Aulad Kam Na Aye | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2450
خالہ نے میری پرورش کی اور جب میں پندرہ برس کی ہوئی تو انہوں نے میری شادی اپنے اکلوتے بیٹے نعیم سے کردی۔ نعیم میرا بہت خیال رکھتے تھے۔ وہ زیادہ امیر نہ تھے مگر اتنا کما لیتے تھے کہ ہم خوش و خرم زندگی بسر کررہے تھے۔ سات برس ہماری ازدواجی زندگی رہی۔ اس دوران دو بیٹے اور ایک بیٹی نے جنم لیا۔ خالہ ساس بن گئی تھیں مگر ماں جیسی محبت اب بھی کرتی تھیں۔ مجھ سے زیادہ میرے بچوں کو سنبھالتیں۔ ان کی تمام دیکھ بھال وہی کرتی تھیں۔
ہمارا گھر سکون کا گہوارہ تھا کہ اچانک وقت نے کروٹ لی اور سکون کا یہ آشیانہ تنکا تنکا ہوگیا۔ ایک روز نعیم کام سے لوٹے تو تھکے تھکے تھے۔ میں نے کھانے کا پوچھا تو کہا۔ کھانا ابھی نہیں کھائوں گا، پیاس لگی ہے، ٹھنڈا شربت دے دو۔ یہ کہہ کر وہ چارپائی پر لیٹ گئے اور میں کچن میں شربت بنانے چلی گئی۔ کچن سے لوٹی تو وہ آنکھیں بند کئے لیٹے تھے۔ میں نے آواز دی۔ نعیم کیا سو گئے؟ شربت پی لیں۔ انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ سمجھی واقعی سو گئے ہیں۔ شربت کا جگ واپس لے آئی اور کچن میں رکھ دیا کہ جب نیند سے جاگیں گے تو پی لیں گے۔
دو گھنٹے گزر گئے۔ انہوں نے کروٹ نہ لی۔ میں بچوں میں لگی رہی۔ خالہ بازار سے سودا سلف لے کر لوٹیں تو نعیم کو دراز پایا۔ بولیں۔ نعیم آگیا کیا اور یہ بے وقت کیوں سو رہا ہے؟ اب تو مغرب ہونے کو ہے، جگادو، ورنہ رات کو نیند نہیں آئے گی۔ میں ان کے قریب گئی۔ جگانے کے لیے کندھا ہلایا مگر وہ نہ اٹھے۔ دراصل ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی تھی۔ وہ عمر میں مجھ سے بڑے ضرور تھے لیکن یہ کبھی نہ سوچا تھا کہ اتنی جلدی ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ مجھ پر تو جیسے قیامت ٹوٹ گئی۔ ماں، باپ سے محروم تھی۔ خالہ کا بھی بیٹے کے سوا کوئی نہ تھا۔ وہ بھی نعیم کے جانے کی وجہ سے بے آسرا ہوگئی تھیں۔ اب تین چھوٹے بچوں کا ساتھ تھا اور ہم دو لاچار عورتیں…! میں پڑھی لکھی نہ تھی اور وہ عمر رسیدہ تھیں۔ دونوں ہی نوکری کرنے سے معذور تھیں۔ غرض نعیم کے بعد ہم پر برے دن آگئے یہاں تک کہ گھر میں پھوڑی کوڑی بھی نہ رہی۔
ہم تو فاقے برداشت کرلیتے لیکن میری ساس سے پوتوں اور پوتی کا بلکنا دیکھا نہ جاتا تھا۔ ان دنوں ان کی دل جوئی کو نعیم کے ایک دوست وحید آنے لگے۔ جب انہوں نے ہمارے گھر میں فاقے دیکھے تو مالی مدد کرنے لگے۔ وہ میری ساس کے بیٹے بنے ہوئے تھے۔ شادی شدہ نہ تھے۔ ایک دن خالہ سے کہا۔ ماں جی! کوئی لڑکی نظر میں ہو تو میری شادی کرادو چاہے بیوہ ہی کیوں نہ ہو۔ خالہ اس کا اشارہ سمجھ گئیں۔ ایک روز مجھے سمجھانے لگیں۔ بیٹی! میں بوڑھی ہوں۔ آج ہوں کل نہیں ہوں گی۔ تم جوان ہو اور عمر بھر تنہا زندگی نہیں گزار سکتیں۔ بچوں کو بھی سہارے کی ضرورت ہے۔ بہتر ہے دوسری شادی کرلو۔
خالہ جی! قیامت کے دن نعیم کو کیا منہ دکھائوں گی اور بچوں کا کیا بنے گا۔ جب میری ماں نے بیوگی کے بعد دوسری شادی کرلی تو میں نے سوتیلے باپ کو قبول نہ کیا تھا اور آپ کے پاس آگئی تھی تو میرے بچے کیونکر کسی دوسرے شخص کو باپ کی جگہ قبول کریں گے۔ وہ اس سے ہی نہیں مجھ سے بھی نفرت کرنے لگیں گے پھر یہ ضروری تو نہیں کہ سوتیلا باپ ان کی پرورش کو بوجھ نہ سمجھے اور ان کے ساتھ ہمیشہ اچھا رویہ رکھے۔ اگر اس نے برا سلوک کیا، تب کیا ہوگا؟
جب گھر میں مسلسل فاقے ناقابل برداشت ہوگئے اور بچے بیمار رہنے لگے، دوا کی استطاعت نہ رہی تو میری ساس مجھ سے زیادہ بچوں کی حالت پر رویا کرتی تھیں۔ وہ بار بار سمجھاتی تھیں کہ تم بچوں کی خاطر دوسری شادی کرلو اور باقی سب مجھ پر چھوڑ دو۔ ابھی ان مسائل کے حل کرنے کا وقت ہے، بعد میں پچھتائو گی۔
وحید ایک ماہ میں دو تین بار ہمارے گھر بچوں کی خیریت دریافت کرنے آتا تھا۔ ساس نے اشارے کنایے، پھر صاف الفاظ میں سمجھایا کہ یہ آدمی اچھا ہے۔ دیکھا بھالا ہے، بچوں کا بوجھ اٹھانے کو تیار ہے۔ کل ہم نہ رہے، تمہارے بچے فاقوں سے مر جائیں گے یا سڑکوں پر بھیک مانگیں گے۔ اپنی خاطر نہ سہی، میری خاطر اس سے نکاح کرلو۔
دوسری شادی ہرگز نہ کرنا چاہتی تھی لیکن ساس کے مجبور کرنے پر ہامی بھر لی۔ طے پایا کہ بچے، ساس اپنے پاس رکھیں گی اور میں نکاح کے بعد وحید کے گھر میں رہوں گی۔ بچوں کو فی
الحال شادی کا نہیں بتائیں گے لیکن ان سے ملنے آتی رہوں گی اور وہ باقاعدگی سے خرچہ دیں گے۔ وحید نے بہت سمجھایا کہ بچوں کو ابھی بتا دو، میں ان کو ساتھ رکھنے پر تیار ہوں لیکن میں راضی نہ ہوئی۔ ان کو صدمہ نہیں دینا چاہتی تھی کہ وہ ابھی سوچنے سمجھنے کے قابل نہ ہوئے تھے۔ نکاح کے بعد میں نے بچوں سے یہی کہا کہ شہر کے اسپتال میں ملازمت کرنے جاتی ہوں، ہر ہفتے چھٹی کے دن تمہارے پاس آجائوں گی۔
بچے، دادی کو سونپ کر میں وحید کے پاس رہنے لگی اور وہ باقاعدگی سے بچوں کا خرچہ میری ساس کو دیتے تھے۔ میں ہر ہفتے بچوں کے پاس رہنے آجاتی۔ وحید بہت اچھے آدمی تھے۔ وہ خود مجھے چھوڑنے آتے اور پھر لے جاتے۔ کبھی روکا نہ ٹوکا۔ جب جی چاہتا کہتی بچوں سے ملنا ہے اسی وقت لے جاتے۔ بچے بھی میری غیر حاضری کو زیادہ محسوس نہ کرتے کیونکہ جب آتی ان کے لیے بہت سی چیزیں لاتی۔ وہ ان چیزوں کے خیال میں دن گزار دیتے کہ ماں آئے گی تو ہمارے لیے کچھ لائے گی۔ وہ مجھ سے زیادہ اپنی دادی سے ہلے ہوئے تھے۔ میری ممتا کا گوشہ آسودہ تھا۔ تبھی وحید سے کوئی اختلاف نہ ہوا اور میں اس کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزارنے لگی۔ وہ دو وقت کی روٹی اور دیگر ضرورت میرے بچوں کو مہیا کررہا تھا۔
میری شادی کا علم خالہ کے سوا کسی کو نہ تھا۔ میرے اصرار پر انہوں نے بچوں سے بھی یہ بات چھپا لی تھی۔ وحید کی شرافت اور فراخ دلی کے سبب زندگی کے دن سکون سے گزر رہے تھے۔ جب تک بچے چھوٹے تھے، وحید بھی نعیم کے گھر آتے جاتے رہے لیکن وہ جب سیانے ہوگئے تو میں اکیلی ان سے ملنے جانے لگی۔
وقت گزرتے پتا نہ چلا۔ میرا بیٹا میٹرک میں تھا۔ انہی دنوں لڑکی کا رشتہ بھی آگیا اور خالہ نے اس کا بیاہ کردیا۔ وہ اپنے گھر میں آباد ہوگئی۔ میری بچی کی شادی کے سال بعد خالہ فوت ہوگئیں اور دونوں لڑکے گھر میں اکیلے رہ گئے۔ اب ان کو ماں کی ضرورت تھی۔ انہوں نے اصرار کیا۔ امی! نوکری چھوڑ دو اور ہمارے پاس آکر رہو۔ اب ہم آپ کو شہر نہیں جانے دیں گے۔ وہ خود محنت مزدوری کرنے پر تیار تھے۔ مجھے ہر حال گھر میں رکھنا چاہتے تھے جبکہ میں مجبور تھی۔ میرا اپنا گھر تھا۔ میرے ساتھ وحید تھا۔ وہ میرا ایک مخلص اور باوفا جیون ساتھی تھا۔ اس نے مجھے ہر طرح کا سکھ اور آرام دیا۔ جو میں نے کہا، مانا تھا۔ میری ہر خواہش کا احترام کیا۔ مجھ سے اس کی کوئی اولاد بھی نہ ہوسکی تب بھی صبر، شکر سے کام لیا تھا۔
اتنے اچھے انسان کا اس وقت میں کیسے ساتھ چھوڑ سکتی تھی جب اسے میری رفاقت کی ضرورت تھی کیونکہ وہ اب کچھ بیمار رہنے لگا تھا۔ جب تک دادی زندہ تھی، بچوں نے میری ضرورت محسوس نہ کی لیکن اب انہیں بھی میری ضرورت تھی۔ ان کا اصرار بڑھنے لگا کہ میں ساتھ رہوں۔ وہ ایسی عمر میں تھے کہ مستقل اکیلے نہ رہ سکتے تھے۔ میں سخت پریشان تھی۔ بیٹے جوانی میں قدم رکھنے والے تھے۔ وہ اب کیسے یہ حقیقت برداشت کرتے کہ ان کا باپ کوئی دوسرا شخص تھا۔ وحید کہتے کہ بچوں کو حقیقت سے آگاہ کردو مگر میں انہیں بتانے سے ڈرتی تھی کہیں وہ مجھے چھوڑ کر نہ چلے جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ سوتیلے باپ کو سرے سے قبول نہ کریں یا مجھے وحید سے ملنے سے روکیں۔
ایک دن میرے دونوں لڑکے میرا تعاقب کرکے وحید کے گھر پہنچ گئے۔ اچانک ان پر انکشاف ہوا کہ میں ان کے پاس رہنے سے کیوں مجبور ہوں۔ اس انکشاف پر ان کو دلی صدمہ ہوا۔ چھوٹا بیٹا رونے لگا اور بڑے نے جھگڑا شروع کردیا۔ ان کو یقین نہ آتا تھا کہ میں نے دوسری شادی کرلی ہے۔ بیٹی کو بھی دکھ پہنچا کہ اگر ماں نے دوسری شادی کرلی تھی تو ہم سے کیوں چھپایا۔ لڑکے سرے سے میری شادی کو قبول کرنے پر تیار نہ تھے۔ وہ کہتے۔ تم نے دوسری شادی کیوں کی؟ میں نے لاکھ سمجھایا کہ تمہاری خاطر کی تھی کیونکہ تمہارے اخراجات اٹھانے والا کوئی نہ تھا اور مجھ سے تمہاری حالت دیکھی نہ جاتی تھی لیکن وہ میری اس مجبوری کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ ناراض ہوکر واپس چلے گئے۔ انہوں نے میرے گھر کا پانی تک نہ پیا اور مجھ سے سارے رشتے ختم کردیئے۔
بڑے لڑکے نے محنت مزدوری شروع کردی، میٹرک کا امتحان بھی نہ دیا۔ چھوٹے نے بھی اسکول جانا چھوڑ دیا۔ وہ مجھ سے نہیں ملتے تھے۔ میں ان کی صورت دیکھنے کو ترستی تھی۔ میں ممتا سے مجبور ہوکر ان کے گھر جاتی اور باہر گھنٹوں کھڑی رہتی۔ ایک


روز بڑے بیٹے نے ڈانٹ دیا کہ اماں! خبردار کیا تم گائوں میں ہماری سبکی کرانا چاہتی ہو۔ کیا یہ چاہتی ہو کہ ہمارے دوست اور محلے کے لڑکے ہماری ہنسی اڑائیں۔ اگر آئندہ یہاں نظر آئیں تو ہم اپنے باپ کے گھر کو تالا لگا کر کہیں دور چلے جائیں گے۔ کیا اب تم ہمیں دربدر دیکھنا چاہتی ہو۔
اُف یہ الفاظ تھے یا پگھلا ہوا سیسہ جو میرے کانوں میں پڑا تھا۔ جن بچوں کی خاطر میں نے قربانی دی، اب وہی مجھے گناہگار ٹھہرا رہے تھے۔ بیٹی نے بھی کہہ دیا کہ میرے گھر مت آنا، ایسا نہ ہو کہ سسرال والے تمہاری وجہ سے مجھے گھر سے نکال دیں۔ سچ ہے نکاح چھپانے کی چیز نہیں ہے اور مجھے اسی بات کی سزا ملی۔ زیادہ دکھ اس بات کا تھا کہ میرے دونوں لڑکوں نے اسکول چھوڑ دیا تھا۔ بڑا محنت مزدوری کرتا اور چھوٹا گائوں کی گلیوں میں آوارہ پھرتا تھا۔ انہوں نے ماں کی دوسری شادی کو اپنی بے عزتی کا معاملہ بنا لیا تھا۔ وحید نے میرا حال برا دیکھا تو کہا کہ تم بے شک مجھے چھوڑ کر اپنے بچوں میں چلی جائو۔ مگر میں بیماری میں ان کو چھوڑ کر کیسے جاسکتی تھی۔ یہ بھی خوف تھا کہ شوہر کو چھوڑ کر اولاد کے پاس چلی جائوں وہ بھی وہ بڑھاپے میں، اگر ان کی چھت تلے پناہ نہ ملی تو وحید کی دی ہوئی چھت بھی کھو دوں گی۔ میرا خیال تھا کہ بڑے ہوکر جب سمجھدار ہوجائیں گے، میری مجبوریاں جان جائیں گے۔ مجھے گلے لگا لیں گے۔ میں ان کی شادیاں کروں گی، ان کا سہرا دیکھوں گی۔ مجھے کیا خبر تھی کہ وہ میرے گلے میں دوسری شادی کے جرم میں کانٹوں کے ہار ڈالیں گے۔
جب میرا ابتر حال دیکھا تو وحید نے اپنے طور پر میرے بچوں کو منانے کی کوشش کی۔ انہوں نے وحید پر حملہ کردیا اور پھر اسے تھانے میں بند کرانے کی دھمکیاں دینے لگے۔ وہ بڑی مشکل سے عزت بچا کر واپس آئے تھے۔ گائوں کے بزرگوں تک بات پہنچی، وہ میرے پاس آئے اور کہا۔ اگر تم اپنے موجودہ شوہر کو چھوڑ دو تو ہم تمہارے بیٹوں کو منا لیں گے اور وہ تمہیں اپنے ساتھ رکھ لیں گے لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ بڑھاپے میں طلاق لینے کے بارے میں سوچ کر سہم جاتی ہوں۔ وحید کہتے ہیں شوہر سے وفا کی امید رکھنا مگر اولاد سے نہ رکھنا کہ اولاد بے وفا ہوتی ہے۔ معلوم نہیں یہ سچ ہے کہ جھوٹ! یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ (م۔ک … گجرات)