Behan Ki Ghamsaar Hai | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1753
جن دنوں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش نہیں بنا تھا، بزنس کے سلسلے میں والد صاحب کا وہاں اکثر آنا جاتا رہتا تھا۔ ایک بنگالی دوست سے پارٹنر شپ تھی جس کا نام عبدالرحمٰن تھا، اس کی رہائش ڈھاکا میں تھی۔ ابو ڈھاکا میں اسی کے پاس قیام کرتے تھے۔
رفتہ رفتہ وہاں کے حالات ناسازگار ہوگئے تو ابو نے کاروبار سمیٹا اور ڈھاکا کو خیرباد کہہ دیا۔ کچھ ہی عرصہ بعد مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش بن گیا اور وہاں جانا ممکن نہیں رہا۔ انہی دنوں والد صاحب کی شادی اپنی عم زاد صنوبر سے ہوگئی تو نانا جان نے انہیں اپنے کاروبار میں شریک کرلیا۔
رزق تو خدا کی دین ہے، اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو دیتا ہے، خواہ وہ کسی سرزمین پر اقامت پذیر ہو۔ والد صاحب نے خوب محنت کی اور دیکھتے دیکھتے دولتمندوں میں شمار ہونے لگے۔
والدہ نصیب والی تھیں کہ دولت میں کھیلنے لگیں۔ زندگی کا ہر عیش و آرام ان کو میسر تھا مگر اولادِ نرینہ نہ ہوئی۔ میں ان کی اکلوتی بیٹی تھی جس کا نام والد صاحب نے دل آرام تجویز کیا۔
جن دنوں میں کالج میں پڑھ رہی تھی، بنگلہ دیش سے ایک اردو بولنے والا خاندان ہجرت کرکے وطن آیا۔ ان کی لڑکی کا نام سائرہ بانو تھا، اس نے ہماری کالج کلاس میں داخلہ لیا اور پھر جلد ہی اپنی اچھی عادات کی وجہ سے میری دوست بن گئی۔
سائرہ بانو مجھے مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش بن جانے کے ایسے قصے سناتی کہ سن کر دل دہل جاتا تھا اور میں سوچتی تھی خدا جانے ان لوگوں پر کیسی قیامت گزری ہوگی جو اس سانحے کے دوران کام آئے، جن پر اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھوں نے مظالم ڈھائے۔
وطن کی تقسیم میں خون خرابہ ہر دور کی تاریخ میں ہوتا آیا ہے مگر جو خاندان اپنوں سے بچھڑ جاتے ہیں، ان کا دکھ بھی سوا ہوتا ہے۔ سائرہ بانو کی ایک دور کی خالہ عذرا بنگلہ دیش میں رہ گئی تھیں۔ ان کی بیٹی شمع سے اس کی بہت دوستی تھی۔سائرہ، شمع کو بہت یاد کرتی تھی اور اس نے مجھے اپنی دوست کے بارے بہت سی باتیں بتائی تھیں۔
کافی عرصہ ان لوگوں سے رابطہ نہ رہا لیکن جب دونوں ملکوں کے درمیان رسل و ترسیل کا سلسلہ بحال ہوا تو سائرہ بانو نے شمع کو خط لکھا۔ کچھ دنوں بعد جواب آگیا اور پھر ان کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جب بھی شمع کا خط آتا، سائرہ کی خوشی دیدنی ہوتی، وہ مجھے بھی اس کے خطوط پڑھواتی جن میں بنگلہ دیش کے حالات درج ہوتے تھے۔ سائرہ نے اپنے خطوط کے ذریعے میرا، شمع سے غائبانہ تعارف کرا دیا تھا۔
روز اخبار ضرور پڑھتی تھی۔ یہ میری عرصے کی عادت تھی۔ ان دنوں اخبارات میں نمایاں خبریں بنگلہ دیش اور وہاں کے حالات کے بارے میں ہوتی تھیں۔ مجھے حالات حاضرہ سے متعلق جاننے کا خبط تھا۔ اسی وجہ سے سائرہ کے توسط سے شمع کے ساتھ قلمی دوست کا رشتہ استوار ہوگیا۔ یہ قلمی دوستی مجھے راس آگئی کہ دلچسپ مشغلہ تھا اور معلومات ملتی تھیں۔ شمع کے خطوط ایسے پُرمعنی ہوتے تھے کہ جی چاہتا اس سے ملوں۔ سائرہ دعا کرتی، اے اللہ ہمیں شمع سے ملا دے۔ جب دعا مسلسل کی جائے، ایک روز ضرور قبول ہوجاتی ہے۔ ہماری دعا بھی قبول ہوگئی۔ ایک دن کالج گئی تو سائرہ کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ بتایا کہ خالہ عذرا اور شمع کچھ لوگوں کے ساتھ پاکستان آرہی ہیں، گویا جو آرزو کی تھی وہ پوری ہونے والی تھی۔
اس خبر کے ایک ماہ بعد وہ بہاری فیملی آگئی مگر ان کے ساتھ صرف شمع آئی تھی، اس کی والدہ پاکستان روانہ ہونے سے کچھ دن پہلے وفات پا گئی تھیں۔ مجھے اس سے ملنے کا اشتیاق تھا۔ جب شمع نے بلایا، دوڑی گئی، وہ سائرہ کے گھر گئی۔ بہت پیاری اور پُرکشش لڑکی تھی۔ باتوں باتوں میں بتایا کہ اس کے والد بھی مغربی پاکستان کے رہنے والے تھے۔ ہنگاموں کے دوران جب مکتی باہنی نے عرصۂ حیات تنگ کردیا تھا، وہ اپنی جان بچا کر لاہور چلے گئے۔
سوچا تھا حالات بہتر ہوجائیں گے تو واپس لوٹ آئیں گے مگر نہ آسکے اور یوں وہ ہم سے بچھڑ گئے، تقدیر نے پھر نہ ملایا۔ میں اس وقت کم سن تھی اور اپنے والد کی صورت بھی یاد نہیں۔ آج کل بنگلہ دیش میں ہم لوگوں کے حالات سازگار نہیں ہیں کیونکہ ہم بنگلہ دیشیوں کو وہاں غیر سمجھا جاتا ہے۔ میرے نانا نے ابو کو اجازت نہ دی کہ وہ اپنے ساتھ ہمیں یہاں لے آتے، بعد میں نانا بھی شہید ہوگئے۔
شمع کے حالات جان کر دکھ ہوا۔ باپ بچھڑ گیا تو ماں بھی نہ رہی اور اب وہ ایک لاوارث لڑکی کی حیثیت سے یہاں پہنچی تھی۔ سائرہ کے گھر والوں نے چند دن رکھا، پھر اس کے گھر کے کچھ افراد اعتراض کرنے لگے۔ جب ملنے گئی وہ رو رہی تھی، مجھے اس پر ترس آیا، میری کوئی بہن نہ تھی، امی سے اصرار کرکے شمع کو گھر لے آئی۔
شمع کے آ جانے سے میں بہت خوش تھی۔ اس کے روپ میں مجھے ایک بہن مل گئی تھی۔ امی ابو نے اسے بیٹی بنا لیا وہ اس کا بہت خیال رکھتے تھے۔ کچھ دن میں نے اسے پڑھایا تو اسے بھی میرے ساتھ کالج میں داخلہ مل گیا۔
تمام وقت کالج میں اس کے ساتھ رہتی۔ اپنی پرانی دوستوں کو بھی نظر انداز کردیا۔ ہم میں بہنوں جیسا پیار ہوگیا۔ بی اے تک ساتھ پڑھا، پھر میرے لئے ایک اچھا رشتہ آگیا۔ والدین نے غنیمت جانا کہ اچھے رشتے جلد نہیں ملتے، سو میری شادی حفیظ سے کردی۔
امی شمع سے خوش تھیں۔ ایک بیٹی بیاہی گئی تو دوسری پاس تھی۔ میری کمی محسوس نہ ہونے دی بلکہ وہ تو مجھ سے بھی زیادہ امی ابو کا خیال رکھتی تھی۔ امی کہتی تھیں۔ اگر شمع ہمارے گھر کی روشنی نہ ہوتی تو تمہاری رخصتی کے بعد میں اپنے آنگن کے سونے پن کو کیسے سہہ پاتی۔ یہ ہے تو گھر میں رونق ہے۔ آنگن میں سونا پن بھی نہیں ہے۔ سچ ہے کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں اور یہ اللہ کی رحمت ہوتی ہیں۔
جب میکے آتی، شمع کو امی کے ساتھ ایسے گھلی ملی دیکھ کر سوچتی تھی کہ زیادہ بیٹیوں کا ہونا کتنا ضروری ہے۔ لگتا تھا کہ امی جان مجھ سے بھی زیادہ پیار شمع سے کرتی ہیں۔
شمع واقعی مجھ سے محبت کرتی تھی۔ تب ہی تو میرے گھر والوں سے بھی محبت کرتی تھی اور ان کی خدمت کرتے نہیں تھکتی تھی۔ جتنے دن امی کے گھر رہتی، وہ میرے لئے طرح طرح کے مزیدار کھانے بناتی، ہر طرح سے خیال رکھتی۔ مجھے اعتراف کرنا پڑتا کہ جس کی بہن نہ ہو وہ لڑکی بھی ادھوری ہوتی ہے۔
کچھ دنوں سے شمع میرے بغیر خود کو تنہا محسوس کرنے لگتی تھی، تب ہی امی جان نے اس کا داخلہ کرا دیا اور اس نے بی ایڈ کرلیا۔ مجھے بھی اس کی تنہائی کا احساس تھا لہٰذا اسے مشورہ دیا کہ تم جاب کرلو۔
ہمارے گھر کے نزدیک ایک اسکول میں اسے جاب مل گئی لیکن گھر سے آنے جانے میں دقت محسوس ہونے لگی۔ تب ہی حفیظ سے کہا، کیوں نہ میں شمع کو اپنے پاس رکھ لوں۔ البتہ چھٹی کے دو دن یہ امی جان کے پاس رہے گی۔ وہ کہنے لگے۔ تمہاری بہن ہے چاہو تو رکھ لو۔ مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔
جس اسکول میں شمع کو ملازمت ملی، وہ حفیظ کے آفس کے پاس تھا۔ صبح آفس جانے سے پہلے میرے جیون ساتھی شمع کو رستے میں اس کے اسکول گیٹ کے قریب ڈراپ کرنے لگے۔ میں تو ایک صاف دل لڑکی تھی مگر میری ساس کو یہ بات نہیں بھائی کہ شمع روز حفیظ کے ساتھ جائے۔
وہ میرے کان کھانے لگیں کہ شمع اور حفیظ ایک ساتھ نہ جایا کریں۔ اس لڑکی کے آنے جانے کا تم کوئی اور بندوبست کرو۔ ایسا نہ ہو کل کلاں کوئی اور مسئلہ نکل آئے۔
شروع میں اماں جی کی باتوں پر کان نہ دھرے، لیکن کب تک؟ میں بھی انسان تھی۔ دل میں خدشات نے جنم لیا تو شک و شبہات سر اٹھانے لگے اور میرا رویہ بدلنے لگا۔
ایک روز کا ذکر ہے کہ آفس سے واپسی پر جب حفیظ نے شمع کو اسکول سے پک کیا تو اس نے کہا کہ اُسے بازار جانا ہے اور کچھ خریدنا ہے۔ حفیظ نے انکار نہ کیا کیونکہ وہ اب ہمارے گھر کا فرد تھی۔ حفیظ اسے لے کر بازار چلے گئے۔ اتفاق کہ اسی دن اماں جی مجھے بھی بازار لے گئیں۔ بات یہ تھی کہ میری سالگرہ کا دن تھا، اسی خوشی میں ایک جوڑا دلوانا چاہتی تھیں۔ جس دکان میں ہم خریداری کرنے گئیں وہاں حفیظ اور شمع پہلے سے موجود تھے۔
شمع ’’آرٹیفیشل‘‘ جیولری دیکھ رہی تھی۔ وہ تو میرے لئے تحفہ لے رہی تھی لیکن میں بدگمان ہوگئی جبکہ شمع کو خبر تھی آج میری سالگرہ ہے۔ اس کا خیال تھا کہ وہ میرے لئے تحفہ خریدنے کا کہے تو میں اسے منع کردوں گی۔ تب ہی اس نے حفیظ سے کہا کہ اسے بازار لے چلیں۔
اب یہ تو سمجھنے کی بات تھی مگر میں نے غلط سمجھ لیا۔ سوچ مثبت ہو تو ایسا خیال دل میں جاگزین نہیں ہوتا۔ لیکن میں ایک عام سوچ رکھنے والی عورت تھی تب ہی وہم اور وسوسے کا شکار ہوگئی۔ یہ نہیں سوچا کہ وہ میری محبت میں تحفہ خریدنے آئی ہوئی ہے بلکہ یہی سمجھی کہ وہ اپنے لئے میرے شوہر کی جیب سے ہار سنگھار کا سامان لے رہی تھی۔ گھر آتے ہی اس پر برس پڑی کہ تم حفیظ کے ساتھ شاپنگ کرنے گئی تھیں۔ وہ بھی سیدھی اسکول سے۔ گھر آکر میرے یا امی جی کے ساتھ بھی تو جاسکتی تھیں۔ اتنا اسے برا بھلا کہا بلکہ بغیر سوچے سمجھے جو جی میں آیا بکتی چلی گئی۔ یہ بھی نہ سوچا کہ وہ میری سہیلی ہے اور میرے آسرے پر یہاں رہ رہی ہے۔ ایک لاوارث لڑکی ہے جس کا یہاں کوئی نہیں تھا۔
صحیح کہتے ہیں کہ غصے کی آندھی دماغ کے چراغ کو بجھا دیتی ہے۔ میں نے بھی غصے میں بغیر سوچے سمجھے یہ کہہ دیا کہ تم میری حقیقی بہن نہیں ہو۔ گھر میں یہ تماشے میں برداشت نہیں کرسکتی۔ اب جہاں سینگ سمائیں چلی جائو۔ اپنے پائوں پر کھڑی ہو، کرایے کا کوئی مکان تمہیں مل ہی جائے گا۔
جب بدگمانی سانپ بن کر ذہن میں کنڈلی مار لے تو آدمی کس قدر خودغرض ہوجاتا ہے۔ میں بھی شک کے الائو میں جل کر انسانیت کے درجے سے گر گئی۔ میں نے روتی ہوئی شمع کا خیال نہ کیا۔ یہ بھی نہیں سوچا کہ اس بیچاری کا کیا ہوگا۔ لڑکی ذات ہے، بھرے شہر میں جہاں اس کا کوئی نہیں ہے، آخر یہ کہاں جائے گی۔ میری ساس تو بے حسی سے اسے اپنے کپڑے بیگ میں رکھتے دیکھ رہی تھیں۔ وہ تو دل سے چاہتی تھیں وہ یہاں نہ رہے۔ البتہ حفیظ پریشان و بے بس بت بنے کھڑے تھے۔ میرا غصہ دیکھ رہے تھے لہٰذا طرفداری بھی نہیں کرسکتے تھے۔
میرا خیال تھا وہ امی کی طرف جائے گی مگر وہاں نہ گئی بلکہ ان لوگوں کے پاس گئی جن کے ساتھ وہ بنگلہ دیش سے پاکستان آئی تھی۔ انہیں تھوڑا بہت حالات سے آگاہ کیا اور سائرہ کے ابو سے کہا کہ یہ لوگ مجھے اس وعدے پر لائے تھے کہ یہاں میرے ابو کا پتا کریں گے۔
بنگلہ دیش سے ہجرت کرکے آنے والے اس کنبے کے سربراہ کا نام عبدالعلی تھا۔ عبدل صاحب نے اسے تسلی دی کہ خاطر جمع رکھو اور تم یہاں ہمارے پاس رہو۔ میں ہر ممکن کوشش کرکے تمہارے والد کے بارے میں کھوج لگانے کی سعی کروں گے۔
اب وہ اپنے پائوں پر کھڑی تھی، اپنا بوجھ اٹھا سکتی تھی لہٰذا عبدل صاحب کی فیملی نے بھی اسے سہارا دیا اور رہائش کے لیے کمرا دے دیا۔ عبدل صاحب کے بنگلہ دیش میں ابو کے سابق شریک کار عبدالرحمٰن سے رابطہ کیا جنہوں نے شمع کی والدہ کے ایک عزیز کا پتا اور فون نمبر ان کو مہیا کردیا۔ یوں عبدل صاحب پاکستان میں شمع کے والد کا ایڈریس معلوم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن یہ ایڈریس پرانا تھا اور اب شمع کے والد وہ مکان چھوڑ چکے تھے۔ بہرحال اسی پتے کے ذریعے تلاش بسیار کے بعد ایک صاحب مل گئے جو نئے مکان کا پتا جانتے تھے، انہوں نے پتا ہی نہیں فون نمبر بھی دیا۔ جب فون پر عبدل صاحب سے رابطہ کیا تو یہ میرے والد صاحب کا آفس نمبر تھا۔ والد صاحب نے کال ریسیو کی۔ عبدل صاحب نے ان سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ یوں وہ ابو کے آفس پہنچ گئے۔ یہ بڑی اہم ملاقات تھی۔ عبدل نے ابو کو ایک تصویر دکھائی تھی جو شمع کی والدہ مرحومہ کے عزیز نے بھجوائی تھی۔ اس میں میرے والد اپنی بنگلہ دیشی بیوی کے ساتھ تھے۔ درمیان میں ایک ننھی منی بچی بھی تصویر میں موجود تھی اور یہ شمع تھی۔
والد صاحب کو خوشی بھی ہوئی اور رنج بھی ہوا کہ ان کی بیٹی ان کے گھر لاوارث ہوکر پہنچی اور پھر میں نے اس کے ساتھ بدسلوکی کرکے اسے چلتا کردیا۔ وہ بچی سے ملنے کو بے قرار ہوگئے۔ عبدل صاحب نے گھر آکر شمع کو یہ خوشخبری دی کہ حسن اتفاق سے تم نے جہاں پناہ لی، وہ تمہارے حقیقی والد کا گھر تھا اور تم دل آرام کی بہن ہو… تو وہ ہکا بکا رہ گئی۔ گھبرائی بھی کہ یہ کیسے ہوگیا جبکہ میں اسے موردِ الزام ٹھہرا چکی تھی۔ اب وہ ہماری جانب لوٹ کر آنا نہ چاہتی تھی۔
عبدل صاحب کے سمجھانے سے وہ اپنے حقیقی والد سے ملنے پر آمادہ ہوئی جو میرے ابو تھے۔ وہ اسے لے کر گھر آگئے۔ امی جان کے علم میں نہیں تھا کہ ان کے شوہر نے پہلے کبھی بنگلہ دیش میں کسی بہاری خاتون سے شادی کی تھی اور ایک بچی بھی ہوئی تھی۔ ابو نے مصلحت کے تحت نہیں بتایا تھا، مگر اب تو بتانا ضروری ہوگیا تھا۔
انہوں نے امی سے کہا کہ تقدیر نے مجھے ان لوگوں سے جدا کردیا تھا۔ میں نے بچی کا نام نائلہ رکھا تھا لیکن اس کی ماں نے بعد میں شمع رکھ دیا ہوگا۔ یہ ان دنوں ایک برس کی تھی جب میں مغربی پاکستان آیا، اس کے فوری بعد مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ وہاں جانے کے راستے بند ہوگئے۔ اسی آس میں کچھ وقت بیت گیا کہ بیوی اور بچی کو بعد میں جاکر لے آئوں گا مگر ان لوگوں نے کسی اور سمت ہجرت کرلی اور ہمارے رابطے بھی ختم ہوگئے۔ پھر امی ابو نے مجھے تم سے شادی پر مجبور کردیا اور تقدیر نے مجھے عذرا اور نائلہ (شمع) سے دور کردیا۔ میں بیوی کے عزیزوں سے بھی رابطہ کی کوشش کرتا رہا لیکن ان کے ایک عزیز نے مجھے خط میں لکھ دیا کہ تمہاری بیوی اور بچی وہاں ہنگاموں میں ختم ہوگئی ہیں، تو میں نے قسمت کا لکھا سمجھ کر اس غم کو برداشت کیا اور صبر کرلیا۔ معلوم نہ تھا کہ زندگی کے اس موڑ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ معجزہ ہوگا اور میری بچی اس طرح میرے پاس آ جائے گی۔
عبدل صاحب کا احسان ہے کہ ہماری بیٹی سے ملا دیا ہے ورنہ یہ در در کی ٹھوکریں کھاتی اور خدا جانے اس کا کیا حشر ہونا تھا۔ امی جان نے کہا۔
امی جان ایک خدا ترس عورت تھیں، اچانک سوتیلی بیٹی کا سامنے آ جانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش ہی تھی مگر اس خدا کی بندی نے اُف نہ کیا اور نہ کوئی شکوہ کیا بلکہ آگے بڑھ کر شمع کو گلے سے لگاکر بولیں۔ تم پہلے بھی جب یہاں رہی تھیں تو میری بچی بن کر رہی تھیں، آج بھی میری بیٹی ہو۔ اب تو یہ تمہارے ابو کا گھر ہے لہٰذا حق سے رہنا اور ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
امی کے ان الفاظ نے ڈری سہمی شمع کے بدن میں نئی روح پھونک دی۔ وہ پھر سے جی اٹھی۔ جیسے اسے نئی زندگی مل گئی ہو۔ تاہم مجھ سے ابھی تک خوفزدہ تھی۔
امی جان نے مجھے فون کرکے سمجھا دیا کہ دل آرام، شمع نے مجھ سے ساری بات بتا دی ہے، اس روز وہ تمہارے لئے سالگرہ کا تحفہ لینے گئی تھی۔ تم نے ناحق اس کو باتیں سنائیں اور دل دکھایا، اب آئو تو ذرا اپنے ذہن کو صاف کرکے آنا۔ شکر کرو کہ اس دنیا میں تم بالکل اکیلی نہیں ہو۔ تمہاری ایک بہن بھی ہے۔ جب میں نہ رہوں گی تو یہی تمہارے دکھ سکھ کی ساتھی ہوگی۔
میں تو پہلے ہی اس کے لئے پریشان تھی۔ پتا چلا کہ میرے پیارے ابو کی حقیقی بیٹی ہے تو ملنے کو بے قرار ہوگئی۔ جاتے ہی گلے لگ گئی اور اس سے معافی مانگی۔ وہ میری بڑی بہن تھی لہٰذا معافی مانگنا میرا فرض بنتا تھا۔
وہ دن اور آج کا دن ہم بہنوں میں پھر کبھی تلخ کلامی نہیں ہوئی۔ ہمیشہ پیار و محبت سے ملتے ہیں۔ اب تو شمع آپا کی شادی ہوچکی ہے اور وہ چار بچوں کی ماں ہے۔ والدصاحب ان کی شادی اپنے ہاتھوں کرگئے تھے۔
جب شمع اپنے بچوں کے ساتھ آتی ہے تو رونق آ جاتی ہے۔ میرا گھر خوشیوں سے چہکنے اور مہکنے لگتا ہے۔ ہمارے والدین کی وفات کو کئی سال گزر گئے ہیں۔ ان کی وفات کے بعد سے تو اور بھی زیادہ میں اپنی بہن کی قدر کرتی ہوں کہ اب یہی میرے لئے والدین کی جگہ ہے۔ بہن اور دوست ہی نہیں میرے دکھ سکھ کی ساتھی اور غمگسار بھی ہے۔ (د… لاہور)