Badshahat | Episode 4

565
شاہی جوڑے کی بگھی کے پیچھے دیگر بگھیوں میں قابل احترام مہمان تھے۔ بادشاہ کی پیچھے والی بگھی میں پیٹرراڈرک موجود تھا۔
شاہی چرچ میں مروّجہ اُصولوں کے مطابق شادی کی رَسم ادا کی گئی۔ سفید عروسی لباس میں سوگوار چہرے اور اُداس آنکھوں کے ساتھ الزبتھ کوئی ماورائی مخلوق لگ رہی تھی۔ پیٹر کی اس پر نگاہ پڑی تو وہ نگاہ ہٹانا ہی بھول گیا۔ اُس نے اپنے تصوّر میں بارہا الزبتھ کو دُلہن کے رُوپ میں دیکھا تھا مگر آج جب حقیقت میں دیکھا تو حیرت زدہ رہ گیا۔ اُسے اپنا دِل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔ اس کا چہرہ بجھ گیا تھا اور آنکھیں دُھواں دُھواں ہو رہی تھیں۔ ہنری ٹیوڈر نے اُس پل پیٹرراڈرک کی طرف دیکھا جو حسرت بھری نظروں سے الزبتھ کو دیکھ رہا تھا۔ ہنری کو اپنے دل میں پیٹر کے خلاف شدید نفرت اور غصّے کا طوفان اُٹھتا محسوس ہوا تھا۔
سڑک کے دونوں جانب ایک خصوصی باڑھ کے اُس پار تقریباً پورا شہر اُمڈ آیا تھا اور ہر نگاہ انگلستان کی نئی ملکہ کے چہرے پر جمی تھی۔ فضا میں رنگین غبارے اُڑائے جا رہے تھے۔ سیکڑوں کی تعداد میں پرندے آزاد کئے گئے۔ ہر طرف خوشی کے شادیانے بج رہے تھے۔ لوگ بادشاہ اور ملکہ کی راہ میں پھول بچھا رہے تھے۔ ہاتھ ہلا ہلا کر استقبال کر رہے تھے اور بادشاہ چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ الزبتھ یارک لجائی ہوئی اس کے پہلو میں بیٹھی تھی۔ پچھلی سیٹ پر اس کے میکے سے اس کے ساتھ آنے والی دو خادمائیں رینی اور ریٹا بیٹھی ہوئی تھیں۔
سڑک کے دونوں جانب کھڑے لوگوں کی آنکھوں سے مسرت و انبساط کی روشنی پھوٹ رہی تھی، وہ دمکتے چہروں اور مسکراتے لبوں سے ہاتھ ہلا رہے تھے۔ ان ہزاروں لاکھوں نگاہوں سے ہٹ کر ہنری ٹیوڈر کی نگاہیں پیٹرراڈرک کی خاموش رَنج و اَلم میں ڈُوبی حسرت و یاس کی کہانی سناتی آنکھوں پر جمی ہوئی تھیں۔ اُس کے لب غیرمحسوس طور سے بھینچ گئے تھے، اُس نے پُرجلال نگاہوں سے آخری بار پیٹر کے چہرے کی طرف دیکھا، پھر چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجا کر عوام کی طرف ہاتھ لہرانے لگا تھا۔
سجی سجائی شاندار بگھی شاہی محل کےسامنے رُکی تو خادمائوں کے ایک پّرے نے آگے بڑھ کر نئی نویلی دُلہن کا استقبال کیا اور اپنے جلو میں لے کر بادشاہ کی خواب گاہ کی طرف روانہ ہوئیں۔ خادمائیں الزبتھ کو اس کی آراستہ خواب گاہ میں بٹھا کر رُخصت ہوچکی تھیں۔ کمرے میں اب صرف خاص خادمائیں رینی اور ریٹا رہ گئی تھیں۔
چند لمحوں بعد لیڈی مارگریٹ خواب گاہ میں داخل ہوئی۔ الزبتھ نے اُٹھ کر اپنی ساس کا استقبال کیا۔ لیڈی الزبتھ نے اس کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’مجھے خوشی ہے کہ تم جیسی حسین اور سمجھ دار لڑکی میرے بیٹے کی شریک زندگی بنی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تم اپنے شوہر کو خوش اور مطمئن رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہو۔‘‘ پھر لیڈی مارگریٹ نے ہیروں جڑا ایک خوبصورت بروچ اسے تحفتاً دیا تھا۔ لیڈی مارگریٹ کے تعریفی الفاظ اور محبت بھرا لہجہ الزبتھ کو اچھا لگا۔ تحفہ بھی اسے پسند آیا تھا۔
معطر خواب گاہ، شاندار استقبال اور لیڈی مارگریٹ کا چاہت بھرا انداز… یہ سب اس کے لئے حیرت انگیز نہیں تو نیا ضرور تھا اور اب دھیرے دھیرے اسے یہ سب اچھا لگنے لگا تھا۔
اب اسے ہنری ٹیوڈر کا انتظار تھا۔ اس کے ساتھ آئی ہوئی دونوں خادمائیں خواب گاہ سے ملحق نشست گاہ میں چلی گئی تھیں۔ اب وہ کمرے میں اکیلی تھی اور اپنے شریک حیات کی منتظر۔ ذرا دیر بعد ہنری ٹیوڈر کمرے میں داخل ہوا۔ دو خادم اسے سہارا دے کر کمرے تک لائے تھے۔ وہ نشے میں دُھت تھا۔
’’ٹھیک ہے… اب تم لوگ…جج… جائو۔‘‘ اُس نے بستر پر گرتے ہوئے خدام کو جانے کا حکم دیا۔ اس کی آواز لڑکھڑا رہی تھی اور آنکھیں خمار میں ڈُوبی ہوئی تھیں۔ الزبتھ اس کے آنے کی آہٹ پا کر کھڑی ہوگئی تھی اور اس کی حالت دیکھ کر کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھی۔
’’ملکۂ عالیہ… آپ کھڑی کیوں ہیں… یہاں… تشریف رکھیے۔‘‘ ہنری نے لڑکھڑاتے لہجے میں الزبتھ کو اپنے قریب بستر پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ الزبتھ بے آواز چلتی اس کے قریب آ کر کھڑی ہوگئی۔ ’’تشریف رکھیے۔‘‘ بادشاہ نے اپنے قریب بستر کو ہاتھ سے تھپکتے ہوئے دوبارہ اشارہ کیا تو وہ ذرا فاصلے پر سمٹ کر بیٹھ گئی۔
’’اُصولاً اس وقت ہمیں آپ کے لئے کوئی بیش قیمت تحفہ لانا چاہئے تھا۔‘‘ بادشاہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’مگر افسوس ہم آپ کے لئے… کچھ نہیں لائے… ویسے یہ محل، یہ سلطنت یہ خدام… سب ہی کچھ آپ کا ہے۔‘‘ الزبتھ پلکیں جھپکاتی اُسے تکے جا رہی تھی یوں لگ رہا تھا جیسے اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا ہو۔
’’بے ربط باتیں ہیں۔‘‘ ہنری ٹیوڈر نے افسوس سے سر ہلایا۔ ’’اصل میں مجھے شاعروں جیسی لچھے دار باتیں کرنا نہیں آتا۔ پیٹر کی طرح پیٹرراڈرک۔‘‘
پیٹر کے ذکر پر الزبتھ بے اختیار چونک اُٹھی تھی۔
’’میں جانتا ہوں… تم اُسے… جانتی ہو… بلکہ… وہ کیا نام تھا اُس کا ہاں … فرینک البرٹو… اُس کا کہنا تھا کہ تم پیٹر کو چاہتی ہو۔‘‘
الزبتھ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا۔
’’نا… نا تم پریشان مت ہو اس غلط بیانی کی، میں نے اُسے سزا دے دی ہے… اُسی وقت… اُسے قتل کروا دیا… اب اس کی لاش محل کے تہہ خانے میں پڑی سڑ رہی ہوگی۔‘‘ بادشاہ لطف لینے والے انداز میں ہنسا۔
الزبتھ کی آنکھوں میں وحشت سمٹ آئی۔ پیٹر کا ایک خادم اُس کے پاس بھی فرینک کے بارے میں معلوم کرنے پہنچا تھا کیونکہ فرینک البرٹو اچانک کہیں غائب ہوگیا تھا۔ پیٹرراڈرک کی تمام تر کوششوں کے باوجود اس کا پتا نہ چل سکا تھا اور پتا چلتا بھی کیسے اُسے تو بادشاہ نے اُسی صبح قتل کروا کر محل کے تہہ خانے میں پھنکوا دیا تھا۔
’’وہ … مجھ… مجھ سے کہنے آیا تھا کہ میں تمہارے اور پیٹر کے بیچ سے ہٹ جائوں۔‘‘ بادشاہ دوبارہ لڑکھڑاتے لہجے میں گویا ہوا۔ ’’میں نے اُسے ہی ہٹا دیا… کہہ رہا تھا… پیٹر تمہیں بے پناہ چاہتا ہے… تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا… میں نے اُسی وقت سوچ لیا تھا کہ اب اُسے زندہ رہنا بھی نہیں چاہئے… میں تو اُسی وقت اسے بھی راستے سے ہٹا دیتا مگر مجبوری تھی۔ شادی کے تمام انتظامات اُسی کے ذمے تھے۔ اب وہ اپنی ذمے داریوں سے عہدہ برآ ہوگیا ہے… کل صبح سورج نکلنے سے قبل اُسے بھی زندگی کے بندھن سے آزاد کر دیا جائے گا۔‘‘ ہنری نے اپنے ہاتھ میں تھاما پیمانہ ایک ہی سانس میں خالی کر دیا۔ پھر خالی پیمانہ تھامے تھامے بستر پر اُلٹ گیا۔
الزبتھ نے اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ کر اپنے حلق سے نکلنے والی چیخ کو بمشکل روکا۔ اس کی آنکھیں وحشت سے پھیل گئی تھیں۔ میرے خدا… کل صبح پیٹر جیسا دوست، مددگار اور محسن قتل کر دیا جائے گا… اس کی آخر خطا کیا ہے؟ یہی نا کہ وہ اس سے محبت کرتا تھا اور یہ محبت اُس وقت شروع ہوئی تھی جب ہنری کا دُور دُور تک پتا نہ تھا۔ قابل گردن زدنی تو خود ہنری تھا جس نے دو محبت کرنے والے دلوں کا خون کر دیا تھا۔ اُس نے آگے بڑھ کر ہنری کو چھوا وہ نشے میں مدہوش دُنیا و مافیہا سے بے خبر پڑا تھا۔
الزبتھ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ اس کا پریشان دماغ تیزی سے کچھ سوچ رہا تھا۔ کچھ بھی ہو… اُسے پیٹر کو اس طرح بے موت مرنے سے بچانا تھا، مگر کیسے؟ اُس نے پریشان نظروں سے خواب گاہ سے ملحق نشست گاہ کی طرف دیکھا۔ جہاں اس کی دونوں خادمائیں موجود تھیں۔ اس کے پاس وقت بہت کم تھا۔ صبح ہوتے ہی اسے قتل کر دیا جانا تھا۔ صبح ہونے سے قبل اسے کچھ کرنا تھا۔
وہ تیزی سے نشست گاہ کی طرف لپکی وہاں اس کے میکے سے ساتھ آنے والی خادمائیں مستعد کھڑی تھیں۔ اُس نے ایک خادمہ کی طرف دیکھا، اس کا ڈیل ڈول کسی حد تک الزبتھ سے مماثلت رکھتا تھا۔ وہ اُسے اپنے ساتھ لئے باتھ رُوم کی طرف بڑھی۔ کچھ دیر بعد وہ باتھ روم سے نکلی تو اُس نے خادمہ کا لباس زیب تن کر رکھا تھا۔ ’’میرے واپس آنے تک تم باتھ روم میں ہی رہو گی۔‘‘
خادمہ نے حیران لہجے میں پوچھا۔ ’’اور آپ کہیں جا رہی ہیں؟ بادشاہ سلامت اس وقت کہاں ہیں؟‘‘
’’وہ خواب گاہ میں بے سُدھ پڑے ہیں۔‘‘ الزبتھ نے خادمہ کا اسکارف اپنے سر پر باندھتے ہوئے جواب دیا۔ ’’اُن کے ہوش میں آنے سے پہلے ہی میں واپس آ جائوں گی۔‘‘
’’اور … اگر اس دوران کوئی آ گیا تو… بادشاہ سلامت کی والدہ؟‘‘ خادمہ نے ہراساں لہجے میں متوقع خطرات کی نشاندہی کی۔
’’تم اسی باتھ روم میں رہو گی اور ریٹا باتھ روم کے دروازے پر موجود رہے گی۔ اوّل تو اس وقت کوئی آنے کی جسارت نہیں کرے گا اور اگر کوئی آیا بھی تو ریٹا اُسے بتائے گی کہ میں باتھ روم میں ہوں اور تمہیں یہ کوشش کرنا ہے کہ کسی کو پتا نہ چلے کہ باتھ روم میں کون ہے۔‘‘ الزبتھ نے دوسری خادمہ ریٹا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
’’مگر میم… اتنی رات گئے… آپ اکیلے… کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ میں بھی آپ کے ساتھ چلوں۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ الزبتھ نے سختی سے منع کرتے ہوئے کہا۔ ایک خادم کا اس راز میں شریک ہونے کا وہ انجام دیکھ چکی تھی اسی لئے اب وہ کسی خادم یا خادمہ کو اس کہانی کا حصہ نہیں بننے دینا چاہتی تھی، ورنہ یہ کام جو وہ انجام دینے جا رہی تھی، کسی خادم یا خادمہ سے بھی لیا جا سکتا تھا… لیکن وہ اب کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتی تھی۔
وہ اپنے پیار کو کھو چکی تھی مگر اپنے پیارے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے موت کے اندھیروں میں کھوتا نہیں دیکھ سکتی تھی۔ وہ تیزی سے دروازے سے باہر نکلی۔ اس محل کا سابق بادشاہ رچرڈ اس کے والد اسمتھ یارک کا فرسٹ کزن تھا، اس حوالے سے الزبتھ کا اکثر اس محل میں آنا جانا تھا۔ وہ یہاں کے چپے چپے سے واقف تھی۔ سو اُس نے چور راستے کی طرف قدم بڑھا دیئے۔ اس وقت وہ اپنی خادمہ رینی کے لباس میں تھی اس کے سر پر بندھا اسکارف ماتھے پر خاصا نیچے تک جھکا ہوا تھا اور چہرے کا نچلا حصہ ایک رُومال سے چھپا ہوا تھا۔
وہ تیزی سے چلتی ہوئی چور دروازے سے نکل کر محل کی بیرونی دیوار کی جانب بڑھی۔ اس کا خیال تھا کہ یہاں ضرور کسی دربان سے مڈبھیڑ ہوگی مگر یہ اس کی خوش نصیبی تھی کہ وہاں بھی سنّاٹا طاری تھا، تمام لوگ رات کے اس پہر شاہی دعوت اُڑا کر بے سدھ پڑے تھے۔ بیرونی گیٹ پر دربان نے اسے روکا تو اس نے بتایا۔ ’’میں رینی ہوں… ملکہ عالیہ کے میکے سے آئی ہوئی خادمہ۔ کسی کام سے لارڈ ہائوس جانا ہے۔‘‘ ملکہ کا نام سن کر دربان نرم پڑگیا۔ پھر اگلے ہی لمحے اُس نے گیٹ کی بغلی کھڑکی کھول دی اور وہ تیزی سے باہر نکلی چلی گئی۔ وہ جانتی تھی پیٹرراڈرک کا گھر محل سے بہت زیادہ فاصلے پر نہیں ہے، وہ تیز رفتاری سے پیٹر کی رہائش گاہ کی طرف بڑھی چلی جا رہی تھی۔
پیٹر کے گیٹ پر مستعد دربان استادہ تھا۔ ’’یس؟‘‘ اتنی رات گئے ایک خادمہ کو دیکھ کر وہ حیران ہوا۔
’’میں لارڈ ٹائون کی ایک خادمہ ہوں۔‘‘ اُس نے بتایا۔ ’’اور فرینک البرٹو کے بارے میں پیٹرراڈرک کو ایک اطلاع دینا چاہتی ہوں۔‘‘
’’فرینک البرٹو؟‘‘ دربان ایک دَم چوکنّا ہوگیا۔ ’’اوہ یہ تو بڑی خبر ہے… وہ خیریت سے تو ہیں؟‘‘
’’میں یہ سب مسٹر راڈرک کو ہی بتانا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ بے صبری سے بولی۔ ’’براہ کرم مجھے جلد از جلد اُن تک پہنچا دیں۔‘‘
’’میں پہنچا تو دوں۔‘‘ دربان کو جیسے کچھ یاد آیا۔ ’’مگر وہ اس وقت ہوش و حواس میں کہاں ہوں گے… وہ ہر شب بے سدھ ہو کر بستر پر پڑ جاتے ہیں اور دن چڑھے تک اسی طرح مدہوش پڑے رہتے ہیں… خیر چلئے میں آپ کو راستہ سمجھا دیتا ہوں۔‘‘
الزبتھ ایک سرد آہ بھر کر اس کے پیچھے چل دی ۔ کچھ دُور جا کر اُس نے الزبتھ کو اندر کا راستہ دکھایا اور خود واپسی کے لئے پلٹ گیا۔
پیٹر کی خواب گاہ دُوسری منزل پر تھی۔ وہاں پہنچنے تک اسے کوئی خادم نہیں دکھائی دیا تھا۔ غالباً اس وقت تمام خدّام اپنے بستروں میں دُبکے ہوئے تھے۔ ہلکے سے دروازہ دھکیلنے پر دروازہ کھل گیا تھا۔ وہ اندر داخل ہوگئی تھی۔ خواب گاہ میں تسکین آمیز حرارت پھیلی ہوئی تھی، ہلکی روشنی میں ہر شے نیند میں ڈُوبی محسوس ہو رہی تھی۔ سامنے بستر پر پیٹر بے سُدھ پڑا تھا۔ اس کے گھنے بال اس کی کشادہ پیشانی پر پریشان تھے۔ خشک لب ساکت تھے۔ چہرے پر مایوسی اور رنج و اندوہ کی گہری چھاپ تھی۔ چند لمحے وہ اُسے دُکھ بھری نظروں سے دیکھتی رہی۔ یہ محبت بھی کیا چیز ہے جب دلوں پر وارد ہوتی ہے تو کیسے کیسے خواب دکھاتی ہے۔ دُنیا جنت لگنے لگتی ہے اور جب یہ دامن چھڑا کر رُخصت ہوتی ہے تو آدمی کو کیسا ویران کر جاتی ہے۔ جس دل میں قیام کرتی ہے اُسی دل کو کیسا کھنڈر کر جاتی ہے… آخر لوگ محبت کرتے ہی کیوں ہیں؟ اُس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر دُکھ سے سوچا اور آگے بڑھ کر پیٹر کو جگانے کی کوشش کرنے لگی۔
’’پیٹر… پیٹر اُٹھو۔‘‘ اس کی دھیمی آواز میں آنے والے وقت کی اندوہناکی لرز رہی تھی۔ ’’اوہ پیٹر… ہوش میں آئو۔‘‘
پھر اسے سائیڈ ٹیبل پر پانی کا ایک جگ دھرا نظر آیا۔ اُس نے جلدی سے جگ اُٹھا لیا اور ٹھنڈے پانی کے چھینٹے پیٹر کے چہرے پر ڈالنے لگی۔ چند ہی لمحوں میں پیٹر نے کسمسا کر آنکھیں کھول دیں۔ چند لمحوں تک وہ خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔ ’’تم کون ہو؟‘‘ اُس نے اپنے خوابیدہ ذہن کو بیدار کرتے ہوئے پوچھا۔ ’’اور اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘
’’فوراً اُٹھ جائو۔‘‘ الزبتھ نے اپنے چہرے کے نچلے حصے سے رُومال اُتارتے ہوئے کہا۔
’’اوہ میرے خدا…‘‘ پیٹر کا سارا نشہ لمحہ بھر میں ہرن ہوگیا۔ وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔ ’’الزبتھ… یہ تم ہو؟ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا۔ مگر تم اس وقت یہاں کیسے؟‘‘ وہ اُٹھ کر کھڑا ہو چکا تھا۔ الزبتھ نے جلدی جلدی ساری کتھا اسے سنائی۔ فرینک البرٹو کے قتل کی بات سن کر وہ اُچھل پڑا تھا۔ ’’اور اب وہ تمہاری جان کے دَرپے ہے۔‘‘ الزبتھ کی آواز بھرّا گئی۔
پیٹر شکستہ اور رنجیدہ سا دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گیا۔ اس کا سر جھکا ہوا تھا اور چہرے پر انتہائی کرب کے آثار تھے۔ ’’وہ آج سورج طلوع ہوتے ہی تمہیں مروا دے گا۔‘‘ الزبتھ نے وحشت زدہ لہجے میں کہا۔
وہ حسرت بھرے لہجے میں بولا۔ ’’میں اب بھی زندہ تو نہیں ہوں۔‘‘ اُس کی مایوس نگاہیں الزبتھ کے چہرے پر منجمد تھیں۔ ’’اس طرح گھٹ گھٹ کے مرنے سے بہتر ہے کہ آدمی ایک بار ہی مر جائے۔‘‘
’’کیسی بات کر رہے ہو پیٹر۔‘‘ الزبتھ نے اسے شانوں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔ ’’تمہیں زندہ رہنا ہے فرینک البرٹو کی خاطر کہ جس نے تمہاری خاطر اپنی جان دے دی اور میری خاطر۔ میں تمہاری خاطر اتنے مشکل حالات میں بادشاہ کی خواب گاہ سے نکل کر یہاں تک پہنچی ہوں۔‘‘
’’میری زندگی اتنی قیمتی نہیں ہے الزبتھ۔‘‘ پیٹر نے کرب اور حسرت بھرے لہجے میں کہا۔ ’’تم نے یہ خطرہ مول کیوں لیا؟‘‘
’’کیونکہ۔‘‘ الزبتھ نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مضبوط لہجے میں کہا۔ ’’کیونکہ میں تم سے محبت کرتی ہوں پیٹر اور تمہیں زندہ دیکھنا چاہتی ہوں۔ تمہاری زندگی اتنی ارزاں نہیں کہ ایک سنگ دل اور کینہ پرور شخص محض اپنے کینہ کی بنا پر تمہیں موت کے گھاٹ اُتار دے۔‘‘
پیٹرراڈرک اپنی پوری آنکھیں کھولے یک ٹک الزبتھ کو دیکھے جا رہا تھا۔ وہ اُسے کس قدر چاہتی تھی کہ اپنی جان دائو پر لگا کر اس کی جان بچانے چلی آئی تھی، اب اس کا بھی فرض تھا کہ اس کی کوشش کو ضائع نہ ہونے دیتا۔
’’پلیز پیٹر جلدی کرو۔‘‘ اسے یوں خاموشی سے اپنی جانب تکتے دیکھ کر الزبتھ بوکھلا کر بولی۔ ’’وقت بہت کم ہے سورج طلوع ہونے سے پہلے تمہیں اس شہر سے کہیں دُور نکل جانا ہے۔ کسی دُور دراز علاقے میں تمہیں نئے سرے سے زندگی کا آغاز کرنا ہے۔ اپنا گھر بسانا ہے۔‘‘
پیٹر بے ساختہ ہنس پڑا، اس کی ہنسی میں آنسوئوں کی نمی تھی۔ ’’یہ دل… اور میرا گھر اب کبھی نہیں بس سکے گا۔‘‘
’’وقت ہر زخم مندمل کر دیتا ہے۔ بہت جلد تم یہ سب بھول جائو گے۔ تمہیں ایسا ہی کرنا ہوگا۔ اب فوراً اُٹھ جائو تمہیں فوراً نکلنا ہے۔‘‘
’’مگر الزبتھ…!‘‘ پیٹر نے کچھ کہنا چاہا۔
’’کچھ نہ کہو پیٹر۔ بس اتنا سمجھ لو اگر تم نے جانے سے انکار کیا تو میں ابھی اس خنجر سے خود کو ختم کر لوں گی۔‘‘ الزبتھ نے اپنی آستین میں چھپے ایک چھوٹے سے خنجر کو ہاتھ میں تھام کر پیٹر کی طرف دیکھا۔
’’اوہ الزبتھ…‘‘ پیٹر ہڑبڑا کر اُٹھ کھڑا ہوا۔ شب بسری کا لباس تبدیل کرکے اُس نے سفر کا لباس زیب تن کرلیا۔ الزبتھ نے تجوری سے سونے کے سکوں سے بھری کئی تھیلیاں پیٹر کی جیکٹ اور کوٹ کی جیبوں میں ٹھونس دی تھیں۔ پیٹر کے سر پر ایک اونی ٹوپی اور گلے میں ایک بڑا مفلر پڑا ہوا تھا۔
’’تم اس مفلر سے چہرے کو چھپا لو اور پچھلے دروازے سے نکل جائو… سورج نکلنے سے پہلے پہلے تمہیں اس شہر سے بہت دُور نکل جانا ہے۔‘‘ الزبتھ نے ہذیانی انداز میں اسے ہدایات دیتے ہوئے کہا۔
’’اور تم؟‘‘ پیٹر نے اس کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
’’میں واپس… محل میں لوٹ جائوں گی۔‘‘ الزبتھ کے لہجے میں تھکن اور آزردگی اُتر آئی۔ ’’تم بے فکر رہو میں خیریت سے واپس چلی جائوں گی… بس تم اپنا خیال رکھنا۔‘‘
’’الزبتھ…‘‘ پیٹر کی آواز میں آنسوئوں کی نمی گھلی ہوئی تھی۔ ’’میں تمہارا…‘‘
’’شکریہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے پیٹر۔‘‘ الزبتھ نے محبت پاش لہجے میں کہا۔ ’’یہ سب میں نے اپنے لئے کیا ہے۔‘‘
پیٹر چند لمحے اسے غور سےدیکھتا رہا۔ پھر تیزی سے دروازے کی طرف پلٹ گیا۔ ’’پیٹر۔‘‘ الزبتھ کی آواز میں ایک فریاد تھی۔ پکار تھی۔ پیٹر نے دروازے تک پہنچتے پہنچتے پلٹ کر اُس کی طرف دیکھا اور اگلے ہی لمحے آگے بڑھ کر اُس نے الزبتھ کو بازوئوں میں بھر کر کہا۔ ’’تم میری پہلی اور آخری محبت ہو۔‘‘ اس کی، سسکتی ہوئی سرگوشی میں جذبوں کی سچائی تھی۔ ’’میں تمہیں کبھی نہیں بھول سکوں گا… کبھی نہیں۔‘‘ کئی لمحے ایسے ہی بیت گئے… پھر پیٹر تیزی سے دروازے سے باہر نکل گیا۔
الزبتھ نے ہاتھ کی پشت سے آنکھوں میں آئے اشکوں کو پونچھا۔ کمرہ خالی ہو گیا تھا۔ اُسے اپنا دل بھی خالی خالی لگ رہا تھا۔ پوری کائنات ویران لگنے لگی تھی۔ دوسرے ہی لمحے جیسے اسے ہوش آ گیا۔ اُس نے آگے بڑھ کر بستر پر پڑے رُومال سے اپنا چہرہ چھپایا اور دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ وہ تیز رفتاری سے چلتی بیرونی گیٹ تک پہنچی۔ دربان حسب سابق اس کی طرف لپکا تھا۔ ’’تم وہاں… مسٹر پیٹر کے گھر میں… کچھ گڑبڑ تونہیں کر کے آئی ہو… کیونکہ ابھی چند لمحوں قبل دو غلام بادشاہ کے حکم پر یہاں پہنچے ہیں۔ میں نے انہیں تمہارے بارے میں بتایا تو وہ تم سے لاعلم تھے، اس کا مطلب ہے کہ تم محل سے نہیں آئی ہو… ورنہ وہ غلام تم سے واقف ہوتے۔‘‘
’’وہ غلام کہاں گئے؟‘‘ الزبتھ کی پیشانی پسینے میں شرابور ہوگئی۔
’’وہ مسٹر پیٹر کی خیریت معلوم کرنے اُن کے بیڈروم کی طرف گئے ہیں… وہ جب تک واپس نہیں آ جاتے میں تمہیں…‘‘
’’پاگل مت بنو… مجھے جانے دو۔‘‘ الزبتھ نے سخت لہجے میں کہا۔ تب ہی رہائش گاہ کی پچھلی جانب سے سنّاٹوں کو چیرتی ایک چیخ اُبھری تھی۔ چیخ سنتے ہی الزبتھ کے لبوں سے ایک سسکی نکل گئی… دربان ایک دم چوکنّا ہوگیا تھا۔ ’’میں تمہیں گرفتار کرتا ہوں۔‘‘
’’ٹھہرو۔‘‘ الزبتھ نے اسے سخت لہجے میں رُکنے کے لئے کہا اور ہتھکڑی لئے اس کی جانب بڑھتا دربان ایک دم ساکت ہوگیا۔ الزبتھ نے سوچتے ہوئے لہجے میں اُس سے سرگوشی میں پوچھا۔ ’’تم بادشاہ کو پہچانتے ہو۔‘‘ دربان کے اثبات میں سر ہلانے پر وہ اس کے قریب چلی گئی۔ دربان کے ایک ہاتھ میں ہتھکڑی تھی، دُوسرے ہاتھ میں قندیل جو اُس نے تھوڑی اُوپر اُٹھائی ہوئی تھی۔ الزبتھ نے اپنے چہرے سے رُومال ہٹا دیا۔ قندیل کی مدھم روشنی میں اس کا چاند چہرہ جگمگاتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ ’’تم نے ملکہ الزبتھ کو دیکھا ہے نا… میں الزبتھ ہوں۔‘‘ اُس نے لحظہ بھر رُک کر ٹھہرے ہوئے مدھم لہجے میں دربان کو مخاطب کیا۔ ’’اب تمہیں یہ بات بالکل بھول جانی ہے کہ رات گئے کوئی عورت اس طرف آئی تھی… سمجھے۔‘‘ دربان کی آنکھیں حلقوں سے ابلی پڑ رہی تھیں، وہ لرزہ براندام تھا۔ ’’حکم عدولی کی سزا کیا ہوگی یہ تم اچھی طرح جانتے ہو۔ چلو گیٹ کھولو۔‘‘ دربان نے لرزتے ہاتھوں سے گیٹ کھول دیا اور الزبتھ چہرے پر رُومال لپیٹتی گیٹ سے باہر نکل کر تاریکی میں گم ہوگئی۔ دربان اپنی جگہ گم صم ساکت کھڑا سوچ رہا تھا۔ یہ بادشاہ اور ملکہ لوگ بھی عجیب ہی ہوتے ہیں۔ بھلا سوچو نئی نویلی ملکہ کو اس وقت بادشاہ کے حجلۂ عروسی میں ہونا چاہئے اور وہ اس سردی میں خادمہ کے کپڑے پہنے یہاں بھٹکتی پھر رہی ہے۔ اگلے ہی لمحے اُس نے لرز کر سوچا۔ مجھے یہ بات بھول جانا ہے… گیٹ بند کر کے وہ گیٹ کے پہلو میں بنی کوٹھری کی طرف بڑھ گیا۔ وہاں موجود دُوسرے دربان کو جگا کر اُس نے پچھلے دروازے کی طرف روانہ کر دیا تھا جہاں سے کچھ دیر قبل ایک چیخ اُبھری تھی۔ پھر وہ جلدی جلدی اپنے ساتھی کو جگانے لگا۔
٭…٭…٭
الزبتھ کو محل کے دروازے سے اندر داخل ہونے میں کوئی خاص دقّت نہیں ہوئی۔ محل سے جاتے وقت گیٹ پر جو دربان تھا اس وقت بھی وہی موجود تھا۔ اندر داخل ہو کر وہ تیزی سے عمارت کی طرف بڑھی۔ ابھی اسے اندر کا حال بھی دیکھنا تھا۔ جانے اس کے بعد دونوں خادمائوں پر کیا گزری؟ جہاں تک ہنری ٹیوڈر کا تعلق تھا تو اسے پورا یقین تھاکہ وہ اب تک ہوش میں نہ آیا ہوگا۔
الزبتھ کے جانے کے بعد اس کی دونوں خادمائیں رینی اور ریٹا بہت سہمی ہوئی اور خوفزدہ تھیں۔ اُن کے خیال میں الزبتھ کا یوں رات کی تاریکی میں اس طرح گھر سے نکلنا بے حد خطرناک تھا۔ ریٹا نے الزبتھ کے ساتھ جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا مگر الزبتھ نے سختی سے منع کر دیا تھا اور وہ ہتھیلی پر جان رکھ کر روانہ ہوگئی تھی۔ وہ دونوں الزبتھ کے لئے بے حد فکرمند اور دُعاگو تھیں۔ اسے گئے ہوئے کافی دیر ہوچکی تھی۔ ہر طرف سنّاٹوں کا راج تھا۔
ٹھیک انہی لمحوں میں قصر کے ایک تہہ خانے میں دو جلّاد نما خادم شون اور برائون جھومتے ہوئے اپنی جگہ سے اُٹھے تھے۔ انہیں سرشام ہی بادشاہ کی طرف سے ایک حکم نامہ موصول ہوا تھا اور اب اس حکم پر عمل کرنے کا وقت آ گیا تھا۔ وہ اصطبل سے گھوڑے لے کر پیٹرراڈرک کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔
پیٹر راڈرک کے گھر کے بیرونی گیٹ پر دربان نے اُن سے، اُن سے قبل اندر داخل ہونے والی کسی خادمہ کے بارے میں پوچھا تھا، جس کا وہ دونوں کوئی جواب نہ دے سکے تھے اور آہستہ روی سے گھر کی اندرونی عمارت کے بیرونی حصے کی طرف بڑھ گئے تھے۔ تب ہی انہیں ایک سایہ تیزی سے پچھلے دروازے کی طرف لپکتا نظر آیا تھا۔ شون تیزی سے گھوڑے سے کود پڑا تھا۔
’’پچھلے دروازے سے کوئی جا رہا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو پیٹرراڈرک کو ہماری آمد کی خبر ہوگئی ہو اور اس وقت وہ راہ فرار اختیار کر رہا ہو۔‘‘ وہ پچھلی جانب بڑھتے تیزی سے بولا… پھر وہ سائے کے پیچھے لپکا۔ تب تک سائے نے بیرونی دروازہ کھول لیا تھا۔
’’ٹھہرو۔‘‘ شون نے اپنا خنجر نکال لیا۔ ’’تم جو بھی ہو اس وقت گھر سے باہر نہیں جا سکتے۔‘‘ مگر سائے نے اس کی بات سُنی اَن سُنی کرکے باہر نکل جانا چاہا۔ شون نے اپنا خنجر تول کر اس کی طرف پھینکا، اگلے ہی لمحے سائے نے وہی خنجر تھام کر شون کی طرف پھینک دیا۔ خنجر کا تیز دھار پھل شون کے پھولے ہوئے پیٹ میں دھنستا چلا گیا تھا، وہ ایک کربناک چیخ کے ساتھ دروازے کے بیچوں بیچ ڈھیر ہوگیا تھا۔
برائون تیزی سے شون کے قریب پہنچا تو وہ کراہتے ہوئے بولا۔ ’’تم مجھے چھوڑو اور اس کے پیچھے جائو۔ وہ کوئی اور نہیں پیٹرراڈرک تھا۔ اُس نے جس طرح خنجر سے وار کیا ہے۔ یہ اسی کا انداز ہے… دیر مت کرو اس کے پیچھے جائو اور اسے قتل کر دو … ورنہ…!‘‘
دھیمی ہوتی شون کی آواز سنّاٹے میں ڈُوب گئی۔ چنانچہ وہ شون کی لاش کو پھلانگتا ہوا باہر کی طرف لپکا۔ پیٹر بھی برق رفتاری سے آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ برائون نے بھی اپنی رفتار تیز کر دی تھی۔ مگر پھر وہ اچانک ہی اس کی نگاہوں
سے اوجھل ہوگیا تھا۔
’’میرے خدا… وہ کہاں گیا؟‘‘ برائون ملگجے اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاروں طرف دیکھ رہا تھا۔ کافی دیر تک وہ اِدھر اُدھر بھٹکتا رہا تھا، مگر پیٹرراڈرک کو تلاش کرنے میں وہ ناکام رہاتھا۔
’’اب مجھے واپس چلنا چاہئے۔‘‘ اُس نے تھکن سے چور ذہن سے سوچا۔ ’’یہ تو طے ہے کہ پیٹر زندہ بچ جانے کے باوجود کبھی کسی کے سامنے آنے کی ہمت نہ کرسکے گا اور عمر بھر گمنامی کی زندگی گزارنے کو ترجیح دے گا تو کیوں نہ میں بادشاہ سے جا کر کہہ دوں کہ میں نے پیٹرراڈرک کو قتل کر کے تہہ خانے میں پھینک دیا ہے۔‘‘ برائون نے دل میں فیصلہ کیا اور شکستہ قدموں سے واپسی کے لئے روانہ ہوگیا۔
٭…٭…٭
الزبتھ قصر کی غلام گردشوں میں داخل ہوچکی تھی۔ غلام گردش میں قدم رکھنے کے بعد خواب گاہ تک پہنچنے میں اسے صرف چند منٹ لگے تھے۔ اسے اپنے سامنے زندہ سلامت پا کر دونوں خادمائیں خوشی سے نہال ہو اُٹھی تھیں۔ الزبتھ تیزی سے باتھ روم کی طرف بڑھ گئی، چند لمحوں بعد وہ شب بسری کے خصوصی لباس میں ملبوس خوشبوئوں میں بسی ہنری ٹیوڈر کی خواب گاہ کی طرف بڑھ رہی تھی، اندر داخل ہو کر اُس نے کمرے کا دروازہ بند کر لیا۔ اپنے دل اور ذہن سے پیٹرراڈرک کی ہر یاد کو اُس نے دروازے کے اُس پار ہی چھوڑ دیا تھا۔ شادی کی رُسوم کے دوران اُس نے پادری کے سامنے ہمیشہ اپنے شوہر سے وفادار اور مخلص رہنے کا عہد کیا تھا۔ سو وہ اس وقت تمام تر سچائیوں اور وفائوں کا وجدان لئے اپنے شوہر کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اگر… شاید ہنری ایک عام مرد ہوتا اور وہ ایک عام سی عورت ہوتی تو اس وقت اسے اپنے شوہر کی گھنائونی حرکتوں کا علم ہونے کے بعد اُس سے نفرت محسوس ہو رہی ہوتی، مگر وہ کوئی عام عورت نہیں تھی۔ وہ انگلستان کی ملکہ تھی اور بستر پر بے سُدھ پڑا اس کا شوہر کوئی عام آدمی نہ تھا۔ وہ انگلستان کا تاجدار تھا۔ ہنری ٹیوڈر… شاہ انگلستان اور شاہوں کو تو سات خون ویسے بھی معاف ہوتے ہیں۔
وہ ہنری کے قریب پہنچ کر رُک گئی۔ وہ بے خبر سو رہا تھا… اس کی کوششوں سے چند لمحوں بعد ہی اُس نے کسمسا کر آنکھیں کھول دیں۔ اس کی خمار آلود نگاہیں الزبتھ کے چہرے پر جمی تھیں اور خوابیدہ ذہن صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پھر سب کچھ اسے یاد آ گیا۔ رات کو اُس کی شادی ہوئی تھی، پھر وہ مہمانوں کے ساتھ ضیافت میں شامل ہوا تھا اور اپنے مخصوص چیمبر میں دیر تک مے نوشی کرتا رہا تھا۔ اسی دوران اُس نے برائون اور شون کو پیٹرراڈرک کے قتل کا حکم صادر کر دیا تھا۔ پھر خدّام اُسے سہارا دے کر خواب گاہ میں پہنچا گئے تھے۔ پھر اُسے کچھ یاد نہیں رہا تھا۔ وہ بستر پر گر کر بے سُدھ ہوگیا تھا اور اب اس وقت اُس کے سامنے اس کی شریک زندگی ملکہ الزبتھ اُسے بیدار کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ بے خود سا الزبتھ کو دیکھے گیا۔ اس کے حسین چہرے پر شرم آگیں مسکراہٹ تھی۔ ہنری نے ہاتھ بڑھا کر الزبتھ کی کلائی تھام لی۔ اُن کے دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے۔ ایسی اُنسیت تھی کہ جیسے وہ ایک دُوسرے کے لئے ہی بنائے گئے ہوں۔
وقت کی رفتار تھم گئی تھی۔ لمحوں کی آہٹوں کی آواز معدوم ہو گئی تھی۔ خواب گاہ کی خوابناک فضا میں اُن کے دلوں کی دھڑکنوں کا ارتعاش تھا۔
٭…٭…٭
دُور مشرقی پہاڑیوں کی اوٹ سے سورج دھیرے دھیرے سر اُبھاررہا تھا۔ سورج کی نارنجی شعاعوں نے آکاش کی نیلاہٹوں کو شفق رنگ کر دیا تھا۔ صبح کی باد ِنسیم کے سرد جھونکوں میں میٹھی سی خنکی اور مدہوش کن مستی رَچی ہوئی تھی۔ الزبتھ نے پائیں باغ کی جانب کھلنے والے دریچے کھول دیئے تھے۔ مشکبار ہوائوں کے جھونکوں نے خواب گاہ کی خوابناک فضا کو گدگدا کر جگا دیا تھا۔ الزبتھ نے گہری سانس لے کر باغیچے کی طرف دیکھا۔ اسے اپنے روم روم میں زندگی کا ایک نیا اور بھرپور احساس سرایت کرتا محسوس ہو رہا تھا۔ ہنری نے بھی انگڑائی لے کر آنکھیں کھول دی تھیں۔ الزبتھ نے محبت پاش مسکراہٹ سے اس کی جانب دیکھا۔ اُس نے مخمور لہجے میں کہا۔ ’’ڈارلنگ! میں نے کبھی سوچا نہ تھا … شادی اس قدر خوبصورت شے کا نام ہے۔‘‘
الزبتھ اس کی بات سن کر بے اختیار کھلکھلا کر ہنس دی۔ کمرے کی فضا میں نقرئی گھنٹیاں سی بج اُٹھیں۔ ہنری بے خود سا اُسے دیکھتا رہ گیا۔ الزبتھ کے محبت بھرے دل میں کسی کے بچھڑنے کی کسک نہ تھی… اس کی آنکھوں میں کسی کو کھو دینے کا ملال نہ تھا۔ اس کے لب کسی کے فراق میں آہ بھرنے کی بجائے کھلکھلا کر ہنس رہے تھے۔ تو کیا فرینک البرٹو کی سنائی ہوئی کہانی جھوٹی تھی؟ الزبتھ کے اس وقت رویوں اور خود پیٹر کے عمل سے کبھی اس بات کا اظہار نہیں ہوا تھا۔ اُس نے کس قدر محبت اور اہتمام سے اس کی شادی کے انتظامات کئے تھے۔ ہر کام کس قدر عمدگی سے انجام دیا تھا۔ اگر وہ الزبتھ سے محبت کرتا تھا تو وہ تو اُسے بتا سکتا تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے رازدار اور بے تکلف دوست تھے۔ مگر اُس نے کبھی اشارتاً بھی ایسی کوئی بات نہیں کہی تھی تو کیا یہ محض فرینک البرٹو کے ذہن کی اختراع تھی؟
’’میرے خدا۔‘‘ ہنری کو اچانک یاد آیا۔ رات نشے میں اُس نے دو جلّادوں کو پیٹرراڈرک کے قتل کا حکم دیا تھا… تو کیا اُن جلادوں نے پیٹر کو قتل کر دیا ہوگا۔ اس کا دل بیٹھ گیا اور وہ ہڑبڑا کر اُٹھ کھڑا ہوا۔ ابھی تو سورج طلوع ہونا شروع ہی ہوا تھا، شاید وہ قاتل ابھی روانہ نہ ہوئے ہوں۔ وہ انہیں روک دے گا۔ یہ سوچ کر وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھا۔
’’کہاں؟‘‘ الزبتھ نے خمار آلود نگاہوں سے سوال کیا۔
’’ایک بے حد ضروری کام ہے۔‘‘ وہ کمرے سے باہر جاتے ہوئے بولا۔ دروازے پر دو مستعد خادم موجود تھے۔ ’’شون اور برائون کو حاضر کیا جائے۔‘‘ ہنری نے حکم دیا اور خواب گاہ سے ملحق کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ چند لمحوں بعد ہی برائون سر جھکائے بادشاہ کے حضور حاضر ہوگیا۔
’’تم اکیلے آئے ہو۔ دُوسرا کہاں ہے؟‘‘ بادشاہ نے بے صبری سے پوچھا۔
’’وہ تو جناب مارا گیا۔‘‘ برائون نے مؤدبانہ لہجے میں جواب دیا۔ ’’پیٹرراڈرک کو کسی طرح اندازہ ہو گیا تھا کہ ہم اسے قتل کرنے آ رہے ہیں۔ اس لئے وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ شون نے اسے روکنے کی کوشش میں خنجر سے وار کیا، اُس نے اُسی خنجر سے شون کو قتل کر دیا۔‘‘
’’اوہ۔ پھر پیٹرراڈرک کا کیا بنا؟‘‘ بادشاہ کو ایک غلام کی موت سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ بادشاہ کا اضطراب دیکھ کر وہ مزید سہم گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ بادشاہ آخر اس وقت چاہ کیا رہا ہے؟ وہ اس کی زندگی کا خواہاں ہے یا پیٹر کی موت کی خبر سننے کے لئے بے قرار ہے… اُس نے پیٹرکی موت کا حکم دیا تھا تو قرین قیاس یہی تھا کہ وہ پیٹر کی موت کی خبر سننے کا مشتاق ہے… چنانچہ برائون نے اسے اس کی پسند کی خبر سنانے کا فیصلہ کرلیا۔
’’وہ فرار ہونا چاہتا تھا، مگر میں نے اسے فرار نہیں ہونے دیا۔‘‘ برائون نے فخریہ لہجے میں کہا۔ ’’میں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے گھیر کر موت کے گھاٹ اُتار دیا۔‘‘
’’اوہ… پیٹر کو تو نے قتل کر دیا؟‘‘ بادشاہ کی آواز سے وحشت ہویدا تھی۔
’’جی جناب۔‘‘ برائون نے جواب دیا۔ ’’اور لاش کو تہہ خانے کے سب سے گہرے کنویں میں پھینک دیا۔‘‘
’’او بدبخت۔‘‘ ہنری تقریباً چیخ اُٹھا۔ ’’ارے کوئی ہے جو اس ناہنجار کو تہہ تیغ کر دے۔‘‘
اُس نے بآواز بلند پکارا اور اگلے ہی لمحے دو غلام آگے بڑھے اور برائون کو گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر لے گئے۔
کمرے کا جو دروازہ خواب گاہ میں کھلتا تھا اس کے پردے کے پیچھے کھڑی الزبتھ لمحہ بھر کو سر تا پا لرز اُٹھی تھی تو اُس کی رات کی تمام تگ و دو بے کار گئی تھی اور موت اپنے نوکیلے پنجے پیٹر جیسے نرم خو انسان، خوش گفتار شاعر کے وجود میں گاڑھنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ وہ دلکش انسان، وہ محبتوں کی حرارت سے لبریز عاشق وہ رُوح میں اُتر جانے والے اشعار کا خالق، اس کا محبوب، اس کا پہلا عشق آخرکار ایک اندھے کنویں کی غذا بن گیا تھا۔ سب کچھ ختم ہوگیاتھا۔ سب کچھ فنا ہوگیا تھا۔ الزبتھ شکستہ قدموں، آزردہ دل کے ساتھ نشست گاہ میں داخل ہوگئی۔ سامنے ہنری ہاتھوں میں سر تھامے وحشت زدہ سا مغموم بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں پچھتاوے کے آنسو تھے۔ آج اُس نے اپنا برسوں پرانا رفیق ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کھو دیا تھا۔ الزبتھ کا سینہ بھی غم سے شق تھا۔ اُس نے بھی اس شخص کو کھو دیا تھا جسے دل کی تمام تر گہرائیوں اور سچائیوں سے چاہا تھا مگر اس کے چہرے سے کسی قلق کا اظہار نہ ہو رہا تھا۔ اُس نے اپنے کرب کو دل میں چھپا لیا تھا۔
’’خیریت!‘‘ اُس نے ہنری کے شانے پر ہاتھ رکھ کر نرم آواز میں پوچھا۔ ’’آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں۔‘‘
’’نن… نہیں۔‘‘ وہ جلدی سے بولا۔ ’’ہاں… شاید… میں کچھ پریشان ہوں۔ کیا میں تمہیں بتا سکتا ہوں؟‘‘
’’بادشاہ سلامت۔‘‘ الزبتھ نے پیار بھرے لہجے میں جواب دیا۔ ’’میں آپ کی بیوی ہوں اور اس ناتے میرا فرض ہے کہ میں آپ کی ہر پریشانی، ہر دُکھ اور اذیت میں آپ کا ساتھ دوں۔‘‘
ہنری نے بے ساختہ الزبتھ کے ہاتھ تھام لئے وہ اس کے قریب جھک آئی۔ یہ رشتے بھی کتنے عجیب ہوتے ہیں وہ اس وقت اپنے پیار کے قاتل کو سینے سے لگائے اسے حوصلہ دے رہی تھی، جبکہ خود اس کا دل تڑپ رہا تھا مگر یہ تڑپ بے معنی تھی کیونکہ مرنے والے سے ان کا کوئی باقاعدہ رشتہ نہیں تھا، مگر اس شخص سے اس کا جنم جنم کا رشتہ استوار ہوگیا تھا۔ اب یہی شخص اس کا سب کچھ تھا… اُس نے اپنی اشک بار آنکھیں ہنری کے سنہری بالوں میں چھپا لیں اس کی پلکوں سے موتی ٹوٹ کر ہنری کے بالوں میں رستے جارہے تھے۔ اُدھر ہنری کی پلکوں سے ٹوٹتے تارے الزبتھ کے دامن میں جذب ہو رہے تھے۔
٭…٭…٭
ملک کے حالات اب خاصے اعتدال پر آگئے تھے۔ بادشاہ کی حیثیت مستحکم ہو گئی تھی۔ شاہی خاندان کی بیٹی سے شادی کر لینے کے بعد اس کے وقار میں اضافہ ہوا تھا اور عوام نے اُسے دل سے اپنا حکمران تسلیم کرلیا تھا۔ ہر طرف اطمینان کا دور دورہ تھا، ہر طرف امن و امان تھا، مگر جب سے لیڈی مارگریٹ کو پیٹرراڈرک کے بے موت مارے جانے کی خبر ہوئی تھی، وہ بے حد دُکھی اور افسردہ تھی۔ لیڈی مارگریٹ کے لئے پیٹر بھی ہنری کی ہی طرح عزیز تھا، مگر اُس عاقبت نااندیش نے ایک بے بنیاد شک کی بنا پر اپنا ایک سچا دوست اوربہترین مشیر کھو دیا تھا لیکن یہ اچھی بات تھی کہ اب وہ ہر کام اور فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنے لگا تھا۔ جانتا تھا کہ پیٹرراڈرک جیسا ساتھی اب اس کے ساتھ نہیں ہے۔ اپنی جذباتی اور جلدباز فطرت کے باعث اُس نے اپنا رفیق کھو دیا ہے۔ ہفتوں نہیں مہینوں اُسے اس بات کا ملال رہا تھا۔ البتہ یہ اچھا ہوا تھا کہ پیٹر جیسے دوست کو کھو کر اُس نے الزبتھ جیسی شریک حیات پا لی تھی۔ الزبتھ ہر لحاظ سے ایک اچھی عورت اور بہترین بیوی ثابت ہوئی تھی۔
ہنری ٹیوڈر نے اپنی ماں لیڈی مارگریٹ کے مشورے سے بوڑھے وزیر بریڈ فریڈرک کے علاوہ چند اور دانا مشیر اپنے گرد جمع کر لئے تھے۔ اور سب سے بڑھ کر اس کی بیوی الزبتھ اس کی غم گسار اور دم ساز تھی وہ کوئی فیصلہ کرنے سے قبل الزبتھ سے مشورہ لینا ہرگز نہ بھولتا تھا۔
پیٹرراڈرک کے احکامات پر سختی سے عمل جاری تھا۔ آئے دن نت نئے ٹیکس لگائے جا رہے تھے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑے بڑے جرمانے عائد کئے جاتے تھے۔ اس طرح امراء کی دولت سے بھری تجوریاں خالی ہوتی جا رہی تھیں اور بادشاہ کا خزانہ بڑھتا جا رہا تھا۔
پورے انگلستان میں اس کا دبدبہ قائم ہوگیا تھا۔ فساد برپا کرنے والے شرپسند امراء کسی قدر اس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ لیکن ہنری نے اب کچھ اور سوچا تھا اور اسی لئے آج سہ پہر کو اُس نے اپنے تمام وزیروں اور مشیروں کو طلب کیا تھا۔ دراصل وہ ایک نئی عدالت قائم کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ ’’اسٹار چیمبر‘‘ نامی یہ عدالت براہ راست بادشاہ کے ماتحت ہوگی… یہ عدالت چوری، ڈکیتی، بحری قذاقوں کے مسئلے اور دیگر جرائم کے علاوہ امراء کی لاقانونیت اور سرکشی کی سرکوبی کے لئے خاص کردار ادا کرسکے گی۔
تمام وزراء اور مشیران نے سر تسلیم خم کر دیا تھا۔ جب بادشاہ ایک فیصلہ کر ہی چکا تھا تو مشورہ کیسا اور سوچ بچار کس بات کی؟
’’آپ نے ایک شاندار فیصلہ کیا ہے۔‘‘ بوڑھے وزیر بریڈ نے تحسین آمیز لہجے میں بادشاہ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا۔ بادشاہ کے لبوں پر اطمینان بھری مسکراہٹ بکھر گئی۔
مجلس برخاست ہونے کے بعد بادشاہ اپنی خواب گاہ کی طرف روانہ ہوگیا۔ خوابگاہ کے دروازے پر اسے لیڈی ڈاکٹر دکھائی دی تو لحظہ بھر کو وہ پریشان ہو اٹھا۔ اس نے پوچھا۔ ’’سب ٹھیک تو ہے؟‘‘
’’ہاں میرے بادشاہ۔‘‘ ڈاکٹر کی بجائے اس کی والدہ لیڈی مارگریٹ نے خواب گاہ سے باہر آتے ہوئے مسکرا کر کہا۔ ’’میرے عزیز بیٹے تمہیں مبارک ہو۔ تم بہت جلد باپ بننے والے ہو۔ ہمارا ولی عہد اس دُنیا میں آنے والا ہے۔‘‘
یہ خوش خبری سن کر وہ بے ساختہ لیڈی مارگریٹ کے قریب گیا۔ ماں نے اس کی روشن پیشانی پر مہر محبت ثبت کرتے ہوئے خواب گاہ میں جانے کا اشارہ کیا۔
وہ خواب گاہ میں داخل ہوا، سامنے دیدہ زیب اور کشادہ بیڈ پر الزبتھ نیم دراز تھی، بادشاہ کو دیکھ کر اُس نے اُٹھنا چاہا۔
’’اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ ہنری جلدی سے بولا۔ ’’تم لیٹی رہو تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔‘‘
الزبتھ نے شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ آنکھیں جھکا لی تھیں۔ ہنری نے اس کے قریب ہی بیٹھ کر کہا۔ ’’میں تمہارا شکرگزار ہوں الزبتھ۔ تم ہمیشہ ہی میرے لئے خوشی اور راحت کا باعث رہی ہو۔ تمہارے وجود سے میری حکومت اور سلطنت کو ہمیشہ فائدہ پہنچا۔ اب یہ آنے والا مہمان اس بادشاہت کے لئے ایک نئے استحکام کا باعث بنے گا۔ ہم اپنے بچوں کے ذریعے پورے یورپ کو اپنی مٹھی میں لے لیں گے۔‘‘
’’میں سمجھی نہیں؟‘‘ الزبتھ نے حیرت سے پلکیں جھپکائیں۔
’’جلد ہی تم سب سمجھ جائو گی۔ وقت آنے دو۔‘‘ ہنری نے معنی خیز مسکراہٹ سے جواب دیا۔ الزبتھ نے کچھ نہ سمجھنے کے باوجود خاموشی اختیار کرلی۔ ہنری ٹیوڈر بے انتہا خوش تھا۔ وہ پہلی بار باپ بننے جا رہا تھا… آنے والے بچّے کا اُس نے ابھی سے ہی انتظار شروع کر دیا تھا۔
٭…٭…٭
’’اسٹار چیمبر‘‘ نامی عدالت قائم ہوچکی تھی۔ یہ عدالت براہ راست بادشاہ کے ماتحت تھی۔ اس عدالت کے ذریعے دیکھتے ہی دیکھتے امراء کی لاقانونیت سرکشی اور خودپسندی کی عادت پر قابو پالیا گیا تھا۔ امراء اپنی شرپسندی بھول کر بادشاہ کے حضور سر جھکانے پر مجبور ہوگئے تھے۔ اب کسی میں آواز بلند کرنے کی جرأت اور جسارت نہ تھی۔ ملک میں ہر طرف امن و امان کی فضا قائم ہوگئی تھی۔ مہنگائی پر قابو پا لیا گیا تھا۔ چوری، ڈکیتی، قتل و غارت گری اور اسی قسم کے دیگر جرائم پر بھی بھرپور توجہ دی جا رہی تھی۔
اندرونی امن و امان قائم کر لینے کے بعد اب ہنری ٹیوڈر نے اپنے پڑوسی ممالک کی طرف توجہ دی۔ فرانس، انگلستان کا سب سے پرانا حریف تھا۔ فرانس کے ساتھ سو سالوں تک انگلستان جنگوں میں اُلجھا رہا تھا۔ سو سالہ طویل جنگوں کے بعد بھی فرانس سے تعلقات کچھ قابل ذکر نہ تھے۔ گو کہ فرانس ان جنگوں میں کافی نقصان اُٹھا چکا تھا لیکن چارلس ہفتم اور لوئی یازدہم کے دور حکومت میں فرانس کو پھر سے طاقت حاصل ہوگئی تھی اور ملک امن و امان اور ترقّی کی راہ پر گامزن ہوگیا تھا۔ فرانس کے بادشاہ لوئی یازدہم نے جاگیردارانہ نظام کو ختم کرکے ملک میں مطلق العنان حکومت کی بنیاد ڈالی تھی۔ کائونٹ اور امراء نے بادشاہ کی مکمل اطاعت اختیار کرلی تھی۔ (جاری ہے)