Saturday, April 13, 2024

Do Bhaiyon Ki Kahani

ایک بادشاہ کے دو بیٹے تھے۔ اس نے ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت نہایت اعلیٰ پیمانہ پر کی یہاں تک کہ دونوں ہر قسم کے علوم وفنون میں طاق ہو گئے۔ بادشاہ کا جی دونوں بیٹوں کی طرف سے ٹھنڈا تھا۔ جب اس کا آخری وقت قریب آیا تو اس نے ملک کو دونوں بیٹوں میں برابر برابر تقسیم کر دیا اور وصیت کی کہ میرے بچو! میرے بعد اتفاق سے رہنا۔ میں نے فساد کی جڑ کاٹ دی ہے- دونوں بھائیوں نے اپنا اپنا علاقہ سنبھال لیا اور حکومت کرنے لگے۔

ایک بھائی نہایت عقل مند، سخی اور منصف مزاج تھا۔ اس نے محتاجوں کے لیے لنگر جاری کیے ۔ مسافر خانے بنوائے سرکاری محاصل میں رعایت کی اور رفاہ عام کے بے شمار کام کیے یہاں تک کہ رعایا نہایت آسودہ حال ہو گئی۔ اپنی خوش تدبیری اور حسن اخلاق کی بدولت وہ ایسا نیک نام اور ہردلعزیز ہوا کہ نہ صرف اپنی رعایا اور فوج اس پر جان چھڑکتی تھی بلکہ ارد گرد کے ممالک کے لوگ بھی اس کی سلطنت میں شامل ہونے کی آرزو کرتے تھے۔

دوسرا بھائی لالچی اور ظالم نکلا اس نے کاشتکاروں پر لگان بڑھا دیا۔ سامان تجارت پر طرح طرح کے محصول لگا دیئے۔ اور روپیہ جمع کرنے کی دھن میں رعایا کو ستانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ تھوڑی ہی مدت میں لوگ اس سے تنگ آگئے اور ملک سے بھاگنے لگے۔ نہ تجارت کی گرم بازاری رہی اور نہ کھیتوں میں سبزہ۔ ملک کی ویرانی کے ساتھ بادشاہ کا خزانہ بھی خالی ہو گیا اور نظام حکومت بگڑ گیا۔ یہ حالت دیکھ کر دشمن اس پر چڑھ دوڑے، اس کی فوج پہلے ہی بد دل تھی مقابلہ کیا کرتی۔ دشمن نے آنا فانا اسے مغلوب کر لیا اور اس طرح وہ اپنی بد تدبیری اور عاقبت نااندیشی کی بدولت ملک اپنے ہاتھ سے گنوا بیٹھا۔

Latest Posts

Related POSTS