Friday, May 24, 2024

Bohat Muqaddas Hai Ye Bandan | Teen Auratien Teen Kahaniyan

اکثر سوچتی ہوں کون ہوں؟ کہاں سے آئی ہوں اور میں بیٹی کس کی ہوں؟ بہنوں میں سب سے بڑی تھی لیکن عجب بات کہ ابا جب چوڑیاں ہار، بُندے، کلپ یا کپڑوں کے جوڑے لاتے تو پسند کرنے کے لیے میرا نمبر نہیں آتا تھا۔ وہ سب چیزیں میری چھوٹی بہنوں کے آگے رکھ دیتے اور میں حسرت سے دیکھتی رہتی۔ بہنیں اپنی اپنی پسند کی چیزیں اُٹھا لیتیں اور میں چپ چاپ کھڑی تماشا دیکھتی رہتی۔ تب اماں بھی نہ کہتیں، ریحانہ تم کیوں دُور کھڑی ہو، آئو تم بھی لے لو۔ دیکھو تو بیچاری کس طرح دیکھ رہی ہے۔ ریحانہ آئو تم بھی لے لو… ابا بھی اُس وقت یہ بات کہتے جب بہنیں ساری چیزیں لے چکی ہوتیں۔
کچھ بچے گا تو ہی لوں گی نا۔ اس پر بھی اماں خاموش رہتیں اور ساری بہنیں کھلکھلا کر ہنستیں، البتہ سب سے چھوٹی والی بہن صائمہ کہتی۔ اچھا آپا تم میری چیزوں میں سے لے لو۔ اِک یہی بہن تھی جو میرے درد کا احساس رکھتی تھی کہ میں نے اُسے گود میں کھلایا تھا۔ بہت پیار کیا تھا اور وہ مجھ سے خاصی مانوس تھی۔ آخر میں دادی بس اسی قدر کہتی تھیں۔ ریحانہ بڑی صابر بچی ہے، جو مل جاتا ہے خوشی سے لے لیتی ہے۔ مگر بہنیں اس کی تیز ہیں، سبھی کچھ اُٹھا لیتی ہیں۔ اسے کچھ لینے ہی نہیں دیتیں۔ ان کا یہ بے جان سا جملہ سن سن کر میں تنگ آ جاتی۔ جانتی تھی کہ وہ یہ میرا دل رکھنے کو کہہ رہی ہیں۔
یہ تھا میرا بچپن جو حسرت و یاس کی نذر ہو گیا۔ مجھے اس ناانصافی میں سب سے زیادہ قصور ابا کا نظر آتا تھا لیکن جب انہیں کوئی کام ہوتا وہ مجھ سے ہی کہتے کہ ریحانہ بیٹی، میرے کپڑے دھو دینا، یہ شرٹ ابھی استری کر دو… تب میں سوچتی کہ خدمت کے لیے میں ہوں اور تحفوں سے نوازنے کے لیے دوسری بیٹیاں ہیں تو پھر مجھے بیٹی کہہ کر کیوں پکارتے ہیں، آیا یا نوکرانی کیوں نہیں کہتے۔ جو فرق انہوں نے مدتوں برتا، میری سمجھ میں نہ آیا کہ یہ کیوں میرے ساتھ ایسا کرتے ہیں، کیا میرے باپ نہیں ہیں۔ والدہ تو سگی تھیں مگر والد…؟ اس راز سے میری کم سنی تک کبھی کسی نے پردہ نہ اُٹھایا۔
میری تقدیر میں اس گھرانے بھر کی خدمت کرنی لکھی گئی تھی۔ دو بھائی تھے، وہ بھی اپنا کام میرے لیے رکھ دیتے۔ ریحانہ، ہمارے یونی فارم دُھو کر استری کر کے رکھ دینا اور جوتے بھی پالش کر دینا اور ابا کہتے۔ میری بنیان میلی پڑی ہیں۔ تمہاری ماں کو اور کاموں سے فرصت نہیں ملتی جو میری طرف دھیان دیں۔ ذرا انہیں دھو دینا، صبح آفس جانا ہے۔ ایک بھی بنیان نہ ہو گی تو کیا پہنوں گا… سب کے لئے دن رات کام کرتی مگر وہ خوشی کے لمحات کوشش کر کے بھی حاصل نہ کر سکتی تھی جو اپنوں کی اپنائیت اور پیار کی خوشبو سے معطر ہوتے ہیں۔
وہ دن تو آج تک نہیں بھلا سکی۔ جب ایک شام ابا کے کپڑے استری کر کے لٹکا دیئے تو جی چاہا کہ بچپن کے دنوں کو آواز دوں۔ گڑیوں کے کپڑے آج تک سنبھال کر رکھے تھے۔ چھوٹی سی پٹاری اُٹھا لائی اور اس میں سے ننھے منے لباس نکال کر استری کرنے لگی۔ استری گرم تھی سوچا، گڑیوں کے یہ کپڑے استری کر کے صائمہ کو دوں گی تو خوش ہوگی۔ اچانک ابا کی نظر پڑی، پوچھا۔ یہ کیا استری کر رہی ہو؟ میں نے کہا۔ گڑیوں کے کپڑے ہیں ابا…
ادھر لائو دیکھوں تو … وہ مسکرا کر بولے تو میں خوش ہو گئی اور سارے کپڑے ان کو دکھائے تو انہوں نے پاس رکھے اُگالدان میں ڈال دیئے۔ کہنے لگے… تیری عمر ہے اب گڑیوں سے کھیلنے کی، خواہ مخواہ بجلی خرچ ہو رہی ہے۔ چل بھاگ یہاں سے، حالانکہ استری گرم تھی۔ دل برداشتہ ہو کر میں کمرے میں آگئی اور جتنا اپنے نصیب پر رو سکتی تھی، روئی … امی کو بھی افسوس ہوا مگر وہ میرے معاملے میں مہر بہ لب رہتی تھیں۔ ہاں بہنوں نے میرا خوب مذاق بنایا اور دیر تک ہنستی رہیں کہ آپا گڑیوں سے کھیلنا چاہتی ہیں ابھی تک۔ لو دیکھو اتنی بڑی ہو گئی ہیں اور خود کو ننھی سی بچی سمجھتی ہیں۔ ان کی باتوں میں ابا نے بھی ہاں میں ہاں ملائی تو میرا دل خون ہو گیا۔ یوں ابا اور بہنوں کے لئے محبت کی بجائے نفرت کے بیج میرے دل میں پھلنے پھولنے لگے۔ مجھے ہر کوئی برا لگنے لگا۔ جی چاہتا کچھ ایسا کروں، ان کو بھی سزا ملے مگر ایسا نہ ہو سکا۔ یوں نفرتوں کے بھنور میں میرے اندر بغاوت پیدا ہو گئی۔ اب میں کسی کے لیے بھی اچھا نہیں سوچتی تھی۔ بس سپنوں میں ایک فرضی دنیا آباد کرلی جہاں صرف میری حکمرانی تھی۔
وقت گزرتا گیا۔ بہنیں بڑی ہو گئیں۔ اسکول سے کالج جانے لگیں۔ پھر ان کے معاشقے محلے پڑوس کے لڑکوں سے چلنے لگے۔ ایک دو عاشق گھر کی دیوار پھلانگ کر بھی آجاتے۔ ابا بے خبر، ماں کو خبر ہوتی، وہ معاملات کو دبا دیتیں۔ یہاں تک کہ ایک بہن سے بڑی سخت لغزش ہو گئی۔ عزت اور جان کے لالے پڑ گئے۔ ماں نے کسی طور ایک پڑوسن سے مل کر اس مصیبت سے خلاصی کرائی۔ مگر اس سنگین معاملے پر بھی پردہ ڈال دیا۔ اپنی بیٹی کو باپ اور بھائیوں کی نظروں سے گرنے سے بچا لیا۔ یہ سب میری آنکھوں کے سامنے ہوا اور میں تڑپ کر رہ گئی۔ اس بہن کی گھر میں اہمیت پھر بھی کم نہ ہوئی۔ وہ اب بھی ہل کر پانی نہ پیتی اور مجھ پر حکم چلاتی۔ کہتے ہیں نصیب سے لڑا نہیں جا سکتا۔ گزری زندگی کا ایک ایک لمحہ یادوں میں محفوظ ہے۔ سوچتی ہوں کیا وہ واقعی میری ماں تھی۔ ہرگز نہیں، مگر میں تو گھر کے ہر فرد سے محبت کرتی تھی۔ کیا خبر تھی کہ یہ اپنوں کے روپ میں اپنے نہیں ہیں۔
وہ گرمیوں کے سخت ترین دن تھے۔ امی باورچی خانے میں بیٹھی روٹی پکا رہی تھیں۔ ان دنوں لکڑیاں جلا کر روٹی پکائی جاتی تھی۔ میں نے بڑی محبت سے لیموں کا شربت بنا کر اماں کو دیا کہ اس گرمی میں دو گھونٹ پی لیں گی تو سکون ملے گا۔ مگر چھوٹی بہن نے دیکھ لیا۔ بھاگتی ہوئی آئی کہا۔ اماں یہ مجھے دے دو۔
اماں نے جھٹ شربت کا گلاس اسے تھما دیا۔ میں چلاّ اُٹھی کہ آپ کے لیے بنایا ہے، آپ پی لیں، فائزہ کو کیوں دے رہی ہیں اور فائزہ سے گلاس واپس لینے کے لئے آگے بڑھی تو اماں نے مجھ پر ہاتھ اُٹھا دیا اور بددعا بھی دی کہ چھوٹی بہنوں سے حسد رکھتی ہے، کبھی خوش نہ رہے گی اور یونہی جلتی کڑھتی رہے گی۔
ماں کے منہ سے یہ الفاظ سن کر میرا پورا وجود کانپ گیا ۔ میں روپڑی کہ ماں نے میری محبت کو نہ سمجھا، میری خدمت کے صلے میں بددعا دے دی۔ میرا کیا قصور میں نے تو اماں کو پسینے میں شرابور دیکھ کر ان کے لیے شربت بنایا تھا۔ ہر بار اسی طرح ناانصافی ہوتی رہی اور کسی نے میرے جذبات کو نہ سمجھا۔ ہر خدمت کے بدلے جب پھٹکار ملتی تو جیسے میرے اندر آگ سی لگ جاتی تھی۔ بچپن ناسمجھی اور لڑکپن پھٹکار پڑتے گزرا۔ جوانی آئی تو سوچا، شادی ہوگی، اچھا جیون ساتھی مل جائے گا تو گزرے دنوں کو ایک بُرا خواب سمجھ کر بھول جائوں گی مگر میری زندگی کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی تھی، اس پر بننے والی ساری عمارت ٹیڑھی ہو گئی۔
وہ دن بھی آ گیا۔ شادی ہو کر پیا گھر آ گئی۔ زندگی میں آنے والا ساتھی پہلے ہی کسی اور کا تھا۔ وہ ایک ایسا شخص تھا جس کے اندر ہر دم الائو جلتا رہتا تھا، جس کی تپش نے اسے ابلیس بنا دیا تھا۔
عورت مرد کی تفریح کے لئے ہے، اس کے سوا اس کی پیدائش کا کوئی مقصد نہیں، وہ بھول گیا اس کو جنم دینے والی ایک عورت ہی تھی مگر بیچارا کیا کرتا، اس کا بچپن بھی جوالا مکھی کی طرح گزرا تھا۔ اس کا باپ سفاک دل تھا جس نے اس کی ماں کے ساتھ کبھی اچھا سلوک نہ کیا بلکہ اس پر سوتن لے آیا۔ تب میرا شوہر ایک ناسمجھ بچہ تھا۔ اپنی مظلوم ماں پر باپ کے ظلم دیکھتا تو چپکے چپکے روتا۔ وہ کمزور و ناتواں کچھ اُس کا بگاڑ نہ سکتا تھا۔ اپنی بے بسی، باپ کی ڈانٹ پھٹکار، اوپر سے غربت کی مار۔ چچائوں کی لعن طعن ان سب باتوں نے اس کو باغی بنا دیا… وہ ان کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکا لیکن دوسروں کو تکلیف پہنچا کر خوشی محسوس کرنے لگا۔
جوان ہوا تو اس کے ظلم و ستم کا نشانہ معصوم لڑکیاں بنیں، وہ انہیں محبت کے چکر دے کر جال میں پھنسانے لگا اور پھر ان کی عزتوں کو خاک میں ملانے لگا۔ وہ جب بھی کسی کو بے بس کر کے رُلاتا تو سکھ کی نیند سوتا، اس کے پاس بیوی کا تصور تھا اور نہ اولاد کی پروا تھی۔وہ تو صرف یہ سمجھتا تھا کہ اولاد رو پیٹ کر وقت کے ساتھ بڑی ہو جاتی ہے، لڑکیوں کی شادیاں ہو جاتی ہیں اور بیٹے کمانے لگ جاتے ہیں۔ بس یہی وقت کا دستور ہے اور وقت کا پہیہ خود بخود اسی طرح گھومتا رہتا ہے۔ شادی کر کے بیوی کا خیال رکھنا، بچوں کی تربیت کرنا اور ہنستے بستے گھر کے لئے ذمے داریوں کا بوجھ اُٹھانا، یہ سب کتابی باتیں ہیں۔ جب اللہ نے کاروبار میں برکت دی اور دولت گھر کی باندی ہوئی تو شادی پر شادی کرنا عیش کر کے ایک کو طلاق دے کر دوسری کو پسند کر لینا، مزاج بن گیا۔ نہ خدا کا خوف اور نہ بیوی کے حقوق کا اُسے پتا تھا اور نہ آخرت کی خبر تھی۔
میں اس کی خالہ زاد تھی۔ کچھ بڑوں کا ڈر تھا مجھے جس حال میں رکھا، صبر سے رہتی رہی اور طلاق کا داغ لگنے سے بچی رہی مگر لیاقت سے شادی کے بعد میں بِن جل مچھلی کی طرح تڑپتی تھی … اللہ نے اولاد سے نواز دیا تو اپنے بچوں کی خاطر بھی لیاقت سے نباہ کیا کہ بچے دربدر نہ ہو جائیں۔ لیاقت خوبصورت تھا، اسے گھمنڈ تھا، اس نے تین شادیاں میرے بعد کیں مگر تینوں کو طلاق دے کر چھوڑ دیا… کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا رکھتا ہے کہ بندے کے اندر ایمان اور یقین کی رمق پیدا ہو تو وہ اپنی اصلاح کر لے۔
میں نے زندگی کا جو سفر طے کیا اور جس تپتے صحرا سے گزری، شوہر کو کبھی شوہر کے روپ میں نہیں دیکھا بلکہ ایک عیاش مرد کے روپ میں پایا جس کی نظر میں عورت یا بیوی بس ایک جوگی کی طرح تھی، جب دل چاہے بدل لیتا تھا۔ اُسے اپنی دولت پر گھمنڈ تھا۔ اولاد بیچاری کسی کھاتے میں نہ تھی اور میں بیوی کے روپ میں بس اِک ترپ کا پتا تھی۔ وہ گھر میں عورتیں لاتا اور میں اپنا مذاق بنتے اپنی آنکھوں سے دیکھتی۔
میکے میں کس سے فریاد کرتی، ماں مجبور کہ وہ پہلے طلاق یافتہ تھیں۔ دوسری شادی جس شخص سے کی، وہ میرا سوتیلا باپ تھا۔ سو بھائی بہن بھی سوتیلے تھے اور میں اماں کے پہلے خاوند کی نشانی تھی۔ میرے لئے میکے کا ہونا نہ ہونا برابر تھا۔ شوہر کے ہر ظلم و زیادتی پر ٹھنڈی آہیں بھر کے خاموش ہو جاتی تھی۔
کہتے ہیں کبھی کبھی دل سے نکلی آہ آسمان کو ہلا دیتی ہے۔ کیونکہ اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے۔ مکافاتِ عمل دنیا میں ہی ہو جاتا ہے۔ اس بار میرے شوہر نے جس عورت سے شادی کی، وہ ایک طاقتور خاندان کی تھی، حسین تھی، یہ مر مٹے۔ کچھ دن بعد احساس ہوا کہ برے پھنسے ہیں، مگر اب اُسے چھوڑ نہیں سکتے تھے کہ اس کے بھائیوں نے جان سے مار دینے کی دھمکی دی تھی۔ اب لیاقت پر اس عورت کی حکمرانی تھی اور یہ سسک بھی نہیں سکتے تھے۔ خدا نے اسی عورت سے دو بیٹے بھی دے دیئے۔ بیوی کے بھائیوں نے کاروبار میں گھس کر شراکت کر لی تاکہ موصوف کہیں اِدھر اُدھر نہ ہو سکیں۔
وقت گزرنے لگا۔ اب دماغ ٹھکانے آیا۔ ہماری قدر ہوئی مگر ہم سے مل سکتے تھے اور نہ ہمارے پاس آکر رہتے تھے کیونکہ بیوی اور برادر نسبتی پہرے دار تھے۔ کبھی کبھار چھپ کر مل جاتے اور کبھی کچھ رقم کسی دوست کے ہاتھ بھجواتے کہ بچوں کے کپڑے وغیرہ لے لوں۔ میں ملازمت کرتی رہی اور بچوں کو پالتی رہی۔ اپنی قسمت پر شاکر ہو گئی۔ ساری توجہ اپنے بیٹوں کی تعلیم و تربیت پر لگا دی۔ شوہر کا پیچھا کرتی تو سوائے پریشانی کے کچھ حاصل نہ ہوتا۔
اچانک ایک حادثے میں لیاقت لاچار ہو گئے۔ دونوں ٹانگیں جاتی رہیں۔ بیوی اور اس کے بھائیوں نے کاروبار پر قبضہ کر لیا۔ بیوی نے ہوٹل بھی اپنے نام کروا لیا۔ ایسی اندرونی چوٹیں آئیں کہ بالکل معذور ہوگئے۔ جس اولاد پر ناز تھا وہ ابھی ناتواں تھی۔ دونوں لڑکے جو اُس بیوی سے تھے مری میں پڑھتے تھے اور ہوسٹل میں رہتے تھے۔ وہ بھی دور تھے۔ لیاقت کو دن رات کے لیے خدمت گار کی ضرورت تھی۔ وہ واش روم تک نہیںجا سکتے تھے۔ دوسروں کے محتاج تھے۔ سر پر چوٹ لگنے سے بینائی، گویائی اور سماعت کی قوت بھی متاثر ہوئی تھی۔ بظاہر زندہ تھے مگر تن مردہ کی دن رات خدمت اور رکھوالی کون کرتا۔
جس بیوی کے ساتھ رہتے تھے، وہ حسب نسب والی تھی اور نہ اچھے خاندان سے اس کا تعلق تھا۔ اس نے دولت کی خاطر لیاقت سے شادی کی تھی۔ یہ پیسے کے پجاری لوگ تھے۔ ایک دن بیوی کے بھائیوں نے ان کو فقیر گاڑی میں بٹھا دیا اور کہا۔ ہمارا تمہارا ساتھ بس اتنا ہی تھا۔ وہ اولاد جو اُن کا خون تھی، انہیں بھی خبر نہ کی۔ یوں قدرت نے انتقام لیا اور لیاقت کو اس شدید لاچاری اور معذوری کی حالت میں فقیر کی گاڑی پر بٹھا کر یہ لوگ ہمارے دروازے پر چھوڑ کر چلے گئے۔ ہم نے جب دروازے کے باہر اس گاڑی کو دیکھا تو میرے بیٹوں نے ترس کھایا جن کی میں نے اچھے انداز سے تربیت کی تھی۔ انہوں نے خوف خدا سے تپتی دھوپ سے بچانے کی خاطر گاڑی کو کھینچ کر گھر کے اندر گیراج میں لاکھڑا کیا۔ مجھ سے کہا۔ ماں باہر سخت دھوپ ہے اور یہ بیچارا فقیر بری حالت میں تھا۔ پانی اور اس کے لئے کچھ کھانے کو دیجئے۔ ہم اسے کھلا پلا دیں تو دیکھتے ہیں کون اس کا وارث ہے اور کس نے ہمارے در پر لاکر اسے چھوڑ دیا ہے۔
میں نے جب غور سے دیکھا تو پہچان لیا کہ لیاقت ہے۔ حالانکہ صورت بگڑ چکی تھی، وہ بول نہیں سکتا تھا مگر اشاروں سے بات کرنے کی کوشش کرتا۔ اُسے بہت کم دکھائی دیتا تھا، سوچا بیٹوں کو بتادوں کہ یہ فقیر نہیں تمہارا باپ ہے مگر زبان نہ کھلی جیسے گنگ ہو کر رہ گئی ہو۔ بیٹوں کو یہ نہ کہہ سکی کہ جو لاچار گاڑی پر بیٹھا ہے، یہ وہی شخص ہے جس نے عورت کے تقدس کا مذاق اُڑایا اور دولت کے گھمنڈ میں انسان کو انسان نہیں سمجھا، جس نے تم لوگوں کو اس وقت خود سے دور کر دیا جبکہ تم چھوٹے چھوٹے تھے۔ آج اپنے کئے کی سزا کاٹنے کو ہمارے در پر آ گیا ہے۔ اپنے ہی ہاتھوں اپنی عزت، رتبہ، شان و شوکت گنوا چکا ہے۔ یہ تمہارا باپ ہے۔ میں نے کہا کہ یہ آدمی جو بے بس اور بے سہارا ہے، اسے گاڑی سے نکالو، کمرے میں بستر پر لٹا دو، چھت تلے پناہ دو اور دو وقت کی روٹی اپنے ہاتھوں سے کھلائو کہ یہ بڑی نیکی ہو گی اور نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ بیچارا نہ بول سکتا ہے اور نہ سن سکتا ہے، اس میں اتنی طاقت بھی نہیں ہے کہ اپنا دکھ ہم سے بیان کر سکے، شاید اسے نظر بھی کم آتا ہے۔
اب وہ ہمارے گھر میں ایک طرف بنے کمرے میں رہتا اور اس کے لیے خدمت گار کا انتظام میرے بیٹے نے کر دیا کہ اسے خود کام پر جانا ہوتا تھا۔ جب دفتر سے لوٹتے، میرے بچے دونوں پہلے اُس کے کمرے میں حال دریافت کرنے جاتے اور کھانا دیتے مگر لیاقت اور ہمارے درمیان سوائے انسانیت کے اور کوئی رشتہ نہ تھا۔ کیونکہ باقی رشتے ٹوٹتے بنتے رہتے ہیں مگر انسانیت کا رشتہ نہیں ٹوٹتا۔ میں نے اپنے بچوں کو یہی بتایا تھا کہ ان کے باپ نے دوسری شادی کر لی ہے۔ وہ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ بیرون ملک خوشحال زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اب بھی ایسا ہی کہنا تھا۔ نہیں چاہتی تھی کہ وہ سوتیلی ماں اور اس کے غنڈے بھائیوں کے پاس اپنے باپ کا حساب لینے چلے جائیں اور ان کی زندگیاں خطرے میں آجائیں۔ میں نے صبر اور محنت سے اس خوف کے ساتھ ان کو پروان چڑھایا تھا کہ کوئی دولت کی خاطر ان کی جان کا دشمن نہ بن جائے۔ اسی وجہ سے ہم لیاقت کی زندگی سے دور ہو گئے تھے۔
مجھے ایک دکھ ضرور تھا کہ ہمیں اس نے خود اپنے آپ سے دور کیا تھا مگر اس کے خاندان کے باقی لوگ کہاں چلے گئے کہ کوئی بھی اُس کی خبر لینے نہ آتا تھا۔ ایک کسک سی دل میں اٹھتی۔ جی چاہتا ان لوگوں کے پاس جا کر کہوں کہ تمہارے تو قریبی عزیز تھے۔ ان کی دولت سے تم نے فائدے اٹھائے، برے وقت میں کیوں منہ پھیر لیا۔ جی چاہتا ہے ان کے ان بیٹوں سے کہوں کہ تم تو اس کا خون ہو، تم کیوں نہیں اپنے باپ کی خبر لینے آتے۔ پھر سوچتی ہوں کہ کہتے ہیں اگر سانپ کو دودھ پلائو تو وہ سب سے پہلے اپنے محسن کو ڈستا ہے۔ جب تک لیاقت کی زندگی ہے ہم ان کی خدمت کریں گے، اللہ نے ہمیں ایک بے بس کی خدمت کے لیے منتخب کیا اور اسے ہمارے دروازے پر بھیج دیا۔
یہ ہماری آزمائش تھی جس کا صلہ بھی وہی دے گا جس نے ہمیں آزمایا ہے۔ وہ مرد جو یہ کہتے ہیں کہ نکاح مرد کی فتح اور عورت کی شکست ہوتی ہے، یہ نہیں جانتے کہ جیسی کرنی ویسی بھرنی کے مصداق نکاح کے مقدس بندھن کی توہین کرنے پر کبھی کبھی مرد کو بھی بڑی سخت سزا کاٹنی پڑتی ہے۔ (ممتاز سلطانہ… حیدرآباد)

Latest Posts

Related POSTS