Badshahat | Episode 10

184
کیتھرین اور ہنری جونیئر کی شادی کے راستے میں کئی مشکل مراحل درپیش تھے۔ کیتھرین کے والدین کو رضامند کرنا کوئی ایسا مشکل کام نہ تھا۔ شاہ ہنری ہفتم کو واثق یقین تھا کہ وہ بخوشی یہ رشتہ قبول کرلیں گے، پھر انہیں اس بات پر رضامند کرنا کہ شادی ہونے تک کیتھرین انگلستان میں ہی رہے گی، لوٹ کر اسپین نہیں جائے گی، یہ کسی قدر مشکل مرحلہ تھا مگر اسے یقین تھا کہ وہ اسپین کے بادشاہ فرنانڈس اور ملکہ ازابیلا کو اس بات پر راضی کرلے گا، پھر ہنری جونیئر کو رضامند کرنے کا مرحلہ تھا مگر وہ جانتا تھا کہ ہنری باپ کے حکم سے سرتابی کی جرأت نہیں کرسکے گا۔
آخری مرحلہ پاپائے روم کی رضامندی کا تھا جو یقیناً ایک ٹیڑھی کھیر تھا۔ مذہب کی رو سے بھائی کی بیوہ یا مطلقہ سے شادی ممکن نہ تھی۔ ہنری ٹیوڈر نے اب تک اس مسئلے کے بارے میں غور نہیں کیا تھا۔ اب یہ بات سامنے آئی تو وہ سوچ میں ڈوب گیا۔ خاصی دیر سوچنے کے بعد بالآخر وہ ایک فیصلے پرپہنچ گیا۔ اس فیصلے سے اس نے ملکہ کو آگاہ کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ ابھی اس کے ذہن میں ہنری جونیئر کو باقاعدہ قانونی طور پر ولی عہد مقرر کرنے کا مسئلہ درپیش تھا۔ سو دو روز بعد قصر میں ایک سادہ سی تقریب کا انعقاد کیا گیا اور اس تقریب میں ہنری جونیئر کو قانونی اور مذہبی طور پر انگلستان کے مستقبل کا بادشاہ بنائے جانے کا اعلان کردیا گیا۔ اس خوشی کی تقریب میں بادشاہ سمیت سب ہی لوگ افسردہ تھے۔ شہزادے آرتھر کی جواں مرگی کا غم پھر سے تازہ ہوگیا تھا۔
ہنری جونیئر یہ مقام پا کر خاصا اَپ سیٹ تھا۔
’’تم ہر لحاظ سے اس عہدے کے اہل ہو۔‘‘ بادشاہ نے پراعتماد لہجے میں کہا تھا۔ ’’مجھے یقین ہے کہ تم یہ ذمہ داری نہایت احسن طریقے سے نبھا سکو گے۔‘‘
’’میں آپ کے اس اعتماد کا بے حد شکرگزار ہوں۔‘‘ ہنری جونیئر دھیمے لہجے میں گویا ہوا۔ ’’لیکن میرا دل بھائی آرتھر کی وجہ سے بے حد رنجیدہ ہے۔ کاش! وہ زندہ رہتے تو میرے لئے یہ بات زیادہ خوشی کا باعث ہوتی۔‘‘
مرحوم بیٹے کے ذکر پر خود بادشاہ بھی افسردہ ہوگیا تھا۔ اسے اپنے چھوٹے بیٹے ہنری کی بات پر پورا اعتبار تھا لیکن وہ یہ بات بھی جانتا تھا کہ نوعمر شہزادہ ابھی بادشاہت اور حکومت کے رمز اور نشے سے ناواقف ہے، ورنہ بادشاہت اور حکومت تو وہ چیز ہے کہ لوگ اپنوں کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
یہ حقیقت تھی کہ ہنری جونیئر حکومت اور بادشاہت سے زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔ وہ ایک آرٹسٹک مزاج کا نوجوان تھا۔ شعروادب، موسیقی اور حسین صورتیں اسے لبھاتی تھیں۔ وہ دل میں اتر جانے والی شاعری کرنا چاہتا تھا، روح کو نئی بالیدگی دینے والی موسیقی تخلیق کرنا چاہتاتھا اور تادیر زندہ رہنے والے ادب کا خالق بننا چاہتا تھا۔ خوش رنگ پھول، مسحور کن خوشبوئیں، روح میں اترتی موسیقی، دل میں ہلچل مچاتے اشعار اور آنکھوں کو بھلی لگنے والی صورتیں اسے پسند تھیں۔ اس بات کا ذکر اس نے اپنے مصاحب خاص والسے سے کیا تھا۔
’’آپ کی سوچ اپنی جگہ بہت خوبصورت اور منفرد ہے۔‘‘ والسے نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔ ’’مگر آپ ابھی بادشاہت سے ناواقف ہیں۔ یہ وہ نشہ ہے کہ جس کا کوئی بدل نہیں۔‘‘
’’اوہ… نو… والسے!‘‘ ہنری جونیئر الجھ کر بولا۔ ’’یہ بادشاہت، یہ حکومت…! یہ سب کچھ مجھ سے نہ ہوگا… تمہیں ہر قدم پر میرا ساتھ دینا ہوگا… ویسے بھی میرا خیال ہے کہ تم انتظامی امور میں مجھ سے کہیں بہتر ہو، اس لئے میں نے سوچا کہ میں نظامت کا قلمدان تمہیں سونپ کر خود شعر و شاعری، موسیقی اور حسن کی تجلیوں میں کھویا رہوں گا۔‘‘
’’خدا وند کریم ہمارے بادشاہ کو سلامت رکھے۔‘‘ والسے نے کہا۔ ’’جب آپ کی بادشاہت کا وقت آئے گا اور آپ کا فیصلہ یہی ہوگا تو یہ ناچیز اسے اپنی خوش نصیبی سمجھے گا۔‘‘
اسی شام بادشاہ نے ہنری جونیئر کو دوبارہ طلب کیا۔ اس وقت وہ اپنے کمرے میں خاموش اور متفکر سا بیٹھا تھا۔
’’آپ کچھ فکرمند دکھائی دیتے ہیں؟‘‘ ہنری جونیئر نے سوال کیا۔ ’’آپ کسی بات سے پریشان ہیں کیا؟‘‘
’’ہاں شہزادے…!‘‘ ہنری ٹیوڈر ہفتم نے جواب دیا۔ ’’میں نے ایک ذمہ داری اور تمہیں سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
’’جی…!‘‘ شہزادہ جلدی سے بولا۔ ’’آپ حکم کیجئے، میں ہر طرح کی ذمہ داری اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔‘‘
’’میرے بیٹے!‘‘ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ہنری ٹیوڈر نے بھاری آواز میں بیٹے کو مخاطب کیا۔ ’’پرنس آرتھر کے بعد مرحوم کی تمام تر ذمہ داریاں نباہنا اب تمہارا فرض ہے۔ اب تمہیں آرتھر کی جگہ ولی عہد مقرر کیا گیا ہے۔‘‘
بادشاہ ایک بار پھر خاموشی کے سمندر میں ڈوب گیا۔ خود شہزادہ سر جھکائے ساکت لبوں اور دھڑکتے دل کے ساتھ بادشاہ کی جانب ہمہ تن گوش تھا۔
’’مرحوم آرتھر کی ایک بڑی ذمہ داری شہزادی کیتھرین بھی تھی۔‘‘ بادشاہ نے دوبارہ بات کا آغاز کیا۔ ’’شہزادی کیتھرین اور آرتھر کا رشتہ بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا۔ اب آرتھر کی موت کے بعد اگر کیتھرین کو واپس اس کے وطن بھیج دیا جاتا ہے تو وہ کام ادھورے رہ جائیں گے۔‘‘ بادشاہ پھر خاموش ہوگیا۔ وہ کیتھرین کے جہیز کا ذکر نہیں کرنا چاہتا تھا، چنانچہ لمحہ بھر کو خاموش رہ کر دوبارہ گویا ہوا۔ ’’ویسے دیکھا جائے تو اس سانحے میں سب سے زیادہ نقصان کیتھرین کا ہوا ہے۔ اس نوعمری میں وہ بیوہ ہوگئی ہے… اس کی تنہائی اور اذیت دیکھی نہیں جاتی۔‘‘
خود ہنری کو اپنے بھائی کی موت کا بے حد صدمہ تھا، مگر کیتھرین کے غم کے بارے میں اس نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ اس وقت بادشاہ کی زبانی اس کے تنہا اور افسردہ رہ جانے کا سن کر اس کا دل بھی افسردہ ہوگیا تھا۔
’’ہم چاہتے ہیں کہ کیتھرین کے ساکت لبوں پر دوبارہ مسکراہٹیں سجا دیں۔‘‘ بادشاہ نے گہری نظروں سے شہزادے کی طرف دیکھا، وہ بدستور سر جھکائے کھڑا تھا۔ ’’ہم چاہتے ہیں اس کی خزاں رسیدہ زندگی میں پھر سے بہار آجائے مگر اس کےلئے ہمیں تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔ ہم چاہتے تو حکم بھی دے سکتے تھے اور تمہارے علم میں لائے بغیر بھی یہ فیصلہ کرسکتے تھے، مگر ہم نے ایسا نہیں کیا، کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ہر فیصلے میں تمہاری رضا اور خوشی شامل ہو۔ ہمیں تمہاری سعادت مندی پر اس قدر یقین ہے کہ ہم سمجھتے ہیں تمہیں کبھی ہماری کسی بات سے اختلاف نہ ہوگا۔‘‘
’’جی بالکل…!‘‘ شہزادے نے اپنی تعریف سن کر کسی قدر خوش ہوکر جلدی سے کہا۔ ’’آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پر!‘‘
’’شکریہ بیٹے…!‘‘ بادشاہ نے مطمئن انداز میں سر ہلایا۔ ’’اب میں بتا سکتا ہوں کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تمہارا رشتہ شہزادی کیتھرین کے ساتھ طے کر دیا جائے۔ اس طرح کیتھرین کے غم کا ازالہ ہوگا، دوسرے اسپین سے ہمارے تعلقات اور زیادہ مضبوط ہوں گے۔ اس کے علاوہ بھی اور کئی فوائد ہیں جن کا اس وقت تذکرہ کرنا ضروری نہیں۔‘‘ بادشاہ نے خاموش ہوکر ٹٹولتی نظروں سے شہزادے کی طرف دیکھا۔ وہ بدستور سر جھکائے خاموش کھڑا تھا۔ غالباً نوعمر شہزادہ باپ کی بات کے مفہوم کو سمجھنے سے قاصر رہا تھا۔
’’اور ہم نے سوچا ہے…!‘‘ بادشاہ گھڑی بھر کے وقفے کے بعد دوبارہ گویا ہوا۔ ’’پانچ سال بعد تمہاری اور کیتھرین کی شادی کردی جائے گی۔‘‘
’’شادی…؟‘‘ شہزادہ یکدم چونکا۔ ’’میری شادی!‘‘ اس کے منہ سے گھٹی گھٹی آواز نکلی۔
’’ہاں… تمہاری اور شہزادی کیتھرین کی شادی!‘‘ بادشاہ نے دوٹوک لہجے میں فیصلہ سنایا۔
لیڈی مارگریٹ اس شادی کے حق میں تھی، بلکہ بادشاہ کے ذہن میں یہ خیال اسی نے ڈالا تھا، مگر جہاں تک ملکہ الزبتھ کا تعلق تھا، اسے کیتھرین سے ہمدردی ضرور تھی، مگر وہ ذاتی طور پر ہنری جونیئر سے شادی کے حق میں نہیں تھی۔ وہ کیتھرین سے آرتھر کی بھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ کاش! اس نے اس شادی کی مخالفت کی ہوتی اور آرتھر کی شادی اس کی محبت ماریہ سے ہوجاتی تو شاید آج آرتھر زندہ ہوتا۔ وہ اپنی محبت کی جدائی کا غم برداشت نہ کرسکا تھا۔ اب سب ہی الزبتھ کی طرح سخت جان نہیں ہوتے جو محبت میں ناکامی کے بعد بھی کامیاب اور خوش باش زندگی گزارتے ہیں۔ اسے اس شادی سے اختلاف تھا مگر وہ اس اختلاف کی ہمت خود میں نہیں پاتی تھی، اس لئے اس نے خاموشی سے سر تسلیم خم کردیا تھا۔
شہزادے ہنری جونیئر نے بھی سر جھکا دیا تھا مگر اس کے دل میں ایک عجب سی الجھن تھی۔
’’آپ کچھ الجھے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔‘‘ تھامس والسے نے پوچھا۔
اس نے دھیمے لہجے میں اسے بتایا۔ ’’والد محترم، شہزادی کیتھرین سے میرا راشتہ طے فرما رہے ہیں۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ والسے حیران رہ گیا۔ ’’شہزادے آرتھر کی بیوہ سے… آپ کی شادی!‘‘
’’خیر شادی میں تو ابھی پانچ سال باقی ہیں۔‘‘ شہزادے نے کسی قدر عافیت بھرے لہجے میں بتایا۔ ’’ابھی صرف منگنی کی رسم ادا کی جائے گی۔‘‘
’’اوہ…!‘‘ تھامس والسے گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ ہنری جونیئر اپنی کم عمری کے باعث اس اہم فیصلے کے بارے میں صحیح طور پر سمجھ نہیں پا رہا تھا، اس کے لئے سب سے اہم بات اپنے باپ کا حکم بجا لانا تھا، جبکہ والسے، ہنری سے گو کہ عمر میں چند سال بڑا تھا، مگر سمجھ اور شعور میں اس سے کہیں آگے تھا۔ اس نے اس رشتے کی اصل وجہ جان لی تھی، مگر وہ حیران تھا کہ یہ شادی کیسے ہوسکتی ہے، کیونکہ مذہب کی رو سے بھابی سے شادی جائز نہیں تھی۔ جب یہی بات اس نے ہنری سے کہی تو اس نے لاپروائی سے ہاتھ اٹھا کر کہا۔ ’’مجھے ان باتوں سے کوئی غرض نہیں، یہ بادشاہ سلامت کا مسئلہ ہے۔ وہ یہ سب کیسے کرتے ہیں، وہ جانیں۔‘‘
’’مگر زندگی تو آپ نے گزارنی ہے۔‘‘ والسے نے پریشان لہجے میں کہا۔ ’’جو لڑکی کل تک آپ کے بھائی کی بیوی تھی، وہ اب… آپ کی!‘‘ والسے کہتے کہتے رک گیا۔ پھر چند لمحے بعد بولا۔ ’’آپ یہ سب کیسے قبول کریں گے؟‘‘
’’میں نے تو قبول کر بھی لیا۔‘‘ شہزادہ لاابالی پن سے مسکرایا۔ ’’بھلا ڈیڈ کے سامنے ہم انکار کی جسارت کس طرح کرسکتے تھے۔ بھائی آرتھر کا رشتہ اس وقت طے ہوا تھا جب وہ محض چار برس کے تھے۔‘‘
’’وہ تو سب ٹھیک ہے مگر…!‘‘ تھامس والسے ابھی بھی تذبذب کا شکار تھا۔
’’تم بلاوجہ پریشان مت ہو۔‘‘ شہزادے نے لاپروائی سے شانے اچکائے۔ ’’جب وقت آئے گا، دیکھا جائے گا… ابھی تو شکار کا انتظام کروائو… ہم شکار پر جانا چاہتے ہیں۔‘‘
’’جی اچھا!‘‘ تھامس والسے فوراً ہی اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ شہزادے کی لاپروائی اور لاابالی پن پر حیرت زدہ تھا۔ یہ ٹھیک تھا کہ شہزادہ ابھی کم عمر تھا مگر اب اتنا بھی کم عمر نہ تھا کہ معاملے کی نوعیت اور اہمیت کو نہ سمجھ سکتا۔
٭…٭…٭
موسم خاصا تبدیل ہوچکا تھا۔ دوپہر میں تو کسی قدر حدت ہوا کرتی تھی، البتہ رات بھیگنے لگتی تو موسم میں خنکی جاگ اٹھتی تھی۔ ملکہ ازابیلا پورے دن گرمی کے باعث اپنی خواب گاہ میں آرام کرتی۔ شام کے سائے پھیلنے شروع ہوتے اور ہوائوں میں خوشگوار ٹھنڈک کا احساس اجاگر ہوتا تو وہ آراستہ ایوان میں آبیٹھتی تھی۔
اس شام وہ جونہی ایوان میں آکر بیٹھی، اس کا شوہر اسپین کا بادشاہ، شاہ فرنانڈس بھی ایوان میں چلا آیا تھا۔ اس نے اپنی چہیتی بیوی کے چہرے پر بکھرے اداسی اور فکرمندی کے سائے دیکھے تو خود بھی قدرے اداس ہوگیا۔
’’شہزادے آرتھر کے حادثے کو دو مہینے سے زیادہ گزر گئے۔‘‘ اس نے دھیمے لہجے میں کہا۔ ’’مگر لگتا ہے آپ اس حادثے کے شاک سے ابھی نہیں نکلیں؟‘‘
’’ابھی ہم اپنی بڑی بیٹی ازابیلا کے غم سے نہ نکل پائے تھے کہ…!‘‘ ملکہ افسردگی سے بولی۔ ’’الفانسو کے انتقال کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ ہمارا چھوٹا داماد آرتھر چل بسا۔ ہماری بیٹیوں کے نصیب میں نوجوانی میں بیوہ ہونا کیوں لکھا ہے؟‘‘
کچھ ہی عرصے قبل پرتگال کے ولی عہد الفانسو کا انتقال ہوا تھا جو شاہ فرنانڈس اور ملکہ ازابیلا کی بڑی بیٹی ازابیلا کا شوہر تھا۔ الفانسو کے انتقال کے بعد ازابیلا کی شادی الفانسو کے بھائی امانویل سے کردی گئی تھی جو آج کل پرتگال کا بادشاہ تھا۔
’’ازابیلا کی دوسری شادی کے بعد یہ مسئلہ تو خوش اسلوبی سے حل ہوگیا تھا۔‘‘ فرنانڈس نے اپنی بیوی کو یاد دلایا۔ ’’اب ازابیلا بیوہ نہیں ہے بلکہ پرتگال کی ملکہ ہے۔‘‘
’’ہاں! یہ تو خداوند کریم کی نوازش ہے۔‘‘ ملکہ جلدی سے بولی۔ ’’مگر اب کیتھرین کا معاملہ…! اتنی چھوٹی عمر میں بیوگی کا اتنا بڑا صدمہ، بھلا یہ مسئلہ کیوں کر حل ہوگا؟‘‘
’’تم دیکھنا جلد ہی یہ مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔‘‘ بادشاہ نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا۔ ’’شاہ انگلستان ہنری ٹیوڈر کی طرف سے پیغام آیا ہے۔‘‘
’’کیسا پیغام…؟‘‘ ملکہ ازابیلا نے پوچھا۔
’’وہ ہماری بیٹی کیتھرین سے اپنے چھوٹے بیٹے، موجودہ ولی عہد ہنری جونیئر کی شادی کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ فرنانڈس نے شاہ انگلستان کا پیغام ملکہ ازابیلا کے گوش گزار کیا۔
’’یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘ ملکہ حیرت بھرے لہجے میں بولی۔ ’’کیتھرین اور ہنری کی شادی کیسے ہوسکتی ہے۔ کیتھرین عمر میں ہنری سے کم و بیش چھ سال بڑی ہے اور پھر سب سے اہم بات مذہبی رکاوٹ ہے۔‘‘
’’ہاں! یہ تو ہے، کیتھرین ہنری سے کئی سال بڑی ہے۔‘‘ شاہ فرنانڈس نے تائید بھرے انداز میں سر ہلایا۔ ’’لیکن اگر انہیں اعتراض نہیں ہے تو ہمیں کیا اعتراض ہوسکتا ہے اور جہاں تک مذہبی رکاوٹ کی بات ہے تو آخر ہماری بڑی بیٹی ازابیلا اور اس کے دیور امانویل کی بھی شادی ہوئی ہے نا؟‘‘
’’وہ ایک الگ مسئلہ تھا مگر یہاں…؟‘‘
’’یہاں بھی وہی مسئلہ ہے۔‘‘ بادشاہ تیزی سے اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا۔ ’’دیکھو ازابیلا! ہم اپنی نوجوان بیٹی کو تمام عمر بیوگی کے سیاہ ماتمی لباس میں نہیں رکھ سکتے۔ ہمیں کہیں نہ کہیں تو اس کی شادی کرنی ہوگی اور اگر اس کے لئے انگلستان کے ولی عہد کا رشتہ آتا ہے تو ہماری اور ہماری بیٹی کی خوش نصیبی ہے۔ جلد یا بدیر ہنری جونیئر انگلستان کے تخت و تاج کا مالک بننے والا ہے… ہم نے آرتھر سے کیتھرین کا رشتہ اسی لئے کیا تھا کیونکہ وہ انگلستان کے تخت و تاج کا وارث تھا۔ اب وہ دنیا میں نہیں رہا لیکن انگلستان کا تخت و تاج اور اس کا وارث موجود ہے۔ ہماری بیٹی پہلے ملکہ نہ بن سکی تو کیا ہوا، اب ہنری کی شریک حیات بن کر وہ یہ منصب حاصل کرسکتی ہے۔ اگر انگلستان کا تخت ہماری بیٹی کو ملکہ بننے کی گزارش کررہا ہے تو ہمیں کیا حق پہنچتا ہے کہ ہم اس کی گزارش ٹھکرا دیں۔‘‘
’’بہت خوب!‘‘ اس سارے عرصے میں ملکہ ازابیلا پہلی بار مسکرائی۔ ’’آپ کی سوچ بہت اعلیٰ ہے۔ میں نے اس انداز سے سوچا ہی نہیں تھا۔ اصل میں میرے ذہن میں ہنری جونیئر کا خیال ہی نہیں آیا، شاید اس لئے کہ وہ ابھی خاصا چھوٹا ہے۔‘‘
’’اسی لئے تو شاہ ہنری ٹیوڈر نے پانچ سال کی مہلت مانگی ہے۔‘‘ فرنانڈس نے دھیمے لہجے میں کہا۔ ’’وہ چاہتاہے کہ فی الحال ایک سادہ سی تقریب میں منگنی کی رسم ادا کردی جائے اور شادی کم ازکم پانچ سال بعد کی جائے، تب تک شہزادہ بیس سال کا ہوچکا ہوگا۔‘‘
’’اچھا…!‘‘ ملکہ نے گہری سانس لی۔ ’’اور اس وقت کیتھرین کتنے برس کی ہوجائے گی؟‘‘
’’اس ذکر کو جانے دو۔‘‘ بادشاہ نے قدرے جھنجھلا کر جواب دیا۔ ’’میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ انہیں کیتھرین کی بڑی عمر پر کوئی اعتراض نہیں ہے تو اس معاملے میں ہمیں پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ ابھی ہمیں یہ سوچنا ہے کہ یہ رشتہ قبول کرنا ہے یا نہیں! کیونکہ ان کی یہ شرط ہے کہ رشتہ طے ہوجانے کے بعد کیتھرین واپس اسپین نہیں آئے گی بلکہ وہیں انگلستان میں ہی رہے گی۔‘‘
’’یہ تو کوئی ایسی پریشانی کی بات نہیں۔‘‘ ملکہ نے گہری سانس لی۔ ’’اگر کیتھرین کو بالآخر وہیں رہنا ہے تو فی الحال وہاں رہنے میں کیا حرج ہے۔‘‘
’’یہی میں سوچ رہا تھا۔‘‘ بادشاہ فرنانڈس مسرور لہجے میں بولا۔ ’’تو پھر ٹھیک ہے، ہم اس رشتے کو قبول کررہے ہیں۔‘‘
’’اس کے سوا اور کوئی راستہ بھی تو نہیں ہے۔‘‘ ملکہ کی دھیمی آواز میں عجب سی بے بسی تھی۔
٭…٭…٭
اسپین کے شاہ فرنانڈس اور ملکہ ازابیلا کی رضامندی ملتے ہی کیتھرین اور ہنری جونیئر کی منگنی کی تیاریاں شروع ہوگئی تھیں۔
’’کیا کہہ رہی ہو بریٹنی…؟‘‘ شہزادی کیتھرین نے قدرے حیرانی سے کہا۔ ’’میری منگنی اور ہنری جونیئر کے ساتھ…!‘‘ خادمہ ابھی ابھی یہ خبر اس کے پاس لے کر آئی تھی۔
’’جی شہزادی صاحبہ!‘‘ اس کی خادمہ خاص نے زور زور سے سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔ ’’ادھر منگنی کی تیاریاں بھی شروع ہوگئی ہیں۔ وائٹ ہال پیلس جہاں یہ تقریب ہونی ہے، خصوصی طور پر آراستہ کیا جارہا ہے… آپ کے والدین بھی اس تقریب میں شرکت کے لئے آرہے ہیں۔‘‘
’’اچھا!‘‘ ماں، باپ کی آمد کا سن کر لحظہ بھر کو اس کا دل مسرور انداز میں دھڑکا، پھر اگلے ہی لمحے اندیشوں میں گھر گیا۔ ’’مگر بریٹنی! ہنری تو ابھی بہت چھوٹے ہیں… ویسے بھی میں عمر میں ان سے کئی سال بڑی ہوں۔‘‘
’’اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔‘‘ بریٹنی نے جلدی سے جواب دیا۔ ’’اور ابھی تو صرف منگنی کی جارہی ہے، شادی پانچ سال بعد ہوگی، تب تک شہزادے ہنری پورے بیس سال کے ہوچکے ہوں گے۔‘‘
’’اور اس وقت میں…!‘‘ کیتھرین نے جملہ ادھورا چھوڑ کر اپنی عمر کا حساب کیا اور مایوسی سے سر جھکا لیا۔
’’مجھے تو یہ خبر سن کر خوشی ہوئی۔‘‘ بریٹنی نے مسرور لہجے میں کہا۔ ’’آپ کو کیسا لگ رہا ہے؟‘‘
’’ہم لڑکیوں کی تقدیر بھی عجیب ہوتی ہے۔‘‘ شہزادی نے دکھی لہجے میں جواب دیا۔ ’’دیکھو جب میں چند برس کی تھی، میرے مستقبل کا فیصلہ کردیا گیا تھا۔ ہوش سنبھالتے ہی مجھے سب سے پہلی خبر یہی ملی تھی کہ میں انگلستان کے ولی عہد آرتھر کی امانت ہوں۔ نوعمری سے نوجوانی تک آرتھر کا نام سن سن کر میرے دل کے گوشے گوشے میں یہ نام جاگزیں ہوگیا تھا۔ میں نے آرتھر کو ہمیشہ کے لئے پا لینے کے لئے لمحہ لمحہ دعا کی تھی، سوتے جاگتے ہزاروں سپنے دیکھے تھے، مگر ان سپنوں کی تعبیر…؟‘‘ شہزادی رنجور سی ہوکر خاموش ہوگئی۔
آرتھر نے اسے بیوی کی حیثیت سے کبھی تسلیم کیا ہی نہیں تھا۔ اس کے دل و دماغ پر تو ماریہ چھائی ہوئی تھی، جس کے بچھڑنے کا صدمہ آرتھر کو زندگی سے بے زار کرگیا تھا۔ وہ زندہ رہنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ بالآخر وہ مر گیا تھا، اپنی ناکام محبت کے نام پر قربان ہوگیا تھا۔ اگر کیتھرین کو اس کی محبت کی کہانی معلوم نہ ہوتی تو شاید آرتھر کے ساتھ وہ خود بھی مر جاتی، مگر ماریہ سے عشق کی سچائی جان لینے کے بعد اس کی شدید محبت، نفرت میں بدل گئی تھی اور آرتھر کی موت کی خبر سن کر ایک لمحے کو اسے دلی مسرت ہوئی تھی۔ جو شخص اس کے لئے نہیں بنا تھا تو اس کا دنیا میں رہنا بھلا کیا ضروری تھا۔ اچھا ہوا وہ مر گیا۔ وہ اب بڑی سنجیدگی سے واپس اسپین جانے کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ ہنری سے منگنی اور شادی کی خبر اس تک پہنچی تھی۔
’’یہ سب سن کر آپ کیسا محسوس کررہی ہیں؟‘‘ اسے خاموش پا کر بریٹنی نے دوبارہ سوال کیا۔
’’میں کیا کہہ سکتی ہوں بریٹنی!‘‘ کیتھرین نے آہستگی سے جواب دیا۔ ’’یہ میرے بڑوں کا فیصلہ ہے اور مجھے منظور کرنا ہے۔‘‘
’’ویسے میرا خیال ہے کہ شہزادہ ہنری، شہزادہ آرتھر کی نسبت زیادہ شاندار ہیں۔‘‘ بریٹنی نے کیتھرین کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پرجوش انداز میں کہا۔ ’’وہ ایک دراز قد، خوبرو جوان ہیں۔‘‘
’’شہزادے ہنری اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟‘‘ کیتھرین نے دھڑکتے لہجے میں سوال کیا۔
’’اس رشتے سے وہ بھی خوش ہیں۔‘‘ بریٹنی کو نہیں معلوم تھا کہ اس سلسلے میں ہنری جونیئر کا کیا ردعمل ہے مگر کیتھرین کو خوش کرنے کی خاطر اس نے اندازے سے ایک بات کہہ دی تھی۔
’’اچھا…!‘‘ شہزادی کیتھرین کی آنکھوں میں ایک چمک سی جاگی۔ ’’انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے؟‘‘ اس نے جیسے یقین دہانی چاہی۔
’’بھلا انہیں اعتراض کیوں ہوگا۔‘‘ خادمہ نے شہزادی کے قریب ہوتے ہوئے کہا۔ ’’آپ میں بھلا کس بات کی کمی ہے۔‘‘
’’پھر بھی سابقہ رشتے کے پیش نظر…!‘‘ کیتھرین جملہ پورا کئے بنا ہی چپ ہوگئی۔ پھر کئی لمحوں کی خاموشی کے بعد گویا ہوئی۔ ’’پھر عمروں کا فرق بھی تو ہے۔‘‘
’’نہیں! انہیں کسی بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘‘ بریٹنی نے بھرپور یقین سے جواب دیا۔ ’’وہ اس رشتے سے بہت خوش ہیں…اب آپ بھی خوش ہوجائیں۔ پریشانیوں اور غموں کے دن اب رخصت ہوچکے ہیں۔ اب خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی۔‘‘
’’تمہاری زبان خدا کرے مبارک ثابت ہو۔‘‘ کیتھرین نے آنکھیں بند کرکے دعائیہ لہجے میں کہا۔
٭…٭…٭
شہزادی مارگریٹ کا رشتہ کافی عرصے پہلے اسکاٹ لینڈ کے بادشاہ جیمز چہارم کے ساتھ طے ہوچکا تھا۔ اب ادھر سے شادی کا اصرار بڑھ رہا تھا۔
لیڈی مارگریٹ جواں سال پوتے کی موت پر بے حد رنجیدہ تھی مگر وہ جانتی تھی کہ تقدیر کے سامنے انسان کا بس نہیں چلتا۔ اسی نے شہزادے ہنری سے شہزادی کیتھرین کی دوسری شادی کی تجویز پیش کی تھی۔ بادشاہ ہنری ٹیوڈر کی طرح وہ بھی کیتھرین کے جہیز کے واپسی کے تصور سے ہی پریشان تھی مگر جب سے یہ فیصلہ سامنے آیا تھا، شہزادی مارگریٹ جونیئر سخت ناخوش اور مضطرب تھی۔
’’بھلا… اس لڑکی کے ساتھ، جو پہلے ہی اپنے پہلے شوہر کو کھا چکی ہے، میرے دوسرے بھائی کی شادی کس طرح ہوسکتی ہے؟‘‘ اس نے غصہ بھرے انداز میں سوچا۔ ’’پھر ہنری تو اس سے کئی سال چھوٹا ہے۔‘‘
یہ بات اس نے اپنی دادی سے کہی تو دانا و بینا دادی نے افسردہ انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا تھا۔ ’’ننھی شہزادی…! تمہیں ابھی اس دنیا کے اسرار و رموز کا علم نہیں ہے۔ بے شک شہزادی کیتھرین اپنے پہلے شوہر کے ساتھ ایک اچھی اور خوشگوار زندگی نہیں گزار سکی اور آرتھر بہت جلد اس دنیا سے رخصت ہوگیا مگر میری لاڈلی! ذرا سوچو اس میں اس مظلوم لڑکی کا کیا قصور ہے… وہ تو رات، دن اپنے شوہر کی صحت یابی اور زندگی کی دعا مانگتی رہی تھی۔‘‘ لیڈی مارگریٹ نے ایک سرد آہ بھری۔ ’’مگر افسوس آرتھر اتنی ہی زندگی لکھوا کر آیا تھا… ایک لمحے کے لئے اس لڑکی کے بارے میں سوچو جو بھری جوانی میں اپنا سہاگ کھو بیٹھی ہو… اپنے والدین سے دُور اور غم کی ماری ہو، اس کے آنسو پونچھنا اور اس کے غم کو محسوس کرنا ہمارا فرض ہے۔‘‘
لیڈی مارگریٹ کی بات سن کر مارگریٹ جونیئر نے نگاہیں جھکا لی تھیں۔ اس انداز میں تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا۔ جس دن سے کیتھرین اس قصر میں آئی تھی، مارگریٹ نے ہمیشہ ہی اسے حسد کی نگاہ سے دیکھا تھا۔ اس کے شاندار ملبوسات، اس کے بیش قیمت جوتے، اس کا شاہانہ رکھ رکھائو، سب سے عزت اور محبت سے پیش آنے کا پسندیدہ انداز…! ان سب باتوں نے مارگریٹ کو ایک بے نام سے احساس کمتری میں مبتلا کردیا تھا۔ گو کہ اسے اپنے آپ پر بہت ناز تھا، انگلستان کی شہزادی ہونے پر بڑا فخر تھا اور جب سے اسکاٹ لینڈ کے بادشاہ سے رشتہ طے ہوا تھا، اسے کسی قدر غرور بھی محسوس ہوتا تھا۔
’’آپ ٹھیک کہتی ہیں دادی جان!‘‘ اس نے قائل ہونے والے لہجے میں کہا۔ ’’ہمیں واقعی کیتھرین کےغم کو محسوس کرنا چاہئے، مگر کیا ہنری کے ساتھ اس کا جوڑ ٹھیک رہے گا؟ اسے بستر پر پڑے لاغر بیمار آرتھر نے بھی پسند نہیں کیا تھا، پھر بھلا ہنستا مسکراتا، خوش باش ہنری اس کے ساتھ کیونکر اچھی زندگی گزار سکے گا؟‘‘
’’تم اس کی فکر مت کرو۔‘‘ لیڈی مارگریٹ نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔ ’’اس وقت تم صرف اپنے بارے میں سوچو… اسکاٹ لینڈ کے بادشاہ کا پیغام آیا ہے، وہ اب جلد ازجلد شادی کے متمنی ہیں۔‘‘ لیڈی مارگریٹ مسرور انداز میں مسکرائی۔ ’’تم اب بس اپنی شادی کی تیاری پر توجہ دو۔‘‘
شہزادی مارگریٹ نے شرما کر نگاہیں جھکا لی تھیں۔ اس کے تراشیدہ لبوں پر شرمیلی اور امید بھری مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔
شہزادے ہنری جونیئر اور کیتھرین کی شادی کے مسئلے میں الجھ کر ملکہ الزبتھ بھی کسی قدر سنبھل گئی تھی۔ اب اسکاٹ لینڈ کے بادشاہ کی طرف سے شادی کا تقاضا دیکھ کر
پھر سے مارگریٹ کی شادی کی تیاریوں کی طرف توجہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ گو کہ شادی کی کسی قدر تیاریاں ہوچکی تھیں، پھر بھی کافی کچھ کرنا باقی تھا۔
دونوں ممالک سے ایک وفد باہمی گفت و شنید، شادی کی حتمی تاریخ اور دیگر معاملات طے کرنے کے لئے دارالحکومت کے رائل کوئن پیلس میں جمع تھا۔ خود شاہ ہنری ٹیوڈر نے اس اجلاس میں شرکت کی اور ضروری امور پر غور و فکر کے بعد حتمی شکل دی۔
شادی کی تاریخ، جہیز کی تفصیلات اور شادی کے مقام کا تعین کیا گیا۔ طے یہ پایا کہ دلہن مارگریٹ اپنی خصوصی خادمائوں اور دیگر خدام کے ساتھ ایک چھوٹے سے قافلے کی صورت انگلستان اور اسکاٹ لینڈ کے سرحدی شہر لیمٹن میں پہنچے گی۔ وہاں اسکاٹ لینڈ کا بادشاہ شاہ جیمز بذات خود شہزادی کا استقبال کرے گا، پھر اسی شہر میں شادی کی رسوم ادا کی جائیں گی۔
شہزادی مارگریٹ کی حفاظت کے ساتھ لیمٹن شہر تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپنے کیلئے دو لارڈز کے نام زیرغور آئے تھے۔ ایک لارڈ ولیم اور دوسرا لارڈ بولین تھا۔ بادشاہ کی رائے لارڈ بولین کے حق میں تھی۔ چالیس سالہ لارڈ بولین کی مستعدی اور فرمانبرداری کے باعث بادشاہ اسے بے حد پسند کرتا تھا۔ بادشاہ نے لارڈ بولین کو بلانے کا حکم صادر کیا۔
لارڈ بولین ان دنوں سخت ذہنی خلفشار کا شکار تھا۔ آج کل اس کی حسین بیوی جین بولین ایک بار پھر امید سے تھی۔ تیرہ سالہ عرصے میں وہ تین بچوں کو جنم دے چکی تھی، لیکن بدنصیبی سے وہ تینوں بچے یکے بعد دیگرے اس دنیا سے رخصت ہوچکے تھے۔
لارڈ بولین اور اس کی شریک حیات جین بولین اس صورتحال سے سخت افسردہ اور دکھی تھے۔ تمام تر علاج، معالجوں اور دعائوں کے باوجود اب تک وہ اولاد کی نعمت سے محروم تھے اور اب برسوں بعد ایک بار پھر لیڈی جین امید سے تھی اور اس بار لارڈ بولین اور لیڈی بولین پوری طرح احتیاط سے کام لے رہے تھے۔ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھا جارہا تھا، پل پل دیکھ بھال کی جارہی تھی۔ اب وہ دونوں ہر حال اور ہر قیمت پر ایک زندہ سلامت بچے کے والدین بننے کے خواہاں تھے۔ ایسے میں بادشاہ کا بلاوا لارڈ بولین پر خاصا گراں گزرا تھا۔
لارڈ بولین کو اس بات پر بہت ناز تھا کہ بادشاہ اسے خصوصی توجہ اور اہمیت دیتا ہے۔ شاہی تقریبات میں لارڈ اور لیڈی بولین کو بطور خاص مدعو کیا جاتا تھا اور بادشاہ کے نزدیک نشست پر ان کے بیٹھنے کا انتظام کیا جاتا تھا۔ بادشاہ کے بلاوے پر لارڈ ہمیشہ ہی خوشی سے نہال دوڑتا ہوا پہنچتا تھا، مگر آج اس کا دعوت نامہ ملا تو وہ پریشان ہوگیا تھا۔
’’کیا بات ہے آپ کچھ الجھے ہوئے اور پریشان سے دکھائی دے رہے ہیں؟‘‘ لیڈی بولین نے فکرمندی سے پوچھا۔
’’نہیں! پریشانی کی تو کوئی بات نہیں۔‘‘ لارڈ بولین نے پرسوچ لہجے میں جواب دیا۔ ’’تم جانتی ہو شہزادی مارگریٹ کا رشتہ اسکاٹ لینڈ کے بادشاہ کے ساتھ طے ہے۔ اب اس ماہ کے آخر میں شہزادی کی رخصتی کی تاریخ طے ہوئی ہے۔‘‘
’’تو…؟‘‘ جین نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پلکیں جھپک کر سوال کیا۔
’’تو رخصتی کا پروگرام یہ طے ہوا ہے کہ شہزادی، جہیز اور خادمائوں اور خدام کے ساتھ ایک قافلے کی صورت یہاں سے روانہ ہوں گی اور سرحدی شہر لیمٹن تک انہیں پہنچانے کی ذمہ داری بادشاہ سلامت مجھے سونپنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’اوہ… تو یہ مسئلہ ہے!‘‘ جین نے گہرا سانس لیا۔
آج کل میں بچے کی پیدائش متوقع تھی۔ اپنے سابقہ تکلیف دہ تجربات کے پیش نظر وہ دونوں آنے والے لمحوں سے بے حد خوف زدہ تھے۔ ان دونوں کی دلی خواہش تھی کہ آنے والا بچہ جیتا جاگتا اور زندہ سلامت دنیا میں آئے اور تادیر ان کی زندگی کے بے آب و گیاہ دشت میں ایک شگفتہ نوبہار کی طرح قائم و دائم رہے۔ اب ان لمحوں میں جبکہ لارڈ گھڑی بھر کو بھی بیوی کے پاس سے ہٹنے کو تیار نہ تھا۔ بادشاہ کی طرف سے سونپی گئی اس ذمہ داری پر اس کا پریشان ہونا قدرتی امر تھا۔
’’میرا مشورہ ہے آپ بادشاہ کا حکم بجا لائیں۔‘‘ جین نے دھیمے لہجے میں کہا۔ ’’میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ مجھے یقین ہے اس بار جو ہوگا، اچھا ہی ہوگا۔‘‘
’’کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو۔‘‘ لارڈ نے قائل ہوتے ہوئے کہا۔ ’’پھر بھی میری خواہش ہے جب ہمارا بچہ دنیا میں آئے تو میں تمہارے پاس موجود ہوں۔‘‘
’’تھینک یو ڈارلنگ!‘‘ جین نے تشکر بھرے انداز میں لارڈ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ ’’میں نے زندگی میں یقیناً کوئی بہت بڑی نیکی کی ہوگی، جس کے صلے میں خداوند کریم نے تمہیں میرا شوہر بنایا۔‘‘
’’جین…! تم جیسی پیار کرنے والی بیوی پا کر میں بھی خدا کا بے حد شکر گزار ہوں۔ بس! اب ایک ہی آرزو ہے کہ خداوند کریم ہمیں اولاد کی نعمت سے نواز دے۔‘‘
’’خدا نے چاہا تو ایسا ہی ہوگا۔‘‘ جین بولین کی پلکیں بھیگ گئیں۔
اسی شام لارڈ بولین، بادشاہ ہنری ٹیوڈر کے حضور حاضر ہوا اور اسے اپنی بیوی کی صورتحال کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔
’’یہ تو خوشی کی بات ہے بولین!‘‘ بادشاہ نے مسکرا کر کہا۔
’’خوش نصیبی سے میں پہلے بھی تین بار اس تجربے سے گزر چکا ہوں۔‘‘ لارڈ بولین نے سر جھکا کر جواب دیا۔ ’’لیکن بدنصیبی سے ایک بار بھی جیتے جاگتے اور زندہ سلامت بچے کو حاصل نہ کرسکا۔‘‘ لارڈ کی آواز میں کرب گھل گیا۔
’’اوہ…!‘‘ بادشاہ نے تشویش بھری نگاہوں سے بولین کے رنجیدہ چہرے کی طرف دیکھا۔ ’’تو گویا یہ آنے والا بچہ چوتھا بچہ ہے؟‘‘
’’جی بادشاہ سلامت…!‘‘ بولین نے سر جھکا کر رنجیدہ لہجے میں جواب دیا۔
’’پھر ایسے وقت میں تمہارا بیوی کے پاس ہونا بے حد ضروری ہے۔‘‘ بادشاہ نے سوچتی ہوئی آواز میں کہا۔
لارڈ بولین نے کوئی جواب نہیں دیا، بس خاموشی سے دست بستہ اور سر خمیدہ کھڑا رہا۔
’’مارگریٹ کو اسکاٹ لینڈ کے سرحدی شہر تک پہنچانے کے لئے میرے نزدیک تم سب سے قابل بھروسہ شخص ہو۔‘‘ بادشاہ نے ایک ذرا توقف کے بعد کہا۔
’’میں یہ خدمت بجا لانے کو اپنی خوش نصیبی سمجھوں گا۔‘‘ لارڈ بولین نے جواب دیا۔
’’لیکن ان حالات میں تمہارا جانا مناسب نہ ہوگا۔ تم ذہنی طور پر پریشان رہو گے۔‘‘
’’بادشاہ سلامت کو میں کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔‘‘ لارڈ بولین نے کہا۔
’’مجھے تمہاری وفاداری اور جذبہ خدمت گزاری پر فخر ہے لیکن میں اس وقت تمہیں اس ذمہ داری سے بری الذمہ کرتا ہوں۔ اس وقت تمہاری بیوی کو تمہاری زیادہ ضرورت ہے۔‘‘ بادشاہ سلامت نے فیصلہ سنایا۔
’’میں بادشاہ سلامت کی اس عنایت اور مہربانی کو کبھی فراموش نہ کرسکوں گا۔‘‘ لارڈ بولین نے ممنون لہجے میں جواب دیا۔
’’اور ہاں…!‘‘ بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’بچے کی پیدائش کی خوشی میں ہمیں شریک کرنا نہ بھولنا… اب تم جاسکتے ہو۔‘‘
لارڈ بولین، بادشاہ کو تعظیم دیتا الٹے قدموں واپسی کے لئے مڑگیا۔
لارڈ بولین کے جانے کے بعد بادشاہ نے ارل آف نارتھ تھمبر لینڈ کو طلب کیا۔ لارڈ بولین کے بعد اس کے نزدیک سب سے زیادہ قابل اعتماد ارل ولیم ہی تھا۔
شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ بالآخر وہ گھڑی آپہنچی جب شہزادی مارگریٹ کو ایک چھوٹے قافلے کی صورت میں انگلستان سے رخصت ہوکر اسکاٹ لینڈ جانا تھا۔ اس کے بہن، بھائی، والد، والدہ اور دادی سب خوش بھی تھے اور افسردہ بھی! لوگوں کا خیال تھا کہ کیونکہ لیڈی مارگریٹ شہزادی مارگریٹ کے بہت قریب ہے، اس لئے یہ جدائی اس کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن ہوگی۔ جب سے مارگریٹ پیدا ہوئی تھی، لیڈی مارگریٹ کے ساتھ رہی تھی۔ خود شہزادی مارگریٹ کے لئے اپنی پیاری دادی سے دور جانا خاصا تکلیف دہ تھا۔ یہی بات اس نے اپنی دادی سے کہی تو اس نے پراعتماد لہجے میں کہا۔ ’’میری پیاری! انسان زندگی کے مختلف ادوار میں مختلف حالات سے گزرتا ہے اور عقلمند انسان وہی ہے جو خود کو حالات کے مطابق ڈھال لے۔ اپنے ماحول سے مطابقت کا نام ہی ذہانت ہے۔‘‘ لحظہ بھر کو رک کر لیڈی مارگریٹ نے گہری سانس لی اور پھر پرسکون لہجے میں گویا ہوئی۔ ’’اور مجھے یقین ہے کہ تم ایک ذہین اور بااعتماد لڑکی ہو… تم نئے حالات کے مطابق خود کو ڈھال لو گی۔ اب تم انگلستان کی شہزادی ہونے کے ساتھ اسکاٹ لینڈ کی ملکہ بھی ہو۔ خود کو کبھی کمزور نہ پڑنے دینا۔ ایک کامیاب زندگی کی بنیاد طاقت اور ذہانت ہی ہے۔‘‘
شہزادی مارگریٹ بے ساختہ لیڈی مارگریٹ کے سینے سے جالگی۔ تب ہی دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ ان دونوں نے بیک وقت پلٹ کر دیکھا۔ دروازے پر شہزادی کیتھرین کھڑی تھی۔ اس کی اداس آنکھوں میں ایک مسرور سی چمک تھی اور افسردہ چہرے پر دوستانہ مسکراہٹ تھی۔ اس نے جھک کر لیڈی مارگریٹ کو تعظیم پیش کی، پھر خراماں خراماں آگے بڑھی۔ ’’بے وقت مخل ہونے پر میں معذرت خواہ ہوں۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’مگر کیا کروں، میں خود کو روک نہیں سکی۔ میری چھوٹی بہن آج رخصت ہونے والی ہے۔ میرا دل چاہا میں بھی اپنی دعائیں شہزادی کی خدمت میں پیش کروں۔‘‘
’’اوہ پیاری بیٹی!‘‘ لیڈی مارگریٹ نے مشکور اور مسرور لہجے میں کیتھرین کا شکریہ ادا کیا اور شہزادی مارگریٹ نے آگے بڑھ کر اپنے بڑے بھائی کی بیوہ اور اپنے چھوٹے بھائی کی ہونے والی بیوی کو گلے سے لگا لیا۔
ملکہ الزبتھ اب تک بڑے ضبط اور تحمل سے کام لے رہی تھی، مگر آخری گھڑی میں اس کے ہاتھوں سے ضبط کا دامن چھوٹ گیا اور وہ غش کھا کر گر پڑی۔ خادمائوں نے اسے تھام کر فوری طور پر بستر پر لٹا دیا اور اسے ہوش میں لانے کی تدابیر کی جانے لگیں۔ فوری طور پر شاہی اطباء کو طلب کرلیا گیا۔ کافی تگ و دو کے بعد بالآخر ملکہ نے آنکھیں کھول دیں۔
’’مام! کیا ہوگیا تھا آپ کو؟‘‘ شہزادی مارگریٹ نے حیرانی اور پریشانی سے دریافت کیا۔
’’پیاری…! ابھی آرتھر کی جدائی کا داغ تازہ ہے۔‘‘ ملکہ نے نقاہت بھرے لہجے اور کرب بھری آواز میں کہا۔ ’’اب تم بھی چھوڑ کر جارہی ہو۔‘‘
’’مام! میں کوئی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تھوڑی جارہی ہوں۔‘‘ مارگریٹ نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔ ’’اسکاٹ لینڈ یہاں سے دور ہی کتنا ہے … آپ جب بلائیں گی، میں آجایا کروں گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ ملکہ کے خشک لبوں پر اداس سی مسکراہٹ بکھر گئی۔ ’’مارگریٹ… میری پیاری بیٹی! مجھے ایک بات بتائو۔‘‘ ملکہ نے آہستگی سے اٹھتے ہوئے رازداری سے پوچھا۔ ’’تم اس شادی سے خوش ہو نا…؟‘‘
’’جی…!‘‘ مارگریٹ نے شرمیلے انداز میں سر جھکاتے ہوئے جواب دیا۔ ’’اس شادی سے ڈیڈ اور آپ خوش ہیں تو بھلا میں کس طرح ناخوش ہوسکتی ہوں!‘‘
’’اب میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘ مارگریٹ کے جواب نے الزبتھ کے تن ناتواں میں ایک نئی توانائی پھونک دی تھی۔
(جاری ہے)