Badshahat | Episode 3

476
’’میں نے شادی کا فیصلہ کرلیا ہے۔‘‘ آخر پیٹر نے ہمت کر کے اصل بات کہہ دی۔
پیٹر راڈرک اور ہنری ٹیوڈر بچپن کے بے تکلف دوست تھے وہ اپنی ہر بات ایک دُوسرے سے شیئر کرتے تھے مگر جب سے ہنری ٹیوڈر انگلستان کے تخت و تاج کا مالک بنا تھا تب سے اُن دونوں کے تعلقات میں ایک تکلف اور اَدب و احترام آ گیا تھا۔
’’اوہ یہ تو بہت خوشی کی بات ہے۔‘‘ بادشاہ نے بے اختیار پیٹر کو شانوں سے تھام لیا۔ ’’میرے دوست میرا بھی کچھ ایسا ہی ارادہ ہے تمہارا فیصلہ سن کر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔‘‘
’’مجھے بھی یہ سن کر خوشی ہوئی ہے کہ آپ نے بھی گھر بسانے کا ارادہ کر لیا ہے۔‘‘ پیٹر راڈرک نے خوشی سے لبریز آواز میں کہا۔
’’خیر وہ بعد کی بات ہے۔ پہلے تم بتائو تم کب تک شادی کر رہے ہو… اور یہ کہ شادی کے لئے کیا کوئی لڑکی دیکھی ہے؟‘‘ بادشاہ کے لہجے میں اشتیاق بھری بے صبری تھی۔
’’جی! اُس سے آپ بھی مل چکے ہیں۔‘‘ پیٹرراڈرک نے دھیمی آواز میں بتایا۔ ’’لارڈ اسمتھ کی صاحب زادی لیڈی الزبتھ یارک۔‘‘
’’لیڈی الزبتھ یارک؟‘‘ ہنری ٹیوڈر نے رُک کر پیٹر کی طرف دیکھا۔ ’’وہ حسین اور باوقار دوشیزہ جو کل رات تقریب میں سب سے جدا اور منفرد نظر آ رہی تھی۔ اوہ بہت شاندار۔‘‘ ہنری ٹیوڈر خوشی سے چیخ اُٹھا۔ ’’وہ یقیناً ایک بیش بہا لڑکی ہے۔ اُس جیسی دلربا لڑکی تمہاری شریک حیات بنے گی، مجھے خوشی ہوئی۔‘‘
’’مجھے یہی توقع تھی۔‘‘ پیٹر نے مسرور لہجے میں کہا۔ ’’کہ آپ یقیناً اس خبر سے خوش ہوں گے۔‘‘
’’یہ میری زندگی کی ایک بڑی خوش خبری ہے۔‘‘ بادشاہ متبسم لہجے میں گویا ہوا۔ ’’اب میری خواہش ہے کہ جلد از جلد یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے۔‘‘
’’جی کیا کرنا ہے اور کس طرح کرنا ہے؟ آپ سے یہی مشورہ درکار ہے۔‘‘ پیٹر نے مؤدبانہ لہجے میں کہا۔
’’کرنا کیا ہوگا؟‘‘ بادشاہ نے پُرجوش لہجے میں کہا۔ ’’لارڈ اسمتھ یارک کو شادی کا پیام بھجوانا ہوگا۔ الزبتھ یارک سے اس کی رائے معلوم کرنا ہوگی اور چرچ میں شادی کی رسم ادا کرنی ہوگی اور بس۔‘‘ اتنا کہہ کر بادشاہ شرارت بھرے انداز میں مسکرایا۔
پھر سب کچھ آناً فاناً ہوتا چلا گیا۔ لارڈ اسمتھ کے نزدیک پیٹرراڈرک کا پیغام بے حد اہم تھا۔ بیٹی کی پسندیدگی سے بھی وہ واقف تھا۔ چنانچہ رسمی انداز میں پیٹر کا رشتہ منظور کرلیا گیا۔
ہنری ٹیوڈر کی خواہش تھی کہ پیٹر کی شادی نہایت شان و شوکت سے ہو۔ وہ اس کے بچپن کا دوست تھا اور اس کا دستِ راست تھا۔ انگلستان کے تخت و تاج کے حصول میں پیٹر نے ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔ بادشاہ پیٹر کا مرہون احسان تھا۔
اگلے ہفتے شاہی چرچ میں شادی ہونا قرار پائی تھی۔ شہر کے تمام معززین، لارڈز اور نوابین کو شادی میں مدعو کیا گیا تھا۔ شاہی چرچ اور پیٹرراڈرک کی رہائش گاہ کو دُلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ ہر طرف رنگ و نور کی بارش ہو رہی تھی ہر طرف خوشیوں کی جھنکار سنائی دے رہی تھی۔
الزبتھ عروسی لباس میں غضب کی حسین لگ رہی تھی۔ اس کے تراشیدہ شنگرفی لبوں پر شرمیلی مسکراہٹ تھی۔ ان کے عقیدے کے مطابق شادی کی رسم ادا کی گئی۔ رُخصتی کے بعد وہ دُلہن کو سجی سجائی بگھی میں سوار کروا کے اپنے شاندار ولا کی طرف روانہ ہوگیا۔
گھر کے دروازے پر فرینک البرٹو دیگر خدام کے ساتھ منتظر تھا۔ اُس نے مؤدبانہ انداز میں پُرمسرت لہجے میں کہا۔ ’’میں گھر کی مالکن کو تہہ دل سے خوش آمدید کہتا ہوں۔‘‘
الزبتھ کے لبوں پر تشکر بھری مسکراہٹ بکھر گئی۔ پیٹر اسے لئے خواب گاہ کی طرف بڑھا۔
یہ رات پیٹرراڈرک کی زندگی کی حسین ترین رات تھی جو دبے پائوں گزرتی جا رہی تھی۔ وہ خوشیوں، رنگوں، اُمنگوں اور چاہتوں بھری رات آخر اختتام پذیر ہوگئی۔ دستک کی آواز پر پیٹر کی آنکھ کھلی تو اُس نے حیران نظروں سے چاروں طرف دیکھا اور ایک گہری سانس لے کر کہا۔ ’’یس۔‘‘
’’صبح بخیر۔‘‘ فرینک البرٹو نے خوشگوار آواز میں اسے صبح کا سلام کیا۔ ’’اُمید ہے کہ رات پرسکون انداز میں حسین سپنے دیکھتے بسر ہوئی ہوگی۔‘‘ اُس نے معمول کا جملہ ادا کیا۔
’’اوہ فرینک!‘‘ پیٹر نے مچلتے ہوئے لہجے میں کہا۔ ’’سپنا جیسا سپنا تھا، کاش وہ سپنا نہ ہوتا حقیقت ہوتا۔‘‘
’’مجھے یقین ہے آپ کا سپنا بہت جلد حقیقت کا رُوپ دھار لے گا۔‘‘ فرینک البرٹو نے پُرخلوص لہجے میں کہا اور آگے بڑھ کر دریچوں سے پردے ہٹانے لگا۔ ہوا کے خنک جھونکوں کے ساتھ تیز روشنی بھی کمرے میں دَر آئی، پیٹر نے آنکھوں پر بازو رکھ لیا۔
’’بادشاہ سلامت نے آپ کو یاد فرمایا ہے۔‘‘ فرینک نے بتایا۔ ’’ناشتے کے فوراً بعد وہ پائیں باغ میں آپ سے ملاقات کے متمنی ہیں۔‘‘
’’میں خود بھی اُن سے ملنے کے لئے بے قرار ہوں۔‘‘ پیٹر نے زیرلب کہا اور دل ہی دل میں اپنے عزم کی تجدید کی کہ آج وہ بادشاہ سے، اپنی اور الزبتھ کی شادی کی بات ضرور کرے گا۔ اب وہ جلد از جلد اپنے اس خواب کو شرمندئہ تعبیر ہوتا دیکھنا چاہ رہا تھا۔ وہ بستر سے اُٹھ کر باتھ روم کی طرف چل دیا۔
٭…٭…٭
موسم خاصا خوشگوار تھا۔ ہوا میں خنکی کے باوجود ایک فرحت بخش احساس رچا ہوا تھا۔ بادشاہ ہنری ٹیوڈر ہفتم خاکستری رنگ کے ایک مخملیں لبادے میں ملبوس تھا اور اس وقت پائیں باغ میں صبح کی چہل قدمی میں مصروف تھا۔ اس کے باوقار چہرے پر گھمبیرتا چھائی تھی مگر اس کی نیلی شفاف آنکھوں میں ایک خوشگوار احساس ہلکورے لے رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں پیٹرراڈرک تیزی سے چلتا ہوا اس کے قریب جا پہنچا۔ اُس نے مخصوص انداز میں بادشاہ کو تعظیم دیتے ہوئے مؤدبانہ لہجے میں کہا۔ ’’صبح بخیر… آپ نے مجھے یاد فرمایا۔‘‘
’’آج میں نے تمہیں ایک انتہائی اہم مشورے کے لئے بلایا ہے۔‘‘ بادشاہ نے مسکرا کر کہا، مگر اس کی آواز سے سوچ کا احساس جھلک رہا تھا۔
’’میں بھی آپ کے پاس کسی خاص مقصد کے لئے حاضر ہونا چاہتا تھا۔‘‘ بے اختیار پیٹر کے دل کی بات زبان پر آ گئی اُس نے سر جھکا کے کہا۔ ’’میں ایک انتہائی اہم سلسلے میں آپ سے مشورہ کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’اچھا۔ ‘‘بادشاہ نے مسکرا کر کہا۔ ’’چلو پہلے تمہاری بات سن لیتے ہیں، کہو کس سلسلے میں مشورہ درکار ہے؟‘‘
’’میں اپنی شادی کے سلسلے میں…‘‘ پیٹرراڈرک نے اتنا کہہ کر بات اَدھوری چھوڑ دی۔
’’اس میں اتنا جھجکنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ بادشاہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مسرور لہجے میں کہا۔ ’’میں بھی ایسا ہی ارادہ رکھتا ہوں۔‘‘
’’کیا؟‘‘ پیٹرراڈرک حیرت بھری مسرت سے اُچھل پڑا۔ ’’آپ بھی… میرا مطلب ہے شادی؟‘‘
’’جی جناب۔‘‘ بادشاہ نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ ’’یہ الگ بات ہے کہ تم گھر بسانے کے لئے شادی کرنا چاہتے ہو جبکہ ہم اپنی حکومت کے استحکام کے لئے شادی کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ پیٹر نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پلکیں جھپکائیں۔
’’کل تمہارے جانے کے بعد والدہ اور دانا وزیر بریڈ فریڈرک نے مشورہ دیا تھا کہ کسی اعلیٰ خاندان یا سابقہ شاہی خانوادے کی لڑکی سے میرا شادی کرنا حکومت کے استحکام میں مددگار ثابت ہوگا۔ اسی لئے میں نے سوچا…!‘‘ بادشاہ نے مسکرا کر جملہ اَدھورا چھوڑ دیا۔
’’میں بے حد خوش ہوں۔‘‘ پیٹر کی آواز سے خوشی پھوٹتی محسوس ہو رہی تھی۔ ’’کسی بھی مقصد کے لئے سہی آپ نے کم از کم شادی کے لئے سوچا تو؟‘‘ پھر لمحہ بھر کے توقف سے پوچھا۔ ’’کیا آپ نے کسی لڑکی کا انتخاب کر لیا؟‘‘
’’اسے انتخاب تو نہیں کہہ سکتے۔‘‘ بادشاہ نے سوچتی ہوئی نظروں سے پیٹر کی طرف دیکھا۔
’’یا شاید کہہ سکتے ہیں۔ بس یہ سمجھ لو کہ یہ ایک اتفاق ہے کہ غیرمتوقع طور پر ایک ایسی لڑکی میرے سامنے آ گئی۔ جس میں انگلستان کی ملکہ بننے کی تمام خوبیاں اور صلاحیتیں موجود ہیں اور اس کا تعلق شاہی خاندان سے ہے۔‘‘ بادشاہ کے دھیمے لہجے میں ایک عجب سی مٹھاس تھی۔
’’میں اُس خوش نصیب شہزادی کا نام پوچھ سکتا ہوں؟‘‘ پیٹر نے سوال کیا۔ اس کے سوال پر بادشاہ بے اختیار مسکرا دیا۔
پیٹرراڈرک نے بے ساختہ سرخ گلاب کے ایک پھول کی طرف ہاتھ بڑھایا اس کا ارادہ تھا کہ وہ یہ پھول اُس لڑکی کا نام سنتے ہی بادشاہ کی خدمت میں پیش کرے گا۔
’’اس کا نام ہے۔‘‘ بادشاہ گنگناتے لہجے میں گویا ہوا۔ ’’الزبتھ … الزبتھ یارک۔‘‘
’’الزبتھ یارک؟‘‘ پیٹرراڈرک کے منہ سے بے ساختہ سسکاری نکل گئی۔ پھول توڑنے کی کوشش میں اس کی اُنگلی ایک کانٹے سے جا ٹکرائی تھی۔ اُس نے پھول توڑے بغیر ہی اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ ہنری ٹیوڈر نے پلٹ کر پوچھا۔ وہ دونوں اس وقت سرخ گلابوں کے ایک بڑے کنج کے قریب کھڑے تھے۔
’’کچھ نہیں۔‘‘ پیٹرراڈرک نے زیرلب کہا۔ ’’کیا نام بتایا آپ نے؟‘‘
’’تم ملے تو ہو اُس سے۔‘‘ بادشاہ نے آگے کی جانب قدم بڑھائے۔ ’’لارڈ اسمتھ یارک کی بیٹی ہے، شہزادی الزبتھ۔‘‘
’’شہزادی الزبتھ۔‘‘ پیٹر کا دل یکدم بیٹھ گیا۔ اُس نے بے یقین نظروں سے بادشاہ کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک خواب کی سی کیفیت بکھری ہوئی تھی۔
’’شاہی خاندان کی شہزادی سے شادی کر کے میرا تعلق بھی شاہی خاندان سے جڑ جائے گا اور لوگ جلد ہی اس بات کو بھول جائیں گے کہ ٹیوڈر خاندان کا ایک عام فرد تخت نشین ہوگیا ہے… تم میری بات سمجھ رہے ہونا؟‘‘
مگر پیٹر کچھ بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں معدوم ہوتی جا رہی تھیں۔ اس کے دل کی بستی لمحہ بھر میں زلزلوں کی زَد میں آگئی تھی۔ آنکھوں میں سُندر سپنے اشکوں کے طوفان میں شکستہ کشتیوں کی طرح ہچکولے لے رہے تھے۔ اُس نے وقت کی رگوں سے قطرہ قطرہ کشید کرکے جو جام محبت تیار کیا تھا وہ ایک چھناکے سے ٹوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تھا۔ اُس نے ڈُوبتے دل اور ڈُوبتی آواز میں پوچھا۔ ’’کیا شہزادی الزبتھ سے… آپ کو محبت ہے؟‘‘
’’وہ ایک باوقار اور حسین لڑکی ہے۔‘‘ بادشاہ نے سچائی سے صاف آواز میں جواب دیا۔ ’’مگر جہاں تک محبت کا تعلق ہے تو ایسی کوئی بات نہیں… وہ شاہی خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور میرے لئے اس کا خاندانی پس منظر ہی کشش کا باعث ہے۔‘‘
’’شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی اور لڑکیاں بھی تو ہوں گی۔ پھر یہ الزبتھ ہی کیوں؟‘‘ پیٹر نے اپنی سلب ہوتی توانائیاں مجتمع کر کے اُمید بھری آواز میں سوال کیا۔
’’ہاں یقیناً اور بھی لڑکیاں ہوں گی۔‘‘ بادشاہ نے لاپروائی سے کندھے اُچکائے۔ ’’ممکن ہے اُن میں سے کوئی الزبتھ سے بھی زیادہ حسین ہو، مگر کسی دُوسری شہزادی کو تلاش کرنے میں وقت لگ سکتا ہے اور میں اب اس کام میں بالکل دیر نہیں کرنا چاہتا۔ اسی سلسلے میں، میں نے تمہیں یہاں بلوایا ہے۔ والدہ کا بھی یہی مشورہ ہے کہ الزبتھ اور اس کے والد لارڈ اسمتھ سے بات کرنے سے لے کر شادی کے تمام انتظامات تک ہر کام تمہیں ہی کرنا ہے۔‘‘
’’یہ سب مجھے کرنا ہوگا؟‘‘ پیٹر کو خود اپنی آواز کہیں دُور سے آتی محسوس ہو رہی تھی۔
’’ہاں میرے رفیق۔ تمہارے سوا اور کون ایسا ہے جو انتہائی خلوص اور ذمے داری کے ساتھ یہ کام کر سکے۔‘‘
پیٹر نے اپنی آنکھیں جھکا لیں کہ مبادا ہنری اس کی آنکھوں سے جھانکتے کرب کو نہ دیکھ لے۔
یہ سچ تھا اُس نے الزبتھ کو دل کی گہرائیوں سے چاہا تھا اور اپنے آنے والے کل کا یہ خواب اُس نے الزبتھ کے حوالے سے دیکھا تھا لیکن ہنری بھی اسے بے حد عزیز تھا۔ وہ الزبتھ سے چند روز پہلے ہی ملا تھا اور ان چند دنوں میں اس کی محبت دیوانگی کی حدوں کو چھونے لگی تھی مگر ہنری اس کے بچپن کا دوست تھا۔ اُس نے کب سوچا تھا کہ اتنی جلدی اس کے سامنے ایسی صورت حال پیدا ہو جائے گی کہ ان دو عزیز رشتوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اپنی محبت یا اپنی دوستی کا اور یہ فیصلہ کرنے کے لئے اس کے پاس زیادہ وقت نہیں تھا۔ یوں پل کے پل اسے اس پُل صراط سے گزرنا تھا۔ آخر اُس نے دوستی کو چُن لیا۔ لمحے بھر میں اُس نے اپنی محبت کے تابوت پر فرقت کی کیل ٹھونک کر اُس پر دوستی کی فتح کا جھنڈا لہرا دیا۔
’’ارے ہاں۔‘‘ ہنری کو اچانک یاد آیا۔ ’’تم بھی تو اسی سلسلے میں کوئی بات کرنے والے تھے؟‘‘
پیٹرراڈرک نے اپنی اُس اُنگلی کی طرف دیکھا جس میں چند لمحوں قبل کانٹا چبھا تھا۔ اُنگلی کے گلابی سرے پر سُرخ خون کا ایک قطرہ نمودار ہوچکا تھا۔ اس کے دل کی بھی یہی کیفیت تھی وہ بھی لہو لہو ہو رہا تھا۔
’’غالباً تم کہہ رہے تھے… تمہارا بھی شادی کا ارادہ ہے؟‘‘ اس کا جواب نہ پا کر ہنری نے دوبارہ کہا۔
’’آپ کی شادی کا ریلا میری شادی کے خیال کو بہا کر کہیں دُور لے گیا ہے۔‘‘ پیٹر نے جواب دیا۔ ’’پہلے آپ کی شادی ہو جائے… اس کے بعد اس بارے میں دیکھا جائے گا؟‘‘
بادشاہ نے حیرت سے اس کے اُترے چہرے اور مایوس آنکھوں کی طرف دیکھا۔ ’’پیٹر تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟‘‘
’’صبح کی خنک ہوا کا شاید اثر ہے۔‘‘ پیٹر نے خود کوسنبھالتے ہوئے جواب دیا۔ ’’ورنہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘
’’ہوا تو واقعی بہت سرد ہے۔‘‘ بادشاہ نے اپنے مخملیں لبادے کو جسم کے ساتھ لپیٹتے ہوئے کہا۔ ’’بہتر ہوگا کہ اب تم گھر جا کر آرام کرو۔‘‘ پیٹر نے سر جھکا کر اور گھٹنوں کو خم کرکے بادشاہ کو تعظیم دی اور شکستہ قدموں سے واپسی کے لئے روانہ ہوگیا۔
اس کا اُترا ہوا چہرہ اور دل گرفتہ انداز دیکھ کر ہائوس کیپر فرینک البرٹو کو حیرت ہوئی۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو وہ ہنستا مسکراتا، شاداب چہرہ لئے بادشاہ سے ملنے گیا تھا۔ وہاں ایسا کیا ہوگیا کہ اُس کی دُنیا ہی بدلی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔
’’آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ فرینک البرٹو اس کی شکستہ حالت دیکھ کر یکدم پریشان ہوگیا تھا۔
’’مجھے کچھ نہیں ہوا فرینک؟‘‘ پیٹر نے خود کو بستر پر گراتے ہوئے ہراحساس سے عاری لہجے میں جواب دیا۔ اب وہ اُسے کیا بتاتا کہ چند لمحوں میں سب کچھ بدل گیا تھا۔ جب وہ بادشاہ سے ملنے گیا تھا تو اس کے خواب اس کے اپنے تھے اور اب جب وہ واپس لوٹا تو اس کے خواب اس کی آنکھوں کے لئے اَجنبی ہو چکے ہیں۔
’’کیا آپ نے بادشاہ سلامت سے شہزادی الزبتھ کی بات کی تھی؟‘‘ فرینک البرٹو نے حالات کی ٹوہ لینے کیلئے دھیمے لہجے میں پوچھا۔
’’اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا۔ انہوں نے مجھ سے سب کچھ کہہ دیا۔‘‘ پیٹرراڈرک اظہار کر کے شاید اپنے دل کا بوجھ کم کرناچاہ رہا تھا۔ ’’بادشاہ خود شہزادی الزبتھ سے شادی کرنے کا خواہش مند ہے۔‘‘
فرینک البرٹو کو ایک جھٹکا سا لگا۔ الزبتھ بلاشبہ اس قابل تھی کہ کوئی بھی اُس پر فریفتہ ہوسکتا تھا۔ ’’توکیا بادشاہ سلامت اُن سے…!‘‘ فرینک نے اپنا جملہ اَدھورا چھوڑ دیا۔
’’نہیں وہ اُس سے محبت نہیں کرتا۔‘‘ پیٹر کی آواز میں ایک غیرمحسوس سی جھنجلاہٹ تھی۔ ’’وہ محض اُس سے اس لئے شادی کرنا چاہتا ہے کہ وہ ایک شہزادی ہے اور اس سے شادی کر کے اس کا تعلق بھی شاہی خاندان سے جڑ جائے گا۔‘‘
’’اوہ!‘‘ فرینک کے ہونٹ سیٹی بجانے والے انداز میں سمٹ گئے۔ ’’مگر آپ تو اُن سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ فرینک کے پُرزور انداز پر پیٹر نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا، اس کے دل میں چھپا اس کی محبت کا راز اس تک کیسے پہنچ گیا۔
’’وہ جناب میں معافی چاہتا ہوں۔‘‘ فرینک نے شرمسار سے لہجے میں کہا۔ ’’مگر
میں یہ اعتراف ضرور کروں گا کہ یہ بات میں نے محسوس کرلی تھی، آپ شہزادی سے محبت کرتے ہیں اور شاید وہ بھی۔‘‘
’’اب تو سمجھو فرینک کہ سب کچھ ہی ختم ہوگیا۔‘‘ اس کی آواز میں تھکن مایوسی اور بے بسی تھی۔
’’نہیں سر ابھی کچھ ختم نہیں ہوا۔‘‘ فرینک نے پُراعتماد لہجے میں کہا۔ ’’بادشاہ سلامت آپ کے دوست اور خیرخواہ ہیں آپ اُن سے بات کرسکتے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے بتایا کہ بادشاہ کو شہزادی الزبتھ سے کوئی اُنسیت نہیں ہے محض اُن کے خاندانی پس منظر کی وجہ سے وہ اُن سے شادی کے خواہاں ہیں تو شاہی خاندان کی تو اور بہت سی لڑکیاں مل جائیں گی۔‘‘
فرینک کے اصرار پر پیٹر کے دل میں اُمید کی کونپل پھوٹی۔ اُس نے فیصلہ کیا کہ آج شام کو ہی وہ بادشاہ سے مل کر بات کرے گا۔ فرینک اس کی کامیابی کے لئے دل سے دُعاگو تھا۔ شام ہوتے ہی وہ شاہی قصر کی طرف چل دیا۔ وہ بادشاہ کے مخصوص چیمبر میں پہنچا تو اسے نہایت بے کلی سے ٹہلتے ہوئے پایا۔
’’پیٹر میں تم سے ایک اہم بات کہنا چاہتا ہوں۔‘‘ بادشاہ اس کے مقابل آ کر ٹھہر گیا۔ ’’تم میرے بچپن کے دوست ہو اس لئے میں نے سوچا تم سے کیا چھپانا۔‘‘ اس کے لہجے میں ہلکی سی شرمساری تھی۔ ’’دراصل میں تم سے یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ میں نے تم سے غلط کہا تھا کہ مجھے الزبتھ سے محبت نہیں ہے۔ میں نے اپنے دل کو ٹٹولا تو تم جانتے ہو ایک حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ میرے دل میں الزبتھ کی محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔‘‘
پیٹر کھلی آنکھوں سے اُسے دیکھے گیا۔
’’تمہیں یہ سن کر حیرت ہو رہی ہے نا؟‘‘ بادشاہ نے سرگوشی کی۔ ’’میں خود بھی حیران رہ گیا، مگر یہ سچ ہے پیٹر کہ مجھے اُس سے محبت ہوگئی ہے اور اب اُس سے دُور رہنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اب یہ راستہ تمہیں ہموار کرنا ہوگا۔‘‘
’’جی۔‘‘ پیٹر کے حلق سے گھٹی گھٹی آواز نکلی، کتنی مشکل سے اُس نے خود کو آمادہ کیا تھا، بادشاہ تک اپنے دل کی بات پہنچانے کے لئے۔ اُس سے اپنی محبت کی بھیک مانگنے کے لئے وہ بہت مشکل سے اپنا دامن پھیلا کر یہاں تک پہنچا تھا مگر اس کے دل کی بات دل ہی میں رہ گئی تھی۔ اب کہنے کے لئے کچھ نہیں بچا تھا۔ وہ کیا کہتا؟ اُس نے بادشاہ کی خواہش کے سامنے اپنا سر جھکا لیا۔ ’’فرمایئے! مجھے اس سلسلے میں کیا کرنا ہوگا؟‘‘
’’ہاں! میں یہ کہہ رہا تھا کہ تم ابھی فوری طور پر لارڈ اسمتھ یارک اور اگر ضرورت ہو تو الزبتھ سے بھی بات کر لو۔‘‘ بادشاہ نے بے صبری سے کہا۔ ’’اس کے بعد والدہ خود اُن سے بات کریں گی۔‘‘
’’کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ یہ بات کم از کم الزبتھ سے آپ خود کریں۔‘‘ پیٹر نے دبے لہجے میں مشورہ دیا۔
خود اُس نے بھی یہی سوچا تھا کہ ہنری ٹیوڈر کی رضامندی ملتے ہی وہ الزبتھ کی ایک دعوت کرے گا اور ’’ڈانس آفٹر ڈنر‘‘ کی دُھن پر جب وہ ڈانس کر رہا ہوگا، تب وہ اُس سے شہد آگیں لہجے میں پوچھے گا۔ ’’زندگی کےفلور پر کیا تم تمام عمر میرے قدموں سے قدم ملا کر اسی طرح میرا ساتھ دے سکتی ہو؟‘‘ اور جب وہ اپنی گھنی پلکوں کی جھالر اُٹھا کر حیران نظروں سے اس کی طرف دیکھے گی تو وہ اپنی آنکھوں میں محبت کی تمام تر سچائیاں سمو کر اُس سے کہے گا۔ ’’سویٹ ہارٹ! میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ کیا تم مجھ سے شادی کرنا پسند کروگی؟‘‘ تب وہ بے اختیار شرما جائے گی۔ اپنے آپ میں سمٹ جائے گی۔ اس کی نگاہیں جھک جائیں گی اور چہرہ شہابی ہو جائے گا۔
’’کیا سوچنے لگے پیٹر؟‘‘ ہنری کی آواز اسے سوچوں کی دُنیا سے کھینچ لائی۔
’’نن… نہیں… میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر آپ خود…‘‘ پیٹر گڑبڑا کر بولا۔
’’نہیں دوست۔‘‘ ہنری نے دونوں ہاتھ اُٹھاتے ہوئے کہا۔ ’’یہ کام تمہیں ہی کرنا ہوگا۔ پہلے میں نے سوچا تھا کہ والدہ سے کہا جائے مگر پھر مجھے خیال آیا کہ یہ کام تم سے بہتر کوئی اور نہیں کر سکتا۔ یہ سب تمہیں ہی کرنا ہوگا۔‘‘ ہنری نے حتمی لہجے میں کہا اور پیٹر نے سر تسلیم خم کرلیا، اس کے علاوہ چارہ بھی کیا تھا؟
٭…٭…٭
لارڈ اسمتھ کی دُوربین نظروں نے ہنری کے تاب ناک مستقبل اور دیرپا حکومت کا پہلے دن ہی اندازہ کرلیا تھا اسی لئے وہ پہلے دن سے ہی بادشاہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش میں لگ گیا تھا۔ بادشاہ کے مشیر خاص پیٹر راڈرک کی اپنی بیٹی الزبتھ میں دلچسپی محسوس کر کے، وہ دل ہی دل میں خوش تھا۔ اُس نے یہ کب سوچا تھا کہ مشیرخاص تو ایک طرف بادشاہ بذات خود الزبتھ سے شادی کا خواہش مند نکلے گا اور باقاعدہ پیام بھی بھجوائے گا۔ اُس نے فوراً ہی اپنی رضامندی دے دی تھی اور خوشی سے نہال ہوتا الزبتھ کے کمرے کی طرف لپکا تھا، اُسے بھی یہ خوش خبری سنانے۔
الزبتھ اپنے کمرے میں اس وقت آئینے کے سامنے بیٹھی اپنے چاند سے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی۔
’’بادلوں کے سرمئی جہاں سے یا پھر نیلگوں آسماں سے… ایک چاند جیسی لڑکی… دَر دِل پر دستک دے رہی ہے۔‘‘ اس کے کانوں میں پیٹرراڈرک کی بوجھل آواز گونج رہی تھی۔ اس کے لبوں پر شرمیلی مسکراہٹ سجی ہوئی تھی۔ تب ہی دروازے پر ہلکی سی دستک دیتا لارڈ اسمتھ یارک کمرے میں داخل ہوا۔ وہ جلدی سے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ ’’ڈیڈ آپ نے میرے کمرے میں آنے کی زحمت کیوں کی؟ مجھے بلا لیا ہوتا۔‘‘
’’دراصل بات ہی کچھ ایسی ہے کہ میں خود کو نہ روک سکا۔‘‘ خوشی لارڈ اسمتھ کے انگ انگ سے پھوٹی پڑ رہی تھی۔ ’’ایک بہت ہی خوشی کی بات ہے… ابھی کچھ دیر پہلے مسٹر پیٹرراڈرک آئے تھے۔‘‘ الزبتھ کی نگاہیں بے ساختہ جھک گئیں اور چہرے پر حیا کا رنگ بکھر گیا۔
’’وہ شادی کا پیام لے کر آئے تھے۔‘‘ لارڈ کی بات سنتے ہی الزبتھ کا دل بے اختیار دھڑک اُٹھا۔ ’’وہ سلطنتِ انگلستان کے بادشاہ ہنری ٹیوڈر ہفتم کی شادی کا پیام لے کر آئے تھے۔‘‘ اسمتھ نے فخریہ انداز میں کہا۔ ’’میری پیاری بیٹی الزبتھ یارک کے لئے۔‘‘
’’نہیں ڈیڈ شاید آپ کے سننے میں مغالطہ ہوا ہے۔‘‘ الزبتھ نے حیرت اور صدمے کے سمندر میں غوطہ زن ہوتے ہوئے کہا۔
’’نہیں الزبتھ۔‘‘ اسمتھ نے سنجیدگی سے کہا۔ ’’مشیر خاص پیٹرراڈرک یہ پیام لے کے آئے ضرور تھے ،مگر یہ پیام ہنری ٹیوڈر کا ہی ہے۔‘‘
’’مگر ڈیڈ…‘‘ الزبتھ کو اس اَن ہونی اور غیرمتوقع بات کا یقین نہیں آ رہا تھا۔ ’’پھر آپ نے کیا جواب دیا؟‘‘
’’میں نے ہاں کر دی۔‘‘ لارڈ نے سنجیدہ لہجے میں جواب دیا۔ اس کی خوشی رُخصت ہوچکی تھی اور اب اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی پھیلی ہوئی تھی وہ حالات کی سنگینی کو محسوس کر رہا تھا۔
’’آپ نے مجھ سے پوچھے بنا ہاں کہہ دی۔‘‘ الزبتھ کی آواز میں شکایت سے زیادہ اذیت تھی۔
’’نہ کہنے کی گنجائش ہی کہاں تھی؟‘‘ لارڈ کے لہجے میں ہلکی سی بے بسی بھی شامل ہوگئی تھی۔ ’’تم ان بادشاہوں کے مزاج کو جانتی تو ہو، یہ نا سننا پسند نہیں کرتے۔ پھر یہ بھی مت بھولو کہ ہنری ٹیوڈر کا رشتہ خود مسٹر پیٹر لے کے آئے تھے۔‘‘ لارڈ نے قریب آ کر اس کا مایوس چہرہ ہاتھ میں تھام کر اُوپر اُٹھایا۔ ’’میری پیاری بیٹی! باقی سب باتوں کو بھول جائو۔ کسی لڑکی کیلئے بادشاہ وقت کا پرپوزل بہ ذات خود ایک بہت بڑی بات ہے۔ پرانے خوابوں کے ماتم کو چھوڑ کر نئی تعبیر کا جشن منائو کہ بہرحال تمہیں ایسا ہی کرنا پڑے گا۔‘‘ لارڈ اسمتھ واپسی کے لئے پلٹ گیا۔ آتے وقت اس کی چال میں سرخوشی تھی، جاتے وقت دل گرفتگی اور شکستگی تھی۔
اسے یہ بات تو محسوس ہوئی تھی کہ پیٹرراڈرک اس کی بیٹی میں دلچسپی لے رہا تھا مگر اسے یہ اندازہ نہیں ہوسکا تھا کہ اس کی بیٹی بھی اس کی طرف ملتفت تھی۔ اُسے کیا پتا تھا کہ الزبتھ نے دنوں میں صدیوں کا سفر طے کرلیا تھا، گوکہ دونوں نے زبان سے


اظہار نہیں کیا تھا مگر دونوں ہی یہ بات اچھی طرح جان گئے تھے کہ اب ایک دوسرے کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں۔ اور یہ بات باور کروانے کے لئے اُس کا ایک بار پیٹر سے ملنا بے حد ضروری تھا۔
بغیر کسی پیشگی اطلاع کے، اچانک ہی الزبتھ یارک پیٹر راڈرک کے گھر پہنچی تھی، ہائوس کیپر مسٹر فرینک نے اسے دیکھ کر ایک گونہ مسرت ہوئی تھی، وہ پیٹر سے کہہ کر تھک گیا تھا کہ بادشاہ کو اپنی محبت کے بارے میں بتا دے مگر پیٹر نے ایسا کرنے سے معذوری ظاہر کر دی تھی اور بادشاہ کے حکم کے مطابق شادی کی تیاری بھی شروع کر دی تھی، کیونکہ ہنری ٹیوڈر جلد سے جلد اس کام کو نبٹا دینا چاہتا تھا۔ اس صورت حال کو دیکھ کر البرٹو مایوس ہو چلا تھا، مگر اس وقت الزبتھ کو اپنے سامنے پا کر اسے یقین محسوس ہوا کہ پیٹر الزبتھ کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہو جائے گا۔
وہ الزبتھ کو لئے پیٹرراڈرک کی اسٹڈی کی طرف بڑھ گیا۔ وہ دروازے کے باہر رُک گیا اور الزبتھ پردہ سرکاتی اندر داخل ہوگئی۔ پیٹر سامنے کائوچ پر نیم دراز ہاتھ میں جام لئے اپنا غم ڈبونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے رنج و اضمحلال کا اظہار ہو رہا تھا۔ آہٹ پر اُس نے پلٹ کر دیکھا۔ سامنے الزبتھ کھڑی تھی گوکہ اس کا چہرہ ملول اور آنکھیں افسردہ تھیں، پھربھی اس کا حسن تابانیاں بکھیر رہا تھا۔ پیٹر کو اپنی آنکھو پر یقین نہیں آیا۔ وہ یکبارگی اُٹھ کھڑا ہوا۔
’’آپ؟‘‘ وہ حیرانی سے اس کی طرف بڑھا۔ ’’یہاں… اور اس وقت؟‘‘
’’آنا ہی پڑا۔‘‘ الزبتھ نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
’’اوہ۔‘‘ پیٹر نے اپنی آنکھیں چراتے ہوئے گہری اور ٹھنڈی آہ بھری۔ ’’تشریف رکھیے۔‘‘
’’میں یہاں بیٹھنے کے لئے نہیں آئی ہوں پیٹر۔‘‘ الزبتھ اس کی طرف بڑھتے ہوئے بولی۔ ’’یہ پوچھنے آئی ہوں کہ آخر تم نے ایسا کیوں کیا؟‘‘ الزبتھ کی آواز بھرّا گئی۔ پیٹر نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا۔
’’میں!‘‘ پیٹر جب بولا تو اس کی آواز میں جہاں بھر کا کرب سمٹا ہوا تھا۔ ’’میں آکاش کا وہ چاند ہوں جس کا چمکتا ہوا چہرہ، سورج کی روشنی کا مرہون منت ہے۔ اگر کبھی سورج خفا ہو جائے تو یہ چمکتا چہرہ بجھ جائے گا۔ اتھاہ تاریکیوں میں کہیں گم ہو جائے گا۔ پھر اس میں تاریک گڑھوں اور نوکیلے سنگ ریزوں کے سوا کچھ باقی نہ بچے گا۔ کوئی بھی اس چہرے کو پہچان نہ سکے گا۔ تم بھی نہیں!‘‘
کل رات اپنی کیفیت پر لکھے گئے اشعار آپ ہی آپ اس کے لبوں پر آ گئے۔ الزبتھ تڑپ کر اس کی طرف بڑھی۔ وہ اتنے قریب آ گئی کہ وہ اس کے دل کی بے تاب دھڑکنیں سن سکتا تھا۔
’’تم نے مجھے سمجھنے میں غلطی کی ہے پیٹر۔‘‘ الزبتھ نے اپنے لرزتے ہوئے ہاتھ اس کے سینے پر رکھتے ہوئے کہا۔ ’’تمہارا عہدہ، مرتبہ، یہ شاندار ولا، یہ شان و شوکت میرے لئے یہ سب بے معنی ہے، میرے لئے تم اہمیت رکھتے ہو پیٹر۔ تم۔‘‘
دونوں کے دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے۔ لہو میں جذبے تلاطم برپا کئے ہوئے تھے، لمحے ٹھہر گئے تھے، ساعتیں تھم گئی تھیں۔ وہ دونوں دُنیاو مافیہا سے بے خبر ہوگئے تھے۔
دروازے پر کھڑے البرٹو نے پردے کی جھری سے اندر کا منظر دیکھا۔ ’’خدا کرے یہ دونوں ہمیشہ اسی طرح ایک دوسرے کے ساتھ رہیں۔‘‘ اُس نے دل سے دُعا کی اور آنکھوں کے بھیگے گوشے اُنگلی سے صاف کرنے لگا۔ لیکن اس کی دُعا شرفِ قبولیت حاصل نہ کرسکی۔ الزبتھ مایوس و بے نیل و مرام واپس لوٹ گئی تھی اور پیٹرراڈرک شراب کے نشے میں غرق کائوچ پر اُلٹا پڑا ہوا تھا۔
٭…٭…٭
ہنری ٹیوڈر ہفتم اور الزبتھ یارک کی شادی کی تاریخ طے ہوچکی تھی، آئندہ ہفتے کی شام یعنی 14نومبر 1485ء کو اُن کی شادی ہونا قرار پائی تھی۔
شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ پیٹرراڈرک ہر کام نہایت ذمے داری، خوش اُسلوبی اور انہماک سے سرانجام دینے میں مصروف تھا۔ اس کی کوشش اور خواہش تھی کہ جلد از جلد ہنری کی خوشیوں کا محل تعمیر ہو جائے مگر فرینک البرٹو جانتا تھا کہ ہنری کی خوشیوں کا یہ محل پیٹر کی دل کی بستی کو مسمار کر کے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ لیکن فرینک البرٹو کیا کر سکتا تھا، پیٹر کی وفاداری اور دوست نوازی اس سے اس کی جان بھی لے سکتی تھی۔ یہ تو فقط ایک دل ٹوٹنے کی بات تھی۔ پیٹر برسوں سے ہنری کے ساتھ تھا، اُس نے ہنری کے لئے بڑے بڑے کام کئے تھے۔ قدم قدم پر اس کا ساتھ دیا تھا۔ اگر پیٹرراڈرک جیسا ذہین مشیر اور مخلص دوست ہنری ٹیوڈر کے ساتھ نہ ہوتا تو وہ کسی بھی قیمت پر انگلستان کا تخت و تاج حاصل نہ کر سکتا تھا۔ بادشاہ کو اس بات کا احساس تھا وہ خود بھی پیٹر کے لئے اپنے دل میں محبت اور عزت کے جذبات رکھتا تھا۔ فرینک البرٹو کو یقین تھا کہ اگر بادشاہ کو حقیقت حال کا علم ہو جاتا تو وہ یقیناً پیٹر کی خوشیوں پر شب خون مارنے کا ارادہ ترک کر دیتا۔
مگر فرینک البرٹو یہ بات پیٹرراڈرک کو باورنہ کروا سکا تھا، وہ کسی بھی قیمت پر بادشاہ سے اپنی ناکام محبت کا تذکرہ کرنے کو تیار نہ تھا۔ آخر بہت سوچ سمجھ کر اور غور و فکر کرنے کے بعد البرٹو نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ خود بادشاہ کے پاس جائے گا اور اسے حقیقت حال سے آگاہ کرکے دوستی کا واسطہ دے کر پیٹر کے لئے اس کی محبت کی بھیک مانگے گا۔ اسے یقین تھا بادشاہ اسے تہی دست و تہی دامن واپس نہیں لوٹائے گا۔ اپنے اسی یقین کے سہارے اُس نے اگلی صبح کسی سے کہے بنا یہ کام سرانجام دینے کا تہیہ کرلیا۔ صبح دم بادشاہ اپنے قصر کے پائیں باغ میں چہل قدمی کیا کرتا تھا۔ وہ وقت اس بات کے لئے مناسب ترین تھا، کیونکہ اس وقت بادشاہ بالکل تنہا اور خاصے خوشگوار موڈ میں ہوتا تھا۔
ہنری ٹیوڈر فرینک البرٹو سے اچھی طرح واقف تھا۔ جب وہ بادشاہ نہیں بنا تھا اور محض ایک چھوٹی سی کائونٹی کا ارل تھا…تب وہ اپنی اکثر شامیں پیٹرراڈرک کے گھر میں مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے گزارتا تھا۔ ایسے میں فرینک اُن دونوں کی آئو بھگت اور خاطرمدارات میں لگا رہتا تھا۔ کبھی کافی پیش کر رہا ہوتا کبھی اُن کے سامنے ساغر و مینا سجا رہا ہوتا اور کبھی ہنری ٹیوڈر کی فرمائش پر اس کے پسندیدہ کھانے تیار کر رہا ہوتا۔
پیٹر کی طرح ہنری بھی اس کا بہت لحاظ کرتا تھا اور بڑی عزت اور محبت سے پیش آتا تھا، چنانچہ جیسے ہی بادشاہ کو فرینک البرٹو کی آمد کی اطلاع ملی حسب توقع بادشاہ نے فوراً اسے، اپنے حضور طلب کرلیا۔ فرینک البرٹو دھیمے قدموں سے آگے بڑھا اور جھک کر بادشاہ کو تعظیم پیش کی۔
’’اوہ البرٹو۔‘‘ بادشاہ نے متحیر لہجے میں کہا۔ ’’مجھے حیرت ہے تمہیں اتنی صبح میرے پاس آنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی؟‘‘
’’ایک بہت ہی اہم بات ہے۔‘‘ البرٹو نے دھیمے لہجے میں کہا۔ ’’ایک ایسا مسئلہ ہے جسے صرف آپ ہی حل کر سکتے ہیں… آپ کی اجازت ہو تو میں عرض کروں؟‘‘
’’اجازت ہے۔‘‘ بادشاہ نے شاہانہ انداز میں جواب دیا اور فرینک البرٹو نے آگے بڑھ کر سرگوشی بھرے لہجے میں پیٹر اور الزبتھ کی پہلی ملاقات سے لے کر ایک دوسرے میں دلچسپی، الزبتھ کا پیٹر کے گھر ڈنر پر آنا، پیٹر کی الزبتھ کی شان میں شاعری، اور کل رات کی جذباتی ملاقات تک، ہر بات تفصیل کے ساتھ بادشاہ کے گوش گزار کر دی۔ بادشاہ گم صم بلکہ مبہوت ہو کر اس کی بات سن رہا تھا۔
’’وہ دونوں ایک دوسرے کو بے حد چاہتے ہیں۔‘‘ بادشاہ کو خاموشی کے ساگر میں ڈوبے دیکھ کر البرٹو نے نسبتاً اُونچی آواز میں اپنا جملہ دُہرایا۔ بادشاہ ہوش و خرد کی دُنیا میں لوٹ آیا۔ اُس نے فرینک البرٹو سے پوچھا۔ ’’تم نے کسی اور سے تو اس بات کا تذکرہ نہیں کیا؟‘‘
’’نہیں! یہ بات کسی اور سے کہنے کی نہیں تھی۔ میں صرف مسٹر پیٹر سے
کرتا رہا کہ وہ آپ سے بات کریں مگر وہ نہ مانے تو سوچا میں خود ہی آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو حقیقت حال سے آگاہ کر دوں۔‘‘
’’تم نے بہت اچھا کیا… مجھے یہ سب بتا دیا۔‘‘ بادشاہ نے گمبھیر لہجے میں کہا۔ ’’اور اب بھی کسی اور سے ذکرکرنے کی ضرورت نہیں ہے… میں اس مسئلے کو سنبھال لوں گا۔ اب تم جا سکتے ہو۔‘‘
فرینک البرٹو نے تشکر بھری نگاہوں سے بادشاہ کی طرف دیکھا۔ بادشاہ کے چہرے سے کسی قسم کے احساسات کا اظہار نہیں ہو رہا تھا۔ اُس نے سر جھکا کر بادشاہ کو تعظیم دی اور واپسی کیلئے پلٹ گیا۔ اس کے باغیچے کی حدود سے نکلتے ہی بادشاہ نے تین بار تالی بجائی، لمحہ بھر بعد ہی ایک خادم تیزی سے بادشاہ کی طرف لپکتا ہوا آحاضر ہوا۔ بادشاہ نے ہاتھ سے اُس طرف اشارہ کیا جہاں سے ابھی ابھی فرینک البرٹو گیا تھا، خادم سر جھکا کر تیزی سے اُس جانب لپکا۔
فرینک البرٹو اس بات سے تو مطمئن تھا کہ اُس نے بادشاہ کو حقیقت حال سے باخبر کر دیا تھا۔ اسے قوی اُمید تھی کہ بادشاہ اپنے بچپن کے دوست کی محبت کی خاطر الزبتھ سے دست بردار ہو جائے گا اور الزبتھ ایک بار پھر پیٹرراڈرک کی ویران زندگی میں بہار بن کر آ جائے گی۔ وہ سر جھکائے اپنی سوچوں میں گم قصر کی طویل راہ داریوں میں چلتا بیرونی دروازے کی طرف رواں دواں تھا۔ تب ہی ایک ستون کے پیچھے سے ایک خنجربردار غلام نمودار ہوا اور چشم زدن میں اُس نے خنجر فرینک البرٹو کے سینے میں اُتار دیا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ سکتا اس کی حیران آنکھیں حلقوں سے اُبل پڑی تھیں اور حلق سے بے ساختہ نکلنے والی چیخ غلام کے آہنی پنجے میں گھٹ کر رہ گئی۔ وہ بے دم ہو کر غلام کے قدموں میں ڈھیر ہوگیا۔ غلام بجلی کی سی سرعت سے اسے اپنے کندھے پر لاد کر تہہ خانے کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے جاتے ہی دو خادمائیں فرش پر پھیلے خون کو صاف کرنے میں مصروف ہوگئی تھیں اور چند لمحوں بعد ہی سب کچھ پہلے جیسا ہوگیا تھا، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چند لمحوں قبل، اس راہ داری میں کسی مظلوم کا خون ناحق بہایا گیا ہو گا۔
٭…٭…٭
الزبتھ کے جانے کے بعد وہ مدہوش و بے خود ہو کر بستر پر پڑ گیا تھا۔ نشے کا اثر زائل ہونے میں بہت دیر لگی تھی۔ اس کی آنکھ کھلی تو خاصا دن چڑھ آیا تھا۔ وہ ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھا اُسے تو آج بہت جلد قصر پہنچنا تھا۔ شاید رات کو اُس نے فرینک البرٹو سے کہا بھی تھا کہ اسے صبح جلد بیدار کر دے مگر آج فرینک سے بھی غالباً غفلت ہو گئی تھی وہ اب تک اس کی خواب گاہ میں نہیں آیا تھا۔ ورنہ برسوں سے ہر صبح وہ ہی دروازے پر دستک دے کر اسے جگاتا تھا اور ’’صبح بخیر! اُمید ہے کہ آپ کی رات خوبصورت خواب دیکھتے گزری ہوگی۔‘‘ کا معمول کا جملہ ادا کرکے دریچوں سے پردے سرکانے میں لگ جاتا تھا۔ مگر آج دن چڑھنے کے باوجود فرینک کا پتا نہ تھا۔ وہ خواب گاہ سے باہر نکلا تو سامنے ہی ایک خادم نظر آیا، اس کے پوچھنے پر خادم نے بتایا کہ وہ تو آج بہت صبح ہی گھر سے نکل گئے تھے۔ شاید صبح کی واک پر گئے ہوں… پر اب تک نہیں لوٹے۔
پیٹرراڈرک کو حیرت ہوئی تھی۔ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ فرینک البرٹو اُس سے پوچھے بغیر کہیں گیا ہو۔ ’’جیسے ہی وہ آئیں انہیں میرے پاس بھیج دینا۔‘‘ خادم کو ہدایت دے کر پیٹر تیار ہونے کے لئے چلا گیا۔
آج اسے بہت کام تھا… آج اس کی ملاقات لیڈی مارگریٹ سے طے تھی۔ لیڈی مارگریٹ سے شادی کی تیاریوں کے سلسلے میں ہدایات لے کے وہ کام میں لگ گیا تھا۔ ہنری ٹیوڈر اور لیڈی مارگریٹ کی خواہش تھی کہ شادی کی تقریب بہت اہتمام سے کی جائے۔ اس طرح وہ ایک پنتھ دو کاج کے مصداق ایک شادی سے دو فائدے حاصل کرنا چاہ رہے تھے۔ ایک تو وہ دُنیا کو بادشاہت کا رکھ رکھائو، شان و شوکت اور جاہ و ہشم دکھانے کے متمنی تھے تو دوسرے وہ عوام کی توجہ حکومت اور سیاست سے شادی کے دھوم دھڑکے کی طرف مبذول کرنا چاہتے تھے۔ اسی لئے لیڈی مارگریٹ نے پیٹر کو حکم دیا تھا کہ شادی سے کم از کم تین دن پہلے سے کھیل تماشے شروع کروا دیئے جائیں جس میں عوام کی دلچسپی کے سامان کے ساتھ اُن کی شمولیت کو بھی لازمی بنایا جائے۔ اس طرح جب وہ بادشاہ کی خوشی میں شریک ہوں گے تو عوام اور بادشاہ کا درمیانی فاصلہ کم ہوگا اور اپنائیت کا رشتہ قائم ہوگا اور وہ شادی کی دھوم دھام میں گم ہو کر دیگر تمام مسائل بھول جائیں گے۔ ان انتظامات میں پیٹر اس قدر مصروف رہا کہ پورے دن اس کی بادشاہ سے بھی ملاقات نہ ہو سکی۔ پہلے وہ کسی مصروفیات کے باعث اگر بادشاہ کے حضور حاضر نہ ہو پاتا تو بادشاہ خود ہی اسے بلوا لیتا تھا مگر آج بادشاہ نے بھی اسے یاد نہیں کیا تھا اور وہ تمام دن کے کام بھگتا کر تھکا ماندا گھر لوٹ آیا تھا۔ گھر کے دروازے پر ہمیشہ فرینک البرٹو اس کا منتظر ہوتا تھا مگر آج اُسے دروازے پر نہ پا کر اسے یاد آیا کہ وہ آج صبح سے ہی غائب ہے۔ اُس کے پوچھنے پر دربان نے بتایا تھا کہ مسٹر فرینک آج صبح منہ اندھیرے کہیں باہر گئے تھے وہ اب تک واپس نہیں لوٹے ہیں۔
’’جیسے ہی وہ آئیں، اُن سے کہنا کہ فوراً مجھ سے مل لیں۔‘‘ دربان کو ہدایت دیتا وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ اس کا ذہن فرینک البرٹو میں اُلجھا ہوا تھا۔ وہ اس کے گھر کا انچارج تھا۔ دیگر تمام خادم خادمائیں اس کے ماتحت کام کرتی تھیں گھر کی تمام تر ذمے داری اسی کے کاندھوں پر تھی اور وہ برسوں سے یہ ذمے داری نہایت خوش اُسلوبی سے نبھا رہا تھا۔ برسوں کے اس ساتھ نے اُن دونوں کے بیچ اپنائیت کا رشتہ قائم کر دیا تھا۔
پیٹر کو اندازہ تھا کہ فرینک البرٹو اس کی اور الزبتھ کی محبت سے نا صرف واقف ہے بلکہ اس بات سے خوش بھی تھا اور اس کی شدید خواہش تھی کہ یہ تعلق ہمیشہ کے رشتے میں تبدیل ہو جائے۔ بادشاہ کے درمیان میں آ جانے کے بعد کئی بار وہ پیٹر سے اصرار کر چکا تھا کہ وہ اس سلسلے میں بادشاہ سے بات کرے۔ میرے منع کرنے پر وہ خفا ہو کر تو کہیں نہیں چلا گیا؟ نہیں ایسا ممکن نہیں۔ پیٹرراڈرک نے اپنے خیال کی خود ہی تردید کر دی مگر پھر سوال اُٹھا کہ وہ گیا تو گیا کہاں؟ اور کیوں گیا؟ جہاں تک اسے معلوم تھا فرینک کا کوئی عزیز رشتے دار نہیں تھا۔ پھر۔ ہر سوچ کے بعد ایک سوالیہ نشان اس کے سامنے آ موجود ہوتا تھا۔
اگلی صبح اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ بادشاہ کے حضور حاضر ہو کر اس سلسلے میں بات کرے گا۔ بادشاہ صبح سویرے اپنے قصر کے پائیں باغ میں چہل قدمی میں مصروف ہوتا تھا اور پیٹرراڈرک کی خصوصی حیثیت کی وجہ سے اسے یہ اجازت حاصل تھی کہ وہ جب چاہے بادشاہ سے مل سکتا تھا۔ چنانچہ وہ صبح ہی صبح بادشاہ کے پاس جا پہنچا تھا۔
’’صبح بخیر!‘‘ اُس کے سلام پر بادشاہ نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا۔ عموماً بادشاہ اپنائیت بھری مسکراہٹ سے اس کا سواگت کرتا تھا مگر آج اس کے لب ساکت اور چہرہ سپاٹ تھا۔ اس نے سرد نگاہوں سے پیٹر کو بغور دیکھتے ہوئے سر ہلا کر سلام کا جواب دیا۔ پیٹرراڈرک فرینک البرٹو کی گم شدگی کی وجہ سے شدید پریشانی کا شکار تھا، اس کے باوجود اُس نے بادشاہ کی سرد مہری کو محسوس کیا۔
بادشاہ نے قدم آگے بڑھاتے ہوئے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔ ’’شادی کے انتظامات کہاں تک پہنچے؟‘‘
’’جناب!‘‘ پیٹرراڈرک نے جلدی سے جواب دیا۔ ’’انتظامات تقریباً پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں، آج شام سورج ڈھلتے ہی دارالحکومت اور ہر چھوٹی بڑی کائونٹی شہر اور قصبے میں چراغاں کا اہتمام کیا جائے گا۔ یہ چراغاں شادی کی رات تک جاری رہے گا، ہر جگہ کھیل تماشوں اور تفریحی پروگراموں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ جس میں حصہ لینے والوں کے لئے انعام و اکرام کا بھی
اہتمام کیا گیا ہے۔ شادی والے دن عام تعطیل ہوگی اور اُس رات ہر خاص و عام کے لئے رات کے کھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔‘‘
’’گڈ۔‘‘ پہلی بار بادشاہ کے بھنچے ہوئے لب غیرمحسوس طریقے سے متبسم ہوئے۔ اُس نے گہری نظر سے پیٹر کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے سے پریشانی مترشح تھی اور آنکھوں سے فکرمندی جھانک رہی تھی۔
’’تم کچھ پریشان دکھائی دے رہے ہو؟‘‘ بادشاہ نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
’’جی۔‘‘ پیٹر نے جلدی سے کہا۔ ’’میں فرینک البرٹو کی طرف سے سخت پریشانی کا شکار ہوں۔‘‘ اس کے بعد اُس نے کل صبح فرینک کے جانے اور واپس لوٹ کے نہ آنے کا قصہ بادشاہ کے گوش گزار کر دیا۔
’’تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے۔‘‘ بادشاہ نے بے نیازی سے جواب دیا۔ ’’وہ اپنے کسی عزیز رشتے دار کے گھر چلا گیا ہوگا۔‘‘
’’یہی تو پریشانی کی بات ہے۔ اس کا اس دُنیا میں کوئی نہیں ہے اور اس شہر میں تو اس کا کوئی واقف کار بھی نہیں ہے۔ میرے گھر تک ہی اس کی دُنیا محدود تھی، نہیں پتا کہ وہ کہاں گیا اور اس کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا۔‘‘ پیٹر کی آواز میں واضح پریشانی تھی۔
اس وقت وہ دونوں ٹھیک اسی مقام پر کھڑے تھے جہاں کل فرینک البرٹو بادشاہ کے سامنے دست بستہ سر جھکائے کھڑا تھا اور پیٹرراڈرک اور الزبتھ یارک کے عشق کی کہانی سنا رہا تھا۔
’’اوہ!‘‘ بادشاہ نے گہرا سانس لیا۔ ’’تم جانتے ہو انگلستان کے اکثر شہروں میں چور ڈاکوئوں کا بڑا زور ہے۔ راہ چلتے کسی کو بھی قتل کر کے وہ مال متاع لے اُڑتے ہیں۔ ممکن ہے اس کے ساتھ بھی ایسا ہی کوئی واقعہ پیش آ گیا ہو۔ تم شاہی خدام سے کسی خادم کو اپنے گھر کے انتظام کے لئے منتخب کر سکتے ہو۔‘‘
کسی قدر نارمل انداز میں بادشاہ نے فرینک کی کہانی کو ختم کر کے اسے نئے ہائوس کیپر کی آفر کر دی تھی۔ پیٹر کو بادشاہ کا اس طرح کا کٹھور رویہ گراں گزرا تھا۔ اسی لئے اُس نے فوری طور پر واپسی کی اجازت چاہی تھی اور بادشاہ کو تعظیم دیتا واپسی کے لئے پلٹ گیا۔ بادشاہ کی کشادہ پیشانی شکن آلود ہوگئی تھی، اس کے منہ کا ذائقہ خراب ہوگیا تھا۔ وہ مزید چہل قدمی کا ارادہ ترک کر کے اندر کی جانب روانہ ہوگیا۔
آج شام سے شادی کے جشن کا آغاز ہونا تھا۔ پورے ملک میں چراغاں اور رنگا رنگ تقریبات کا انعقاد ہونے والا تھا۔ پیٹرراڈرک تمام دن انہی امور میں اُلجھا رہا، لیکن بے پناہ مصروف ہونے کے باوجود وہ ایک لمحے کے لئے بھی فرینک البرٹو کے خیال کو اپنے ذہن سے نہ نکال سکا تھا۔ اُس نے اپنے طور پر مختلف ذرائع سے اس کی کھوج لگانے کی کوشش کی تھی۔ گو کہ بادشاہ کا سرد رویہ اس کے لئے تکلیف دہ ثابت ہوا تھا مگر اس کی بات قابل غور تھی کہ خدانخواستہ فرینک کسی چور ڈاکو کے ہتھے نہ چڑھ گیا ہو؟ مگر سوال یہ تھا کہ ایسی صورت میں کہیں نہ کہیں سے اس کی لاش تو ملتی۔ اپنے تمام تر اختیارات کے باوجود وہ بالکل بے اختیار تھا، تمام دن کی تلاش اور تگ و دو کے بعد بھی فرینک کی کوئی خبر نہ ملی تھی۔ اسے آسمان کھا گیا تھا یا زمین نگل گئی تھی۔ کچھ پتا نہ تھا۔
اگلے چار دن اسی طرح گزر گئے۔ لاکھ پریشان اور ملول ہونے کے باوجود پیٹر شادی کے انتظامات میں تن من سے جٹا رہا۔ شہر شہر گائوں گائوں، شادی کا جشن منایا جا رہا تھا۔ شادی والے دن عام تعطیل تھی اور ہر خاص و عام کے لئے رات کا کھانا اور مشروبات حکومت کی طرف سے مہیا تھے۔ لیڈی مارگریٹ اور بادشاہ جو چاہ رہے تھے وہ مقاصد نہایت احسن طریقے سے حاصل ہو رہے تھے۔ پورا انگلستان، شادی کے دھوم دھڑکے میں گم ہو گیا تھا۔ عوام کے اس طرح شمولیت سے حکومت اور عوام کا باہمی فاصلہ کم ہوا تھا۔ پورے ملک کے لارڈز، ارلز اور نوابین اس شادی میں مدعو کیے گئے تھے اور ان معزز مہمانوں کی طرف سے تحفوں اور نذرانوں کی صورت میں کروڑوں کا سرمایہ جمع ہوا تھا۔
آخر وہ رات آ ہی گئی جس کا سب کو انتظار تھا۔ شاہی قصر دُلہن کی طرح سجا ہوا تھا۔ بادشاہ کی خواب گاہ کی آرائش، تازہ پھولوں اور روشنیوں سے منفرد انداز میں کی گئی تھی۔ دُولہا اور دُلہن کے عروسی ملبوسات خصوصی طور پر تیار کروائے گئے تھے۔ لمحے لمحے کی خبروں سے عوام کو باخبر رکھنے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ہر خاص و عام کی نگاہیں بادشاہ اور ہونے والی ملکہ پر لگی ہوئی تھیں اور اُن کے کان پل پل کی خبروں پر لگے تھے۔ لگتا تھا ملک کے طول و اَرض میں اس خوشی کے علاوہ کوئی غم، کوئی فکر، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
شاید ایک پیٹرراڈرک کا دل ہی تھا جو غم و اندوہ کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ ایک طرف الزبتھ سے دائمی جدائی کا زخم تھا تو دوسری طرف فرینک جیسے دیرینہ اور وفادار غم گسار خادم کی گمشدگی کا بڑا سانحہ تھا۔ تیسرے یہ کہ چند دنوں سے پیٹر ہنری ٹیوڈر کے رویئے میں ایک عجیب سا سردپن محسوس کر رہا تھا۔ ایک غیرمحسوس سی دُوری اور فاصلہ اُن دونوں کے مابین بڑھتا جا رہا تھا۔ پیٹر اس کا سبب جاننے سے قاصر تھا۔
نفیس بیل بوٹوں سے مزین دیدہ زیب بگھی جس میں اعلیٰ نسل کے سفید براق گھوڑے جتے ہوئے تھے، سنہری کام والی عنابی مخملیں وردی زیب تن کئے، گاڑی بان مؤدب اور مستعد بیٹھا تھا۔ یہ بگھی دولہا اور دُلہن کیلئے خصوصی طور پر تیار کی گئی تھی۔ بگھی سے آگے ایک درجن گھڑسوار بہترین وردی اور ہتھیار کے ساتھ دو رویہ چل رہے تھے۔ (جاری ہے)