Bacho Haram Kamai Say | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1893
میں اور بصارت ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے۔ یوں کلاس فیلو ہونے کے ناتے دلوں میں بھی گہری جان پہچان ہو گئی۔ بی اے کے بعد دونوں نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا مگر نامساعد حالات کے بعد دونوں نے ہی تعلیم کو خیرباد کہہ دیا۔ میری والدہ بیوہ تھیں اور کفالت کے لئے محنت کرتی تھیں۔ تمام دن محلے والوں کے کپڑے سلائی کر کے گھر چلا رہی تھیں، ایسے میں اعلیٰ تعلیم میرے لئے ایک خواب تھی۔
بصارت بیچارا مجھ سے بھی خستہ حال نکلا۔ اس کی ایک بوڑھی ماں، دو بھائی اور دو بہنیں چھوٹی تھیں۔ باپ کی وفات کے بعد اس کنبے کا تمام بوجھ بصارت کے کندھوں پر تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کوئی اچھی ملازمت کر کے بہن، بھائیوں کو تعلیم دلوائے گا۔ معیارِ زندگی بھی بہتر ہو جائے گا، مگر اس کا خواب بس کسی دیوانے کے خواب جیسا رہا۔
بصارت نے حصول ملازمت کے لئے سر توڑ کوشش کی، ناکام رہا۔ اگر کہیں نوکری ملی بھی تو اتنی قلیل تنخواہ پر کہ ایک وقت کی روکھی سوکھی روٹی میسّر آتی۔ لہٰذا ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد بصارت نے آخرکار مفلسی سے جان چھڑانے کا حل ڈھونڈ نکالا۔ ان دنوں وہ بے حد ڈپریشن کا شکار تھا، گھر میں فاقے تھے، تب ہی وہ محلّے کے ایک لڑکے سے چند روپے ادھار مانگنے گیا۔ اس کا نام قدیر تھا۔ قدیر نے رقم دینے سے معذرت کرلی۔ اس نے کہا۔ یار اس طرح کب تک چلے گا۔ یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ پھر تم ہی بتائو میں کیا کروں۔
یار اس قدر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ میں تمہیں اپنے استاد کے پاس لے چلتا ہوں۔ ذرا سی توجہ چاہئے، چند دنوں میں طاق ہو جائو گے تو پھر اچھا کمانے لگو گے۔ کہو تو ابھی لے چلوں اس کے پاس؟ بصارت کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ قدیر ایک جیب کترا ہے اور اسے جیب کاٹنے کا ہنر سکھانے کے لئے استاد کے پاس لے جا رہا ہے۔ وہ تو حالات سے اس قدر تنگ آ چکا تھا کہ بغیر سوچے سمجھے اس کے ساتھ ہو لیا۔
قدیر نے ایک ادھیڑ عمر شخص سے اسے ملوایا تو پتا چلا کہ کون سا ہنر سیکھنا ہے۔ بصارت گھبرا گیا اور پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہو گئے۔ استاد نے کہا ہفتے بھر میں ہنر سکھا دوں گا۔ کام پکڑ لیا تو ہفتے کے پانچ ہزار اور مہینے کے بیس ہزار تو معمولی بات ہے۔ یہ سب تمہاری محنت اور مہارت پر منحصر ہے۔
بصارت نے قدیر کے استاد سے یہ کہہ کر جان چھڑائی، سوچ کر جواب دوں گا۔ ضرور سوچنا، مجھے امید ہے تم دوبارہ میرے پاس آئو گے۔ پہلے پہل سب تمہاری طرح ہی گھبراتے ہیں مگر خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے، پولیس کا معاملہ میرے ذمّے، ہاں موقع پر بوداپن دکھایا اور پبلک کے ہاتھوں پٹ پٹا گئے تو اس میں، میں کچھ نہیں کر سکتا۔
دل میں توبہ توبہ کرتا بصارت بے نیل و مرام واپس پلٹ آیا اور قدیر کو خوب سنائیں کہ جیب کترے ہو، حرام کا کھاتے ہو اور مجھے بھی غلط رستے لگانے لے گئے تھے۔ بھوکا مر جائوں گا ایسا کام نہ کروں گا۔ اب ناتم سے ادھار لوں گا۔ قدیر کا آسرا بھی جاتا رہا۔ ڈرائیوری کرنی چاہی تو ڈرائیونگ سیکھنے کے لئے بھی رقم درکار تھی اور یہاں گھر میں دانے تھے اور نہ جیب میں پھوٹی کوڑی۔ انتہائی لاچار ہو کر دوبارہ قدیر کے پاس جانا پڑا۔
اس نے کہا۔ جیب مت کاٹنا مگر کام تو سیکھ لو، کام سیکھنے میں کیا ہرج ہے۔ استاد کے پاس جانے کی بھی ضرورت نہیں ہے، میں سکھائے دیتا ہوں، جس روز فاقہ برداشت نہ ہو یہ گر مجھ پر آ کر آزما لینا، ساتھ ملازمت بھی ڈھونڈتے رہو۔ ایسی نوکری مل جائے کہ تنخواہ میں مکان کا کرایہ اور گھر کے دیگر اخراجات پورے ہو جائیں تو کر لینا نوکری۔ بصارت نے قدیر کی بات مان لی۔ اب بصارت کو جب بھی رقم کی اشد ضرورت ہوتی وہ قدیر کے پاس چلا جاتا، اس سے کچھ گر سیکھتا۔ رفتہ رفتہ بصارت کا ہاتھ صاف ہوتا گیا، ساتھ ہی اسے اس کام میں مزہ آنے لگا۔ جب قدیر کی جیب کاٹتا اور رقم دوبارہ اس کی ہتھیلی پر رکھتا تو وہ کہتا کہ شاباش بڑی صفائی سے جیب کاٹی ہے تو نے، مجھے پتا بھی نہیں چلا۔ تم یہ کام بہت اچھی طرح کر سکتے ہو مگر نہیں کرتے، چلو یہ رقم تم رکھ لو، تمہاری محنت کی کمائی۔ قدیر بالآخر بصارت کو اپنے رستے پر لگانے میں کامیاب ہو گیا۔ اب اسے بھی اس کام میں لطف آنے لگا تھا۔ ضمیر کی آواز مدھم ہوتے ہوتے بالآخر خاموشی میں ڈوب گئی۔ قدیر اسے دوبارہ استاد کے پاس لے گیا جس نے اسے مزید کچھ گر سکھائے اور بصارت کو ماہر جیب تراش بنا دیا۔
ایک روز بصارت نے مجھے فون کیا اور حال احوال دریافت کیا۔ میں نے بتایا کہ بڑی تگ و دو کے بعد ایک پرائیویٹ اسکول میں ٹیچر ہو گئی ہوں۔ اسکول گھر کے پاس ہے لیکن تنخواہ بہت تھوڑی ہے، پانچ سو روپے ماہانہ، البتہ پرنسپل نے کچھ بچوں کی ٹیوشن لگوا دی ہے، فی بچہ دو سو روپے ملتے ہیں، یوں دس بچوں کے دو ہزار مل جاتے ہیں۔ مکان کا کرایہ نہیں دینا پڑتا۔ اسکول پیدل آتی جاتی ہوں تو گزارہ ہو جاتا ہے مگر بہ مشکل۔
بصارت نے کہا۔ مگر مجھے کام مل گیا ہے، اچھی آمدنی ہو جاتی ہے، گھر میں راشن پورا آ جاتا ہے، مکان کا کرایہ نکال کر بھی سفید پوشی کا بھرم قائم ہے۔ آگے ترقی کی امید ہے۔ بہت مبارک ہو بصارت۔ میں نے کہا۔ اللہ کرے اور زیادہ ترقی کرو۔ امی کو بھی بتایا کہ بصارت کو کام مل گیا ہے۔ وہ بہت خوش ہے، اب ان لوگوں کا گزارہ اچھا چل رہا ہے۔
امی کا بصارت کی والدہ سے دوستانہ تھا، وہ جانتی تھیں کہ میں اس کو پسند کرتی ہوں اور ہم شادی کرنا چاہتے ہیں مگر امی نے شادی میں یہ کہہ کر اڑچن ڈال دی تھی کہ تمہیں ایسے لڑکے سے شادی کر کے کیا ملے گا جس کے گھر میں فاقے براجتے ہیں۔ اس سے بہتر ہے کہ عمر بھر بن بیاہی بیٹھی رہو۔
بصارت برسر روزگار ہو گیا تھا۔ میں نے امی کو یاد دلایا کہ آپ نے کہا تھا…تب ہی شادی کی اجازت دوں گی جب یہ کمانے لگے گا، اب تو وہ کمانے لگا ہے۔ والدہ ان کے گھر گئیں، حالات بہتر نظر آئے، تب بھی یہی کہا کہ پہلے جان لینا چاہئے کہ کہاں اور کیا کام کرتا ہے اور ذریعہ آمدنی کیا ہے۔
آپ تو بال کی کھال نکالنے بیٹھ جاتی ہیں امی جان۔ مجھے بھی غصہ چڑھ گیا۔ آپ چاہتی ہیں کہ میں عمر بھر چند سو کماتی رہوں، بھلا اس طرح ہمارے حالات کیوں کر تبدیل ہو سکتے ہیں۔ آگے آپ کا بھی بڑھاپا ہے، جو کچھ گھر بیٹھے محنت مشقّت کر لیتی ہیں وہ بھی نہیں کر سکیں گی اور میری شادی کی عمر نکل جائے گی۔ امی جان ہم بھی تو ان کے جیسے غریب ہیں۔ مجھے بصارت جیسا لڑکا ہی بیاہنے آئے گا۔ کوئی امیر کبیر تو آئے گا نہیں۔ غرض میں نے اتنا اصرار کیا کہ انہوں نے بادل نخواستہ بصارت سے شادی کی اجازت دے دی۔
بصارت کو فون کرکے خوشخبری سنائی کہ اماں راضی ہیں، وہ نہال ہو گیا۔ اگلے دن اپنی والدہ کو رشتے کے لئے ہمارے گھر بھیج دیا۔ سادگی سے ہمارا نکاح ہوا اور سادگی سے رخصتی کی رسم انجام پائی۔ میں اپنے من چاہے محبوب کی دلہن بن کر ان کے گھر آ گئی۔ کچھ دن تو خوشیوں بھرے گزرے، رفتہ رفتہ بصارت کی سرگرمیوں کا اندازہ ہونے لگا کہ ذریعہ آمدنی مشکوک ہے۔ کھوج میں لگ گئی کہ آخر یہ کام کیا کرتے ہیں کہ کبھی بہت زیادہ مال کما لاتے ہیں اور کبھی کچھ نہیں۔ آخر یہ کون سا کاروبار کرتے ہیں۔
ایک دن فون پر بصارت کو کسی سے باتیں کرتے سنا تو پریشان ہوگئی۔ کھوج میں لگ گئی، بہت اصرار کیا تو اس نے بتا دیا کہ میں ہاتھ کی صفائی کی کمائی کھاتا ہوں۔ سن کر پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ خوب روئی، کہا کہ پہلے دن میں بھی خوب رویا تھا۔ ضمیر چابک مارتا تھا مگر رفتہ رفتہ یہ کیفیت ختم ہو گئی کہ جب گھر میں اچھا کھانا پکنے لگا۔ دونوں بھائیوں کو دوبارہ اسکول میں داخل کرا دیا ہے۔
سب درست مگر تم نے کمانے کا غلط راستہ چنا ہے اور وہ بھی پڑھ لکھ کر، ان پڑھ بھی ایسا کام نہیں کرتے۔ مزدوری کرکے حق حلال کی روزی پر قانع ہو جاتے ہیں۔ دراصل خرابی مفلسی میں نہیں تم میں ہے۔ تمہارے اندر کوئی ایسی برائی موجود ہے کہ موقع ملا تو غلط رستے پر چلے گئے، ورنہ غربت سے لڑتے بہت سوں کو دیکھا ہے۔ بھوک سے مر جانا پسند کرتے ہیں، چوری چکاری کی طرف نہیں جاتے، جیب کترے نہیں بن جاتے، دراصل تم خود برے انسان ہو اور الزام دیتے ہو مفلسی اور حالات کو۔
اچھا بس چپ رہو۔ اپنا وعظ اپنے پاس رکھو، میں بُرا ہوں اگر میرے پاس نہیں رہنا تو طلاق لے سکتی ہو۔ طلاق کا نام سن کر میں سُن ہوگئی۔ بوڑھی ماں بیچاری کو اس عمر میں صدمہ نہیں پہنچا سکتی تھی، وہ تو طلاق کا سن کر ہی مرجاتیں، سوچا کہ بُرے اچھوں کو اپنے رستے پر لگالیتے ہیں تو اچھے بھی بُروں کو دوبارہ صراط مستقیم پر لانے کی سعی کرسکتے ہیں۔ بصارت آخر کو میرا شوہر ہے کوشش کرتی رہوں گی اور اِن شاء اللہ ایک روز ان سے جیب تراشی کا کام چھڑوا کر صحیح راستے پر لے آئوں گی۔ پڑھے لکھے ہیں سیدھے راستے پر لوٹ آئیں گے۔ میں بصارت کو سمجھاتی تھی اور وہ جواب دیتے کہ بیوقوف ہو، اس کام میں کوئی محنت نہیں ہے، بس ذراسی ہوشیاری کی ضرورت ہے۔ ان کی یہ باتیں سن کر دل بہت دکھتا تھا، امی کو بھی نہ بتاسکتی تھی کہ میں کسی بزنس مین یا کسی آفیسر کی بیوی نہیں، کسی اسکول ٹیچر، سیلز مین حتیٰ کہ کسی ڈرائیور کی زوجہ بھی نہیں بلکہ ایک جیب کترے کی بیوی ہوں جو مجھے بھی کہتا رہتا ہے کہ نکمی پڑی رہنے سے بہتر ہے کہ میرے ساتھ شامل ہوجائو۔ میرے کام میں ہاتھ بٹائو تاکہ آمدنی دن دونی رات چوگنی ہوجائے اور ہم زیادہ خوشحال ہوجائیں۔
جس دن سے بصارت نے اپنا ذریعہ آمدنی بتایا تھا میں نے ان کی کمائی اپنے پاس رکھنے سے انکار کردیا تھا اور اب وہ جو رقم لاتے اپنی والدہ کے پاس رکھواتے تھے۔ میں نہیں پوچھتی تھی کہ کتنی کمائی ہورہی ہے بس دو وقت کی روٹی ان کی کمائی سے کھاکر صبر کرتی اور اللہ سے معافی مانگتی تھی۔ دو بچے بھی ہوچکے تھے۔ شوہر اور گھر کو چھوڑ کر کہاں جاتی۔ امی بیمار پڑیں تو ماموں ساتھ لے گئے اور گھر جو امی کے نام تھا وہ بھی ماموں نے اپنے نام کروالیا۔ میرے پاس رہنے کو چھت بھی نہ رہی تھی۔
بُرے کام کا انجام بُرا ہوتا ہے۔ آخر وہی ہوا جو بصارت جیسے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ جیل چلے گئے لیکن جیب کاٹنے پر نہیں بلکہ قتل کے الزام میں۔ اور یہ بہت بڑا الزام تھا، اس پر میرا دل ہرگز یقین کرنے کو تیار نہ تھا کہ انہوں نے کسی کی جان لی ہے اور وہ بھی ایک عورت کی۔ یقیناً ان کو کسی نے اس کیس میں پھنسایا تھا اور میرا اندازہ درست نکلا۔ اس دن یہ ہاتھ کا ہنر دکھانے ریلوے اسٹیشن گئے تھے کیونکہ وہاں رش میں واردات کرنے کا موقع جلد میسر آجاتا تھا۔ گاڑیاں لیٹ ہوجانے کی وجہ سے تین گاڑیوں کے مسافر پلیٹ فارم پر جمع تھے، شوروغوغا میں کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی تھی، کیونکہ ایک گاڑی کی آمد کا اعلان ہوگیا تھا، تبھی شکار کی تلاش میں میرے خاوند کی نظر بینچ پر بیٹھی ایک عورت پر پڑی جس کا پرس قریب ہی پڑا تھا، مگر وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر سوچوں میں گم تھی کہ اسے اپنے پرس کا ہوش نہ تھا۔
بصارت نے دو چار چکر لگائے اور پھر اس عورت سے کچھ فاصلے پر جا بیٹھا۔ وہ خود میں کھوئی ہوئی نجانے کس کی راہ دیکھ رہی تھی اور بصارت اپنے منصوبے پر غور کررہا تھا کہ کس طرح اس عورت کو لوٹے۔ ذرا دیر بعد جیسے خاتون اپنے خیالات سے جاگی اور ایک مرد کو تھوڑے فاصلے پر براجمان دیکھا تو چونک گئی مگر وہ تو بے نیاز سا لگا، صاف ستھرا لباس زیب تن کئے چہرے اور حلیے سے کوئی چور اُچکا نہیں بلکہ ایک شریف آدمی دکھائی دے رہا تھا۔ عورت کو نجانے کیوں اس میں دلچسپی پیدا ہوگئی۔ وہ سرک کر اس کی جانب آئی اور ہاتھ میں پکڑا ہوا چپس کا پیکٹ اس کی طرف بڑھایا۔
جی، نہیں شکریہ۔ وہ متانت کی تصویر بن گیا۔ تبھی خاتون کی پلکوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکل پڑے۔ سوری۔ کیا میں نے کوئی غلط بات کہہ دی ہے؟ بصارت نے گھبرا کر کہا۔ جی نہیں… میں تو اپنی قسمت کو رو رہی تھی۔ کیا میں آپ کی پریشانی کے بارے میں جان سکتا ہوں؟ اگر آپ بُرا نہ مانیں۔ کہتے ہیں انسان ہی انسان کے کام آتا ہے اور کسی غمگسار کے مل جانے سے غم بھی آدھا رہ جاتا ہے۔ عورت نے سرد آہ کھینچ کر کہا۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ کسی پر اعتبار تو نہیں کرنا چاہئے لیکن آپ صورت سے شریف آدمی لگتے ہیں۔ آپ چائے پینا پسند کریں گی۔ خاتون نے ذراسا تامل کیا اور سامنے ریسٹورنٹ کی طرف دیکھنے لگی جیسے سوچ رہی ہو… ہاں کہوں یا نہ کہوں، وہ بولی۔ کچھ سر میں درد محسوس ہورہا ہے۔ یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور بصارت کے ہمراہ ریسٹورنٹ میں چائے پینے جا بیٹھی۔ بس یہیں سے میرے خاوند کی تباہی کا آغاز ہوا جو اس کا پرس لے اڑنے کے چکر میں تھا۔ اسی کے چکر میں آکر برباد ہوگیا۔ چائے پینے کے دوران، باتوں باتوں میں عورت نے بتایا کہ آٹھ سال قبل میری شادی ہوئی تھی۔ شادی کے چند روز بعد میرے شوہر کو روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک جانا پڑا۔ وہ دن اور آج کا دن منیر پلٹ کر نہیں آئے۔ میں آٹھ سال سے ان کی راہ دیکھ کر تھک چکی ہوں۔ لوگ دوسری شادی کرنے کو کہتے ہیں مگر طلاق نہیں ہوئی، لہٰذا دوسری شادی بھی نہیں ہوسکتی۔ میری کفالت کرنے والا کوئی نہیں۔ والد صاحب کا مکان میرے نام تھا، اس کا کرایہ آتا ہے اور زیورات انہوں نے کافی مجھے جہیز میں دیئے تھے، شکر ہے عزت سے وقت گزر رہا ہے مگر تنہا زندگی سے اُکتا گئی ہوں۔ والد بھی وفات پاگئے ہیں۔ لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں اکیلی عورت کو معاشرہ جینے نہیں دیتا۔ میں ایک ایسے شخص سے بندھی ہوں جس کا پتا ٹھکانہ تک میرے پاس نہیں ہے۔ ماں بوڑھی ہیں وہ کب تک مجھے سہارا دیں گی۔
مجھے ایک بات بتائوگی؟ تم یہاں ریلوے اسٹیشن پر کیوں آبیٹھی ہو، جبکہ کہیں جانا نہیں ہے۔ وہ بولی۔ جانا ہے مگر اوپر… اس نے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ یہاں کئی گاڑیاں آکر گزر گئیں، میں اپنے ارادے کو عملی جامہ نہ پہنا سکی۔ خودکشی کیسے کروں یہاں اتنے لوگ ہیں۔ مجھے بچانے کے لیے دوڑیں گے، خودکشی کرنا بھی آسان کام نہیں ہے بہت دل گردے کا کام ہے۔ صبح سے آئی اور ابھی تک سوچ رہی ہوں ریل کی پٹری تک کیسے جائوں؟ یہاں کون اتنی آسانی سے ریل کے سامنے کودنے دے گا۔
یہ سن کر بصارت کے ہوش جاتے رہے، اس نے کہا۔ اس غلط ارادے کو ترک کیجئے۔ کوئی دوسرا حل سوچئے۔ دوسرا حل یہ ہے کہ کوئی شخص عدالت میں بیان دے کہ وہ میرا خاوند ہے اور مجھے طلاق دیتا ہے یا پھر طلاق کی درخواست پر مجھے خلع ہوجائے اور میں آزاد ہوجائوں۔ ایسا کچھ کرنے کو تمہیں کس نے کہا ہے۔ ایک وکیل سے مشورہ کیا تھا اس نے بتایا تھا۔ اور تمہارے والد کا مکان اور زیورات وغیرہ؟ کیا ان کو خیرات کردیا ہے؟
نہیں۔ جو شخص عدالت میں میری خاطر بیان دے گا میں یہ سب کچھ اسے دے دوں گی۔ ایسا تم نہیں کرو گی۔ یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کیونکہ تم اگر مزید زندہ رہوگی تو یہ تمہارے کام آنی ہیں۔ تاہم میں تمہاری مدد کرنے کو تیار ہوں، اس وکیل سے مجھے ملوادو۔ عورت جوان تھی اور کافی خوبصورت تھی۔ اگر میں تمہاری خاطر عدالت میں ویسا بیان دے دوں جیسا تمہارا وکیل کہے، تب اس کے صلے میں مجھے کیا ملے گا۔ کیونکہ ان دنوں میری ماں اشد بیمار ہے اور ان کے علاج کے لئے مجھے پیسوں کی ضرورت ہے جبکہ میرا کاروبار بہت مندا جارہا ہے۔
ٹھیک ہے۔ میں اپنے زیورات فروخت کرکے رقم تمہیں دے دوں گی ان کی مالیت کافی زیادہ ہے۔ ٹھیک ہے تو پھر وعدہ کرو کہ تم خودکشی نہیں کرو گی۔ دونوں نے اگلے دن کچہری میں ملنے کا وعدہ کرلیا۔ بصارت گھر آئے تو آنکھوں میں عجیب چمک بھری تھی۔ بہت خوش لگ رہے ہو۔ میں نے کہا۔ ہاں، یہ نادرموقع ہے۔ وہ مرنا چاہتی ہے یا دوسری شادی کرنا چاہتی ہے معلوم نہیں لیکن اگر دوسری شادی کرنے کے بعد مرنا چاہتی ہے تو پھر وہ دوسرا شوہر میں کیوں نہیں۔
کیا اول فول بک رہے ہو۔ ایک عورت ملی تھی ریلوے اسٹیشن پر، پرس سے بیگانہ لگ رہی تھی، کہتی تھی خودکشی کرنے آئی ہوں مگر یہاں رش بہت ہے۔ بھلا اتنے رش میں کوئی کہاں اتنی آسانی سے ریل کے سامنے کودنے دے گا۔ دراصل وہ جینے کے بہانے ڈھونڈ رہی تھی۔ تو پھر کل ملوں گااس سے اور اپنا معاوضہ اچھا خاصا لے لوں گا۔ یہ کہہ کر بصارت نے اس عورت کی داستان میرے گوش گزار کردی۔ اللہ رحم کرے۔ تم پر اور اس پر بھی باز آجائو۔ میں نے ایک بار پھر سمجھانا چاہا مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ بولے۔ آج کی روداد تو بتادی ہے آئندہ تم کچھ اس کے بارے میں پوچھنا اور نہ میں بتائوں گا۔ مجھے ایسی فضولیات کے بارے میں کچھ سننے کا کوئی شوق نہیں۔ نہیں پوچھوں گی۔ اور واقعی اس کے بعد میں نے ان سے کچھ نہ پوچھا۔
بعد میں معلوم ہوا کہ وہ شمیرا سے ملے بھی اور اس کے لئے وکیل بھی کیا۔ عدالت میں پیش ہوئے۔ جج کے سامنے اعتراف کیا کہ آٹھ سال سے بیوی سے رابطہ نہیں کرسکا۔ اب حالات ایسے ہیں کہ ہم دونوں کے ذہن ایک دوسرے کو قبول نہیں کررہے۔ انہیں طلاق چاہئے اور میں طلاق دینا چاہتا ہوں۔ اتنا سننا تھا کہ خاتون نے فوراً احتجاج کیا کہ میں طلاق نہیں لینا چاہتی۔ میں نے آٹھ سال تک ان کا محض اس وجہ سے انتظار کیا کہ ان کی بیوی رہوں۔ زندگی کے آٹھ سال ان کی محبت اور انتظار میں گزار دیئے اور اب صلہ یہ کہ طلاق کا داغ لگا رہے ہیں۔ جناب والا یہ انصاف نہیں کررہے۔ آپ ہی انصاف فرمائیے۔ درخواست کرتی ہوں کہ اگر یہ طلاق دینا چاہتے ہیں تو مجھے حق مہر اور مقدمے کا خرچہ اور آٹھ سالوں کا نان نفقہ جو بنتا ہو دلوایا جائے۔
یہ بیان سن کر بصارت صاحب کے ہوش اڑ گئے جو لالچ کے ہاتھوں پہلے ہی بیہوش تھے۔ اگر کہتے کہ میں اس عورت کا شوہر نہیں ہوں تو جھوٹے نکاح پردھوکہ دہی میں اندر جاتے، پھر ان کی پرانی فائلیں بھی کھل جاتیں۔ سچ بولنے میں ان کو سراسر خسارہ تھا۔ عدالت سے باہر آکر بے پناہ منتوں کے بعد عورت نے نان نفقہ تو معاف کیا مگر حق مہر لئے بغیر ٹلنے کا نام نہ لیا۔ یوں مقدمے کے اخراجات اور حق مہر کی رقم دے کر اس عورت اور کیس دونوں سے جان چھڑائی اور صلح کرلی۔ اس چکر میں تمام جمع پونجی گئی۔ آخر بصارت کو بتانا ہی پڑا کہ بیوی میں تو اُسے لوٹنے چلا تھا اور اس نے مجھے لوٹ لیا۔ برے کاموں کا انجام بُرا۔ میں کہتی تھی نا… دیکھ لینا، وہ اکیلی نہیں اس کے پیچھے کچھ بُرے لوگ بھی ہوں گے، تبھی اتنی جرأت کی اس نے۔ اللہ خیر کرے۔ میں نے خدشہ ظاہر کیا تو بصارت نے کہا تم ہو ہی سدا کی خبطی۔ ہر بات میں کیڑے نکال لیتی ہو۔ تمہیں کچھ بتانا نہیں چاہئے۔
کچھ عرصہ بعد شمیرا کے قتل کی اطلاع ملی تو بصارت کی پریشانی قابل دید تھی، وہ جس بات سے ڈر رہا تھا وہی ہوگئی کیونکہ ایسی عورتوں کا انجام اچھانہیں ہوتا، تاہم پولیس میرے شوہر کے پیچھے لگ گئی، جیسے اس عورت نے نام نہاد شوہر بنایا تھا، بصارت نے لاکھ یقین دلایا کہ مقتولہ میری بیوی تھی اور نہ کبھی رہی ہے، اس کے قتل میں نجانے کون لوگ ملوث ہیں۔ کون مانتا کہ کیس لڑا جاچکا تھا۔ دونوں جج کے روبرو اقرار کرچکے تھے کہ ہم میاں بیوی ہیں۔
جن لوگوں نے شمیرا کو قتل کرایا تھا، ان کے پاس اس کیس کی فائل موجود تھی۔ یوں بے گناہ بصارت کو عمر قید ہوگئی۔ وہ میرے سمجھانے پر تو بُرے کاموں سے باز نہ آیا لیکن عمر قید بھگتنے کے بعد خود بخود صراط مستقیم اختیار کرلی۔ جب بصارت جیل سے رہا ہوا، میرے دونوں بیٹے جوان ہوچکے تھے۔ وہ صرف مڈل تک تعلیم حاصل کرسکے۔ پھر انہوں نے بازار میں آلو چھولے کی ریڑھی لگالی، اللہ نے برکت ڈالی اور اس معمولی کام میں اتنی کمائی ہوگئی کہ ہم خوشحال ہوگئے۔ مجھے اس بات کا تو افسوس ہے کہ میرے دونوں لڑکے زیادہ تعلیم حاصل نہ کرسکے، مگر اس بات کی خوش بھی ہے کہ انہوں نے باپ کی طرح غلط طریقے سے روپے کمانے کی بجائے محنت کو ذریعہ روزگار بنایا۔ جیب تراش کے بیٹے کم از کم باپ کا پیشہ اختیار کرنے سے تو بچ گئے۔
سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ میری نیک دل بوڑھی ساس بیٹے کی راہ تکتے تکتے اس جہاں سے چلی گئی۔ اور جب بیٹے نے ناحق سزا بھگت لی تو دعائیں دینے والی کا چہرہ بھی نہ دیکھ سکا۔ (مسز۔ق…ملتان)