش نظروں سے چاروں طرف دیکھتے ہوئی کھنڈر کے دروازے کی طرف بڑھی، عدیل اس کے ہم قدم تھے۔ دلکش کے ہاتھ لگاتے ہی دروازہ کھلتا چلا گیا۔
’’یہ کیا دروازہ تو کھلا ہوا ہے۔‘‘ عدیل حیران ہوئے۔ اگر اس دروازے کے اُس پار تہہ خانے میں کسی کو قید کر کے رکھا گیا تھا تو کم از کم دروازہ تو لاک کرنا چاہیے تھا۔ ویسے بھی وہ سوچ رہے تھے کوئی بھی ذی شعور آدمی اتنا بڑا جرم کرنے کے بعد گائوں کے اتنی قریب جگہ کا انتخاب کیونکر کر سکتا ہے؟ انہیں خود پر غصہ آنے لگا کہ وہ بلاوجہ دلکش کی باتوں میں آ کر یہاں آ گئے۔ ہر سمت پھیلی خاموشی اس بات کی غماز تھی کہ یہاں کوئی ذی نفس موجود نہیں ہے۔
وہ دلکش کے ساتھ سیڑھیاں اُترتے تہہ خانے میں آ گئے۔ یہ ایک درمیانی سائز کا ہال نما کمرہ تھا جس کے تینوں جانب دروازے تھے۔ دلکش دائیں جانب والے دروازے کی طرف بڑھی۔
’’یہاں تو کوئی بھی موجود نہیں؟‘‘ عدیل نے خالی ہال کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اس کمرے میں…‘‘ دلکش نے اشارے سے بتایا اور تیزی سے دروازہ کھولتی اندر داخل ہوگئی۔ وہ کمرہ بھی خالی پڑا تھا۔ وہاں کوئی ایسی چیز بھی موجود نہیں تھی جس کی وجہ سے وہاں کسی انسان کے موجود ہونے کے شواہد مل سکتے۔
’’دلکش تمہیں یقیناً غلط فہمی ہوئی ہے۔‘‘ عدیل نے خشک لہجے میں کہا۔ ’’پورا تہہ خانہ خالی پڑا ہے اور آثار بتا رہے ہیں کہ برسوں سے یہاں کوئی نہیں آیا۔‘‘
’’آپ یقین کیجیے یہیں میری ملاقات آپ کے والد عقیل شاہ اور دینو بابا سے ہوئی تھی۔‘‘
’’دینو بابا۔‘‘ نام سن کر عدیل اُچھل پڑے۔ ’’او مائی گاڈ… دلکش تمہیں ضرور کوئی نفسیاتی عارضہ لاحق ہے۔ تم جس شخص کا نام لے رہی ہو برسوں پہلے اس کا انتقال ہو چکا ہے میرے امریکہ جانے سے بھی پہلے۔‘‘
’’نہیں عدیل، دُنیا کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کے لیے وہ جلیل شاہ کا کوئی فریب ہوگا۔ دینو بابا زندہ ہیں اور آپ کے والد کے ساتھ ہیں۔‘‘
’’بس بہت ہو چکا۔‘‘ عدیل رُک گئے۔ ’’مجھے افسوس ہے کہ میں تمہاری باتوں میں آ کر یہاں کیوں آ گیا، چلو اب واپس چلو۔‘‘
’’عدیل وہ سامنے والا کمرہ… اس کمرے میں عقیل شاہ بابا کا بستر لگا ہوا تھا۔‘‘
’’پلیز فار گاڈ سیک دلکش۔‘‘ عدیل عاجز کن لہجے میں بولے۔ ’’یہاں کوئی موجود نہیں ہے یہاں کسی کا بستر نہیں تھا۔ یہ قید خانہ برسوں سے خالی پڑا ہے اور ساری کہانی محض تمہاری ذہنی اختراع ہے۔ جھوٹ پر مبنی ہے۔‘‘ وہ پائوں پٹختے سیڑھیوں کی طرف بڑھے۔
’’پلیز عدیل… ایک منٹ رُکیے۔‘‘ دلکش کی التجا بھری آواز انہیں اپنے پیچھے سے آتی سُنائی دی۔ پھر وہ رُکے نہیں، پائوں پٹختے سیڑھیاں چڑھتے چلے گئے۔ دلکش جونہی اُن کی جانب لپکی کسی نے اپنا مضبوط ہاتھ اس کے منہ پر رکھ کر اُسے بازوئوں میں دبوچ لیا۔
عدیل اُوپر پہنچ چکے تھے، اُوپر پہنچ کر چند لمحوں تک انہوں نے دلکش کی واپسی کا انتظار کیا مگر اسے واپس آتے نہ دیکھ کر وہ اپنی کار میں جا بیٹھے تھے۔ کار اسٹارٹ کرنے سے پہلے کچھ لمحوں تک انہوں نے دلکش کی راہ دیکھی مگر وہ اُوپر آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ انہیں اس وقت دلکش پر بہت غصہ آ
رہا تھا۔ اُس سے زیادہ انہیں اپنے آپ پر غصہ تھا۔ آخر وہ کیوں اس لڑکی کی باتوں میں آ گئے۔ انہوں نے کرب بھرے انداز میں سوچا اور ایک دَم کار اسٹارٹ کر دی۔
کار اسٹارٹ ہونے کی آواز سن کر دلکش نے تڑپ کر گرفت سے نکلنے کی کوشش کی مگر گرفت بہت سخت تھی۔ گاڑی اسٹارٹ ہو کر جب تک دُور نہیں چلی گئی اُس نے دلکش کو اسی طرح دبوچے رکھا۔ پھر اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔
’’بابا اس بلبل کے ہاتھ باندھ دے اور منہ میں کپڑا ٹھونس دے۔‘‘ عدیل کے چلے جانے کے بعد اسے دبوچنے والے شخص نے پیچھے کی جانب دیکھ کر کہا اور اگلے ہی لمحے حمید اُسے لیے آگے بڑھا۔
’’شکر ہے کہ آج ہم اس چھلاوہ کو پکڑنے میں کامیاب ہوگئے۔‘‘ مرید خان نے مسرت بھرے لہجے میں حمید اور مٹھل کو مخاطب کر کے کہا۔ ’’اب چل، جلدی سے اسے جیپ میں ڈال تاکہ جلد از جلد سائیں کے سامنے پیش کر دیں۔‘‘ حمید اسے گھسیٹتا چل دیا۔ جیپ کھنڈرات سے نیچے ڈھلواں جگہ پر اس طرح کھڑی کی گئی تھی کہ دُور سے دکھائی نہیں دیتی تھی۔
’’بابا مٹھل! چھوکری کو پکڑ کر بیٹھنا۔‘‘ مرید خاں نے پیچھے دیکھے بناحکم صادر کیا۔ ’’کہیں یہ بھی اپنی بہن کی طرح باہر کود کر فرار نہ ہو جائے… ویسے بھی اسے نکل بھاگنے کا بہت تجربہ ہے۔‘‘
جیپ تیز رفتاری سے چلتی ہوئی حویلی کے پچھلے گیٹ کے سامنے آ رُکی تھی۔ مرید خان نے مٹھل کو چابیوں کا گچھا دے کر تالا کھولنے کا حکم دیا۔
مٹھل نے دلکش کو کھینچ کر جیپ سے نیچے اُتارا۔ وہ وحشت زدہ نظروں سے اُس گیٹ کی طرف دیکھ رہی تھی، جسے کچھ عرصے قبل وہ پھلانگ کر بھاگی تھی۔ آج وہ پھر اُسی گیٹ سے اندر لائی گئی تھی۔ سامنے کی جانب برآمدے کے آخری سرے پر خوفناک خوابگاہ تھی جہاں اُس نے جلیل شاہ کو زخمی کر کے اپنی عزت بچائی تھی۔
اُس نے خوفزدہ نظروں سے خواب گاہ کی طرف دیکھا تھا، پر مرید خان اور اس کے ساتھی اسے خواب گاہ کی طرف لے جانے کی بجائے سامنے کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ سامنے طویل برآمدے کے آگے لائن سے کئی گیراج بنے تھے۔ ایک گیراج کے سامنے رُک کر حمید نے لوہے کا شٹر اُٹھایا تو وہ سب گیراج میں داخل ہوگئے۔ گیراج کے بیچوں بیچ دونوں جانب اُونچے قدمچے سے بنے تھے اور درمیان میں ایک گہرا خانہ بنا تھا۔ وہ تینوں دلکش کو دھکیلتے ہوئے اس کے اندر داخل ہوگئے۔ کونے میں ایک چوکور لکڑی کا تختہ تھا۔ اس کے اُٹھاتے ہی نیچے سیڑھیاں نمودار ہوگئی تھیں۔ مرید خان مٹھل اور حمید دلکش کو دھکیلتے سیڑھیاں اُترتے تہہ خانے میں داخل ہوگئے۔
یہ ایک بڑا کمرہ تھا۔ دروازے کے ساتھ ہی ایک صوفہ تھا جس پر جلیل شاہ پائوں پسارے بیٹھا تھا۔ سامنے کونے کی جانب آخری سرے پر ایک ستون کے ساتھ عقیل شاہ اور دوسرے ستون کے ساتھ دینو بابا بندھے ہوئے تھے۔
دلکش نے وحشت زدہ نظروں سے اُن دونوں کی طرف دیکھا۔ وہ دونوں بھی اسے بے بس اور دُکھی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
’’سائیں وڈا… آپ کی مجرم حاضر ہے۔‘‘ مرید خان نے آگے بڑھ کر دلکش کے منہ سے کپڑا اُتارتے ہوئے قدرے فخریہ انداز میں کہا۔
جلیل شاہ نے گھوم کر دلکش کی طرف دیکھا، اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ ’’مجرم تو ہے مرید خان مگر چاند کا ٹکڑا ہے… بلکہ چودھویں کا پورا چاند۔ پہلی ہی نگاہ میں ہم اس چاند چہرے پر فدا ہوگئے تھے مگر یہ ہمیں زخمی کر کے فرار ہوگئی تھی۔ ہم نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جب بھی سامنے آئی اسے گولی سے اُڑا دیں گے مگر آج سامنے دیکھ کر ہم اپنا فیصلہ تو کیا خود کو بھی بھلا بیٹھے ہیں۔‘‘
’’پر سائیں میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ آپ کو یہ بات کیسے پتا پڑی، کہ یہ چھوکری ادھر تہہ خانے میں وڈے سائیں عقیل شاہ سے ملی تھی اور اُن سے دوبارہ آنے کا وعدہ کر گئی تھی۔‘‘ وہ سوال جو بہت دیر سے مرید خان کے ذہن میں چبھ رہا تھا آخر لبوں تک آ گیا۔
’’اس دینو نے بھنگ کے نشے میں میرے سامنے سب بک دیا تھا۔‘‘ جلیل شاہ نے سامنے ستون سے بندھے دینو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔ ’’بس اُسی شام میں نے ان دونوں کو کھنڈر والے تہہ خانے سے حویلی کے اس تہہ خانے میں منتقل کر دیا تھا اور تم لوگوں کی ڈیوٹی اس کھنڈر پر لگا دی تھی۔ مجھے پتا تھا کبھی نہ کبھی یہ اس کھنڈر پر ضرور آئے گی اور تم لوگوں نے دیکھا میرا اندازہ کتنا دُرست تھا۔‘‘
’’واہ سائیں کمال ہے۔‘‘ مٹھل نے خوشامدی انداز میں سر ہلایا۔ ’’سائیں اب اس چھوکری کا کیا کرنا ہے؟ آپ کہیں تو جس طرح آپ کے حکم پر مٹھل نے نوشابہ بیگم کو گولی سے اُڑا دیا تھا، اسی طرح اسے بھی میں…‘‘
’’نہیں مرید خان ابھی نہیں۔‘‘ جلیل شاہ نے دھیمے لہجے میں کہا۔ ’’جس طرح ہم نے عقیل شاہ کو زندہ رکھا ہے اسی طرح ابھی کچھ عرصے اسے بھی زندہ رکھیں گے۔‘‘
’’کیوں سائیں۔‘‘ مرید خان نے سوال کیا۔
مرید خان کی آج تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی تھی کہ آخر عقیل شاہ کو کیوں زندہ رکھا ہے۔ اپنے وکیل دوست اور عقیل شاہ کی بیگم نوشابہ کی طرح قتل کیوں نہیں کروا دیا۔ اس کے سوال پر جلیل شاہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولا۔ ’’میں نے اپنے بھائی کو اس لیے اس کی بیوی کے ساتھ نہیں بھیجا کہ اگر اس کا بیٹا بڑا ہو کر اپنی جائداد میرے نام کرنے سے انکاری ہو تو میں عدیل شاہ کو قتل کروا کر اپنے اس پاگل بھائی عقیل شاہ کو منظرعام پر لا کر اس کی ساری دولت اپنے نام کروا لوں… اب سمجھا؟‘‘
’’جی سائیں۔‘‘ مرید شاہ نے سر ہلایا۔ اُسی وقت سیڑھیوں پر چاپ اُبھری اور اگلے ہی لمحے دھڑ سے دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا۔
’’عدیل…‘‘ دلکش نے وحشت زدہ انداز میں ان کا نام لیا۔ ’’آپ یہاں کیوں آئے؟‘‘
عدیل نے اس کی طرف توجہ نہیں دی۔ وہ آنکھوں میں نفرت لیے جلیل شاہ کی طرف دیکھے جا رہے تھے۔
’’یہ آپ ہیں؟‘‘ چند لمحوں بعد عدیل کے حلق سے گھٹی گھٹی آواز نکلی۔
’’اور… تم… تمہیں یہاں دیکھ کر مجھے حیرت ہو رہی ہے۔‘‘ جلیل شاہ عدیل کو اچانک اپنے سامنے دیکھ کر کچھ نروس ہو گیا تھا۔
’’کاش میں نے آپ کا یہ کریہہ اور بدنما چہرہ نہ دیکھا ہوتا۔‘‘ عدیل اذیت بھرے لہجے میں بولے۔ ’’آپ اندر سے اتنے غلیظ اور کمینے ہو سکتے ہیں میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔‘‘ عقیل شاہ ٹکٹکی باندھے عدیل کی طرف دیکھ رہے تھے۔ عدیل نے اپنے چہرے پر اُن کی نظروں کی تپش کو محسوس کرتے ہوئے پلٹ کر اُن کی طرف دیکھا تھا۔
’’میرا دل یہ بات کسی طرح ماننے کو تیار نہیں تھا کہ آپ نے میرے بابا کو نیم پاگل کر کے برسوں سے ایک تہہ خانے میں بند کر رکھا ہے۔ آپ نے میری ماں کو قتل کروایا اور دلکش سے میری شادی صرف اس لیے کروائی کہ خود آپ کی اُس پر نظر تھی… میں آپ کو دیوتا سمجھتا تھا مگر آپ تو انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں… آپ تو شیطان سے بھی بڑے شیطان ہیں۔‘‘
’’اوہ… اب جبکہ تم نے میرا اصل چہرہ دیکھ لیا ہے تو میرا خیال ہے کہ اب مجھے اُس کام میں دیر نہیں کرنی چاہیے جس کے لیے میں برسوں سے محنت کر رہا ہوں۔‘‘ پھر اُس نے مرید خان کو مخاطب کر کے حکم دیا۔ ’’مرید خان! وکیل کو فون کرو۔ اُس سے کہو کہ جائداد اور کاروبار کے کاغذات لے کے فوراً آ جائے… ہمارا پیارا بھتیجا عدیل شاہ اپنی ساری دولت و جائداد اپنے پیارے چاچا کے نام کرنے جا رہا ہے۔‘‘
’’آپ کو دولت و جائداد چاہیے تھی نا؟‘‘ عدیل شاہ کرب بھرے انداز میں بولے۔ ’’اسی کی خاطر آپ اپنوں کی جان لیتے رہے۔ آپ نے ایک اشارہ کیا ہوتا مجھ سے پہلے میرے ماں باپ یہ سب آپ کے نام کر دیتے… آپ ایک بار کہہ کر تو دیکھتے یہ دولت کیا چیز ہے میں اپنی جان بھی آپ پر نثار کر دیتا۔‘‘
’’تمہاری جان دینے کی یہ آرزو بھی ہم ضرور پوری کریں گے۔‘‘ جلیل شاہ سفّاکی سے مسکرایا۔ ’’جب تم اپنی ساری دولت میرے نام لکھ دو گے تو تمہیں، تمہارے بوڑھے نیم پاگل باپ اور تمہاری بیوی کو میں موت کی نیند سُلا دوں گا… تم لوگ دُنیا میں تو ساتھ نہیں رہ سکے مگر دُنیا سے ایک ساتھ جائو گے۔‘‘
عدیل نے پلٹ کر دلکش کی طرف دیکھا۔ وہ اسے تہہ خانے میں چھوڑ کر کار اسٹارٹ کر کے شہر کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔ انہیں دلکش سے زیادہ خود پر غصہ تھا مگر کچھ دُور جا کر انہیں خیال آیا کہ وہ فضلو بابا سے وعدہ کر کے آئے ہیں کہ دلکش کو بہ حفاظت واپس اُن کے حوالے کریں گے۔ بھلا وہ اکیلی ان کھنڈرات سے کس طرح شہر پہنچ پائے گی یہی سوچ کر وہ واپس پلٹ آئے تھے اور جب کھنڈرات کے قریب پہنچے تو انہوں نے مرید خان، مٹھل اور حمید کو دلکش کو گھسیٹتے ہوئے جیپ کی طرف لے جاتے ہوئے دیکھا۔ وہ اپنی جگہ سُن ہوگئے تھے۔ پھر مرید خان کی جیپ سے کچھ فاصلہ رکھ کر اس کے پیچھے چلتے، اس تہہ خانے تک آ پہنچے تھے اور دروازے پر رُک کر جلیل شاہ کی زبانی اس کے کارنامے سنے تھے۔ کتنی دیر وہ سکتے کی سی کیفیت میں کھڑے رہ گئے تھے۔ انہیں اپنی سماعت پر یقین نہیں آ رہا تھا۔
دلکش کی بتائی ہوئی ایک ایک بات سچ ثابت ہوئی تھی۔ وہ دُکھ تاسف اور اذیّت کے ریلے میں بہہ کر اندر چلے آئے۔ یہاں انہوں نے ستون سے بندھے اُس بوڑھے شخص کو دیکھا جو اُن کا باپ عقیل شاہ تھا۔ اُن کے ساتھ دینو بابا تھا جن کے انتقال کی خبر برسوں پہلے خود جلیل شاہ نے پھیلائی تھی اور اُن سے چند قدموں کے فاصلے پر وہ لڑکی کھڑی تھی جس کا نام دلکش تھا۔ اور قدرت نے اس کا نام اُن کے نام سے جوڑ دیا تھا۔ اُن کی شریک زندگی بننے کے بعد، وہ آج تک دُکھ جھیلتی آئی تھی۔ اس شادی کے طفیل اس کا پورا خاندان مٹ گیا تھا۔ اتنا سب ہونے کے باوجود اس کے دل میں اُن کے لیے احترام تھا، محبت تھی۔ وہ انہیں پانا چاہتی تھی۔ اللہ نے انہیں اُس کا جیون ساتھی بنا دیا تھا۔ وہ اُن کے قدموں میں اپنا جیون گزارنا چاہتی تھی اسی لیے انہیں سچائی تک پہنچانے کے جتن میں لگی تھی۔
پہلی بار دیکھنے پر انہیں دلکش اچھی لگی تھی۔ اس کے گھر کے اَدھ کھلے کواڑ سے جھانکتا اس کا کومل چہرہ دل میں اُترتا محسوس ہوا تھا۔ پر بعد میں جلیل شاہ سے اس کے خلاف باتیں سن کر اُن کے دل میں دلکش کے لیے ایک دُوری آ گئی تھی پھر بھی چاہنے کے باوجود وہ اُس سے نفرت نہیں کرسکے تھے۔ اس پل انہیں اپنے دل میں دلکش کے لیے ایک نئے انجانے جذبے کا احساس ہو رہا تھا۔
’’مرید خان!‘‘ جلیل شاہ نے مرید خان کو مخاطب کیا۔ ’’جب تک وکیل آتا ہے تو ہمارے بھتیجے کو بھی
� کی دُلہن کے ساتھ ستون سے باندھ دے۔ بندھے رہ کر ہی سہی کچھ دیر تو دونوں ساتھ وقت گزار لیں۔‘‘
مرید خان کو اپنی جانب بڑھتے دیکھ کر عدیل نے اسے گھور کردیکھا تو وہ اپنی جگہ سہم کر رُک گیا اور عدیل باوقار انداز میں چلتے دلکش کے قریب جا کھڑے ہوئے۔ اُن سے کچھ فاصلے پر عقیل شاہ موجود تھے، اُن کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ باپ کے سینے سے جا لگیں مگر وہ ضبط کیے دلکش کے قریب کھڑے رہے۔ دلکش نے متاسف لہجے میں کہا۔ ’’آپ … آپ کیوں آئے یہاں؟‘‘
’’یہاں نہ آتا تو کیسے جان پاتا کہ تم نے سچ بولا تھا۔‘‘ عدیل نے دھیمے اور نرم لہجے میں جواب دیا۔ ’’مجھے افسوس ہے دلکش کہ تمہاری زندگی کی تمام مشکلات کی وجہ میں ہوں۔‘‘
’’ایسا مت کہیئے۔‘‘ دلکش تڑپتے لہجے میں بولی۔ ’’آپ ہی کی وجہ سے تو میں آج تک زندہ ہوں۔ آپ کو پا لینے کا یقین نہ ہوتا تو میں کب کی موت کی گود میں جا سوئی ہوتی۔‘‘
’’دلکش! میں نے جب تمہیں پہلی بار دیکھا تھا تو تمہارے ساتھ زندگی گزارنے کی خواہش نے میرے دل میں جنم لیا تھا۔ یہ خواہش شاید پوری نہ ہو سکے لیکن مجھے خوشی ہے زندگی نہ سہی موت کو ہم ایک ساتھ گلے لگائیں گے… تمہیں ڈر تو نہیں لگ رہا؟‘‘
’’آپ کے قدموں میں زندگی گزرے یا آپ کے ساتھ موت آئے اس سے بڑھ کر بھلا میں اور کیا چاہ سکتی ہوں۔‘‘
عدیل نے آنکھوں میں جہان بھر کا پیار سمیٹ کر دلکش کی طرف دیکھا۔ دلکش کی حیا بار نگاہیں گلنار رُخساروں پر جھک گئی تھیں۔
ٹھیک اسی لمحے سیڑھیوں پر کچھ کھٹر پٹر ہوئی اور کوئی تیزی سے اندر داخل ہوا۔
’’کون ہو تم…‘‘ مرید خان نے ڈپٹ کر پوچھا۔ ’’یہاں کیسے آئے؟‘‘
’’اس دروازے سے۔‘‘ فضلو بابا نے بڑی معصومیت سے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
’’ارے بدبختو! تم لوگوں نے اس پوشیدہ تہہ خان کو شاہراہ عام بنا دیا ہے۔‘‘ جلیل شاہ غصے سے بولا۔ ’’کیا اُوپر کے سارے دروازے کھلے چھوڑ آئے ہو کہ جس کا دل چاہے منہ اُٹھا کر یہاں پہنچ جائے۔‘‘
تب ہی ایک بار پھر دھڑ سے دروازہ کھلا اور یکے بعد دیگرے کئی پولیس والے اندر داخل ہوئے۔ سب سے آگے ڈی آئی جی اعظم خان تھے۔
’’خبردار کوئی بھی اپنی جگہ سے نہ ہلے۔‘‘ اعظم خان کی کراری آواز گونجی۔ انہوں نے ہاتھ میں پستول تانا ہوا تھا۔
اعظم خان کو دیکھ کر جلیل شاہ اُچھل پڑا۔ اعظم خان سارے گرگوں کی گرفتاری کا آرڈر دیتے جلیل شاہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ ’’جلیل شاہ میں تمہیں گرفتار کرتا ہوں۔‘‘
’’اعظم خان! میں تمہارا دوست ہوں۔‘‘ جلیل شاہ نے ہتھکڑی دیکھ کر گھبرائے ہوئے لہجے میں یاد دلایا۔
’’مجھے اس بات کا ہمیشہ افسوس رہے گا کہ میں تمہارے اندر موجود شیطان صفت انسان کو نہ پہچان سکا اور تم جیسے کریہہ انسان کی دوستی کا دَم بھرتا رہا۔‘‘ اعظم خان نے متاسف لہجے میں کہا۔
ایک پولیس مین نے دینو بابا، عقیل شاہ اور دلکش کو بندھنوں سے آزاد کر دیا۔
عقیل شاہ نے ہاتھ پھیلا کر عدیل کو پکارا۔ ’’میرے بچّے میرے عدیل۔‘‘ اور عدیل اُن کے سینے میں جا سمائے۔ جلیل شاہ اور اس کے گرگوں کو ہتھکڑیاں پہنا کر دیگر پولیس والوں کے حوالے کر کے اعظم خان عدیل اورعقیل شاہ کے قریب آگئے۔
’’تھینک یو انکل۔‘‘ عدیل نے انہیں مخاطب کر کے ممنون لہجے میں کہا۔
’’ارے بھائی شکریہ تم میرا نہیں، فضلو بابا کا ادا کرو۔‘‘ وہ فضلو بابا کی پیٹھ تھپک کر بولے۔ ’’تم دونوں کے جانے کے بعد یہ بہت پریشان ہوگئے تھے ان کی سمجھ میں جب کچھ نہیں آیا تو یہ میرے گھر چلے آئے اور سونم سے قصہ بیان کیا۔ سونم نے میرے پاس آ کر ساری بات بتائی اور مجھے فوراً اندازہ ہو گیا کہ تمہارے ساتھ دلکش کی زندگی بھی خطرے میں ہے سو میں پولیس نفری لے کے فوراً نکل پڑا اورتم دیکھ رہے ہو میرا اندازہ کتنا دُرست ثابت ہوا۔‘‘
جلیل شاہ کی جرائم کی فہرست اتنی طویل تھی کہ اس کے بچ نکلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ مرید خان سلطانی گواہ بن گیا۔ اس کی گواہی پر جلیل شاہ پر نوشابہ بیگم کے والد اور نوشابہ بیگم کے قتل کے علاوہ دلکش کی نانی اور سوتیلی ماں کے قتل کے کیس بھی بنے۔
مصعب کو پورا یقین تھا کہ جلیل شاہ کو پھانسی سے کم سزا نہیں ہوگی۔ دلکش کے کیس کی وہی پیروی کر رہے تھے۔ خبر ملتے ہی مصعب اور سجیلہ فوراً واپس آ گئے تھے۔ عقیل شاہ کی خواہش تھی کہ کیونکہ دلکش اور عدیل کی پہلے ہی شادی ہو چکی تھی اس لیے اب وہ دونوں اُن کے ساتھ حویلی میں رہیں۔ مگر سجیلہ کی خواہش تھی کہ دلکش کو ایک بار پھر دُلہن بنا کر اپنے گھر سے رُخصت کرے۔ اس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ایک مہکتی ہوئی شام کو عدیل اپنے والد عقیل شاہ کے ساتھ مصعب کے گھر بارات لے کے پہنچے، شادی میں شرکت کے لیے سونم اپنے منگیتر ایس ایس پی سلمان علی کے ساتھ آئی تھی۔
’’منگنی مبارک ہو۔‘‘ دلکش نے سونم کے گلے لگتے ہوئے سرگوشی کی۔ ’’کیسے ہیں سلمان بھائی؟‘‘
’’بہت اچھے ہیں۔‘‘ سونم مسکراتے لہجے میں بولی۔ ’’بہت ہی اچھے ہیں تمہارے سلمان بھائی مگر ہمارے عدیل بھائی سے زیادہ اچھے نہیں ہیں۔‘‘
دلکش بے ساختہ ہنس پڑی۔ اس کی ہنسی میں زندگی سے بھرپور سونم کا قہقہہ بھی شامل تھا۔
حویلی کی پہلی منزل پر ایک وسیع و کشادہ خوابگاہ کو بے حد خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ دلکش دُلہن بنی نگاہیں جھکائے عدیل کی منتظر تھی۔ تب ہی آہستگی سے دروازہ کھلا۔ کوئی آہستگی سے چلتا اس کے قریب چلا آیا تھا۔ پھر دو ہاتھ آگے بڑھے اور عدیل نے اس کا گھونگھٹ اُلٹ دیا۔
دلکش نے پٹ سے بند آنکھیں کھول دی تھیں، اس کے سامنے عدیل کا مسکراتا ہوا چہرہ تھا۔ عدیل نے بانہیں پھیلا کر دلکش کو اپنی محبت کی پناہوں میں لے لیا۔
رات دبے پائوں گزرتی جا رہی تھی۔ مہکتے لمحے چپکے چپکے سرکتے جارہے تھے۔ اسیرانِ عشق وصل کی شوخ اور آزاد فضائوں میں ملاپ کے خوش رنگ پھول چُن رہے تھے۔ پتا ہی نہیں چلا کب رات بیت گئی۔ دُور مشرقی اُفق سے جھانکتی صبح، اپنی سنہری پوروں سے خواب ریزے چُنتی حویلی کے خوابیدہ در و دیوار کی طرف بڑھ رہی تھی۔ (ختم شد)