Friday, May 24, 2024

Bura Na kar Khuda Say Dar | Teen Auratien Teen Kahaniyan

شبو میرے بھائی کے نکاح میں آئی تو اس کے بارے میں طرح طرح کی باتیں سننے کو ملیں۔ مگر اب وہ ہمارے گھر کی بہو بن چکی تھی اور سارا گائوں میرے والد کو جھک کر سلام کرتا تھا۔ تبھی ان کی بہو کے بارے میں ایسی ویسی باتیں سن کر بھی گائوں والوں نے ان باتوں پر کان نہ دھرے کہ سبھی کو بابا جان کی عزت مطلوب تھی۔
بالآخر وہ مبارک دن بھی آگیا جب شبو ’’بھابی‘‘ بن کر ہمارے گھر آگئی۔ رخصتی کے بعد وہ ایک دن بھی خوش نظر نہ آئی اس کا خیال تھا کہ سسرال والے ان کے ہم پلہ نہیں ہیں وہ اونچے گھر کے خواب آنکھوں میں سجا کر آئی تھی جبکہ ہمارا گھر تو کچی مٹی کا بنا ہوا تھا۔
بابا جان کی زمین بے شک تھوڑی تھی لیکن شرافت کی وجہ سے عزت بہت تھی۔ اپنی زمین پر میرے دونوں بھائی خود ہل چلا کر کھیتی باڑی کرتے تھے۔ سال بھر کے بعد بڑی محنت سے اتنی پیداوار ہو جاتی تھی کہ باآسانی گزر بسر ہو جائے۔
شبو بھابی کی الٹی سیدھی فرمائشوں کو جب بھائی اسلم پورا نہ کر سکے تو روز روز کی جھک جھک سے تنگ آ کر انہوں نے دبئی جانے کا فیصلہ کر لیا تاکہ وہاں کی کمائی سے بیوی کی خواہشات پوری ہوں تو ان کے دن پھر جائیں۔
اسلم بھائی کے دبئی جانے کے بعد کھیتی باڑی کا تمام بوجھ چھوٹے بھیا اکرم پر آگیا۔ اب وہی اکیلا کھیتوں کی دیکھ بھال کرنے لگا۔ بابا تو عمررسیدہ ہوگئے تھے۔ زیادہ وقت عبادت میں گزرتا تھا۔ ان کو میری شادی کی بھی فکر تھی کہ ماں فوت ہوچکی تھی تبھی اٹھتے بیٹھتے میرے نصیب کھلنے کی دعائیں کرتے تھے۔
میں ایک سیدھی سادی لڑکی تھی۔ جب بھابی آگئی تو بہت خوش تھی کہ چلو ماں کی جگہ پر آگئی ہے۔ نئی دلہن بھابی کے چائو میں خوشی خوشی سارے گھر کا کام خود کرتی اور شبو کو ہاتھ بھی کسی کام کو لگانے نہ دیتی کہ میری پیاری بھابی کے ہاتھ میلے نہ ہو جائیں۔
بھابی کے ہاتھ تو میلے نہ ہوئے دل ضرور میلا ہوگیا وہ اپنی چھوٹی سی معصوم نند کی محبت کا جواب بے رخی سے دینے لگی۔ ذرا ذرا سی بات پر دل دکھا دیتی تھی۔ اس طرح ایک ایک کر کے وہ سارے پھول مرجھا گئے جو میں نے شبو بھابی کے لئے اپنے دل میں کھلا رکھے تھے۔
دو سال بعد اسلم بھائی دبئی سے آئے تو بہت سے تحفے لائے دلکش ریشمی جوڑے، ٹیپ ریکارڈر، استری اور سنگھار کا سامان بھی تھا۔ انہوں نے کچھ خوبصورت جوڑے بھابی کو دیئے اور کہا کہ باقی یہ سب سامان تم صاحبہ کی شادی کے لئے رکھ دو۔ اگر ہمارے پاس اسے دینے کو اچھا جہیز ہوگا تو رشتہ بھی اچھے گھر میں ہوسکے گا بلکہ ایسا کرنا کہ جب رشتہ دار عورتیں تم سے ملنے آئیں ان کو یہ چیزیں نکال کر دکھانا اور کہنا کہ بہن کے جہیز کی خاطر میرا شوہر دبئی سے یہ سب لایا ہے۔ یوں رشتہ داروں میں یہ بات پھیل جائے گی کہ صاحبہ کو دینے کے لئے ہم نے اچھا جہیز بنا لیا ہے تب رشتہ بھی اچھے گھر سے آئے گا۔
بھابی نے بظاہر ہاں کہہ دی مگر وہ شوہر کی اس ہدایت پر دل ہی دل میں جل کر خاک ہوگئی۔ سوچنے لگی کہ شوہر کی ساری کمائی تو جہیز کی صورت میں نند لے جائے گی۔ یہ کمائی اس کے تو کسی کام نہ آتی جبکہ اسلم سے جدائی بھی برداشت کی۔ صاحبہ کے بعد اکرم کی باری آ جائے گی تو اسلم پھر اس کی شادی کے اخراجات کی خاطر کمانے دبئی چلا جائے گا۔
وہ سوچ میں پڑ گئی کہ ایسی کیا ترکیب کروں جو یہ سب چیزیں نند دوسرے گھر نہ لے جا سکے۔ اسے خیال آیا کیوں نہ وہ میری شادی اپنے بھائی سے کرا دے اس طرح شوہر کی کمائی اس کے میکے جائے گی۔
بھابی شبو انہی سوچوں میں تھی کہ بابا جان نے میرا رشتہ اپنے بھائی کے بیٹے بلال سے طے کردیا جو بہت خوبصورت اور شریف لڑکا تھا۔ یہ زمیندار گھرانہ تھا اور کھاتے پیتے لوگ تھے۔ بابا بہت خوش تھے کہ بیٹی اپنوں میں جا رہی ہے۔ انہوں نے اسلم بھائی سے کہا۔ دبئی جا کر اور رقم روانہ کرو تاکہ تمہاری بہن کی شادی عزت سے کرسکوں۔
منگنی کی رسم کے بعد بھائی اسلم دبئی چلے گئے اب بلال کبھی کبھی بابا جان سے ملنے کو آنے لگا۔ میں اس کو بس ایک نظر دیکھ پاتی اور ہم آپس میں بات نہیں کرسکتے تھے کہ گائوں کا ایسا ہی رواج تھا۔
بھابی کو یہ معاملہ ایک آنکھ نہ بھایا کہ اس کا شوہر اپنی محنت کی ساری کمائی بہن کی شادی پر لٹا دے۔ ایک دن اس نے بابا جان سے کہا۔ چاچا جی میں چاہتی تھی کہ صاحبہ کی شادی میرے بھائی ریاض احمد سے ہو تاکہ ہمارے رشتے اور زیادہ مضبوط ہو جائیں۔
بیٹی… تمہاری یہ بات اچھی ہے مگر اب میں اپنے بھائی کو زبان دے چکا ہوں رسم منگنی بھی ہوگئی ہے، لہٰذا اب ایسا ممکن نہیں ہے یوں بھی وٹے سٹے کی شادیاں اکثر تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔ میری ایک ہی بچی ہے جس کی ماں مرچکی ہے اب اگر میں صاحبہ کا رشتہ تمہارے بھائی سے کرتا تو شادی وٹے سٹے کی ہو جاتی۔
بابا جان کا یہ جواب سن کر شبو بھابی افسردہ ہوگئی۔ وہ جان گئی کہ میری منگنی کا ٹوٹنا اس قدر آسان بھی نہیں۔ پھر بھی وہ اسی سوچ میں رہی کہ کسی طرح میری بلال سے منگنی ٹوٹ جائے اور دبئی کی کمائی اس کے باپ اور بھائی کے گھر جائے۔
ایک دن بلال بابا جان سے ملنے آیا سوئے اتفاق وہ شہر گئے تھے۔ میں اپنے منگیتر کو دیکھ کر کمرے میں چھپ گئی۔ شبو بھابی نے آگے بڑھ کر اس کی آئوبھگت کی۔ برآمدے میں چارپائی بچھا دی پھر دونوں چارپائی پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔
باتوں باتوں میں بھابی نے یکدم اپنا لہجہ دھیما کر لیا اور بولیں ایک بات سے تم کو آگاہ کرنا چاہتی ہوں بشرطیکہ میرا نام نہ لو… یہ تمہارے بھلے کی بات ہے۔
کہو بھابی جی میں سن رہا ہوں وعدہ کرتا ہوں کہ کسی کو نہ کہوں گا اور نہ تمہارا نام لوں گا۔ بلال نے جواب دیا۔
بات یہ ہے کہ بے شک صاحبہ بہت اچھی ہے۔ سگھڑ اور خوبصورت بھی ہے مگر اس دل کا کیا کریں کہ یہ کسی کی مانتا نہیں…
کیا مطلب ہے بھابی جان اس بات کا… بلال نے چونک کر کہا۔
مطلب یہ کہ وہ تم کو پسند نہیں کرتی۔ تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی بلکہ کسی اور کو پسند کرتی ہے۔ شادی کے بعد تم کو وہ پیار نہ دے سکے گی جو دینا چاہئے۔
آپ پھر اس کی وہاں شادی کرا دیں۔
ایسا نہیں ہوسکتا ویرا۔ بھلا بابا جان میری بات کیوں مانیں گے اور صاحبہ تو مجبور ہے بھلا گائوں کی لڑکی اپنی مرضی بتا سکتی ہے؟
تو میں کیا کروں بھابی؟
تم شادی سے منع کردو… منگنی ٹوٹ جائے گی تو صاحبہ کا رشتہ اس کی خوشی سے ہو پائے گا۔
یہ باتیں سن کر بلال سکتے میں رہ گیا۔ وہ بہت پریشان ہوا دن رات جس لڑکی کو خوابوں میں بسا رکھا تھا وہی کسی اور کے خواب دیکھ رہی تھی۔ ایک لمحے کو اس نے سوچا کہ شبو جھوٹ بول رہی ہے تبھی اس نے کہا… نہیں بھابی جی… میں یہ بات نہیں مان سکتا۔
اچھا تو پھر کبھی خود دیکھ لینا تب تو میری بات کا تم کو یقین آ ہی جائے گا۔ تم میری بہن کی شادی میں آ جانا اور وہاں اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا… کہ وہ کس کو پسند کرتی ہے۔
پریشان و سوگوار بلال اسی وقت ہمارے گھر سے چلا گیا اور میں شش و پنج میں پڑ گئی کہ آخر ایسی باتیں بھابی نے میرے منگیتر سے کیوں کہی ہیں جبکہ جانتی ہے کہ یہ منگنی پتھر کی لکیر ہے اور نہیں ٹوٹ سکتی۔
کہنے کو بھابی نے اتنی بڑی بات کہہ دی مگر اب اس کو ثابت کرنا مشکل تھا۔ میرے دل کو اطمینان تھا یہ جو کر لے بابا جان اور تایا جان اس منگنی کو توڑنے والے نہیں ہیں۔
کچھ دن گزرے کہ بھابی کی چھوٹی بہن کی شادی کا بلاوا آگیا۔ بابا جان سے کہا۔ اگر آپ کی اجازت ہو تو صاحبہ کو ساتھ لے جائوں۔
بابا جان نے یہ عذر کیا کہ یہ تمہارے ساتھ چلی جائے گی تو مجھے کھانا کون بنا کر دے گا… مگر بہو کے اصرار پر بالآخر اجازت دے دی۔ شادی میں ابھی دو دن باقی تھے کہ شبو بھابی کے والد ان کو لینے آگئے۔
بھابی کے لئے میرے دل میں جو کدورت اور غصہ تھا وہ رفع ہوگیا اور میں شادی میں جانے کی خوشی سے نہال ہوگئی کہ ہمارے گھرانوں کی لڑکیاں زیادہ تر گھروں سے نہیں نکلتی تھیں۔ لہٰذا رشتہ داروں کی شادیوں کے موقع پر ہی ہم کو گھر سے باہر جانے کی شادمانی نصیب ہوتی تھی۔
شبو بھابی کے والدین بھی بابا کے رشتہ دار تھے۔ تبھی انہوں نے مجھے جانے کی اجازت دی تھی۔ اس سے پہلے کبھی گھر سے نہ نکلی تھی۔ یہ سفر کا پہلا موقع تھا میں بہت خوش تھی۔
جب شادی والے گھر پہنچے پتہ چلا کہ میرے ساس سسر اور بلال بھی شادی میں شرکت کو آئے ہوئے ہیں۔ مہندی والے دن بھابی نے میرے کان میں کہا کہ بلال نے پیغام بھجوایا ہے کہ صاحبہ سے کہو ایک منٹ کو باڑے میں آ کر میری بات سن لے۔ یہ باڑہ گھر سے متصل تھا جس میں ان کی دو گائیں اور ایک بھینس بندھی ہوئی تھی۔ باڑے کا دروازہ گھر کی دیوار میں سے نکالا گیا تھا۔
بھابی کے منہ سے ایسا پیغام سن کر پریشان ہوگئی۔ تب وہ کہنے لگیں تیرے بھائی کی قسم ہے… میں کسی سے نہ کہوں گی بلکہ باڑے تک تیرے ساتھ چلوں گی… جلدی جواب دے، جانے اسے تجھ سے کونسی ضروری بات کرنی ہے۔
پہلے تو میں نے انکار کیا پھر سوچا کہ یہ موقع ہے اس کو بتانے کا کہ کسی اور کو پسند کرتی ہوں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ میں کسی کو بھی پسند نہیں کرتی۔ بھابی نے یہ غلط فہمی اس وجہ سے پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ میری شادی اپنے بھائی سے کرانا چاہتی ہے۔
بڑی جرات کر کے بالآخر ہامی بھر لی… تاہم دل دھڑک رہا تھا۔ مجھ سی لڑکی کے لئے جس نے کبھی کسی غیر مرد سے بات نہ کی ہو… کسی سے ملاقات کرنا خواہ وہ اس کا منگیتر ہی کیوں نہ ہو، ایک بڑی بات تھی۔
دوپہر سوچتے گزر گئی اور شام آگئی۔ ابھی میں تذبذب میں تھی کہ ایک رشتہ دار عورت نے آ کر کہا۔ تمہارے بابا بھی آگئے ہیں وہ تم کو بلا رہے ہیں۔
بابا جان بیٹھک میں موجود تھے وہاں گئی تو وہ اکیلے بیٹھے ہوئے تھے بولے… بیٹی صاحبہ سچ بتا کہ تم کو بھابی نے کیا کہا ہے۔ یہ سن کر خوف سے سن ہوگئی اور مارے ڈر کے بابا جان کو بتا دیا کہ شبو بھابی نے مجھے باڑے میں بلال سے ملنے کو کہا ہے۔
ان کا چہرہ ایسا ہوگیا جیسے جلتا ہوا سرخ شعلہ ہوتا ہے تاہم غصے پر قابو پا کر بولے۔
اچھا ٹھیک ہے اب تو جا۔ شام کو بھابی نے یاد دلایا کہ رات آٹھ بجے جب بارات والے دلہن کو مہندی لگانے میں مصروف ہوں گے تم باڑے کی طرف جانا میں ساتھ چلوں گی۔ بلال وہاں تیرا منتظر ہوگا۔
میں تو بابا جان کو بتا چکی تھی۔ ادھر بلال نے بھی ان کو مطلع کردیا تھا کہ شبو نے مجھے باڑے میں بلایا ہے جانے وہاں بلانے کا کیا مقصد ہے۔
مقصد یہ تھا کہ بھابی نے وہاں مجھے اپنے بھائی سے ملوانے کا بندوبست کیا ہوا تھا اور بلال کو بھی اسی وجہ سے بلایا تھا تاکہ وہ اسے دکھا سکے کہ میں باڑے میں ریاض سے ملنے پہنچی ہوں۔
خدا کو بھابی کے منصوبے کا پردہ چاک کرنا تھا تبھی پہلے بلال نے اور پھر میں نے بابا جان کو آگاہ کردیا۔ شادی ختم ہوگئی تو بابا جان مجھے لے کر گھر آگئے جبکہ بھابی نے دو روز بعد آنے کا عندیہ دیا تو ان کے والد نے بابا سے بیٹی کے لئے اجازت لے لی۔
بابا تو پہلے ہی شبو کو ساتھ لے جانا نہیں چاہ رہے تھے کیونکہ ان کو بہو کی اس حرکت پر بڑا دکھ پہنچا تھا۔ انہوں نے بھائی اکرم کو بلا کر سوال کیا کہ بہو نے بچی سے ایسی نازیبا بات کہی ہے۔ اب تم کیا کہتے ہو؟ اکرم نے والد کو دلاسا دیا کہ حوصلے سے کام لیں۔ بھائی پردیس میں ہے وہاں ان کو بتانے سے اسلم پریشانی میں پڑ جائے گا۔ پہلے وطن بلواتے ہیں جب یہاں آ جائے گا تب بات کریں گے لیکن بابا جان سے ضبط نہ ہوسکا بیٹے کو فون کر کے تمام حالات سے آگاہ کردیا۔ بھائی نوکری چھوڑ کر آگئے اور بیوی سے کہا کہ تم نے ایسی گھٹیا بات میری بہن کے لئے سوچی ہے کہ جی چاہتا ہے ابھی کلہاڑی کا ایک وار کر کے تم کو دو ٹکڑے کردوں لیکن بابا جان نے قسم دی ہے کہ میں کلہاڑی کو ہاتھ بھی نہ لگائوں گا… اب تم کہو کہ کیا کہنا ہے۔ شبو بھابی نے رو کر صفائی پیش کی کہ مجھے تمہاری بہن سے اس قدر پیار ہے کہ اپنی بھابی بنا کر رشتہ گہرا کرنا چاہتی تھی لیکن آپ لوگ میرے پیار کا غلط مطلب سمجھ رہے ہو…!
چھوٹی نند بھی گھر کی عزت ہوتی ہے ہم شریف لوگ ہیں اور شریف گھرانوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ بہرحال شبو کی کسی نے نہیں سنی کہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے۔ ان کو اسلم بھائی نے طلاق دے دی اور وہ روتی ہوئی ہمارے گھر سے چلی گئیں۔ یوں ان کی اپنی نادانی نے ان کا ہی گھر اجاڑ دیا۔
اس کے بعد میری شادی بلال سے ہوگئی اور اب ہم خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ تاہم میں اکثر سوچتی ہوں اگر میری بھابی نیت صاف رکھتیں اور میری منگنی تڑوانے کو بہتان تراشی نہ کرتیں تو آج وہ بھی خوش و خرم میرے بھائی کے ساتھ اپنے گھر میں آباد ہوتیں۔ آج اسلم بھائی علاقے کے امیر آدمی ہیں۔ انہوں نے بہت بڑا پختہ گھر بھی بنوا لیا ہے جو جدید طرز کے فرنیچر اور تمام سہولیات سے آراستہ ہے کہ جن کی خواہش بھابی کیا کرتی تھیں۔
اس گھر میں سکھ کی ہر شے موجود ہے بس وہاں ایک شبو ہی موجود نہیں ہے۔ سچ ہے جو جیسا کرتا ہے ویسا ہی بھرنا پڑتا ہے۔ صد شکر کہ میں نے اور بلال نے بابا جان کو اصل بات بتا دی تھی ورنہ جانے وہ ہمارے حق میں کون سے کانٹے بونا چاہتی تھیں۔ ہر انسان کو چاہئے کہ وہ بہتان لگانے اور کسی غلط کام کا منصوبہ بنانے سے قبل خدا سے ڈرے کہ وہ بڑی طاقت اور عظمت والا ہے۔
(ص… ڈیرہ غازی خان)

Latest Posts

Related POSTS