Behan Ne Khilona Jana | Teen Auratien Teen Kahaniyan

3065
زبیدہ رشتے میں میری دور کی خالہ ہوتی تھیں لیکن مکان نزدیک ہونے کی وجہ سے سگوں سے بڑھ کر تھیں۔ ہر وقت کا آنا جانا تھا، دکھ سکھ کی ساتھی تھیں۔ اسی لئے امی جان زبیدہ خالہ کو دل و جان سے چاہتی تھیں۔ کوئی کام ان کی صلاح و مشورے کے بغیر نہیں کرتی تھیں۔
اوج ان کا اکلوتا فرزند تھا۔ وہ بہت سادہ دل تھا۔ ہر کسی کی بات کا اعتبار کرلیتا تھا۔ اسے بھولا بھالا کہوں تو بے جا نہ ہوگا۔ اوج سے میری خوب گاڑھی چھنتی تھی کیونکہ میں بھی سادہ مزاج تھی۔ چالاکی مجھ میں نام کو نہ تھی۔ اس کے برعکس آپی بہت شاطر واقع ہوئی تھیں۔ ہوشیار ایسی کہ اڑتی چڑیا کے پر گن لیتیں۔ بڑے بڑے دماغ ان سے پناہ مانگتے تھے۔
ہم دونوں بہنوں کے مزاج بالکل مختلف تھے۔ ہماری آپس میں نہیں بنتی تھی۔ آپا مجھے بدھو اور اوج کو بھولا پکارتیں۔ کبھی موڈ میں ہوتیں تو کہتیں۔ بدھو اور بھولے کی جوڑی خوب جچتی ہے۔ کہو تو امی سے کہہ کر تم دونوں کی شادی کرا دوں؟
میں آپی کی ان باتوں کو مجذوب کی بڑ سمجھ کر ایک کان سے سنتی اور دوسرے سے اڑا دیتی… لیکن وہ باز نہ آتیں۔ اس بات کو اتنا دہرایا کہ بالآخر میرے دل میں اوج کیلئے محبت کے پھول کھِلا دیئے۔
دل ہی دل میں اوج کی آرزو کرنے لگی… لیکن اسے میرے جذبات کی خبر نہ تھی۔ وہ پہلے کی طرح سادہ دلی سے ملتا اور باتیں کرتا۔ آپی اسے مجھ سے باتیں کرتے دیکھ کر معنی خیز انداز سے مسکراتیں اور کبھی منہ بنا لیتیں، تب سخت الجھن ہوتی۔ خدا جانے میری یہ بہن کیا چاہتی ہے۔ میرا دماغ مائوف ہونے لگتا تھا۔ دعا کرتی تھی کہ ان کی یہ شوخی ہم کو کسی برے انجام سے دوچار نہ کردے۔
محبت انمول شے ہے اور اس کا کوئی کنارہ نہیں ہوتا۔ آپی کو اندازہ ہوگیا کہ میں اوج کو چاہنے لگی ہوں تو انہوں نے امی کے کانوں میں یہ بات ڈال دی۔ امی اوج کو پسند کرتی تھیں، اس کو پیار کرتی تھیں۔ انہیں بھلا فرزندی میں لینے سے کیا عذر ہوسکتا تھا۔
ایک روز زبیدہ خالہ سے ذکر کیا تو خالہ کی باچھیں کھل گئیں۔ جانو وہ انہی خطوط پر سوچ رہی تھیں۔ فوراً منگنی کی خواہش ظاہر کردی۔ جب آپی کو پتا چلا کہ میری منگنی اوج سے ہونے والی ہے تو یکدم بدل گئیں جیسے کوئی بڑا غلط کام ہونے جارہا ہو۔ اب انہوں نے منگنی رکوانے کی ترکیبیں آزمانی شروع کردیں۔ اس دوغلے پن پر میں حیران رہ گئی۔ آپا نے کئی گر آزمائے لیکن خالہ زبیدہ ہر صورت مجھ کو بہو بنانے پر تُل گئیں۔ انہوں نے فیصلہ نہ بدلا تو آپی نے ایک نیا سوانگ بھرا یعنی اوج کو اپنی مٹھی میں لے لیا۔ پھر اسے باور کرایا کہ کشور تم سے بہنوں جیسی محبت کرتی ہے۔ شروع سے ایک بہن کی نظر سے دیکھا کرتی تھی جبکہ میں تم کو دل سے پسند کرتی ہوں۔ تم سے شادی کی آرزومند ہوں۔ خدا جانے تمہاری امی کو کیوں یہ خیال نہیں آتا کہ جب گھر میں بڑی بہن موجود ہو تو مناسب ہے پہلے بڑی کا رشتہ طے کیا جائے، چھوٹی کی باری بعد میں آتی ہے۔ تم اپنی امی کو سمجھائو کہ جو لڑکی تم کو چاہتی ہے، اس کا رشتہ مانگیں نہ کہ جو تم کو نہیں چاہتی، اس کے پیچھے پڑ گئی ہیں۔
اوج، آپی کی باتوں سے شش و پنج میں پڑ گیا۔ بے شک وہ مجھ سے کہیں زیادہ خوبصورت تھیں لیکن ان کی عیاری ہر ایک کو کھل جاتی تھی۔ خالہ زبیدہ بھی اسی سبب ان سے بدکتی تھیں۔ جب بیٹے نے ماں سے کہا کہ کشور مجھ سے شادی کی خواہشمند نہیں بلکہ ایک بہن جیسا انس رکھتی ہے اور مہرین مجھ سے شادی کی آرزومند ہے تو خالہ زبیدہ نے بھولے بیٹے کو سمجھایا۔ اوج ہوش کے ناخن لو۔ مہرین تمہارے لئے ہرگز مناسب نہیں۔ اس کا مزاج تم سے لگا نہیں کھاتا۔ وہ بہت چالاک ہے۔ تمہیں دن میں تارے دکھا دے گی۔ اس کی باتوں پر کان مت دھرنا اور اس سے ملنے سے باز رہو۔ بہتر ہے جب تک تمہاری شادی کشور سے نہیں ہوجاتی، تم ان کے گھر جانا موقوف رکھو۔ انہوں نے بیٹے پر ہمارے گھر آنے پر پابندی لگا دی۔
اس پابندی نے ایک بڑی خرابی کو جنم دیا۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے ملنے کے لئے بے قرار رہنے لگے کیونکہ ہمیں عادت ہوگئی تھی۔ ڈھیر ساری باتیں کرتے تھے اور خوش ہوتے تھے۔
اس بے قراری کا حل ہم نے یوں نکالا کہ باہر چھپ چھپ کر ملنے لگے۔ اس معاملے کو چھ ماہ گزر گئے۔ اوج نے تعلیم مکمل کرلی۔ ایک روز
آپی نے ہمیں باغ میں بیٹھے دیکھ لیا جو اوج کے گھر سے پچھلی طرف تھا۔ آپی نے وہاں آکر ہمیں خوب ڈانٹا اور دھمکی دی کہ والد کو بتا دوں گی، تم لوگ خاندان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہو۔ ظاہر ہے ہم ڈر گئے۔ آپی نے اس شرط پر گھر والوں کو نہ بتانے کی ہامی بھری کہ اب وہ بھی ہمارے ساتھ آیا کریں گی۔ خیر ہم نے یہ شرط قبول کرلی۔ بھلا ہم کو کیا اعتراض تھا بلکہ فائدہ ہی تھا کہ اب کوئی دیکھ بھی لیتا تو آپی کی وجہ سے ہمارا دفاع ہوجاتا۔
میری اور اوج کی ملاقاتیں اب آپی کی رضامندی سے ہونے لگیں۔ وہ خود ساتھ ہوتیں۔ اکثر بازار چلنے کو کہتیں اور وہ مرضی کی شاپنگ کرتیں جس کا بل اوج ادا کرتا۔ وہ آپی کی ہر فرمائش پوری کرنے کی کوشش کرتا تاکہ وہ ہم سے خوش رہیں۔
انہی دنوں اوج کے والد کی نوکری جاتی رہی۔ ان پر کوئی کیس بن گیا تھا۔ اوج سخت پریشان تھا۔ ان کے گھریلو حالات خراب ہوگئے تھے لیکن میں پُرامید تھی کہ ایسے حالات عارضی ہوتے ہیں۔ دن سدا ایک سے نہیں رہتے، زندگی میں دکھ سکھ آتے ہی رہتے ہیں، انسان کو حوصلہ نہ ہارنا چاہئے، ثابت قدم رہنا چاہئے کیونکہ دوست کی پہچان ہی آزمائش کے وقت ہوتی ہے۔
آپی اس آزمائش سے گھبرا گئیں۔ وہ یکسر بدل گئیں۔ اوج سے کھنچی کھنچی رہنے لگیں بلکہ مجھ سے بھی کہتی تھیں کہ اب کنارا کرلو، یہ لوگ مزید برے حالات میں پھنسنے والے ہیں، ابھی سے رویہ بدل کر جان چھڑا لو، خواہ مخواہ مفلسی کے کنویں میں گر کر خودکشی کرنے سے کیا ملے گا۔
ایک روز ہم نے باغ میں ملنا تھا۔ آپی نے جانے سے انکار کردیا تب میں نے سوال کیا۔ نہیں ملنا تھا تو فون کرکے اسے کیوں باغ میں آنے کا کہا تھا۔ وہ وہاں انتظار کررہا ہوگا، منع کردیا ہوتا۔ خیر میرے اس طرح کہنے پر وہ ساتھ چلیں مگر ہم کافی لیٹ پہنچے تھے۔ اور دیر سے راہ تک رہا تھا۔ اسے کسی ضروری کام سے جانا تھا مگر ہماری وجہ سے نہ گیا۔
آپی نے جاتے ہی اِدھر اُدھر دیکھنا شروع کردیا۔ کہنے لگیں۔ کشور! تم جلدی سے گھر چلی جائو۔ لگتا ہے والد صاحب آرہے ہیں۔ تمہارا منگتیر سے یوں باغ میں ملنا بڑی معیوب بات ہوگی، میرا اور رشتہ ہے اوج سے… ہمارے یہاں بیٹھ کر بات کرنے پر کسی کو اعتراض نہ ہوگا۔
میں آپی کے فریب میں آگئی۔ خوف زدہ ہوکر گھر کی طرف دوڑی۔ وہ وہاں دیر تک بھولے اوج سے باتیں کرتی رہیں۔ جانے کیا میرے بارے میں کہا کہ اوج کو مجھ سے بددل کردیا۔
وہ جو میری الفت کا دم بھرتا تھا، اب کہتا تھا کہ کشور تو میری چھوٹی بہن جیسی ہے۔ تمہارے ساتھ شادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شادی میں مہرین سے کروں گا۔ سب نے سمجھا لیا، وہ نہ مانا۔ بس مہرین ہی کی رٹ لگائے رکھی۔ بالآخر والدین نے مجھ سے پوچھا۔ کیا تم اوج سے شادی کو ضروری خیال کرتی ہو۔ اگر ہم تمہاری بجائے مہرین سے کردیں تو تم کو ملال ہوگا؟
میں نے جواب دیا۔ اوج اگر مہرین آپی کو پسند کرتا ہے تو پھر مجھے کوئی ملال نہ ہوگا۔ آپ آپی کی اس کے ساتھ شادی کردیں۔ ایسا میں نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر کہا تھا کیونکہ مجھے اوج سے ایسی امید نہ تھی، پَر جب اس نے میرا اعتماد توڑا تو وہ میرے دل سے اتر گیا۔ سوچا ایسے شخص سے ناتا رکھنا بے معنی ہے جو کبھی تولہ کبھی ماشہ اور پل بھر میں بدل سکتا ہے۔ آگے پوری زندگی پڑی ہے، جانے کس موڑ پر دھوکا دے جائے۔
ملال تو بے شک بہت ہوا مگر کیا کرسکتی تھی۔ عقل یہی کہتی تھی کہ آپی اس میں خوش ہیں تو ان کی خوشی کو پورا ہونے دیا جائے ورنہ وہ عمر بھر دلگرفتہ رہیں گی۔ میں بھی خوش نہ رہ سکوں گی۔ اوج جیسے سادہ دل شخص کو انہوں نے اپنی مٹھی میں لے ہی لیا تھا۔ اب میرا اس کے ساتھ شادی پر اصرار فضول تھا۔
میں ایک کنارے ہوگئی۔ آپی کی ملاقاتیں اوج کے ساتھ باغ میں بدستور جاری رہیں۔ ان ملاقاتوں کی اب کیا نوعیت تھی، کس رنگ کی باتیں ہوتی تھیں، میں نہیں جانتی تھی لیکن ایک روز اس ڈرامے کا عجیب سا ڈراپ سین ہوگیا۔
ایک روز آپی باغ میں اوج سے ملنے گئیں تو ذرا دیر بعد بولیں۔ واپس چلو، سلیمان بھائی آج جلد آنے کا کہہ گئے تھے، آتے ہی ہوں گے۔ اس نے موٹرسائیکل پر بٹھایا اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ ذرا آگے جاکر وہ بولیں۔ موٹرسائیکل روکو… کچھ نہ سمجھتے ہوئے اوج نے گاڑی روک لی۔ آپی فوراً اتر پڑیں۔ کیا ہوا مہرین، کیوں اتر گئی ہو؟ اوج نے حیرت


سے سوال کیا۔
تم جلدی سے نکل جائو، مجھے کسی نے دیکھ لیا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور سوال کرتا، آپی نے اصرار کیا۔ جلدی جائو۔ کہہ رہی ہوں نا ورنہ بڑی مصیبت آجائے گی۔
کچھ نہ سمجھتے ہوئے اس بچارے نے حکم کی تعمیل کی اور موٹرسائیکل اسٹارٹ کردی۔ آپی دم بھر کو فٹ پاتھ پر رکی رہیں۔ اگلے ہی لمحے ایک کار ان کے قریب آکر رکی اور وہ جلدی سے اس میں بیٹھ گئیں۔ پھر کار موٹرسائیکل کے قریب سے نکل گئی۔ اوج نے کار میں مہرین آپی کو دیکھ لیا لیکن وہ اس کے اندر بیٹھے شخص کو نہ دیکھ سکا۔
اب اوج سخت مضطرب تھا۔ وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ گیا تھا۔ اسے اپنی توہین برداشت نہ ہورہی تھی۔ اس نے گھر پہنچ کر مجھے فون کیا اور تمام ماجرا کہہ سنایا۔ خیر میں نے بات کو سنبھالا کہ آج کل ہمارے چچا اور ان کی فیملی آئی ہوئی ہے۔ یہ کار میرے کزن کی ہوگی، چچازاد تم کو نہ دیکھ لے، اس لئے تبھی وہ گھبرا گئی ہوگی۔ وسیم بہت غصیلہ ہے، گھر آکر جھگڑا کرتا، آپی اسی ڈر سے بھاگی ہے، مجھے یقین ہے۔
میرے جھوٹ پر اس بھولے نے یقین کرلیا حالانکہ چچا نہیں آئے تھے، نہ کسی چچازاد نے آپی کو دیکھا تھا۔ جانے کون تھا جس کی کار میں چلی گئی تھیں، یہ میں بھی نہ جانتی تھی لیکن چاہتی تھی کہ اوج کی دل آزاری نہ ہو۔
میرے سمجھانے پر اوج نے خود کو سمجھا لیا اور آپی سے ناتا توڑنے کی بجائے کچھ دن بعد ہمارے گھر آگیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ مہرین اس دن کے رویئے کی معافی مانگے گی، معذرت کرے گی، کچھ تاویلیں دے کر منانے کی کوشش کرے گی اور بتائے گی کہ وہ کون تھا جس کے ساتھ یوں گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئی تھی۔
ایسا نہ ہوا۔ آپی نے کسی قسم کی پریشانی کا اظہار نہ کیا بلکہ معذرت کرنے کی بجائے روکھا پھیکا انداز اپنایا۔ دلبرداشتہ ہوکر اوج چلا گیا۔ کافی دن رابطہ نہ کیا۔ آپی نے بھی پروا نہ کی۔
اس بے رخی سے وہ سخت دلبرداشتہ ہوا۔ بالآخر برداشت نہ کرسکا اور دوبارہ آپی سے بات کی تو آپی نے وضاحت کی کہ تم کسی غلط فہمی میں نہ رہو۔ میں بات صاف کرنا چاہتی ہوں۔ گل حسن سے میرا پیار تھا، ہم کلاس فیلو تھے، کسی وجہ سے رنجش ہوگئی، کسی غلط فہمی کی وجہ سے ہم دور ہوگئے تھے لیکن اب وہ غلط فہمی دور ہوگئی ہے، اسی لئے تم کو بتا دینا بہتر سمجھتی ہوں کہ ہم شادی کرنے والے ہیں۔ تم میرا خیال دل سے نکال دو۔ دھوکے میں رہو گے تو بعد میں تکلیف تم ہی کو ہوگی۔ بہتر ہے کہ کشور سے شادی کرلو۔
آپی کے بیان پر بڑی حیرت ہوئی۔ جب اوج نے بتایا تو مجھے لگا جیسے آپی کے نزدیک ہم محض کھلونے ہیں، بے جان کھلونے، جس سے وہ کھیل کر پھر ان کو اپنی مرضی سے جہاں چاہے رکھ دیتی ہیں۔ میں نے اوج سے کہا کہ تم خاطر جمع رکھو، یہ فیصلے باربار نہیں ہوتے اور نہ باربار بدلے جاتے ہیں، اپنے بزرگوں کے ردعمل کا انتظار کرو، اپنی طرف سے کوئی قدم اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
ادھر یہ معاملہ تھا، اُدھر میں غم و غصے میں جل بھن رہی تھی۔ گرچہ اوج سے محبت کرتی تھی، اس کی یاد ہر وقت دل میں رہتی تھی لیکن اب میں اس سے گریز اختیار کرنا چاہتی تھی کیونکہ اس میں قوت فیصلہ کی کمی تھی اور حوصلہ بھی نہ تھا۔ اس کو دوبارہ امید دلا کر خود کو کسی غیرمعمولی حالات میں جھونکنا نہیں چاہتی تھی۔ میں نے محسوس کیا اوج کو آپی نے ٹھکرا دیا ہے تو اسے اسی بات کا غم ہے اور وہ اس غم سے نکلنے کی خاطر میرا سہارا لینا چاہتا ہے۔ کھلونا تو بہرحال میں نہ تھی، تبھی میں نے اوج کی ہمت افزائی نہ کی۔ یوں وہ مجھ سے کنارا کرگیا۔
وقت گزرتا رہا۔ تین سال بیت گئے۔ اوج کا فون آتا، میں نہ اٹھاتی۔ اپنی زندگی میں کوئی طوفان لانا نہ چاہتی تھی۔ والدین خاموش تھے۔ اوج نے خود مجھ سے شادی سے انکار کیا تھا اور آپی کا انتخاب کیا تھا۔ اب وہ کس منہ سے کہتا کہ آپی اس سے شادی سے انکار کرچکی تھی۔ تین سال بعد ایک روز جب اوج دفتر سے گھر لوٹا، دیکھا کہ آپی اس کے گھر بیٹھی ہے۔ غالباً وہ اسی کی آمد کی منتظر تھی۔ اوج سلام کئے بغیر خاموشی سے پاس سے گزر کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ چند منٹ توقف کے بعد وہ خود اس کے پاس چلی گئی اور بولی۔ میں آپ سے ملنے آئی تھی اور آپ میری بات سنے بغیر چلے گئے۔
یہ فاصلے بھی تم ہی نے پیدا کئے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ باہر جانے لگا تو آپی نے روکا۔ میری بات سن کر جانا۔ اب غور سے اس نے نظر بھر کر
آپی مہرین کو دیکھا۔ وہ کتنی بدل چکی تھی، رنگ روپ سب کھو گیا تھا۔ آنکھوں تلے سیاہ حلقے پڑے ہوئے تھے، وہ بیمار لگ رہی تھی۔
یہ وہ تروتازہ گلاب کے پھول جیسی مہرین نہ تھی، یہ ایک خزاں رسیدہ شاخ معلوم ہوتی تھی۔ کتنی کمزور ہوگئی تھی۔ اوج کو آپی پر رحم آگیا۔
مہرین! تمہاری یہ حالت؟ کیا ہو گیا ہے تمہیں، بیمار ہو کیا؟ آنسو آپی کی آنکھوں سے بہنے لگے۔ میں بہت شرمندہ ہوں اوج۔ میں نے تم سے دھوکا کیا اور گل حسن سے شادی کرلی۔ کورٹ میرج کی تھی کیونکہ گھر والے راضی نہ تھے۔ ایک بچی ہوگئی مگر سسرال والوں نے مجھے قبول کیا اور نہ گھر والوں نے! میں گھر گھرہستی شروع ہی نہ کرسکی۔
اب بچی کے بعد وہ مجھ سے دور ہوگیا ہے اور گھر والوں کے دبائو میں آکر اپنی منگیتر سے شادی کرلی ہے۔ بچی اپنی دادی کے پاس ہے اور میں خالہ کے گھر رہتی ہوں۔ ابا گھر نہیں آنے دیتے، بڑی مشکل سے کشور کو راضی کیا ہے تو یہ میرے ساتھ تمہارے گھر تک آگئی ہے۔ وہ بھی امی ابو سے چوری چھپے۔ اب میں اپنی بچی کے لئے تڑپ رہی ہوں اور ممتا سے مجبور ہوکر تمہارے پاس آئی ہوں کیونکہ میں بیٹی کے بغیر نہیں رہ سکتی، اس کی جدائی نہیں سہہ سکتی۔
تو اس کے لئے میں تمہاری کیا مدد کرسکتا ہوں؟
تم سب کچھ کرسکتے ہو۔ مجھے تحفظ دے کر، میرا سہارا بن کر، تاکہ میں کورٹ سے بچی حاصل کرسکوں، وہ ابھی بہت چھوٹی ہے، عدالت اسے میرے سپرد کردے گی۔
مہرین آپی کے بلکنے پر اوج کو رحم آگیا۔ اس کی والدہ گھر پر نہ تھیں، اسی لئے یہ کھل کر بات کرسکتے تھے۔ مہرین نے کہا۔ تم روز مجھے گل حسن کے دفتر کے سامنے ملا کرو تاکہ اسے بھی تکلیف ہو جیسے اس نے مجھے تکلیف دی ہے۔
بے وقوف بھولا اوج ایک بار پھر آپی کی باتوں میں آگیا۔ وہ گل حسن کے سامنے مہرین سے ملنے لگا۔ جب گل نے نوٹ کیا تو ایک روز طیش میں آکر اس نے مہرین کے ساتھ اوج کو بھی خوب گالیاں دیں اور کہا کہ آئندہ اگر تم دونوں میرے دفتر کے سامنے نظر آئے تو مار مار کر بھرکس نکال دوں گا۔
اگلے روز گل حسن خالہ کے گھر آگیا۔ اس نے آپی کو مار مار کر لہولہان کردیا۔ مہرین آپی نے اوج کو فون کرکے بلایا۔ جب وہ آیا تو آپی زاروقطار رو رہی تھیں۔ بولیں۔ اوج! اگر تم کو مجھ سے محبت ہے یا میرا ذرا سا بھی خیال ہے تو گل کو بخشنا مت، میرا بدلہ اس سے ضرور لینا۔ اس نے مجھے طلاق دے دی ہے۔ اب میری مرضی جس کے ساتھ گھوموں پھروں۔ وہ کون ہوتا ہے گھر آکر مجھے مارنے والا… تم نے میرا بدلہ نہ لیا تو سمجھوں گی کہ تم بے غیرت ہو۔
غرض آپی نے اس بے عقل کو ایسا طیش دلایا کہ وہ پرائی آگ میں جلنے کو تیار ہوگیا۔ میں نے اسے روکنا چاہا، اس نے میری ایک نہ سنی۔ پستول جیب میں ڈال کر دفتر گیا اور گل حسن پر فائر کردیا۔ گولی اس کے سینے میں لگی اور وہ شدید زخمی ہوگیا۔ اوج کو پولیس پکڑ کر لے گئی اور وہ بچارا جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلا گیا۔ اس واقعہ کے کچھ دن قبل اس کے ابو کا انتقال ہوگیا تھا۔ اب اس کی صحیح معنوں میں پیروی کرنے والا بھی کوئی نہ رہا تھا۔
اس واقعہ کے کچھ دنوں بعد آپی ایک روز بغیر کسی کو بتائے خالہ کے گھر سے چلی گئیں۔ پتا چلا کہ اس نے اپنے شوہر سے صلح کرلی ہے۔ اس نے اسے علیحدہ فلیٹ لے کر دیا ہے تاکہ وہ اپنی بچی کے ساتھ اس میں رہ سکے۔
آپی پر مجھے بڑا غصہ آیا۔ کسی طور ان کو ڈھونڈ لیا اور وہاں پہنچی۔ پوچھا۔ آپی! یہ کیا تماشا ہے؟ بے چارے اوج کو جیل پہنچا دیا اور خود دوبارہ اسی شخص کے ساتھ رہ رہی ہو جس کے بارے میں کہتی تھیں کہ اس نے مجھے طلاق دے دی ہے۔
ایک طلاق دی تھی، ایک طلاق کے بعد میاں بیوی میں صلح ہوسکتی ہے لہٰذا ہمارے درمیان صلح کی گنجائش موجود تھی۔ د راصل بچی کے بغیر گل حسن نہیں رہ سکتا اور بچی کے بغیر میں بھی نہیں رہ سکتی تھی۔ ہم دونوں کی جدائی سے میری بیٹی شدید بیمار ہوگئی تھی، اسی لئے صلح کرنی پڑی۔ اب بہرحال جیسی بھی زندگی ملی ہے، مجھے اپنی اولاد کی خاطر قبول ہے۔
اور اوج… اس کا کیا بنے گا؟
وہ ایک نہ ایک دن چھوٹ ہی جائے گا۔ اس کے ہاتھوں ایک شخص مضروب ہوا ہے، قتل تو نہیں ہوا ہے نا۔ اس لئے اسے پھانسی نہ ہوگی۔ بس یہی خیر کی بات ہے۔ آپی کی بات سن کر میں حیران رہ گئی تھی۔
(ک… کراچی)