Bin Chahon Ka Darakht | Teen Auratien Teen Kahaniyan

3427
میرے شوہر وکالت سے اتنا کمالیتے تھے کہ بخوبی گزر بسر ہوجاتی تھی۔ یہ بات نہیں کہ ان میں قابلیت کی کمی تھی وہ بہت قابل آدمی تھے اعلیٰ درجے کے وکلاء میں ان کا شمار ہوجاتا لیکن کچھ بری عادات نے ان کو ترقی کے مراحل طے نہ کرنے دیے۔
وسیم سے میری شادی اسی وجہ سے طے پائی تھی کہ شروع میں وہ ایک ہونہار وکیل تھے۔ والد کا خیال تھا یہ شخص بہت جلد ترقی کرکے اعلیٰ مقام پر ہوگا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ جونہی ان کی وکالت چمکی… کچھ اوباش دوستوں نے انہیں گھیر لیا اور وہ سیدھی راہ سے بھٹک گئے۔ شراب نوشی کی محفلوں میں شرکت کرنے لگے اور رقص و سرود کے ایسے رسیا ہوئے کہ صبح جو کماتے رات کو کسی رقاصہ پر وار کر آجاتے۔ ایسے لوگ بھلا کیونکر ترقی کی بلندیوں تک پہنچ سکتے ہیں جو ابتداء میں ہی ٹھوکر کھائیں۔ تین بچے ہوگئے مگر نہ سدھرے۔
شب بھر غلط محفلوں میں بیداری کی وجہ سے صبح دیر تک سوتے رہتے اور جب بیدار ہوتے تو نشہ ٹوٹ رہا ہوتا۔ تب اس قابل نہ رہتے کہ وقت پر کورٹ جاکر اپنے موکلان سے انصاف کرسکیں جو ان کو فیس دیتے تھے ہمارے بچوں کے رزق روزی کا ذریعہ تھے۔
میں وسیم کو سمجھاتی کہ ابھی بچے چھوٹے ہیں۔ ان کے اخراجات کم ہیں۔ جب یہ بڑے ہوجائیں گے تو خرچے بڑھ جائیں گے ہمیں انہیںاعلیٰ تعلیم دلوانی ہے اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھائی کے اخراجات کیسے برداشت کریں گے۔ خدارا… سنبھل جائیے۔ ابھی وقت ہے آگے چل کر مشکلات بڑھیں گی جب ساکھ خراب ہوجاتی ہے تو کوئی ایسے وکیل کو کیس دینا پسند نہیں کرتا۔ میرے سمجھانے کا ان پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ رفتہ رفتہ وہ اپنے پیشے سے آئوٹ ہوگئے۔ اب ہمارا گزارہ ان مکانات اور دکانوں کے کرایوں پر ہونے لگا جو میرے سسر وراثت میں چھوڑ گئے تھے۔
وقت تیزی سے گزرتا جا رہا تھا۔ بچوں کے اسکول سے کالج پہنچنے تک وسیم کی صحت نے جواب دے دیا۔ شراب نوشی نے ان کے جگر کو پارہ پارہ کردیا تھا۔ بالآخر وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔ ہم ان کی کمائی سے تو محروم تھے ہی میرے بچے اپنے باپ کے سائے سے بھی محروم ہوگئے۔ ابھی میرے تینوں بچے پڑھ رہے تھے۔ ان کی کشتی بیچ منجدھار میں تھی، اس کشتی کو پار لگانا اب میری ذمہ داری تھی۔ انہیں میں نے ہی پڑھا لکھا کر ان کی منزلوں تک پہنچانا تھا۔
سسرالی رشتہ دار گرچہ بااخلاق تھے لیکن وہ میری مالی مدد نہ کرسکتے تھے اور نہ کسی اور طرح کی معاونت میرے بچوں کی ان سے ہوسکتی تھی۔ وسیم نے بیماری کے دنوں میں اپنی جائداد کا مختیار کار سوتیلے بھائی حبیب کو بنادیا تھا۔ حبیب یوں تو بھلا مانس آدمی تھا اور ہمارے حصے کی جائداد پر قبضہ کرنے کا اس کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ میٹرک پاس ہونے کی وجہ سے ان کی سوچ محدود تھی۔ وہ کبھی اپنے شہر سے باہر نہ گئے تھے۔ دیہاتی سوچ کے حامل تھے تاہم میرے بچوں کے خیرخواہ تھے۔ ان کے خیال میں عورت ہونے کے ناتے مجھ میں وراثت سنبھالنے کی اہلیت نہ تھی۔ اسی لیے میرے شوہر اپنے بھائی کو یہ اختیار دے کر گئے کہ جب تک ان کے بیٹے بالغ نہ ہو جائیں وہی وراثت کے امور کی دیکھ بھال اور نگرانی کریں گے۔
حبیب بھائی ہر ماہ مکانوں اور دکانوں کا کرایہ وصول کرکے مجھے ایک مقررہ رقم خرچے کے لیے دیتے تھے اور باقی رقم بینک میں جمع کرا دیتے تاکہ بچوں کی تعلیم اور ان کی شادی بیاہ کے وقت یہ سرمایہ کام آئے، اگر فارغ التحصیل ہونے کے بعد کوئی کاروبار کرنا چاہیں تو میرے بیٹے کرسکیں۔ یہ میرے دیور کی اچھی سوچ تھی لہٰذا میں بھی کم پیسوں میں گزارہ کرتی رہی۔ کبھی ان سے شکوہ نہ کیا کہ ہماری ضروریات سے کم رقم دیتے ہو بمشکل گزارہ ہوتا ہے۔ حبیب بھائی کہتے تھے بھابھی آپ اور آپ کے بچوں کے بھلے کی خاطر کفایت شعاری کرتا ہوں۔ بچے نا سمجھ ہوتے ہیں یہ تم سے طرح طرح کی فرمائشیں کریں گے… اور پھر ان کی فرمائشیں بڑھتی جائیں گی۔
میں حبیب بھائی سے الجھنا نہ چاہتی تھی، ہمارا مکان بھی ان کے گھر سے متصل تھا۔ یوں کہنا چاہیے کہ ان لوگوں کے سہارے بیوگی کے دن عزت سے کاٹ رہی تھی اور کسی کو ہماری طرف ٹیڑھی نظروں سے دیکھنے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔ میرے بچوں کو بھی چچا کا ڈر رہتا تھا۔
میری بیٹی ایک ہی تھی، دو بیٹے حسیب اور فہیم اس سے چھوٹے تھے۔ جونہی حسیب سولہ سال کا ہوا اس نے پر پرزے نکال لیے۔ پڑھائی کی طرف سے توجہ ہٹ گئی۔ اور سارا وقت دوستوں کے ساتھ گزارنے لگا۔ تب میرے دیور کو فکر ہوئی اور وہ دن رات اس کی نگرانی کرنے لگے تاکہ بھتیجا بگڑ نہ جائے۔ فہیم البتہ پڑھائی پر دھیان مرکوز کئے رکھتا اس سے اچھی امیدیں وابستہ تھیں۔
مناہل تو باپ کی لاڈلی رہی تھی۔ وہ کسی کو خاطر میں نہ لاتی۔ اکثر میرا کہا بھی نہ سنتی، اور اپنی من مانی کرتی۔ جب میں نصیحت کرتی ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا دیتی تھی۔ لڑکی ذات تھی۔ وہ منہ زور ہوتی جارہی تھی مجھے اس کی بہت فکر تھی۔ چاہتی تھی کہ یہ بی اے مکمل کرلے تو اس کی شادی کردوں تاکہ سکون کی نیند سو سکوں۔ حبیب بھائی سے بھی کہتی تھی کہ اس کے لیے کوئی اچھا لڑکا ڈھونڈو۔ تاکہ یہ بیل وقت پر منڈھے چڑھ جائے۔ کئی اچھی رشتے آئے ہر بار وہ انکار کردیتی۔ میں بہت پریشان تھی کہ یہ کب مانے گی۔ جن دنوں بی اے کے سالانہ پرچے ہورہے تھے میری دعا قبول ہوگئی اور اس کے لیے فہد کا رشتہ آگیا۔
ہمارے شہر کے قریب میرے شوہر کے رشتے داروں کا گائوں تھا۔ وہاں وسیم کے چچا زاد بھائی رہتے تھے، ان کی یہاں تقریباً چالیس بیگھے اراضی تھی۔ یہ دیکھے بھالے اور ٹھیک ٹھاک لوگ تھے۔ ان میں سے ایک بھائی کا نام شیر خاں تھا۔ فہد اسی کا بیٹا تھا۔ گرچہ ان لوگوں کا ہمارے گھر شاذ و نادر آنا ہوتا لیکن یہ اطمینان تھا کہ بالکل غیر لوگ نہیں ہیں کیونکہ اجنبیوں سے رشتے ناتے جوڑنا بھی دل گردے کا کام ہوتا ہے کہ انجان لوگ ہوتے ہیں بعد کے برتائو کا پتا نہیں ہوتا۔
فہد خوش شکل اور تعلیم یافتہ تھا، قبل ازیں جتنے رشتے آئے، مجھے سب میں یہ زیادہ مناسب لگا۔ مناہل نے بھی انکار نہ کیا تو میں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ جانتی تھی میری لڑکی لاڈلی اور الگ مزاج کی ہے، اس پر زبردستی کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جاسکتا تھا۔ وہ شادی تبھی کرے گی جب اس کی مرضی ہوگی۔ وہ کسی اور کی پسند کا لباس بھی قبول نہ کرتی تھی تو شریک زندگی کے معاملے میں کسی اور کی پسند پر کیسے انحصار کرسکتی تھی۔ وہ پسند اور اور ناپسند کے معاملے میں دو ٹوک تھی۔ فہد کا نام لیا تو فوراً ہاں کہہ دی۔ میری خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا کہ چلو اس نے رشتہ تو منظور کیا۔ اس طرح میری ایک بڑی الجھن سلجھ گئی۔ حسیب اور فہیم نے بھی اس رشتہ کو پسند کیا تو میں نے ہاں، کہہ دی۔ اس کے بعد فہد ہمارے گھر آنے لگا۔ وہ ہمارے گھر کے ماحول کا اندازہ کرنا چاہتا تھا اور میں اس کی آئو بھگت یوں کرتی کہ اس سے بات چیت رہے تاکہ ذہن پڑھ سکوں، اس کے خیالات سے آگاہی ہو۔
رفتہ رفتہ اندازہ ہوگیا کہ فہد ایک اچھی طبیعت کا مالک انسان ہے۔ اس کے مزاج میں لچک تھی اور وہ سمجھوتے کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ ہنس مکھ، خوش مزاج اور خوش اخلاق تھا۔ اسے محنت کے ذریعے ترقی کرنے اور زندگی میں کچھ کر دکھانے کی امنگ تھی۔ سوچتی تھی میری خوش قسمتی ہے کہ ایسا سلجھا ہوا تعلیم یافتہ لڑکا میرا داماد بننے جارہا ہے۔ لیکن انسان کا کچھ پتا نہیں چلتا… کہ اللہ کی اس مخلوق کو بدلتے دیر نہیں لگتی۔
یہ دو بھائی تھے۔ بڑے بھائی کا نام سجاول تھا۔ اس نے اپنے والد کی وفات کے بعد کنبے کا بہت خیال رکھا۔ زمینوں کا سارا انتظام وہی سنبھالتا تھا۔ اسی نے فہد کو گائوں سے بڑے شہر تعلیم کے لیے بھیجا اور تمام خرچہ اٹھایا تھا۔ فہد کے گھر والے سجاول کا حکم مانتے تھے۔ ہم سے رشتہ جوڑنے میں بھی سجاول ہی پیش پیش تھا۔
وہ دن آپہنچا جب میری بیٹی دلہن بن کر گائوں کی حویلی میں چلی گئی۔ سسرال میں اس کو عزت اور پیار ملا۔ بہت خوش تھی پڑھی لکھی اور خوبصورت تھی اس وجہ سے بھی سسرال میں اس کی قدر و منزلت تھی۔ لیکن ایک وجہ بھاری جہیز بھی تھا جو مناہل کو اس کے چچا نے شادی کے موقع پر دیا تھا۔ دو ٹرک بھرکر فرنیچر اور تمام ضروری سامان دیا۔ شادی بھی خوب دھوم دھام سے کی کہ فہد کے گائوں والے عش عش کر اٹھے تھے۔
میں اپنے دیور کی کفایت شعاری اور دور اندیشی کی معترف ہوگئی کہ انہوں نے کتنے صحیح موقع پر بچت کردہ سرمائے کو خرچ کیا تھا۔ بھتیجی کی شادی میں زیورات، قیمتی جوڑے غرض کسی شے کی کمی نہ ہونے دی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ بھاری جہیز کی وجہ سے وہ لوگ میری بیٹی کو سر آنکھوں پر بٹھا رہے تھے۔ سسرال میں اس کی عزت و احترام بڑھ گیا تھا۔ بظاہر یہ لوگ لالچی نہ تھے لیکن… جلد ہی یہ حقیقت ہم پر آشکار ہوگئی کہ ان لوگوں کی نظریں ہماری جائداد پر لگی ہیں۔
ابھی شادی کو چھ ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ انہوں نے مناہل کو کہنا شروع کردیا کہ اپنی والدہ سے کہو تمہارے حصے کی جائداد الگ کردیں۔ پہلے مناہل نے ٹالا لیکن ان لوگوں کا مطالبہ بڑھتا گیا اور رویہ بھی ظالمانہ ہوگیا تو اسے مجھے بتانا پڑا، میں نے کہا۔ مناہل بیٹی جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے ہیں تمہاری شادی کو اور ان لوگوں نے جائداد کے حصے کے لیے تم کو ستانا شروع کردیا ہے۔ یہ ٹھیک لوگ نہیں ہیں۔ وہ بولی ماں… میرے جیٹھ کا کہنا ہے کل کلاں کو تمہارے چچا کی نیت خراب ہوگئی تو وہ تمہارا حصہ نہ دیں گے، یہ تمہارا حق ہے ان سے اپنی وراثت لے لو۔
مجھے صدمہ ہوا، مناہل ہماری بیٹی تھی اس بارے میں ہمیں سوچنا تھا کہ کس طرح اس کا مستقبل محفوظ ہوگا۔ ہماری وراثت کے حصے بخرے کرنے کا مطالبہ کرنا اس کے سسرال والوں کو زیب نہ دیتا تھا۔ میں نے کہا بیٹی تمہارے چچا کو وسیم نے اس وجہ سے مختیارکار بنایا تھا کہ اس وقت تم لوگ نابالغ تھے جبکہ وہ دیانت دار ہیں آج تک میں نے ان سے اختیار واپس کرنے کو نہیں کہا۔ وہ ہماری جائداد کے امور اچھے طریقے سے سنبھال رہے ہیں۔ جب تمہارے بھائی بالغ ہوجائیں گے وہ خود بخود مختیار کار بن جائیں گے پھرجو تمہارا حق ہوگا وہ مل جائے گا۔
ماں میں آپ کی اولاد میں سب سے بڑی ہوں، مکانات اور دکانیں فروخت کرکے میرا حصہ دے دیں تاکہ میری زندگی سے یہ روز کی چیخ چیخ ختم ہوجائے۔
بیٹی سسرال والوں کی باتوں میں نہ آئو۔ مناسب وقت پر تمہارے چچا کے کان میں یہ بات ڈالوں گی۔
کچھ دن گزرے فہد آیا اور


باتوں باتوں میں سوال کیا آنٹی آپ کی کتنی دکانیں اور مکانات ہیں۔ کیا یہ مرحوم انکل کے نام یا آپ کے نام پر ہیں۔ یہ عجیب سوال تھا۔ تاہم جواب دیا کہ تین دکانیں اور چار مکانات ہیں۔ ایک میں ہم رہتے ہیں اور باقی سب کرائے پر اٹھے ہیں۔
کرائے میں مناہل کا حق بھی بنتا ہے ہاں… وہ حصہ اس کے چچا نکال کر مناہل کے نام جمع کرا دیتے ہیں۔ یہ اس کی امانت ہے، مناسب وقت پر دے دیں گے لیکن تم کیوں پوچھ رہے ہو۔
میں بزنس کرنا چاہتا ہوں تبھی پوچھا ہے۔
اچھا حبیب بھائی سے ذکر کروں گی۔
اس کے بعد وہ مسلسل میری بیٹی کو تنگ کرنے لگا کہ حصہ لائو تاکہ بیچ کر شہر میں مکان لے لیں یا کوئی کاروبار کرسکوں۔
پہلے مناہل برداشت کرتی رہی لیکن جب شوہر کا مطالبہ برداشت سے باہر ہوگیا تو میری بیٹی نے رو کر التجا کی۔ ماں اپنی زندگی میں میرے حصے کا فیصلہ کردیں۔ تاکہ میں سکون سے جی سکوں۔ یہ لوگ وراثت میں میرا حصہ لیے بغیر چین سے نہ بیٹھیں گے۔
عجیب بات ہے فہد کی اپنے حصے کی زمین کافی ہے، کروڑوں کی ہے، چاہے تو اس کو بیچ کر کاروبار کرسکتا تھا۔ بیٹی کے مجبور کرنے پر میں نے دوبارہ حبیب بھائی سے بات کی۔ انہوں نے کہا بھابھی ہم مناہل کا حصہ اس کو ضرور دیں گے لیکن ان لوگوں کے حوالے نہیں کریں گے۔ مناہل کے ساتھ آگے جانے یہ کیا کریں۔ خدا نہ کرے اس پر کبھی برا وقت آئے تب وہ کیا کرے گی۔ اگر ہم نے مناہل کے حصے کی جائداد اس کے حوالے کردی تو یہ اگلے دن بیچ کر برابر کردیں گے، اس بے چاری کو خالی دامن کیا تو وہ کیا کرے گی؟ سوچئے ذرا… اس کا حصہ آپ فی الحال اپنی تحویل میں رکھیں جب مناہل صاحب اولاد ہوجائے تب دے دینا۔
دیور کی بات معقول تھی بیٹی کے سسرالی مجھے معقول لوگ نہ لگ رہے تھے۔ میں نے بچی کو بتادیا کہ تمہارے چچا ابھی بٹوارے کے حق میں نہیں ہیں تمہیں تھوڑا سا صبر کرنا پڑے گا۔
اب ادھر سے دھمکیاں ملنے لگیں اگر مناہل کا حق اس کو ابھی نہ دیا تو ہم طلاق دے کر اسے چلتا کردیں گے، میں خاموش تھی اور یہ بات منہ سے نہ نکالنا چاہتی تھی۔ دیور سے دبے لفظوں کہتی تھی کہ بیٹی کا حق ہے کل بھی دینا ہے تو آج مناہل کا جو حصہ بنتا ہے اسے دے دو۔ کل جانے کیا ہو۔
دیور نہ مانے۔ میرے لڑکوں نے بھی کہا کہ ابھی ہم کو تعلیم مکمل کرنے دیں… اس کے بعد جائداد کے حصے کرنے کا سوچیں گے جب مرد یک زبان ہوگئے مجھے خاموش ہونا پڑا لیکن داماد اور اس کے گھر والے خاموش نہ بیٹھے۔ انہوں نے میری بیٹی کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی۔ مناہل جب میکے آتی اس کی آنکھیں سوجی ہوتیں اور بدن پر مار پیٹ کی وجہ سے نیل پڑے ہوتے تھے۔
رو رو کر کہتی… ماں خدا کے لیے چچا کو سمجھائو وہ میرا حصہ دے دیں… نہیں تو میرا گھر اجڑ جائے گا۔
ایک روز حبیب بھائی نے کہا اگر بھائی کے نام پر جائداد ہوتی تو میں کب کا فیصلہ کرچکا ہوتا لیکن یہ جائداد وہ آپ کے نام کر گئے ہیں اور آپ حیات ہیں اب جیسا چاہیں طے کرلیں۔ میں بس کرایہ داروں کے امور سنبھالنے میں آپ کا معاون رہوں گا۔ البتہ جس گھر میں آپ لوگ رہ رہے ہیں یہ وسیم بھائی کے نام ہے۔ آپ جو فیصلہ کریں گی مجھے اعتراض نہیں ہوگا۔
ابھی تک مناہل اورا س کے سسرال والوں کے معاملات سے میں نے اپنے دونوں بیٹوں کو دور رکھا تھا۔ بالآخر حسیب سے کہنا پڑا کہ فہد اور اس کے گھر والے مناہل سے ایسی بات کررہے ہیں۔ وہ یہ سن کر چراغ پا ہوگیا۔ بولا وہ کون ہوتے ہیں ہماری جائداد کے حصے بخرے کرنے کا مطالبہ کرنے والے۔ جب ہماری منشاء ہوگی اپنی بہن کو دیں گے۔ یہ مناہل کا حق ہے ان کا نہیں ہے۔
بیٹا… بچیوں کے سسرالیوں کا ان معاملات سے کچھ نہ کچھ تعلق ہوتا ہے۔ اگر ہم وقت پر اپنی بیٹی کو اس کا حق دے دیں تو سسرال میں اس کی قدر و منزلت بڑھ جائے گی وہ سکون کی زندگی بسر کرسکے گی۔
ماں آپ کتنی بھولی ہیں۔ ایسے لوگ کبھی کسی کو سکون سے رہنے نہیں دیتے۔ ان کے عزائم ٹھیک نہیں ہیں۔ انہوں نے مناہل سے نہیں اس کی جائداد سے شادی کی تھی میں کبھی اجازت نہ دوں گا کہ میری بہن کی سیکورٹی کو آپ دائو پر لگائیں۔
ہر کسی کی اپنی سوچ تھی۔ میں بے بس اور مجبور تھی۔ مجھے بس یہی فکر تھی کسی صورت مناہل خوش رہے اور اس کا گھر آباد رہے۔
مردوں کی اپنی سوچ ہوتی ہے عورتوں کی اپنی۔ میں پھر ماں تھی۔ اپنے لڑکوں کے خلاف کورٹ کچہری نہیں جاسکتی تھی۔ میرے بڑھاپے کا سہارا میرے بیٹے تھے، داماد نہیں تھا۔ بیٹوں کو ناراض کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہ سکتی تھی۔ جب سے مناہل کی شادی ہوئی تھی، وراثتی حق کے چکر میں اس کا ایک دن بھی سکون سے نہیں گزرا تھا۔ مجبور کرنے پر بالآخر دیور نے میرا ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیا۔ میں نے ایک مکان اور دکان جو پہلے سے میرے نام تھی۔ بیٹی کے نام کردی۔ خیال تھا اب وہ لوگ شانت ہوجائیں گے۔ افسوس ایسا نہ ہوسکا۔ ان لوگوں کے کچھ اور ہی عزائم تھے۔ اللہ جانے وہ کس جرم کی سزا پا رہی تھی، اپنا گھر بسائے رکھنا چاہتی تھی ورنہ کبھی اپنے حصے کا مطالبہ نہ کرتی۔
کچھ دن بعد وہ پھر روتی دھوتی آپہنچی، کہا کہ فہد کہتے ہیں تمہارا حصہ زیادہ بنتا ہے، جس گھر میں تمہاری ماں اور بھائی رہتے ہیں وہ کافی بڑا اور قیمتی ہے، اس میں سے ان لوگوں نے حق نہیں دیا۔ یہ گھر تمہارے والد کے نام ہے تم اپنا حصہ عدالت سے بھی لے سکتی ہو۔
مناہل کا ہی نہیں میرا بھی سکون برباد ہو کر رہ گیا۔ اب فہد اپنے مطالبے سے دست بردار ہونے پر تیار تھا اور نہ میرے بیٹے مان رہے تھے کہ بہن کا حصہ دینے کے لیے وہ آبائی گھر کو فوری طور پر فروخت کردیں۔ ہم ماں بیٹی دو پاٹوں کے بیچ پس رہی تھیں۔ میں نے آبائی گھر فروخت کرنے کا ارادہ کرلیا کیونکہ مناہل کی آنکھوں میں ہر وقت آنسو نہ دیکھ سکتی تھی۔ اس کا جیب خرچ بند کردیا گیا۔ اس کے حصے کے کرائے میں سے رقم اسے پہنچانے لگی۔ اس پر بیٹوں کے دل میں میرے لیے خفگی آگئی کیونکہ جائداد جلد فروخت کرنے پر قیمت پوری نہ ملتی۔ حبیب بھائی نے بھی فہد کو سمجھایا کہ اب مطالبات ختم کرو آنٹی حیات ہیں۔ وہ آبائی گھر سے نکلیں گی تو کہاں جائیں گی۔ جب مکمل بٹوارہ ہوگا جو کمی بیشی ہوگی آپ کی بیوی کو مل جائے گی، فیصلہ امی پر چھوڑ دیں ان شاء اللہ آپ لوگ خسارے میں نہ رہیں گے۔ فی الحال ایک مکان اور دکان سے کام چلائیں۔
فہد کو میرے بڑھاپے کے مسائل کی پروا نہ تھی۔ ایک مکان ایک دکان لے کر بھی اسے چین نہ آیا۔ اس نے میری بیٹی کا عرصہ حیات تنگ کردیا۔ مکان اور دکان بیچ دیا اور سرمائے سے بزنس کیا، جس کا اسے تجربہ نہ تھا اور سارا سرمایہ ضائع ہوگیا تو گھر میں چخ چخ اور بڑھ گئی۔ پہلے مناہل بھائیوں کو الزام دیتی تھی اب اسے معلوم ہوگیا کہ وہ اور چچا صحیح سوچ رہے تھے۔ فہد اور اس کے گھر والوں کو مناہل سے زیادہ اس کی جائداد ہتھیانے میں دلچسپی تھی، اب یہ وراثتی حق میری بیٹی کے لیے ایک پھنکارتا ہوا سانپ بن چکا تھا۔ اللہ نے مناہل کو ابھی تک اولاد کی نعمت سے نہیں نوازا تھا۔ فہد کے گھر میں اسے کسی قسم کی سیکورٹی نہ تھی۔ یہ لوگ خود زرعی اراضی اور جائداد کے مالک تھے لیکن اپنی جائداد بیچنے کی بجائے میری بیٹی کے حصے کی جائداد پر نظریں گاڑھے ہوئے تھے۔
باپ نہ رہے تو بیٹی بے چاری بے کس و بے بس ہوجاتی ہے۔ چچا کو وہ لوگ گردانتے نہ تھے، دونوں لڑکے ابھی طالب علم تھے۔ تبھی سسرالیوں کی بن آئی تھی۔ وہ ہر طرح سے مناہل کو دبانے اور تنگ کرکے اپنا مفاد تلاش کررہے تھے۔ ہماری شہری جائداد تھی۔ یہاں مکانات بہت مہنگے تھے کیونکہ ہمارے مکانات کی مکانیت بہت زیادہ تھی، لیکن میرے لیے تو یہ اثاثہ مصیبت ہی ثابت ہوا۔ بیٹی کیا بیاہی لالچی لوگوں نے سکون لوٹ لیا۔ اللہ ایسی سسرال کسی لڑکی کو نہ دے۔
مناہل کو گھر بچانے کی پڑی تھی۔ یہ نہ سوچتی تھی کہ مکانات اور دکانوں کے کرایوں سے ہی ہمارا گھر چلتا ہے اور دونوں بھائیوں کی تعلیم جاری ہے۔ میرے لڑکے ابھی کمانے کے لائق نہ تھے، جب تک کمانے کے لائق نہ ہوجاتے ہمیں اپنی جائداد کے کرایوں پر ہی انحصار کرنا تھا۔ بیٹی نے مجھے مجبور کردیا، بالآخر ہمیں جائداد فروخت کرکے اس کا حصہ دینا پڑا اور باقی رقم سے اپنے لیے چھوٹا گھر خرید لیا۔ حسیب اور فہیم نے بھی اپنا اپنا حصہ رقم کی صورت لے لیا اور بینک میں جمع کرا دیا۔ جائداد بکتی ہے تو لگتا ہے بڑے منافع سے بکی ہے بہت روپیہ حاصل ہوا ہے۔ اس رقم سے یہ کریں گے وہ کریں گے لیکن فراست سے کام نہ کیا جائے تو رقم کے ضائع ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
بڑے بیٹے نے بزنس کا سوچا اور بغیر تجربے کے سرمایہ لگا دیا۔ جو دوست ساتھ تھے وہ بھی نا اہل نکلے اور چند سالوں میں سارا سرمایہ ڈوب گیا۔ چھوٹے نے اپنے حصے سے بزنس کرنے کی بجائے غیرآباد جگہ کچھ سستے پلاٹ لے لیے۔ مگر وہاں آباد کاری میں ابھی برسوں درکار تھے، فی الحال تو آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ رہا۔ رہنے کے لیے جو مکان میں نے خریدا تھا اس کی اوپری منزل کرائے پر دے کر کچن کے خرچے پورے کرتی اور دونوں بیٹے نوکری کی تلاش میں مارے مارے پھرنے لگے۔
بڑے لڑکے کے خیالات اونچے تھے، اس نے کوئی معمولی نوکری قبول نہ کی اور ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ گیا۔ چھوٹے نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اپنے چچا کے توسط سے ایک درمیانہ درجے کی نوکری کرلی اور حبیب بھائی کی بیٹی سے شادی کرلی، اس طرح اس کا گھر بس گیا اور گزر بسر بھی ہونے لگی۔ لیکن حسیب پریشان حال رہنے لگا۔
اس کی پریشانی دیکھ کر میں روز جیتی اور روز مرتی تھی۔ لیکن کچھ نہ کرسکتی تھی۔ بالائی منزل کا جو کرایہ آتا کچن کا خرچہ بمشکل پورا ہوتا۔ حسیب تھا کہ ہر وقت مجھے الزام دیتا کہ آپ کی اور آپ کی بیٹی کی جلد بازی نے ہم کوکنگال کردیا۔ یہ سب قربانی مناہل کا گھر بسائے رکھنے کی خاطر دی تھی لیکن اسے خوشیاں پھر بھی نہ ملیں۔ شوہر نے طلاق تو نہ دی لیکن اولاد نہ ہونے کے سبب اسے دوسری شادی کا بہانہ مل گیا اور چار سال کے انتظارکے بعد اس نے مناہل پر سوتن لا بٹھائی، میری بیٹی بے چاری اپنی ہر شے شوہر پر وار دینے کے باوجود اس کی وفا کو نہ جیت سکی۔ سوتن کے بچے ہوگئے تو اس کا راج ہوگیا۔ وہ مہارانی اور یہ نوکرانی بن گئی۔ وہ اب کوڑی کوڑی کے لیے ان لوگوں کی محتاج تھی، سخت ناخوش رہتی تھی۔ کہتی کہ ماں ایسے گھرکو آباد رکھنے کے لیے قربانیاں دینے کی بجائے آپ
کا کہا مان لیتی۔ اس لالچی انسان کو چھوڑ دیتی کم از کم آج میرے حصے کی جائداد تو میرے کام آتی۔ بھائی بھی ناراض نہ ہوتے۔ میرے دونوں بیٹے یہی سمجھتے تھے کہ یہ سب بربادی مناہل کی وجہ سے ہوئی ہے۔ وہ نہ شوہر کی ہم زبان ہوتی اور نہ ہماری جائداد مٹی میں ملتی۔ آج ہم بھی عزت کی زندگی بسر کررہے ہوتے اور کوڑی کوڑی کے محتاج نہ ہوتے۔
بے شک بیٹی کا شرعی حق اسے ضرور دینا چاہیے لیکن لالچی داماد اور اس کے گھر والوں کے ہاتھوں میں اس کی وراثت نہیں سونپ دینا چاہیے ورنہ بیٹی کا حال وہ ہوسکتا ہے جیسا میری مناہل کا ہوا۔ (ن … ملتان)