Badshahat | Episode 9

168
اوہ! صبح ہوگئی کیا…؟‘‘ کیتھرین نے خادمائوں سے نظریں چراتے ہوئے سوال کیا۔
’’جی! پو پھٹ رہی ہے، صبح کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔‘‘ اس کی خاص خادمہ بریٹنی نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔
’’آپ کے لئے ایک بری خبر ہے۔‘‘ دوسری خادمہ دھیمی آواز میں منمنائی۔ ’’پرنس آف ویلز تھکن اور سردی لگ جانے کے باعث تمام رات تیز بخار میں بے سدھ پڑے رہے ہیں۔ ملکہ عالیہ ان کی خواب گاہ میں تمام رات موجود رہیں۔‘‘
’’اوہ میرے خدا…!‘‘ کیتھرین نے سینے پر صلیب کا نشان بناتے ہوئے کہا۔ ’’انہیں کیا ہوا ہے، مجھے تفصیل سے بتائو۔‘‘
’’سردی کا اثر تھا۔‘‘ خادمہ نے قدرے جھک کر جواب دیا۔ ’’ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ شاید نمونیا…!‘‘
’’خدانخواستہ…!‘‘ کیتھرین نے خادمہ کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی لرز کر کہا۔ ’’خدا وند کریم انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے۔ وہ تمام رات تکلیف اور اذیت میں مبتلا رہے اور میں بے خبر نیند کے مزے لوٹتی رہی۔ لعنت ہو میری اس نیند پر!‘‘ کیتھرین عالم اضطراب میں ایک دم اٹھ کھڑی ہوئی۔ ’’بریٹنی میرے لئے کوئی دوسرا لباس نکالو، میں ابھی ان کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتی ہوں۔‘‘
خادمہ فوراً ہی ڈریسنگ روم کی طرف لپکی۔ ’’میں بھی کتنی بے وقوف ہوں، بلاوجہ بدگمان ہوتی رہی۔ وہ بخار میں پھنکتے رہے اور میں سوچتی رہی اپنی نئی نویلی دلہن کے پاس آنے کی بجائے وہ جانے کہاں مصروف ہیں۔ تف ہے میری گھٹیا سوچوں پر!‘‘
لباس تبدیل کرتے ہوئے وہ اپنی بدگمان سوچوں پر خود ہی لعن طعن کرتی جارہی تھی۔ گہرے رنگ کے مخملیں لباس میں خادمائوں کی جلو میں وہ اپنے بیمار شوہر کی مزاج پرسی کو روانہ ہوئی۔ اس کے چہرے سے پریشانی اور فکرمندی نمایاں تھی۔
ملکہ الزبتھ نے تمام رات شہزادے آرتھر کے سرہانے گزار دی تھی۔ شہزادہ نیم غشی کے عالم میں بے سدھ پڑا تھا۔ ڈاکٹر اپنی سی تگ و دو میں لگے ہوئے تھے۔ آدھی سے زیادہ رات گزرنے کے بعد آرتھر کی طبیعت کسی قدر سنبھلی تھی اور وہ پرسکون ہوکر گہری نیند سو گیا تھا۔ ملکہ ٹکٹکی باندھے شہزادے کے چہرے کی طرف تکے جارہی تھی۔ اس کے صحت مند اور شاداب چہرے پر پھر سے زردی پھیلتی جارہی تھی۔ آنکھوں کے گرد حلقے پڑ گئے تھے اور لب خشک ہوگئے تھے۔ وہ پلکیں جھپکائے بنا اسے تکے گئی۔ نظروں کی تپش پا کر آرتھر نے یکدم آنکھیں کھول دیں۔ کچھ دیر وہ خالی خالی نظروں سے ماں کی جانب تکتا رہا پھر اس کے خشک لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لرزی۔
’’مام! آپ…؟‘‘ اس کی نقاہت بھری آواز میں حیرانی تھی۔
’’میرے بچے! اب تم کیسا محسوس کررہے ہو؟‘‘ ملکہ نے ممتا بھرے انداز میں اس کے رخساروں کو چھوا۔
’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘ شہزادے نے آواز کی نقاہت چھپاتے ہوئے آہستگی سے جواب دیا۔ ’’آپ پریشان نہ ہوں… میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘
تب ہی دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی اور بریٹنی کمرے میں داخل ہوئی۔ ملکہ کو اپنے سامنے پا کر اس نے سٹپٹا کر تعظیم پیش کی اور مؤدبانہ لہجے میں عرض کیا۔ ’’شہزادی کیتھرین آف آرگون، پرنس آف ویلز کی مزاج پرسی کے لئے آرہی ہیں۔‘‘
’’انہیں کس نے بتایا…؟‘‘ ملکہ لمحے بھر کو حیرت زدہ رہ گئی۔ ’’خیر کوئی بات نہیں۔‘‘ جلد ہی اس نے خود کو سنبھال لیا۔
اگلے ہی لمحے کیتھرین بہار کے شاداب جھونکے کی طرح کمرے میں داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں تازہ پھولوں کا گلدستہ تھا۔ پھولوں کی خوشبو اس کے وجود کا احاطہ کئے ہوئے تھی۔
’’ملکۂ عالیہ اور شہزادے عالم کی خدمت میں صبح کا سلام پیش کرتی ہوں۔‘‘ کیتھرین نے کمرے میں داخل ہوکر مہذبانہ انداز میں ساس اور شوہر کو تعظیم پیش کی۔ ’’مجھے افسوس ہے کہ رات کو مجھے شہزادے کی ناسازیٔ طبع کا علم نہ ہوسکا، ورنہ میں رات کو ہی حاضر ہوجاتی۔‘‘ کیتھرین نے نظریں جھکا کر مہکتے پھولوں کا شاداب گلدستہ شہزادے کی خدمت میں پیش کیا۔
’’شکریہ!‘‘ شہزادے نے رسماً کہا۔
’’اب آپ کیسا محسوس کررہے ہیں؟‘‘ کیتھرین نے اپنائیت بھرے لہجے میں پوچھا۔
’’بس! زندہ ہیں کچھ دن اور…!‘‘ آرتھر نے زخمی لہجے میں جواب دیا۔
’’کیسی بات کررہے ہیں! آپ کو خدا میری عمر بھی لگا دے۔‘‘ کیتھرین کے بے ساختہ جملے میں برسوں پرانی محبت کا احساس دھڑک رہا تھا۔ الزبتھ پلکیں جھپکائے بنا کیتھرین کو تکے گئی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنے اچھے مزاج کی مالک ہے اور اس کے بیٹے کو اس قدر چاہتی ہے کہ اپنی سہاگ رات کے برباد ہونے پر خفا ہونے کی بجائے اس کی بیماری پر پریشان ہورہی ہے۔
’’مجھے اندازہ نہیں تھا تم اتنی اچھی لڑکی ہو۔‘‘ الزبتھ نے محبت سے چور لہجے میں بہو کو مخاطب کیا۔ ’’مجھے خوشی ہے کہ خدا نے میرے بیٹے کو تم جیسی چاہنے والی بیوی عطا کی۔ ایک ماں کے لئے یہ بڑی خوشی کی بات ہوتی ہے کہ اس کے بیٹے کو ایک وفا شعار اور محبت کرنے والی بیوی مل جائے۔‘‘ الزبتھ نے ممتا بھرے انداز میں کیتھرین کے دہکتے رخساروں کو چھوا۔
’’آپ کی تعریف اور محبت کا شکریہ!‘‘ کیتھرین الزبتھ کے سامنے جھک کر بولی۔ تب ہی کمرے میں لیڈی مارگریٹ، شہزادی مارگریٹ اور ننھی شہزادی میری داخل ہوئی تھیں۔ کیتھرین نے سر جھکا کر اپنے شوہر کی دادی لیڈی مارگریٹ کو تعظیم پیش کی۔
اس کے اس طرح خادمائوں کی طرح تعظیم پیش کرنے پر مارگریٹ جونیئر کو ایک گونہ تسکین ہوئی۔ ’’چلو یہ اچھا ہے۔‘‘ اس نے دل میں سوچا۔ ’’اپنی اوقات سے اچھی طرح واقف ہے ورنہ کہیں اس نے خود کو ٹیوڈر خاندان کی بیگمات کے برابر سمجھنا شروع کردیا ہوتا تو خاصی مشکل ہوتی۔‘‘
’’میرے آرتھر کی شریک حیات… میری پیاری بہو!‘‘ لیڈی مارگریٹ نے خوشگوار لہجے میں بازو پھیلائے۔ ’’تم اس گھر کی بہو ہو، تمہیں اس طرح تعظیم دینے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔‘‘
کیتھرین قدرے شرماتی، جھجکتی اس کے کھلے بازوئوں میں سما گئی۔ مارگریٹ جونیئر کو یہ سب دیکھ کر سخت ناگواری ہورہی تھی۔ بھلا دادی جان کو اس لڑکی کو اس قدر اہمیت دینے کی کیا ضرورت ہے؟ ننھی شہزادی میری اسے پسندیدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ کیتھرین مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھی۔
’’آپ بہت پیاری ہیں ننھی شہزادی!‘‘ اس نے جھک کر میری کی پیشانی کا بوسہ لیا۔ پھر وہ مارگریٹ جونیئر کی طرف متوجہ ہوکر بولی۔ ’’صبح بخیر شہزادی! آپ کیسی ہیں؟‘‘
’’اس وقت تو ہم بھائی آرتھر کی مزاج پرسی کے لئے آئے ہیں۔‘‘ مارگریٹ جونیئر نے سرد لہجے میں جواب دیا۔ ’’یہ شادی ان کے لئے کچھ زیادہ مبارک ثابت نہیں ہوئی۔ شادی ہوتے ہی یہ بیمار پڑ گئے۔‘‘
مارگریٹ جونیئر کی بات سن کر لیڈی مارگریٹ اور الزبتھ دونوں نے ہی سخت نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ پانچ سالہ شہزادی میری شرمیلی نظروں سے کیتھرین کی طرف دیکھ رہی تھی۔ پھر اس نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔ ’’کیا یہ بھی میری بہن ہیں؟‘‘
’’ہاں! کیوں نہیں۔‘‘ الزبتھ نے جلدی سے کہا۔ ’’مارگریٹ کی طرح یہ بھی تمہاری بہن ہیں۔‘‘
’’نہیں! ایسا نہیں ہے۔‘‘ مارگریٹ چٹخ کر بولی۔ ’’بھلا بہن کیسے ہوسکتی ہیں۔ یہ بھابی ہیں، بھائی آرتھر کی بیوی… یہ ہماری صرف بھابی ہیں۔‘‘
کیتھرین نے نیچی نگاہوں سے آرتھر کی طرف دیکھا مگر وہ آنکھیں موندھے بے خبر پڑا تھا۔ اس سے قبل کہ شہزادی مارگریٹ کوئی اور بدتمیزی کرتی، لیڈی مارگریٹ اسے اور میری کو لے کر واپس چلی گئی۔
’’اب آپ بھی آرام کریں۔‘‘ کیتھرین نے مؤدبانہ لہجے میں الزبتھ سے گزارش کی۔’’شہزادے کی دیکھ بھال اور تیمارداری کے لئے میں یہاں ہمہ وقت موجود ہوں۔ آپ بالکل بے فکر ہوکر جاسکتی ہیں۔‘‘
’’پہلے تو میں تم سے مارگریٹ کے رویئے کی معذرت چاہتی ہوں۔‘‘ الزبتھ نے کسی قدر شرمسار لہجے میں کہا۔ ’’اور پھر تمہارے اس محبت بھرے برتائو پر تمہاری مشکور ہوں۔ اب مجھے بالکل فکر نہیں۔‘‘ وہ مطمئن انداز میں مسکرائی اور واپسی کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
ملکہ کے جانے کے بعد کیتھرین آہستگی سے چلتی آرتھر کے سرہانے آکھڑی ہوئی۔ کل شادی کے موقع پر پہلی بار اس نے آرتھر کو دیکھا تھا۔ گو کہ کل بھی اس کی آنکھوں میں تھکن اور افسردگی تھی مگر چہرے پر کسی قدر شادابی اور رعنائی تھی مگر اس وقت اس کے چہرے پر زردی کھنڈی ہوئی تھی اور بند آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اس کی بے خوابی کا احساس دلا رہے تھے۔ کیتھرین یک ٹک اسے دیکھے گئی۔ بچپن سے آج تک اس نےآرتھر کے ہی خواب دیکھے تھے۔ کل رات تقدیر نے اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کا بنا دیا تھا لیکن تقدیر کی یہ کون سی ادا تھی کہ وہ اسے پا کر بھی پا نہیں سکی تھی۔ وہ آج بھی اس سے اتنا ہی دور اور اتنا ہی اجنبی تھا جتنا کہ برسوں پہلے تھا۔
کیتھرین نے آگے بڑھ کر اپنا ملائم ہاتھ آرتھر کی تپتی پیشانی پر رکھ دیا۔ آرتھر کے بے سدھ پڑے وجود میں ایک تحریک سی پیدا ہوئی۔ اس نے کراہ کر آنکھیں کھول دیں۔
’’ماریہ… ماریہ…!‘‘ اس نے بے تابانہ صدا دی اور اپنا سلگتا ہوا ہاتھ کیتھرین کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ ’’آخر تم آگئیں… ماریہ! میری زندگی… میری روح…!‘‘
کیتھرین کو ایک جھٹکا سا لگا تھا۔ غیر اضطراری طور پر اس نے آرتھر کی پیشانی پر رکھا اپنا ہاتھ ایک دم کھینچ لیا۔ آرتھر کے لب اب بالکل ساکت تھے۔ بند آنکھیں اس بات کی غماز تھیں کہ ایک بار پھر وہ غنودگی میں چلا گیا تھا مگر کیتھرین آنکھیں پھاڑے بے یقینی سے اسے تکے جارہی تھی۔ شیشے کی کرچیوں جیسے جملے جو ابھی اس کی سماعت کی راہ سے اس کے دل میں پیوست ہوگئے تھے اور اس کا دل لہو لہو کر گئے تھے۔
ماریہ…! یہ انجانا نام دو دھاری خنجر کی طرح اس کی روح میں ترازو ہوگیا تھا۔ اس نے تو ہوش سنبھالتے ہی خود کو آرتھر کی امانت سمجھ لیا تھا۔ پھر اس کے بعد کسی چہرے کی طرف دیکھا نہ کسی نام کو پکارا۔ چرچ کی سیڑھیوں پر ماتھا ٹیکے وہ اس کی زندگی، صحت، سلامتی اور ملن کی دعائیں مانگتی رہی تھی اور کل رات اسے اپنا جیون ساتھی بنا کر وہ کسی قدر خوش تھی۔ ایک اس کے اپنا بن جانے سے یہ پرایا دیس، یہ انجانا محل، اس محل کے اجنبی لوگ اور وہ بدتمیز سی نٹ کھٹ شہزادی، مارگریٹ…! سب کچھ اپنا لگنے لگا تھا۔
لگتا تھا کہ ان سب سے جنم جنم کا ناتا ہو، مگر ابھی آرتھر نے کس کا نام لیا تھا؟ کسے اپنی زندگی اور روح گردانا تھا لیکن اس پل ان دو جملوں نے چاہت کی دیوار کو لرزا کر رکھ دیا تھا۔ اس کے دل کی بستی لمحوں میں اجڑ گئی تھی۔ جس کی خاطر وہ اپنا وطن، اپنے ماں، باپ، بھائی، بہن، سکھی، سہیلیاں چھوڑ کر آئی تھی۔ وہ تو کسی اور کا تھا؟ تقدیر نے اس کے ساتھ ہاتھ کردیا تھا… ایک جھٹکے میں اس سے سب کچھ چھین لیا تھا۔ وہ قریب دھری کرسی پر ڈھیر ہوگئی۔ کرسی کی پشت سے سر ٹکا کر اس نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔ اس کی خاص خادمہ بریٹنی غور سے اس کے چہرے کے متغیر ہوتے رنگوں کو دیکھ رہی تھی۔ شہزادے کے منہ سے بے خودی میں نکلا ہوا نام، اس کی سماعت تک بھی پہنچا تھا اور وہ حیرت سے سوچ رہی تھی، بھلا یہ لڑکی کون ہوسکتی ہے جسے شہزادہ اپنی زندگی اور اپنی روح قرار دے رہا ہے۔
دن نکلنے پر خدام اور ڈاکٹروں کے پہنچنے کے بعد کیتھرین، بریٹنی کے ساتھ شہزادے کے کمرے سے نکل آئی تھی۔ پھر وہ اپنے کمرے میں جانے کی بجائے قصر کے چرچ میں چلی گئی تھی۔ وہ ایک بے حد مذہبی لڑکی تھی۔ اس کی کم ازکم آدھی عمر چرچ میں ہی گزری تھی۔ اس نے شب وروز دامن دل پھیلا کر آرتھر کو مانگا تھا اور آج وہی آرتھر اس کے سامنے کسی اور کو پکار رہا تھا۔ اس کی ساری تپسیا برباد گئی تھی، ساری ریاضت، ساری عبادت اکارت چلی گی تھی۔ وہ سب کچھ پا کر بھی خالی دامن رہ گئی تھی، اسے یہ جاننے کی قطعاً خواہش نہیں تھی کہ ماریہ کون ہے۔ وہ بس اتنا جانتی تھی کہ ماریہ اس سے کہیں زیادہ خوش نصیب تھی۔ وہ آرتھر کی دھڑکنوں میں سمائی ہوئی تھی، روم روم میں بسی ہوئی تھی۔ بھلا وہ اس سے کیا مقابلہ کرتی۔ وہ تو اپنا دریدہ دامن جھٹک کر سب کچھ وہیں چھوڑ کر چرچ میں آبیٹھی تھی۔ پر آج نہ اس کا دامن کشیدہ تھا نہ ہاتھ پھیلے ہوئے تھے۔ اس کی آنکھوں میں شکوہ تھا نہ لبوں پر شکایت! وہ خدا وند کریم کے فیصلے پر صابر و شاکر تھی۔
وقت گزرنے کے ساتھ سردی میں بھی اضافہ ہوتا جارہا تھا، ساتھ آرتھر کی بیماری بھی بڑھتی جارہی تھی۔ برف باری شروع ہوئی تو بادشاہ نے شہزادے آرتھر کو لوڈلو قصر میں بھیجنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
’’میرا بیٹا میری نظروں سے اوجھل ہوگیا تو میں کس طرح جی سکوں گی؟‘‘
الزبتھ کی بات سن کر ہنری ہفتم نے کرب بھرے لہجے میں جواب دیا۔ ’’اور اگر وہ نسبتاً بہتر موسم والے شہر شروپ شائر نہ گیا تو اس کا جینا مشکل ہوجائے گا۔‘‘ لمحہ بھر خاموش رہ کر وہ دوبارہ گویا ہوا۔ ’’اس شہر کی آب و ہوا شہزادے کے لئے امید افزا ہوگی… وہاں کیتھرین بھی خوش رہ سکے گی۔‘‘
الزبتھ آج تک نہیں سمجھ سکی تھی کہ کیتھرین کے لب و لہجے اور انداز و اطوار میں اچانک کیسے تبدیلی آگئی تھی۔ اب وہ پہلے کی طرح سجتی سنورتی تھی اور نہ ہی خوش دکھائی دیتی تھی۔ سسرالی رشتے داروں سے اس کی گرم جوشی بھی پہلے جیسی نہ رہی تھی۔ اب وہ شہزادی مارگریٹ کی جلی کٹی باتوں کو مسکرا کر نظرانداز کرنے کی بجائے کئی بار اسے منہ توڑ جواب دے چکی تھی۔
شاید آرتھر کی مسلسل بیماری کی وجہ سے چڑچڑی ہوگئی ہے۔ الزبتھ نے خود کو تشفی دینے کی خاطر عذرلنگ پیش کیا یا شاید یہ اپنے لوگوں کو یاد کرتی ہو۔ شادی والی رات سے لے کر آج تک آرتھر مسلسل بیمار چلا آرہا تھا۔ ایک نوعمر اور نئی نویلی دلہن کے لئے اس کے شوہر کی اتنی لمبی اور مسلسل بیماری بھی بددلی اور دل شکستگی کا باعث ثابت ہوسکتی ہے۔ اس نے اس بات کا ذکر اپنی ساس لیڈی مارگریٹ سے بھی کیا تھا۔
’’ہاں…! یقیناً ایسا ہی ہے۔‘‘ لیڈی مارگریٹ نے پریقین انداز میں اس کے خیال کی تائید کردی۔
’’بادشاہ سلامت چاہتے ہیں کہ آرتھر اور کیتھرین کو شروپ شائر لوڈلو کیسل میں بھیج دیا جائے۔‘‘
’’جنوری کے شروع ہوتے ہی سردی میں بہت زیادہ اضافہ ہوجائے گا۔‘‘ لیڈی مارگریٹ نے سمجھانے والے لہجے میں کہا۔ ’’لندن کی نسبت وہاں کا موسم قدرے بہتر ہے… میرا بھی یہی خیال ہے کہ آرتھر کے لئے وہاں جانا اس کی صحت کے لئے بہتر ثابت ہوگا۔‘‘
الزبتھ نے سر تسلیم خم کرلیا۔ لیڈی مارگریٹ کے فیصلے کے سامنے اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ آرتھر اور کیتھرین کے شروپ شائر جانے کی تیاری شروع ہوگئی تھی۔ کیتھرین کو کسی نے بتایا، نہ ہی اس کی رائے لینے کی ضرورت محسوس کی۔ وہ یہاں رہےیا یہاں سے سیکڑوں میل کے فاصلے پر کسی دور افتادہ شہر میں، اس کے لئے ایک ہی بات تھی۔ سو وہ خاموش نگاہوں سے روانگی کی تیاریوں کو دیکھ رہی تھی۔
بالآخرروانہ ہونے کا دن آپہنچا۔ شاہ ہنری ٹیوڈر ہفتم، ملکہ الزبتھ، لیڈی مارگریٹ، شہزادے ہنری جونیئر، مارگریٹ جونیئر اور شہزادی میری ان دونوں کو رخصت کرنے کے لئے بہ نفس نفیس موجود تھے۔ ملکہ الزبتھ بیمار بیٹے کے دور چلے جانے کے تصور سے بہت آزردہ تھی۔ گو کہ کیتھرین کی وجہ سے اس کے دل کو خاصا اطمینان تھا۔ وہ جانتی تھی کیتھرین، آرتھر کو دل کی گہرائیوں سے چاہتی ہے، اسی لئے وہ آرتھر کی طرف سے زیادہ فکرمند نہیں تھی مگر جدائی کا غم بہرحال تھا۔
آرتھر کے لئے ایک خصوصی بگھی تیار کروائی گئی جس میں لیٹنے کا انتظام تھا۔ ایک بگھی میں آرتھر کے ڈاکٹر اور نرسیں تھیں۔
دو دن اور دو راتوں کے تھکا دینے والے سفر کے بعد وہ لوگ لوڈلو کیسل پہنچ گئے تھے۔ آرتھر کا جسم مسلسل سفر کے باعث پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا۔ کیتھرین بھی تھکن سے بے حال تھی، مگر یہاں نسبتاً سردی کم تھی۔ نکھرا ستھرا آسمان بھلا معلوم ہورہا تھا۔
قصر کی پچھلی جانب وسیع و عریض جنگل تھا۔ ہوائیں چلتیں تو ان میں سبزے کی ایک عجب سی خوشبو رچی ہوئی محسوس ہوتی۔ کیتھرین کو اس شہر کا موسم اور سبزہ بہت پسند آیا تھا۔ گو کہ قصر بہت وسیع و عریض نہ تھا مگر خوبصورت اور آرام دہ تھا۔ کیتھرین کو یہاں آکر ایک گونہ سکون نصیب ہوا تھا۔ یہ قصر، یہاں کے نوکرچاکر، خادم، خادمائیں…! کیتھرین کے حکم کے تابع تھے۔ اس قصر میں اس کا حکم چلتا تھا۔
اسے اپنی زندگی گزارنے کی آزادی تھی اور اس آزادی اور پرسکون زندگی نے ایک بار پھر اس کے اندر زندہ رہنے کی امنگ بیدار کردی تھی۔ یہ سچ تھا کہ اب اس کے دل میں آرتھر کے لئے پہلے جیسا پیار اور تڑپ باقی نہ رہی تھی۔ وہ انجانی، ان دیکھی لڑکی ماریہ ان دونوں کے بیچ خلیج بن کر رہ گئی تھی۔
دیکھتے ہی دیکھتے جنوری کا مہینہ گزر گیا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ موسم بہتری کی طرف رواں دواں تھا، مگر آرتھر کی طبیعت میں کسی طرح کا کوئی سدھار نظر نہیں آرہا تھا۔
ڈاکٹر اپنی سی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ ملکہ الزبتھ کی خواہش تھی کہ ڈاکٹر ایڈم کو طلب کرلیا جائے مگر آرتھر اس بات کے حق میں نہیں تھا۔ جب اس کی طبیعت زیادہ ہی خراب رہنے لگی تو ڈاکٹروں نے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ڈاکٹر ایڈم کو بلوا لیا جائے۔
ماہ فروری کے آغاز سے پہلے آرتھر کو شدید فلو ہوگیا تھا۔ خود کیتھرین بھی اس انفیکشن کا شکار ہوئی تھی، مگر وہ ہفتہ دس دن کے بعد بستر علالت سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ آرتھر کیونکہ پہلے سے ہی کمزور تھا، اسی لئے وہ اس نئے مرض کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ تھا۔ اس کی بگڑتی ہوئی حالت کے پیش نظر ڈاکٹر ایڈم کو فوری طور پر بلوانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
٭…٭…٭
ابھی سردی کا زور نہیں ٹوٹا تھا۔ موسلادھار بارشیں سردی میں اضافے کا باعث تھیں۔ برف باری کا سلسلہ جاری تھا۔ ہوائوں میں موجود ٹھنڈک روح میں اترتی محسوس ہوتی تھی۔ کتنے ہی مہینے بیت گئے تھے مگر اس دن کے بعد سے آج تک ماریہ نے بستر سے قدم نہیں اتارا تھا۔ آرتھر کی شادی کی خبر سن کر وہ بے ہوش ہوکر جو گری تو اب تک وہ بستر پر ہی پڑی تھی۔
’’تمہیں کچھ نہیں ہوگا میری پیاری بیٹی!‘‘ ماریہ کی ماں مسز ناڈیہ امید بھری آواز میں کہتیں۔ ’’تم جلد ہی صحت مند ہوجائو گی۔‘‘
’’اب کسے صحت اور زندگی کی ضرورت ہے۔‘‘ ماریہ نے کرب بھرے انداز میں سوچا۔ ’’میں جینا نہیں چاہتی… آرتھر کے بغیر یہ زندگی کسی سزا سے کم نہیں۔‘‘ ڈاکٹر ایڈم کہتے تھے کہ رشتے کے بغیر محبت ہو ہی نہیں سکتی… ہر محبت کسی نہ کسی رشتے کی محتاج ہے اور جو محبت کسی رشتے کے بغیر ہو، وہ بے معنی اور ناپائیدار ہوتی ہے مگر وقت نے یہ ثابت کردیا تھا کہ محبت کسی رشتے کی محتاج نہیں ہے۔ آرتھر ٹیوڈر سے اس کا کوئی رشتہ نہیں تھا مگر وہ اسے اپنی زندگی سے بڑھ کر پیارا تھا۔ محبت بذات خود ایک پائیدار مضبوط اور بھرپور رشتہ ہے۔
’’ماریہ…! میری بچی آنکھیں کھولو۔‘‘ ناڈیہ نے مضطرب آواز میں پکارا۔ ’’ماریہ میری جان! خود کو سنبھالو، سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
کل رات اچانک ہی ماریہ کی طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی۔ ڈاکٹر ایڈم نے اس کی ماں ناڈیہ کو بلوا لیا تھا۔ تب سے وہ بسترمرگ پر پڑی اپنی بیٹی کی پٹی سے لگی بیٹھی تھی۔
’’ایسا اب کبھی ممکن نہ ہوگا۔‘‘ ماریہ نے بند آنکھوں سے سوچا۔ ’’بھلا سب کچھ کس طرح ٹھیک ہو سکتا ہے… کیا آرتھر دوبارہ میری دُنیا میں آ سکتا ہے؟ نہیں ایسا ناممکن ہے۔ ہاں البتہ میں اس دُنیا سے جا سکتی ہوں اور اُس دُنیا میں اپنے محبوب کے آنے کا انتظار کر سکتی ہوں… وہ اس دُنیا میں مجھے نہیں مل سکتا تھا مگر اُس دُنیا میں وہ یقیناً مجھے مل جائے گا۔‘‘
’’ماریہ۔‘‘ ناڈیہ نے ماریہ کو زور زور سے سانسیں لیتے دیکھ کر گھبرا کر پکارا۔ ’’تم ٹھیک تو ہو بیٹی؟‘‘
ڈاکٹر ایڈم آگے بڑھا۔ ماریہ کی دھڑکن بے حد تیز ہوگئی تھی۔ سانسیں بھی تیز چل رہی تھیں۔ اس کا نحیف و نزار وجود بھنور میں گھرے تنکے کی طرح لرز رہا تھا۔
’’ڈاکٹر! انہیں کیا ہو رہا ہے…؟‘‘ قریب کھڑی نرس نے گھبرا کر ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔ ڈاکٹر کوئی جواب دیئے بغیر کمبل اُٹھا کر اسے اُڑھانے لگا۔
’’ماریہ!‘‘اس کی ماں کی متوحش اور مضطربانہ آواز گونجی۔ مگر ماریہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ ان سب کی آوازیں سُن ہی کب رہی تھی، وہ تو بند آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑے آرتھر کو دیکھ رہی تھی۔
’’آرتھر… تم آ گئے؟‘‘ ماریہ کے لب غیرمحسوس طور پر ہلے مگر آواز نہ نکل سکی۔ گھڑی بھر کو اُس نے اپنی بند ہوتی بوجھل پلکیں اُٹھا کر اپنے چہرے پر جھکی اپنی پیاری ماں کا رنجیدہ اور افسردہ چہرہ دیکھا۔
’’الوداع!‘‘ اُس نے بند ہوتی آنکھوں سے کہا اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کرلیں، یکبارگی اس کا دل زور سے دھڑکا اور پھر یکایک ساکت ہوگیا۔
’’ماریہ!‘‘ ناڈیہ نے بے یقینی سے چیخ کر اسے پکارا۔ ’’خداوندا ایسا نہ کرنا… میری بچی! مجھے اکیلا چھوڑ کے مت جانا۔‘‘
’’وہ تو چلی گئی۔‘‘ ڈاکٹر نے آگے بڑھ کر ماریہ کی آنکھیں پوری طرح بند کر دیں اور کمبل کھینچ کر اُس کا چہرہ بھی ڈھانپ دیا۔
’’نہیں نہیں… ماریہ نہیں مر سکتی۔‘‘ ماریہ کی ماں دھاڑیں مار مارکر رو رہی تھی۔
’’صبر کرو میری بہن۔‘‘ ڈاکٹر ایڈم نے روہانسی آواز میں کہا۔
ماریہ اس کے رشتے کے بہن کی بیٹی تھی مگر اُسے اولاد کی طرح عزیز تھی۔ اس کی پرورش، تعلیم و تربیت کا بیڑہ اُس نے اُٹھایا تھا۔ وہ ایک ذہین محبت کرنے والی، منفرد لڑکی تھی وہ ایک اچھی انسان، ایک کامیاب ڈاکٹر، محبت کرنے والی بیٹی اور محبت پر جاں نثار کر دینے والی محبوبہ ثابت ہوئی تھی۔ آرتھر سے کوئی شکوہ کئے بغیر اس کی جدائی کا زہر پیتے پیتے بالآخر آج وہ اس دارِفانی سے کوچ کر گئی تھی۔ ماریہ مر گئی تھی… اور اُس کی محبت کی ادھوری داستان ہمیشہ کے لئے امر ہو گئی تھی۔
٭…٭…٭
سردی کا زور ٹوٹ چکا تھا مگر رات کے اس پہر موسم کے اعتبار سے سردی اپنے عروج پر تھی۔ ڈاکٹر ایڈم نے اُداس نظروں سے لاڈلو کیسل کی شاہانہ عمارت کو دیکھا۔ پچھلے تین دن اور راتوں کے سفر کے بعد وہ اس شہر پہنچا تھا۔
ماریہ کے انتقال کے دُوسرے دن ہی شاہی پیامبر اس کے پاس پہنچا تھا۔
’’ولی عہد آرتھر ٹیوڈر کی طبیعت بے حد خراب ہے، وہاں موجود تمام ڈاکٹروں کی متفقہ رائے کے مطابق آپ کو فوری طور پر طلب کیا گیا ہے۔‘‘ پیغام سن کر ڈاکٹر ایڈم نے گہرا سانس لیا۔ ماریہ کی بے وقت اور کربناک موت نے اسے خاصا ملول اور رنجور کر دیا تھا۔ وہ خود بھی کہیں دُور جانا چاہ رہا تھا… یہاں تو ہر سمت ماریہ کی یادیں بکھری ہوئی تھیں۔ فضائوں میں اس کی کھنکتی ہنسی رَچی ہوئی تھی۔ دَر و دیوار سے اس کی شیریں اور مدھر آواز آتی محسوس ہوتی تھی۔ وہ اب یہاں نہیں تھی… وہ اب کہیں بھی نہیں تھی… محبت کے کھیل نے اس کی جان لے لی تھی۔
’’ٹھیک ہے!‘‘ ڈاکٹر ایڈم نے سپاٹ آواز میں جواب دیا۔ ’’ہم کل صبح روانہ ہو جائیں گے۔‘‘
٭…٭…٭
’’مناسب ہوگا… آپ کچھ دیر آرام کر لیں۔‘‘ خادم نے اُسے رہائشی حصے میں پہنچا کر مشورہ دیا۔
’’نہیں۔‘‘ ڈاکٹر نے دوٹوک لہجے میں جواب دیا۔ ’’پہلے میں پرنس آف ویلز کو دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے… تو تشریف لے چلیئے۔‘‘
وہ خادم کے ساتھ مختلف راہداریاں طے کرتا بالآخر شہزادے کی خواب گاہ کے دروازے پر پہنچ گیا۔ تب ہی اپنی خاص خادمہ کے ساتھ شہزادی کیتھرین بھی وہاں آ پہنچی، ڈاکٹر کو دیکھ کر وہ لمحے بھر کو ٹھٹھک کر رُک گئی۔
’’شہزادی عالیہ۔‘‘ خادم نے تعظیم پیش کرنے کے بعد ایڈم کا تعارف کرواتے ہوئے کہا۔ ’’یہ ڈاکٹر ایڈم ہیں… پرنس آف ویلز کے خصوصی معالج، کچھ عرصہ قبل شہزادے انہی کے اسپتال میں زیرعلاج تھے۔‘‘
’’بہت اچھا ہوا جو آپ تشریف لے آئے۔‘‘ کیتھرین نے ڈاکٹر ایڈم کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا۔ ’’پرنس آف ویلز کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے۔‘‘
’’میرا خیال ہے کہ وہ جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘ ایڈم نے شہزادی کو تعظیم پیش کرنے کے بعد پُریقین لہجے میں جواب دیا۔
’’کیا آپ اپنے ساتھ اپنے معاون کو بھی لائے ہیں؟‘‘
کیتھرین کے سوال پر ایڈم بے ساختہ بول اُٹھا۔ ’’نہیں… میری
مددگار اب اس دُنیا میں نہیں رہی۔ ڈاکٹر ماریہ کا انتقال ہوگیا ہے۔‘‘
’’ڈاکٹر… ماریہ!‘‘ کیتھرین کے دماغ میں ایک دھماکا سا ہوا۔ پچھلے کئی مہینوں سے یہ نام ایک درد بن کر اس کے رَگ و پے میں گردش کر رہا تھا۔ اُس نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی تھی کہ ماریہ کون ہے؟ اس کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ غاصب تھی، جس نے اس کے آنے سے پہلے ہی اس کا سب کچھ غصب کر لیا تھا مگر آج بالکل اچانک اسے پتا چلا کہ، ماریہ ایک ڈاکٹر تھی۔ ڈاکٹر ایڈم کی اسسٹنٹ… آرتھر کی معالج مگر ایڈم نے یہ کیا کہا کہ اس کا انتقال ہو چکا ہے… بھلا وہ کیسے مر گئی… کیوں مر گئی؟ بیمار مرتے ہیں وہ تو معالج تھی، وہ کیسے مر گئی؟ اُسے ایسا کیا روگ لگا کہ وہ زندگی ہار گئی۔
’’اوہ!‘‘ کیتھرین نے سوچوں کی ڈگر سے واپس آتے ہوئے بے ساختہ کہا۔ ’’اُن کی موت کی خبر سن کر افسوس ہوا… انہیں کیا ہوا تھا؟‘‘
’’اسے عشق کا مرض لاحق ہوا تھا۔‘‘ ایڈم نے کرب بھرے انداز میں سوچا۔ پھر دھیرے سے بولا۔ ’’اگر آپ اجازت دیں تو میں شہزادے کو دیکھ لوں۔‘‘
’’جی ضرور!‘‘ کیتھرین نے ہاتھ سے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر ایڈم سر جھکا کر شہزادی کو تعظیم دیتا کمرے میں داخل ہو گیا۔ دروازے کے بالکل ساتھ ہی شہزادے کا بیڈ تھا۔ وہ گردن کو ذرا سا خم دے کر دروازے کی طرف ہی دیکھ رہا تھا… دروازے پر ہونے والی گفتگو اس کی سماعت تک پہنچ رہی تھی۔ ڈاکٹر ایڈم کی آواز کو وہ پہچان رہا تھا۔ ماریہ کا نام بھی اُس تک پہنچا تھا۔ مگر یہ کیا؟ ایڈم نے یہ کیا کہا کہ ماریہ کا انتقال ہو چکا ہے۔ وہ اس بات کا مطلب نہیں سمجھ سکا تھا۔ تب ایڈم کو اپنے سامنے دیکھتے ہی اُس نے پہلا سوال یہی کیا۔ ’’آپ شاید ماریہ کے بارے میں کچھ بتارہے تھے؟‘‘
’’اوہ!‘‘ ایڈم کی آنکھوں کی اُداسی میں مزید اضافہ ہوگیا۔ ’’بس یونہی… اب آپ کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘ ڈاکٹر نے بات گھمانے کی کوشش کی۔ ’’یہاں کا موسم تو خاصا بہتر ہے۔‘‘
’’موسم تو انسان کے اندر ہوتے ہیں ڈاکٹر۔‘‘ شہزادے نے کرب بھرے لہجے میں کہا۔ ’’پلیز مجھے ماریہ کے بارے میں بتایئے… وہ ٹھیک تو ہے نا؟‘‘
دروازے کے اُس پار کھڑی کیتھرین نے اَذیت بھرے انداز میں اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں۔ اس کا خیال تھا کہ اُس نے آرتھر کی محبت کے شوریدہ سر دریا پر نفرت کا بند باندھ دیا ہے مگر اب وہ سوچ رہی تھی کہ محبت ایک بار ہو جائے تو اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتی۔ اس کے دل میں آج بھی آرتھر کی محبت بسی ہوئی تھی۔ وقتی طور پر سردمہری کی برف جم گئی تھی مگر اب وہ یہ سوچ کر ہراساں تھی کہ آرتھر کو جب ماریہ کی موت کی خبر ملے گی تو اس کا ردعمل کیا ہوگا۔ آرتھر کے دُکھ کا سوچ کر اُسے دُکھ ہو رہا تھا۔ یہ موت بھی انسانوں کی ہمیشہ سے دُشمن رہی ہے، اُن کے ہاتھوں سے اُمید اور خوشیوں کا دامن چھڑا کر انہیں تنہائی، محرومی اور مایوسی کے گرداب میں ڈبوتی رہی ہے۔
ڈاکٹر ایڈم ماریہ کی موت کے بارے میں شہزادے کو ہرگز بتانا نہیں چاہتا تھا۔ جانتا تھا یہ خبر اس کے لئے اندوہناک ثابت ہو سکتی ہے… مگر شہزادہ ماریہ کے بارے میں جاننے کے لئے مصر اور بضد تھا، بالآخر ڈاکٹر ایڈم کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔
’’کیا میں نے جو سُنا وہ دُرست ہے؟‘‘ شہزادے نے تصدیق چاہی۔ ’’کیا ڈاکٹر ماریہ اب اس دُنیا میں نہیں رہی ہے؟‘‘
ڈاکٹر ایڈم نے منہ سے کچھ نہیں کہا صرف اثبات میں سر ہلا کر اس کی بات کی توثیق کر دی۔
’’اُف…!‘‘ شہزادے نے بے ساختہ آنکھیں بھینچ لی تھیں۔ ’’اُس نے جو کہا تھا… سچ کر دکھایا… وہ کہتی تھی… میرے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکے گی اور میں۔‘‘ اُس نے آنکھیں کھول کر ایک نفرت آمیز نگاہ خود پر ڈالی۔ ’’اور … میں… اب تک زندہ ہوں… کیوں… آخر کیوں؟‘‘
یک دم اس کے پورے وجود پر لرزہ سا طاری ہوگیا۔
’’شہزادے!‘‘ ایڈم گھبرا کر اس کی طرف لپکا۔ دوسرے ڈاکٹر بھی قریب آ گئے… سب شہزادے کی اس اچانک کیفیت پر ہراساں ہو گئے تھے۔ آتش دانوں میں آگ مزید بڑھا دی گئی۔ شہزادے کو ایک اور گرم کمبل اُڑھا دیا گیا۔ کچھ قطرے اس کے حلق میں ٹپکائے گئے۔ ڈاکٹر ایڈم مسلسل اس کے مرتعش سینے کا مساج کررہا تھا۔ دروازے کے بیچ کھڑی شہزادی کیتھرین خاموش اور حیران نگاہوں سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔
کافی جتن کے بعد شہزادے کی حالت کچھ سُدھری تھی۔ اس کے بدن پر طاری ارتعاش میں کمی آ گئی تھی اور دھونکنی کی طرح چلتا سینہ اَب پُرسکون ہو گیا تھا… ایڈم شہزادے کی موجودہ حالت دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ وہ پہلے سے کہیں زیادہ کمزور اور نحیف ہو گیا تھا۔ پرانی بیماری اپنی جگہ تھی ایک اور وائرل انفیکشن نے بھی اسے جکڑا ہوا تھا۔ آج ماریہ کی موت کی خبر نے اس کا رہا سہا حوصلہ بھی چھین لیا تھا۔
رات دبے پائوں گزر رہی تھی۔ چاند تاروں سے محروم سیاہ آسمان مسلسل آنسو بہا رہا تھا۔ گھنے پیڑوں میں سے ہوا کے تیز جھکڑ بین کرتے ہوئے گزر رہے تھے۔ مگر شہزادے کی خواب گاہ میں مکمل خاموشی تھی۔ دریچوں اور دروازوں پر دبیز پردے لٹکے ہوئے تھے۔ کمرے میں ڈاکٹر ایڈم کے علاوہ دوسرے ڈاکٹر اور نرسیں موجود تھیں، مگر سب خاموش تھے… ساکت لبوں اور پریشان نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور پھر شہزادے پر نظریں جما دیتے۔
آدھی رات کے بعد ایک بار پھر شہزادے پر دورہ پڑا تھا… اس کا نحیف و نزار جسم سوکھے پتّے کی طرح لرز رہا تھا۔ سانسیں سینے میں سما نہیں رہی تھیں اور آنکھیں حلقوں سے اُبل رہی تھیں۔ ڈاکٹر ایڈم نے شہزادے کی بگڑتی حالت کے پیش نظر ایک خادمہ کو بھیج کر شہزادی کیتھرین کو بلوا لیا تھا۔
وہ وحشت زدہ سی گھبرائی گھبرائی کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ وہ بے تابانہ شہزادے کے سرہانے کی طرف بڑھی تھی… شہزادے پر نزع کا عالم طاری تھا اس کے لب بے آواز لرز رہے تھے۔
’’شہزادے!‘‘ کیتھرین بے ساختہ اُس پر جھک گئی۔ ’’کیا کہہ رہے ہیں شہزادے؟‘‘
’’ما…ریہ… ماریہ… میری زندگی… تمہارے بغیر یہ دُنیا میرے کس کام کی؟ میں یہ دُنیا چھوڑ کر… تمہارے پاس آ رہا ہوں… میری رُوح… اب تمہارا انتظار ختم… میں … میں… آ رہا … ہوں۔‘‘
بے حد مدھم آواز میں یہ شکستہ جملے، کیتھرین کے شکستہ دل کو مزید ریزہ ریزہ کر گئے تھے۔ اس کے دل میں آرتھر کے لئے محبت کا ایک اُبال سا جو اُٹھا تھا یہ جملے سُن کر ایک دم سے بیٹھ گیا تھا۔ اس کے سینے میں جوش مارتی محبت یک دم سرد پڑ گئی تھی۔ وہ ایک جھٹکے سے سیدھی ہوگئی اور دو قدم پیچھے ہٹ کر اُس نے ایڈم کو اس کے قریب آنے کا موقع دیا تھا۔ ایڈم سمیت دیگر ڈاکٹر اپنی کوششیں کرتے رہے، مگر اُن کی ہر کوشش بالآخر ناکام ہوگئی اور انگلستان کا ولی عہد ملکہ الزبتھ اور شاہ ہنری ہفتم کا پہلوٹھی کا بیٹا ہنری جونیئر، مارگریٹ جونیئر اور میری کا بڑا بھائی، لیڈی مارگریٹ کا چہیتا پوتا اور شہزادی کیتھرین کا شوہر، شہزادہ آرتھر پرنس آف ویلز… 2 فروری 1502ء کو اُس سیاہ صبح کے اُبھرنے سے پہلے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کسی ٹوٹے تارے کی طرح ڈوب گیا تھا۔ ہمیشہ کے لئے فنا کی آغوش میں سمٹ گیا تھا۔
وہ سچا چاہنے والا اپنی محبوبہ کی موت کا درد نہ سہہ سکا تھا۔ جس ظالم دُنیا نے اُس سے اُس کی ماریہ کو چھینا تھا وہ اُس دُنیا کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے ماریہ کے پاس چلا گیا تھا۔
شہزادہ آرتھر صرف سترہ سال کی عمر میں موت کی آغوش میں جا سویا تھا۔
٭…٭…٭
موسم گرما پنکھ پسارے دھیرے دھیرے بڑھتا آ رہا تھا۔ گرماہٹ سے لبریز سورج کی نارنجی کرنیں ہر سمت چمکتی دُھوپ کی چادر تانے تپش کا گرم جوش سا احساس اُجاگر کر رہی تھیں۔ گزشتہ موسم کی یخ بستگی دَم توڑ چکی تھی… فضا میں عجب سی حرارت گندھی ہوئی اچھی معلوم دیتی۔ موسم کی یہ تبدیلی ٹھٹھرے ہوئے ماحول میں ایک خوشگوار تاثر جگاتی محسوس ہوتی تھی مگر ملکہ الزبتھ موسم کے اس خوشگوار تاثر سے بے خبر و بے نیاز اپنی خواب گاہ میں بستر علالت پر دراز تھی۔ اس کے چہیتے بیٹے آرتھر کی موت اس کے لئے کسی سانحے سے کم نہیں تھی۔ اس اندوہناک حادثے کو وہ ذہنی طور پر اب تک قبول نہ کر سکی تھی۔ اس کی ساس لیڈی مارگریٹ اس کے بچّے اور اس کا شوہر شاہ انگلستان ہنری ٹیوڈر رات دن اس کی دل جوئی میں لگے رہتے تھے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب اس کی صحت کچھ بہتری کی جانب مائل تھی، آرتھر کی موت کو ایک مہینہ گزر چکا تھا۔ گو کہ زخم بدستور باقی تھا مگر وقت مسلسل مرہم لگائے جا رہا تھا۔ دھیرے دھیرے وہ زندگی کی طرف واپس لوٹ رہی تھی۔ اب اس کی طبیعت پہلے سے کہیں بہتر تھی، وہ اکثر بستر سے اُٹھ کر دریچے میں جا کھڑی ہوتی۔ وہ کیتھرین سے دلچسپی اور محبت میں بے پناہ اضافہ محسوس کرنے لگی تھی۔ وہ اکثر اسے بلوا لیتی اور خاموشی سے اس کا چہرہ تکے جاتی۔ آرتھر نے اپنی زندگی کے آخری ایام کیتھرین کے ساتھ گزارے تھے۔ کیتھرین اس کے آرتھر کی آخری نشانی تھی۔ اس کی بیوہ تھی۔
اُس شام وہ دریچے میں کھڑی ڈوبتے سورج کو تک رہی تھی کہ تب ہی دروازے پر دستک ہوئی۔ وہ چونک کر پلٹی ہنری ہفتم مسکراتا ہوا خواب گاہ میں داخل ہو رہا تھا۔ وہ مؤدبانہ انداز میں شاہ کی طرف متوجہ ہوگئی۔
’’میں نے تمہیں ڈسٹرب تو نہیں کیا؟‘‘ ہنری ٹیوڈر نے رسمی طور پر پوچھا۔
’’جی نہیں… بلکہ آپ کو یوں بے وقت اپنے سامنے دیکھ کر مجھے اچھا لگا ہے۔‘‘ الزبتھ نے سنجیدہ لہجے میں جواب دیا۔ ’’آپ کی آمد کا شکریہ۔‘‘
’’اوہ مائی سویٹ ہارٹ الزبتھ۔‘‘ بادشاہ الزبتھ کو شانوں سے پکڑ کر صوفے تک لے گیا اور اسے اپنے ساتھ، صوفے پر بٹھا لیا۔ ’’اب تمہاری طبیعت کیسی ہے… چہرے سے تو خاصی شاداب نظر آ رہی ہو۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ الزبتھ افسردگی سے مسکرائی۔ ’’اب کیسی شادابی، لگتا ہے دل ویران ہوگیا ہے۔‘‘
’’دیکھو ہمارے اور بچّے بھی تو ہیں… ہمیں اُن کے بارے میں سوچنا چاہئے۔‘‘ ہنری ہفتم نے نرم لہجے میں کہا۔
’’آپ درست کہہ رہے ہیں۔‘‘ ملکہ الزبتھ نے سر جھکا لیا۔ ’’مگر میں کیا کروں… یہ دل ہر پل تڑپتا رہتا ہے۔‘‘
’’دل کی تڑپ کم کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ تم دُوسرے بچوں کی طرف توجہ دو۔‘‘ ہنری نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔ ’’مارگریٹ کی شادی کی تیاری کرنی ہے۔ شاہ جیمز کا اصرار بڑھتا جا رہا ہے اور پھر کیتھرین کا مسئلہ بھی ہے… اس کے والدین کا اصرار ہے کہ اُسے واپس اسپین بھیج دیا جائے کیونکہ آرتھر کی موت کے بعد کیتھرین کا یہاں رُکنا بلاجواز ہے۔‘‘
’’کیتھرین آرتھر کی بیوہ ہے… وہ اُس کی آخری نشانی ہے۔ میں اُسے کہیں نہیں جانے دوں گی۔‘‘ الزبتھ نے تڑپ کر کہا۔
’’میں بھی اسے واپس نہیں بھیجنا چاہتا۔‘‘ ہنری ٹیوڈر نے پُرسوچ آواز میں کہا۔ ’’کیونکہ اگر اسے واپس بھیجا گیا تو اُس کے ساتھ آیا ہوا کروڑوں کا جہیز بھی واپس بھیجنا پڑے گا۔‘‘ ہنری ٹیوڈر نے ایک غیرمرئی نقطے پر نگاہ مرکوز کرتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا۔ ’’ایک راستہ… اگر وہ راستہ چُن لیا جائے تو کیتھرین کی واپسی کی راہیں مسدود ہو سکتی ہیں۔‘‘
’’کون سا راستہ؟‘‘ ملکہ الزبتھ نے چونک کر سوال کیا۔
’’اگر کیتھرین کی دُوسری شادی کر دی جائے۔‘‘ ہنری ٹیوڈر کی آواز بے حد دھیمی تھی۔
’’کیتھرین کی دُوسری شادی بھلا کس سے کی جا سکتی ہے؟‘‘ الزبتھ حیرانی سے بولی۔ ’’اس کی عمر کے مطابق ہمارے پاس بھلا کون لڑکا ہے؟‘‘
’’ہاں یہ بات تو تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔‘‘ بادشاہ نے تائید بھرے انداز میں سر ہلایا۔ ’’اس کی عمر کے مطابق نہ سہی مگر ایک لڑکا ہمارے پاس ہے، جس سے شادی کے لئے کیتھرین کے والدین کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔‘‘
بادشاہ کی معنی خیز اور مبہم گفتگو نے الزبتھ کو اُلجھا کر رکھ دیا تھا۔ وہ قدرے جُزبُز ہو کر بولی۔ ’’بھلا کون لڑکا ہے جس سے ہم کیتھرین کی دُوسری شادی کر سکتے ہیں؟‘‘
’’کیونکہ آج کل تم کچھ الجھی ہوئی ہو۔‘‘ بادشاہ نے دھیمے لہجے میں کہا۔ ’’ورنہ شاید یہ نام خود تمہاری زبان پر آتا۔‘‘ لحظہ بھر خاموش رہ کر بادشاہ نے پُرجوش آواز میں کہا۔ ’’ہنری جونیئر۔‘‘
’’کیا؟‘‘ ملکہ ایک دَم اُچھل پڑی۔ ’’آپ نے ہنری جونیئر کا نام لیا؟‘‘ اس کے لہجے سے بے یقینی جھلک رہی تھی۔ ’’آپ جانتے ہیں ہنری جونیئر کیتھرین سے پورے پانچ سال چھوٹا ہے۔‘‘
’’تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔‘‘ بادشاہ نے قدرے لاپروائی سے کہا۔ ’’ایسا ضروری تو نہیں ہے کہ ہمیشہ دُلہن دولہا سے چھوٹی ہو۔‘‘
’’لیکن شہزادہ ہنری اس وقت صرف چودہ برس کا ہے۔‘‘ ملکہ نے جزبز ہوتے ہوئے کہا۔
’’ہاں اسی لئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم ابھی صرف منگنی کریں گے۔‘‘ بادشاہ نے رسان بھرے لہجے میں کہا۔ ’’شادی پانچ سال بعد ہوگی۔‘‘
’’اور اُس وقت کیتھرین کی عمر کیا ہوگی؟‘‘ ملکہ نے اُلجھے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
’’دیکھو ڈارلنگ۔‘‘ ہنری نے سمجھانے والے انداز میں کہنا شروع کیا۔ ’’جہاں شادی کے مقاصد کچھ اور ہوں وہاں، عمر، شکل و صورت قد کاٹھ یہ سب چیزیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ ہم ہنری جونیئر کی شادی کیتھرین سے محض اس لئے کر رہے ہیں کہ اُس بیش بہا خزانے کو بچایا جا سکے جو وہ اپنے ساتھ جہیز کی صورت میں لائی تھی۔ ہمیں ہمارے بچوں اور ہمارے ملک کو اس خزانے کی ضرورت ہے۔ ہم ہاتھ آئی دولت واپس کیوں کریں؟‘‘
’’کیا کیتھرین کے والدین ہماری بات مان لیں گے؟‘‘ ملکہ نے دھیمے لہجے میں سوال کیا۔
’’صد فی صد۔‘‘ بادشاہ نے پُریقین لہجے میں کہا۔ ’’آرتھر کے بعد ہنری ٹیوڈر جونیئر اب انگلستان کا ولی عہد ہے۔ مستقبل کا بادشاہ … بھلا انہیں کیا اعتراض ہوگا۔ اُن کے لئے تو اندھا کیا چاہے دو آنکھیں، والی بات ہوگی۔‘‘
’’اور… اور اگر ہنری نے انکار کیا تو…؟‘‘ ملکہ نے اپنے دل میں سر اُٹھاتے خدشے کا اظہار کیا۔
’’یہ کام تم مجھ پر چھوڑ دو۔‘‘ بادشاہ مطمئن انداز میں مسکرایا۔ ’’وہ انکار نہیں کرے گا۔‘‘
’’ہو سکتا ہے۔ ہنری کے اپنے کچھ خواب ہوں۔‘‘ ملکہ نے پریشان لہجے میں کہا۔ وہ جانتی تھی ہنری جونیئر کو بھابی کی شکل و صورت کچھ زیادہ پسند نہیں تھی۔ ویسے بھی وہ شاعرانہ مزاج انسان تھا۔ پھولوں، شعروں اور گیتوں کی دُنیا میں رہنے والا۔ اس کے ذہن نے جانے کس پری وش کا پیکر تراشا ہوگا جانے کس ماہ لقا کی تصویر بنائی ہوگی اور جب اسے پتا چلے گا کہ اس کی قسمت کا فیصلہ اس کی بھاوج کیتھرین کے حق میں کیا جا رہا ہے تو شاید وہ اس حقیقت کو تسلیم نہ کر سکے۔
’’کیا سوچنے لگیں؟‘‘ بادشاہ نے نرم لہجے میں سوال کیا۔ ’’جہاں تک اس کے خوابوں اور تعبیروں کی بات ہے تو تم اس بارے میں زیادہ فکرمند نہ ہو، میں نے کہا نا میں اُسے سمجھا لوں گا۔‘‘
’’مگر ایک اہم مسئلہ اور بھی ہے جسے آپ نظرانداز کر رہے ہیں۔‘‘ ملکہ نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔
’’کون سا اہم مسئلہ؟‘‘ بادشاہ نے حیرت سے پوچھا۔
’’کیا پاپائے روم، شہزادے ہنری کو اپنی بیوہ بھاوج سے شادی کی اجازت دے دیں گے؟‘‘
’’اوہ۔‘‘ بادشاہ کے ہونٹ سیٹی بجانے والے انداز میں سکڑ گئے۔ اس اہم موضوع پر تو اُس نے غور ہی نہیں کیا تھا۔ مذہب کی عائد کردہ پابندی کی رُو سے کوئی بھی شخص اپنے مرحوم بھائی کی بیوہ سے شادی نہیں کر سکتا تھا۔ یہ ایک بڑی مشکل گتھی تھی۔ (جاری ہے