Saturday, April 13, 2024

Bazurg Aur Zalim Badshah

عجم کا ایک بادشاہ بڑا ظالم تھا۔ رعیت پر طرح طرح کی سختیاں کرتا تھا۔ اور بیشمار لوگوں کو قید میں ڈال رکھتا تھا۔ ایک دفعہ اس کے بدن پر ایک موذی پھوڑا نکل آیا جو کسی طرح ٹھیک ہونے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ اس کی تکلیف سے بادشاہ سوکھ کر کانٹا بن گیا۔ ایک درباری نے اس کو بتایا کہ جہاں پناہ اس شہر میں ایک خدا رسیدہ بزرگ ہیں، ان کی دعا سے بگڑے کام بن جاتے ہیں۔ اگر آپ ان سے دعا کرائیں تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو شفا دے گا۔ بادشاہ نے ان کو بلا بھیجا اور دعا کے لیے درخواست کی انہوں نے بادشاہ کو خشمناک ہو کر کہا کہ اے بادشاہ! میری دعا تیرے لیے کب مفید ہو گی جب کہ بے گناہ لوگ تیرے ہاتھوں قید و بند کی سختیاں جھیل رہے ہیں اور ان کی بددعائیں تیرا پیچھا کر رہی ہیں۔ جب تک تو ان مظلوموں پر رحم نہیں کرے گا خدا تجھ پر رحم نہیں کرے گا۔

بادشاہ پر بزرگ کی باتوں کا بڑا اثر ہوا اور اس نے حکم دیا کہ سب قیدیوں کو رہا کر دیا جائے۔ جب سب لوگ رہا ہو گئے تو اللہ کے نیک بندے نے بارگاہ الہی میں نہایت عاجزی سے دعا کی کہ الہی تو نے اس کو نافرمانی میں پکڑا، اب اس نے اطاعت اختیار کی ہے تو تو بھی اس پر رحم فرما۔ ابھی ان کی دعا پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کو شفا دے دی۔ اس نے حکم دیا کہ ان کے سر پر زر و جواہر نچھاور کیے جائیں۔ بزرگ نے زر و جواہر پر ٹھوکر مار کر کہا کہ اے بادشاہ! مجھے ان کی حاجت نہیں ہے۔ ہاں تو پھر ایسے کام نہ کرنا کہ یہ بیماری عود کر آئے۔ جب تو ایک بار گرا ہے تو اب قدم جما کر رکھ کہ دوبارہ نہ پھسلے۔

“سعدی سے سن لے یہ سچی بات ہے ، کوئی گر کر ہر مرتبہ نہیں اٹھتا ہے۔”

Latest Posts

Related POSTS