Sunday, May 19, 2024

Chappar Chaya Ban Jao | Teen Auratien Teen Kahaniyan

شمع میری خالہ کی بیٹی تھی۔ بدقسمتی سے اس کے ماں باپ ریل کے حادثے میں اللہ کو پیارے ہو گئے ۔ ان دنوں یہ صرف چار برس کی تھی۔ چھوٹی خالہ خوشحال تھیں اور ان کا ایک ہی بیٹا تھا۔ خالہ نے ننھی شمع کو گود میں بھر لیا۔ شمع ، خالہ آمنہ کے گھر ان کے بیٹے منیب کے ساتھ پرورش پانے لگی۔ خالو فوت ہو گئے وراثت میں ایک مکان اور دکانیں چھوڑ گئے ، جن کے کرایہ سے خالہ گزر بسر کرنے لگیں۔ کچھ سرمایہ بینک میں جمع تھا اس کا بھی منافع ملتا تھا۔ خالہ نے دونوں بچوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہ کی۔ جب منیب سولہ برس کا ہو گیا تو خالہ نے اس کا نکاح شمع سے پڑھوا دیا۔ سبھی نے ٹوکا کہ ابھی سے نکاح کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اور دو برس صبر کرلو شمع 14 کی ہے، یہ سولہ سال کی ہو جائے تو نکاح کرا دینا ۔ ویسے بھی لڑکی تمہارے پاس ہے۔ کہیں جانے کی تو نہیں پھر خوف کسی امر کا ہے۔ خالہ آمنہ کی اپنی سوچ تھی، وہ کہتی تھیں کہ نکاح ہو چکا ہوگا تو میرا بیٹا شمع ہی کے ساتھ شادی کا پابند ہوگا ورنہ یہ بے چاری کہاں جائے گی۔ میں نے اپنی اولاد کی طرح پالا ہے اس کو اب خود سے جدا کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی پھر زندگی تو پانی کے بلبلے کی مانند ہوتی ہے اس کا بھروسہ نہیں۔

خالہ جی کی تو بس اپنی منطق تھی۔ منیب اور آمنہ بھائی بہن کی مانند پلے پڑھے تھے اور اب ان کو اچانک نکاح کے بندھن میں باندھا جار ہا تھا جبکہ ابھی انہیں شادی کا شعور بھی نہ آیا تھا۔ سمجھانے بجھانے سے وہ نہیں مانیں . خیر نکاح ہو گیا۔ شمع اور منیب اب بھی اکٹھے اسکول آتے جاتے تھے لیکن منیب کو نکاح کے معاملے سے کچھ دلچسپی نہ تھی ، اسے اپنی بہن کی طرح ہی سمجھتا تھا۔ کیونکہ بچپن کے اتنے برسوں میں خالہ نے اسے یہی باور کرایا تھا کہ شمع تیری بہن ہے بیٹا اس کا خیال رکھا کر، جھگڑا نہ کرنا اور کوئی تکلیف بھی نہ دینا۔ ان دنوں منیب دسویں اور شمع آٹھویں میں پڑھ رہی تھی جب ایک نئی لڑکی کرن ان کی زندگی میں آئی۔ یہ ان کے نئے ہمسایے تھے اور آٹھویں میں اس نے شمع کے ساتھ داخلہ لیا تھا۔ ایک دن کرن کی امی شمع کے گھر آئیں اور خالہ سے کہا کہ میری بیٹی اسکول اکیلی جانے سے گھبراتی ہے، مہربانی کرو تو اس کو بھی شمع کے ساتھ آنے جانے کی سہولت ہو جائے گی۔ خالہ بولیں کیوں نہیں میرے بچے صبح اسکول کے لئے گھر سے نکلیں گے تو آپ کے گھر کی بیل بجادیں گے، کرن بھی ساتھ چلی جائے گی۔ اس بات پر مجھ کو کوئی اعتراض نہیں بلکہ یہ اچھی بات ہو گی ۔ اس دن سے یہ تینوں اکٹھے اسکول آنے جانے لگے، رستے میں پہلے منیب اور شمع باتیں کرتے تھے اب ان باتوں میں کرن بھی حصہ دار بن گئی بہت جلد منیب کا رحجان کرن کی جانب ہو گیا۔ وہ شمع سے زیادہ اس کی باتوں کو دھیان سے سنتا اور دلچسپی لیتا۔ شمع نے محسوس کیا کہ اس کا کزن اسے نظر انداز کر کے کرن کو زیادہ اہمیت دینے لگا ہے مگر اس نے برا نہ منایا۔ وہ ایک صاف دل لڑکی تھی ، کرن اس کی سہیلی بن گئی تھی۔ وہ خوش ہوتی کہ منیب کرن کو بھی توجہ دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کی سہیلی خوش ہوتی ہے، سہیلی کی خوشی سے جیسے اس کی خوشی وابستہ ہو۔ رفتہ رفتہ غیب کے دل میں کرن کی محبت نے گھر بنا لیا اور شمع کو مطلق خبر نہ ہو سکی۔ وہ تو یہی سجھتی تھی کہ یہ دونوں آپس میں ایسے ہی باتیں کرتے ہیں۔ وقت گزرتے دیر نہیں لگتی، تینوں نے میٹرک پاس کر لیا۔ منیب بوائز کالج کا طالب علم تھا، دونوں لڑکیوں نے گرلز کالج میں داخلہ لیا تھا۔ یہ کالج بوائز کالج کے رستے میں پڑتا تھا۔ تینوں اب بھی اکٹھے گھر سے نکلتے لڑکیاں اپنے کالج جاتیں اور منیب مزید چند فرلانگ کا فاصلہ طے کرنے کے بعد اپنے کالج پہنچ جاتا۔

وقت کے ساتھ شمع اور کرن کی دوستی گہری ہوتی گئی۔ وہ شمع سے کوئی بات نہ چھپاتی تھی لیکن اس نے یہ بات ضرور اس سے چھپائے رکھی کہ وہ اس کے خالہ زاد سے محبت کرتی ہے اور دونوں کبھی کبھار اکیلے ہوں تو پارک چلے جاتے ہیں۔ شمع نے نرسنگ سینٹر میں داخلہ لے لیا۔ اسے میڈیکل میں جانے کا شوق تھا، میرٹ نہ بن سکا تو ڈاکٹری کا خیال چھوڑ کر نرس بن جانے کو ترجیح دی۔ خالہ نے منع نہ کیا کہ کوئی بھی ہنر بیکار نہیں جاتا۔ شوق ہے تو پورا کرلے۔ خالہ کو انتظار تھا کہ غیب کو کوئی اچھی ملازمت مل جائے تو وہ باقاعدہ دونوں کی رخصتی کی رسم کریں۔ دو سال کی مسلسل تگ و دو کے بعد بالآخر ایک بینک میں منیب کی نوکری ہوگئی ۔ اب خالہ نے سر کھانا شروع کر دیا کہ رخصتی کی رسم کرنی ہے لیکن منیب یہ کہ کر ٹال جاتا کہ امی جان مجھے تھوڑا سا اور سنبھل جانے دیں ۔ کچھ رقم اکٹھی کرلوں پھر رخصتی کا نام لینا۔ دو سال اور بیت گئے شمع نے نرسنگ مکمل کر لی تو اسے مقامی اسپتال میں جاب مل گئی۔ اب خالہ بیٹے کے سر ہو گئیں کہ بھئی تم دونوں ہی ملازم ہو گئے ہو پھر رخصتی میں دیر کاہے کی ہے۔ میں بیمار رہنے لگی ہوں ، جلد سے جلد شمع کو بہو کے روپ میں دیکھنا چاہتی ہوں۔ جب بہت اصرار کیا تو منیب کو بتاتے ہی بنی، اس نے کہا ماں میں نے کرن سے نکاح کر لیا ہے۔ اور اب اس کو تمہیں بہو بنا کر اس گھر میں لانا ہوگا ۔ شمع کو بچپن سے ہی میں نے بہن کی نظر سے دیکھا تم نے بہن باور کرایا تو میں نے بھی اس کے لئے ایک بھائی جیسے جذبات رکھے۔ جب میرا اس کے ساتھ نکاح کرایا میں کم سن تھا۔ وہ بھی ناسمجھ تھی، بچپن تھا تو ہم نے آپ کے فیصلہ کے بارے میں کچھ نہ کہا لیکن اب ہم بڑے ہو چکے ہیں۔ عقل اور سمجھ آگئی ہے مجھے یہ نکاح قبول نہیں ہے اور میرا اندازہ ہے کہ شمع کو بھی یہ رشتہ قبول نہ ہوگا کیونکہ ایک گھر میں رہتے ہوئے کبھی اپنی طرف اس کے جذبات دوسرے قسم کے میں نے محسوس نہیں گئے ۔ اس کے احساسات میرے لئے پاکیزہ تھے اور اب تک پاکیزہ ہیں۔ وہ مجھے دلی طور پر بھائی ہی تسلیم کرتی تھی۔ خالہ نے بیٹے کے منہ سے ایسی باتیں سنیں تو صدمہ سے گنگ ہو گئیں۔ وہ شمع سے بہت محبت کرتی تھیں اور ایک ماں کی طرح اس کو چاہتی تھیں ۔ بھلا کیسے اس کو خود سے جدا کر سکتی تھیں۔ انہوں نے روز اول سے یہی سوچ رکھا تھا کہ شمع کو بیٹی کی طرح پالا ہے یہ میری بڑھاپے میں خدمت کرے گی اور آرام و سکون کا خیال رکھے گی۔ دوسری کوئی لڑکی آگئی تو ہرگز اتنا زیادہ خیال نہ رکھے گی ، کیا خبر بڑھاپے میں کوئی غیر لڑکی بہو بن کر مجھے ذلیل ہی کر ڈالے۔ اب ماں اور بیٹے میں جھگڑا رہنے لگا۔ منیب کسی صورت کرن کے خیال سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھا۔ جبکہ خالہ ہر صورت شمع کو بہو کے روپ میں ہمیشہ کے لئے اپنے گھر میں دیکھنا چاہتی تھیں۔ وہ منیب کی کسی تاویل کو قبول نہ کرتی تھیں اور کسی بات کو ہی نہیں سمجھتی تھیں۔ آخر کار منیب کو وہ قدم اٹھانا پڑا جو کسی بھی ماں کا کلیجہ شق کرنے کو کافی تھا۔ اس نے ماں کو نکاح نامہ دکھایا کہ یہ دیکھیے میں کرن سے نکاح کر چکا ہوں اور اب ہر صورت اسے اپناؤں گا۔ ان دنوں کرن کے والدین خالہ کے برابر والا کرائے کا مکان خالی کر کے چلے گئے تھے۔ انہوں نے ایک قریبی محلے میں اپنا ذاتی گھر بنوا لیا تھا۔ کرن کا اب شمع کے پاس آنا جانا متروک تھا۔ خالہ کی یہی رٹ تھی کہ اول تو میں اس نکاح کو نہیں مانتی جس میں ہمارے خاندان کا کوئی فرد موجود نہ ہو۔ فرض کیا یہ نکاح کر لیا ہے تو بھی کرن کو طلاق دینی ہوگی ۔ جب منیب نے دیکھا کہ بات کسی طور نہیں سمجھ رہی تو اس نے شمع سے ازخود معاملہ طے کرنے کی ٹھان لی اور جب وہ کچن میں کام کر رہی تھی چائے لینے کے بہانے جا کر اس سے اپنا مسئلہ بیان کر دیا۔

شمع ، امی نے تمہارا مجھ سے بچپن کے دور میں نکاح کر دیا تھا۔ یہ تو تم جانتی ہو مگر اس وقت یقینا تم یہ نہیں جانتی تھیں کہ اس نکاح کی کیا اہمیت ہے۔ ہم کو ایسے معاملات کا ادراک نہ تھا۔ ہم تو ایک گھر میں بہن بھائی کی طرح پلے بڑھے تھے اور ہم کو یہی کہا گیا تھا کہ تم دونوں بہن بھائی ہو۔ اب والدہ مصر ہیں کہ وہ رسم رخصتی کر کے تم کو دلہن بنائیں اور اپنی بہو بنا لیں ، جبکہ میں یہی سمجھتا ہوں کہ تم ابھی تک مجھ سے ایک بہن کی طرح بے لوث اور بے غرض محبت کرتی ہو۔ شمع نے اتنی لمبی تمہید سن کر جواب دیا جو بات کہنا چاہتے ہو صاف صاف کہہ دو۔ صاف بات یہ ہے شمع کہ میں کرن سے محبت کرتا ہوں ۔ محبت کے سفر میں ہم بہت آگے نکل چکے ہیں اب واپس نہیں لوٹ سکتے ۔ ورنہ کرن کی زندگی تباہ ہو جائے گی۔ میں کرن سے نکاح کر چکا ہوں اور نکاح اس کے والدین کی رضامندگی سے کیا ہے۔ وہ میری ایک بچی کی ماں بھی بن چکی ہے۔ افسوس والدہ سے اس حقیقت کو چھپاتا رہا ہوں۔ بے شک اسے بھی منیب سے بے غرض محبت تھی مگر ماں اور بیٹے کی روز روز کی چپقلش سے جان چکی تھی کہ منیب ماں کے فیصلے کو رد کر چکا ہے۔ دل کو سمجھا چکی تھی کہ زبردستی کسی کا ہونا اپنے لئے دوزخ جیسی زندگی کو منتخب کرنا ہے، آج جب اصل حقیقت عیاں ہو گئی تو وہ شادی سے ہی بیزار ہوگئی ۔ کہ تم پریشان نہ ہو۔ میں خالہ سے خود اس مسئلے کو حل کرلوں گی ۔ اسے بے حد دکھ ہوا، ظاہر ہے جس لڑکی کو بچپن سے خبر ہو اس کی شادی فلاں سے ہوگی اور بعد میں وہ شخص بدل جائے تو کیفیت اضطراب کا شکار تو ہوگی ہی لیکن اسے روز روز کے جھگڑے سے بھی نفرت تھی اس نے خالہ سے کہہ دیا۔ اگر منیب نہیں مانتا آپ زبردستی اس کے ساتھ میری شادی نہ کرنا ورنہ میں گھر سے چلی جاؤں گی۔ کہاں چلی جاؤ گی؟ خالہ نے سوال کیا۔ ذرا بتاؤ تو سہی اور کون سا ایسا گھر ہے جہاں تم جا سکتی ہو۔ اسپتال کے آفیسر صاحب کو کہہ کر میں کوارٹر کے لئے درخواست دے دوں گی کہ میرا کوئی گھر ہے اور نہ رہنے کا ٹھکانہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ میری درخواست منظور ہو جائے گی۔ ورنہ اسپتال کا نرسنگ ہوسٹل تو ہے ہی۔ اگلے روز اس نے ڈاکٹر صاحب سے بات کی اور اپنے حالات بتائے تو انہوں نے اسی وقت درخواست فارورڈ کروادی۔ پندرہ دن بعد خوش خبری مل گئی کہ جلد ہی آپ کو کوارٹرمل جائے گا۔ جب کوارٹر مل گیا تو اس نے خالہ جان سے کہہ دیا کہ میری وجہ سے آپ ماں بیٹے کی بحث ہوتی ہے اس لئے دوبارہ ہوسٹل جارہی ہوں۔ اس جھگڑے کے بیچ میں نہیں رہ سکتی ، مجھے کوارٹر مل سکتا ہے آپ چاہیں تو میرے ساتھ رہ سکتی ہیں۔ اگر منیب نے میری بات نہ مانی تو میں بھی ہرگز یہاں نہ رہوں گی۔ تمہارے پاس آجاؤں گی۔ خالہ نے قطعیت سے فیصلہ سنادیا۔ شمع ہوسٹل منتقل ہو گئی۔ جب چھٹی پر ان سے ملنے گھر آئی تو حیران رہ گئی۔ کرن بہو کے روپ میں ان کے گھر آچکی تھی۔ خالہ کا اس روز بھی بیٹے سے خوب جھگڑا ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرن میری بہو نہیں ہے۔ میری بہو تو شمع ہے۔ جب بہت جھگڑا بڑھا ، شمع نے خالہ سے کہا۔ آپ نے مجھے ماں بن کر پالا ہے آپ کا مجھ پر بہت حق ہے ، منیب کو خوش رہنے دیجئے اور اس کی زندگی کی خوشیوں کو برباد مت کیجئے ۔ آپ میرے ساتھ اسپتال چلیے ۔ میرے پاس رہیں گی تو ہی کوارٹر ملے گا، جلد درخواست منظور ہو جائے گی بشرطیکہ آپ میرے ساتھ ہوں۔ شمع کے کہنے پر خالہ نے بھی اپنا مختصر سامان اٹھایا اور بھانجی کے ہمراہ ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ تو جہاں رہے گی بیٹی میں بھی وہاں رہوں گی ۔ تجھے اکیلا نہیں چھوڑوں گی۔ اس ناخلف بیٹے سے میرا کچھ ناتہ نہیں ہے۔ جاتے ہوئے بیٹے کو خدا حافظ کہنے کی بجائے بولیں۔

اے نافرمان اولاد جب تک اس کم ذات کو طلاق نہ دو گے میں اس گھر نہ لوٹوں گی۔ شمع نے سوچا کہ اچھا ہے خالہ ساتھ رہیں کہ اس کا بھی اکیلے کوارٹر میں رہنا محال تھا۔ فیملی والوں کو ہی کوارٹر الاٹ کیا جاتا تھا۔ کوارٹر میں شمع اور خالہ ساتھ رہنے لگیں ۔ شمع کو تو سکون مل گیا مگر ان کو نہ ملا، وہ ابھی تک بےچین تھیں۔ پہلے بیٹے سے گلے شکوے تھے۔ اب اس کے لئے بے قرار رہتی تھیں ۔ وہ بیمار رہنے لگیں، اندر ہی اندر بیٹے کی یاد کے غم میں گھلنے لگیں۔ یہاں تک کہ چار پائی پر پڑ گئیں۔ جب خالہ کی حالت بگڑتی دیکھی شمع نے منیب کو اس کے آفس فون کیا اور سمجھایا کہ ماں سے غفلت نہ برتو کیونکہ خالہ تم سے بے حد محبت کرتی ہیں۔ میں نے تو ان کو جانے کے لئے نہیں کہا ہے وہ خود گئی ہیں۔ کرن سے شادی کر کے غلطی کی یا نہیں کی لیکن اب کیا کروں ایک بچی ہو گئی ہے اسے طلاق کیسے دوں جبکہ چند ماہ بعد وہ ایک اور بچے کو جنم دینے والی ہے۔ شمع خدارا تم ہی میری مشکل کا حل سوچو۔ اماں کو سمجھاؤ کہ اب ضد چھوڑ دیں۔ ٹھیک ہے منیب لیکن مجھ سے بھی تو نکاح برقرار ہے، اس بارے کیا سوچا ہے۔ کیا مجھے بھی عمر بھر لگائے رکھو گے۔ نہیں نہیں ایسا نہیں ہے تم جیسا کہو گی کروں گا۔ اگر خلع لینا چاہو تو لے سکتی ہو۔ میں ہرگز خفانہ ہوں گا۔ لیکن تم کو طلاق کیسے دوں، پہلے ہی اماں ضد میں ہیں۔ ایسا قدم اٹھاؤں گا تو جان سے گزر جائیں گی۔ وہ جان سے گزرنے والی ہیں غیب ۔ میرے منہ میں خاک مگر ان کی حالت نہیں دیکھی جاتی ان کو ایسے وقت مت چھوڑو آکر مل تو جاؤ شمع نے کوارٹر نمبر وغیرہ بتایا۔ اگلے روز منیب ملنے آیا تو ماں نے منہ نہ لگایا بلکہ دوسری طرف منہ پھیر لیا اور چہرے کو کپڑے سے ڈھانپ لیا۔ ماں کے اس رویے پر منیب کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اماں معاف کردو … معاف کر بھی دو۔ کی رٹ لگائے رہا، آخر چلا گیا مگر خالہ ٹس سے مس نہ ہوئیں۔ اس کے جانے کے بعد خوب پھوٹ پھوٹ کر روئیں تبھی شمع نے جھوٹی کہانی بنائی کہ اماں رویے مت۔ جس بات کے لئے آپ جھگڑا کر رہی ہیں دراصل وہ بات ہے ہی نہیں۔ میں خود منیب سے شادی نہ کرنا چاہتی تھی ، میں تو اس سے ہمیشہ کے لئے بھائی جیسا پیار چاہتی تھی کیونکہ میری کوئی بہن ہے اور نہ بھائی ہے۔ سب رشتے مل سکتے ہیں بھائی کا نہیں مل سکتا۔ اسے میں نے ہی کہا تھا کہ تم کرن سے شادی کر لو کیونکہ مجھے تمہارے روپ میں بھائی کی ہی ضرورت ہے۔ خالہ نے یہ سنا تو وہ اور بھی خفا ہوگئیں اور بات چیت بند کردی۔

دو ہفتہ بعد ایک رات جبکہ وہ سورہی تھیں، بارہ بجے شمع ڈیوٹی کر کے لوٹی تو دیکھا کہ ان کی سانس اکھڑ رہی ہے۔ جلدی جلدی منہ میں پانی کے چند قطرے ٹپکائے اور پکارا خالہ ماں کیا ہوا بتائیے تو مگر وہ کچھ نہ بتا پائیں کہ موت کا فرشتہ ان کے سرہانے کھڑا تھا۔ دیکھتے دیکھتے ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ اسی وقت منیب کو فون کیا، وہ اسپتال میں تھا۔ اس کی بیوی دوسرے بچے کو جنم دینے والی تھی۔ وہ کرن کو میٹرنٹی ہوم میں چھوڑ کر اس وقت آگیا۔ خالہ کا جسد خاکی گھر لے جانا تھا ایمبولینس کرا کر مرحومہ کو گھر لائے ۔ صبح کو کفن دفن کا انتظام کیا۔ کرن کی والدہ اس کے پاس تھی۔ خالہ کو دفنا کر واپس آئے ہی تھے کہ اطلاع آگئی کرن نے ایک بچی کو جنم دیا ہے مگر وہ خود ابھی تک بیہوش ہے، اسے انستھیزیا دیا گیا تھا۔ آپریشن سے بچی تو بہ خیریت اس دنیا میں آگئی لیکن کرن کوما میں چلی گئی۔ وہ کوما میں ایک ماہ رہی اور پھر اللہ کو پیاری ہوگئی۔ منیب غم سے بدحال تھا، ایک جانب بیوی اور ماں کی موت کا غم تو دوسری جانب دو چھوٹی چھوٹی معصوم بچیوں کی فکر ، جن کو پالنے والی نہ رہی تھی۔ منیب کو اس سے پہلے اس قدرا فسردہ و بے بس کبھی نہ دیکھا تھا۔ بالآخر میری والدہ جو کہ لاہور سے خالہ کی میت پر پہنچی تھیں انہوں نے شمع اور منیب کو راضی کیا کہ نکاح تو ہو چکا ہے اب رسم رخصتی کر لو اور دونوں معصوم بچیوں پر چھپر چھاؤں ہو جاؤ۔ ان کی پرورش کا فریضہ خوش اسلوبی سے حل کر لو، منیب تو راضی تھا مگر شرمندگی سے شمع سے یہ بات کہہ نہ پارہا تھا۔ البتہ شمع کو امی نے راضی کر لیا۔ رسم رخصتی ہمارے گھر سے ہوئی اور یوں شمع دلہن بن کر اپنے گھر چلی گئی کیونکہ خدا کو یہی منظور تھا۔

Latest Posts

Related POSTS