Beti Bewafa Nikli | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2654
زندگی میں دُکھ سکھ تو سبھی کو سہنے پڑتے ہیں لیکن لگتا ہے کہ میرے مقدر میں دوسروں کے بھی دُکھ ڈال دیئے گئے ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ وہ دن بھی یاد ہیں جب میں اپنے والدین کے سائے تلے پُرسکون زندگی جی رہی تھی۔ ہمارے گھر میں خوشحالی تھی۔ میں دن بھر بے فکری سے سہیلیوں کے ساتھ گھومتی پھرتی اور رات کو نرم گرم بستر پر میٹھی نیند سو جاتی تھی۔ماں مجھ سے بہت محبت کرتی تھیں۔ میرے سوا ان کی اور کوئی اولاد نہ ہوئی، یہاں تک کہ میں پندرہ برس کی ہوگئی۔ ماں کو بیٹے کی چاہ تھی۔ وہ سادہ لوح اسی آرزو میں الٹے سیدھے علاج کرکے بیمار رہنے لگیں۔ ایک دن کسی اَن پڑھ دائی نے کوئی دوا لا کر دی جس کے پینے سے انہیں گردوں میں تکلیف رہنے لگی۔ بالآخر اسی تکلیف نے ان کی جان لے لی۔ماں کی وفات کے کچھ عرصے بعد ابا نے دوسری عورت سے نکاح کرلیا۔ یہ عورت بہت سنگ دل تھی، مجھے کسی صورت برداشت نہ کرنا چاہتی تھی۔ اس کی کوکھ سے ابا کے وارث پیدا ہوگئے تو انہوں نے بھی میری پروا کرنی چھوڑ دی۔ جیسے کوئی اپنی قیمتی چیز کو گھر میں کہیں رکھ کر بھول جاتا ہے، ایسے ہی میرے باپ نے مجھے بھلا دیا۔اب میں کلی طور پر ان کی بیوی کے رحم و کرم پر تھی جو ان کے تین بیٹوں کی ماں بن چکی تھی۔ گھر پر اس عورت کا راج تھا، اسی کا حکم چلتا تھا۔ میرے دکھ کا کوئی رازدار نہ رہا۔ کوئی کندھا ایسا نہ تھا جس سے لگ کر رو لیتی۔ تبھی اپنا یہ ارمان درختوں سے لپٹ کر پورا کرلیتی تھی۔
صحن میں آم اور جامن کے پیڑ تھے جن کے تنوں سے منہ رگڑ کر اپنے آنسو پونچھتی تھی۔ کچھ عرصے بعد میرے لیے ایک رشتہ آیا، والد نے بنِا چھان بین کئے مجھے امتیاز سے بیاہ دیا۔ لگتا تھا جیسے ماں باپ نے اپنے سر سے بوجھ اتار کر پھینک دیا ہو۔ شوہر دیہاتی تھا اور دیہاتی سوچ کا مالک تھا۔ عورت کو کچھ نہیں سمجھتا تھا۔ اس کے نزدیک میں اس کی خادمہ سے زیادہ نہ تھی۔ جیسے تیسے ایک سال بیت گیا اور میں ایک بیٹی کی ماں بن گئی۔جب امتیاز کو دائی نے بتایا کہ لڑکی ہوئی ہے تو اسے کوئی خوشی نہ ہوئی۔ وہ غصے سے دروازے کو ٹھوکر مار کر گھر سے نکل گیا، بیٹی کی صورت دیکھنی بھی گوارا نہ کی۔ اس کے اس طرزِعمل سے میں اس قدر خوف زدہ ہوگئی کہ ایک دن تک بچی کو گود میں بھر کر دودھ پلانے کا حوصلہ نہ رہا۔
امتیاز گائوں کی ایک عورت کا گرویدہ تھا۔ وہ اسی سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ وہ بیوہ تھی اور اس کے گھر والے رشتے کے عوض رقم مانگتے تھے۔ اسی سبب میرے ساس، سسر اس کے ساتھ شادی پر رضامند نہ ہوئے اور مجھے بہو بنا کر لے آئے۔ امتیاز نے مجھ سے شادی والدین کے دبائو میں آکر کر تو لی لیکن وہ ابھی تک اس عورت کے دام اُلفت میں گرفتار تھا لہٰذا بیٹی کو جنم دینے کا بہانہ بنا کر اس نے مجھے میکے بھجوا دیا کیونکہ اس کی محبوبہ کا یہی مطالبہ تھا۔ گویا بیٹی کو جنم دینا کوئی جرم تھا۔ اب تو سوتیلی ماں بھی طعنے دینے لگی کہ بیٹی کا بوجھ لے کر ہمارے در پر آگئی ہے۔ اللہ جانے تیرا شوہر اپنی اولاد کو اولاد کیوں نہیں مانتا۔ یہ ایک بڑا الزام تھا جسے میں نہیں سہہ سکتی تھی۔ انہی دنوں سسر صاحب کا انتقال ہوگیا تو گھر کی حکومت امتیاز کے پاس آگئی۔ وہ بااختیار اور خودمختار ہوگیا۔ ایک بیگھہ زمین بیچی اور اپنی من پسند عورت کو خرید لایا، اس سے شادی رچا لی اور معصوم بچی کو ننھیال کے منہ پر مار کر مجھے طلاق دے دی۔ اس نے اپنی خوشیوں کی نئی دنیا بسا لی مگر سوتیلی ماں کے بار بار بے ہودہ قسم کے بہتان سن سن کر میرا دل لہو ہوتا رہا۔ والد نے بھی حمایت میں کبھی ایک لفظ نہ کہا بلکہ خاموشی اختیار کرلی۔ ایک دن سوچا اس بے عزتی سے بہتر ہے اپنی راہ لوں۔ گائوں میں جائے پناہ نہ تھی اور نہ کوئی کام دیتا تھا۔ ایک دن شہر جانے والی لاری میں بیٹھ گئی اور شہر آگئی۔
یہاں امی کی ایک رشتے دار رہتی تھی۔ میں ان کا گھر جانتی تھی۔ خالہ طیبہ سے دکھ بیان کیا۔ وہ بولیں۔ میں خود غریب ہوں، محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی ہوں۔ تم اگر کام کرنا چاہتی ہو تو میں تمہیں کام پر رکھوا دیتی ہوں۔ میں نے ہامی بھرلی۔ میں خود یہاں محنت، مزدوری کرنے کا سوچ کر آئی تھی تاکہ اپنی بچی کا پیٹ پال سکوں۔ طیبہ خالہ نے مجھے ایک بنگلے میں کل وقتی ملازمہ لگوا دیا۔ ان کے پاس سرونٹ کوارٹر تھا، وہ انہوں نے رہنے کے لیے مجھے دے دیا اور میں ان کے گھر کا کام کاج کرنے لگی۔ یوں ٹھکانہ ملا اور پیٹ بھرنے کو دو وقت کی روٹی بھی مل گئی۔
ماہ و سال گزرنے لگے۔ میں ان لوگوں کو چھوڑ کر کہیں نہ گئی۔ ان کی دیانتداری سے خدمت کی تو انہوں نے بھی مجھے اپنے گھر پر مستقل رہنے دیا۔ مجھ سے مالکہ کو کافی آرام تھا۔ کہتی تھیں۔ تیرے جیسی اچھی ملازمہ ہمیں کوئی اور نہ ملے گی۔ انہوں نے میری قدر جانی اور میں نے ان کی۔ یہاں تک کہ میری بیٹی اسکول جانے کے لائق ہوگئی۔ بیگم نے اسے ایک نزدیکی اسکول میں داخل کرا دیا تاکہ یہ پڑھ لکھ جائے تو میرا سہارا بن سکے۔ میں خوش تھی کہ میری بچی تعلیم حاصل کررہی ہے۔ جی جان سے ان لوگوں کے کام کرتی تھی کہ انہی مہربانوں کی بدولت میری مہر بانو علم سے فیضیاب ہورہی تھی۔
جب مہر بانو باشعور ہوگئی تو وہ مجھ سے اپنے باپ کے بارے میں سوالات کرنے لگی۔ پوچھتی تھی۔ اماں! میرا باپ کون ہے؟ کہاں رہتا ہے اور ہم ان کے پاس کیوں نہیں رہتے؟ میں اسے یہی کہتی کہ جب تم چھ ماہ کی تھیں، تیرا باپ فوت ہوگیا۔ تمہیں پالنے والا کوئی نہ رہا تو میں مجبوراً شہر آگئی تاکہ تیری پرورش کے لیے کسی گھر میں کام کرسکوں اور تو پڑھ لکھ سکے۔ جب تک نادان تھی، میری بات پر یقین کیا لیکن جب وہ آٹھویں جماعت میں پہنچی تو پھر باپ کے بارے میں سوالات شروع کردیئے۔ میری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ یہ اچانک اسے باپ کی کیوں کھوج لگ گئی ہے۔ اس وقت پتا چلا جب بات بہت آگے چلی گئی۔
ہوا یہ کہ امتیاز کی دوسری بیوی ایک دن اسے چھوڑ کر چلی گئی تو اسے بیٹی اور میری یاد آئی۔ وہ میرے والد کے پاس گیا لیکن وہ وفات پا چکے تھے۔ سوتیلی ماں نے اسے بتایا کہ میں بچی لے کر بتائے بغیر شہر چلی گئی اور حوالہ دیا کہ شہر میں طیبہ نامی ایک رشتے کی خالہ رہتی ہے۔ سنا ہے کہ اس کے پاس گئی ہے۔ شاید خالہ طیبہ کے گھر والوں میں سے کسی کے منہ سے یہ بات نکلی تھی اور ہمارے گھر تک پہنچی۔ بہرحال امتیاز شہر آگیا۔ وہ شہر میں رہنے لگا اور مہر بانو سے متعلق معلومات حاصل کرنے میں لگ گیا۔ اس نے کھوج لگا لیا کہ میں کس بنگلے میں کام کرتی ہوں تاہم اس نے بنگلے پر آکر مجھ سے رابطہ کرنے کی جرأت نہیں کی شاید بنگلہ مکینوں سے ڈرتا تھا تاہم جب اسے علم ہوا کہ مہر بانو اسکول جاتی ہے، وہ اسکول پہنچ گیا اور مہر بانو کی ٹیچر سے اس کے بارے میں پوچھا۔ اس نے بتایا کہ ایک لڑکی اس نام کی آٹھویں میں پڑھتی ہے۔ نہیں معلوم وہی آپ کی بیٹی ہے یا کوئی اور ہے۔ تبھی اس نے بیٹی سے ملاقات کی خواہش کی۔ ٹیچر نے مہر بانو سے پوچھا۔ کیا وہ اپنے والد سے ملنا چاہتی ہے۔ نانا نانی کے نام بھی بتائے تو بچی نے ہامی بھرلی۔ تمہاری والدہ مجھ سے لڑ کر اپنے والد کے گھر چلی گئی اور وہاں سے تمہیں لے کر شہر آگئی تھی۔ مجھے خالہ طیبہ نے سب کچھ بتا دیا ہے، بے شک تم ان سے پوچھ سکتی ہو کہ میں تمہارا باپ ہوں یا نہیں۔
بچی کے دل پر امتیاز کی باتوں کا اثر ہوا۔ اس نے کہا کہ میں تمہیں اور تمہاری ماں کو واپس لے جانے آیا ہوں۔ مہر بانو نے کہا کہ ماں تمہارے ساتھ نہیں جائیں گی کیونکہ وہ کہتی ہیں کہ تمہارا باپ امتیاز مرچکا ہے اور میں بیوہ ہوں۔ تب تو وہ کبھی ہم باپ اور بیٹی کو نہیں ملنے دیں گی۔ بیٹی! میں چاہتا ہوں کہ تم میرے پاس آجائو اور عزت سے رہو۔ فی الحال اس بات کا ذکر تم اپنی ماں سے مت کرنا ورنہ وہ تمہیں اسکول سے اٹھا لیں گی۔ مہر بانو باپ کی باتوں میں آگئی اور اس نے اپنی باپ سے ملاقاتوں کو راز میں رکھا۔ جب مہر بانو کو پوری طرح اپنی طرف کرلیا تو اسے حاصل کرنے کے لیے وکیل کرلیا۔ مجھے علم ہوا تو میں نے بیٹی کو سمجھایا کہ اب تم باپ سے نہ ملنا اور فی الحال اسکول جانا بھی ترک کرنا ہوگا، کہیں ایسا نہ ہو وہ تمہیں مجھ سے چھین کر لے جائے۔
مہر بانو کسی صورت اسکول ترک کرنے پر آمادہ نہ تھی۔ جب میں نے زبردستی اسے گھر بٹھا لیا تو وہ آزردہ رہنے لگی تاہم اس نے مجھ سے وعدہ کیا کہ اگر اس کا باپ اسے لے جانے کی سعی کرے گا تو وہ انکار کردے گی اور مجھے چھوڑ کر ہرگز نہیں جائے گی۔ اس نے شکوہ کیا جبکہ اس کا باپ زندہ تھا، میں نے کیوں جھوٹ بولا کہ وہ مر چکا ہے۔ امتیاز نے بیٹی کے حصول کے لیے جب عدالت میں مقدمہ دائر کردیا تو عدالت نے فیصلہ بچی پر چھوڑ دیا کہ وہ ماں اور باپ میں سے جس کے پاس رہنا چاہے، آگاہ کرسکتی ہے کیونکہ وہ اب بڑی ہوچکی تھی۔
آخر دم تک مہر بانو مجھے یقین دلاتی رہی کہ وہ عدالت میں یہی کہے گی کہ ماں کے پاس رہنا چاہتی ہوں اور کبھی باپ کے ساتھ نہیں جائوں گی لیکن آخری وقت میں منہ پھیر لیا۔
مجھے پورا یقین تھا کہ مہر بانو کبھی امتیاز کے ساتھ جانے کا نہیں کہے گی لیکن اس روز میرا یقین خاک میں مل گیا جب فیصلے کے وقت اس نے جج سے یہ کہا کہ وہ اپنے باپ کی تحویل میں جانا چاہتی ہے کیونکہ وہ عزت کی زندگی جینا چاہتی ہے، ملازمہ کی بیٹی کی حیثیت سے نہیں جینا چاہتی۔ اس کے والد نے وعدہ کیا کہ اسکول میں داخل کرائے گا، تمام خرچہ اٹھائے گا۔ بے وفا باپ کی بیٹی بھی بے وفا نکلی اور مجھے چھوڑ کر باپ کے ساتھ چلی گئی۔ اس نے میری محبت کا خیال کیا اور نہ ان دکھوں کا جو میں نے اس کی خاطر اٹھائے تھے۔ وہ چند روز کی تھی کہ امتیاز نے مجھے گھر سے نکال دیا تھا اور اسے بھی میرے ساتھ دھتکار دیا تھا۔ آج وہی باپ اس کی نظروں میں عزت دار تھا اور میں بے توقیر ہوگئی تھی جس نے روز و شب مشقت کرکے اسے پروان چڑھایا۔ یہ میری بیٹی کا فیصلہ نہ تھا۔ مجھ پر جیسے ایک قیامت ٹوٹی تھی۔
مہر بانو نے عدالت میں کہا کہ میری ماں قابل اعتبار نہیں کیونکہ انہوں نے مجھ سے جھوٹ بولا کہ تمہارا باپ مرگیا ہے حالانکہ میرے والد زندہ ہیں۔ خالہ طیبہ اور ان کے شوہر نے بھی گواہی دی ہے کہ یہی میرے والد ہیں۔ میں ایسی ماں کے پاس کیسے رہوں جس نے مجھ سے اتنا بڑا جھوٹ بولا ہے۔ میں ان کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔
مہر بانو کا بیان کسی خنجر کی طرح میرے سینے میں گھپا تھا جس کا زخم آج بھی تڑپاتا ہے۔ کاش! وہ صحیح فیصلہ کرتی لیکن وہ ایک نادان بچی تھی، نہیں جانتی تھی کہ گائوں کی زندگی اور وہاں کی رِیت رواج کیسے ہیں۔ امتیاز نے وہی کیا جو اس نے کرنا تھا۔ چالیس ہزار کے عوض اس کا نکاح گائوں کے ایک شخص سے کردیا جو شہر میں ایک ٹھیلے پر مزدوری کرتا تھا۔ میری بیٹی اگر صحیح فیصلہ کرتی تو آج اتنی دکھی نہ ہوتی۔ وہ پڑھ لکھ جاتی اور اس کی زندگی بن جاتی۔ آج وہ برے حال میں ہے۔ گائوں کی عورتیں جب شہر آتی ہیں، مجھے اس کا احوال بتاتی ہیں، تب دل خون کے آنسو روتا ہے لیکن میں کچھ نہیں کرسکتی۔ اب اس کا مالک اس کا شوہر ہے، وہ جس حال میں چاہے اسے رکھے۔ میں خود ایک لاوارث ناتواں عورت ہوں۔ سوتیلی ماں کا مقابلہ کرسکی، نہ شوہر سے لڑ سکی اور اب داماد سے کیونکر مقابلہ کرسکتی ہوں۔ سوائے دعا کے اور کچھ نہیں کرسکتی کہ مہر بانو کو اللہ سکھ دے دے۔
سوچتی ہوں اولاد کا کام اگر بے وفائی کرنا ہے تو مائوں کا کام دعا دینا ہے۔ میں نے مہر بانو کو معاف کیا۔ میری نظروں میں وہ اب بھی بے قصور ہے۔ قصور تو ہماری غربت کا ہے جس نے عمر بھر ہمیں رُلایا ہے۔ آج بھی اسی گھر کی نمک خوار ہوں جنہوں نے مجھے شہر میں سرونٹ کوارٹر دیا اور آسرا بھی… میں مرتے دم تک انہی کی خدمت گزار رہوں گی۔ (ف… جام پور)