Bhabhi Ne Phelaya Fasad| Teen Auratien Teen Kahaniyan

3105
میری منگنی بھائی کے برادرنسبتی سے ہوئی تھی۔ صبیحہ کے والدین کی شرط تھی کہ اپنی بیٹی کا رشتہ دو گے تب ہم اپنی لڑکی کا رشتہ دیں گے۔
میرا ایک ہی بھائی تھا جو والدین کو بے حد پیارا تھا۔ اس کی خوشی کے لئے وہ سب کچھ کرسکتے تھے۔ دراصل جواد کو اپنی دور کی اس کزن صبیحہ سے محبت ہوگئی تھی۔ صبیحہ اور جواد بھائی ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے۔ شروع میں رشتہ داری کی وجہ سے سلام دعا رہی، پھر یہ سلام دعا محبت میں بدل گئی، وہ ایک دوسرے پر مر مٹے۔
امی، ابو رشتہ لینے گئے تو صبیحہ کے والدین نے شرط رکھ دی کہ ہمارے لڑکے شاہ رخ کے لئے آپ کو مناہل کا رشتہ دینا ہوگا۔ جب میں نے یہ سنا تو دل بیٹھ گیا کیونکہ بدلے کی شادیوں میں عموماً ایسا ہوتا ہے کہ ایک کا گھر نہ بسے تو دوسرے کا بھی اجڑ جاتا ہے اور بھائی تو تھے ہی تنک مزاج…! بہرحال والدین کو جواد بھائی کی خوشی عزیز تھی لہٰذا انہوں نے شرط مان لی۔ یوں میری منگنی شاہ رخ سے ہوگئی۔
اپنی منگنی کے بعد میں صبیحہ کا بہت زیادہ خیال رکھنے لگی، کیونکہ وہ اب میری بھابی بن چکی تھی۔ ان کا ہر کام خوشی سے کرتی تاکہ بات کا بتنگڑ نہ بنے کہ میرا مستقبل دائو پر لگ جائے۔ امی کو بھی سمجھاتی تھی کہ بہو کو خوش رکھا کریں کیونکہ میرا مستقبل ان کے گھرانے سے وابستہ ہوگیا ہے۔
امی اس بات کو سمجھتی تھیں، لیکن جواد بھائی نے دوراندیشی سے کام نہ لیا۔ وہ اب ذرا ذرا سی بات پر صبیحہ سے الجھ جاتے، شاید شادی سے قبل عشق نے ان کی آنکھوں پر جو پٹی باندھ دی تھی، وہ اب اتر چکی تھی۔ انہیں بیوی میں سو عیب نظر آنے لگے تھے۔ مثلاً بھائی بہت صبح بیدار ہونے کے عادی تھے کیونکہ آفس وقت پر پہنچنا ہوتا تھا اور ان کا آفس گھر سے بہت دور تھا، جبکہ صبیحہ بھابی دس گیارہ بجے سو کر اٹھتی تھیں۔ بھائی جان کو ان کی یہ عادت کھلنے لگی۔
بھابی کو کھانا پکانے میں دلچسپی نہ تھی۔ انہیں تو انڈا ابالنا اور چائے بنانا بھی نہیں آتا تھا جبکہ جواد بہت خوش خوراک اور مزیدار کھانوں کے شوقین تھے۔ والدہ کوشش کرتیں کہ بہو اور بیٹے میں ایسی باتوں پر جھگڑے نہ ہوں مگر جواد کافی تنک مزاج ہوگئے تھے۔ ماں کو ہمہ وقت گھریلو کام کاج میں ڈوبا دیکھتے تو چاہتے تھے کہ صبیحہ بھی ان کی ماں کا ہاتھ بٹائے اور ان کے آرام کا خیال رکھے، تاہم فی زمانہ اکثر بہوئیں ایسی نہیں ہوتیں۔ وہ سسرال آتے ہی پائوں پسار کر بستر پر پڑ جاتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ تینوں وقت کا کھانا بھی ان کے ہاتھ میں دیا جائے۔
ان دنوں میں بی۔اے کے فائنل ایئر میں تھی اور سالانہ امتحان کے بعد شاہ رخ سے شادی ہونا قرار پائی تھی۔
ایک سال کے عرصے میں جانے کیا سے کیا ہونے والا تھا کیونکہ جواد بھائی کی شادی کے دو ماہ بعد ہی جب میاں، بیوی میں معمولی باتوں پر چخ چخ رہنے لگی تو نتیجہ یہ نکلا کہ دو بار بھابی روٹھ کر میکے چلی گئیں۔ امی ابو بڑی مشکل سے انہیں منا کر لائے۔
اس امر میں سب سے نازک مسئلہ یہ تھا کہ میری منگنی شاہ رخ سے کٹھائی میں پڑگئی، جبکہ شاہ رخ نے مجھے دیکھتے ہی پسند کرلیا تھا اور انہی کے اصرار پر یہ وٹے سٹے کا رشتہ ہوا تھا۔
صبیحہ بھابی نے اپنے گھر والوں کو ہم سے بدظن کرنا شروع کیا تو ان کی والدہ نے میری اور شاہ رخ کی منگنی توڑنے کا عندیہ دے دیا جس پر میرے منگیتر پریشان ہوکر مجھ سے ملنے کالج آگئے۔ شاہ رخ نے کہا کہ میں اپنی بہن کا مزاج جانتا ہوں، وہ بڑی چڑچڑی اور فسادن لڑکی ہے، ہماری منگنی ختم کرا کر دم لے گی۔ تم خدا کے لئے صبیحہ کی کسی بات کو دل پر مت لینا اور مجھ سے ناتا ختم مت کرنا۔
آنٹی بیٹی اور داماد کے جھگڑوں سے گھبرا گئیں اور امی جان سے کہا کہ ابھی سے آپ لوگوں کا یہ عالم ہے تو آگے کیا ہوگا۔ صبیحہ کو آپ کے گھر کی بہو بنا کر پچھتا رہی ہوں، اب مناہل کو نہیں لوں گی، آپ اس منگنی کو ختم سمجھیں۔
یہ بات اوروں کے نزدیک اہم نہ سہی، میرے نزدیک بے حد اہم تھی۔ منگنی ٹوٹ جانے کے خوف سے میں اپنے منگیتر سے ملنے لگی۔ انہی دنوں ہماری چاہت بڑھی اور پھر یہ چاہت عذاب بن گئی۔ میں اور شاہ رخ کسی طور ایک دوسرے سے الگ ہونا نہیں چاہتے تھے، جبکہ ہمیں جانے کس ناکردہ گناہ کی سزا میں ایک ہونے سے قبل ہی الگ کردیا گیا
تھا۔
جب ہمارے بزرگوں نے باقاعدہ ہماری منگنی ختم کرنے کا اعلان کیا تو ہمارے دلوں پر قیامت بیت گئی۔ شاہ رخ نے کہا کہ ہمت کرو اور اپنی والدہ کو صاف صاف بتا دو، اگر انہوں نے ہم کو جدا کیا تو ہم کورٹ میرج کرلیں گے۔ اس کے اکسانے پر میں نے شرم و حیا کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی ماں کے سامنے زبان کھولی اور انہیں بتا دیا کہ آپ میری شادی میرے منگیتر سے کریں گی، ایسا نہ کیا تو میں شاہ رخ سے سول میرج کرلوں گی۔ یہ بات جواد بھائی اور ابو کو بھی بتا دیجئے کیونکہ جب میں اس رشتے پر راضی نہ تھی، آپ لوگوں نے اپنے بیٹے کی خوشی کی خاطر زبردستی کی اور اب جبکہ منگنی ہوگئی ہے تو اسے توڑ دیا ہے، آخر کیوں…؟ آپ نے مجھے کھلونا جان لیا ہے۔
والدہ نے سمجھایا۔ بیٹی! منگنی ہم نے نہیں توڑی، شاہ رخ کے والدین نے توڑی ہے۔ اپنے والدین کی مجبوری کو ان کا دوش تصور کرتے ہوئے میں زیادہ دیدہ دلیری کے ساتھ شاہ رخ سے ملنے لگی اور یہ نہیں سوچا کہ قصور میرے والدین کا نہیں ہے۔
میں عاقبت نااندیش کالج کے بعد روز اس کے ساتھ گاڑی میں گھومنے لگی۔ وہ بھی قسمیں کھا کر کہتا۔ مناہل! تم میری ہو، اب گھر والوں کو منانا میرا کام ہے، نہیں مانیں گے پھر بھی ہم شادی کرلیں گے۔ تمہارے بھائی اور میری بہن کی حماقتوں کی سزا ہمیں کیوں ملے؟ بزرگوں نے ہماری منگنی کی تھی، ہم نے خود کو تو اس بندھن میں نہیں باندھا تھا۔
ایک سال تک میں اپنے منگیتر سے ملتی رہی لیکن جب سالانہ امتحان کے بعد کالج جانا موقوف ہوا تو گھر سے باہر نکلنے پر پابندی لگ گئی۔ اب میرا شاہ رخ سے ملنا محال ہوا۔ یہ حقیقت ہے کہ جتنی پابندی ہو، انسان اتنا ہی زیادہ مضطرب اور بے چین ہوتا ہے اور بغاوت کے جذبات بھڑکتے ہیں۔ ہم دونوں کا بھی یہی حال ہوا۔ جب ملاقات کے راستے بند ہوگئے تو شاہ رخ فون پر اصرار کرنے لگے کہ میں نے بڑے بھائی اور بھابی کو منا لیا ہے، تم کسی طرح موقع پا کر آجائو تو وہ ہمارا نکاح کرا دیں گے۔ روز ہی وہ یہ بات کہتا۔ آخر میرا دل موم ہوگیا اور ایک روز ہمت کرکے میں گھر سے نکل پڑی۔
شاہ رخ نے ہدایت کی تھی کہ پہلے میرے دوست کے گھر آنا پھر میں تم کو خود اپنے بڑے بھائی کے گھر لے جائوں گا۔ ان کے بڑے بھائی شہزاد والدین سے الگ رہتے تھے کیونکہ ان کی بیوی کی ساس سے نہیں بنتی تھی۔ شاہ رخ کے اس دوست کا نام وارث تھا اور اسی کی گاڑی پر شاہ رخ مجھے کالج سے آکر سیر کرانے لے جاتے تھے۔ انہوں نے ایک بار وارث کا گھر بھی دکھایا تھا جو گرلز کالج سے قریب تھا۔ وارث گھر میں اکیلا رہتا تھا اور اس کے والدین گائوں میں رہتے تھے۔ اتنی صبح مجھے دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔ میں نے آنے کا مقصد بتایا تو گھبرا گیا۔ کہنے لگا۔ مناہل بی بی! گائوں سے امی، ابو آئے ہوئے ہیں ، ایسا کریں کہ میری گاڑی میں بیٹھیں، آپ کو شاہ رخ کے بڑے بھائی کے گھر لئے چلتا ہوں۔ اس نے گھر کے اندر آنے نہ دیا بلکہ گیٹ کھول کر گاڑی باہر لایا اور مجھے بٹھا کر شاہ رخ کے بھائی کے گھر پر چھوڑ کر چلا گیا۔
جب شاہ رخ کی بھابی نے دروازہ کھولا تو وہ مجھے گھر کے اندر لے گئیں لیکن نہایت سرد مہری سے بات کی۔ میں نے ان کو بتایا کہ میں شاہ رخ کے بلانے پر آئی ہوں، آپ اسے اطلاع کردیں گی تو وہ آجائیں گے۔
بھابی نے اپنے خاوند کو بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کو آفس جانے کو تاخیر ہورہی ہے، واپس آکر بات کریں گے۔ یہ کہہ کر وہ بغیر مجھ سے کلام کئے چلے گئے۔
بھابی نے شاہ رخ کو فون کیا اور مجھ سے بات کرائی۔ اس نے کہا کہ تم انتظار کرو، میں آرہا ہوں لیکن شام ہوگئی، وہ نہ آیا۔
شام سے رات ہوگئی لیکن شاہ رخ نہ پہنچا۔ رات کو اس کے بڑے بھائی آگئے۔ بیوی سے کہا۔ یہ شاہ رخ عجب احمق لڑکا ہے، لڑکی کو ہمارے گھر بلانے کی کیا ضرورت تھی۔ میں امی، ابو کو فون کرتا ہوں کہ یہ کیا معاملہ ہے؟
شہزاد بھائی نے اپنے والدین کو فون کیا کہ صبیحہ کی نند صبح سے ہمارے گھر آئی ہوئی ہے۔ کہتی ہے کہ شاہ رخ نے اسے بلایا ہے، شاہ رخ کہاں ہے اور اب آپ لوگ بتایئے مناہل کا کیا کریں؟ والدین نے جواب دیا کہ شاہ رخ نہیں آئے گا البتہ ہم آرہے ہیں۔ ایک گھنٹے بعد شاہ رخ کے والدین آگئے۔ کہنے لگے۔ بیٹی! چلو تم کو تمہارے ماں، باپ کے پاس چھوڑ آتے ہیں۔ میں نے جواب دیا۔ آپ شاہ رخ کو بلایئے، میں پہلے ان سے ملوں گی اور ان

ملے بغیر نہیں جائوں گی۔
جب انہوں نے دیکھا کہ میں کسی صورت واپس جانے کو راضی نہیں تو انہوں نے میرے والدین کو فون کردیا کہ آپ کی بچی اپنی مرضی سے ہمارے گھر آئی ہے، آپ لوگ آکر اسے لے جائیے۔
یہ سن کر میں خوف زدہ ہوگئی۔ ظاہر ہے میں نے اپنے والدین کی سبکی کرائی تھی، اب وہ مجھے بخشنے والے نہیں تھے، جبکہ والدہ نے منع کیا تھا کہ وہاں نہیں جانا، وہ ہماری سمدھی ہیں، ساری عمر طعنے دے کر ہمارے کلیجے چھلنی کر ڈالیں گے۔ لڑکیوں کے بیاہ ایسے نہیں ہوتے، رخصتی کے وقت باپ کا ہاتھ سر پر نہ ہو تو بیٹی خاک ہوجاتی ہے۔ امی کے بول یاد آنے لگے۔
میں سمجھ رہی تھی کہ امی، ابو فوراً مجھے لینے آجائیں گے مگر والد صاحب نے خلاف توقع ایسا جواب دیا کہ مجھے یقین نہ آیا۔ انہوں نے شاہ رخ کے والد سے کہا۔ اسے اپنے پاس ہی رکھئے، یہ ہماری اجازت کے بغیر سول میرج کرنا چاہتی ہے اور اپنی مرضی سے آئی ہے، ہم کس منہ سے اسے واپس لے جائیں، کل پھر اسی طرح گھر سے غائب ہوجائے گی۔ بھابی کے والدین مجھے شہزاد بھائی کے گھر چھوڑ کر چلے گئے۔ اگلے روز اتوار تھا اور شہزاد بھائی کی چھٹی تھی۔ وہ گھر پر تھے اور میری وجہ سے کافی پریشان تھے۔ بیوی سے کہا۔ ہم اس کا کیا کریں؟ بیوی نے جواب دیا۔ شاہ رخ کو ڈھونڈو اور پوچھو کہ اس بچاری کو کیوں بلایا ہے، خود کہاں غائب ہے۔ شہزاد بھائی اپنے والدین کے گھر گئے۔ وہاں شاہ رخ منہ لٹکائے بیٹھا تھا اور ماں اس کو لعن طعن کررہی تھی۔ شہزاد بھائی نے کہا۔ اس کو ہرگز ہم کورٹ میرج کی اجازت نہیں دے سکتے، یہ احمق ہے، ہماری ساکھ اور جواد کے گھر والوں کی عزت خاک میں ملانا چاہتا ہے، کیا شادیاں ایسے ہوتی ہیں؟
امی! منگنی آپ لوگوں نے اپنی مرضی سے کی تھی۔ اس وقت کیوں نہ سوچا تھا، اب اپنی اور ان بچاروں کی عزت بھی آپ لوگوں نے دائو پر لگا رکھی ہے۔ بہت ماں کو سمجھایا ناکام ہوگئے۔
واپس آکر مجھ سے کہا۔ ’’مناہل بی بی! اب تم میرا کہنا مان لو اور میرے ساتھ اپنے والدین کے گھر چلو، میرا وعدہ ہے کہ اپنے والدین کو منا لوں گا اور ہم تم کو باقاعدہ بینڈ باجے کے ساتھ بیاہ کر لائیں گے۔ اس وقت شاہ رخ کو ابو نے گھر میں قید کررکھا ہے، وہ نہیں آسکتا اور تم کب تک ہمارے گھر اس طرح رہ سکتی ہو؟ ان کی بیوی نے بھی سمجھایا غرض کوئی چارہ نہ پا کر میں ان کے ساتھ آگئی۔ گھر لوٹ کر نہ آتی تو کیا کرتی۔
شہزاد بھائی اور بھابی نے امی، ابو کو بھی کافی سمجھایا کہ اس کے ساتھ سختی نہ کرنا اور کچھ مت کہنا۔ میں نے ذمہ لیا ہے اور جو وعدہ کیا ہے، وہ پورا کروں گا، بس ذرا سی مہلت چاہئے۔
والدین کی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں، کیا کہتے۔ مجھے قبول کیا اور ماں، باپ ہونے کا بھرم رکھا۔
اس دن کے بعد ماں، باپ دونوں نے نفرت سے منہ پھیر لیا۔ ماں تو بددعائیں بھی دیتیں کہ پیدا ہوتے ہی مر جاتی تو اچھا تھا، ہم کو بے عزت کرایا۔ والدین کے ہوتے خودسری کرنے والی بیٹیوں کا یہی انجام ہوتا ہے کہ دنیا ان کو قبول نہیں کرتی اور آخرت میں بھی نافرمان اولاد کی خواری لکھی جاتی ہے۔
اپنا کیا تھا کسی سے کیا فریاد کرتی۔ خاموشی سے ہر ایک کی باتیں سنتی تھی۔ مجھے ہر دم اداس دیکھ کر اب جواد بھائی کو بھی احساس ہوتا کہ یہ انہی کا کیا دھرا ہے۔ وہ بیوی کو خوش رکھتے تو کیوں میری منگنی ٹوٹتی۔ خدا جانے کیونکر محلے والوں کو علم ہوگیا کہ میں اپنے منگیتر سے کورٹ میرج کرنے گھر سے گئی تھی، لیکن اس کے والدین نے منہ نہ لگایا تبھی واپس آگئی۔
یہ بات اور میرے حق میں زہرقاتل ثابت ہوگئی۔ ہماری طرف انگلیاں اٹھنے لگیں، مگر صبیحہ بھابی کو کسی بات کا احساس نہ تھا۔ ایک روز پڑوس میں شادی تھی، امی کے منع کرنے کے باوجود وہ وہاں چلی گئیں۔ محلے بھر کی خواتین آئی ہوئی تھیں، انہوں نے بھابی کو منہ نہ لگایا اور طرح طرح کی باتیں کرتی رہیں۔ اس روز بھابی کو احساس ہوا کہ سسرال کی عزت اپنی عزت ہوتی ہے۔ شوہر اور اس کے گھر والوں کی عزت سے ہی کسی عورت کی قدرومنزلت بنتی ہے۔ جب انہوں نے مجھے آوارہ اور بدچلن لڑکی کہا تو بھابی ضبط نہ کرسکیں، وہ گھر آگئیں، آتے ہی مجھے گلے لگایا اور رونے لگیں۔ کہا۔ مناہل! مجھے معاف کردو، تم میری چھوٹی بہن جیسی ہو۔ آج لوگوں کے منہ سے گھٹیا القاب سن کر میرا خون کھول رہا تھا، میں تمہاری اور شاہ رخ
خوشیوں کو تباہ کرنے کی ذمہ دار ہوں۔ میں اگر امی، ابو سے تمہاری اور تمہاری والدہ کی جھوٹی شکایتیں نہ کرتی تو تمہاری منگنی شاہ رخ سے نہ ٹوٹتی۔ اب میں ہی غلط فہیموں کو دور کروں گی، تم ضرور میری بھابی بنو گی۔ ان کی باتیں سن کر میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
میں نے ہمیشہ صبیحہ بھابی کا خیال رکھا تھا، ان کی عزت کی تھی اور بھاگ بھاگ کر ان کے کام کرتی تھی، کبھی انہیں دکھ نہیں دیا تھا، ہمیشہ آرام اور راحت دی جبکہ مجھے انہوں نے خوار کیا تھا۔
آج ان کو احساس ہوا تو نادم تھیں۔ اگلے روز وہ اپنے میکے گئیں اور تمام احوال اپنے والدین کو بتایا۔ ان کی منت کی کہ ٹوٹے ہوئے رشتے کو پھر سے جوڑ لیں تاکہ وہ بھی عمر بھر سکھ اور سکون سے جی سکیں۔
بیٹی کے کہنے پر شاہ رخ کے والدین راضی ہوگئے کیونکہ انہی کی وجہ سے وہ بدظن ہوئے تھے۔ یوں بھابی کی امی ہمارے گھر دوبارہ رشتہ جوڑنے آگئیں۔ انہوں نے امی، ابو سے معافی طلب کی اور اعتراف کیا کہ آپ جیسے لوگ کبھی نہیں مل سکتے۔ ہم نے آپ کی بیٹی کا رشتہ لینے سے انکار کیا، تب بھی آپ نے صبیحہ سے حسن سلوک میں کمی نہیں کی۔ چاہتے تو ہماری لڑکی کو بدلے میں طلاق بھی دلوا سکتے تھے۔
میری شادی شاہ رخ سے ہوگئی مگر یہ کورٹ میرج نہیں تھی۔ میں اپنے والدین کی دعائوں اور باقاعدہ برات اور بینڈ باجوں سے رخصت ہوکر سسرال آئی۔ آج جواد بھائی اور بھابی اپنے گھر خوش ہیں اور میں شاہ رخ کے ساتھ اپنے گھر میں خوش اور آباد ہوں۔ میں نے ساس، سسر کی خدمت اور قدرومنزلت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ وہ بھی مجھے ایک بیٹی کی طرح چاہتے ہیں اور میری قدر کرتے ہیں۔ کہتے ہیں اگر ہم مناہل کو بہو نہ بناتے تو بڑی غلطی کرتے۔ اچھی فطرت کے لوگ ہر جگہ قدر پاتے ہیں۔
(م… حیدرآباد)