Bachay Online Khatraat Ki Zad Main | Kids Corner Story

2424
یہ درست ہے کہ انٹرنیٹ نے لوگوں کے لئے بہت سی آسانیاں پیدا کردی ہیں اور اس لحاظ سے انسانیت کی بڑی عظیم خدمت انجام دی ہے اور دے رہا ہے، اسی طرح سوشل میڈیا نے بھی بنی نوع انسان کو فاصلوں کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے رکھنے میں بہت مدد دی ہے لیکن بات صرف اتنی سادہ نہیں۔ جس طرح ہر سکّے کے دو رخ ہوا کرتے ہیں، اسی طرح انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے بھی دو رخ ہیں، ایک روشن اور دوسرا تاریک۔ روشن رخ تو وہی ہے کہ جس کا سطور بالا میں تذکرہ کیا گیا، تاریک رخ یہ ہے کہ منفی سوچ رکھنے والے افراد اور عناصر ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتے ہوئے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو مختلف جرائم اور غلط سرگرمیوں کے لئے بھی استعمال کررہے ہیں۔ کوئی بھی چیز بذات خود اچھی یا بری نہیں ہوتی بلکہ اس کا استعمال اسے اچھا یا برا ثابت کرتا ہے۔ خنجر اگر قاتل کے ہاتھ میں ہو تو زندگی سے محروم کرسکتا ہے اور اگر نشتر کی صورت میں کسی جراح یا سرجن کے ہاتھ میں ہو تو زندگی بچا بھی سکتا ہے۔ آگ سے کتنے ہی مفید کام لئے جاتے ہیں اور یہی آگ کسی کے گھر کو جلا کر خاکستر بھی کرسکتی ہے۔ نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے بجلی پیدا کرنے سمیت کتنے ہی مثبت کام بھی لئے جاسکتے ہیں اور اس کے ذریعے وسیع پیمانے پر تباہی بھی پھیلائی جاسکتی ہے۔ غرض یہ کہ کوئی بھی شے بذات خود اچھی یا بری نہیں ہوتی بلکہ اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ بالکل اسی طرح جہاں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے بیسیوں مثبت استعمال ہیں، انہیں شرپسند عناصر منفی سرگرمیوں کے لئے بھی استعمال کررہے ہیں۔ خاص طور پر بچوں کے لئے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ مجرمانہ ذہن رکھنے والے افراد انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے بچوں تک رسائی حاصل کرکے انہیں جنسی استحصال کا نشانہ بناتے ہیں اور یہ اب ایک بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین سر جوڑ کر بیٹھے ہیں اور اس بارے میں غور و فکر کررہے ہیں کہ کس طرح بچوں کو ان لوگوں کے چنگل سے بچایا جائے۔
گزشتہ دنوں برطانیہ کے وزیر داخلہ پاکستانی نژاد ساجد جاوید نے بچوں کے ’’آن لائن‘‘ جنسی استحصال کے بارے میں جو تازہ ترین اعداد و شمار جاری کئے، انہوں نے سبھی کو پریشان کردیا۔ برطانوی وزیر داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ ان کے ملک میں ہزاروں بچوں کے انٹرنیٹ کے ذریعے شکار کرنے والے افراد کی جانب سے جنسی استحصال اور بلیک میل کئے جانے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں کا جنسی استحصال کرنے والے کم سے کم 80 ہزار افراد سوشل میڈیا سمیت مختلف ویب سائٹس استعمال کررہے ہیں۔ لندن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ساجد جاوید نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس خطرے اور سماجی لعنت کے سدباب کے لئے تعاون کریں اور قابل اعتراض تصاویر اور وڈیوز کو ختم کرنے میں بھی مدد دیں۔
برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق بچوں کے آن لائن جنسی استحصال سے متعلق ٹپس میں700 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ان کی تعداد جو 2012 ء میں 10384 تھی، گزشتہ سال بڑھ کر 82109 تک جا پہنچی۔ بچوں پر جنسی تشدد کی وڈیوز دیکھنے کے کیسز کی تعداد بھی بہت بڑھ چکی ہے۔ ’’این سی اے‘‘ نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ صرف ایک کیس کی تفتیش کے دوران ہی 131 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں ایک سابق پولیس افسر، پانچ اساتذہ اور بچوں کو تفریح طبع فراہم کرنے والا ایک انٹرٹینر شامل ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے 8 لاکھ سے زائد نامناسب تصاویر کو حذف کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق 2017-18 ء میں انٹرنیٹ کے ذریعے بچوں کے جنسی استحصال کے اوسطاً 23کیسز ہر روز سامنے آئے جبکہ اس سے گزشتہ سال یومیہ اوسط محض15 تھی، اس کے علاوہ ہر ماہ اوسطاً 400 ’’شکاریوں‘‘ کو گرفتار کیا گیا اور 500 بچوں کو استحصال سے بچالیا گیا۔ مبصرین کے مطابق برطانوی وزیر داخلہ کی محولہ بالا تقریر کے دوررس نتائج نکلیں گے، بچوں کے بڑھتے ہوئے آن لائن جنسی استحصال سے نمٹنے کے حکومتی طریق کار میں نمایاں تبدیلیاں کی جائیں گی، جن میں ان کیسوں کی تحقیقات کرنے والے تفتیش کاروں کے معاوضے میں اضافہ بھی شامل ہے۔ ساجد جاوید کا کہنا ہے کہ انہوں نے بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے خاتمے کو اپنا ذاتی مشن بنالیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ فیس بک، ٹوئٹر، مائیکروسافٹ اور گوگل جیسی بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں انٹرنیٹ کے ذریعے بچوں کے خلاف جرائم کرنے والوں سے نمٹنے کے لئے مناسب کریک ڈاؤن نہیں کررہی ہیں۔ ’’این سی اے‘‘ کے ریکارڈ کے مطابق صرف برطانیہ میں ہی بچوں کا جنسی استحصال کرنے والے کم سےکم 80ہزار افراد موجود ہیں، ان میں سے 66ہزار افراد وہ ہیں کہ جن کا نام نومبر 2017ء تک جنسی جرائم کے مرتکب افراد کے رجسٹر میں درج کیا جاچکا تھا جبکہ باقی 14ہزار افراد وہ ہیں کہ جنہیں اس کے بعد بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے ارتکاب کے جرم میں سزا ہوچکی ہے یا وہ اس حوالے سے زیرتفتیش ہیں یا پھر انہیں اس الزام کے تحت گرفتار کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’این سی اے‘‘ کی جانب سے جو اعداد و شمار ظاہر کئے گئے ہیں، وہ محض ایک محتاط تخمینہ ہے۔ برطانیہ کی نیشنل سوسائٹی فار دی پریونشن آف کروئیلٹی ٹو چلڈرن (NSPCC) نے دو سال قبل ایک رپورٹ جاری کی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ لگ بھگ پانچ لاکھ برطانوی باشندے انٹرنیٹ پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد دیکھ چکے ہیں۔ برطانوی وزیر داخلہ کے مطابق بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد اب Encryption کا طریقہ بھی اختیار کررہے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کا سراغ لگانا مزید مشکل ہوگیا ہے۔ یہ لوگ اب ’’ڈارک ویب‘‘ اور کمرشل سائٹس کا استعمال کرتے ہوئے ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم پر آتے جاتے رہتے ہیں، اپنی شناخت بدلتے رہتے ہیں اور مسلسل نئے آن لائن اکاؤنٹس بناتے اور ڈیلیٹ کرتے رہتے ہیں تاکہ پکڑے نہ جاسکیں۔ یہ لوگ بھی ان دہشت گردوں جتنے ہی خطرناک ہیں کہ جو اپنی کمین گاہوں میں چھپے بیٹھے ہوں۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس برطانوی محکمہ داخلہ نے ’’پروجیکٹ اراچنڈ‘‘ (Project Arachnid) میں6 لاکھ پونڈ کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ یہ پروجیکٹ ایسی ٹیکنالوجی سے متعلق ہے کہ جس کی مدد سے انٹرنیٹ پر قابل اعتراض مواد کا پتہ چلا کر اسے حذف کیا جاسکتا ہے۔ یہ سسٹم ایک سیکنڈ میں ہزاروں امیجز کے ڈیجیٹل فنگر پرنٹس چیک کرسکتا ہے، اگر کسی قابل اعتراض امیج کو بار بار کاپی کیا جائے تو یہ الارم بجانا شروع کردیتا ہے اور ٹیکنالوجی فرمز کو اس کے بارے میں آگاہ کردیتا ہے تاکہ وہ موثر تادیبی کارروائی کر سکیں۔ یہ سسٹم اب تک 51ارب امیجز کا جائزہ لے کر بچوں کے مبینہ جنسی استحصال سے متعلق1.3 ارب ویب پیجز کی نشاندہی اور 8لاکھ (قابل دست اندازی پولیس) ریڈ نوٹس جاری کرچکا ہے۔ برطانیہ کی نیشنل پولیس چیفس کونسل میں شعبہ ’’چائلڈ پروٹیکشن‘‘ کے سربراہ اور چیف کانسٹیبل سائمن بیلے کہتے ہیں کہ بچوں کو آن لائن جنسی استحصال سے بچانے کے معاملے میں پولیس نے نہایت فعال کردار ادا کیا ہے لیکن ایسے شکاریوں کا مسلسل تعاقب کرنے اور ان پر کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت بھی بڑھتی ہی جارہی ہے، اب یہ شکاری پکڑے جانے سے بچنے کے لئے نہایت ہی پیچیدہ اور اعلیٰ قسم کی ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہے ہیں۔ تمام آن لائن تحقیقات میں ٹیکنالوجی نہایت ہی اہم کردار ادا کرتی ہے اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر بھی یہ اخلاقی اور سماجی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال میں اپنے پلیٹ فارمز کے استعمال کو روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی فرمز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین قریبی اور موثر و فعال تعاون و اشتراک کے ذریعے ہی ان شکاریوں کی جانب سے بچوں کے لئے پیدا کردہ ’’آن لائن خطرات‘‘ میں خاطرخواہ کمی لائی جاسکتی ہے۔
آن لائن جنسی استحصال کے خلاف کام کرنے والے فلاحی ادارے ’’انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن‘‘ کی سربراہ سوسی ہارگریوز کہتی ہیں کہ لائیو اسٹریمنگ، انکرپشن اور گرومنگ، بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خاص اجزا ہیں۔ ادارے کی تازہ ترین رپورٹ بدقسمتی سے اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود قابل اعتراض مواد کی سنگینی میں اضافہ ہوا ہے اور آن لائن جرائم کا ارتکاب کرنے والے افراد اب زیادہ ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کی مدد بھی حاصل کررہے ہیں۔
بچوں سے متعلق ایک فلاحی ادارے ’’برنارڈو‘‘ سے منسلک رضاکار جاوید خان کا کہنا ہے کہ وہ برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید کی جانب سے اس عزم کے اظہار کا پرتپاک خیر مقدم کرتے ہیں کہ اب بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کی لعنت کے خاتمے کے لئے حکومت کی جانب سے زیادہ زور و شور کے ساتھ بڑے پیمانے پر کام کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اب حکومت اپنا یہ وعدہ پورا کرنے کے لئے عملی اقدامات کرے کہ برطانیہ کو پوری دنیا میں انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے محفوظ ترین ملک بنا دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لئے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اس بات پر مجبور کرنا ہوگا کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے موثر اقدامات کریں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر اس کام میں اب ذرا سی بھی تاخیر کی گئی تو اس کا مطلب بچوں کی ایک پوری نسل کو ’’آن لائن خطرات‘‘ کے حوالے کردینا ہوگا۔
بہرحال ایک اچھی خبر یہ ہے کہ انٹرنیٹ سے بچوں کی لاکھوں قابل اعتراض تصاویر ہٹانے کے لیے گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر جیسی بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں نے ایک برطانوی فلاحی ادارے کی کوششوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔ برطانیہ میں بچوں کے استحصال کی مخالفت کرنے والی پہلی تنظیم انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن (آئی ڈبلیو ایف) نے ایک مخصوص ہیش کوڈ کے ساتھ نازیبا اور فحش تصاویر کی فہرست شیئر کرنا شروع کر دی ہے۔ اس فلاحی گروپ کا کہنا ہے کہ تصاویر کو ٹیگ کرنے کا یہ وسیع نظام بچوں کے جنسی استحصال میں ’گیم چینجر‘ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم انٹرنیٹ سیکورٹی ماہرین نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ’ڈارک نیٹ‘ پر ایسی تصاویر کا پتہ نہیں چل پائے گا۔ ’’آئی ڈبلیو ایف‘‘ بچوں کی نازیبا تصاویر کو انٹرنیٹ سے ہٹانے کیلئے کام کررہی ہے۔ وہ ہر فحش اور ناروا تصویر کیلئے ایک مخصوص ہیش کوڈ کا استعمال کرتی ہے، جسے بعض اوقات ڈیجیٹل فنگر پرنٹ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ بچوں کی فحش تصاویر کی ’ہیش لسٹ‘ جاری کرنے سے گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر کو ان تصاویر کو اپنی ویب سائٹس پر اپ لوڈنگ روکنے میں مدد ملے گی۔ آن لائن سیکورٹی ماہرین نے اسے مثبت قدم قرار دیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’ڈارک نیٹ‘ پر موجود مواد کو اس سے نہیں روکا جاسکتا۔ خیال رہے کہ ’ڈارک نیٹ‘ پر رسائی محدود لوگوں کی ہے۔
یاد رہے کہ ’’انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن‘‘ کی سالانہ رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر اور ویڈیوز کو انٹرنیٹ پر ڈالنے کے معاملے میں یورپ گلوبل ہب بن رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں غلط استعمال والے مواد کا 60 فیصد اب یورپ میں پایا جاتا ہے جو کہ پہلے کے مقابلے میں19 فیصد زیادہ ہے۔ آئی ڈبلیو ایف نے کہا ہے کہ یورپی ممالک میں غیرقانونی مواد ڈالنے کے معاملے میں نیدرلینڈز سرفہرست ہے۔ شمالی امریکی ممالک میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں کی جانب سے نگرانی اور رپورٹنگ کے ترقی یافتہ نظام کے سبب اب یہ کام وہاں کے بجائے یورپ کی جانب منتقل ہوا ہے۔ آئی ڈبلیو ایف کی سربراہ سوسی ہارگریوز کا کہنا ہے کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں حالات اب بالکل برعکس ہیں۔ شمالی امریکا کے مقابلے میں اب یورپ بچوں کے جنسی استحصال کا سب سے بڑا منبع بن گیا ہے۔ آئی ڈبلیو ایف کے اعدادوشمار کے مطابق 2015 ء میں غلط مواد سے پر 57 فیصد صفحات شمالی امریکا سے انٹرنیٹ پر ڈالے جاتے تھے۔ 2016 ء میں یہ کم ہو کر 37 فیصد رہ گئے اور اب زیادہ تر صفحات یورپ سے ڈالے جا رہے ہیں۔ آئی ڈبلیو ایف نے بتایا کہ یورپ سے انٹرنیٹ پر ڈالے جانے والے 34212 صفحات ایسے پائے گئے جن میں غلط مواد تھا۔ یورپی ممالک میں روس اور ترکی بھی شامل ہیں۔ سوسی ہارگریوز نے کہا کہ اس منتقلی کا مطلب یہ ہے کہ امریکی صنعت اس مسئلے کے حل کے لیے بہت کام کر رہی ہے اور اس نے مجرموں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے مواد کو اپ لوڈ اور شیئر کرنے کے لیے کہیں اور جائیں۔ امریکا میں گم شدہ اور استحصال کے شکار بچوں کے قومی مرکز ’’این سی ایم ای سی‘‘ کے نائب صدر جان شیہان کا کہنا ہے کہ امریکی آئی ایس پیز کی جانب سے اس طرح کے مواد کی نشاندہی اور پھر اس کو ہٹانے کا کام اس سمت میں ’’قابل قدر علامات ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ امریکی قانون میں یہ بات شامل ہے کہ آئی ایس پیز جب ایسا مواد دیکھیں تو حکام کے اس کے بارے میں مطلع کریں جبکہ یورپ میں کوئی بھی کمپنی سرگرمی کے ساتھ ایسا نہیں کرتی، جس کی وجہ سے رپورٹ میں یہ تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ نیدرلینڈز کی ایک رکن پارلیمان اردا جرکینز کا، جو انٹرنیٹ پر غلط مواد کے خلاف مہم کی نگرانی کرتی ہیں، کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ برسوں میں آئی ایس پیز کی جانب سے ایسے مواد کے خلاف رپورٹنگ میں اضافہ دیکھا ہے۔ یورپی پالیسی میں گزشتہ 12 مہینوں میں کوئی تبدیلی بھی نہیں آئی ہے کہ جس کے سبب ایسا ہوا ہو۔ برطانیہ میں بچوں کے خلاف ظلم کو روکنے کی قومی سوسائٹی کی ترجمان کے مطابق بچوں کے جنسی استحصال والے مواد کی مانگ میں اضافے کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے اور یہ جاننے کی بھی ضرورت ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال والی تصاویر اور ویڈیوز کو دیکھنے سے باز رکھنے کے کیا طریقے ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورت حال اس بات کی مظہر ہے کہ صرف جدید ٹیکنالوجی سے اس قسم کے واقعات کا تدارک ممکن نہیں‘بلکہ اس کے لئے سخت سزائیں بلکہ سرعام کڑی سزائیں ہی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہاں ایک بات یہ بھی ثابت ہو گئی کہ بچوں کو جنسی تعلیم اور آگاہی دینا بھی کافی نہیں، اگر اس طرح مسئلہ حل ہو پاتا تو دنیا بھر میں غلط استعمال والے مواد کا 60 فیصد حصہ یورپ میں نہ پایا جاتا۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات اب بھی یورپ میں تواتر سے جاری ہیں، تاہم یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ بچوں کو محتاط رہنے کی تربیت دی جانی چاہیے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تنہا کوئی ایک قدم برائی کے اتنے بڑے نیٹ ورک کے خاتمے میں موثر ثابت نہیں ہو سکتا۔
فرانس میں 15سال سے کم عمر بچوں کے اسکول میں فون استعمال کرنے پر پابندی
فرانس میں اسکولوں کے ایسے تمام طلبا و طالبات پر، جن کی عمر 15سال سے کم ہے، اپنے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ یہ پابندی جولائی میں منظور کئے جانے والے اس قانون کے تناظر میں عائد کی گئی ہے، جس کے لئے فرانسیسی صدر عمانوئل میکخواں نے خود ایک مہم چلائی تھی۔ اس پابندی کی زد میں پورے فرانس کے ایلیمنٹری اور جونیئر ہائی اسکولوں کے طلبا و طالبات آئیں گے۔ نئے قانون کے تحت 15سال سے کم عمر کا کوئی بھی طالب علم اسکول میں کسی بھی طرح کا موبائل فون، اسمارٹ فون، ٹیبلٹ یا اسمارٹ واچ استعمال نہیں کرسکے گا۔ یاد رہے کہ کلاس کے دوران یہ پابندی تو 2010 ء سے ہی عائد تھی لیکن اب نئے قانون کے تحت کلاسوں میں وقفے کے دوران اور لنچ ٹائم میں بھی موبائل فون کے استعمال کی ممانعت کردی گئی ہے۔ تاہم کسی بھی قسم کی معذوری میں مبتلا طلبا و طالبات کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا جبکہ اسکولوں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے طور پر یہ فیصلہ کریں کہ 15سال یا اس سے زائد عمر والے طلبا و طالبات پر بھی موبائل فون کے استعمال پر پابندی کا اطلاق ہونا چاہئے یا نہیں۔
نئے قانون کے مطابق اب 15 سال سے کم عمر کے طلبا و طالبات کو اسکول کے اوقات میں اپنے موبائل فون سوئچ آف کرنے پڑیں گے یا پھر انہیں لاکرز میں رکھنا ہوگا۔ یہ قانون ان خدشات کے زور پکڑنے کے بعد نافذ کیا گیا ہے کہ طلبا و طالبات کا اسمارٹ فونز پر انحصار بڑھتا ہی جارہا ہے اور یہ ڈیوائس انہیں روایتی طرز کی تعلیم سے دور لے جارہی ہے۔ فرانس کی وزیر تعلیم جین مشیل بلانکر نے نئے قانون کو سراہتے ہوئے اسے ’’21ویں صدی کے لئے ایک قانون‘‘ قرار دیا ہے اور یہ توقع بھی ظاہر کی ہے کہ اس کے نفاذ سے فرانسیسی اسکولوں کے ایک کروڑ 20 لاکھ طلبا و طالبات کو ڈسپلن کا زیادہ پابند بنانے میں مدد ملے گی۔ فرانسیسی وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ مستقبل کی ٹیکنالوجیز کا خیر مقدم کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم ان کے ہر طرح کے استعمال کو قبول کرلیں۔