Bhool | Complete Episode

215
Bhool | Complete Episode
شاستری کو اس رات آرام دہ اور گرم بستر میں جو خواب نظر آرہا تھا، وہ بڑا سنسنی خیز اور رگوں میں خون دوڑا دینے والا تھا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ اس کی آرٹ گیلری میں ایک مشہور و معروف مصور کی تصاویر کی نمائش ہورہی ہے لیکن ناقابل فہم بات یہ تھی کہ تمام فریم خالی تھے۔ ایک بھی فریم ایسا نہ تھا جس میں کوئی تصویر ہو، اس کے باوجود تمام مہمان ان تصاویر کو سراہ رہے تھے جو کسی فریم میں موجود نہ تھیں۔
پھر اس نے ان مہمانوں کے درمیان کبوری کو دیکھا جو اس کی طرف لچکتی، تھرکتی اور کسی زہریلی ناگن کی طرح لہراتی آرہی تھی۔ ایک عجیب بات یہ تھی کہ نامناسب لباس میں ہونے کے باوجود کوئی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ عورتیں نہ مرد ۔ایسی بے حجابی کے باوجود مردوں کا نظرانداز کردینا ناقابل فہم تھا۔ عورتیں جو عام لباس میں ملبوس ہوتی تھیں، وہ مردوں کی توجہ کا باعث بن جاتی تھیں۔
اس نے دور ہی سے اپنی بیوی کبوری کا چہرہ دیکھ لیا تھا جو غصے سے تمتما رہا تھا۔ اس نے قریب آکر ایک فریم کی طرف اشارہ کیا اور انتہائی غصے میں بولی۔ ’’شاستری! کیا تم اندھے ہو؟ یہ تصویر نہیں ہے، سچ مچ کا منظر ہے۔ تمہیں کس احمق نے مشورہ دیا کہ اس تصویر کو لا کر یہاں لگا دو… تم روز بروز سٹھیاتے کیوں جارہے ہو؟‘‘
شاستری نے چونک کر حیرت اور غور سے فریم کی طرف دیکھا۔ اس میں تاج محل کے گرد و نواح کا منظر دکھائی دیتا تھا اور اس کے پس منظر میں مہاراجا میسور کا پرشکوہ محل کا منظر تھا لیکن ان کے درمیان میلوں کا فاصلہ صاف محسوس ہوتا تھا۔
’’کیا یہ واقعی ہے…؟‘‘ شاستری نے حیرت سے سوال کیا۔ ’’اچھا…! چلو چل کر دیکھتے ہیں۔‘‘
عجیب بات یہ تھی کہ اس وسیع و عریض آرٹ گیلری کے اندر ایک نئے ماڈل کی سفید مرسیڈیز بھی موجود تھی۔ شاستری اور کبوری اس کار میں بیٹھ گئے اور اس منظر کا حصہ بن گئے۔ تاج محل کے قریب پہنچ کر سر سبزو شاداب سبزہ زار پر گاڑی کھڑی کی۔ آگے ڈھلان تھی۔ پھر وہ اتر کے تاج محل کے احاطے کی طرف بڑھا۔
یکلخت اسے یاد آیا کہ وہ کار کا ہینڈ بریک لگانا بھول گیا ہے۔ اس نے سرعت سے مڑ کے دیکھا۔ کار تیزی سے ڈھلان سے نیچے کی طرف جارہی تھی۔ حیرت کی بات تھی کہ کبوری کار میں بیٹھی تھی اور اس کا خوبصورت چہرہ دہشت سے زرد پڑتا جارہا تھا۔ اس کی بڑی بڑی گہری سیاہ آنکھیں خوف سے پھٹی جارہی تھیں۔ ڈھلان کچھ دور جاکر ختم ہوجاتی تھی اور اس کے اختتام پر گہری کھائی تھی۔
کبوری ہذیانی انداز میں چلا رہی تھی۔ ’’شاستری… شاستری…! بھگوان کیلئے مجھے بچا لو… بچا لو۔‘‘
شاستری الوداعی انداز سے ہاتھ ہلاتے ہوئے پرُمسرت لہجے میں بولا۔ ’’اب میں کیا کرسکتا ہوں میری جان…! البتہ میں یہ ضرور کرسکتا ہوں کہ تمہاری دائمی جدائی کے بعد تمہیں بھولوں گا نہیں۔ تمہاری تصویریں دیکھ کر تمہیں یاد کرتا رہوں گا بلکہ میں نے ابھی سے تمہاری جدائی کا غم محسوس کرنا شروع کردیا ہے۔‘‘ اس کی پتنی کی دلخراش چیخیں فضا میں گونجنے لگیں۔ اس دوران کار ڈھلان کے آخر تک پہنچی اور پھر کھائی میں گر کر غائب ہوگئی تاہم اس کی پتنی کی چیخیں اب بھی اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔ پھر رفتہ رفتہ ان کی شدت میں کمی آنے لگی اور وہ دھیمی ہوتی چلی گئیں۔
اس دوران شاستری نے محسوس کیا کہ عقب میں کوئی اس کا کاندھا پکڑ کے ہلا رہا ہے۔ اس نے ناگواری سے پلٹ کر دیکھا۔ اصل میں اس کی پتنی اس کا کندھا ہلا رہی تھی اور قدرے آہستگی سے کہہ رہی تھی۔ ’’شاستری… شاستری…! بھگوان کیلئے اٹھو… آنکھیں کھولو۔‘‘
شاستری نے دھندلائی ہوئی نظروں سے اپنی پتنی کی طرف دیکھا۔ وہ یہاں کیا کررہی تھی؟ اس نے اپنی پتنی کو کار سمیت ایک بہت ہی گہری کھائی میں گرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس منظر نے اسے کسی ایسے بچے کی طرح خوش کردیا تھا جسے مٹھائی کے جنگل میں اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا۔ وہ ابھی تک خواب اور حقیقت کے درمیان حدفاضل قائم نہیں کرسکا تھا۔
’’شاستری…! اٹھو ذرا نیچے جاکر دیکھو۔‘‘ اس کی بیوی سرگوشی میں کہہ رہی تھی۔ ’’گھر میں کوئی ڈاکو گھس آیا ہے۔‘‘
تب شاستری کو یکلخت احساس ہوا کہ وہ حقیقت کی دنیا میں ہے۔ چند لمحے پہلے وہ خواب دیکھ رہا تھا اور یہ کوئی پہلا اتفاق نہیں تھا۔ وہ جب بھی کوئی سہانا اور دل پسند خواب دیکھ رہا ہوتا تھا تو اس کی پتنی کسی واہمے میں مبتلا ہوکر اسے جگا دیتی تھی۔ اس کی آرزو ہوتی تھی کہ کاش یہ خواب صرف خواب نہ ہوں بلکہ حقیقت بن جائیں۔
’’جائو… جاکر اپنے بستر پر سو جائو۔‘‘ اس نے اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے کبوری پر ایک سرسری سی نظر ڈالی۔ وہ شب خوابی کے لباس میں تھی لیکن اس کا سراپا متاثر نہیں کرتا تھا کیونکہ ان کی محبت میں زہرگھل گیا تھا۔ وہ جلتی پر تیل چھڑکنے کیلئے رات کے سمے بے لباس حالت میں آجاتی لیکن شاستری آنکھیں بند کرکے ایسے سہانے سپنوں میں کھو جاتا کہ اگر کبوری کو علم ہوجاتا تو وہ گھر اور اسے بھی چھوڑ جاتی۔ ’’نیچے کوئی نہیں ہے، تمہیں ہمیشہ کی طرح وہم ہورہا ہے۔‘‘
’’نہیں…! میری سماعت دھوکا نہیں کھا رہی۔‘‘ کبوری نے تکرار کے انداز میں کہا۔ ’’میں نے کچھ دیر پہلے نیچے سے آواز سنی تھی۔ کسی نے ہماری الماری کا دروازہ کھولا ہے۔ اس کی دو درازوں میں سونے کے زیورات رکھے ہوئے ہیں جن کی مالیت بیس لاکھ سے کہیں زیادہ ہے۔ تمہیں پتا ہے کہ اس کا دروازہ ہلکی سی چرچراہٹ کے ساتھ کھلتا ہے۔ میں نے وہی چرچراہٹ سنی تھی۔ وہ درازیں مقفل نہیں ہیں۔ میں نے کئی بار کہا کہ انہیں مقفل کرا دو۔‘‘
شاستری چند لمحے چھت کو گھورتا رہا۔ اسے نیچے سے کوئی آواز سنائی نہیں دی تھی۔ وہ تحمل سے بولا۔ ’’تم نے یقیناً کوئی خواب دیکھا ہوگا۔ اب جاکر سو جائو اور مجھے بھی سونے دو۔‘‘
’’مجھے معلوم تھا کہ تم یہی کہو گے اس لئے کہ تم سے کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ تم سے تو بستر سے اٹھا بھی نہیں جاتا، چاہے کوئی اندر گھس کر ہمیں قتل ہی کیوں نہ کرجائے۔‘‘ کبوری غرائی۔
شاستری بے بسی سے سانس لے کر رہ گیا۔ اسے اندازہ ہوگیا کہ وہ جب تک اٹھ کر نیچے نہیں جائے گا، اس کی پتنی اسے سونے نہیں دے گی۔ آخرکار وہ بڑی بیزاری سے اٹھا۔ اس نے چادر ایک طرف پھینکی ۔اس کا بس چلتا تو وہ چادر اپنی پتنی کے منہ پر دے مارتا۔ پھر وہ جاتے ہوئے ناگواری سے بولا۔ ’’لعنت ہے۔ میں جاکر دیکھ لیتا ہوں، مجھے معلوم ہے کہ وہاں کوئی بدروح بھی نہیں ہوگی۔‘‘
’’میں اپنے کمرے میں جارہی ہوں اور اندر سے دروازہ مقفل کررہی ہوں۔‘‘ کبوری نے آہستگی سے کہا تاکہ نیچے تک اس کی آواز نہ پہنچے۔
وہ اپنے بکھرے بالوں اور شب خوابی کا لباس درست کرتے ہوئے اس کے کمرے سے نکلی اور اس نے اپنے کمرے میں گھس کر دروازہ بند کرلیا اور اندر سے چٹخنی لگا لی۔
شاستری نے اپنی حیثیت کبوری کی نظروں میں دانستہ گرا رکھی تھی۔ اس کے ذہن میں ایک منصوبہ بڑے عرصے سے پنپ رہا تھا۔ وہ کبوری کو قتل کرکے اس کی ساری دولت پر قابض ہونا چاہتا تھا۔ وہ ایک ایسا منصوبہ بنانا چاہ رہا تھا جس میں کوئی عیب، خامی، جھول اور نقص نہ ہو۔ کہیں لینے کے دینے پڑ جائیں اور وہ پھانسی کے پھندے پر چڑھ جائے۔ اس لئے وہ پتنی کی ہر بات مان لیتا تھا جیسے اس کا زرخرید غلام ہو۔ کبوری نے اس کے ساتھ نیچے چلنے کا خفیف سا اشارہ بھی نہیں کیا تھا، ہمدردی کے رسمی الفاظ بھی نہیں کہے تھے حالانکہ وہ اس کا پتی تھا، کوئی چوکیدار یا محافظ نہ تھا۔
پھر شاستری نے دل ہی دل میں خود کو سمجھایا کہ وہ خواہ مخواہ اس بات پر جذباتی ہورہا ہے۔ اب
ان کے درمیان تعلقات اس نوعیت کے نہیں رہے تھے کہ کبوری کو اس کی سلامتی کی فکر ہوتی۔ وہ پاس رہ کر ایک دوسرے سے اتنی دور تھے جیسے زمین، آسمان سے…! ایک کمرے میں ساتھ سونا تو درکنار، وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے بھی نہیں تھے۔ ایک چھت کے نیچے دونوں اجنبیوں کی طرح زندگی گزار رہے تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کی منزل کہاں ہے؟ شاستری طلاق اس لئے نہیں دے رہا تھا کہ اسے کبوری کی دولت کی ضرورت تھی۔ دولت کے بغیر زندگی بیکار تھی۔ اس کا خیال تھا کہ کبوری اس سے اس لئے طلاق نہیں لے رہی ہے کہ بے پناہ دولت کے ساتھ کس کے سہارے زندگی گزارے گی۔ یوں تو اس کیلئے ایسے مردوں کی کمی نہیں تھی جو اس کا ہاتھ تھام لیں لیکن وہ انہیں قابل بھروسہ نہیں سمجھتی تھی۔ اسے خودغرض اور مطلب پرست مردوں کا اندازہ ہوچکا تھا۔ وہ کیا چاہتی ہے، اس کا اسے خود بھی اندازہ نہ تھا۔ وہ الگ الگ کمروں میں کافی عرصے سے سو رہے تھے۔
شاستری نے سلیپر پہنتے ہوئے سوچا کہ شاید نیچے کوئی ڈاکو موجود ہو لیکن پھر اس نے اس خیال کو فوراً مسترد کردیا۔ وہ جانتا تھا کہ کبوری پر ہمیشہ کوئی نہ کوئی وہم سوار ہوجاتا تھا۔ اسے کوئی نہ کوئی آواز سنائی دیتی رہتی تھی۔ کبھی اسے گمان گزرتا کہ باورچی خانے میں چوہے سارا سامان تلپٹ کررہے ہیں، بلی دودھ پی رہی ہے۔ کبھی وہ کہتی کہ لان میں کتے زمین کھود کر پودوں اور کیاریوں کا ستیاناس کررہے ہیں۔ ایک بار تو اس نے حد ہی کردی تھی کہ ٹیرس میں بیٹھے بیٹھے کچھ آوازیں سن کر اس نے کہا کہ کچھ ڈاکو نیچے ان کے گھر کا صفایا کرکے لوٹے ہوئے مال پر لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ بعد میں پتا چلا کہ اصل میں ایک پھٹی ہوئی ترپال تھی جو ہوا سے پھڑپھڑا رہی تھی اور مزدوروں نے ترپال گیراج کی زیرتعمیر چھت پر بچھائی ہوئی تھی۔
اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ کبوری جتنی حسین تھی، اتنی ہی عقل کی موٹی تھی۔ حسین عورت ذہین کم ہی ہوتی ہے۔ وہ ایک شکی اور وہمی عورت تھی۔ اس کے باوجود شاستری سوچے بغیر نہ رہ سکا کہ کیا پتا اس بار اس کا خیال درست ثابت ہو۔ نیچے واقعی کوئی موجود ہو۔ زندگی میں کبھی کبھار احمق ترین انسان کا بھی کوئی اندیشہ درست ثابت ہوجاتا ہے۔
اس نے سوچا کہ نیچے جاتے ہوئے اسے ایسی کوئی چیز ہاتھ میں لے لینی چاہئے جسے وہ بوقت ضرورت ہتھیار کے طور پر استعمال کرسکے۔ وہ معمولی قد کاٹھ کا آدمی تھا اورلڑائی بھڑائی کا عادی نہیں رہا تھا جبکہ چور، ڈاکو عام طور پر مضبوط جسم اور قدآور ہوتے تھے۔ ایک طرح سے تربیت یافتہ بھی…! اسے کسی ایسے شخص کو قابو میں کرنے کا تصور بڑا مضحکہ خیز محسوس ہورہا تھا۔ وہ اس خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہوا تھا کہ وہ ایسا کوئی کارنامہ انجام دے سکتا ہے۔
اس کے علاوہ اسے کبھی کسی ایسے کھیل کا شوق نہیں رہا تھا جس میں جسمانی مشقت درکار ہوتی تھی۔ چنانچہ اس کے پاس گھر میں کوئی بیٹ، ہاکی یا گالف کی چھڑی بھی نہیں تھی جسے وہ بطور ہتھیار استعمال کرسکتا البتہ کچن میں ایسی کئی چیزیں موجود تھیں جو ہتھیار کے طور پر استعمال ہوسکتی تھیں لیکن مسئلہ یہ تھا کہ کچن نیچے تھا اور اگر کوئی چور وہاں موجود تھا تو وہ بھی نیچے تھا۔ وہ سوچے بغیر نہیں رہ سکا کہ آدمی کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، وہ چیز ہمیشہ کسی اور جگہ موجود ہوتی تھی، رسائی سے دور ہوتی۔
پھر اسے یکلخت کچھ خیال آیا۔ اس نے اپنے کمرے میں جاکر الماری کھولی۔ اس کے نچلے خانے میں بہت سارے ڈبے رکھے تھے۔ اس نے ان کا جائزہ لیتے ہوئے ایک ڈبے کو باہر کھینچا۔ اس میں ایک چرمی کور میں لپٹا ہوا ایک ریوالور رکھا ہوا تھا۔
اس کے سسر نے اس کی شادی کے تین برس کے بعد یہ ریوالور اسے دیا تھا۔ اس کی سسرال پونا میں تھی۔ ایک بار وہ کبوری کے ساتھ اس کے میکے گیا تھا۔ اس کے سسر رتن کمار نے اسے اچانک ایک کمرے میں کھینچ لیا تھا۔ اس کا سسر رتن کمار ایک جسیم اور مضبوط آدمی تھا۔ وہ بشرے سے ہی تندخو دکھائی دیتا تھا۔ وہ اپنی سسرال میں پندرہ دن ٹھہرا تھا۔ اس دوران اس نے اپنے سسر کو گھر سے باہر ایک کنج میں میک اَپ کرکے اپنا حلیہ بدلتے ہوئے دیکھا تھا۔ پھر اس نے گن پوائنٹ پر ایک دوشیزہ کو باغ کی کوٹھری میں لے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس نے کبوری سے اس واقعہ کا ذکر اس لئے نہیں کیا تھا کہ اگر وہ اپنے پتا جی کی سرزنش کرتی یا اپنی ماں کو اعتماد میں لیتی اور نتیجے میں اس کی ساس اپنے شوہر کا گریبان پکڑ لیتی تو اس بات کا اندیشہ تھا کہ اس کا سسر اسے اس سنسار سے رخصت کردیتا اس لئے اس نے خاموش رہنے میں اپنی عافیت سمجھی تھی۔
اس کے سسر نے اپنے پاس طرح طرح کے کافی ہتھیار جمع کررکھے تھے اور یہ اسلحہ غیر قانونی تھا جس کی خریداری پر اس نے رقم پانی کی طرح بہائی تھی لیکن اس کے گھر والوں کو اس کے اس جنون کی بھنک تک نہ پڑی تھی۔ اس نے انہیں ہوا تک نہیں لگنے دی تھی۔
اس نے دیوار گیر الماریوں میں خفیہ خانے بنا رکھے تھے اور تمام ہتھیار اس میں چھپا دیئے تھے۔ ان چیزوں کا انکشاف اس وقت ہوا جب وہ ایک کچی بستی کی خانہ بدوش لڑکی کو گن پوائنٹ پر ایک کوٹھری میں لے گیا اور اسے وہاں سات گھنٹے تک رکھا۔ اس کے ماں، باپ نے رتن کمار کے خلاف رپورٹ درج کرائی لیکن اس کا نتیجہ کچھ نہ نکلا کیونکہ پولیس میں اس کا اثرورسوخ تھا۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد وہ مشتعل ہوکر خانہ بدوشوں کی بستی میں پہنچا اور اس نے غصے میں آکر گالیاں بکتے ہوئے فائرنگ شروع کردی۔
اتفاق سے اس کی فائرنگ سے کوئی ہلاک یا زخمی تو نہیں ہوا لیکن پولیس کے اعلیٰ افسروں نے اس کا نوٹس لے لیا۔ پھر اسے ایک نفسیاتی امراض کے اسپتال میں داخل کرا دیا۔ وہ شخص ذہنی مریض بن چکا تھا۔ اس کا علاج اور نگرانی جاری رہی۔ آخر ایک روز اس کے گھر پر چھاپہ پڑا اور اس کا خفیہ اسلحہ خانہ دریافت کرلیا گیا اور اس اسلحے کو تین گاڑیوں میں لاد کر لے جایا گیا ۔ اسے دماغی امراض کے اسپتال کی ایمبولینس میں لٹانے کیلئے تین لحیم شحیم اور مضبوط مردوں کو اپنی پوری طاقت صرف کرنی پڑی تھی۔
کبھی کبھی شاستری کو شبہ ہوتا کہ اس کا سسر کچھ کھسکا ہوا آدمی تھا۔ پھر بھی اسے توقع نہیں تھی کہ وہ اس انجام سے دوچار ہوگا۔ یہ تین چار برس پہلے کی بات تھی جب اس نے شاستری کو اپنے اسلحہ خانے کے کمرے میں کھینچا تھا اور ایک چھوٹا سا ریوالور زبردستی اس کے ہاتھ میں تھما کر کہا تھا۔ ’’شاستری…! یہ رکھ لو۔‘‘
’’لیکن کس لئے…؟‘‘ شاستری نے حیرت سے ریوالور کو الٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’اس لئے کہ یہ بڑی کارآمد شے ہے۔ تمہیں اندازہ نہیں کہ اس سے کیا کیا کام لیا جاسکتا ہے۔‘‘ وہ سنجیدگی سے کہنے لگا۔ ’’مثلاً کسی بھی ساہوکار، جوہری اور دولت مند شخص کو اور کسی بھی نوجوان عورت کو اس کی زد میں لے کر لوٹا جاسکتا ہے۔ دشمن بھی ریوالور کو دیکھتے ہی ہر بات مان لیتے ہیں۔‘‘
’’لیکن مجھے کسی عورت کو لوٹنا ہے اور نہ ہی کسی دولت مند کو!‘‘ اس نے کہا۔
’’ایک اور بات یاد رکھنے کی ہے کہ تم نے شہری آبادی سے دور ویرانے میں مکان لے رکھا ہے۔ مجھے اس کے تصور سے ہی وحشت ہوتی ہے کہ اس ویرانے میں صرف تم دونوں میاں، بیوی رہتے ہو۔ میں اپنی پیاری بیٹی کو غیر محفوظ سمجھتا ہوں۔ اس ریوالور کی بدولت وہ اپنی آبرو کی حفاظت کرسکتی ہے۔‘‘
پھر اس نے اس ریوالورکی قوت آزمانے کیلئے سسرال سے آنے کے بعد اس کا عملی مظاہرہ کیا۔ پہلے وہ ایک مارواڑھی کے گھر میں رات کے سمے نقاب پوش بن کر گھس گیا جو اکیلا تھا۔ اس کی پتنی اور گھر کے دوسرے افراد کسی شادی کی تقریب میں گئے ہوئے تھے۔ وہ تجوری میں سونے کے زیورات اور نوٹوں کی گڈیاں رکھ رہا
تھا۔ اس نے اس مارواڑھی کو ایسا دہشت زدہ کیا کہ وہ بے ہوش ہوگیا۔ پھر اس نے ایک تھیلے میں تجوری کا سارا مال بھر لیا۔ اس کا یہ کارنامہ کبوری کے علم میں نہ آسکا اور نہ ہی وہ اسے اعتماد میں لینا چاہتا تھا۔
پھر اس کا حوصلہ بڑھا تو اس نے ایک ایسی لڑکی کی جس کی شادی ہونے والی تھی، بے حرمتی کی۔ اس ستم زدہ لڑکی نے خودکشی کرلی جس کا اسے کوئی دکھ نہیں ہوا تھا۔ پھر اس کا یہ سلسلہ دراز ہوا تو اس نے دو شادی شدہ عورتوں سے بھی فائدہ اٹھایا۔ اس کا دل کبوری سے بھرتا جارہا تھا۔ اس نے محسوس کیا تھا کبوری بھی اس سے بیزار رہنے لگی ہے لیکن کبوری کو طلاق نہیں دینا چاہتا تھا کہ علیحدگی کی صورت میں وہ لاکھوں کی رقم اور اتنے ہی مالیت کے زیورات سے محروم ہوجائے گا۔ اس اثاثے کا مالک بننے کی ایک ہی صورت تھی کہ اس کانٹے کو نکال دیا جائے۔
اس نے برسوں سے ریوالور اپنی الماری میں موجود جوتوں میں چھپا کر رکھا تھا۔ اس نے بھولے سے کبوری سے اس کا تذکرہ نہیں کیاتھا۔ جب رتن کمار کو اسپتال بھیجا گیا تو کبوری اس احساس سے خوف زدہ ہوگئی تھی کہ اس کا بچپن اور لڑکپن ایک ایسے شخص کے ساتھ گزرا تھا جس کا دماغی توازن درست نہیں تھا اور اس نے بھاری اسلحہ گھر میں چھپا رکھا تھا۔
ان باتوں کے بارے میں سوچتے ہوئے شاستری نے ریوالور ہاتھ میں تھام کر الٹ پلٹ کر دیکھا اور فیصلہ کیا وہ اسے ساتھ لے کر نیچے جائے گا۔ اگر کوئی نیچے موجود تھا تب بھی شاستری کا اسے گولی مارنے کا ارادہ نہیں تھا۔ اس کا مقصد اس ڈاکو کو خوف زدہ اور ہراساں کرنا تھا۔ اسے امید تھی کہ اگر وہ ایک سے زیادہ ہوئے تب بھی اس کے ہاتھ میں ریوالور دیکھ کر دہشت زدہ ضرور ہوں گے۔
وہ دبے قدموں اپنے کمرے سے نکلا اور سیڑھیوں تک پہنچا۔ اس دوران وہ کان لگا کر سننے کی کوشش کرتا رہا مگر کوئی آواز سنائی نہ دی۔
اس نے پلٹ کر سر اونچا کرکے کبوری کے کمرے کی طرف دیکھا۔ اس کے کمرے کا دروازہ بند تھا لیکن وہ کسی بہانے سے دروازہ کھلوا سکتا تھا۔ اس نے سوچا کہ اس سنہری موقع سے فائدہ کیوں نہ اٹھائے۔ وہ کبوری سے کہے گا تمہاری خواب گاہ میں لاکھوں کی مالیت کے ہیرے، جواہرات اور سونے کے زیورات موجود ہیں۔ تم نیچے جاکر دیکھو اور تسلی کرو کہ کوئی ڈاکو تو موجود نہیں۔ اگر وہ آمادہ نہ ہوئی تو وہ اسے زبردستی اٹھا کر نیچے لے جائے گا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ جب بھی سونے کیلئے بستر پر دراز ہوتی تھی، اس کے تن پر کچھ نہیں ہوتا تھا۔ وہ چونکہ اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا اس لئے وہ کبوری کو کمرے میں دھکیل دے گا پھر وہ ڈاکو، کبوری کو اس حالت میں دیکھ کر اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکیں گے اور اسے بے حرمتی کا نشانہ بنا کر چلے جائیں گے۔ اس کیلئے راستہ صاف ہوجائے گا۔ ڈاکوئوں کو اس کمرے میں رقم نہیں ملے گی کہ وہ تجوری میں ہے اور اسے نمبر سیٹ کئے بغیر نہیں کھولا جاسکتا۔ پھر وہ ریوالور سے انہیں خوف زدہ کرکے بھگا دے گا اور اپنی پتنی کے کروڑوں کا مالک بن جائے گا ۔پہلے وہ چھپ کر دیکھ لے کہ ڈاکو ہیں یا نہیں! کبوری اتنی حسین تھی کہ اس کا شمار لاکھوں میں ایک کیا جاسکتا تھا۔ اس کی محبت کی شادی تھی لیکن یہ محبت نفرت میں بدل گئی تھی۔ اب اسے پتنی کی محبت کی نہیں بلکہ اس کی تمام دولت کی تمنا تھی۔
اس نے مزید سیڑھیاں اترنے کیلئے قدم بڑھایا ہی تھا کہ دوبارہ ساکت ہوکر رہ گیا۔ نیچے سے ایک ہلکی سی آواز سنائی دی تھی یقیناً کوئی دراز کھولی گئی تھی آواز کمرے سے سنائی دی تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ واقعی کوئی موجود تھا۔ کمرے کا دروازہ بھی قدرے کھلا ہوا تھا۔ پھر ایک سایہ سا اس کے سامنے سے گزرتا دکھائی دیا۔ کمرے کی کھڑکی سے چاندنی اندر جھانک رہی تھی، اس لئے اسے وہ سایہ دکھائی دے گیا۔
شاستری کو احساس ہوا کہ اس کی سانس تیز تیز چلنے لگی تھی۔ اس نے خود سے سوال کیا تھا کہ اسے کیا قدم اٹھانا چاہئے؟ اس کے نزدیک عقل کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ جس طرح سے دبے قدموں آیا تھا، اسی طرح واپس چلا جائے اور پولیس کو فون کرے مگر مسئلہ یہ تھا کہ فون کبوری کے کمرے میں تھا جو اپنا دروازہ مقفل کرچکی تھی۔ نیچے ایک فون تھا اور دوسرا ہال کے دوسرے سرے پر لائونج میں تھا۔ دونوں میں سے کسی تک پہنچنے میں وہ ڈاکو کی نظر میں آئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ اس سمے ایسی کوئی تدبیر اس کے ذہن میں نہیں آئی کہ کبوری اپنے کمرے سے نکل کر اس کمرے میں چلی جائے اور ڈاکو یا اس کے ساتھی اس سے فائدہ اٹھا کر موت کی بھینٹ چڑھا دیں کیونکہ وہ اپنی آبرو بچانے کیلئے مزاحمت اور جدوجہد کرے گی۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی صورت پولیس کو ڈاکو کی موجودگی کی خبر ہوجائے۔ اس طرح کبوری قتل ہونے سے بچ جاتی۔
پھر ایک مسئلہ اور بھی تھا۔ اس ملحق روم میں ایک تجوری نصب تھی۔ اس شہر میں بھی ڈکیتی کی وارداتیں عام ہوتی جارہی تھیں۔ اس نے خوف زدہ ہوکر یہ تجوری نصب کرائی تھی۔ جو قیمتی چیزوں کو محفوظ رکھنے کے علاوہ ایک اور مقصد کے سلسلے میں مفید اور کارآمد ثابت ہوئی تھی۔ اس کے پاس کالا دھن لاکھوں کی صورت میں اس تجوری میں موجود تھا۔ اس رقم کو وہ مکمل طور پر ذاتی سمجھتا تھا۔ کبوری کی موت کے بعد کبوری کی ساری رقم اور زیورات اس کی ساری زندگی کیلئے کافی تھے پھر وہ محتاج نہ رہتا۔
کبوری کے علم میں آنا ایک سنگین مسئلہ تھا کیونکہ کبوری اس سے انتقام لیتی۔ وہ پولیس اور انکم ٹیکس والوں کو مخبری کردیتی۔ اسے اس رقم سے ہاتھ دھونا پڑتے۔ کبوری کے نام مکان تھا اور زیورات تیس چالیس لاکھ کی مالیت کے تھے۔ وہ کبوری کے کام آجاتے۔ وہ آرٹ گیلری چلا رہا تھا۔ آرٹ گیلری کا کاروبار عروج پر تھا۔ یہ آرٹ گیلری کبوری کے پیسے سے قائم ہوئی تھی۔ کبوری کے پتا جی نے اپنی بیٹی کو بیس لاکھ شادی پر جہیز میں دیئے تھے، اس سے یہ آرٹ گیلری قائم ہوئی تھی اور مکان بھی خرید اگیا تھا۔ اگر کبوری کو علم ہوجاتاکہ وہ اس کی آمدنی میں ہیرا پھیری کررہا ہے تو وہ تمام حسابات چیک کرانے بیٹھ جاتی اور آئندہ شاستری سے اس کا اعتماد اٹھ جاتا۔ کچھ بعید نہیں تھا کہ وہ گیلری سنبھال لیتی اور وہ مکمل طور پر اس کا محتاج ہوجاتا۔
اب چونکہ اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ کسی نہ کسی تدبیر سے کبوری کو چارہ بنا کر ڈاکوئوں کے سامنے ڈال دے۔ اس کا حسن دیکھ کر ڈاکو اس کی بے حرمتی کرکے ڈاکا مارنے کیلئے اسے قتل کردیتے۔ اس کے ذہن میں ایک تدبیر آئی تھی جس سے وہ ڈاکو کو کبوری کے بیڈ روم کی طرف جانے پر مجبور کرسکتا تھا۔ اس نے کبوری کے کمرے کی ایک چابی بنا رکھی تھی۔ وہ اسے کھول دیتا۔ کبوری جو جلد اور گہری نیند سونے کی عادی تھی، وہ سو چکی ہوگی۔ وہ نائٹ بلب کی روشنی میں سوتی تھی۔ اس کے کمرے میں روشنی دیکھ کر ڈاکو گھس جائے گا۔
وہ بے آواز قدموں سے چلتا ہوا کچن تک پہنچا۔ اس نے نہایت احتیاط سے کچن کا دروازہ کھولا اور کچن عبور کرکے دروازے کو بھی بے آواز طریقے سے کھول کر کان لگا کر آواز سننے کی کوشش کی۔ کمرے میں کسی کے سانسوں کی مدھم آواز ابھر رہی تھی۔ اندر کوئی ضرور موجود تھا۔
وہ دروازے کو تھوڑا سا کھول کر کسی بلی کی طرح دبے پائوں کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے دیکھا ڈاکو اس کی طرف پشت کئے ہال والے دروازے پر منتظر انداز میں کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ اس نے اس کی آہٹ سن لی تھی، اب وہ اس کے انتظار میں گھات لگائے کھڑا تھا۔ اسے پتا نہیں چل سکا تھا کہ جس کے انتظار میں گھات لگائے کھڑا تھا، وہ پچھلی طرف سے کمرے میں پہنچ چکا تھا۔
شاستری نے ریوالور سے ڈاکو کا نشانہ لیتے ہوئے دوسرا ہاتھ فضا میں بلند کرکے


لائٹ کا سوئچ دبا دیا۔ ڈاکو کا ردعمل دیکھ کر شاستری کو نہ جانے کیوں ایک لمحے کیلئے اس پر ترس آگیا۔ اس کے انداز سے بالکل ایسا محسوس ہوا تھا جیسے کمرا روشن نہیں ہوا بلکہ اسے کرنٹ لگ گیا تھا۔ شاستری کو احساس ہوا کہ اس صورتحال میں اگر وہ خود ڈاکو ہوتا تو یقیناً ایک فٹ اونچا اچھل گیا ہوتا یا پھر شاید اسے ہارٹ اٹیک ہوجاتا۔
وہ شخص بہرحال ایک فٹ اچھلا اور نہ ہی اسے دل کا دورہ پڑا تھا بس اس کے حلق سےہلکی سی خوف زدہ چیخ نکلی اور پیچھے کی طرف تیزی سے گھومتے ہوئے اس کے ہاتھ سے وہ چیز گر گئی جو اس نے ہتھیار کی طرح پکڑی ہوئی تھی۔ شاستری نے دیکھا کہ وہ دھات کا ایک شمع دان تھا جو ڈائننگ ٹیبل پر رکھا رہتا تھا۔ شمع دان لڑھک کر کھڑکی کے پاس چلا گیا۔
شاستری نے ڈاکو کا جائزہ لیا۔ اسے اندازہ ہوگیا کہ وہ فرار کا راستہ تلاش کررہا تھا لیکن اس کیلئے کسی بھی راستے سے بھاگنا ممکن نہیں تھا۔ شاید ڈاکو کو بھی اس بات کا احساس ہوگیا تھا۔ پھر دونوں کی نگاہیں ملیں، دونوں خاصی دیر تک گونگے بنے رہے پھر ڈاکو نے اس اذیت ناک سکوت کو توڑا۔ وہ بولا۔ ’’آپ کو مجھے اس طرح ڈرانا نہیں چاہئے تھا۔ آپ کی اس حرکت کے نتیجے میں میرا ہارٹ فیل ہوسکتا تھا۔‘‘ اس کے لہجے میں شکوہ تھا۔
’’ہاں…! یہ بات تو ہے۔‘‘ شاستری نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا۔ ’’کیا تمہیں دل میں کوئی تکلیف محسوس ہورہی ہے؟ تم چاہو تو میں تمہارے لئے ایمبولینس منگوا سکتا ہوں۔‘‘
’’اس زحمت کی ضرورت نہیں۔‘‘ ڈاکو نے حیرت سے کہا۔ اسے سماعت پر یقین نہیں آیا۔ وہ اسے مارنے کی بجائے اپنائیت اور خلوص سے پیش آرہا ہے۔ ’’آپ کی بڑی کرپا ہوگی اگر آپ اس ریوالور کا رخ دوسری طرف کرلیں تو میں خود کو بہت بہتر محسوس کروں گا۔‘‘
’’میں تمہاری درخواست نہیں مان سکتا لیکن اتنا ضرور چاہوںگا کہ تم بیٹھ جائو۔‘‘ شاستری نے کہا۔
’’کہاں بیٹھوں…؟‘‘ ڈاکو نے سوال کیا۔
شاستری نے ایک بڑے صوفے کی طرف اشارہ کیا جو ڈاکو کے پاس ہی تھا۔
’’کیا تمہارے خیال میں پولیس کو فون نہیں کرنا چاہئے؟‘‘ شاستری نے سادگی سے پوچھا۔
’’ہاں…! اب آپ پولیس کو فون کرکے بلا لیں۔‘‘
’’نہیں…! مجھے کوئی جلدی نہیں ہے لیکن تمہارے چہرے سے لگ رہا ہے کہ تم پولیس کا سامنا کرنے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہو؟‘‘ شاستری نے قدرے اطمینان سے کہا۔ ’’میں پولیس کو بلانے سے پہلے کچھ پینا چاہتا ہوں، کیا تم ساتھ دینا پسند کرو گے؟‘‘ پھر اس نے فریج کی طرف اشارہ کیا جو ایک کونے میں رکھا ہوا تھا۔ ’’تمہیں ہی تکلیف کرنا ہوگی۔ فریج میں ڈرنک موجود ہے۔‘‘
ڈاکو نے ایک لمحہ غور کیا۔ فریج کے پاس کائونٹر تھا۔ وہاں ایک ریک میں کراکری رکھی تھی۔ وہ شاستری کی پیشکش پر اس کے پاس چلا گیا۔
’’میرا خیال ہے کہ ہم دونوں کو متعارف ہوجانا چاہئے۔ ہم اب دوستوں کی طرح مشروب لیں گے۔ میرا خیال ہے کہ تمہیں اپنا نام بتانے میں کوئی تذبذب نہیں ہونا چاہئے۔‘‘
ڈاکو نے اس کی طرف دیکھے بغیر سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔ ’’میرا خیال ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘
’’ٹھیک ہے… اگر تم بتانا نہیں چاہتے ہو تو نہ بتائو، میں اصرار نہیں کروں گا۔ ویسے میں تمہیں ڈاکو کے نام سے مخاطب کروں گا۔ اس لئے کہ تم ڈاکے کی نیت سے گھر میں گھسے ہو۔‘‘
ڈاکو نے اس کی بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اس نے مشروب کی بوتل فریج سے نکال کر دو گلاس بنائے۔ اس کے پاس آکر ایک گلاس اس کی طرف بڑھایا۔ شاستری نے محتاط ہوکر کہا۔ ’’تم میرا گلاس تپائی پر رکھ دو اور واپس اپنی جگہ جاکر بیٹھ جائو۔‘‘
ڈاکو اس کا گلاس تپائی پر رکھ کر واپس پلٹ گیا اور اپنا گلاس لے کر اپنی جگہ پر جا بیٹھا۔ شاستری اسے اپنی نظروں کی گرفت میں لئے ذرا پیچھے ہٹ کر ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔
شاستری نے گھونٹ لیتے ہوئے اس کی طرف محتاط نظروں سے دیکھا اور بولا۔ ’’تم یہاں کس چیز کی تلاش میں آئے تھے مسٹر ڈاکو…؟‘‘
’’کسی خاص چیز کی تلاش میں نہیں…!‘‘ ڈاکو نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔ ’’چاندی کے ظروف، نقدی اور سونے کے زیورات! اس طرح کی جو بھی قیمتی چیز مل جائے تو اسے لے جاسکوں۔‘‘
’’چاندی کے ظروف تو تمہیں کچن کے شوکیس میں آسانی سے مل جاتے لیکن سونے کے زیورات حاصل کرنے کیلئے تمہیں میری پتنی کے کمرے میں گھسنا پڑتا اور شاید یہ تمہارے لئے جان جوکھوں کا کام ہوتا۔‘‘ شاستری معنی خیز انداز سے مسکرا دیا۔
ڈاکو نے ایک بار پھر کندھے اس طرح سے اچکائے جیسے وہ اس کا عادی ہو لیکن بولا کچھ نہیں۔
’’تم گھر میں کیسے داخل ہوئے؟‘‘ شاستری نے پوچھا۔
ڈاکو نے ایک کھڑکی کی طرف اشارہ کیا۔ شاستری نے کن انکھیوں سے دیکھا۔ اس کھڑکی کے تالے کے قریب شیشے میں چھوٹا سا گول سوراخ ہوچکا تھا۔ کسی خاص چیز کی مدد سے نہایت صفائی سے شیشہ کاٹا گیا تھا۔ پھر غالباً انگلی ڈال کر تالا کھول لیا گیا تھا۔
’’تم نے یقیناً ہمارے الارم سسٹم کو بھی ناکارہ بنا دیا ہوگا؟‘‘ شاستری نے کہا۔
’’ظاہر ہے۔ میں اپنے کام میں خاصا ماہر ہوں۔‘‘ اس نے سادگی سے جواب دیا۔
’’یقیناً…! لیکن پھر بھی تم نے تھوڑی بہت کھٹرپٹر ضرور کی ہوگی جس کی وجہ سے میری پتنی کی آنکھ کھل گئی اور اس نے مجھے تمہارے بارے میں خبردار کیا۔‘‘ شاستری نے بتایا۔ پھر اس نے پوچھا۔ ’’کیا تم تجوریاں بھی کھول لیتے ہو؟‘‘
’’بہت کم!‘‘ ڈاکو نے جواب دیا۔ ’’اب لوگ رقم تجوریوں میں نہیں بلکہ بینکوں میں رکھتے ہیں۔ یہ رواج تقریباً ختم ہوگیا ہے۔‘‘
’’خیر…! ایسا بھی نہیں ہے۔ تم اس گھر میں چوری کرکے بہت فائدے میں رہتے۔ کیا تمہارے پاس اوزاروں کا تھیلا نہیں ہے؟‘‘
ڈاکو نے دروازے کی طرف دیکھا لیکن کوئی جواب نہیں دیا۔ دروازے کے قریب کینوس کا ایک خاصا بڑا تھیلا رکھا تھا جو بہت پھولا ہوا تھا۔
’’شاید چاندی کے ظروف تم اس تھیلے میں ڈال چکے ہو؟‘‘ شاستری نے خیال ظاہر کیا۔ جب ڈاکو نے اس کے خیال کی تائید یا تردید نہیں کی تو اس نے اپنی بات جاری رکھی۔ ’’لیکن ان کی فروخت سے تمہیں کوئی خاص رقم نہیں ملے گی کیونکہ یہ خالص چاندی کے نہیں ہیں۔ اگر تم میری بیوی کے زیورات تک پہنچنے کی کوشش کرو تو وہ تیس چالیس لاکھ کے مالیت کے ہیں۔‘‘
’’ایک رات کی محنت کا یہ معاوضہ کافی ہے۔‘‘ ڈاکو نے جواب دیا۔
شاستری کے ذہن میں اس وقت دھیرے دھیرے ایک منصوبہ پرورش پا رہا تھا۔ اس منصوبے کی روشنی میں وہ اپنی پتنی اور ڈاکو کو قتل کرکے بامراد ہوسکتا تھا اس لئے اس نے محتاط انداز میں بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ’’میری تجوری میں اس وقت دو لاکھ کی رقم موجود ہے۔‘‘
’’میں اس پر آپ کو مبارکباد دے سکتا ہوں۔‘‘ ڈاکو نے سنجیدگی سے کہا۔
شاستری نے ایک لمحے خاموش رہ کر ایک بار پھر اس منصوبے پر غور کیا جو اس کے ذہن میں ابھر رہا تھا۔ شاید وہ منصوبہ اس کے ذہن کے کسی تاریک گوشے میں مہینوں سے موجود تھا۔
وہ نہایت احتیاط سے الفاظ کا انتخاب کرتے ہوئے بولا۔ ’’کچھ شرائط کی تکمیل کے بعد تم چاندی کے ظروف، میری بیوی کے تمام زیورات اور تجوری میں موجود دو لاکھ کی رقم ان سب چیزوں سمیت اس گھر سے ایک اونچا ہاتھ مار کر رخصت ہوسکتے ہو۔‘‘
وہ مشروب کا گلاس ہونٹوں تک لے جاتے ہوئے رک گیا اور اس نے مشکوک انداز سے شاستری کو گھورا اور بولا۔ ’’میں سمجھا نہیں…! تم نے بتایا تھا کہ تمہاری پتنی زیادہ گہری نیند نہیں سوتی اور وہ میری نقل و حرکت کی آواز سن کر بیدار ہوچکی ہے۔ اس کا مطلب ہے مجھے اگر اس کے زیورات اس کے قبضے سے حاصل کرنے ہوں تو اس کیلئے مجھے زبردستی کرنا ہوگی؟ گویا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں آپ کی پتنی کو موت کی میٹھی نیند سلا
دوں؟‘‘ اس کا انداز سوالیہ تھا۔
’’ہاں…! میری یہ دلی خواہش ہے۔‘‘ شاستری نے جواب دیا۔
’’وہ کس لئے…؟‘‘ ڈاکو کے لہجے میں تجسس تھا۔
’’اس لئے کہ ہم دونوں کے درمیان کوئی ایک ڈیڑھ برس سے تعلقات کشیدہ ہوچکے ہیں۔ نفرت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ایک دوسرے کی صورت تک دیکھنا گوارا نہیں۔ چونکہ اس کے پاس لاکھوں کی رقم، سونے اور ہیرے، جواہرات کے زیورات ہیں۔ اس وقت وہ دو تین کروڑ کے اثاثے کی مالک ہے۔ اگر ہم دونوں کے درمیان علیحدگی ہوجاتی ہے تو میں بھکاری بن جائوں گا اس لئے چاہتا ہوں کہ وہ مر جائے اور میں قانونی طور پر اس کے اثاثے کا وارث بن جائوں۔‘‘
’’میرے لئے یہ کام مشکل نہیں لیکن کیا اس کے سوا کوئی دوسری صورت نہیں ہے؟‘‘
’’نہیں…! میں تین چار ماہ سے منصوبہ بندی کررہا ہوں کہ راستے کا پتھر ہٹ جائے لیکن اس منصوبے میں ایسا کوئی نقص ہے جسے میں نہیں جانتا۔‘‘ اس نے دیانتداری سے اعتراف کیا۔
’’آپ کے خیال میں مجھے یہ کام کس طرح کرنا چاہئے؟‘‘
’’تم میرے ساتھ اوپر چلو گے۔ میں اپنی بیوی کے کمرے کے دروازے پر دستک دوں گا اور اسے بتائوں گا کہ نیچے کوئی ڈاکو نہیں ہے۔ وہ دروازہ کھول دے گی۔ تم اندر گھس جائو گے۔ تم سمجھ گئے ہو گے کہ آگے کیا کرنا ہے؟‘‘
’’سیدھے سادے الفاظ میں کمرے میں گھس کر میں اسے قتل کردوں؟‘‘
’’ہاں! اس کے قتل سے مجھے خوشی ہوگی۔‘‘ شاستری نے کہا۔
’’اس دوران آپ کہاں ہو گے؟‘‘
’’میں یہیں اس فرش پر بے ہوش پڑا ہوا ہوں گا میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ یہ کام مکمل اور بے عیب ہو۔‘‘
’’آپ پولیس کو کیا بیان دیں گے؟‘‘
’’میرا بیان ہوگا کہ ڈاکو نے ریوالور کے زور پر مجھے تجوری کھولنے پر مجبور کیا لیکن تجوری خالی تھی جس پر وہ مشتعل ہوگیا اور اس نے ریوالور کا دستہ مار کر مجھے بے ہوش کردیا۔ جب میں ہوش میں آنے کے بعد گرتا پڑتا اوپر پہنچا تو میں نے اپنی پتنی کو مردہ پایا۔ پھر فوراً ہی پولیس سے رابطہ کیا۔‘‘
’’یہ منصوبہ میری سمجھ میں نہیں آرہا۔‘‘ ڈاکو نے نفی کے انداز میں سر ہلایا۔
’’تمہارے سامنے کئی راستے ہیں۔ تم اس طرح کرو گے جس طرح میں بتا رہا ہوں اور یہاں سے ایک خاصے مالدار آدمی بن کر نکلو گے یا پھر تم پولیس کی حراست میں یہاں سے رخصت ہو گے اور ایک لمبے عرصے کیلئے جیل کی ہوا کھائو گے۔‘‘
ڈاکو نے ازسرنو اس تجویز پر غور کرنا شروع کیا۔ پھر بولا۔ ’’آپ ٹھیک کہتے ہیں۔‘‘
’’یعنی تم یہ کام انجام دینے کیلئے تیار ہو؟‘‘ شاستری نے تصدیق چاہی۔
’’پہلے میں دو لاکھ کی رقم ایک نظر دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ ڈاکو نے جواب دیا۔ ’’آپ بتائیں تجوری کہاں ہے؟‘‘
’’تم دو مرتبہ اس کے اوپر سے گزر چکے ہو۔‘‘ شاستری نے معنی خیز مسکراہٹ سے کہا۔ ’’اس جگہ جہاں شمع دان پڑا ہوا ہے، قالین کا کونا اٹھائو۔ اس کے نیچے چوبی فرش میں ایک پینل ہے۔‘‘
ڈاکو نے اس کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ کر قالین کا کونا اٹھا کر پینل کھولا تو اسے تجوری نظر آگئی۔ وہ سر اٹھا کر تحسین آمیز لہجے میں بولا۔ ’’بہت خوب…! تم نے بڑا زبردست کام کیا ہے۔ میں تمہاری ذہانت پر عش عش کر اٹھا ہوں۔‘‘
’’شکریہ…! تعریف کا۔‘‘ شاستری نے خوش ہوکر کہا پھر اسے تجوری کھولنے کا کمبی نیشن بتایا۔ ڈاکو نے گھٹنوں کے بل جھک کر تجوری کھولی، اس میں جھانکا پھر پلٹ کر استہزائیہ انداز سے بولا۔ ’’معلوم نہیں تم مجھے بے وقوف بنانے کی کوشش کررہے ہو۔ یہ کام تمہاری پتنی کرچکی ہے۔ وہ پہلے ہی تجوری میں جھاڑو پھیر چکی ہے۔ اس میں تو ایک کوڑی بھی نہیں۔‘‘
شاستری اضطراری انداز سے کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے حلق میں گرہیں پڑ گئیں۔ اسے یاد آیا کہ کبوری کو کمبی نیشن معلوم نہیں تھا لیکن اسے پھر خیال آیا کہ وہ ایک مکار عورت ہے، وہ کچھ بھی کرسکتی تھی۔ اس نے غیر محسوس انداز میں ہر بات کا کھوج لگا لیا تھا۔ جب کبھی وہ آرٹ گیلری کیلئے پینٹنگز کی خریداری کیلئے ممبئی جایا کرتا تھا، تب کسی تجوری کے ماہر سے رابطہ کرکے اس نے تجوری کے کمبی نیشن کا پتا چلا لیا ہوگا شاید وہ بھی اس کیلئے گڑھا کھود رہی ہوگی جس طرح وہ اس کیلئے کھود رہا تھا۔ اس کے دل میں شک و شبہات جنم لینے پر اس نے ایک خفیہ بٹن اس پینل کے پاس لگا دیا تھا کہ کوئی خطرہ محسوس کرنے پر اسے دبا دے۔ اس کا الارم قریبی تھانے سے منسلک تھا۔ الارم بجتے ہی پولیس تھوڑی دیر میں پہنچ جاتی۔
’’مذاق مت کرو۔‘‘ شاستری ڈوبتے دل کے ساتھ تیزی سے ڈاکو کے قریب پہنچا۔ ڈاکو نے ایک طرف ہٹ کر اسے جھانکنے کا موقع دیا۔ شاستری نے گھٹنوں کے بل جھک کر تجوری میں جھانکا تو اسے نوٹوں کے بنڈل دکھائی دیئے۔ اس کی رگ و پے میں طمانیت کی لہر دوڑ گئی لیکن وہ اس سے چند لمحوں سے زیادہ لطف اندوز نہ ہوسکا۔
’’تم نے صحیح طرح نہیں دیکھا…!‘‘ شاستری اتنا ہی کہہ پایا تھاکہ اس کی کھوپڑی پر کسی ٹھوس چیز کی زور دار ضرب پڑی۔ درد کی شدید لہر اٹھی اور اس کے ہاتھ سے ریوالور چھوٹ کر فرش پر گر پڑا۔ گرتے گرتے وہ سمجھ گیا تھا کہ ڈاکو نے عیاری سے کام لیا ہے۔ اس نے خفیہ بٹن دبا دیا۔ ڈاکو کے علم میں اس کی یہ حرکت اس لئے نہ آسکی تھی کہ وہ شمع دان اٹھانے لگا تھا ۔جب اس نے شاستری کو سنبھلتے دیکھا تو اپنی پوری قوت سے اس کی کھوپڑی کے نچلے حصے پر پے درپے بڑے بہیمانہ انداز میں ضربیں لگا دیں۔ شاستری ساکت و جامد ہوگیا۔ اب وہ اس سنسار میں نہیں رہا تھا۔
ڈاکو نے نبض دیکھ کر تسلی کرنے کے بعد نوٹوں کے بنڈل اس تھیلے میں ڈال لئے جو وہ ساتھ لایا تھا۔ پھر ریوالور اٹھا کر اسے بھی تھیلے میں ڈال لیا۔ ڈاکو فاتحانہ انداز میں مسکرایا۔ اس نے جو منصوبہ بنایا تھا، وہ پوری طرح کامیاب رہا تھا۔
گھر سے نکلتے وقت اس نے اوپر جاکر کبوری کے ساتھ اس کامیابی کا جشن منانے اور زیورات کے بارے میں سوچا تک نہیں تھا کیونکہ کبوری ایک دو ماہ تک غم منانے کے بعد سدا کیلئے اس کی ہونے والی تھی جس کے بعد کبوری کا سارا اثاثہ اس کا ہونے والا تھا کیونکہ وہ اس کا دوسرا پتی بننے والا تھا پھر ایک ڈیڑھ برس بعد وہ کبوری کو کسی حادثاتی موت کا نشانہ بڑی آسانی سے بنا سکتا تھا۔
چند قدم چلنے کے بعد وہ اک دم ٹھٹھک کے رک گیا۔ اسے جیکٹ کی ابھری ہوئی جیب میں کسی چیز کی موجودگی کا احساس ہوا تو وہ چونک گیا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر اسے نکالا تو اس کا خون خشک ہوگیا۔ وہ باریک شفاف دستانے تھے جو وہ واردات کرنے سے پہلے پہننا بھول گیا تھا۔ اس کی بھول نے اس کا سپنا، کبوری اور دولت کو چھین لیا تھا۔
٭…٭…٭
کبوری نے اس کمرے کے روشندان میں چھت سے جھانک کر لرزہ خیز ڈراما دیکھا۔ اس نے اپنے آشنا پرکاش سے کہا تھا کہ وہ اس کے پتی کو قتل نہ کرے بلکہ اسے اس طرح معذور اور اپاہج کردے کہ بھکاری سے بدتر ہوجائے اور ایک آدھ ماہ میں سسک سسک کر مر جائے۔ وہ اپنے پتی سے انتقام لینا چاہتی تھی۔ پرکاش نے اس سے کہا تھا ۔’’محبت اور جنگ میں جس طرح ہر چیز جائز ہوتی ہے، اس طرح دولت کے حصول کیلئے کسی کو قتل کرنا بھی جائز ہوتا ہے‘‘۔ کبوری نے اس واردات کے دوران سوچا تھا کہ پرکاش اس کا دوسرا پتی بننے کے بعد دولت کے حصول کیلئے اسے بھی قتل کردےگا۔ وہ ایک سفاک قاتل کی پتنی بننا نہیں چاہتی تھی۔ اب چونکہ وہ دولت مند بیوہ ہوچکی ہے، اس کےلئے اسے کسی پتی کی کیا کمی ہوگی لہٰذا وہ اپنے آشنا کو اپنانے کی بھول نہیں کرے گی۔
اس نے پولیس کو فون کرنے کیلئے ریسیور اٹھایا کہ پولیس کی گاڑی کا سائرن سنائی دیا جو ہر لمحہ قریب سے قریب ہوتا جارہا تھا۔
شاستری نے مرتے مرتے اپنے قاتل کو کیفرکردار تک پہنچا دیا تھا۔ اگر وہ خفیہ بٹن دبانا بھول جاتا تو پھر اس
; سب کچھ پا لیتا۔
(ختم شد)