Chori Tu Ki | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1553
ابو کا کنبہ کافی بڑا تھا۔ کچھ زمین ہماری اپنی تھی۔ گزارے کے لیے کچھ ٹھیکے پر لے لیتے تھے۔ بھائی، بہنوں میں میرا نواں نمبر تھا اور مجھ سے چھوٹی ایک بہن تھی۔ ہمارا گھر دیہات میں تھا۔ سب گھر والے ابو کے ساتھ کھیتوں میں کام کرتے تھے۔ ہمارے علاقے میں ایک جج صاحب تھے، ان کے بچے اور بچیاں شہر پڑھنے جاتے تھے۔ جج کی ایک بیٹی دانیہ سے میری دوستی تھی۔ گائوں میں صرف ایک اسکول تھا جہاں میں پانچویں تک پڑھ سکی۔ مجھے پڑھنے کا شوق تھا، چھٹی میں دانیہ کے ساتھ شہر کے اسکول جانے لگی۔ گھر والے سبھی مخالفت پر اُتر آئے۔ بڑا بھائی مجھ سے بہت پیار کرتا تھا، اسی کی وجہ سے میں اسکول جا پائی۔ یوں میٹرک اچھے نمبروں سے پاس کرلیا۔ اس اثناء میں بڑے بھائی کی شادی ہوگئی۔ اب دوسرے بھائی کی شادی کا مرحلہ آیا۔ وٹے میں میرا رشتہ طے کردیا گیا۔ بہت روئی، چلائی کسی نے ایک نہ سنی۔ ان دنوں بڑا بھائی کسی کام سے شہر گیا ہوا تھا۔ جب وہ آیا اس سے لپٹ کر بہت روئی۔ اس نے کہا۔ سونی! فکر نہ کرو، میں کچھ کروں گا۔ منجھلے بھائی کی شادی ہوگئی۔ کچھ دنوں کے توقف سے میری بارات آنی تھی۔ جب میری بارات آگئی اور مجھے دلہن بنا دیا گیا، رخصتی سے چند منٹ پہلے بڑا بھائی مجھے ساتھ لے کر شہر چلا آیا اور بارات خالی واپس چلی گئی۔ کچھ دنوں بعد جب ہم گھر لوٹے گھر والوں نے طوفان کھڑا کردیا، لیکن بھائی بھی ڈٹ گیا۔ کہا۔ خبردار کوئی اس بارے میں بات نہ کرے ورنہ جان سے مار ڈالوں گا۔ میں بھیا کی جرأت دیکھ کر حیران رہ گئی۔ اب میں اعظم بھائی کے ساتھ رہنے لگی۔ ایک دن امی نے شہباز قلندر جانے کا پروگرام بنایا۔ واپسی پر میں اور امی جب ٹرین پر سوار ہونے لگے تو امی کا ہاتھ پھسل گیا، ہم دونوں پلیٹ فارم پر گر گئیں اور زخمی ہوگئیں۔ امی کی ٹانگ کٹ گئی اور میرا پائوں کٹ گیا۔ جب ہوش آیا اجنبی گھر میں بستر پر پڑی تھی۔ پوچھا کہاں ہوں؟ ایک عورت جو میرے پاس بیٹھی تھی، اس نے کہا کہ تم سندھ میں ہو اور جنہوں نے تم کو ریلوے لائن سے اٹھایا تھا، میں ان کی ملازمہ ہوں۔ وہ امیر لوگ ہیں اور یہ ان کا ڈیرہ ہے۔ مجھے نہیں معلوم یہ تم کو کہاں سے لائے ہیں۔ میں نے عورت کو بتایا کہ میری امی بھی ساتھ تھیں جب یہ حادثہ ہوا، میری ماں اب کہاں ہیں؟ کچھ پتا نہیں۔ وہ بولیں۔ میرا پائوں پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس ڈیرے پر صبح شام ڈاکٹر آتا اور علاج ہوتا رہا۔ وہاں میں نے صرف عورت اور ڈاکٹر ہی کو دیکھا، کوئی اور مرد یا عورت کبھی نظر نہ آئی۔ کچھ عرصے بعد پائوں کا زخم ٹھیک ہوگیا اور میں چلنے پھرنے کے قابل ہوگئی۔ ایک رات میں اسی مخصوص کمرے میں سوئی ہوئی تھی کہ چند آدمی اندر آئے۔ شاید انہوں نے شراب پی رکھی تھی۔ مجھے جھٹکے سے اٹھایا اور ایک دوسرے کی طرف پھینکنے لگے۔ میں کبھی ایک کی بانہوں میں تو کبھی دوسرے کی بانہوں میں… پھر ایک نے مجھے بستر پر پھینک دیا۔ میری تو چیخ نکل گئی اور پائوں کا زخم پھر پھٹ گیا۔ خون بہنے لگا۔ پائوں سے خون بہتا دیکھ کر وہ خوف زدہ ہوگئے۔ مجھے وہاں ہی چھوڑ کر باہر نکل گئے۔ تھوڑی دیر تک تو میں سہمی رہی پھر باہر جھانکا۔ اب یہاں رہنا خطرے سے خالی نہ تھا۔ ہمت کرکے احتیاط سے باہر نکل آئی۔ رات کا وقت تھا، اجنبی علاقہ، اوپر سے پائوں سے خون رس رہا تھا۔ تھوڑی دور چلی کہ ریل کی پٹری نظر آئی اور گاڑی کی بھی آواز سنائی دی۔ میں نے جان لیا کہ ریلوے اسٹیشن قریب ہے۔ بھاگتے، چلتے، گرتے، پڑتے بالآخر ریلوے اسٹیشن پہنچ گئی۔ تھوڑی دیر گزری کہ صبح کی سپیدی نمودار ہوگئی اور اذان ہونے لگی۔ میں اکیلی بینچ پر بیٹھی تھی اور پائوں سے خون رس رہا تھا۔ سامنے ریلوے کے دفتر میں بتی جل رہی تھی اور اندر کوئی موجود تھا۔ میں دفتر کے اندر گئی۔ آدمی نے پوچھا۔ کون ہو اور کیا چاہئے؟ تبھی ساری کہانی سنا دی۔ وہ اچھا آدمی تھا۔ اکرم نام تھا۔ اس کی رات کی ڈیوٹی تھی اور اب ڈیوٹی آف ہورہی تھی۔ وہ مجھے اپنے کوارٹر لے گیا۔ اس کی بیوی اور بچے موجود تھے۔ میرا بڑا خیال کیا، مرہم پٹی کروائی۔ یہ علاقہ سندھ کا ہی تھا۔ میں نے کہا۔ میرے والدین کو بلوائیں، پتا بتایا اکرم نے ایک شخص کو میرے گھر روانہ کردیا، دو دن بعد میرا بھائی آگیا۔ اس نے بتایا۔ امی کی ٹانگ کاٹ دی گئی ہے اور وہ ابھی اسپتال میں ہیں۔ بھائی کو دیکھ کر اس قدر خوش ہوئی کہ کیا بتائوں۔ بھائی نے ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور مجھے گھر لے آئے۔ میں اور بھائی امی کو دیکھنے اسپتال گئے۔ وارڈ میں ڈاکٹرز کا رائونڈ تھا، اندر جانے نہ دے رہے تھے۔ بھائی نے مجھے برآمدے میں بینچ پر بٹھا دیا اور خود باہر چلے گئے، کوئی فروٹ وغیرہ لینے تھے۔ میں اٹھ کر برآمدے میں چلنے لگی۔ بیٹھے بیٹھے پائوں سن ہوگیا تھا۔ وارڈ میں جھانک رہی تھی کہ امی نظر آجائیں۔ برآمدے میں ایک شاپر پڑا تھا۔ ایک عورت قریب کی بینچ پر بیٹھی تھی۔ پوچھنے لگی۔ کیا تمہارا ہے؟ نہیں… میں نے جواب دیا۔ عورت بولی۔ پتا نہیں کس کا ہے، میرے پاس بچہ ہے، تم اٹھا لو۔ جس کا ہوگا، وہ آکر لے جائے گا۔ میں نے شاپر اٹھا کر اس بینچ پر رکھ دیا جہاں میں بیٹھی تھی۔ اس میں کپڑے تھے۔ تھوڑی دیر میں دو عورتیں آگئیں۔ وہ عورت بھی ان کے ساتھ ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ دیکھو یہ لڑکی چور ہے، اس نے ہمارا سامان چوری کیا ہے۔ انہوں نے شاپر میرے ہاتھ سے لے لیا اور اس میں سے چیزیں نکال کر دیکھنے لگیں۔ ان میں سے ایک نے پوچھا۔ اس میں موبائل تھا، وہ نہیں ہے۔ دوسری بولی۔ چار ہزار روپے بھی تھے، وہ کہاں ہیں؟ میں گھبرا گئی اور رونے لگی۔ دونوں عورتوں کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ میں چور نہیں ہوں، میں نے تو شاپر کو کھولا بھی نہیں۔ اس عورت نے کہا تھا کہ اٹھا لو تو میں نے اٹھا لیا۔ عورت کہنے لگی۔ بکواس نہ کرو، رقم اور موبائل نکالو ورنہ پولیس کے حوالے کردیں گے۔ وہ مجھے برآمدے سے باہر کھینچتی لے گئیں اور منہ پر تھپڑ مارنے لگیں۔ بہت خوف زدہ تھی۔ اتنے میں لوگ جمع ہوگئے اور پھر پولیس آگئی۔ پولیس وین میں دو لیڈی پولیس والیاں تھیں، وہ مجھے گھسیٹتے تھانے لے گئے، ساتھ ان عورتوں کو بھی جو بار بار چلا کر کہہ رہی تھیں لڑکی ہماری چیزیں نکالو، تم نے کہاں چھپا دی ہیں؟ میں رو رہی تھی، میرے پاس تو کچھ بھی نہ تھا حتیٰ کہ کوئی پرس تک میں ایک پیسہ بھی نہ تھا، میں تو اپنے بھائی کے ساتھ آئی تھی۔ وہ ماں کے لیے کچھ اشیاء وغیرہ لینے چلا گیا تھا۔ میں نے پولیس والوں کو بھی یہی بتایا لیکن کوئی میری بات سن نہ رہا تھا۔ پولیس والے مجھے تھپڑ مارنے لگے، میں چلانے لگی۔ اتنے میں تھانے کے باہر کار آکر رکی، اس میں سے ایک نوجوان نکلا، تھانیدار اُسے دیکھ کر کھڑا ہوگیا اور ہاتھ ملایا۔ اُسے کرسی پر بٹھایا اور باتیں کرنے لگے۔ اچانک نووارد نے میری جانب نگاہ کی، چونکہ میں ہچکیاں لے رہی تھی، تھانیدار سے اشارے سے پوچھا کیا ماجرا ہے؟ یہ پکی چور ہے، اسپتال میں چوریاں کرتی ہے، وہ نوجوان اٹھ کر میرے پاس آیا۔ پوچھا۔ سچ بتائو کون ہو اور یہاں کیا کرنے آئی ہو؟ میں روتے ہوئے اُسے بتانے لگی۔ میری ماں اسپتال میں داخل ہے اور بھائی ان کے لیے کچھ اشیاء لینے بازار گیا تھا۔ عورت کے کہنے پر شاپر اٹھایا تھا۔ آپ خود دیکھ لیں میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس نے میرے چہرے کو غور سے دیکھا پھر ڈانٹ کر بولا۔ ابھی اسپتال فون کرتا ہوں، وارڈ نمبر بتائو جہاں تمہاری ماں داخل ہے۔ میں نے کہا۔ ہاں وہاں فون کرلیں۔ اس شخص نے تھانیدار سے کہا۔ یہ لڑکی چور نہیں لگتی، اُسے چھوڑ دو۔ تھانیدار نے کہا۔ اچھا سر! آپ کہتے ہیں تو چھوڑ دیتے ہیں، پھر وہ نوجوان مجھ سے مخاطب ہوا۔ چلی جائو۔ میں فوراً تھانے سے باہر آگئی۔ سامنے اسپتال تھا دوڑ کر اسپتال پہنچی۔ اسی برآمدے میں آئی۔ بھیا بولے۔ کہاں گئی تھیں اور کیوں رو رہی ہو؟ میں نے انہیں سب کچھ بتا دیا۔ انہوں نے مجھے تسلی دی اور خدا کا شکر ادا کیا، پھر امی کے پاس لے گئے۔ مجھے دیکھ کر امی خوش ہوگئیں۔ رات وہاں اسپتال میں رہے، اگلے دن ان کو لے کر گھر آگئے۔ ایک دن ہم کھیتوں میں کام کررہے تھے۔ میری چھوٹی بہن جس کی عمر پندرہ سولہ سال تھی، نظر نہ آئی۔ اِدھر اُدھر تلاش کرتے رہے، کچھ پتا نہ چلا۔ تیسرے روز ایک شخص نے بتایا کہ شبانہ ایک لڑکے نصیر کے ساتھ موٹرسائیکل پر جارہی تھی۔ نصیر ہمارا رشتہ دار تھا اور دوسرے گائوں میں رہتا تھا۔ ابو اور سب بھائی ان کے گھر گئے۔ شبانہ وہاں موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خود ہمارے گھر آئی ہے، ہم نے اغوا نہیں کیا اور اب اس کا نکاح نصیر سے ہوگیا ہے۔ اس پر بھائیوں نے کہا کہ اس کو ہمارے حوالے کردو، ورنہ ہم تم سب کو مار ڈالیں گے۔ لڑائی زیادہ بڑھ گئی۔ ڈنڈوں، سوٹوں سے دونوں طرف کے کافی لوگ زخمی ہوگئے، کسی نے گائوں کے زمیندار کو بلا لیا۔ اس نے لڑائی رکوا دی اور کہا۔ فی الحال آپ لوگ گھر جائیں، اکٹھ ہوگا… پھر فیصلہ ہوگا۔ دوسرے روز اکٹھ ہوا۔ زمیندار نے شبانہ سے پوچھا۔ کیا تم اپنی مرضی سے آئی ہو اور نصیر کے ساتھ نکاح کرلیا ہے؟ اس نے صاف کہہ دیا۔ اپنی مرضی سے آئی ہوں اور مرضی سے نکاح کیا ہے۔ میں نصیر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔ شبانہ کے بیان نے میرے بھائیوں کو مشتعل کردیا، ابو اُسے پکڑ کر مارنے لگے لیکن زمیندار نے فیصلہ سنا دیا کہ آپ لوگ لڑکی پر زبردستی نہیں کرسکتے اور سب کو گھر بھجوا دیا۔ ہمارے گھر تو جیسے ماتم ہوگیا ہو۔ شبانہ کے اس اقدام نے سب گھر والوں کو بے عزت کرکے رکھ دیا۔ میرے چھوٹے بھائی نے قسم کھائی کہ میں ان دونوں کو قتل کردوں گا۔ اس پر نصیر نے کہا کہ وہ ایک کو قتل کرے گا تو میرے وارث ان سب کو قتل کردیں گے۔ ہم گھر آگئے۔ مقدمہ چل رہا تھا۔ میرے ابو اور بھائی عدالت جاتے تھے۔ دوپہر کا وقت تھا میں کھیتوں سے ہری مرچیں اور کچھ سبزی توڑنے نکلی تو دیکھا کہ پل کے پاس سڑک پر وہی نوجوان کسی سے بات کررہا ہے۔ اس کی کار بھی موجود تھی۔ حیران ہوگئی کہ وہ یہاں کیسے پہنچ گیا۔ مخاطب میرے گھر کی طرف اشارہ کرنے لگا۔ میں سمجھ گئی کہ میری خاطر ادھر آیا ہے۔ گھر والے کھیتوں میں کام کررہے تھے۔ وہ نوجوان ہمارے گھر کی طرف آنے لگا۔ پگڈنڈی پر اُسے میرا بھائی ملا۔ اس نے ابو کا پوچھا۔ بھائی نے کھیت سے ابو کو بلایا پھر یہ تینوں آپس میں باتیں کرنے لگے۔ ابو اور بھائی شام کو گھر آئے۔ امی کو بتایا کہ ایک شہری نوجوان ہماری بہن کا رشتہ مانگنے آیا تھا۔ شاید اس نے سونی کو اسپتال میں دیکھا ہے۔ اس نے جج صاحب کے بیٹے سے ہمارے بارے میں معلومات لی ہیں۔ سب نے فیصلہ کیا کہ اس اجنبی کو رشتہ نہیں دیں گے۔ حالانکہ وہ جج کے بیٹے کا دوست تھا۔ وہ مجھے اچھا لگنے لگا تھا۔ مشکل گھڑی میں اس نے میری مدد کی تھی، ورنہ خدا جانے تھانے میں میرے ساتھ کیا ہوتا، چوری کا مقدمہ ہوسکتا تھا۔ مجھے سزا ہوسکتی تھی۔ اس انجانے شخص نے میرا دفاع کرکے رہائی کرائی تھی۔ میٹرک پاس تھی سوچتی تھی کہ دیہات میں اَن پڑھ کے ساتھ میرا گزارا مشکل ہوگا۔ یہی سوچتے میں نے فیصلہ کرلیا کہ شہری بابو سے شادی کروں گی۔ پڑھے لکھے لوگوں میں جائوں گی۔ شہر میں گھر ہوگا، اچھا ماحول ہوگا۔ میں اس دیہاتی ماحول سے تنگ تھی۔ روزانہ لڑائی جھگڑے، اغوا، چوریاں، گندا اور بدبودار ماحول، پرانی ریت روایت کے پرستار آئے دن غیرت کے نام پر قتل جبکہ میں شروع سے صاف ستھری تھی۔ ہمارے اکثر رشتے دار کہتے تھے اس لڑکی میں کسی شہر والی کی روح ہے۔ بڑے ٹھاٹھ باٹ سے شہر والوں کی طرح صاف ستھری رہتی ہے۔ روز نہاتی، بال بناتی، نکھری نکھری رہتی تو گھر والے کہتے کہ تم نے شوہر کے ساتھ بھی آخر کھیتوں میں کام کرنا ہے، ہمارے ساتھ بھی کام کرو۔ میں جواب دیتی۔ کسی ایک نے تو گھر کا کام بھی کرنا ہوتا ہے۔ میں گھر کا کام کروں گی، کھیتوں میں کام کرنے نہ جائوں گی۔ بھیا کام پر جانے لگے کہ ان کا فون آیا۔ موبائل پر کسی سے بات کرنے لگے۔ وہ اس نوجوان سے بات کررہے تھے۔ کہہ رہے تھے ہماری بہن کا رشتہ اپنوں میں طے ہوا ہے، آپ کا شکریہ! آپ زحمت نہ کریں اور نہ جج صاحب سے کہلوائیں۔ ہم آپ کو رشتہ نہیں دے سکتے۔ اپنے بھائی کے منہ سے صاف انکار سن کر پریشان ہوگئی۔ اتفاق کہ میرے بھائی نے سیل فون پر بات کی تھی، تو وہ اپنا فون گھر پر بھول کر چلا گیا۔ میرا سپنا بکھرنے لگا۔ شہر جا بسنے کا ایک موقع ملا تھا اور وہ بھی بھائی نے ناممکن بنا دیا۔ میرا دل ڈوب سا گیا۔ سوچنے کے بعد یہی فیصلہ کرلیا کہ خود اس نوجوان سے بات کروں گی، آگے جو ہوگا، دیکھا جائے گا۔ میں نے نمبر ملایا اور اس نے فوراً اٹھا لیا لیکن میری آواز سن کر حیران رہ گیا۔ میں نے ہمت کی۔ کہا کہ اس دن آپ آئے تھے، مجھے پتا چلا ہے کہ میرا رشتہ مانگنے آئے تھے۔ بھائی نے جھوٹ کہا ہے میرا رشتہ نہیں ہوا اور میں چورنی بھی نہیں ہوں، ان عورتوں نے جھوٹ بولا تھا۔ اچھا تو پھر کیا تم مجھ سے شادی پر راضی ہو؟ مجھے بتائو تاکہ میں جج صاحب کو بیچ میں ڈال کر رشتے کے لیے دوبارہ کوشش کروں۔ ہاں… بس اتنا ہی کہہ سکی اور خوشی سے میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا آواز نہ نکل رہی تھی، کچھ بولنا چاہ رہی تھی۔ گلا بند ہونے لگا۔ بولنے کے لیے پورا زور لگا رہی تھی۔ حتیٰ کہ پسینے میں نہا گئی لیکن آواز نہ نکلی اور سیل فون کی بیڑی ختم ہوگئی۔ فون آف ہوگیا۔ میں وہیں بستر پر ڈھیر ہوگئی۔ شام کو بھائی آئے تو میں نے ان کو بتا دیا کہ میں نے فون کیا تھا۔ وہ کافی ناراض ہوئے۔ کچھ دیر گم صم بیٹھ کر سوچا کئے۔ لیکن وہ مجھ سے محبت کرتے تھے، ہمیشہ میری خوشیوں کے بارے سوچتے تھے۔ رات کو جج صاحب کا بلاوا آگیا۔ بھائی ان کے پاس چلے گئے۔ انہوں نے کافی سمجھایا اور کہا۔ پہلے شہزاد کا گھر دیکھ لو، اس سے ایک دو بار مل تو لو، فیصلہ بعد میں کرنا، یکدم انکار کی کیا جلدی ہے، اس کے گھر والوں سے بھی ملو۔ دوسرے دن وہ جج صاحب کے بیٹے کے ساتھ آگیا۔ درختوں کے سائے میں باتیں ہوئیں، دیسی مرغی کا سالن میں نے تیار کیا۔ ابو اور بھائی سے اچھے ماحول میں باتیں ہوئیں۔ بھائی نے انہیں کھانا کھلایا۔ بھائی نے کہا کہ اتوار کو ہم آپ کے گھر آئیں گے۔ اتوار کو بہن، بھائی ان کے گھر گئے۔ میری بہن نے آکر بتایا کہ گڑیا! وہ تو بہت امیر لوگ ہیں، اتنا بڑا بنگلہ، نوکرچاکر، گاڑیاں…! تو بڑی خوش قسمت ہے۔ میرے تو خوشی سے پیر زمین پر نہ ٹکتے تھے۔ بار بار پوچھتی تھی۔ سچ باجی کیا میرا رشتہ وہاں ہوجائے گا؟ تب وفور محبت سے بہن نے مجھے سینے سے لگا لیا۔ بھائی نے مجھ سے کہا۔ سونی! اچھا آدمی ہے اور دولت مند بھی ہے مگر اس نے خود بتا دیا ہے کہ شادی شدہ ہے اور چار بچوں کا باپ ہے، مگر دوسری شادی بیوی کی مرضی سے کررہا ہے۔ بیوی علیحدہ گھر میں اپنے بچوں کے پاس رہتی ہے، بچے بھی اب سیانے ہوچکے ہیں۔ اب خود سوچ لو، دوسری بیوی بننا قبول ہے تو ہم ہاں کہہ دیتے ہیں۔ دیہات میں ایسی شادی ممکن نہ تھی لیکن میرا بھائی شہر میں رہ کر کافی روشن خیال ہوگیا تھا اور میں تو بس شہر جاکر بسنا چاہتی تھی۔ پھر یہ بھی کہ اس نے ہم سے جھوٹ نہ بولا تھا۔ جج صاحب اس رشتے کے بیچ ضامن بننے کو تیار تھے۔ شہزاد کی بڑی بہن ہمارے گھر آئیں۔ بتایا کہ چوتھے بچے کی پیدائش پر میری بھابی کا ایسا آپریشن ہوا تھا کہ وہ اب ازدواجی زندگی نہیں گزار سکتی۔ اس نے خود شوہر کو دوسری شادی کی اجازت دی ہے۔ اگر آپ لوگوں کو یقین نہیں آتا، بے شک ہماری بھابی سے مل لیں۔ وہ اتنی عمر کا اور چار بچوں کا باپ تو لگتا نہ تھا، نوجوان لڑکا نظر آتا تھا۔ ایک فون نے میری زندگی بدل دی لیکن سب سے بڑا احسان میری زندگی سنوارنے میں جج صاحب کا تھا، میرے بڑے بھائی کا بھی اگر یہ دونوں ساتھ نہ دیتے میرا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا تھا۔ شادی کی تاریخ طے ہوگئی پھر ایک روز بارات بھی آگئی۔ جس شان سے بارات آئی، ہمارے علاقے کے لوگ دیکھتے رہ گئے۔ کاروں کی لمبی قطاریں تھیں اور پھر یہ شادی یادگار بن گئی۔ آج بھی مذاق مذاق میں شہزاد یاد دلاتے ہیں کہ ایک چورنی سے شادی کی ہے۔ جس نے چوری تو نہ کی تھی مگر میرا دل ضرور چرا لیا۔ (شکیلہ … ڈیرہ نواب)