Thursday, February 22, 2024

Chatting Ki Waba

ان دنوں ہم انگلش میڈیم ایلیمنٹری اسکول میں آٹھویں کلاس میں پڑھتے تھے۔ زوہیب میرا کزن تھا۔ میرا یہ چچا زاد ہم عمر تھا اور ہماری آپس میں خوب بنتی تھی۔ ہماری دوستی بچپن سے تھی۔ ساتھ پلے بڑھے، ایک گھر میں رہے اس لیے کوئی بات ایک دوسرے سے ڈھکی چھپی نہ تھی۔ وہ اپنی ہر بات ، ہر مسئلہ مجھ کو بتاتا اور صلاح مشورہ لیا کرتا۔ اتنی اپنائیت کے باوجود ہم میں کبھی کبھی لڑائی بھی ہو جاتی تھی۔ زوہیب چونکہ لائق طالب علم تھا۔ مجھ کو تعلیمی جدوجہد میں اس کی ضرورت پڑتی۔ زوہیب شروع سے مطالعے کا شوقین تھا لہٰذا فضول باتوں میں وقت ضائع کرنا پسند نہیں کرتا تھا تا ہم کچھ دنوں سے میں محسوس کر رہی تھی کہ وہ کھویا کھویا سا ہے۔ اس کا دھیان کہیں اور ہوتا اور بات کوئی اور کر رہا ہوتا۔ تب ہی میں نے پوچھ لیا۔ بھائی خیر تو ہے ! یہ خیالات کے گھوڑے کون سے آسمان پر تم کو لیے پھر رہے ہیں۔ زوہیب نے جھٹ سے ایسا جواب دیا کہ جس کی مجھ کو بالکل توقع نہیں تھی۔ صبا مجھے ایک لڑکی پسند آگئی ہے اور اس کے خیال میں سر گرداں رہنے لگا ہوں۔ پڑھائی سے بھی توجہ ہٹ گئی ہے، کہیں پوزیشن لینے سے نہ رہ جائوں۔ یہ سن کر میں سن رہ گئی۔ کسی لائق فائق طالب علم میں اگر عشق کے جراثیم سرایت کر جائیں تو یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہوتی۔ مجھ کو اپنے ہونہار کزن کے مستقبل کی فکر لگ گئی کہ کہیں تابناک مستقبل کا بیڑا غرق نہ ہو جائے۔ دعا کرنے لگی۔ اے خدا زوہیب کو اس خطر ناک اور تباہ کن صورت حال سے بچا لے تا کہ اس کا روشن مستقبل محفوظ ہو جائے۔ قدرے سنبھلتے ہوئے اس سے پوچھا کہ کون ہے وہ؟ کل کلاس میں پتا چل جائے گا۔ اس نے کہا۔ سارا دن الجھن رہی ، رات بھی جاگتے گزار دی۔اگلے دن کلاس میں پتا کچھ نہ چلا۔ اندازہ بھی نہ لگا سکی کہ وہ کس کی بات کر رہا ہے۔ خیر شام کو پھر زوہیب سے بات ہوئی اور تجسس ختم کرنے کی کوشش کرتی رہی مگر اس نے کچھ بتا کر نہ دیا۔ میں نے پوچھا۔ کیا وہ فیملی میں سے ہے یا ہماری کلاس کی کوئی لڑکی ہے۔ بس اتنا بتایا۔ ہماری کلاس میں پڑھتی ہے۔ تمام رات میں اسی مسئلے پر سوچتی رہی اور جاگتی رہی۔ میں نے جماعت کی ہر لڑکی کو ذہن میں لاکر غور کیا لیکن معمہ حل نہ ہوا۔ جب سے اسکول میں داخلہ لیا تھا، یہاں میری تین لڑکیوں سے دوستی ہوئی تھی لیکن اسی سال ایک اور دوست کا اضافہ ہوا۔ نئی سہیلی کا نام شیما تھا اور یہ اب میرے بے حد نزدیک ہوتی جارہی تھی۔ وہ ہر کسی سے میرا تعارف یہ کہہ کر کراتی تھی کہ میں اس کی بیسٹ فرینڈ ہوں۔ شیما پڑھائی میں بہت اچھی تھی اور اس کا زوہیب سے مقابلہ رہتا تھا کیونکہ وہ بھی پوزیشن ہولڈر طالبہ تھی حالانکہ کلاس میں وہ سب سے چھوٹی تھی۔ اس کی ذہانت اور قابلیت کی وجہ سے پرنسپل نے اسے ساتویں سے آٹھویں میں پروموٹ کر دیا تھا۔ میں نے انہی دنوں نوٹ کیا کہ شیما آج کل بڑی خوش دکھائی دیتی ہے۔ وہ اکثر میرے کزن سے باتیں کرتی نظر آتی تھی۔ ایک دن وہ اچھے موڈ میں تھی ۔ باتوں باتوں میں اس نے بتادیا کہ زوہیب نے اسے وہی کہا ہے جو ہر فلم میں ہیر و، ہیروئن سے کہتا ہے۔ یکدم مجھے دھچکا لگا کہ یہ وہ لڑکی ہے جس کے بارے میں اتنے دن سے پوچھ رہی تھی اور زوہیب نہیں بتارہا تھا۔

جب معاملہ مجھ پر کھل گیا تو زوہیب کا بھی حجاب مٹا اور وہ مجھ سے شیما کے بارے میں باتیں کرنے لگا۔ اب ہماری اکثر اسی موضوع پر بات ہونے لگی اور میں ان دونوں کے درمیان پیغام رسانی کے فرائض انجام دینے لگی۔ پتا نہیں کیا کیا باتیں وہ ایک دوسرے کو کہلواتے۔ میں اپنے کزن سے کہتی تھی۔ دیکھو زوہیب تم جو یہ شیما سے دل لگا رہے ہو تو کیا اس بات کو انجام تک پہنچائو گے کیونکہ ابھی ہم چھوٹے ہیں اور آگے زندگی پڑی ہے جس میں ڈھیروں مواقع آنے ہیں۔ وہ کہتا۔ ہاں دیکھ لینا میں اپنی بات کو ضرور پورا کروں گا۔ اس طرح سے وقت گزرتا گیا۔ ہمارے امتحان ہو گئے اور نتیجہ حیران کن تھا۔ جن چار بچوں میں مقابلہ رہتا تھا ان میں زوہیب اول اور شیما چوتھے نمبر پر آگئی تھی جب کہ وہ کبھی فرسٹ اور کبھی سیکنڈ پوزیشن لیتی تھی۔ میں نے افسوس کا اظہار کیا تو بولی۔ مجھے کوئی افسوس نہیں ہے۔ زوہیب نے پوزیشن لی ہے ، بس اس بات کی خوشی ہے۔ میں نے اس کی وجہ سے جان بوجھ کر محنت نہیں کی تا کہ وہ فرسٹ پوزیشن لے سکے۔ آٹھویں کے بعد لڑکے دوسرے اسکولوں میں چلے گئے اور ہمارے اسکول میں لڑکیوں کے لیے سیکنڈری کلاسز کا اجراء ہو گیا۔ مجھے ڈاکٹر بننے کا شوق تھا۔ یہ میری سہیلیوں کا بھی خواب تھا لہٰذا ہم نے شوق سے سائنس رکھی اور نئی کتابوں سے لطف اندوز ہونے لگے ۔ شیما اسکول چھوڑ چکی تھی لیکن میری وجہ سے وہ دوبارہ اسی اسکول میں آ گئی۔ تاہم اب زوہیب سے ملاقاتوں کے سلسلے بند ہو گئے تھے۔ البتہ ان کے درمیان خط و کتابت کے لیے میں ”ڈاکیے“ کے فرائض انجام دینے لگی۔ عید آنے والی تھی۔ زوہیب ہمارے لئے عید کے گفٹ لایا اور ایک خاص گفٹ وہ شیما کے لیے بھی لایا تھا۔ مجھ سے استدعا کی کہ اسے دے دوں۔ خط اور پیغامات تک تو ٹھیک تھا لیکن اب یہ گفٹ میں کیسے دے سکتی تھی، کسی کو علم ہو جاتا تو اس کے گھر میں تماشا لگ جاتا۔ شیما کا فیملی بیک گرائونڈ مضبوط نہیں تھا بلکہ حالات تیزی سے تنزلی کی طرف جارہے تھے جبکہ وہ تحفہ قیمتی اور محبت کے جذبات کا عکاس تھا ، اس لیے میں نے اسے شیما کو پہنچانے سے منع کر دیا، اس پر زوہیب مجھ سے خفا ہو گیا اور میری اس کے ساتھ بول چال بند ہو گئی۔ کچھ دنوں بعد زوہیب نے امی سے کہا کہ صبا کو روکئے۔ یہ شیما کے ساتھ دوستی چھوڑ دے کیونکہ وہ اچھی لڑکی نہیں ہے۔ یہی نہیں اس نے شیما کے بارے میں اور بھی کئی الٹی سیدھی باتیں کہیں مجھ کو اس کی یہ باتیں ناگوار ہوئیں۔ یہی نہیں وہ اب تیزی سے بدل رہا تھا لیکن میں نے اپنی دوست کو نہیں بتایا۔ وہ ہر وقت اس کا پوچھتی رہتی اور میں یہ کہہ کر اسے چپ کرا دیتی تھی کہ میں نے زوہیب سے بولنا چھوڑ دیا ہے۔ زوہیب کچھ دنوں بعد اپنے ماموں کے گھر رہنے چلا گیا اور مجھے بہانہ مل گیا۔ اب جب شیما اس کے بارے میں پوچھتی، میں کہہ دیتی کہ میں نہیں جانتی کہ وہ آج کل کیا کر رہا ہے۔

زوہیب کی دوری نے شیما کو اور زیادہ پاگل بنا دیا۔ محبت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ وہ جب ملتی، زوہیب کے بارے میں سوالات کرتی، فون کرتی تو اسی کے بارے میں پوچھتی۔ اس صورت حال سے میں تنگ آ گئی۔ بالآخر میں نے یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ اگر تم کو مجھ سے دوستی رکھنی ہے تو رکھو، میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ یہ شرط بھی مان گئی کیونکہ میں زوہیب کی کزن تھی ، اسی وجہ سے شیما میرا ہاتھ تھامے رکھنا چاہتی تھی۔ اسے مجھ سے باتیں کر کے تسکین ملتی تھی لیکن اس کا پھول جیسا کھلا ہوا چہرہ مرجھاتا جارہا تھا۔ لگتا تھا جیسے اسے کوئی روگ لگ چکا ہے۔ یہ ایسا روگ تھا جس کی دوا کسی طبیب کے پاس نہیں تھی۔ میٹرک کے امتحان ہونے لگے۔ سب نے خوب تیاری کی۔ زوہیب نے اچھے نمبر حاصل کرنے کی خاطر جان لڑا دی مگر شیما کا حال برا تھا۔ نتیجہ آیا تو وہ بمشکل پاس ہوئی جبکہ زوہیب نے پوزیشن لی اور اس کا داخلہ لاہور کے بہترین کالج میں ہو گیا۔ شیما کا تعلیمی معیار ہی نہیں گرا، اس کی صحت بھی گرتی جارہی تھی۔ بہر حال ہم نے بھی کالج میں داخلہ لے لیا۔ شیما کو ایک دوسرے کالج میں داخلہ ملا کم نمبروں کی وجہ سے۔ مگر سال بعد اس نے کسی طرح دوبارہ ہمارے کالج میں تبادلہ کروا لیا۔ یوں میں اس سے ایک سال بعد ملی۔ شیما کو دیکھ کر میں حیران رہ گئی۔ اس کا رنگ سنولا گیا تھا اور صحت کا بھی حال برا تھا، جیسے کوئی روگ اس کو اندر ہی اندر کھا رہا تھا۔ اب اس نے پڑھنا بالکل چھوڑ دیا تھا۔ اس کی نظر کمزور ہو گئی اور اسے چشمہ لگ گیا۔ مستقل جاگتے رہنے سے اس کے سر میں درد رہنے لگا۔ میں نے اور میری دوستوں نے اس کو بہت سمجھایا کہ اپنا خیال رکھو ورنہ تم صفحہ ہستی سے مٹ جائو گی۔ زندگی یوں نہیں گزرتی۔ لیکن وہ تو کچھ سننے کو تیار نہ تھی۔ میں نے کہا۔ شیما دیکھو ، زوہیب کو تمہیں چھوڑ کر کچھ فرق نہیں پڑا۔ وہ تمہیں بھلا کر دوبارہ اپنی پڑھائی میں لگ گیا اور اپنا مستقبل شاندار بنا رہا ہے اور تم ہو کہ ابھی تک اس کی یاد میں گھل رہی ہو۔ وہ محبت نہ تھی، سمجھ لو بچپن کی بھول تھی، ایک مذاق تھا کیونکہ اس وقت ہم بہت کمسن اور نادان تھے۔ ہمیں عقل اور سمجھ نہ تھی۔ بچپن کے اس مذاق کو بھول جائو اور آگے بڑھو ، اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔ تمہارے گھر والوں کو تمہاری ضرورت ہے لیکن اسے تو اس محبت کے سوا کچھ سجھائی ہی نہ دیتا تھا۔ وہ جب زوہیب کا ذکر کرتی ، بہکی بہکی باتیں کرنے لگتی۔ اس کے دل سے وہ گیا ہی نہ تھا۔ اس کے دل و دماغ پر ابھی تک اس کا قبضہ تھا۔ وقت گزرتا رہا۔ سال پلک جھپکتے گزر گیا، پرچے ہو گئے۔ نتیجہ آیا تو وہ سارے مضامین میں فیل تھی۔ اب وہ گھر بیٹھ گئی اور دوبارہ پیپرز دینے کی تیاری کرنے لگی۔

ہم لوگوں نے بی اے میں ایڈمیشن لے لیا۔ بس فون پر بات ہوتی اور تب بھی اس کا وہی سوال ہوتا کہ وہ کیسا ہے ؟ اس سے بات ہوئی؟ میں نے اسے ایک دن فلاں جگہ دیکھا تھا۔ یہ درست تھا کبھی وہ چھٹیوں میں آتا تو ہمارے گھر اور اس کے ننھیال کے راستے میں شیما کا گھر پڑتا تھا۔ وہ دیکھ لیتی تو دن نوٹ کرتی۔ اسے تاریخیں اور وقت تک یاد ہوتا تھا کہ کب زوہیب کہاں سے گزرا تھا اور اس نے اپنے گھر کی کھڑکی سے اس کی ایک جھلک دیکھی تھی۔ شیما نے پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ پڑھنا کیا اس نے تو ہر کام ہی چھوڑ دیا حتی کہ نہانا دھونا، گھر کے دیگر کام ، کھانا پینا واجبی رہ گیا تھا۔ گویا وہ ذہنی مرئضہ بنتی جارہی تھی اور ادھر میرے کزن صاحب روز به روز صحت مند ، خوبصورت اور تازہ دم ہوتے جاتے تھے۔ زوہیب جب سے ماموں کے گھر سے ہو کر آیا تھا ، ان کی بیٹی مناہل سے اچھی خاصی دوستی ہو گئی تھی۔ وہ مناہل کو پڑھائی میں بھی کافی مدد دینے لگا۔ دونوں کی اس بہانے قربت بڑھنے لگی۔ دونوں ساتھ انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے لئے لاہور گئے تو ان کی دوستی کا چر چا بھی ہر زبان پر رہنے لگا۔ رشتہ داروں میں تو ان کی شادی کے بارے میں چہ میگوئیاں بھی ہونے لگیں۔ انہی دنوں زوہیب کے ماموں کا انتقال ہو گیا، تبھی اس کی ہمدردیاں ماموں کی فیملی سے اور زیادہ ہو گئیں۔ مجھ تک باتیں پہنچتی تھیں زوہیب کی بہنوں کے ذریعے سے ، مگر جب شیما کوئی سوال کرتی تو میں اپنی دوست کو کچھ نہ بتاتی تا کہ اس کا دل نہ دکھے۔ تاہم میں شیما کی حالت جانتی تھی۔ شروع سے جو زوہیب نے شیما سے رابطے رکھے ، وعدے کئے سبھی میرے توسط سے ہوئے تھے لہٰذا اب میں اپنی سہیلی کو دکھی دیکھتی تو مجھے اپنے کزن پر غصہ آنے لگتا۔ دل چاہتا کہ وہ میرے سامنے نہ آئے۔ میں نے زوہیب سے کلام تو کیا ، اس کے سامنے جانا بھی چھوڑ دیا تھا۔ بزنس کی تعلیم کے لیے وہ اسلام آباد چلا گیا اور ہم بھی اللہ اللہ کر کے ایم اے تک پہنچ گئے۔ یوں مصروفیات بڑھ گئیں۔ اس بار میری شیما سے کافی دنوں بعد ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ تمہارے کزن کا فون آیا تھا۔ مجھے کہا کہ جو ہوا وہ ماضی کی بھول تھی لہٰذا اسے بھول جائو اور اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔ اس طرح تم اپنا نقصان کر رہی ہو لہٰذا اب میں نے پڑھنا شروع کر دیا ہے۔ شیما کی بات سن کر مجھ کو خوشی ہوئی اور افسوس بھی۔ خوشی اس بات کی کہ چلو کزن کو ہوش تو آیا کہ وہ زندگی کی دوڑ میں کسی کو روند کر آگے بڑھا ہے اور افسوس اس بات کا تھا کہ وہ بے وقوف لڑکی اب تک اس کے انتظار میں بیٹھی ہے اور ہمارے سمجھانے سے اسے کچھ فرق نہیں پڑا جب کہ اس کے کہنے سے پڑھنے پر آمادہ ہوئی۔

اسی عرصے میں شیما کے گھریلو معاشی حالات مزید خراب ہو گئے اور ان کو محلہ چھوڑنا پڑا۔ ان دنوں وہ ایف اے کے پیپر زدے رہی تھی۔ حالات کی وجہ سے تعلیم چھوڑ کر اس نے ایک پرائیویٹ اسکول میں نوکری کر لی۔ پرائیویٹ طور پر امتحان کی تیاری کرتی رہی۔ اتنے سخت حالات نے بھی اس کے ذہن کو نہ بدلا اور وہ زوہیب کو یاد کر کے روتی رہی۔ انہی دنوں اس کے لیے ایک اچھار شتہ آگیا۔ خوشحال لوگ تھے۔ لڑکا انجینئر تھا۔ سبھی نے شکر ادا کیا کہ چلو اس کے بھی دن بدلیں گے۔ اچھے گھر میں جائے گی، خوشیاں اور سکھ پائے گی تو ذہن بھی بدل جائے گا۔ لیکن ذہن بدلا اور نہ قسمت بدلی کہ شومئی قسمت، جس گلی میں اس کی سسرال کا گھر تھا وہاں ہمارا ایک پرانا کلاس فیلو بھی رہتا تھا۔ اس نے شیما کے ہونے والے شوہر کو اس کے اور زوہیب کے بارے میں بتادیا جس سے نہ صرف بد نامی ہوئی بلکہ رشتہ بھی ٹوٹ گیا۔ بدنامی کا صدمہ وہ نہ سہہ سکی اور کچھ دن بیمار رہ کر وہ خالق حقیقی سے جاملی اور کچھ کا بیان ہے کہ اس نے شرمندگی کے باعث کچھ کھا لیا اور مر گئی۔ میں نے اس کی چھوٹی بہن کو بہت کرید امگر اس نے موت کا کوئی سبب نہ بتایا۔ البتہ وہ روتی تھی اور کہتی تھی کہ میری بہن کو دراصل زوہیب کی محبت اور بے وفائی کا صدمہ لے ڈوبا۔ جب میں نے زوہیب کو بتایا کہ شیما وفات پا گئی۔   تو افسردہ ہونے کی بجائے وہ سنگدل مسکرادیا۔ بولا۔ چلو اچھا ہوا۔ خس کم جہاں پاک ۔ مجھے اس سے کبھی محبت نہ تھی  ۔ میں اس کو راستے سے ہٹانا چاہتا تھا کہ کلاس میں میری پوزیشن اول رہے اور میرا کوئی مقابلہ کرنے والا نہ ہو۔ واہ کیا بات ہے۔ اپنے مطلب کے لیے کسی سے اتنا بڑا مذاق کر دیا۔ وہ لڑکی اتنی لائق اور ذہین تھی کہ میرٹ کی بنیاد پر بھی میڈیکل میں جاسکتی تھی اور آج وہ منوں مٹی تلے جا سوئی ہے، ایک ذرا سی نادانی کی وجہ سے۔ افسوس ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ والدین کے پاس بچوں کے لیے وقت نہیں کہ دیکھیں ہمارے بچے قیمتی وقت کہاں اور کیسے گزارتے ہیں۔ ان کو اتنی فرصت نہیں کہ وہ ان کے مسائل سن سکیں۔ ان کے رویوں میں تیزی سے تبدیلی کو محسوس کر سکیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں پر پابندی لگا دیں کہ وہ عشق و محبت پر مبنی ڈرامے ، فلمیں نہ دیکھیں۔ آج لوگ روزگار کے حصول میں اس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ نہیں دیتے۔ اب تعلیم اسکول والوں کے حصے میں اور تربیت میڈیا کے ذمے رہ گئی ہے۔ خدا جانے ہر سال کتنے بچے اپنی تعلیمی زندگی کے قیمتی سال ان غیر ضروری سر گرمیوں میں گزارتے ہیں۔ خاص طور پر لڑکیوں کو جو نقصان ہوتا ہے، اس کی تلافی کون کر سکتا ہے۔ کیا اس طرح کی سوچ والی لڑکیاں مستقبل میں اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طرح نباہ سکتی ہیں۔ آج مو بائل فون اور نیٹ پر چیٹنگ کی وبا سے یہ بچے جو قوم کا مستقبل ہیں، بر بادی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔

Latest Posts

Related POSTS