Do Bhai Aik Naseehat | Kids Corner Story

711
ایک جاپانی شہر میں دو احمق بھائی لن چاؤ اور چن شاؤ رہتے تھے۔ لن چاؤ کوجوجسٹو میں دلچسپی تھی جبکہ چن شاؤ کو اِدھر اُدھر گھومنے کےسوا کچھ نہیں سوجھتا تھا۔ لن چاؤ کوایک بار اس کے جوجسٹو کے استاد نشی مورا نے نوڈلز لینے کیلئے بھیجا، لن چاؤ نوڈلز لینے روانہ ہوا۔ راستے میں لن چاؤ کو نیڈو نامی ایک مسخرہ مل گیا۔نیڈو کے کہنے پر لن چاؤ اس کے لئے سوجی لینے چل پڑا اور اسے یاد ہی نہ رہا کہ وہ اپنے استاد کیلئے نوڈلز لینے نکلا تھا۔ لن چاؤ کو چلتے چلتے پہلی دکان جو ملی وہ ایک سنار کی تھی، اس نے آئو دیکھا نہ تائو، دکاندار سے تقاضہ کرنے لگا کہ دوکلو سوجی تول کر دے دو۔ لن چاؤ کے معصوم چہرے کو دیکھ کر دکاندار نے اسے پیار سے سمجھایا کہ یہ سونے کی دکان ہے، وہ کسی کریانہ اسٹور پہ جا کر سوجی کا پتہ کرے، یوں کافی دیر بعد لن چائو کو سمجھ آئی لیکن یہاں سے نکل کر ایک میڈیکل اسٹور میں جا گھسا۔ اتفاق سے میڈیکل اسٹور میں چن شاؤ بھی موجود تھا، لن چاؤ نے اپنے بھائی سے پوچھا، ’’تم یہاں کس لئے آئے ہو؟‘‘ چن شاؤ حماقت آمیز سادگی سے گویا ہوا ’’میں یہاں آنٹی لی شن کیلئے سرخ جارجٹ خریدنے آیا ہوں مگر تم یہاں کس مقصد کے تحت آئے ہو؟‘‘ جواب میں لن چاؤ ٹھنڈی سانس بھر کر بولا، ’’میں یہاں سوجی کا پتہ کرنے آیا تھا۔‘‘ چن شاؤ الجھن زدہ لہجے میں بولا، ’’سوجی باجی کی تو چھ ماہ پہلے شادی ہو چکی ہے، وہ تو اب ٹوکیو میں رہتی ہیں۔‘‘
لن چاؤ ماتھا پیٹتے ہوئے بولا ، ’’بھئی تم تو نرے احمق ہو۔‘‘ چن شاؤ، لن چاؤ کا گریبان پکڑ کر چیخا۔ ’’تم نے مجھے بیوقوف بولا؟ تم نے؟ خبردار جو مجھے احمق سمجھا۔‘‘ اب دونوں بھائی لڑنے لگے اور ان میں ہاتھا پائی شروع ہوگئی، دکاندار نے دیکھا تو دونوں کو دکان سے نکال باہر کیا، اور بولا، ’’میری دکان میں احمق اور جھگڑالو بچوں کے لیے جگہ نہیں۔‘‘
دونوں مرے مرے قدموں سے گھر واپس لوٹے۔ آنٹی لی شن نے جب چن شاؤ کو خالی ہاتھ آتے دیکھا تو محلے میں ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ مزید ڈانٹ سے بچنے کے لیے دونوں بھائی گھر سے اسکول کی جانب چل پڑے۔
استاد نے دونوں کی یہ حالت دیکھی تو وجہ دریافت کی، ساری صورتحال سمجھنے کے بعد استاد نشی مورا نے لن چاؤ سےکہا، ’’تمہاری جو جسٹو کی صلاحیت میں کامل مہارت تب ہی سود مند ہے جب تم دو چیزوں کو اپنالو، پہلی چیز تو یہ ہےکہ بیوقوفی کےخول سے نکل کر عقلمندی کا گر سیکھو اور دوسری چیز یہ کہ بروقت ذہانت اور سمجھداری کا مظاہرہ کرو، عقل اور صلاحیت ہی سے سب کے دل جیتے جاسکتے ہیں۔‘‘ لن چاؤ کے استاد کی ہدایت و نصیحت سے چن شاؤ بھی متاثر ہوا اوردونوں بھائیوں نے جو جسٹو کا ہنر سیکھنے کے ساتھ عقل و ذہانت کے استعمال پر بھی توجہ دینا شروع کردی۔ کچھ دن بعد لن چاؤ کے گھر نیڈو آیااور اس نے سوجی کا مطالبہ کردیا۔ اب کی بار لن چاؤ نے چند منٹوں میں سوجی لا کر نیڈو کے ہاتھ میں تھمادی، وہ خوشی خوشی گھر سے رخصت ہوا، ادھر چن شاؤ آنٹی لی شن کے گھر جا کر ان کے روزمرہ کا سودا سلف منٹوں میں لے آتا۔ جلد ہی دونوں بھائیوں نے عقل اور ذہانت سے اپنی ذات پہ چسپاں حماقت کا لیبل اتار پھینکا۔ لن چاؤ اور چن شاؤ کی حالت میں یہ انقلابی تبدیلی دیکھ کر سب سے زیادہ خوشی ان کے چھوٹے سے شہر کے لوگوں کو ہوئی۔ دونوں بھائیوں کی عادت بدلی تو وہ سب کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔ ان کو یقین ہی نہ آتا تھا کہ یہ وہی دو احمق بھائی ہیں، جو کبھی اپنی حماقت کے لیے مشہور تھے۔
پھر ایک دن محلے والے سو کر اٹھے تو یہ جان کر دنگ رہ گئے کہ لن چاؤ اور چن شاؤ جاپان کے گنجان آباد شہر اوساکا چلے گئے تھے۔ آخر بروقت ذہانت اور سمجھداری کے فارمولے پر بھی تو عمل پیرا ہونا تھا، ایک سال بعد شہر کے مقامی اخبار کی نمایاں سرخی یہ تھی، جاپان کے دوعقل مند بھائی لن چاؤ، چن شاؤ کی ذہانت اور محنت نے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کردیا ہے۔ جی ہاں، لن چاؤ اور چن شاؤ نے عقل اور ذہانت کا استعمال کر کے وہ کام کر دکھایا، جس کی ان سے توقع بھی نہ کی جاسکتی تھی۔