Bahar Kay Din Atay Hain | Teen Auratien Teen Kahaniyan

3633
سیما کا جنم گھر والوں کے لئے کوئی خوشگوار واقعہ نہ تھا۔ نرس کے منہ سے بچی کی پیدائش کا سن کر رضیہ کی آنکھوں سے آنسو ٹپک گئے۔ اللہ جانے اس معصوم کے کیسے نصیب ہوں۔ یہ سوچ کر ماں کا دل کانپ گیا تھا۔
سیما بڑی ہوئی تو اور بچوں سے مختلف نکلی۔ وہ کم گو اور فرمانبردار تھی۔ گونگی سی جیسے منہ میں زبان ہی نہ ہو۔ جو کوئی بات کہہ دے یہ چپ سن لیتی جواب نہ دے پاتی۔
سیما کے بعد تین اور لڑکیاں رضیہ کے ہاں ہوئیں۔ آخر میں اللہ نے بیٹا بھی دیا۔ مگر یہ سارے بچے کھلنڈرے اور کچھ غیر سنجیدہ قسم کے تھے۔ جن دنوں سیما ایم اے کی طالبہ تھی، اس کا باپ بیمار ہوا اور بستر سے لگ گیا۔
باپ کی بیماری نے گھر کی معیشت توڑ کر رکھ دی، جوں توں زندگی کی گاڑی چل رہی تھی لیکن اب تو دال روٹی کے لالے پڑ گئے۔ ایم اے کرتے ہی وہ ملازمت کی تلاش میں ماری ماری پھرنے لگی۔ پاس رشوت تھی اور نہ سفارش… اب پتہ چلا کہ ماسٹرز کرلینا آسان ہے۔ نوکری پالینا دشوار ہے۔
کئی جگہ انٹرویو دیئے۔ کامیابی نہ ہوئی۔ ایک رشتے کے چچا بینک میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ ان کے گھر چکر لگانے شروع کردیئے۔ آئے دن مصیبتوں کا دکھڑا لئے وہاں پہنچ جاتی۔ بارہا چچی کے سامنے روئی تو ان کو رحم آگیا۔ چچا نے درخواست منگوالی اور کچھ دنوں بعد سیما کو بینک سے انٹرویو کال آگئی۔ چونکہ چچا کی معرفت کام ہوا تھا جلد ہی نوکری کا پروانہ بھی مل گیا۔
جس روز تقررنامہ ملا یقین نہ آتا تھا کہ اس کو ملازمت مل گئی ہے۔ بار بار کاغذ کے اس سفید ٹکڑے کو چومتی اور آنکھوں سے لگاتی۔ کبھی ہونٹوں پر رکھ لیتی، جیسے یہ تقررنامہ اس کی زندگی کا پروانہ ہو۔
اب اچھے رشتے آنے لگے۔ ساتھ جہیز کی لسٹ بھی آ جاتی ۔ تب ہی وہ مسکرا دیتی… کہتی۔ اماں صاف انکار کر دیجئے ، ایسے لالچی لوگوں سے ہمیں رشتہ نہیں جوڑنا۔ اس نے تو یہی سوچ کر کہ تین بہنوں کی شادیاں کرنی ہیں اور چھوٹے بھائی کا مستقبل سنوارنا ہے، اپنے سب جذبوں کو ایک ہی بار دفن کردیا لیکن ماں کی خواہش تھی کہ اس کی شادی ہوجائے۔ بعد کا اللہ مالک ہے۔ سیما زیادہ حقیقت پسند تھی۔ بینک میں ساتھ کام کرنے والوں کے رشتے بھی آنے لگے تو اپنے آپ ہی دفتر میں خبر اڑا دی کہ اس کی منگنی ہوچکی ہے اور منگیتر ملک سے باہر ہے۔
روز دفتر آنا، شام تک فائلوں میں گم رہنا اور پھر تھکے تھکے قدموں سے گھر چل دینا۔ کولہو کے بیل کی طرح روز و شب محنت کرتی رہتی۔ لوگ چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ کیسی خوبصورت لڑکی غربت کی وجہ سے خاک ہورہی ہے۔ بیچاری کی شادی کی عمر بیتی جارہی ہے، ماں باپ کو کمائی کھانے کی عادت جو پڑ گئی ہے۔ وہ ہر کسی کی سنتی اور چپ رہتی۔ اب وہ عمر کی اس منزل پر تھی جہاں رشتہ لانے والے ایک نظر ڈال کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
سر میں کہیں کہیں سفید بال چمکنے لگے تھے۔ جنہیں کنگھا کرتے وقت کبھی ادھر کبھی ادھر چھپانے کی کوشش کرتی تھی، اپنے کنبے کی خاطر وہ خلوص سے بڑھے ہوئے ہاتھ ٹھکراتی رہی۔
طویل بیماری کے بعد… باپ کا انتقال ہوگیا تو پریشانی کا یہ باب تمام ہوا۔ بیمار باپ تھا لیکن بڑا آسرا تھا۔ یہ لگتا تھا، جیسے چادر سر سے اتر گئی ہے۔ باپ کی وفات سے یوں محسوس ہوا کہ کسی نے سر سے سائبان ہٹا لیا ہو۔ وہ اب خود کو غیر محفوظ سا سمجھنے لگی تھی۔
عدم تحفظ کا احساس بڑھنے لگا۔ بھائی اپنی دلچسپیوں میں گم رہتا۔ اس کھلنڈرے سے زیادہ توقعات وابستہ کرنا بے وقوفی تھی، وہ ابھی کنبہ سنبھالنے کے لائق نہ ہوا تھا۔ جواں سال ہوکر بھی چھوٹا بھائی بنا ہوا تھا۔
عابد صاحب اور سیما ایک ساتھ ملازم ہوئے۔ فرق یہ تھا کہ وہ آفیسر لگے اور یہ کلرک بھرتی ہوئی تھی۔ عابد نے سیما پر گہری نظر رکھی۔ عرصہ تک جانچتے رہے۔ اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ ایک محنتی اور باکردار لڑکی ہے۔ یہ صابر و شاکر لڑکی کسی کے لئے بھی بہترین جیون ساتھی ثابت ہو سکتی تھی۔
سیما میں ایسی کوئی برائی نہ دیکھی جو عام لڑکیوں میں ہوتی ہیں، کسی کے ساتھ اسکینڈل تھا اور نہ کسی سے دوستانہ مراسم تھے۔ ساتھیوں سے لئے دئیے رہتی۔ اپنے کام سے کام رکھتی۔ عابد نے کبھی اس کو کسی مرد کے ساتھ ہنستے اور کھل کر بات کرتے نہ دیکھا تھا۔ کسی ساتھی کارکن کے ہمراہ کبھی ہوٹل نہ گئی۔ فیشن پر سادگی کو ترجیح دیتی، وہ کام چور بھی نہ تھی، بلاوجہ چھٹیاں نہ کرتی تھی۔
عابد نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اس لڑکی کو ہی اپنا جیون ساتھی بنائے گا۔ وہ سیما کے گھریلو حالات جان چکا تھا، اس کے باوجود اپنی والدہ کو رشتے کے لئے اس کے گھر بھیج دیا۔ وہ جہیز کا خواہشمند نہ تھا۔ والدہ آمادہ ہوگئیں۔ عابد کے گھر والے شریف لوگ تھے اور یہ اچھا خاندان تھا۔ اب سیما کی کافی عمر ہوگئی تھی، اس کی ماں اس رشتے کو گنوانا نہ چاہتی تھی۔ مگر بیٹی نے ماں کو سمجھایا۔ اماں تم سوچو اگر میری شادی ہوگئی تو تمہاری باقی بیٹیوں کا کیا ہوگا۔ کیا وہ بھی میری طرح نوکری کرتے کرتے بوڑھی ہوجائیں گی۔ میرے کھانے پینے کے دن گزر گئے، اب ان کی فکر کرو۔ میری تنخواہ بند ہوگئی تو گھر میں فاقے پڑنے لگیں گے۔
کیا تم خود کو ہمارا رازق سمجھتی ہو، جبکہ رازق تو اللہ ہے۔ تمہاری شادی کے بعد وہی کوئی سبیل نکالے گا۔ ماں بولی لیکن سیما نہ مانی، یوں عابد کی والدہ کو انکار ہوگیا اور وہ مایوس ہوکر چلی گئیں۔
انکار سے عابد کو دکھ ہوا۔ اب سیما کے ساتھ کام کرنا دوبھر ہوا۔ یہ احساس کہ سیما نے ٹھکرا دیا ہے۔ بہت جان لیوا ثابت ہوا تھا۔ اپنی تبدیلی کرا کر دوسری برانچ چلے گئے۔ جاتے ہوئے سیما سے کہا تھا۔
’’مجھے گمان بھی نہ تھا کہ آپ رشتہ ٹھکرا کر میرا مذاق اڑائیں گی۔ میں تو آپ کو سمجھدار اور سلجھی ہوئی لڑکی سمجھتا تھا، شاید آپ حقیقتوں سے دور رہ کر زندگی بسر کرنے کی عادی ہوچکی ہیں۔
اس رشتے کو کھونے کا دکھ سیما کو بھی بہت تھا۔ کس طرح اس کو بتاتی کہ میری مجبوری غربت ہے۔ ابھی دو چھوٹی بہنوں کا جہیز اکھٹا کرنا ہے اور چھوٹے بھائی کو نوکری دلوانے کی خاطر رشوت کی رقم کا بندوبست بھی کرنا ہے۔
عابد کے جانے کے بعد وہ بہت افسردہ رہنے لگی۔ اس جیسے اچھے انسان کو ٹھکرا کر غلطی کی ہے۔ یہ دکھ گھن کی طرح چاٹنے لگا۔ سوچ سوچ کر بیمار پڑ گئی۔ ڈاکٹر نے اعلیٰ افسر کو بتلایا یکسانیت کے ساتھ انتھک محنت سے یہ لڑکی اعصابی تھکن کا شکار ہے، اسے آرام کی اشد ضرورت ہے۔ اسے تین ماہ کی رخصت مل گئی۔
تین ماہ بعد آفس آئی تو ہر شے بدلی ہوئی تھی، وہ خود کو دفتر میں اجنبی محسوس کرنے لگی۔ چند دنوں تک یہی کیفیت رہی… پھر سب کچھ پہلے جیسا جامد و ساکن ہوگیا۔ وہ دفتری فرائض و امور میں گم ہوگئی۔ زندگی پہلے جیسی بے رنگ اور مشینی تھی جس کی وہ عادی تھی۔ وہ ایک بڑی مشینری کا پرزہ تھی۔ جہاں اس جیسی اور بھی بہت سی لڑکیاں خواب بھلا کر روٹی کمانے پر مجبور تھیں۔
ڈاکٹر نے ہدایت کی تھی، آپ کے لئے کام کے ساتھ سیر و تفریح بھی ضروری ہے لیکن اس جیسی سادہ بدھو قسم کی لڑکیاں تفریحات سے ناآشنا رہتی ہیں۔
اب اسے دفتر میں کسی کی شدت سے کمی محسوس ہوئی تھی اور یہ عابد صاحب تھے۔ وہ جہاں بیٹھتے تھے اس کرسی کو بے دھیانی کے عالم میں تکنے لگتی۔ اب اس کی جگہ کوئی دوسرا آفیسر آچکا تھا۔ یہ نیا آفسر حیران ہوکر سیما کو اپنی طرف تکتے پاتا۔ تب ہی وہ جھینپ کر سر جھکا لیتی… اسے یہ سوچ کر ندامت ہونے لگتی، نجانے یہ شخص اس کے بارے میں کیا سوچے گا۔ اسے کیا خبر۔ وہ اس کرسی پر ماضی کا کون سا گزرا ہوا لمحہ تلاش کرتی رہتی ہے۔
سات برس گزر گئے۔ اچانک ایک روز عابد آگیا وہ اسی طرح کرسی پر گم صم بیٹھی کام کررہی تھی۔ لیکن اب جگہ اور کرسی بدل چکی تھی۔ گرچہ کافی کمزور ہوگئی تھی لیکن اب بھی سادہ اور معصوم تھی۔
اس نے عابد کو دیکھ لیا۔ وہ اپنے ہم منصب سے بات کررہا تھا۔ پہلے سے زیادہ گریس فل اور بااعتماد ہوگیا تھا… کاش ان دنوں حالات اچھے ہوتے تو وہ ضرور اس شخص کی شریک زندگی بن جاتی۔ شاید کہ اب تک ان سے چند بچے بھی ہوچکے ہوتے۔ دوسرے ہی لمحے اس نے ان خیالات کو اپنے ذہن سے جھٹک دیا… یہ سوچ کرکہ… میرا ضمیر تو مطمئن ہے۔ اپنی خوشیوں کی قربانی دیکر میں نے گھر کی ڈوبتی کشتی کو برے حالات کے طوفان سے نکال لیا تھا۔ اپنے والدین کی خدمت بیٹا بن کر کی… بہنوں کو عزت سے رخصت کیا۔ ان کا پیار اور ماں کی دعائیں ہی اس کے لئے بڑااجر تھا۔ اب شادی کی خواہش کیا؟
دوست سے صاحب سلامت کے بعد عابد اس کی جانب آیا۔ خیریت پوچھی اور کہا آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ اگر اجازت ہو تو فون کروں؟ دوسرے روز اس نے فون پر بتایا… سیما… میری سات چھوٹی بہنیں تھیں۔ والد فوت ہوچکے تھے۔ ان دنوں میں اپنے گھر کا اکلوتا سہارا تھا۔ تمہارے ہاں پیام اسی لئے بھیجا تھا کہ تم مجھے ایسی لڑکی نظر آئیں۔ جو میری مجبوریوں میں میرا ساتھ دے سکتی تھیں۔
مجھے تمہارے حالات کا علم تھا۔ ظاہر ہے جو لڑکی اپنی بہنوں اور بھائی کی خاطر خود کی خوشیاں قربان کرسکتی ہو وہ شوہر کے مسائل میں بھی اس کا ساتھ دے سکتی تھی… یہ میرا خیال تھا ہم دونوں مل کر دونوں کنبوں کا بوجھ اٹھالیں گے۔
ان دنوں سات بہنوں کی تعلیم اور ان کی شادیاں کرنا میرے لئے ایک بڑا مسئلہ تھا، تاہم یہ بہنیں اگر سات کی دس ہوجائیں تو کیا فرق پڑتا… ہم بھی تو دو ہوجاتے… مگر تمہارے انکار نے مجبوریاں اکھٹی سمیٹنے کا حوصلہ مجھ سے چھین لیا۔
دوسری برانچ میں جاتے ہی مجھے بیرون ملک بینک میں جاکر خدمت کرنے کا موقع میسر آگیا… یوں میں اپنے مسائل سے جلد عہدہ برآہوگیا۔ لیکن یہ کمی محسوس ہوتی رہی کہ میں تمہارے کنبے کے لئے اور تمہارے لئے کچھ نہ کرسکا… کیونکہ ہم ایک راستے کے مسافر نہ بن سکے تھے، میرا تم سے کوئی رشتہ نہ تھا کہ دوبارہ تم کو پکار لیتا… اب تو سارے مسائل حل ہوگئے ہیں۔ نیا گھر بھی بنا لیا ہے۔ بہنوں کی شادیاں اچھی جگہ ہوگئی ہیں۔ کئی بار چاہا تم سے ملنے آئوں یہ سوچ کر رہ گیا کیا خبر تمہاری شادی ہوگئی ہو، شاید تمہارا شوہر میرا تم سے ملنا پسند نہ کرے۔
عابد صاحب… وہ بولی… میری شادی نہیں ہوئی… آپ میرے گھر آسکتے ہیں لیکن رشتے کے لئے نہیں…
کیا یہی بات کہنے والی تھیں… عابد نے بات کاٹی… اب تو تمہاری ذمہ داریاں ختم ہو چکی ہیں… اور تم بھی آفیسر بن چکی ہو… کل میں والدہ کو بھیجوں گا۔ اب انکار مت کرنا۔
والدہ کو ضرور بھیجنا لیکن رشتے کے لئے نہیں۔ لیکن کیوں آخر؟
اس لئے کہ شادی کی عمر گزر چکی ہے اب میں دلہن بنی اچھی نہ لگوں گی۔
ایسی الٹی بات نہ کرو۔ اچھا ٹھیک ہے تو پھر میں آپ لوگوں کا انتظار کروں گی، اس نے جرأت کرکے یہ کہہ تو دیا مگر شرم سے سرخ ہوگئی۔ پھر بیالیس سال میں جب وہ دلہن بنی تو وہ بیالیس سال کی نہ لگ رہی تھی۔ پہلی بار سنوری تھی۔ بیس سال کی لگ رہی تھی۔ ساری زندگی نیکی اور پاکیزگی میں جو بسر کی تھی۔
ذہنی ہم آہنگی ہو تو شوہر اور بیوی عمر بھر شیر و شکر رہتے ہیں۔ گھر میں سکون ہوتا ہے۔ جب گھر میں سکون ہوتا ہے تو اللہ کی رحمت اس گھر پر برستی ہے۔
سیما کے گھر میں بھی سکون تھا۔ شریک زندگی ایک دوسرے کے خیر خواہ تھے، ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔ اولاد نہ تھی، پھر بھی اولاد کی کمی محسوس نہیں کرتے تھے۔ دونوں نے اپنے بہن بھائیوں اور گھر والوں کے لئے قربانیاں دی تھیں۔ دونوں کی زندگی کا مقصد نیک اور ایک تھا۔ تب ہی اللہ نے حسن سلوک کا یہ صلہ دیا کہ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے وہ صدق اور محبت ڈال دی جس کے لئے دنیا میں ہزاروں جوڑے ترستے رہ جاتے ہیں۔
(س۔ق… لاہور)