Bohat Shukriya Aap Ka| Teen Auratien Teen Kahaniyan

1102

وہ خواب جو ہم نے بچپن میں دیکھے تھے، اب ہمارے بزرگوں نے ان میں رنگ بھرنے شروع کر دیئے تھے۔ امی جہیز اور چچی میرا زیور اور بری کے جوڑے سلوانے میں مصروف تھیں۔ جمال سے میری نسبت بچپن سے طے تھی، یہ رشتہ ہمارے بزرگوں نے ہی طے کیا تھا، مگر ہمارے دلوں میں محبت اللہ تعالیٰ نے ڈالی کہ ایک دوسرے کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور اب ہمارے پاس نہ رہا تھا۔ بی اے کے بعد میں نے گن گن کر دن گزارے کہ کب چچی جان ہماری شادی کی تاریخ طے کرنے آتی ہیں۔ چچا نے سارا معاملہ اپنی بیگم پر چھوڑ دیا تھا اور ان کا خیال تھا جمال انجینئرنگ مکمل کر لے تو شادی کریں گے۔
جمال نے انجینئرنگ پاس کرلی تو والد صاحب نے شرط لگا دی کہ پہلے کسی اچھی کمپنی میں ملازمت حاصل کرے تب ہم سوہا کو اس کے ساتھ رُخصت کر دیں گے۔
جمال کو مجھ سے محبت تھی، وہ دل سے چاہتا تھا کہ جلد ہماری شادی ہو جائے اور ہم جیون ساتھی بن جائیں، لہٰذا تندہی سے ملازمت تلاش کرنے میں لگ گیا۔ اللہ تعالیٰ کسی کی جدوجہد اور لگن سے کی گئی محنت کو رائیگاں نہیں کرتا، بالآخر ایک بہت اچھی کمپنی میں جمال کو نوکری مل گئی۔ تنخواہ بھی اچھی تھی، گاڑی بھی انہوں نے دے دی۔
انہی دنوں جبکہ ہمارے سندر سپنے تعبیر پانے والے تھے، اچانک امریکہ سے ہماری چچی کے بھائی اپنی فیملی کے ساتھ پاکستان آ گئے، وہ جمال سے ملے تو بہت متاثر ہوئے اور اپنی بہن سے فرمایا۔ نگو آپا… تمہارا لڑکا بہت لائق اور ہونہار ہے، جیسی اس کی ملازمت یہاں ہے اگر امریکہ میں ہوتا تو آپ لوگوں کے وارے نیارے ہو جاتے۔ ایسا کرو کہ تم اسے کسی طرح امریکہ جانے پر راضی کرلو۔ میں وہاں اس کی ملازمت کرا دوں گا۔ میری وہاں بڑی جان پہچان ہے، کیونکہ تیس برس سے امریکہ میں رہتا ہوں اپنا بہت اچھا بزنس ہے۔ اگر جمال راضی ہو تو اس کی شادی کسی گوری میم سے کرا دوں گا، یہ وہاں سیٹل ہو جائے گا۔ چچی نے بتایا کہ جمال کی شادی میرے جیٹھ کی بیٹی سوہا سے ہونے والی ہے، بچپن کا سمبندھ ہے اور شادی کی تیاریاں تقریباً مکمل ہیں، بس تاریخ طے کرنا باقی ہے… جمال اس صورت حال میں کسی طور پاکستان چھوڑ کر نہیں جائے گا۔
تم بھی کمال کرتی ہو نگہت آپا۔ اس ملک میں کیا رکھا ہے، کسی لائق اور قابل آدمی کو اچھی ملازمت ملتی ہے اور نہ ہی اس کی محنت کی صحیح اُجرت… اس کی قابلیت کی قدر بھی نہیں ہوتی، پھر یہاں زندگی گنوانے کا کیا فائدہ۔ جمال سے میں خود بات کرتا ہوں، روشن مستقبل کی خاطر وہ میرے مشورے پر ضرور عمل کرے گا، ورنہ تھوڑی تنخواہ پر عمر بھر زندگی گزارے گا۔
چچی نے جمال سے بات کی وہ کسی طور پر راضی نہ ہوئے، کہنے لگے مجھے اپنے وطن سے محبت ہے، ہر حال میں یہاں رہ کر کام کروں گا، تنخواہ کم ملے یا زیادہ لیکن قابل آدمی کی بالآخر قدر ہو جاتی ہے، میں بھی اپنی قابلیت اور صلاحیت کا لوہا ایک نہ ایک دن منوا کر رہوں گا۔
حقیقت پسند بنو، اتنے نظریاتی نہ بنو کہ تمہارے اندر لچک نہ رہے۔ تم نے وہاں کی زندگی دیکھی نہیں ہے، جب دیکھو گے تو خود ہی میرے خیالات سے متفق ہو جائو گے۔ غرض ماموں نے جمال پر اتنا دبائو ڈالا کہ وہ سوچنے پر مجبور ہوگیا۔
جمال نے اس سلسلے میں سب سے پہلے مجھ سے بات کی، کیونکہ ہمیں نوعمری میں بزرگوں نے ایک دوجے سے منسوب کیا تھا، تبھی ہم دونوں یہ تاثر لے کر جوان ہوئے کہ ہماری شادی ہوگی۔ ہمارے دلوں نے صرف ایک دوسرے کے لئے دھڑکنا سیکھا تھا۔
جمال نے مجھ سے کہا کہ ماموں جان نے امی ابو کو امریکہ کے بارے میں کچھ ایسی باتیں بتائی ہیں کہ وہ مجھے امریکہ بھجوانے پر آمادہ ہوگئے ہیں۔ وہ اب میری اور تمہاری شادی کا ارادہ مؤخر کرکے مجھے دیار غیر بھجوانے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آ رہا کیا کروں۔
تمہارے ماموں نے ایسی کیا باتیں کہی ہیں جمال، کہ چچا اور چچی شادی ملتوی کرنا چاہتے ہیں جبکہ ساری تیاریاں مکمل ہیں۔
ماموں جان نے ان کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی ہے کہ اگر مجھے امریکہ کی شہریت مل جائے تو میرا مستقبل تابناک ہو جائے گا اور میری زندگی سنور جائے گی، جبکہ یہاں لائق ہونے کے باوجود میں کم تنخواہ پر زندگی بھر دھکے کھاتا رہوں گا۔ نجانے ماموں نے میرے والدین کو کیسے سبز باغ دکھائے ہیں کہ وہ ہر حال میں مجھے امریکہ روانہ کرنے پر بضد ہوگئے ہیں۔ جمال نے بتایا۔
تو پھر تم والدین کی فرمانبرداری کرو اور ان کی بات مان لو، شاید اسی میں تمہاری بہتری اور شاندار مستقبل چھپا ہوا ہو۔ میں نے اُسے جواب دیا۔
جانتی تھی وہ کسی صورت مجھے چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا، مگر والدین کو اس کے ماموں نے اس طرح اپنی باتوں کے سحر میں جکڑ لیا کہ وہ اسے امریکہ بھجوانے کے درپے ہوگئے۔
اب جمال کے ماموں نے اس کے ماں باپ کو یہ راہ سجھائی کہ وہاں جا کر وہ کسی امریکن لڑکی سے نکاح پڑھوا کر امریکہ کی شہریت حاصل کرے گا اور بعد میں اس کو طلاق دے کر واپس آ جائے گا۔ یہ بڑی غلط سوچ تھی مگر میرے چچا چچی بھی اس شخص کی باتوں میں آگئے، بیٹے سے کہا کہ تم بے شک اس لڑکی سے عارضی نکاح رکھنا اور جب وہاں کی شہریت مل جائے تو طلاق دے دینا اور وطن آ کر سوہا سے شادی کرلینا۔ بس ایک بار تم وہاں پہنچ جائو۔
جمال نے مجھے بتایا۔ دیکھو سوہا۔ میرے ماں باپ کو نجانے کیا ہوگیا ہے مجھے یہ سب باتیں بہت ناگوار لگتی ہیں۔ طلاق کا لفظ کتنا ناپسندیدہ ہے، اس لفظ کو میں کیسے اپنی زندگی کی کتاب میں جان بوجھ کر رقم کر لوں۔ مجھے تم سے اس قدر محبت ہے کہ میں کسی اور کا عارضی تصور بھی ذہن میں لانا گناہ خیال کرتا ہوں۔ میں نے والدین کا کہا ماننے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
بہت دُکھ ہوا اور افسوس بھی کہ میرے چچا اور چچی جو بڑی مدت سے مجھے اپنی ہونے والی بہو تسلیم کرتے آئے تھے اور بڑی چاہ سے ہماری شادی کی تیاریاں کر رہے تھے، اچانک بدل گئے تھے۔ تاہم جمال پر مکمل اعتماد نے مجھے جینے کا حوصلہ دیا کیونکہ اُس نے والدین کا یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا، گرچہ جمال کے انکار کو اس کے ماں باپ نے نافرمانی اور گستاخی خیال کیا، خوب برا بھلا کہا، چچی نے تو بول چال بند کر دی۔ جب اس پر دبائو بہت بڑھا تو وہ ہمارے گھر آ گیا اور میرے والد کو صورت حال سے آگاہ کرکے استدعا کی کہ تایا ابو… آپ بھی باپ کی جگہ ہیں، میرا نکاح سادگی سے سوہا سے کر دیں۔ امی ابو شامل نہ بھی ہوں تو مجھے پروا نہیں۔ مجبوراً امریکہ گیا بھی تو سوہا سے مضبوط بندھن باندھ کر جائوں گا۔ والد صاحب شش و پنج میں پڑ گئے، تبھی بولے بیٹا ایسا کرنا مناسب نہیں۔ تمہارا باپ میرا سگا بھائی ہے اور سگے بھائی کو اتنی بڑی بات نہ بتانا بہت ناگوار امر ہوگا۔ میرا مشورہ ہے کہ تم اپنے والدین کی بات مان لو۔ آگے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا، دیکھا جائے گا۔
یہ بڑا مشکل مرحلہ تھا… والد صاحب کو ہماری خوشی بھی مطلوب تھی اور وہ سگے بھائی کو کھونا بھی نہیں چاہتے تھے، جن کا ان کے بیٹے کی شادی میں شامل ہونا لازمی تھا، پھر آخر یہ مسئلہ کیونکر حل ہوگا۔ چچا اور چچی سے چھپ کر نکاح کرنے کے باوجود یہ بات تو چھپنے والی نہیں تھی، ہمارے گھر بھی قریب قریب تھے۔
جمال کو حددرجہ پریشان دیکھا تو بالآخر میں نے ہی اس مسئلے کا حل نکالا اور ہمت سے کام لے کر اس کو کشمکش سے نکالنے میں کامیاب ہوگئی۔
جمال کو قسم دی کہ وہ مزید الجھنوں میں پھنسنے کی بجائے اپنے والدین کے حکم پر سر تسلیم خم کر دے اور ان کی بات مانتے ہوئے اپنے ماموں کی وساطت سے امریکہ کے لئے رخت سفر باندھ لے۔ اس نے وعدہ لیا کہ اگر میں چار برس اس کا انتظار کروں تو وہ ضرور واپس آ کر مجھ سے شادی کرے گا۔
میں نے اقرار کرلیا کہ خاطر جمع رکھو چار پانچ برس تو کیا عمر بھر تمہارا انتظار کروں گی۔ بے فکر ہو کر جائو۔ یہ وقت کسی نہ کسی طرح گزر جائے گا اس دوران میں یونیورسٹی میں داخلہ لے لوں گی اور مزید تعلیم حاصل کر لوں گی۔ چند ضروری کورسز بھی کر لوں گی۔
میرے حوصلہ دینے کے بعد مجھ پر اعتبار کرکے جمال نے اپنے والدین کے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔ چچا نے اپنی کل جمع پونجی ماموں کے حوالے کی اور وہ اس کو امریکہ لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے ایک یونیورسٹی میں داخلہ دلوایا اور دو سال بعد بڑی جانفشانی سے ایک امریکن لڑکی سے شادی کروا دی تاکہ جمال امریکہ میں مستقل قیام کرکے سیٹ ہو جائے۔ ان معاملات میں تو وہ ماہر ہوچکے تھے۔
امریکن لڑکی جس کا نام ماریہ تھا… بہت اچھی خوش اخلاق لڑکی تھی، وہ خوبصورت بھی تھی لیکن جمال کا دل نہ مانتا تھا کہ کسی کو دھوکا دے۔ اس خیال سے کسی کے ساتھ شادی کرنا کہ بعد میں چھوڑ دوں گا۔ ایک دھوکا ہی تو تھا اور اس خیال سے ہی اسے خود سے گھن آرہی تھی، جبکہ دل میں تو اس کے میں بسی ہوئی تھی۔
مستقل قیام کی خاطر بہرحال اُسے یہ راستہ اختیار کرنا پڑا۔ اس کے بعد سات برس میں نے اپنے محبوب کا انتظار جانکاہ کیا، بالآخر وہ دن آ گیا جب وہ وطن لوٹ کر آیا۔ والدین سے ملنے کے بعد جمال فوراً ہمارے گھر آ گیا، آنے سے پہلے اپنے والدین کو وہ وعدہ بھی یاد دلایا کہ آپ لوگوں نے یقین دلایا تھا پاکستان آئو گے تو سوہا سے شادی ہوگی، وہ اب تک انتظار کر رہی ہے اور میں اسی لئے لوٹ کر آیا ہوں۔
جب اچانک میں نے جمال کو دیکھا تو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ لگتا تھا کوئی خواب دیکھ رہی ہوں، تبھی اس نے پکارا کیا پہچانا نہیں ہے جو یوں اجنبی نگاہوں سے دیکھ رہی ہو، کیسے پہچانوں، سات برس بعد آئے ہو اور کتنے بدل گئے ہو۔ کیسے بتائوں تمہاری یاد میں ایک ایک پل کیسے کاٹا ہے۔ کیا وہاں شادی کرلی ہے۔ ہاں، لیکن تمہاری مرضی معلوم کرنے آیا ہوں اپنا وعدہ پورا کروں گا، اگر تم اب بھی ہاں کہو گی تو پھر میں ماریہ کو طلاق دے دوں گا، حالانکہ مجھے اس سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ وہ بہت اچھی بیوی ثابت ہوئی ہے بطور انسان بھی بہت اچھی ہے۔
ماریہ کو چھوڑنے سے تم کو دُکھ نہ ہوگا۔ دُکھ مت کہو ہاں افسوس ہوگا کیونکہ جب میری اس کے ساتھ شادی ہوئی تو دل نے شروع میں اس کو بیوی قبول نہ کیا مگر رفتہ رفتہ اس لڑکی کی خوبیوں نے میرا دل جیتنا شروع کر دیا۔ ابتداء میں سارا دھیان تمہاری طرف رہتا تھا۔ مگر اس نے میری اتنی سیوا کی، اتنا خیال کیا کہ میں اس کی اچھائی کا معترف ہوگیا۔ اس نے وفا کی، امریکہ میں کاروبار جمانے میں میرا بھرپور ساتھ دیا۔ آج وہاں میں جو کچھ ہوں اس کی وجہ سے ہوں اور وہ میرے دو بیٹوں کی ماں بھی ہے۔
پھر بھی تم اس کو چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہو؟ میں نے حیرت سے کہا۔ ہاں اس لئے کہ تم نے بھی تو میرے لئے سات سال انتظار کیا ہے اور یہ کہہ کر مجھے باندھ دیا ہے کہ عمر بھر انتظار کر سکتی ہو۔ میں تم سے بے وفائی نہیں کرسکتا اور امریکہ میں دو بیویاں نہیں رکھ سکتا، میں تمہارے لئے سب کچھ کر سکتا ہوں سوہا لیکن ایک بات جو میرے لئے سوہان روح ہے وہ یہ ہے کہ ماریہ نے میری خاطر اسلام قبول کر لیا ہے، یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا، جیسے مجھ سے اپنی بے بسی کا اظہار کرکے استدعا کر رہا ہو کہ میں اس کو معاف کر دوں۔ جیسے وعدہ توڑنے کے لئے بھیک مانگ رہا ہو۔
میں نے کہا جمال… تم ماریہ کو طلاق مت دو۔ میری خاطر اُسے نہ چھوڑنا کہ تمہاری خاطر اس نے سب کچھ چھوڑا ہے اس کو خالی دامن کرنا بہت بڑا گناہ ہوگا، جبکہ تم کو اس سے کوئی شکایت بھی نہیں ہے۔ وہ وفادار اور اچھی جیون ساتھی ہے تمہارے دو بچوں کی ماں ہے، اگر تم نے ایسا کیا اُسے طلاق دے دی تو میں بھی تم سے شادی نہیں کروں گی، تم واپس لوٹ جائو اپنی دُنیا میں کیونکہ جب ایک بار انسان اپنی دُنیا بسا لیتا ہے تو پھر کسی کی خاطر اس کو اُجاڑ دینا بے وقوفی ہے۔ میں تمہارا انتظار نہیں کر رہی، مجھے ویسے ہی شادی شدہ زندگی پسند نہیں ہے، جب دل آمادہ ہوا تو کر لوں گی۔
میری اجازت پاتے ہی اس کے چہرے پر سکون کا چاند کھل گیا، جیسے کسی قیدی پنچھی کو آزاد کر دیا جائے، تو وہ سکھ کا سانس لیتا ہے۔ جمال نے بھی ایک گہرا سکھ کا سانس لیا اور مجھ سے تھوڑی دیر بات کرکے چلا گیا۔ تبھی میں نے سوچا کہ بعض مخصوص حالات میں مرد بے وفا نہیں ہوتا، یہ حالات ہوتے ہیں جو اس کو جکڑ لیتے ہیں، اس کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دیتے ہیں، ایسے ہی جیسے کچھ مخصوص حالات میں عورت مجبور ہو جاتی ہے، مگر دوسرے یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ بے وفا ہے۔
مسئلہ یہ تھا کہ ماریہ اتنی اچھی ثابت ہوئی کہ رفتہ رفتہ جمال مجھے بھولنے لگا لیکن وہ اپنے وعدے کو نہ بھلا سکا اور وہی وعدہ وفا کرنے سات برس بعد واپس آ گیا تھا۔
عورت خواہ کسی مذہب اور کسی ملک کی ہو اس میں وفا ہو اور محبت کرنا جانتی ہو تو وہ مرد کا دل جیت سکتی ہے، یہ صلاحیت ماریہ میں موجود تھی۔
ہم نے سن رکھا تھا کہ دیارِغیر کی عورت، بے لحاظ اور بے وفا ہوتی ہے، مگر سب کے بارے میں یہ کلیہ دُرست نہیں۔ وہاں بھی مختلف عورتیں ہوسکتی ہیں۔ وفا کی پتلی، فرمانبردار، خدمت گزار اور محبت کرنے والی ماریہ جیسی، جس نے جمال کو مکمل تعاون، سکون اور آرام دے کر اس کا دل جیت لیا۔
چچا چچی نے اب بھی دبائو ڈالا کہ جمال تم کو امریکی شہریت مل گئی ہے۔ سوہا سے شادی کر لو اور اپنی امریکی بیوی کو طلاق دے دو۔ سوہا برسوں سے تمہارا انتظار کر رہی ہے۔
جب میں نے جمال کی زبانی یہ باتیں سنیں تو خود ہی چچا اور چچی سے کہہ دیا کہ آپ جمال کو مجبور نہ کریں کیونکہ میں اب اس سے شادی نہیں کروں گی، خواہ بیوی کو طلاق دے یا نہ دے۔ میرا اس سے شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
پہلے بھی میں نے جمال کو ایک بڑی الجھن سے نجات دلوائی تھی، اس بار بھی میں نے ہمت کرکے اس کو ایک بڑی الجھن سے نکال کر واپس اس کی دُنیا میں بھجوا دیا۔ جس پر اس نے امریکہ جا کر مجھے شکریے کا فون کیا تھا، اس کے بعد ہمارا کوئی ناتا باقی نہ رہا۔ (سوہا… کراچی)