Bhabhi Hamesha Khud Rahoo | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1928
ناہید بہت خوبصورت تھی۔ وہ ہماری چچازاد تھی۔ اس کی والدہ اسے جنم دے کر اللہ کو پیاری ہوگئی تھیں۔ کوئی پرورش کرنے والا نہ رہا تو چچا جان نے امی کی جھولی میں ڈال دیا۔ کہا۔ بھابی! اب یہ تمہاری ہے، تم ہی کو اس کی پرورش کرنی ہے۔ اس کی ننھیال میں کوئی ایسی عورت نہیں جو میری ایک دن کی بچی کو اپنا لے۔
وقت گزرتا رہا۔ ناہید ہم بہن، بھائیوں کے ہمراہ پل کر جوان ہوگئی۔ امی، ابو نے ہمیں بتا دیا تھا کہ یہ تمہارے چچا کی بیٹی ہے۔ جب تک چچا زندہ رہے، اپنی بیٹی سے ملنے آتے رہے۔ افسوس وہ ناہید کو اپنے ہاتھوں سے رخصت نہ کرسکے اور وفات پا گئے۔ جنہوں نے اسے پالا پوسا، اب یہ فرض بھی ان ہی کو ادا کرنا تھا۔ ناہید کے لیے امی جان نے کافی رشتوں پر غور کیا، کوئی ان کے جی کو نہ لگا۔ کہتی تھیں۔ یتیم بچی ہے، ایسے گھر بیاہوں گی کہ بعد میں مجھے دعائیں دے، بددعا نہ دے۔
اللہ کی قدرت والد صاحب بیمار پڑ گئے تو والدہ نے ان سے مشورہ کرکے جھٹ پٹ ناہید کا نکاح اپنے بڑے بیٹے سراج کے ساتھ کردیا جبکہ سراج سراسر اس شادی کے حق میں نہ تھا۔ وہ آخری وقت تک انکار کرتا رہا مگر بیمار باپ نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ میری یتیم بھتیجی کو نہ ٹھکرائو ورنہ میں سکون سے مر نہ سکوں گا۔ بہت مجبور ہوکر سراج نے ہامی بھری۔ نکاح ہوگیا لیکن میرے والد بیٹے کی شادی کی خوشی نہ دیکھ سکے۔ ابا جی کے اس جہاں سے جاتے ہی سراج بھائی نے پر پرزے نکال لئے اور ملک سے باہر جانے کی رَٹ لگا دی جبکہ امی جان کہتی تھیں کہ رخصتی ہوجائے تو چلے جانا۔ رخصتی کا اختیار بھی بھائی جان کے پاس تھا کہ اولاد میں وہی سب سے بڑے تھے۔ بہرحال انہوں نے اپنی بات منوا لی اور ضد کرکے لندن چلے گئے۔ امی جان کو دلاسا دیا ایک سال بعد آئوں گا تو رخصتی کرلینا۔ ایک سال کیا، چار برس بیت گئے اور سراج بھائی وطن نہ لوٹے۔ پہلے کہتے تھے کہ تعلیم مکمل کرلوں۔ پھر کہا۔ اچھی جاب مل گئی ہے۔ ایسی نوکری قسمت والوں کو ملتی ہے، کچھ عرصے بعد آسکوں گا۔ امی جان پریشان تھیں کہ ایک بار آکر ناہید سے شادی کرلے تو اس کے فرض سے سبکدوش ہوجائیں۔
والدہ نے بہت خطوط لکھے، فون کرائے تب کہیں بھائی جان چند روز کے لیے آئے۔ والدہ نے زبردستی شادی کردی اور کہا کہ اب بیوی کو ساتھ لے جانا۔ بولے۔ ابھی نہیں لے جاسکتا، کچھ عرصہ لگے گا۔ یوں چند روز رہ کر واپس لندن چلے گئے۔
یونہی وقت گزرتا رہا، یہاں تک کہ پانچ برس مزید گزر گئے۔ والدہ مسلسل فون پر کہتیں کہ بیوی کو بلوا لو یا پھر خود وطن لوٹ کر آجائو۔ وہ جب حیلے بہانے کرکے تھک گئے تو کہہ دیا کہ میں ناہید کو آزاد کرنے کے لیے تیار ہوں۔ بے شک آپ اس کی دوسری جگہ شادی کردیں۔ یہ بات ناہید کے لیے ہی نہیں، ہم سب کو بہت دکھ دینے والی تھی۔ ناہید نے اس امر کو قبول نہ کیا۔ امی نے بھی کہا کہ طلاق دلوانے سے بہتر ہے یہ ہمارے گھر رہتی رہے، کبھی تو سراج لوٹ کر آئے گا۔
دو سال بعد بھائی جان دو چار دن کو آئے لیکن ناہید سے کلام نہ کیا اور والدہ سے کہا کہ اسے آزاد کرنا چاہتا ہوں، آپ کیوں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں اور اس کی زندگی خراب کررہی ہیں۔ امی نے کہا۔ تو زیادہ پڑھ لکھ کر پاگل ہوگیا ہے۔ یہ عمر بھر تیرا انتظار کرتی رہے گی مگر طلاق ہرگز نہیں لے گی۔ بھائی اپنی سی کرگئے۔ امی نے طلاق نہ ہونے دی اور ناہید انتظار کے ایک لامتناہی بھنور میں پھنس کر رہ گئی۔ ساس ہر وقت تسلیاں دیتیں مگر یہ روکھی تسلیاں کب تک اس کا دل بہلا سکتی تھیں۔ شادی کو آٹھ سال بیت چکے تھے اور اس نے ازدواجی خوشیوں کا بس انتظار ہی کیا تھا جبکہ شادی کے بعد ہر لڑکی اپنے جیون ساتھی کے ہمراہ رہنا چاہتی ہے اور اِدھر یہ حال کہ جب سے شادی ہوئی تھی، سراج بھائی کی طرف سے کبھی اس کے نام خط آیا اور نہ کبھی انہوں نے فون پر اس سے بات کی۔
جوں جوں وقت گزرتا جاتا تھا، وہ خزاں رسیدہ بیل کی طرح مرجھاتی جاتی تھی۔ اس کی آس و امید ختم ہوتی جارہی تھی۔ صبر کی انتہا ہو چلی تھی۔ ایسی شادی سے تو بن بیاہی بھلی تھی۔ وہ ہنستی مسکراتی تھی، نہ کپڑے بدلتی اور نہ ہار سنگھار کرتی۔ کس کے لیے سنورتی کہ دیکھنے والے نے تو اسے مڑ کر بھی نہ دیکھا تھا۔ وہ اب بہت دُکھی رہنے لگی تھی۔ ہم سے اس کا دُکھ دیکھا نہ جاتا تھا لیکن کیا کرسکتے تھے۔ ہم سبھی اس سے محبت کرتے تھے مگر مجبور تھے۔ اس کے مقدر کا مالک سراج تھا، وہی اس کا مقدر جگا سکتا تھا۔
دس برس گزر گئے۔ میرا چھوٹا بھائی شجاعت جوان ہوگیا۔ ناہید اس سے چھ برس بڑی تھی۔ وہ ناہید کے دُکھ کو سب سے زیادہ محسوس کرنے لگا تھا۔ امی سے کہتا کہ یہ سب آپ کا کیا دھرا ہے۔ جب بھائی جان شادی کرنا نہ چاہتے تھے تو کیوں آپ نے ناہید باجی سے ان کا نکاح کیا۔ سزا تو اس بچاری نے بھگتی ہے۔ اس سے اچھا تھا کہ کسی اور سے ان کی شادی ہوجاتی۔ بُری بھلی جیسی زندگی ہوتی، گزار لیتیں۔ اب تو سہاگن ہوکر بیوہ ایسی زندگی بسر کررہی ہیں۔ امی کیا جواب دیتیں۔ ان کے پاس اس بات کا کیا جواب تھا۔ اب اگر طلاق دلوا دیتیں تو بھی شادی کی عمر نکل چکی تھی۔ دوسری شادی کرانا بھی آسان امر نہ تھا۔
انہی دنوں شجاعت کی کمپنی نے اسے لندن بھیج دیا۔ انہوں نے اپنے طور پر ناہید بھابی کا پاسپورٹ بنوا لیا اور کسی طور ویزا بھی لگوا لیا۔ امی سے کہا کہ میں ناہید بھابی کو لندن لے جارہا ہوں، وہاں جاکر بات کرتے ہیں۔ بیوی کو ساتھ رکھ لیں یا پھر جو فیصلہ ہوگا، دیکھ لیں گے۔ امی منع کرتی رہ گئیں۔ شجاعت نے ایک نہ سنی اور ناہید بھابی کو ساتھ چلنے پر آمادہ کرلیا۔ میں نے محسوس کیا کہ لندن جانے کے خیال سے بھابی کے تن مردہ میں جیسے جان پڑ گئی تھی۔ ان کی آنکھوں میں امید کے دیئے جگمگانے لگے تھے۔ وہ شجاعت بھائی کے ہمراہ لندن چلی گئیں۔
سراج بھائی، ناہید کو شجاعت کے ہمراہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔ کہا کہ مجھے کیوں نہ بتایا، اسے بھی ساتھ لا رہے ہو۔ اگر بتا دیتا آپ منع کردیتے یا پھر گھر بدل لیتے اور میں آپ کو ڈھونڈتا رہ جاتا۔ انہوں نے بیوی کا نہایت سرد مہری سے استقبال کیا اور بتا دیا کہ وہ یہاں شادی کرچکے ہیں۔ ہدایت کی کہ میری بیوی شام کو آئے گی، اسے نہیں بتانا کہ تم میری بیوی ہو ورنہ لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ ناہید حیران پریشان ہوگئی کہ اب کیا کروں؟ شجاعت بھی اسے سراج بھائی کے پاس چھوڑ کر ٹریننگ پر چلے گئے۔ سراج کی سرد مہری کو ناہید نے برداشت کرلیا مگر جب شام کو اس کی گوری بیوی آئی تو اس نے خوش اخلاقی سے اپنے گھر پاکستان سے آئی اس مہمان کا استقبال کیا۔ پوچھا کہ یہ کون ہے؟ سراج نے کہا۔ میری بھابی ہے، ہم سے ملنے آئی ہے۔ عنقریب واپس وطن چلی جائے گی۔
ناہید سے علیحدگی میں کہا کہ اگر مجھے برباد کرنا چاہتی ہو تو زبان کھولنا ورنہ خاموش رہنا۔ تم نے اس عورت کو کچھ بتایا تو میں قانون کی گرفت میں آجائوں گا اور یہ بدیسی لوگ مجھے ہرگز معاف نہ کریں گے۔ میری دو بیٹیاں ہیں جو ہاسٹل میں دوسرے شہر میں رہتی ہیں، وہ بھی مجھ سے بدظن ہوجائیں گی۔ وہ تو زبان بندی کا حکم دے کر چلے گئے۔ ان کے گھر ایک علیحدہ کمرے میں ناہید نے تین ماہ کا یہ عرصہ تڑپ تڑپ کر گزارہ۔ جب شجاعت بھائی کی ٹریننگ ختم ہوئی تو وہ سراج بھائی کے گھر گئے تاکہ حالات معلوم کریں۔ تب ناہید بھابی نے ان سے منت کی کہ شجاعت! خدا کے لیے مجھے واپس پاکستان لے چلو۔ یہاں سسکا سسکا کر مت مارو۔ اس سے اچھا ہے اپنوں میں لوٹ جائوں جہاں میرے آنسو پونچھنے والے تو ہیں۔
شجاعت نے بڑے بھائی سے پوچھا کہ اب کیا ارادہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ اماں طلاق نہیں چاہتیں مگر میں طلاق دینا چاہتا ہوں۔ تو پھر دے دو۔ شجاعت بھائی نے کہا۔ ظاہر ہے کہ تمہاری زندگی میں جس کی گنجائش نہیں ہے، تم کیوں اسے پابند رکھو اور کس لیے مزید اس کو سزا دو۔ انہوں نے شجاعت بھائی کے سامنے طلاق دے دی اور کہا کہ میری اجازت ہے ناہید جس سے چاہے شادی کرسکتی ہے۔ شجاعت بھائی بولے۔ اب اس معاملے سے تمہارا کوئی واسطہ نہیں کہ وہ کسی سے شادی کرے یا نہ کرے، ہمارا تعلق بھی خود سے ختم جانو۔ وہ بھابی کو واپس لے آئے جو اب ہماری بھابی نہ رہی تھیں۔ طلاق کے کاغذات بھی موصول ہوگئے۔ والدہ غش کھانے لگیں۔ شجاعت بھائی نے سنبھالا۔ انہوں نے سمجھایا کہ یہ ناہید کے حق میں اچھا ہوا ہے۔ اللہ کارساز ہے۔ آپ کی زندگی کا بھروسا نہیں، آپ کے ہوتے شائد اس کی قسمت کھل جائے۔
شجاعت بھائی کی شادی کا مرحلہ درپیش ہوا تو امی لڑکی تلاش کرنے نکلیں۔ کوئی لڑکی پسند نہ آئی۔ ایک روز ہمت کرکے میں نے کہہ دیا۔ امی! آپ نے ناہید کو پالا ہے اور بیٹی سے بڑھ کر یہ آپ کو پیاری ہیں، ہمیشہ بہو بنائے رکھنا چاہتی تھیں تو اب بھی بہو بنا لیں۔ سراج نے طلاق دے دی ہے۔ شجاعت سے نکاح کرا دیں۔ آپ کو ناہید کی جدائی کا دکھ نہ سہنا پڑے گا اور اسے بھی دربدر نہ ہونے پڑے گا، ہمیشہ آپ کے پاس رہے گی۔ آج بھی آپ کا خیال رکھتی ہے، ایک بیٹی کی طرح آپ کی خدمت کرتی ہے، کل بھی کرے گی۔ جب تک آپ کی زندگی ہے، یہ خدمت کرتی رہے گی۔
امی مجھے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگیں پھر بڑی مشکل سے اتنا بول پائیں۔ لیکن شجاعت کب مانے گا؟ یہ مجھ پر چھوڑ دیں امی… ناہید کا کوئی نہیں، ہم ہی ان کے سب کچھ ہیں، ہم نے ہی ان کے بارے میں سوچنا ہے۔ میں نے شجاعت سے بات کی۔ اس کا کہنا تھا۔ بھابی کو بڑی بہن کی نگاہ سے دیکھا تھا، اب کیسے شریک حیات بنا لوں، پھر بھائی کیا سوچیں گے۔ میں نے کہا۔ بڑے بھائی کی سوچوں کو تو تم ڈالو بھاڑ میں، ناہید بھابی کو راضی کرلوں گی، بس تم راضی ہوجائو۔ بالآخر میں نے اس مشن میں کامیابی حاصل کرلی۔ شجاعت کو منا لیا۔ امی کو منایا اور سب سے بڑھ کر ناہید بھابی کو یوں شجاعت سے نکاح ہوا۔ وہ پھر سے ہماری بھابی بن گئیں، تاہم کچھ عرصے خاموش خاموش رہیں۔ آخرکار وقت مرہم ثابت ہوا اور انہوں نے نئی زندگی کے نئے تقاضوں کو تسلیم کرلیا۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد کی صورت میں ایک بیٹا، پھر ایک بیٹی دی۔ ماں نے اولاد کی خوشی دیکھ لی اور شجاعت نے بھی بھابی کو خوشیاں دے دیں۔ صرف ایک دُکھ ضرور ہے کہ اب سراج بھائی ہمارے گھر نہیں آتے۔ وہ آبھی نہیں سکتے۔ کس منہ سے آئیں اور والدہ بھی اب حیات نہیں ہیں۔
بڑے بھائی سے ناتا ٹوٹ چکا ہے لیکن ہمیں پروا نہیں ہے کیونکہ ناہید کی خزاں بھری زندگی میں اطمینان و سکون کے پھول کھِل گئے ہیں۔ اللہ کرے وہ ہمیشہ خوش رہیں کہ جنہوں نے اپنی حقیقی ماں کو دیکھا اور نہ باپ کی محبت زیادہ عرصے مل پائی۔ میں جب بھی اپنے گھر سے ان کے گھر جاتی ہوں، لگتا ہے وہ میری بھابی نہیں، میری ماں ہیں کیونکہ انہی کے دم سے ہمارا میکہ آباد ہے۔
(ک… حیدرآباد)